Baaghi TV

Tag: جنگ

  • ایران جنگ کے خاتمے کا مطلب لبنان میں جنگ کا مکمل اختتام بھی ہے،عباس عراقچی

    ایران جنگ کے خاتمے کا مطلب لبنان میں جنگ کا مکمل اختتام بھی ہے،عباس عراقچی

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران جنگ کے خاتمے کا مطلب لبنان میں جنگ کا مکمل اختتام بھی ہے، اور جب تک اسرائیلی افواج جنگ کے دوران قبضے میں لیے گئے لبنانی علاقوں سے واپس نہیں جاتیں جنگ کو مکمل طور پر ختم نہیں سمجھا جا سکتا۔

    ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق عباس عراقچی نے منگل کے روز غیر ملکی سفارت کاروں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ لبنان میں جنگ کا خاتمہ اس کے مکمل خاتمے کا ایک لازمی اور ناقابلِ علیحدگی حصہ ہے جب تک اسرائیلی افواج ان علاقوں سے انخلا نہیں کرتیں جن پر انہوں نے اس جنگ کے دوران قبضہ کیا، جنگ مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی لبنان پر اسرائیل کے کسی بھی مزید حملے کو ایران کی جانب سے مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گاجمعہ کو جنیوا میں دونوں مذاکراتی ٹیموں کے سربراہان ملیں گے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے فورا بعد ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہوگا۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے ایک ابتدائی معاہدے پر دستخط ہو گئے ہیں، تاہم معاہدے کی تفصیلات تاحال منظرعام پر نہیں آئیں جبکہ دونوں ممالک کا کہنا ہے کہ مستقل جنگ بندی کے لیے ابھی مزید مذاکرات ہونا باقی ہیں صدر ٹرمپ نے پیر کے روز فرانس پہنچنے کے بعد جی 7 ممالک کے سربراہی اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ معاہدے پر مکمل دستخط ہو چکے ہیں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس جمعے کے روز جنیوا میں ہونے والی ایک باضابطہ دستخطی تقریب میں شرکت کریں گے۔

  • ایران کو درپیش چیلنجز اور بیرونی دباؤ کے باوجود عوام نے قومی یکجہتی کی ایک مثال قائم کی،ایرانی صدر

    ایران کو درپیش چیلنجز اور بیرونی دباؤ کے باوجود عوام نے قومی یکجہتی کی ایک مثال قائم کی،ایرانی صدر

    صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران کو درپیش چیلنجز اور بیرونی دباؤ کے باوجود عوام نے قومی یکجہتی کی ایک مثال قائم کی۔

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ گزشتہ سال اسرائیل کے خلاف 12 روزہ جنگ نے ثابت کر دیا کہ جب ایران کی خودمختاری اور قومی مفادات کا معاملہ درپیش ہو تو پوری ایرانی قوم تمام اختلافات سے بالاتر ہو کر متحد ہو جاتی ہے جنگ کے دوران مختلف سیاسی، سماجی اور فکری حلقوں سے تعلق رکھنے والے ایرانی شہری ایک صف میں کھڑے نظر آئے۔

    ایرانی صدر نے کہا کہ 12 روزہ جنگ نے یہ حقیقت واضح کر دی کہ ذاتی پسند، ناپسند اور مختلف نقطہ ہائے نظر سے قطع نظر، جب ہمارے عزیز وطن ایران کا معاملہ آتا ہے تو ہم ایک قوم، ایک بندھی ہوئی مٹھی اور ایک دھڑکتے ہوئے دل کی مانند ہوتے ہیں انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایران اپنی قومی سلا متی، خودمختاری اور عوامی مفادات کے تحفظ کے لیے متحد رہے گا اور کسی بھی بیرونی دباؤ کے سامنے جھکے گا نہیں۔

  • قشم جزیرےپر امریکی حملے، پاسداران انقلاب کا بھی امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    قشم جزیرےپر امریکی حملے، پاسداران انقلاب کا بھی امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں ایک بار پھر اضافہ ہو گیا، آج صبح سویرے دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملے کیے ہیں –

    آبنائے ہرمز کے قریب واقع ایرانی جزیرے قشم پر امریکی فوج کی کارروائی کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے امریکا کا کہنا ہے کہ اس نے ’اپنے دفاع‘ کے تحت حملہ کیا، جبکہ ایران نے جواباً کویت اور بحرین میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے،دونوں جانب سے حملوں اور جوابی کارروائیوں کے دعووں کے باوجود واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی اب بھی برقرار ہے۔

    امریکی فوج نے تصدیق کی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز میں واقع ایران کے قشم جزیرے پر ’ اپنے دفاع‘ کے تحت حملے کیے، جبکہ ایران کی جانب سے کویت اور بحرین میں امریکی تنصیبات کو میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

    ایرانی پاسداران انقلاب نے باقاعدہ اعلان کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے امریکی اہداف پر کامیاب میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں، جن میں بحرین میں موجود امریکی ففتھ فلیٹ ہیڈکوارٹر، ایئربیس اور وہاں موجود ہیلی کاپٹروں کو نشانہ بنایا گیا ہے، یہ کارروائی امریکی حملوں کے جواب میں کی گئی ہے اور انہوں نے ایک بحری جہاز کو بھی میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے.

    ایران نے بحرین میں امریکی ففتھ فلیٹ ہیڈکوارٹر اور ایئربیس کو نقصان پہنچانے کا دعویٰ بھی کیا،ایرانی فورسز کا یہ بھی مؤقف ہے کہ جزیرہ قشم میں ان کے کمیونیکیشن ٹاور پر امریکا نے حملہ کیا تھا، جس کے جواب میں انہوں نے امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا.

    امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران کے ان تمام دعوؤں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے ایرانی بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملے مکمل طور پر ناکام بنا دیے ہیں ایران نے دو میزائل کویت کی طرف داغے تھے جو راستے میں ہی گر گئے، جبکہ بحرین پر داغے گئے تین میزائلوں کو امریکا اور بحرین کی فورسز نے فضا میں ہی مار گرایا، ایران نے تین ڈرون حملے تجارتی بحری جہازوں پر بھی کیے جنہیں ناکام بنا دیا گیا۔

    امریکی حکام نے اپنی کارروائی کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے ایرانی جزیرے قشم پر جوابی حملے کیے ہیں جہاں امریکی فورسز نے ایرانی فوجی تنصیب کو نشانہ بنایا ہے،یہ حملے ایران کی جانب سے کیے جانے والے میزائل اور ڈرون حملوں کے جواب میں کیے گئے ہیں.

    اس فضائی جھڑپ سے پہلے امریکا نے بوٹسوانا کے پرچم بردار ایک آئل ٹینکر کو بھی ناکارہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا، جس کے بارے میں امریکی حکام کا کہنا تھا کہ یہ آئل ٹینکر ایرانی جزیرے خارگ کی جانب جا رہا تھا.

  • کوئی  قابل قبول معاہدہ نہ ہو سکا تو امریکا دوبارہ فوجی آپریشن کرنے پر مجبور ہو سکتا ہے،ٹرمپ

    کوئی قابل قبول معاہدہ نہ ہو سکا تو امریکا دوبارہ فوجی آپریشن کرنے پر مجبور ہو سکتا ہے،ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے نہ صرف جوہری ہتھیار تیار نہ کرنے بلکہ کسی بھی ذریعے سے ایسے ہتھیار حاصل نہ کرنے پر بھی آمادگی ظاہر کر دی ہے جسے انہوں نے جاری مذاکرات میں ایک اہم پیشرفت قرار دیا۔

    امریکی نشریاتی ادارے فوکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا مذاکرات کے ذریعے وہ تمام اہداف حاصل کر رہا ہے جو اس نے ایرا ن کے حوالے سے مقرر کیے تھے، وہ کسی جلد بازی میں نہیں ہیں کیونکہ جلد بازی کی صورت میں بہتر اور دیرپا معاہدہ ممکن نہیں ہو سکتا۔

    ٹرمپ کے مطابق ابتدائی طور پر ایرانی مؤقف صرف جوہری ہتھیار نہ بنانے تک محدود تھا تاہم امریکی اعتراض کے بعد اس میں یہ شق بھی شامل کی گئی کہ ایران کسی بھی شکل میں جوہری نوعیت کا عسکری ہتھیار خریدنے یا حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا، ایرانی مذاکرات کار انتہائی سخت مؤقف رکھتے ہیں اور بات چیت میں وقت لگ رہا ہے تاہم واشنگٹن اس معاملے میں جلد بازی کے بجائے پائیدار نتائج چاہتا ہے۔

    صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایران کے ساتھ کوئی مؤثر اور قابل قبول معاہدہ نہ ہو سکا تو امریکا دوبارہ فوجی آپریشن کرنے پر مجبور ہو سکتا ہےواشنگٹن تمام ممکنہ آپشنز اپنے پاس رکھتا ہے اور موجودہ صورتحال میں تمام تر سفارتی اور تزویراتی برتری امریکا کے پاس ہے۔

    امریکی صدر نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی اہم بیان دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے پر دستخط ہوتے ہی آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھول دیا جائے گا اس اہم عالمی بحری گزرگاہ کی بحالی سے بین الاقوامی تجارت اور توانائی کی ترسیل معمول پر آ سکے گی۔

    صدر ٹرمپ نے ایران کی موجودہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران اس وقت انتہائی کمزور پوزیشن میں ہےایرانی فوج، بحریہ اور فضائیہ کو شدید نقصان پہنچ چکا ہے اور ان کی عسکری صلاحیتوں کو بڑی حد تک ختم کر دیا گیا ہے، بعض سابق جنگوں سے یہ سبق ملا ہے کہ کسی ملک کے تمام ریاستی ڈھانچے کو ختم کر دینا طویل المدتی عدم استحکام کا باعث بنتا ہے،ماضی میں عراق میں ہونے والے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس بار مختلف حکمت عملی اپنائی گئی تاکہ مستقبل میں خطے میں استحکام کی راہ ہموار کی جا سکے۔

  • روس یوکرین پر جدید ہتھیاروں سےبڑے حملے کی تیاری کر رہا ہے،زیلنسکی

    روس یوکرین پر جدید ہتھیاروں سےبڑے حملے کی تیاری کر رہا ہے،زیلنسکی

    یوکرین کے صدر ولادیمیرزیلسنکی نے دعویٰ کیا ہے کہ روس یوکرین، خصوصاً دارالحکومت کیف پر بڑے حملے کی تیاری کر رہا ہے، جس میں ہائپرسونک ’’اوریشنک ‘‘ بیلسٹک میزائل سمیت مختلف جدید ہتھیار استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

    صدر زیلنسکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ یہ معلومات یوکرین، امریکا اور یورپی ممالک کی انٹیلیجنس رپورٹس کی بنیاد پر سامنے آئی ہیں روس مشترکہ نوعیت کے حملوں کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، جن میں درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائل بھی شامل ہو سکتے ہیں۔

    زیلنسکی نے کہا کہ روس کی جانب سے ایسے ہتھیاروں کا استعمال نہ صرف جنگ کو طول دے رہا ہے بلکہ دنیا بھر میں ممکنہ جارح ممالک کے لیے خطرنا ک مثال بھی قائم کر رہا ہے انہوں نے امریکا اور یورپی اتحادیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ بعد از وقوع ردعمل کے بجائے پیشگی اقدامات کریں تاکہ روس کو مزید کشیدگی بڑھانے سے روکا جا سکے۔

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک روز قبل روسی صدر ولادیمیرپیوٹن نے مشرقی یوکرین کے روس کے زیر قبضہ علاقے لوہانسک میں طلبہ کے ہاسٹل پر ڈرون حملے کے بعد جوابی کارروائی کے آپشنز تیار کرنے کا حکم دیا تھا تاہم یوکرینی فوج نے اس حملے میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔

    روس اس سے قبل بھی دو مرتبہ “اوریشنک” ہائپرسونک میزائل استعمال کر چکا ہے روسی صدر پیوٹن اس میزائل کو ناقابلِ روک قرار دے چکے ہیں، کیونکہ اس کی رفتار آواز کی رفتار سے تقریباً دس گنا زیادہ بتائی جاتی ہے روس نے پہلی بار نومبر 2024 میں یوکرین کی ایک فوجی فیکٹری کو نشانہ بنانے کے لیے ’’اوریشنک‘‘ میزائل داغا تھا اس وقت یوکرینی ذرائع نے دعویٰ کیا تھا کہ میزائل میں اصلی دھماکا خیز مواد کے بجائے ڈمی وار ہیڈز نصب تھے، جس کے باعث نقصان محدود رہا،جبکہ دوسرا حملہ جنوری 2026 میں مغربی یوکرین کے علاقے لیف میں کیا گیا تھا۔

    واضح رہے کہ رواں سال جنوری میں فرانس، برطانیہ اور جرمنی کے رہنماؤں نے مغربی یوکرین میں ’’اوریشنک‘‘ میزائل کے استعمال کو ’’اشتعال انگیز اور ناقابل قبول‘‘ قرار دیا تھا۔

  • کسی بھی نئی  جارحیت کی صورت میں ایران کی امریکا اور اسرائیل کو سخت وارننگ

    کسی بھی نئی جارحیت کی صورت میں ایران کی امریکا اور اسرائیل کو سخت وارننگ

    ایران کی اعلیٰ ترین فوجی کمانڈ نے امریکا اور اتحادیوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی نئی غلطی یا جارحیت کی صورت میں انہیں ایران کے سخت ترین ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    ایران کے خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹر کے کمانڈر میجر جنرل علی عبداللہی نے امریکا اور اس کے اتحادیوں کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایران کے خلاف غلط اندازے لگانے اور غلط فہمیوں کو دور کرلیں، ایران اور اس کی مسلح افواج پہلے کے مقابلے میں زیادہ تیار، مضبوط اور ہر قسم کی صورت حال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں،اگر ایران پر کسی بھی قسم کی جارحیت کی گئی تو اس کا جواب پہلے سے زیادہ تیز، فیصلہ کُن اور وسیع ہوگا۔

    میجر جنرل علی عبداللہی نے کہا کہ امریکا اور صہیونی فوج ماضی میں کئی بار ایرانی قوم اور اس کی مسلح افواج کا امتحان لے چکے ہیں، تاہم ایران نے اپنی صلاحیتوں اور طاقت کا بھرپور مظاہرہ دکھایا ہے،یران خطے میں امن و استحکام کا خواہاں ہے، تاہم اگر دشمن نے دوبارہ کوئی غلطی کی تو ایران پہلے سے کہیں زیادہ طاقت کے ساتھ جواب دے گا اور اپنے دفاع میں جارح کا ہاتھ کاٹنے سے بھی گریز نہیں کرے گا۔

  • ایران قومی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا، ایرانی صدر

    ایران قومی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا، ایرانی صدر

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ مذاکرات کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ایران ہتھیار ڈال دے۔

    ایرانی صدر نے کہا کہ ایران ہمیشہ وقار، خودمختاری اور قومی حقوق کے تحفظ کے ساتھ مذاکرات میں شامل ہوتا ہے اور کسی بھی صورت عوام اور ملک کے قانونی حقوق سے پیچھے نہیں ہٹے گا،ایرانی قیادت پوری طاقت اور عزم کے ساتھ آخری دم تک عوام کی خدمت جاری رکھے گی جبکہ ایران کے مفادات اور قومی وقار کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جائے گا۔

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے معاملے پر ایک بار پھر سخت اور جارحانہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ معاہدہ نہ ہوا تو انہوں نے فوج کو ایک سیکنڈ کے نوٹس پر حملے کے لیے تیار رہنے کا حکم دے رکھا ہے، تاہم اس وقت ایران کے ساتھ انتہائی سنجیدہ مذاکرات جاری ہیں اور ڈیل ہونے کے امکانات روشن دکھائی دے رہے ہیں۔

    صدر ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں مشرق وسطیٰ کے اہم رہنماؤں کی جانب سے ایران پر مجوزہ حملہ روکنے کی درخواست کی گئی تھی، جس کے بعد انہوں نے امریکی فوج کو کارروائی مؤخر کرنے کا حکم دیا، قطر، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کی قیادت نے اپیل کی کہ ایران کو سفارتی راستہ دینے کی کوشش کی جائے۔

    امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکا ایران پر حملے کے لیے مکمل طور پر تیار تھا اور کارروائی کل بھی ہوسکتی تھی، تاہم انہیں محسوس ہوتا ہے کہ تہران کے ساتھ ایسا معاہدہ طے پانے کا اچھا موقع موجود ہے جو نہ صرف امریکا بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کے لیے قابل قبول ہوگا ممکنہ معاہدے میں ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ انہوں نے امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ، جنرل ڈین کین اور عسکری قیادت کو ہدایت دی ہے کہ فی الحال حملہ نہ کیا جائے۔ ان کے بقول اگر ایسی ڈیل طے پا جاتی ہے جس کے تحت ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کرسکے تو امریکا مطمئن ہوسکتا ہے ایران کی اعلیٰ قیادت ختم ہوچکی ہے اور اب وہاں تیسرے درجے کی قیادت باقی رہ گئی ہے، آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول امریکا کے پاس ہے۔

    ٹرمپ نے امریکی ڈیموکریٹک پارٹی اور امریکی میڈیا کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا کہا کہ اگر ایران کی پوری فوج ہتھیار ڈال دے، تمام فوجی سرنڈر کردیں اور ایرانی قیادت باضابطہ طور پر شکست تسلیم کرتے ہوئے سرنڈر دستاویزات پر دستخط بھی کردے، تب بھی امریکی میڈیا ایران کی شاندار فتح کی ہی سرخیاں لگا ئے گا صدر ٹرمپ نے خاص طور پر دی وال اسٹریٹ جرنل، دی نیویارک ٹائمز اور سی این این کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں جعلی میڈیا قرار دیا،کہا کہ امریکی میڈیا اور ڈیموکریٹس مکمل طور پر حواس باختہ ہوچکے ہیں اور ہر معاملے کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کررہے ہیں۔

  • ایرانی میزائل نیٹ ورک اب بھی فعال اور محفوظ ہے،امریکی خفیہ اداروں کی نئی رپورٹس

    ایرانی میزائل نیٹ ورک اب بھی فعال اور محفوظ ہے،امریکی خفیہ اداروں کی نئی رپورٹس

    امریکی خفیہ اداروں کی نئی رپورٹس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایران کا میزائل نیٹ ورک اب بھی بڑی حد تک فعال اور محفوظ ہے، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے ان دعوؤں کے برعکس ہے جن میں کہا گیا تھا کہ ایران کی فوجی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا جاچکا ہے۔

    برطانوی اور امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی انٹیلی جنس اداروں کی خفیہ جائزہ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ایران نے اپنے بیشتر میزائل تنصیبات، زیرِ زمین ذخیرہ گاہوں اور موبائل لانچر سسٹمز پر دوبارہ آپریشنل کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔

    امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق آبنائے ہرمز کے اطراف قائم ایران کی 33 میزائل تنصیبات میں سے 30 مختلف درجوں میں قابلِ استعمال سمجھی جار ہی ہیں ان رپورٹس نے خطے میں بحری سلامتی سے متعلق خدشات میں ایک بار پھر اضافہ کردیا ہے، خاص طور پر ان بحری جہازوں اور آئل ٹینکرز کے لیے جو اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرتے ہیں۔

    انٹیلیجنس رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ ایران اب بھی اپنے موبائل میزائل لانچرز کو مختلف مقامات پر منتقل کرنے اور بعض صورتوں میں انہی تنصیبات کے اندر موجود انفرااسٹرکچر سے میزائل داغنے کی صلاحیت رکھتا ہے آبنائے ہرمز کے قریب صرف چند تنصیبات مکمل طور پر غیر فعال ہوئی ہیں، جبکہ مجموعی طور پر ایران کے تقریباً 70 فیصد موبائل میزائل لانچرز اب بھی کام کررہے ہیں۔

    امریکی خفیہ اداروں کا اندازہ ہے کہ ایران نے جنگ سے پہلے موجود اپنے میزائل ذخیرے کا بھی بڑا حصہ محفوظ رکھا ہوا ہے، جس میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل اور مختصر فاصلے تک ہدف کو نشانہ بنانے والے کروز میزائل شامل ہیں۔

    علاوہ ازیں سیٹلائٹ تصاویر اور دیگر نگرانی کے نظام سے حاصل معلومات کے مطابق ایران نے ملک بھر میں قائم تقریباً 90 فیصد زیرِ زمین میزائل ذخیرہ گاہوں اور لانچنگ مراکز تک جزوی یا مکمل رسائی دوبارہ حاصل کرلی ہے رپورٹس میں ان تنصیبات کو مختلف سطح پر فعال قرار دیا گیا ہےیہ انکشافات صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے ان بیانات سے متصادم ہیں جن میں ایران کی فوجی طاقت کو’’شدید متاثر‘‘ قرار دیا گیا تھا۔

    رپورٹس پر ردعمل دیتے ہوئے وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے ایک بار پھر مؤقف دہرایا کہ ایران کی فوجی صلاحیت کو مؤثر انداز میں غیر فعال بنایا جاچکا ہے، جبکہ ایران کی بحالی سے متعلق دعوؤں کو مبالغہ آمیز اور سیاسی قرار دیا،دوسری جانب پینٹاگون کے ترجمان نے امریکی میڈیا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بعض ادارے امریکی فوجی کارروائیوں کو غلط انداز میں پیش کررہے ہیں اور ایران کے خلاف کامیاب آپریشن کو متنازع بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔

  • ایران سے مذاکرات کی ناکامی،ٹرمپ  نے آج قومی سلامتی کا اجلاس بلا لیا

    ایران سے مذاکرات کی ناکامی،ٹرمپ نے آج قومی سلامتی کا اجلاس بلا لیا

    ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہونے کے بعد واشنگٹن میں فوجی آپشن دوبارہ سنجیدگی سے زیر غور آ گیا ہے۔

    امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج اپنی قومی سلامتی ٹیم کے ساتھ ایران جنگ اور آئندہ حکمت عملی پر اہم اجلاس کریں گے، جس میں ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے کے آپشنز پر غور متوقع ہے،صدر ٹرمپ اب ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے محدود فوجی کارروائی کی طرف مائل دکھائی دے رہے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق اجلاس میں نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو، وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ، سی آئی اے ڈائریکٹر جان ریٹکلف اور دیگر اعلیٰ حکام شریک ہوں گے،صدر ٹرمپ اب ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے محدود فوجی کارروائی کی طرف مائل دکھائی دے رہے ہیں، صدر ٹرمپ جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدہ چاہتے ہیں، تاہم ایران کی جانب سے امریکی مطالبات مسترد کیے جانے اور جوہری پروگرام پر بامعنی رعایت نہ دینے کے باعث صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔

    زیر غور آپشنز میں پروجیکٹ فریڈم دوبارہ شروع کرنا بھی شامل ہے، جس کے تحت امریکی بحریہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی رہنمائی اور حفاظت کرتی تھی، ایک آپشن ایران پر دوبارہ فضائی حملے شروع کرنا ہے، جس کے تحت پہلے سے نشان زد تقریباً 25 فیصد اہداف کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے جن پر اب تک حملہ نہیں کیا گیا۔

    اسرائیلی حکومت بھی امریکا پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ ایران کے افزودہ یورینیم ذخائر پر قبضے کے لیے اسپیشل فورسز آپریشن کیا جائے، تاہم امریکی حکام کے مطابق صدر ٹرمپ اس آپریشن کے خطرناک نتائج کے باعث محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں ایران سے متعلق آئندہ فیصلوں میں صدر ٹرمپ کا متوقع دورۂ چین بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے، جہاں وہ چینی قیادت کے ساتھ ایران، تجارت اور خطے کی صورتحال پر بات کریں گے۔

  • ایران نے آبنائے ہرمز میں چھوٹی آبدوزیں بھیج دیں

    ایران نے آبنائے ہرمز میں چھوٹی آبدوزیں بھیج دیں

    ایران نے آبنائے ہرمز میں چھوٹی آبدوزیں بھیجنے کا دعویٰ کیا ہے ، جنہیں ”چھپی محافظ“ قرار دیا جا رہا ہے۔

    ایرانی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز میں بھیجی گئیں چھوٹی آبدوزوں کا مقصد اس اہم بحری گزرگاہ کی نگرانی اور دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے بلومبرگ کے مطابق ایران کے پاس ”غدیر کلاس“ کی کم از کم 16 منی آبدوزیں موجود ہیں بین الاقوامی ادارے انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ فار اسٹریٹیجک اسٹڈیز کے مطابق ہر آبدوز میں 10 سے کم اہلکار سوار ہوتے ہیں۔

    ان آبدوزوں کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ دو ٹارپیڈوز یا چین میں تیار کردہ دو سی-704 اینٹی شپ کروز میزائل لے جانے کی صلاحیت رکھتی ہیں یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان مختلف امن تجاویز پر اختلافات برقرار ہیں اور حالیہ دنوں میں دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی تجاویز مسترد کی ہیں۔

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ آبنائے ہرمز میں پروجیکٹ فریڈم کو دوبارہ شروع کرنے پر غور کر رہے ہیں –

    پیر کو امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کو انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں پروجیکٹ فریڈم دوبارہ شروع کرنے کاعندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ آپریشن 4 مئی کو روک دیا گیا تھا تاہم اب بڑے فوجی آپریشن کے حصے کے طور پر اسے دوبارہ شروع کیا جائے گا، کارروائی آبنائے ہرمز عبور کرنے والے جہازوں تک محدود نہیں رہے گی، ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا ایران پر دباؤ جاری رکھے گا جب تک کوئی معاہدہ طے نہیں پا جاتا-

    امریکی صدر نے واضح کیا کہ اگر “پروجیکٹ فریڈم” دوبارہ شروع کیا گیا تو اس کا دائرہ کار صرف آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی حفاظت تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس کا دائرہ کار مزید وسیع ہو سکتا ہے،ایران یقینی طور پر ہتھیار ڈال دے گا اور معاہدے پر آمادہ ہو جائے گا تاہم اس وقت تک اس پر دباؤ برقرار رکھا جائے گا۔

    انہوں نے ایرانی تجاویز کو احمقانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران پہلے یورینیم دینے پر راضی تھا اور اب انکاری ہے انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایرانی مذاکرات کار چاہتے ہیں کہ افزودہ یورینیم کو نکالنے کے لیے ہم ان کی مدد کریں کیوں کہ ان کے پاس اسے سنبھالنے کی مکمل تکنیکی صلاحیت موجود نہیں۔