Baaghi TV

Tag: جنگ

  • ایران کے ساحلی علاقوں اور قشم جزیرے میں دھماکوں کی اطلاعات

    ایران کے ساحلی علاقوں اور قشم جزیرے میں دھماکوں کی اطلاعات

    ایران کے ساحلی علاقوں اور قشم جزیرے میں متعدد شدید دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں –

    ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ملک کے ساحلی خطے سیرک، میناب کاؤنٹی اور جزیرہ قشم کے متعدد علاقوں میں یکے بعد دیگرے کئی پروجیکٹائلز آ کر گرے ہیں جس سے تباہی کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں تاہم، مقامی حکام اور میڈیا کی جانب سے فوری طور پر یہ واضح نہیں کیا جا سکا کہ ان دھماکوں کی آوازیں کھلے سمندر سے آئی تھیں یا یہ دھماکے جزیرہ قشم کی حدود کے اندر ہی ہوئے ہیں۔

    یہ تازہ ترین حملے ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکا نے آبنائے ہرمز کے قریب کارروائی کرتے ہوئے ایران کے پانچ تیل بردار جہازوں کو تباہ کر دیا تھا امریکا کی اس فوجی کارروائی کے بعد ایران کی جانب سے ممکنہ اور شدید جوابی ردِ عمل کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں اسی خطرے کے پیشِ نظر امریکی فوج نے اردن میں واقع موافق سلطی ایئربیس سے اپنے ہیلی کاپٹروں کی محفوظ مقامات پر منتقلی کا عمل شروع کر دیا ہے تاکہ انہیں مزید نقصا ن سے بچایا جا سکے۔

    ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اردن کے ایئربیس سے جن امریکی ہیلی کاپٹروں کو منتقل کیا جا رہا ہے، ان میں وہ آلات اور ہیلی کاپٹر بھی شامل ہیں جنہیں منگل اور بدھ کی درمیانی شب ایران کی جوابی کارروائی کے دوران نقصان پہنچا تھا یا وہ تباہ ہوئے تھے۔

    اس سے قبل ایران نے خلیج فارس میں دو امریکی جنگی جہازوں اور 8 آئل ٹینکرز اور ہرمز کے ممنوعہ علاقے سے گزرنے کی کوشش پر 10دیگر جہازوں کو نشانے بنانے کا دعویٰ کیا تھا-

  • ایران کے ساتھ جھڑپیں جنگ نہیں،پینٹاگون کا ہلاک امریکی فوجیوں کو اضافی مراعات دینے سے انکار

    ایران کے ساتھ جھڑپیں جنگ نہیں،پینٹاگون کا ہلاک امریکی فوجیوں کو اضافی مراعات دینے سے انکار

    امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے دوران ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کے اہلِ خانہ اور پینٹاگون کے درمیان اضافی مراعات اور مالی امداد کے حوالے سے شدید اختلافات سامنے آئے ہیں۔

    برطانوی اخبار ’دی ٹیلیگراف‘ نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ پینٹاگون نے ہلاک امریکی فوجیوں کو اضافی مراعات دینے سے انکار کرتے ہوئے عذر پیش کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جھڑپیں جنگ نہیں ہیں۔

    یہ معاملہ اس وقت میڈیا کی توجہ کا مرکز بنا جب مارچ کے مہینے میں عراق کے مغرب میں حادثے کے شکار ایندھن فراہم کرنے والے طیارے کے پا ئلٹ میجر الیکس کلینر کی بیوہ لیبی کلینر نے ایک بیان جاری کیاان کا کہنا تھا کہ امریکی فضائیہ نے باضابطہ جنگ کا اعلان نہ ہونے کو بنیاد بنا کر انہیں اضافی فوائد دینے سے انکار کر دیا ہے۔

    اس صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لیبی کلینر نے خبر رساں ادارے ’دی ٹیلیگراف‘ سے بات چیت میں کہا کہ میرے شوہر نے ایک جنگ میں اپنی جان گنوائی، لیکن بعد میں مجھے بتایا گیا کہ یہ تکنیکی طور پر جنگ نہیں ہے اس لیے ہم حقوق سے محروم رہ جائیں گے اس تجربے نے مجھے دکھایا کہ ایک غمزدہ خاندان کے لیے حکومتی اصطلاحات اور پیچیدہ کارروائیوں کو سمجھنا کتنا مشکل ہوتا ہےالیکس اپنے کام کے خطرات سے واقف تھے اور انہیں بھروسہ تھا کہ ان کے بعد ان کے خاندان کا خیال رکھا جائے گا۔

    دوسری جانب سوشل میڈیا پر عوامی ردعمل سامنے آنے کے بعد امریکی فضائیہ نے تسلیم کیا کہ ابتدائی طور پر غلط معلومات دی گئی تھیں اور کہا کہ میجر کی آخری تنخواہ میں خطرناک ڈیوٹی کا الاؤنس شامل کر دیا گیا ہے۔

    سیاسی سطح پر اس مسئلے نے اس وقت نئی بحث چھیڑ دی جب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے وائٹ ہاؤس کی بریفنگ میں اس بارے میں پوچھا گیا جے ڈی وینس نے کہا کہ ہم متاثرہ خاتون کی ہر ممکن مدد کرنا چاہتے ہیں اور ان کا پیغام ہے کہ ہم ان کی قربانی کی قدر کرتے ہیں اور ان کے تمام حقوق کی فراہمی کے لیے پرعزم ہیں، تاہم وینس نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے لیے لفظ جنگ کے استعمال کو مسترد کر دیا۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی وضاحت کی اور کہا کہ بہت سے لوگ اسے جنگ نہیں کہتے، میں اسے ایک عسکری تنازع کہتا ہوں کیونکہ یہ ہمارے لیے ایک محدود نوعیت کا معاملہ ہے جبکہ پینٹاگون نے بھی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں کی مسلسل دیکھ بھال کی یقین دہانی کرائی ہے-

    واضح رہے کہ پینٹاگون کے مطابق، ایران کے ساتھ ’تنازع‘ میں پچھلے چھ ماہ میں 18 امریکی فوجی ہلاک اور 780 زخمی ہو چکے ہیں۔

  • ہمارے اثاثوں کو نشانہ بنایاتو  امریکی تیل اور گیس کمپنیوں پر جوابی حملہ کریں گے،ایران

    ہمارے اثاثوں کو نشانہ بنایاتو امریکی تیل اور گیس کمپنیوں پر جوابی حملہ کریں گے،ایران

    ایرانی پارلیمان کے اسپیکر اور اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے واضح الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی فورسز نے ایران کے قومی یا سمندری اثاثوں کو نشانہ بنایا تو خطے میں موجود امریکی تیل اور گیس کی کمپنیوں اور ان کی اہم تنصیبات کو جوابی حملوں کا نشانہ بنایا جائے گا۔

    ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں امریکی وزیر دفاع کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ یہ بات بہت سادہ اور قابلِ فہم ہے، اس وسیع خطے میں پھیلائی گئی تیل و گیس کی پیداواری تنصیبات اور نظام ہماری پہنچ میں ہیں اور بے حد حساس ہیں،اگر آپ ہمارے اثاثوں پر حملہ کریں گے تو آپ پر بھی حملہ ہو گا، اور ہم پہلے بھی اپنی اس جوابی صلاحیت کو ثابت کر چکے ہیں، آپ اپنے ان فوجی اڈوں سے پوچھ لیں جو اب قابلِ استعمال نہیں رہے ہیں۔

    باقر قالیباف کی اس دھمکی سے قبل امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے اپنے بیان میں واضح کیا تھا کہ اگر ایران نے امریکی جہازوں پر فائرنگ کی تو ہم ان کے آئل ٹینکرز کو تباہ کر کے ڈبو دیں گے ایران کو امریکی بحریہ پر فائرنگ سے گریز کرنا ہو گا۔

    دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا نے خطے پر ایک وحشیانہ جنگ مسلط کی ہے اور اب اس کے معاشی اثرات اور ادائیگی کی توقع پوری دنیا سے کر رہا ہے تجارتی جہاز رانی کا نظام متاثر ہونے کے باعث عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے، اور ایسی صورتحال میں صرف ایران کو خطے میں افراتفری کا ذمہ دار قرار دینا سراسر مضحکہ خیز ہے۔

    اسماعیل بقائی نے یہ اہم انکشاف بھی کیا کہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کے لیے عارضی اور محفوظ راستے کی فراہمی پر ایران اور عمان کے درمیان مذاکرات آخری مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں اور توقع ہے کہ اس معاہدے کو جلد بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن میں باقاعدہ رجسٹر کرا لیا جائے گا۔

  • جنگ کے دوران اسرائیل نے قطر کو نشانہ بنایا،اسرائیلی وزیراعظم

    جنگ کے دوران اسرائیل نے قطر کو نشانہ بنایا،اسرائیلی وزیراعظم

    اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے قطر پر حملے اور بمباری پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ کے دوران اسرائیل نے قطر کو نشانہ بنایا-

    الجزیرہ کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نے اسرائیلی نیوز چینل ’24 نیوز‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں قطر کو ’دشمن ریاست‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی پالیسی کسی دوسرے ملک کے دباؤ کے تحت نہیں چلتی، اسرائیل نے جنگ کے دوران قطر پر حملہ اور بمباری کی اور قطر نے بھی اسرائیل کو نشانہ بنایا۔

    نیتن یاہو کا یہ بیان قطر کے دارالحکومت دوحہ پر اسرائیلی حملے کے تقریباً ایک سال بعد سامنے آیا ہے، 9 ستمبر 2025 کو ہونے والے حملے میں حماس کے 5 ارکان اور قطری سیکیورٹی اہلکار جاں بحق ہوئے تھے، یہ حملہ حماس کے رہنماؤں کے ایک اجلاس کے دوران کیا گیا تھا، جس میں امریکا کی حمایت سے غزہ میں جنگ بندی کی تجویز پر بات چیت جاری تھی۔

    قطر نے اس حملے کو عالمی قوانین اور ملکی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی تھی، جبکہ ایران، پاکستان، اردن، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب سمیت متعدد ممالک نے بھی اسرائیلی کارروائی کی مذمت کی، اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی حملے کو قطر کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا تھا۔

    دوسری جانب نیتن یاہو نے غزہ کو بھیجی جانے والی قطری مالی امداد سے متعلق الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ رقم انسانی امداد کے لیے تھی اور اسے اسرائیلی خفیہ اداروں موساد اور شن بیت کی سفارش پر منتقل کیا گیا تھا، ان کے مطابق غزہ میں داخل ہونے والی مجموعی رقم میں قطری فنڈز کا حصہ صرف 2 فیصد تھا۔

  • ایران کی موجودہ ترجیح نہ جنگ ہے اور نہ ہی مذاکرات،محمد رضا نقدی

    ایران کی موجودہ ترجیح نہ جنگ ہے اور نہ ہی مذاکرات،محمد رضا نقدی

    ایران کے سپریم لیڈر کے عسکری مشیر جنرل محمد رضا نقدی نے ایران کی میزائل صلاحیتوں میں کمی کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے 90 فیصد سے زائد میزائل بدستور موجود اور محفوظ ہیں۔

    الجزیرہ نے ایرانی خبر رساں ادارے کے حوالے سے بتایا ہے کہ محمد رضا نقدی نے جنگ کے بعد ایران کی فوجی تنصیبات اور دفاعی پیداوار کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ جن مراکز کو جنگ کے دوران نقصان پہنچا تھا، انہیں نئے اور نسبتاً محفوظ مقامات پر منتقل کرکے دوبارہ فعال کردیا گیا ہے،اور ہ جو میزائل کم ہوئے وہ جنگ کے دوران داغے گئے تھے اور ان کی جگہ نئے میزائل حاصل کر لیے گئے ہیں،جبکہ ایران کا میزائل بنانے کا نظام خود کفیل اور طویل عرصے تک برقرار رہنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    ایرانی عہدیدار کے مطابق ان مراکز میں جدید ٹیکنالوجی استعمال کی جارہی ہے، جبکہ بعض مقامات پر دفاعی پیداوار کی رفتار جنگ سے پہلے کے مقابلے میں بھی زیادہ ہے ان کا دعویٰ ہے کہ جنگ کے دوران فوجی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان کے باوجود ایران نے اپنی دفاعی پیداواری صلاحیت بحال کر نے میں تیزی دکھائی ہے۔

    بریگیڈیئر جنرل محمد رضا نقدی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاسداران انقلاب اور ایرانی حکومت کے درمیان تعلقات مضبوط ہیں۔ ان کے مطابق دونوں اداروں کے درمیان تعاون اور رابطہ برقرار ہے اور ملک کی موجودہ صورتحال میں کسی قسم کی اندرونی تقسیم نہیں ہے۔

    محمد رضا نقدی کے مطابق ایران کی موجودہ ترجیح نہ جنگ ہے اور نہ ہی مذاکرات، بلکہ ملک کے لیے ایسی قوت قائم کرنا ہے جس کے باعث کسی بھی مخالف کو ایران کے خلاف فوجی کارروائی سے پہلے کئی مرتبہ سوچنا پڑے،ایران کا مقصد جنگ شروع کرنا نہیں بلکہ اپنی دفاعی صلاحیت اس حد تک مضبوط کرنا ہے کہ کسی بھی ممکنہ حملے کو روکا جاسکےمضبوط دفاعی بازدار قوت خطے میں مستقبل کے تنازعات کے امکانات کم کرسکتی ہے۔

    انہوں نے امریکا کو بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کے مفاد میں یہ نہیں کہ وہ ایران کے ساتھ ایک اور بڑے فوجی تنازع میں داخل ہو۔ ان کے مطابق کسی نئے بڑے تنازع کے نتیجے میں امریکا کو بھی بھاری سیاسی، فوجی اور دیگر نقصانات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

    تاہم ایرانی عہدیدار کی جانب سے فوجی مراکز کی بحالی اور پیداوار میں اضافے سے متعلق دعوؤں کی آزاد ذرائع سے فوری طور پر تصدیق سامنے نہیں آئی۔

    امریکی میڈیا میں شائع ہونے والی حالیہ رپورٹس نے ایران کی میزائل اور ڈرون صلاحیتوں کو تباہ کرنے سے متعلق وائٹ ہاؤس کے دعووں پر سوالات اٹھائے ہیں،امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی فوجی کارروائیاں ایران کے زیرِ زمین میزائل نیٹ ورکس اور ڈرون لانچنگ پلیٹ فارمز کو مکمل طور پر غیر مؤثر بنانے میں کامیاب نہیں ہوئیں۔ تاہم مسلسل ایرانی حملوں کو روکنے کی کوششوں کے نتیجے میں امریکی فضائی دفاعی نظام کے اہم ذخائر پر دباؤ بڑھا ہے۔

  • ٹرمپ کی حملوں کے جواب میں ایران کیخلاف سخت کارروائی کی دھمکی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں امریکی اہداف پر جوابی حملوں کے بعد تہران کے خلاف مزید سخت کارروائی کی دھمکی دی ہے۔‘۔

    یہ کشیدگی اس وقت بڑھی جب امریکا نے ایران کے آبنائے ہرمز کے قریب واقع جزیرے لارک پر حملہ کیا۔ امریکی حکام کے مطابق کارروائی میں ایران کے دو میزائل لانچرز کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ حملے میں دو افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق امریکی فورسز نے جزیرہ لارک پر ’’محدود اور انتہائی درست‘‘ کارروائی کی۔ امریکی مؤقف کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب کے اہلکار آبنائے ہرمز میں سمندری بارودی سرنگیں بچھانے کے لیے راکٹ داغنے کی تیاری کررہے تھے، جسے امریکا نے جہاز رانی کے لیے ایک ’’فوری خطرہ‘‘ قرار دیا۔

    ایران نے امریکی کارروائی کو جارحیت قرار دیتے ہوئے اس کا فوری جواب دیا ایرانی پاسداران انقلاب کے مطابق ایران نے اردن میں موجود دو ایسے فوجی اڈوں کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا جہاں امریکی فورسز موجود ہیں۔ٕ ایران نے دعویٰ کیا کہ حملوں میں امریکی تنصیبات کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔

    تاہم امریکا نے ابھی تک ایرانی دعوے کے مطابق نقصان کی تصدیق نہیں کی۔ اردن کے حکام نے کہا ہے کہ ملک کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے 8 میزائلوں کو روک لیا گیا، تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ان میزائلوں کو کہاں سے داغا گیا تھا۔

    ایران نے متحدہ عرب امارات میں واقع المنہاد ایئر بیس کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، جہاں امریکی اہلکار موجود ہیں۔ تاہم متحدہ عرب امارات نے اس دعوے کو مسترد کردیا اور کہا کہ المنہاد ایئر بیس پر میزائل حملے کی خبریں بے بنیاد ہیں۔

    البتہ اماراتی وزارت دفاع نے تصدیق کی کہ اس کی فضائیہ نے ایران کی جانب سے آنے والے ایک ڈرون کو اپنی علاقائی سمندری حدود کے اوپر مار گرایا۔ متحدہ عرب امارات نے اس واقعے کو خطرناک کشیدگی قرار دیتے ہوئے اپنی خودمختاری اور سلامتی کی خلاف ورزی کی مذمت کی ہے۔

    ایرانی وزارت خارجہ نے اردن میں امریکی اہداف کے خلاف کارروائی کو ’’جائز دفاع‘‘ قرار دیا ہے۔ تہران کا مؤقف ہے کہ یہ حملے امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف کیے گئے تازہ فوجی حملوں کے جواب میں کیے گئے۔

    دوسری جانب صدر ٹرمپ نے ایران کے جوابی حملوں کے بعد سخت ردعمل کا عندیہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا ایران کو سخت جواب دے گا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی دوبارہ خطرناک سطح تک پہنچنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

    یہ تازہ کشیدگی کئی ہفتوں کے نسبتاً سکون کے بعد سامنے آئی ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ حملوں کا تبادلہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب واشنگٹن ایران پر فوجی دباؤ کے ساتھ ساتھ اقتصادی دباؤ بڑھانے کی کوشش بھی کررہا ہے۔

    آبنائے ہرمز کی صورتحال اس تنازع میں خاص اہمیت رکھتی ہے کیونکہ یہ دنیا کی اہم ترین توانائی اور تجارتی گزرگاہوں میں شامل ہے۔ اس راستے میں کسی بھی بڑے فوجی تصادم یا بحری آمدورفت میں رکاوٹ سے عالمی تیل کی سپلائی، توانائی کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر نمایاں اثر پڑ سکتا ہے۔

    ایران اور امریکا کے درمیان تازہ حملوں کے بعد خطے میں موجود امریکی اڈوں، خلیجی ممالک کی فضائی حدود اور آبنائے ہرمز کی سکیورٹی پر بھی عالمی سطح پر تشویش بڑھ گئی ہے۔ اگر امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف مزید کارروائی کی جاتی ہے تو اس کے نتیجے میں خطے میں کشیدگی مزید پھیلنے کا خدشہ موجود ہے۔

    علاوہ ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کے امکان کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔

    پیر کو واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جب ایک رپورٹر نے ان سے سوال پوچھا کہ ”کیا آپ نے ایران کے خلاف ایٹمی ہتھیار کے استعمال کا آپشن رد کر دیا ہے؟“ تو صدر ٹرمپ نے جواب دیا کہ ”وہ (ایران) فوجی طور پر مکمل طور پر شکست کھا چکے ہیں، میں نے انہیں شکست دے دی ہے اور اب میں ان پر ایٹمی ہتھیار استعمال کروں؟ یہ کتنا احمقانہ سوال ہے۔

    صدر ٹرمپ اس سے قبل بھی یہ واضح کر چکے ہیں کہ ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کی کسی کو بھی اجازت نہیں ہونی چاہیےایران کی موجودہ صورتحال اور جنگ کے دائرہ کار کے حوالے سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایران کو ایک ناکام ریاست قرار دیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ایران میں ساڑھے تین سو فیصد مہنگائی ہے، ان کی کرنسی ختم ہو چکی ہے، وہ اپنے فوجیوں کو تنخواہیں نہیں دے رہے، ان کے اکثر رہنما مارے جا چکے ہیں اور ان کی بحریہ اور فضائیہ تباہ ہو چکی ہے”اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم انہیں مزید نقصان نہیں پہنچائیں گے، دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے۔“

    انہوں نے یہ بھی دہرایا کہ ”ایران کے پاس کبھی ایٹمی ہتھیار نہیں ہوگا، کیونکہ اگر ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوتا تو اسرائیل کا وجود ختم ہو چکا ہوتا اور مشرقِ وسطیٰ میں کچھ نہ بچتا، لہٰذا تہران کو ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کی اجازت کسی صورت نہیں دی جائے گی۔“

    آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور عالمی منڈی میں تیل کی ترسیل کے حوالے سے صدر ٹرمپ نے بتایا کہ صورتحال انتہائی بہتر ہے ہماری بحریہ کی مدد سے گزشتہ رات متعدد جہاز وہاں سے گزرے ہیں اور ہم روزانہ اوسطاً تیس جہازوں کی آمد و رفت یقینی بنا رہے ہیں جس سے بڑی مقدار میں تیل باہر جا رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ تیل کی قیمتیں اس حد تک نہیں بڑھیں جس کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا تہران پر بڑھتا ہوا دباؤ عالمی تجارتی راستوں کو محفوظ بنانے اور خطے کی سلا متی کو برقرار رکھنے کا حصہ ہے۔

  • ایران کا دفاعی صلاحیتیں مزید مضبوط بنانے کا عمل جاری رکھنےکا اعلان

    ایران کا دفاعی صلاحیتیں مزید مضبوط بنانے کا عمل جاری رکھنےکا اعلان

    ایران کے آرمی چیف میجر جنرل امیر حاتمی نے کہا ہے کہ حالیہ تنازعات میں دشمن ایران کے خلاف اپنے کسی بھی اسٹریٹجک مقصد کو حاصل کرنے میں ناکام رہا۔

    ایرانی فوج کے شہدا کی یاد میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امیر حاتمی نے کہا کہ جنگ میں کامیابی کا معیار یہ ہے کہ دشمن کو اپنے مقاصد حاصل کرنے سے روکا جائےایران کے دفاعی نظام کو نشانہ بنانے کی بھرپور کوششوں کے باوجود ایرانی مسلح افواج نے جنگ کے اختتام تک میزائلوں اور ڈرونز کا مؤثر استعمال جاری رکھا ایرانی فضائی دفاع نے بھی متعدد دشمن ڈرونز، جنگی طیاروں اور اہم اسٹریٹجک تنصیبات کو نقصان پہنچایا۔

    امیر حاتمی نے ایرانی دفاعی قوت کو کمزور کیے جانے سے متعلق بیرونی دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ دشمن اچھی طرح جانتا ہے کہ ایران کی مسلح افواج اب بھی طاقت، عزم، جدت اور بہادری کے ساتھ ڈٹی ہوئی ہیں۔

    ایران کے وزیر دفاع بریگیڈیئر جنرل سید مجید ابن الرضا نے کہا ہے کہ ایران اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے کا عمل جاری رکھے گا اور اس میں کوئی تعطل نہیں آئے گا مسلح افواج ایک مضبوط ایران کے قیام کے لیے اپنی تمام صلاحیتیں بروئے کار لائیں گی، انہوں نے دفاعی صلاحیتوں میں مسلسل اضافے، نوجوانوں اور ماہر سائنسدانوں کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے اور قومی اتحاد برقرار رکھنے پر زور دیاموجودہ اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے دفاعی تیاریوں میں مسلسل اضافہ ناگزیر ہے صرف موجودہ فوجی وسائل پر انحصار کافی نہیں بلکہ مسلسل نئی طاقت اور صلاحیت پیدا کرنا ناگزیر ہے۔

    قائم مقام وزیر دفاع نے ایرانی نوجوانوں اور ماہرین کو ملک کا سب سے بڑا اثاثہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ شدید پابندیوں کے دوران انہوں نے اہم ٹیکنالوجیز تیار کرکے اپنی فنی مہارت کو دفاعی صلاحیتوں میں تبدیل کیا ایرانی دفاعی اہلکار اپنی ذمہ داریوں سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا بھولے میڈیا کے ذریعے توانائی مارکیٹ میں ہیرا پھیری کرکے جنگ کو طوالت دینے کی کوشش کر رہا ہے، اسرائیل سے جڑے عناصر امید افزا جائزے پیش کر رہے ہیں تاہم صورتحال کا اصل بوجھ امریکی صارفین اٹھا رہے ہیں۔

  • یوکرین پر روس کے حملے، 16 افراد ہلاک، 130 زخمی

    یوکرین پر روس کے حملے، 16 افراد ہلاک، 130 زخمی

    یوکرین کے وسطی شہر کریوی ریح میں قائم ایک شاپنگ سینٹر پر روس کے ڈرون حملے میں کم از کم 16 افراد ہلاک اور 130 سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔

    برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق علاقائی گورنر اولیکساندر ہانژا کے مطابق جمعے کے روز ہونے والے حملے میں شاپنگ سینٹر کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں 22 بچے بھی زخمی ہوئے 29 زخمیوں کی حالت تشویش ناک ہے، جن میں 5 بچے بھی شامل ہیں ابتدائی اطلاعات کے مطابق 9 افراد تاحال لاپتا ہیں، جن میں 2 بچے شامل ہیں۔ امدادی کارکن ملبہ ہٹانے اور ممکنہ طور پر پھنسے افراد کو تلاش کرنے میں مصروف ہیں۔

    یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے حملے کو انتہائی مذموم اور قابل مذمت قرار دیا ان کا کہنا تھا کہ پہلے ڈرون حملے کے تقریباً آدھے گھنٹے بعد ایک دوسرا روسی ڈرون بھی شاپنگ سینٹر سے ٹکرایا، جس کا مقصد بظاہر امدادی کارکنوں کو بھی نشانہ بنانا تھااس طرح کے حملے دہشت گرد کارروائیوں سے کم نہیں ہیں، انہو ں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ روس کو اس حملے کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے، ’’ہم یقینی طور پر جواب دیں گے۔

    کریوی ریح صدر زیلنسکی کا آبائی شہر بھی ہے حملے کے بعد علاقے میں بڑے پیمانے پر امدادی کارروائیاں شروع کردی گئیں جبکہ صنعتی عمارت سے اٹھنے والے سیاہ دھویں کی تصاویر بھی سامنے آئیں۔

    دوسری جانب جمعے ہی کو یوکرین کے جنوبی علاقے میکولائیف میں بھی روسی ڈرون حملہ کیا گیا، جس میں کم از کم 4 افراد ہلاک ہوئے یوکرینی سرکاری میڈیا کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 3 بچے شامل ہیں جبکہ ایک خاتون زخمی ہوئی۔

    یوکرین میں روسی فضائی حملوں میں اس وقت تیزی دیکھی جا رہی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میدانِ جنگ میں بھی جاری ہے اس سے ایک روز قبل روس کے بیلسٹک میزائل حملے میں یوکرین کے دارالحکومت کیف میں 17 افراد ہلاک ہوئے تھےدوسری طرف یوکرین نے بھی روس کے خلاف اپنے حملوں میں اضافہ کیا ہے، یوکرینی فورسز روس کی تیل تنصیبات اور جنگی سامان کی ترسیل سے متعلق بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا رہی ہیں تاکہ رو س کی جنگی صلاحیت کو متاثر کیا جا سکے۔

  • یوکرین پرروس کا بڑا میزائل حملہ، 5 افراد ہلاک متعدد زخمی

    یوکرین پرروس کا بڑا میزائل حملہ، 5 افراد ہلاک متعدد زخمی

    یوکرین کے دارالحکومت کیف اور گرد و نواح میں روسی میزائل حملوں کے نتیجے میں کم از کم 5 افراد ہلاک اور 23 زخمی ہوگئے۔

    یوکرینی حکام کے مطابق روسی میزائل حملوں کا سلسلہ رات گئے جاری رہا جس میں رہائشی عمارتوں اور گوداموں کو نشانہ بنایا گیاحملوں کے بعد متعدد مقامات پر آگ بھڑک اٹھی جبکہ گاڑیاں بھی متاثر ہوئیں۔

    یوکرین کی اسٹیٹ ایمرجنسی سروس کے مطابق ایک طبی مرکز کی عمارت میں بھی آگ لگ گئی جبکہ تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے تلے دبے افراد کی تلاش اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں، ریسکیو اہلکاروں نے ملبے سے کم از کم ایک شخص کو زندہ نکال لیا جبکہ مزید افراد کی تلاش کی جارہی ہے۔

    دوسری جانب پولینڈ کی فوج نے روسی حملوں کے پیش نظر احتیاطی فوجی فضائی کارروائیاں شروع کرنے کا اعلان کیا ہے، حملوں سے ہونے والے نقصانات کا مکمل جائزہ لیا جارہا ہے جبکہ امدادی کارروائیاں تاحال جاری ہیں۔

  • روس اور یوکرین میں  حملے، 14 افراد ہلاک

    روس اور یوکرین میں حملے، 14 افراد ہلاک

    روس اور یوکرین کے درمیان تازہ میزائل، ڈرون اور فضائی حملوں کے تبادلے میں کم از کم 14 افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوگئے ہیں،جن میں روس میں 9 اور یوکرین میں 5 افراد شامل ہیں۔

    اے ایف پی کے مطابق، دونوں ممالک کے درمیان تقریباً ساڑھے چار سال سے جاری جنگ میں حالیہ دنوں کے دوران حملوں کی شدت اور دائرہ کار میں مزید اضافہ دیکھا جا رہا ہے-

    روسی حکام کے مطابق یوکرین کی جانب سے سرحدی علاقے بیلگوروڈ پر کیے گئے حملوں میں 4 افراد جان سے گئے، جن میں کھیل کے میدان کے قریب موجود 13 سالہ بچی بھی شامل تھی،بچی شدید زخمی ہوئی تھی، تاہم اسپتال میں دورانِ علاج دم توڑ گئی،اسی طرح روس کے ساراتوف ریجن میں یوکرینی ڈرون حملے کے نتیجے میں 2 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ اُدمرتیا کے علاقے میں ایک گاڑی کو نشانہ بنانے والے ڈرون حملے میں مزید 3 افراد جان کی بازی ہار گئے۔

    دوسری جانب یوکرینی حکام نے بتایا کہ روسی حملوں میں دنیپروپیٹرووسک کے علاقے میں 2 افراد، جبکہ زاپوریزژیا اور خیرسون میں ایک، ایک شہری ہلاک ہوا،یوکرین کے شمال مشرقی شہر خارکیف میں بھی روسی حملے کے نتیجے میں ایک ڈاک ٹرمینل مکمل طور پر تباہ ہو گیا، جہاں موجود ایک ڈاک ملازم بھی ہلاک ہوگیا۔

    رپورٹ کے مطابق امریکا کی قیادت میں روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی اور امن مذاکرات گزشتہ کئی ماہ سے تعطل کا شکار ہیں، جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان فوجی کارروائیاں بدستور جاری ہیں،روس اور یوکرین دونوں کا مؤقف ہے کہ وہ جان بوجھ کر شہری آبادی کو نشانہ نہیں بناتے تاہم دونوں جانب ہونے والے حالیہ حملوں میں عام شہریوں کی ہلاکتوں پر عالمی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔