ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران جنگ کے خاتمے کا مطلب لبنان میں جنگ کا مکمل اختتام بھی ہے، اور جب تک اسرائیلی افواج جنگ کے دوران قبضے میں لیے گئے لبنانی علاقوں سے واپس نہیں جاتیں جنگ کو مکمل طور پر ختم نہیں سمجھا جا سکتا۔
ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق عباس عراقچی نے منگل کے روز غیر ملکی سفارت کاروں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ لبنان میں جنگ کا خاتمہ اس کے مکمل خاتمے کا ایک لازمی اور ناقابلِ علیحدگی حصہ ہے جب تک اسرائیلی افواج ان علاقوں سے انخلا نہیں کرتیں جن پر انہوں نے اس جنگ کے دوران قبضہ کیا، جنگ مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی لبنان پر اسرائیل کے کسی بھی مزید حملے کو ایران کی جانب سے مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گاجمعہ کو جنیوا میں دونوں مذاکراتی ٹیموں کے سربراہان ملیں گے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے فورا بعد ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہوگا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے ایک ابتدائی معاہدے پر دستخط ہو گئے ہیں، تاہم معاہدے کی تفصیلات تاحال منظرعام پر نہیں آئیں جبکہ دونوں ممالک کا کہنا ہے کہ مستقل جنگ بندی کے لیے ابھی مزید مذاکرات ہونا باقی ہیں صدر ٹرمپ نے پیر کے روز فرانس پہنچنے کے بعد جی 7 ممالک کے سربراہی اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ معاہدے پر مکمل دستخط ہو چکے ہیں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس جمعے کے روز جنیوا میں ہونے والی ایک باضابطہ دستخطی تقریب میں شرکت کریں گے۔









