Baaghi TV

Tag: جنگ

  • روس کے تازہ حملے میں یوکرین کو بڑے پیمانے پرجانی ومالی نقصان

    روس کے تازہ حملے میں یوکرین کو بڑے پیمانے پرجانی ومالی نقصان

    ماسکو:روس کی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ گذشتہ چند گھنٹے کے دوران یوکرینی افواج کو بھاری نقصان پہنچایا گیا ہے ۔ روس کی وزارت دفاع کے ترجمان ایگور کوناشنکوف نے کہا ہے کہ اس دوران کوبیانسک پر روس کے فوجیوں کے حملے میں یوکرین کے تیس فوجی ہلاک اور چار بکتر بند گاڑیوں اور دو ٹینکوں کو تباہ کردیا گیا۔

    اس بات میں کوئی شک نہیں کہ امریکہ یوکرین روس جنگ میں‌ اب براہ راست شریک ہوچکا:روس

    رپورٹ کے مطابق، کراسنی لیمان مورچے پر مزید چالیس یوکرینی فوجیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ۔ روسی جیٹ فائٹروں نے بھی باخموت میں واقع یوکرین کے فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ اس حملے میں اسّی سے زیادہ یوکرینی فوجی ہلاک ہوگئے۔ کیف کے پینتالیس فوجیوں کو دونیسک کے جنوبی محاذ پر بھی موت سے ہمکنار کیا گیا اور ان کی چار بکتر بند اور تین فوجی گاڑیوں کو تباہ کردیا گیا۔

    فرانس میں کرد ثقافتی مرکز پر حملہ،کرد کمیونٹی کا احتجاج، مظاہرین کا جلاؤ گھیراؤ

    روسی افواج نے گذشتہ چند گھنٹے کے دوران، ستاسی علاقوں پر بھی حملہ کرکے ترسٹھ توپخانون اور یوکرینی فوجی اڈوں کا صفایا کیا ہے ۔ بتایا گیا ہے کہ روس کے حملوں میں ایم سات سو ستتر نوعیت کی دو امریکی توپیں اور دو گراڈ میزائیل لانچر تباہ ہوئے۔ روسی فوجیوں کا کہنا ہے کہ ان کے حملوں میں یوکرین کی فوج کا ایک سوخو پچیس جیٹ فائٹر، مل آٹھ نوعیت کا ایک جنگی ہیلی کاپٹر، دس ڈرون طیارے اور دو ہمارس میزائل بھی نذر آتش ہوئےہیں ۔

    امریکہ اور ترکیہ کےدرمیان حالات کشیدہ ،امریکہ کی سنگین دھمکیاں

    دریں اثنا روس کی وزارت خارجہ کے ایک اعلی عہدیدار ایلگزینڈر دارچیف نے کہا ہے کہ یوکرین کی جنگ امریکی فوجی صنعت کے فروغ کا باعث بنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ یوکرین کے بارے میں امریکہ کے سیاسی اور فوجی حلقوں میں کافی اختلافات پائے جاتے ہیں لیکن تمام امریکیوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اس جنگ نے امریکی ہتھیاروں کی صنعت میں چار چاند لگا دیئے ہیں ۔ ایلگزینڈر دارچیف نے کہا کہ امریکی یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ یوکرین کی جنگ امریکی سلامتی کے لئے سرمایہ کاری کا بہترین ذریعہ ہے ۔ دارچیف نے کہا کہ کسی امریکی کو بھی اس بات کا اندازہ نہیں کہ یوکرین کی جنگ میں امریکہ کے حد سے زیادہ ملوث ہونے کا انجام کیا ہوسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈیموکریٹ اور ری پبلکن دونوں پارٹیوں کے رہنماؤں نے ثابت کردیا ہے کہ تمام امریکی سیاستدان، عقل سلیم سے محروم ہیں۔

  • روس اور مغرب تصادم کے دہانے تک پہنچ گئے ہیں: روس اہلکارنے خبردارکردیا

    روس اور مغرب تصادم کے دہانے تک پہنچ گئے ہیں: روس اہلکارنے خبردارکردیا

    ماسکو:روس اور مغرب تصادم کے دہانے تک پہنچ گئے ہیں:اطلاعات کے مطابق روسی صدر کے پریس سیکرٹری نے کہا ہے کہ روس اور مغرب تصادم کے دہانے تک پہنچ گئے ہیں اور انہیں ان حالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    امریکا مذاکرات میں سنجیدہ نہیں،روس

    روسی ذرائع ابلاغ کے مطابق روسی صدر کے پریس سیکرٹری دیمتری پیسکوف نے ایک ٹی وی پروگرام ماسکو، کرملین، پیوٹن میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم ابھی آگے جا نہیں رہے بلکہ اس مقام تک پہنچ چکے ہیں جسے تصادم کہتے ہیں اور ہمیں اس پر توجہ کرنے کی ضرورت ہے، ہمیں طاقتور اور تحفظ کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ ہمیں ابھی انہی حالات میں رہنا ہے۔

    ٹوئٹر بلیو سبسکرپشن سروس 12 دسمبر کو دوبارہ متعارف کرانے کا اعلان

    پسکوف نے اس ٹی وی پروگرام میں بات کرتے ہوئے مزید کہا کہ مغربی ممالک روس کو پسند نہیں کرتے اور یہ حقیقت ہے لیکن روس کو اس کی کوئی ضرورت بھی نہیں کہ وہ اسے پسند کریں۔

    روسی زبان کے معروف ناول نگار اور مورٌجخ الیکزینڈر سلزینسٹائن کا یوم پیدائش

    یاد رہے کہ روس یوکرین تنازعے میں نیٹو اور امریکہ یوکرین کی بھرپور فوجی امداد جاری رکھے ہوئے ہیں جس سے یوکرین تنازعے کے حل کے امکانات کم ہوتے جا رہےہیں اور روس نیٹو امریکہ تصادم کے امکانات ہر روز بڑھتے جا رہے ہیں۔ روس نے نیٹوامریکہ جاری مداخلت اور روس پر حملے کی صورت میں ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کی دھمکی بھی دی تھی۔

  • چین کی بڑھتی ہوئی فوجی طاقت ،امریکہ نے ایٹمی ہتھیارسے لیس جدید جنگی جہازفوج کےحوالے کردیا

    چین کی بڑھتی ہوئی فوجی طاقت ،امریکہ نے ایٹمی ہتھیارسے لیس جدید جنگی جہازفوج کےحوالے کردیا

    امریکا نے پہلا جدید بمبار طیارہ ’بی-21 ریڈر‘ کی رونمائی کرلی، یہ طیارہ روایتی ہتھیار سمیت جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے،امریکی دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر یہ بمبار طیارہ بغیر عملے کے پرواز کر سکے گا۔

    اس حوالے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ امریکا کی ریاست کیلی فورنیا میں طیارہ کی رونمائی کی تقریب منعقد کی گئی، تقریبا کا آغاز امریکی قومی ترانے کے ساتھ کیا گیا، طیارہ کی رونمائی کے بعد ہجوم نے تالیاں بجائیں۔

    تقریبا رونمائی میں امریکی سیکریٹری دفاع لوئیڈ آسٹن نے کہا کہ بی-21 کے صرف ایک طیارے کی تیاری پر تقریباً 70 کروڑ ڈالر خرچ ہوئے ہیں یہ تین دہائیوں سے زائد عرصے میں بننے والا پہلا امریکی جنگی طیارہ ہے، یہ طیارہ امریکا کے جدید اور جنگی ایجادات میں برتری کا ثبوت ہے۔انہوں نے بتایا کہ کوئی بھی طویل فاصلے سے نشانہ بنانے والا بمبار ، ’بی 21‘ ریڈر کی صلاحیت اور اس کی پائیداری سے مماثلت نہیں رکھ سکتا، اس طیارے کا ڈیزائن اب تک کا سب سے زیادہ مستحکم رہنے والا بمبار طیارہ ہے۔

    ایف-22 اور ایف-35 جنگی طیاروں کی طرح بی-12 طیارہ ایسی ٹیکنالوجی کی مدد سے بنایا گیا ہے جس سے اس کا سائز چھوٹا ہوتا ہے اور دشمن اسے آسانی سے ڈھونڈ نہیں سکتا۔انہوں نے مزید کہا کہ جدید ترین فضائی دفاعی نظام کو بھی بی-21 طیارہ ڈھونڈنے کےلیے مشکل ہوسکتی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ طیارہ کھلے نظامِ تعمیر (اوپن سسٹم آرکیٹکچر) کے ساتھ بنایا گیا ہے، یہ ایسے نئے ہتھیاروں کی شمولیت کی بھی اجازت دیتا ہے جو ابھی تک ایجاد نہیں ہوئے ہیں۔

    تھنک ٹینک بروکنگ انسٹی ٹیوٹ سے منسلک ایمی نیلسن نے اے ایف پی کو بتایا کہ بی-21 کو نظام میں مزید ترقی کے لیے تخلیق کیا گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ’اوپن آرکیٹکچر‘ کی مدد سے مستقبل میں مزید بہتر سافٹ وئیر متعارف ہوں گے تاکہ طیارے جلد خراب نہ ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ پرانے طیاروں کے مقابلے بی-21 جدید ترین ہے، یہ نہ صرف دوہری صلاحیت رکھتا ہے (جس کا مطلب یہ جوہری یا روایتی میزائل لانچ کرسکتا ہے) بلکہ طویل اور کم فاصلے پر بھی میزائل لانچ کر سکتا ہے۔

    امریکی ائیر فورس کے ترجمان این اسٹیفنک نے اے ایف پی کو بتایا کہ ابھی تو صرف امکان ہے کہ طیارہ بغیر عملے کے پرواز کرسکتا ہے لیکن ابھی اس حوالے سے حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ بی-21 ہمارے مستقبل کی جنگی طاقت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، یہ دنیا بھر میں مہارت سے کسی بھی ہدف کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔فضائی اور دفاعی کمپنی نارتھروپ گرومن نے بتایا کہ اس وقت 6 طیارے کیلیفورنیا کے شہر پامڈیل میں جانچ اور آزمائش کے مختلف مراحل میں ہے۔انہوں نے بتایا کہ یہ طیارہ امریکی جوہری نظام کا اہم حصہ ہوگا جس میں ایسے ہتھیار موجود ہیں جنہیں زمین، فضا اور سمندر سے لانچ کیا جاسکتا ہے۔

    جنگی طیارہ ’ریڈار‘ کا نام اس وقت رکھا گیا جب 1942 میں امریکی بمباروں نے جاپان کے شہر ٹوکیو پر حملہ کیا تھا، اس آپریشن کی سربراہی لفٹیننٹ کرنل جیمز ڈولٹل نے کی تھی، جو جاپان کی جانب سے 1941 میں کئے گئے پرل ہاربر حملے کے بعد جاپان کی سرزمین پر امریکا کا پہلا حملہ تھا۔جیمز آسٹن نے مزید بتایا کہ پرل ہاربر حملے کے چار ماہ بعد اپریل کی ایک صبح کو بحرالکاہل میں امریکی فوج کے 16 بمبار طیاروں نے بحری جہاز سے اڑان بھری تھی۔

    یاد رہے کہ امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے خبردار کیا ہے کہ چین کے میزائل ٹیسٹ اور جوہری ہتھیار واشنگٹن کے لیے خطرے کی گھنٹی ہیں۔پینٹاگون کی جانب سے منگل کو جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، اگر چین نے اپنی موجودہ جوہری تیاری کی رفتار کو جاری رکھا تو اس کے پاس ممکنہ طور پر 2035 تک 1,500 جوہری وار ہیڈز کا ذخیرہ ہو جائے گا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین عالمی بالا دستی کی شدید خواہش رکھتا ہے۔ چین سے متعلق پینٹاگون کی یہ رپورٹ کانگریس کو پیش کی جائے گی۔

    اس رپورٹ میں بنیادی طور پر 2021 میں ہونے والی سرگرمیوں کا احاطہ کیا گیا ہے، رپورٹ کے مطابق چین کے پاس اس وقت 400 سے زیادہ جوہری وار ہیڈز کا ذخیرہ ہے۔

    چین کا کہنا ہے کہ ہتھیاروں کو کم کرنے کے لیے بات چیت پر تیار ہے، لیکن صرف اس صورت میں جب واشنگٹن اپنے جوہری ذخیرے کو چین کی سطح تک کم کر دے۔ اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (SIPRI) کے تھنک ٹینک کے مطابق، امریکا کے پاس تقریباً 3,700 جوہری وار ہیڈز کا ذخیرہ ہے، جن میں سے تقریباً 1,740 کو مختلف مقامات پر پوزیشن میں لایا جا چکا ہے۔

  • یوکرین اور پولینڈ منصوبہ بندی سے روس اور نیٹؤ کے درمیان جنگ کروانا چاہتے ہیں:روس

    یوکرین اور پولینڈ منصوبہ بندی سے روس اور نیٹؤ کے درمیان جنگ کروانا چاہتے ہیں:روس

    ماسکو:متحدہ میں روس کے سفیر واسیلی نیبنزیا کا کہنا ہے کہ یوکرین اور پولینڈ یوکرین کی سرحد کے قریب پولینڈ پر مارے جانے والے میزائل کے بارے میں "غیر ذمہ دارانہ بیانات” دے کر ان کے ملک اور نیٹو کے درمیان براہ راست تنازعہ کو ہوا دینا چاہتے ہیں۔

    یہ میزائل منگل کو پولینڈ کے ایک دیہی علاقے میں گر کر تباہ ہوا، جس میں دو افراد ہلاک ہوئے۔ اگرچہ نیٹو نے میزائل کی شناخت ایک آوارہ پراجیکٹائل کے طور پر کی ہے جو کہ "غالباً” غلطی سے یوکرین کی طرف سے فائر کیا گیا تھا، اس نے کہا کہ روس بالآخر ذمہ دار ہو گا کیونکہ اس نے جنگ شروع کی۔ وائٹ ہاؤس نے بھی کہا کہ ابتدائی معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ میزائل یوکرین کا تھا، اس کی حتمی ذمہ داری روس پر عائد ہوگی۔

    لیکن یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اس بات کی تردید کی ہے کہ میزائل یوکرین کی طرف سے داغا گیا تھا، ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے اعلیٰ کمانڈروں سے یقین دہانی ملی ہے کہ "یہ ہمارا میزائل نہیں تھا۔”

    بدھ کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں نیبنزیا نے کہا کہ اس طرح کے بیانات "بالکل غیر ذمہ دارانہ” ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ اگر یہ میٹنگ طے شدہ نہ ہوتی تو اسے یوکرین اور پولینڈ کی روس اور نیٹو کے درمیان براہ راست تصادم پر اکسانے کی کوششوں پر بات کرنے کے لیے بلانا پڑتا۔

    نیبنزیا نے زیلنسکی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، "یہ بیانات ایک ایسے شخص کی طرف سے آئے ہیں جو یہ معلومات حاصل کرنے میں ناکام نہیں ہو سکتا تھا کہ یہ یوکرین کے میزائل تھے جو فضائی دفاعی نظام کے ذریعے فائر کیے گئے تھے جو پولینڈ کی طرف اڑ گئے تھے۔”

    روسی ایلچی نے مزید کہا کہ "اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ صرف جان بوجھ کر غلط معلومات نہیں پھیلانا تھا بلکہ نیٹو کو، جو یوکرین میں روس کے ساتھ پراکسی جنگ لڑ رہا ہے، کو ہمارے ملک کے ساتھ براہ راست تصادم میں ملوث ہونے کے لیے اکسانے کی شعوری کوشش تھی۔”

    شوکت خانم کے باہر سے مشکوک شخص گرفتار

    جس کو پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کہتا تھا اسے ڈاکو کی وزارت اعلیٰ کے نیچے عمران خان پر حملہ ہوا

  • روس کے خلاف پابندیاں یورپی عوام کی غربت کا باعث بنی ہیں:ہنگری

    روس کے خلاف پابندیاں یورپی عوام کی غربت کا باعث بنی ہیں:ہنگری

    ہنگری کے وزیراعظم نے اعلان کیا ہے کہ روس کے خلاف پابندیاں یورپی عوام کی غربت کا باعث بنی ہیں اور یہ غربت مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔

    فارس خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ہنگری کے وزیراعظم ویکٹر اوربن نے یورپی یونین سے اپیل کی ہے کہ وہ دیر ہونے سے قبل روس کے خلاف امریکی پابندیوں کے بارے میں واشنگٹن سے بات چیت کرے۔انھوں نے کہا کہ روس کے خلاف عائد کردہ پابندیاں یورپی عوام کی غربت کا باعث بنی ہیں اور یہ غربت مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔اوربن نے کہا کہ روس کے خلاف عائد کردہ پابندیوں کا خود یورپی ملکوں پر الٹا اثر پڑ رہا ہے۔

    حال ہی میں ہنگری کے وزیر خارجہ نے بھی روس کے خلاف پابندیوں کے یورپ پر مرتب ہونے والے منفی اثرات کی بنا پر ان پابندیوں پر کڑی تنقید کی ہے۔

    واضح رہے کہ روس کے خلاف عائد کی جانے والی پابندیوں کے بعد سے روسی گیس کے متبادل کے فقدان کی بنا پر ہنگری ہمیشہ ان پابندیوں پر تنقید کرتا رہا ہے جبکہ یورپی ممالک میں توانائی کی قلت اور تیل و گیس کی قیمت مسلسل بڑھتی جا رہی ہے جس سے ان ممالک کے عوام پر بھی دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔

    یاد رہے کہ دنیا گزشتہ دو سال تک کورونا جیسی عالمی وبا سے نبرد آزما ہوکر لاک ڈاؤن کے باعث بد ترین معاشی بحران کا شکار ہونے کے بعد دوبارہ معاشی استحکام کی طرف لوٹ رہی تھی کہ رواں سال کے آغاز میں روس یوکرین جنگ نے اس معاشی بحران کو دوچند کر دیا ہے، دنیا بھر میں بڑھتے مہنگائی کے رجحان نے اس کرہ ارض پر غذائی قلت کا خطرہ بڑھا دیا ہے۔

    یورپی شہریوں نے فالتو اخراجات سے بھی ہاتھ کھینچنا شروع کر دیا ہے ، جس کے بعد اب وہ صرف ضروری اشیا کی خریداری پر ہی اکتفا کر رہے ہیں۔ افراطِ زر میں بے تحاشہ اضافے کے بعد اب اشیائے خورونوش کی منڈیوں اور تیل کے ساتھ ساتھ کارسازی اور تعمیرات کے شعبوں میں بھی قیمتوں میں حیرت انگیز اضافہ ہو رہا ہے اور اب امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ رواں برس 27 رکنی یورپی یونین کو مجموعی طور پر 7 فیصد سے زائد افراطِ زر کا سامنا ہوگا۔ مختلف یورپی ممالک میں مچھیروں اور کسانوں نے مجموعی مہنگائی کے تناظر میں اپنی پیداوار میں اضافہ کر دیا ہے تو دوسری جانب پٹرول کی قیمتوں میں ہوش رُبا اضافے کی وجہ سے مال بردار ریل گاڑیوں اور سامان بردار ٹرکوں کی نقل و حرکت میں بھی کمی آئی ہے۔

    خوراک کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے روزمرہ استعمال کے لیے روٹی کی مختلف اقسام بھی مہنگی ہوچکی ہیں اور خاص طور پر پولینڈ سے بیلجیم تک اشیائے خورونوش کی دکانوں پر بریڈ مہنگے داموں فروخت کی جا رہی ہے۔ دوسری جانب ، پولینڈ میں کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں 150 فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے جس کے بعد بعض یورپی حکومتوں نے ٹیکسوں کی مد میں کمی لانے کے ساتھ ساتھ عام لوگوں کی امداد کے اشارے بھی دیے ہیں۔

    اس جنگ نے توانائی اور خوراک کے حوالے سے ساری دنیا کو اندیشہ ہائے دور دراز میں مبتلا کردیا ہے۔ پاکستان اور دنیا کے دیگر ممالک جہاں امریکا نواز حکومتیں قائم ہیں وہاں روسی تیل حزب اختلاف کے لیے ایک سیاسی ہتھیار بھی ہے۔

    اچھا ہوتا وزیراعظم اپنی تقریر میں ڈاکٹر عافیہ کا ذکر کرتے۔ حافظ سعد رضوی

     یہودی عبادت گاہ میں ہلاک یرغمالی ملک فیصل اکرم نے ڈاکٹرعافیہ صدیقی کی رہائی کا مطالبہ کیا

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات کروائی جائے، اہلخانہ عدالت پہنچ گئے

  • آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان تازہ سرحدی جھڑپوں میں 105 آرمینیائی فوجی ہلاک

    آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان تازہ سرحدی جھڑپوں میں 105 آرمینیائی فوجی ہلاک

    آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان تازہ سرحدی جھڑپوں میں آرمینیا کے 105 فوجی ہلاک ہوگئے ہیں۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق آرمینیا کے وزیراعظم نکول پشینیان کا کہنا ہے کہ ابھی تک کی معلومات کے مطابق آذربائیجان سے جھڑپوں میں ہمارے 105 فوجی مارے گئے ہیں۔ آرمینیا نے اس سے پہلے ہلاک فوجیوں کی تعداد 49 بتائی تھی جبکہ آذربائیجان نے جھڑپوں میں اپنے ہلاک ہونے والے فوجیوں کی تعداد 50 بتائی ہے۔

    آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان پیر کی شب سرحدی جھڑپیں ہوئی تھیں، جھڑپوں کو دونوں ممالک کے درمیان 2020 کی جنگ کے بعد سے اب تک کی سب سے زیادہ ہلاکت خیز جھڑپیں کہا جارہا ہے۔

    خیال رہے کہ 2020 میں بھی آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان ’نگورنو کاراباخ‘ کے تنازع پر 6 ہفتے جنگ جاری رہی اور اس جنگ میں آذربائیجان نے فتح حاصل کی اور کئی علاقوں پر آرمینیا کا قبضہ چھڑایا۔

    واضح رہے کہ عالمی سطح پر ’نگورنو کارا باخ‘ آذربائیجان کا تسلیم شدہ علاقہ ہے تاہم اس پر آرمینیا کے قبائلی گروہ نے فوج کے ذریعے قبضہ کررکھا تھا جب کہ اسی قبضے کے باعث پاکستان آرمینیا کو تسلیم نہ کرنے والا واحد ملک ہے۔

    یہ تنازع 1988 سے جاری ہے جس پر متعدد جنگیں بھی ہوچکی ہیں اور اب تک ہزاروں افراد مارے جاچکے ہیں۔

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    پاک فضائیہ کی خیبر پختونخوا، سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے سیلاب سے شدید متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں۔

  • آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان دوبارہ جھڑپیں شروع،

    آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان دوبارہ جھڑپیں شروع،

    تہران :آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان دوبارہ جھڑپیں شروع، اطلاعات کے مطابق منگل کی صبح آذربائیجان اور آرمینیا کی افواج کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا ہے جس میں کئی آذربائیجانی فوجیوں کے ہلاک ہونے کی خبر ہے۔

    ایران پریس کی رپورٹ کے مطابق منگل کی صبح آذربائیجان اور آرمینیا کی افواج کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا ہے جس میں کئی آذربائیجانی فوجیوں کے ہلاک ہونے کی خبر ہے۔

    آرمینیا کی وزرات دفاع کے مطابق آذری فوج نے اس کی فوجی پوزیشوں پر صبح پانچ بجے سے آرٹلری، ہیوی توپ خانے اور ڈرون سے بمباری شروع کر دی جس کا آرمینیا کی افواج نے مناسب جواب دیا لیکن آذربائیجان کی وزارت دفاع نے آرمینیا پر الزام عائد کیا کہ اس کی افواج نے دشکسان، کلباجر اور لاچین کے سرحدی علاقوں میں وسیع پیمانے پر تخریبی کاروائیاں کی ہیں اور آذری فوجی پوزیشنوں پر فائرنگ کی ہے جن میں مارٹر کا استعمال بھی کیا گیا۔

    گزشتہ ہفتے آرمینیا نے آذربائیجان پر اپنے ایک فوجی کی ہلاکت کا الزام لگایا تھا۔

    یاد رہے کہ ایک دوسرے کے جانی دشمن آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان پہلی مرتبہ 1980ء میں لڑائی ہوئی تھی جب یہ دونوں علاقے سابق سوویت یونین کے کنڑول میں تھے جس میں آرمینیا کی افواج نے آذربائیجان سے نگارنوکاراباخ کے علاقے چھین لئے تھے۔

    2020ء میں ہونے والی جنگ میں آذربائیجان نے اپنے علاقے واپس چھین لئے تھے اور اب تک دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی جنگوں اور جھڑپوں میں 30,000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

  • عمران خان نے مسلح افواج پر حملہ کر کے جنگ چھیڑ دی،مریم نواز

    عمران خان نے مسلح افواج پر حملہ کر کے جنگ چھیڑ دی،مریم نواز

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ عمران خان نے مسلح افواج پر حملہ کر کے جنگ چھیڑ دی ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے مریم نواز نے لکھا کہ عمران خان کو پاکستان کو تباہ و برباد کرنے کیلئے لانچ کیا گیا، قوم کو بدحالی اور مایوسی کے گڑھوں میں دھکیلنے کے لیے فنڈز فراہم کیے گئے۔


    اپنے ٹوئٹ میں انہوں نے مزید لکھا کہ عمران سیاسی لیڈر نہیں اس کے ساتھ ایسا سلوک بند کیا جائے، پی ٹی آئی چیئرمین نے ہمارے ملک کے استحکام، معیشت، معاشرے، میڈیا اور اب مسلح افواج پر حملہ کر کے جنگ چھیڑ دی ہے، اگر عدلیہ سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کی طرف سے اسے ڈبل ڈیلر قرار نہیں دیا گیا تو پاکستان اس صدمے سے کبھی نہیں نکلے گا اور نیچے کی طرف جاتا رہے گا۔

  • "اور جب ہم نے بھارتیوں کی پھینٹی لگائی” — اعجازالحق عثمانی

    "اور جب ہم نے بھارتیوں کی پھینٹی لگائی” — اعجازالحق عثمانی

    جنت نظیر وادی میں مسلسل پسپائی کے بعد ، کئی خیالی پلاؤ پکا کر وہ سرحد عبور کر کے چوروں کی طرح پاکستان میں داخل ہورہے تھے ۔ اسلحے سے لیس ، چھ سو کے قریب ٹینک ساتھ لیے یہ چور کوئی اور نہیں بلکہ ہمسایہ ملک بھارت کے فوجی تھے۔ جو حملے کے خیالی پلاؤ کے ساتھ لاہور میں ناشتہ کرنا چاہتے تھے۔اور یہ دن تھا،6 ستمبر 1965 کا۔

    بونگ پائے، جیدے کی لسی نہاری، ، سری پائے، حلوہ پوری، پٹھورے نا جانے کیا کیا سوچ کر آئے ہونگے۔ انھوں نے لاہور کے قریب بین الاقوامی سرحد عبور کرتے ہوئے لاہور شہر بھی داخل ہونے کی بھر پور کوشش کی۔ مگر آتے ہی شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔

    ان کا خیال تھا کہ ہم 72 گھنٹوں میں پاکستان پر قبضہ کر لیں گے۔ مگر وہ شاید نہیں جانتے تھے کہ ہمیں یہ قوم 72 منٹ بھی اپنے اوپر غالب نہیں آنے دے گی۔
    ڈیڑھ لاکھ بھارتی فوجیوں کو صرف 150 پاکستانی جوانوں نے 12 گھنٹوں تک پیش قدمی سے روک کر علامہ اقبال کے اس شعر کا عملی مناظر پیش کیا

    کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسا
    مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی
    کافر ہے تو ہے تابعِ تقدیر مسلماں
    مومن ہے تو وہ آپ ہے تقدیر الٰہی

    ایک بھارتی جنرل (جنرل ہربخش سنگھ) اپنی کتاب میں جنگ ستمبر کے بارے میں لکھتا ہے کہ” جنگ ستمبر میں پاکستانی فوج کی کارکردگی بہترین تھی اور فوج انتہائی پر عزم تھی۔ جبکہ بھارتی فوج نے جنگ کی پیشگی منصوبہ بندی کے باوجود کوئی خاص تیاری نہیں کر رکھی تھی”۔

    سنا ہے کہ وہ یہ بھی چاہتے تھے کہ جو 600 ٹینک وہ ساتھ لا رہے ہیں ۔ وہ چھ ستمبر کی صبح لاہور کی سڑکوں پر بھارتی وزیراعظم کو سلامی دیں گے۔ مگر تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ وہ ٹینک سلامی تو نہ دے سکے البتہ انکا قبرستان ضرور بنا۔ کیونکہ

    ہم ہیں جو ریشم و کمخواب سے نازک تر ہیں
    ہم ہیں جو آہن و فولاد سے ٹکراتے ہیں

    ہم نے روندا ہے بیابانوں کو صحراؤں کو
    ہم جو بڑھتے ہیں تو بڑھتے ہی چلے جاتے ہیں

    بھارت رات کے اندھیرے میں پاکستان میں داخل تو ہوگیا ۔ مگر ناشتہ نہ کر پایا ۔کیونکہ پوری پاکستانی قوم یکجا ہو کر لڑ رہی تھی۔ صرف فوجی ہی نہیں ، تمام پاکستانی میدان جنگ میں اپنے اپنے طریقوں سے لڑ رہے تھے ۔شاعر ، ادیب، گلوکار ، کسان، مزدور ، اساتذہ ، طالب علم ، بچوں ، عورتوں اور زرائع ابلاغ سب کی ایک ہی آواز تھی۔

    ‏ثبوت دیں گے وفا کا یوں،اشتباہ غلط
    ملا کے خاک میں رکھ دیں گےہر سپاہ غلط

    برب کعبہ… ہم آنکھیں نکال چھوڑیں گے
    اٹھی جو ملک کی جانب کوئی نگاہ غلط

    22 ستمبر کو سلامتی کونسل نے ایک ہنگامی اجلاس بلایا ۔ جس میں سلامتی کونسل نے جنگ بندی کے لیے قرار داد پیش کی ۔ سلامتی کونسل کی قرارداد کی روشنی میں صدر پاکستان ایوب خان نے 23 ستمبر تک جنگ بندی کا اعلان کیا ۔ 24 ستمبر کو بھارتیوں کی پھینٹی لگانے پر ملک بھر میں یوم تشکر منایا گیا ۔ اللہ پاک کی حفاظت کرے۔ یہ ملک سدا قائم رہے۔ اور اس کو میلی نگاہ سے دیکھنے والے 1965 کی طرح ہر بار ناکام ہوں (آمین)۔

  • امریکہ تائیوان کوجدید اوربھاری اسلحہ دینے سے بازرہے،جوابی کارروائی کےلیےتیارہیں:چین

    امریکہ تائیوان کوجدید اوربھاری اسلحہ دینے سے بازرہے،جوابی کارروائی کےلیےتیارہیں:چین

    واشنگٹن: چین اور تائیوان کے تنازعے میں اب امریکہ کے کردار میں نئی صورتحال پیدا کردی ہے _معاملہ امریکہ اور چین کے درمیان براہ راست ٹکراؤ کا پیدا ہو گیا ہے _ امریکہ کا یوں ان کے ساتھ کھڑا ہونا چین کو سخت ناگوار گزرا ہے اب جبکہ امریکہ نے طالبان کو ہتھیار مہیا کرانے کا اعلان کیا ہے کہ چین نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے بڑے صاف لفظوں میں جوابی کارروائی کی دھمکی دی ہے –

    امریکی وزارت خارجہ نے جمعے کو تائیوان کو ممکنہ طور پر 1.1 ارب ڈالر کا اسلحہ فروخت کرنے کی منظوری دے دی ہے جبکہ چین نے اس امریکی اعلان کے بعد جوابی اقدامات کی دھمکی دی ہے۔ ان ہتھیاروں میں 60 بحری جہاز شکن میزائل اور فضا سے فضا میں مار کرنے والے 100 میزائل شامل ہیں۔ امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے تائیوان کے اردگرد کے علاقے میں چین کی جارحانہ فوجی مشقوں کے پیش نظر جمعے کو تائیوان کو اسلحے کی فروخت کے پیکج کا اعلان کیا۔

    اس سے پہلے امریکی ایوان نمائندگان کی سپیکر نینسی پیلوسی نے تائیوان کا دورہ کیا تھا۔ ان کا یہ دورہ حالیہ سالوں میں کسی اعلیٰ امریکی عہدے دار کا پہلا دورہ تھا۔ پینٹاگون کی ڈیفنس سکیورٹی کوآپریشن ایجنسی (ڈی ایس سی اے ) کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے تائیوان کو فروخت کیے جانے والے اسلحے میں سائیڈ وائینڈر میزائل بھی شامل ہیں، جو فضا سے فضا اور زمین پر حملے کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

    ان میزائلوں کی قیمت تقریباً آٹھ کروڑ 50 لاکھ 60 ہزار ڈالر ہے۔ اینٹی شپ ہاروپون میزائل کی قیمت تقریباً 35 کروڑ 50 لاکھ ہے جبکہ تائیوان کے ریڈار نظام میں معاونت کی مالیت 66 کروڑ 50 لاکھ کے لگ بھگ ہے۔

    برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق واشنگٹن میں چینی سفارت خانے کے ترجمان لیوپنگیو نے کہا ہے کہ تائیوان کو امریکی اسلحے کی ممکنہ فروخت کے نتیجے میں امریکہ اور چین کے تعلقات کو ’سنگین خطرہ لاحق ہو جائے گا۔‘ اطلاعات کے مطابق چینی سفارت خانے کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’چین صورت حال میں تبدیلی کی روشنی میں سختی کے ساتھ قانونی اور ضروری جوابی اقدامات کرے گا۔‘

    دوسری جانب بائیڈن انتظامیہ نے کہا ہے کہ تائیوان کو اسلحے کی فروخت کا پیکج کچھ عرصے سے زیر غور تھا اور امریکی قانون سازوں کی مشاورت سے تیار کیا گیا۔ وائٹ ہاؤس کی سینیئر ڈائریکٹر برائے چین اور تائیوان لورا روزن برگر نے ایک بیان میں کہا: ’جیسا کہ چین تائیوان پر دباؤ بڑھاتا جا رہا ہے، جس میں تائیوان کے ارد گرد زیادہ فوجی اور بحری موجودگی بھی شامل ہے اور آبنائے تائیوان میں پہلے سے موجود صورت حال کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، ہم تائیوان کو وہ کچھ فراہم کر رہے ہیں جس کی مدد سے وہ اپنی دفاعی صلاحیتیں برقرار رکھ سکے۔‘

    پاک فوج نے فلڈ ریلیف ہیلپ لائن قائم کر دی،

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    متحدہ عرب امارات کے حکام کا آرمی چیف سے رابطہ،سیلاب زدگان کیلیے امداد بھجوانے کا اعلان

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر کی ملاقات