Baaghi TV

Tag: جنگ

  • امریکی افواج کے ایران پر مسلسل 13ویں رات حملے

    امریکی افواج کے ایران پر مسلسل 13ویں رات حملے

    امریکی افواج نے ایران پر مسلسل 13ویں رات بھی حملےکئے-

    امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایکس پرکہا کہ ایران کے خلاف مسلسل 13ویں رات فضائی حملے کامیابی سے مکمل کیے، حملوں میں ایرانی فوجی کمانڈ سینٹرز، ڈرون ذخیرہ گاہوں، مواصلاتی نیٹ ورکس، ساحلی نگرانی کے مراکز اور بحری عسکری صلاحیتوں کو نشانہ بنایا گیا، یہ حملے اس لیےکیے گئے ہیں تاکہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے شہری ملاحوں اور تجارتی جہازوں کو ایران سے لاحق خطرات کو مزید کم کیا جا سکے۔

    بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ ایرانی پاسداران انقلاب کی حالیہ کارروائیوں کے باوجود آبنائے ہرمز بین الاقوامی بحری آمدورفت کے لیے کھلی ہوئی ہے اور امریکی فوج کی معاونت سے تجارتی جہاز معمول کے مطابق اس راستے سے گزر رہے ہیں اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکار تعینات ہیں نئے حملوں کا آغاز امریکی وقت کے مطابق شام 6 بج کر 45 منٹ پر کیا گیا۔

    ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق مغربی ایران کے شہر بندر عباس میں دھماکا سنا گیا ہےایرانی خبر ایجنسی کے مطابق ایران کے جنوبی شہر اہواز میں بھی دھماکے سنے گئے ہیں جبکہ جزیرہ قشم میں بھی دھماکے کی اطلاعات ہیں۔

    دوسری جانب امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نےکہا ہے کہ تجارتی جہازوں کے نقصان کی ادائیگی ایران کے منجمد اثاثوں سے کی جائے گی، تمام نقصانات ایرانی رقم سے پورے کیے جائیں گےآج سے جہازوں، ان کے کارگو یا ان سے متعلق کسی بھی قسم کے نقصان کا ازالہ امریکا کے زیرِ قبضہ اور کنٹرول میں موجود ایرانی فنڈز سے کیا جائے گا۔

  • امریکا ایران جنگ :تہران کا ’آنکھ کے بدلے آنکھ‘ کی پالیسی پر عمل کا اعلان

    امریکا ایران جنگ :تہران کا ’آنکھ کے بدلے آنکھ‘ کی پالیسی پر عمل کا اعلان

    امریکا ایران جنگ خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی،جنگ کے دارالحکومت کے قریب پہنچنے کے خدشات کے پیش نظر ایران نے بدھ کے روز تہران اور اس کے اطراف فضائی دفاعی نظام مکمل طور پر فعال کر دیا۔

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران کا دفاعی نظریہ ’آنکھ کے بدلے آنکھ‘ پر مبنی ہےان کا بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس انتباہ کے بعد سامنے آیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر ایرانی افواج نے آبنائے ہرمز میں کسی بحری جہاز کو نشانہ بنایا تو امریکا ہر ایسے حملے کے جواب میں ایرا ن کے کسی پل یا بجلی گھر پر بمباری کرے گا۔

    غیرملکی میڈیا نے ایران کی پاسدارانِ انقلاب کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس نے کویت میں موجود امریکی فوجی تنصیبات پر مزید حملے کیے ہیں، جنہیں امر یکا کی کارروائیوں کے جواب میں انجام دیا گیا یہ حملے صرف امریکی فوجی اہداف کے خلاف تھے اور ان کا مقصد کسی بھی صورت کویتی عوام کو نشانہ بنانا نہیں تھا۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ علی السالم ایئر بیس پر واقع امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جہاں ایک بڑے فوجی سازوسامان کے گودام، پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام اور امریکی ایم کیو-9 (MQ-9) ڈرونز کے ہینگر کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے العدیری (Al-Adiri) بیرکس میں امریکی فوجیوں کی رہائش گاہوں اور 2 ہیلی کاپٹر ہینگرز کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں جانی نقصان ہوا اور ہیلی کاپٹروں اور ڈرونز کو بھاری نقصان پہنچا ایرانی فورسز نے ایک مواصلاتی ٹا ور کو بھی نشانہ بنایا، جسے ایران میں امریکی حملوں کے دوران ٹیلی کمیونی کیشن ٹاورز پر کی جانے والی کارروائیوں کا جواب قرار دیا گیا۔

    تاہم، اس خبر کی آزاد ذرائع سے فوری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی، جبکہ امریکی یا کویتی حکام کی جانب سے بھی ان دعوؤں پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے امریکی محکمہ خارجہ نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث دنیا بھر میں موجود امریکی شہریوں کو اضافی احتیاط برتنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

    محکمے کے مطابق سیکیورٹی صورتحال انتہائی پیچیدہ ہے اور کسی بھی وقت غیر متوقع کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے امریکی شہریوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ امریکی سفارتی تنصیبات اور امریکا سے وابستہ کاروباری یا دیگر ادارے دنیا کے مختلف حصوں میں ممکنہ حملوں کا نشانہ بن سکتے ہیں محکمہ خارجہ نے خاص طور پر مشرقِ و سطیٰ میں موجود امریکیوں کو پروازوں اور سفر میں ممکنہ رکاوٹوں سے آگاہ رہنے اور خطے سے غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

    سائبر سکیورٹی کمپنی گلوبل سائبر رسک کی چیف ایگزیکٹو جوڈی ویسٹبی نے خبردار کیا ہے کہ ایران سے منسلک ہیکرز امریکی اہم تنصیبات کے لیے حقیقی خطرہ بن چکے ہیں امریکی حکام ایسے متعدد سائبر حملوں کا مشاہدہ کر چکے ہیں جنکا ہدف اسپتال، پانی کی فراہمی،فضلہ ٹھکانے لگانے کےنظام اور بجلی کی تنصیبا ت ہیں، اور ان حملوں کے پیچھے ایرانی پاسداران انقلاب کے الیکٹرانک سائبر کمانڈ گروپ کے ملوث ہونے کا شبہ ہے امریکا میں نجی شعبے کا منتشر نیٹ و رک ایسے حملوں کے خلاف فوری اور مؤثر ردعمل میں رکاوٹ بن سکتا ہے، جس سے ان حملوں کے اثرات مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔

    امریکا کے سابق سفیر جوی ہڈ نے کہا ہے کہ اگر جنگ کا خاتمہ مذاکرات کے ذریعے نہ ہوا تو امریکا، اسرائیل اور ایران سمیت تمام فریق نقصان اٹھائیں گے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خلیجی ممالک سے مشاورت کیے بغیر ایران پر حملے کر کے ایک بڑی تزویراتی غلطی کی، جبکہ ایران بھی اپنے جوابی حملوں میں امریکا کے بجائے خطے کے دیگر ممالک کو نشانہ بنا کر کوئی فیصلہ کن کامیابی حاصل نہیں کر سکا انہوں نے زور دیا کہ موجودہ صورتحال کا واحد پائیدار حل مذاکرات ہیں، بصورت دیگر اس جنگ میں آخرکار ہر فریق کو نقصان اٹھانا پڑے گا۔

  • امریکا کے ایران پر مسلسل 12ویں روز حملے، میزائل اور ڈرون مراکز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    امریکا کے ایران پر مسلسل 12ویں روز حملے، میزائل اور ڈرون مراکز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے کہا ہے کہ امریکی فوج نے ایران کے خلاف حملوں کا ایک اور مرحلہ مکمل کر لیا ہے،جن میں ایران کی متعدد فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا،جبکہ جنوب مغربی ایران میں ہونے والے حملوں میں کم از کم 2 افراد جاں بحق اور 11 زخمی ہوگئے۔

    سینٹ کام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ یہ کارروائیاں بدھ کی رات واشنگٹن کے مقامی وقت کے مطابق رات 10 بج کر 30 منٹ پر مکمل ہوئیں، جو گرین وچ وقت کے مطابق جمعرات کو 2 بج کر 30 منٹ بنتا ہے امریکی افواج نے ایران کی متعدد فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جن میں بحری صلاحیتوں سے متعلق اہداف، میزائل اور ڈرون ذخیرہ کرنے کی جگہیں، ساحلی نگرانی کے مراکز اور فضائی دفاعی نظام شامل ہیں۔

    بیان میں مزید کہا گیا کہ بدھ تک سینٹ کام نے ایران جانے یا وہاں سے نکلنے والے بحری راستوں پر کارروائی کرتے ہوئے 9 تجارتی جہازوں کا رخ موڑ دیا، جبکہ ایک جہاز کو بھی ناکارہ بنا دیا تاکہ کوئی بھی جہاز ایرانی بندرگاہوں میں داخل نہ ہو سکے یا وہاں سے روانہ نہ ہو سکے۔

    سینٹ کام کے مطابق یہ اقدامات ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب ایران آبنائے ہرمز میں اپنی جانب سے بحری ناکہ بندی نافذ کیے ہوئے ہے، جبکہ امریکی افواج بھی ایرانی بحری نقل و حمل کو محدود کرنے کے لیے کارروائیاں کر رہی ہیں اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی تعینات ہیں اور وہ ہر قسم کی کارروائی کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

    ایرانی حکام نے تصدیق کی ہے کہ عراق سے ملحق شلامچہ بارڈر کراسنگ کے قریب ایک مسافر ٹرمینل کے نزدیک دھماکوں کے نتیجے میں جانی نقصان ہوا۔ اس کے علاوہ خوزستان کے مختلف شہروں، جن میں اہواز، ماہشہر، اندیمشک اور رامشیر شامل ہیں، میں بھی دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں رامشیر میں اسفالٹ ذخیرہ کرنے کی ایک تنصیب کو بھی نشانہ بنایا گیا امریکا کے حالیہ حملوں کے آغاز سے اب تک کم از کم 10 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ گزشتہ چند ہفتوں میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد کم از کم 8 بتائی گئی تھی۔

    ایران کے صوبہ ہرمزگان کے شہروں سیریک اور جاسک میں بھی دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں یہ علاقے آبنائے ہرمز کے قریب واقع ہیں اور اس اہم عالمی بحری گزرگاہ کی نگرانی کے حوالے سے غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ صوبہ بوشہر میں بھی رات کے دوران 2 دھماکے رپورٹ ہوئے۔

    دوسری جانب ایران نے امریکا کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکی حملوں کے باوجود ایران نہ صرف مسلسل میزائل اور حملہ آور ڈرون تیار کر رہا ہے بلکہ اس کے میزائل سازی کے مراکز بھی امریکی انٹیلی جنس کی پہنچ سے باہر ہیں پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ایران پر حملے جاری رہے تو مزید سخت فوجی کارروائیاں کی جائیں گی-

  • امریکا کے ایران پر مسلسل گیارہویں رات فضائی حملے

    امریکا کے ایران پر مسلسل گیارہویں رات فضائی حملے

    ایران کے خلاف مسلسل گیارہویں رات فضائی حملے کیے، جن میں متعدد فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے-

    سینٹ کام کے مطابق ایران کے خلاف مسلسل گیارہویں رات فضائی حملے کیے، جن کا مقصد ایران کی آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کو خطرے میں ڈالنے کی صلاحیت کو کمزور کرنا بتایا گیا ہے حملوں میں ایرانی فوجی آپریشن مراکز، بحری تنصیبات، طیاروں کے ہینگرز، ڈرون ذخیرہ گاہوں اور فوجی لاجسٹک انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا۔منگل کی رات کیے گئے یہ حملے تقریباً 75 منٹ تک جاری رہے۔

    دوسری جانب ایرانی میڈیا کے مطابق تہران، بوشہر، سیریک، بہبہان، امیدیہ اور تبریز کے قریب مختلف مقامات پر دھماکے ہوئے جبکہ تہران میں فضائی دفاعی نظام بھی فعال کر دیا گیا،مقامی حکام نے تبریز کے مضافات میں فوجی تنصیب پر حملے کی تصدیق کی، تاہم شہر کے اندر کسی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

    ادھر کویتی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران کی جانب سے بھیجے گئے ایک ڈرون کو مار گرایا۔ ایران اس ماہ امریکی کارروائیوں کے دوبارہ آغاز کے بعد کویت، بحرین اور قطر سمیت کئی خلیجی ممالک کو بھی نشانہ بنا چکا ہے-

    امریکا اور ایران کے درمیان اس جنگ کا آغاز 28 فروری کو اس وقت ہوا تھا جب امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے بھی اسرائیل اور ان خلیجی ریاستوں پر جوابی کارروائیاں کیں جہاں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں اس جنگ کے دوران ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں اور لبنان پر اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔

    ایرانی وزارتِ صحت کے ایک اہلکار کے مطابق سیز فائر ختم ہونے کے بعد ایران پر کیے گئے حالیہ امریکی حملوں میں 50 شہری ہلاک اور 500 زخمی ہوئے ہیں۔

    دوسری جانب جنگ میں ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد بھی حالیہ دنوں میں بڑھ کر 18 ہو گئی ہے،واشنگٹن کا کہنا ہے کہ گزشتہ تین مہینوں کے دوران ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے 30 سے زائد تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا ہے۔

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ واشنگٹن اب بھی سفارتی حل کا خواہاں ہے، تاہم ایران کو مذاکرات میں سنجیدگی دکھانا ہوگی، انہوں نے کہا کہ امریکا آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے جبکہ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کانگریس کو بتایا کہ ایران کے خلاف کارروائیوں پر اب تک 37.5 ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں جبکہ پینٹاگون کو مزید 90 ارب ڈالر درکار ہیں۔ اس مطالبے پر ڈیموکریٹ ارکان نے شدید اعتراضات کیے-

    پیر کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد ایران سے بدلہ لینے کا عزم ظاہر کیا تھا۔

    اس سے قبل گزشتہ ہفتے صدر ٹرمپ نے ایران میں توانائی کے پاور پلانٹس اور پلوں کو بھی اپنے عسکری ہدف کا حصہ بنانے کی دھمکی دی تھی۔

    جنگوں میں انسانی حقوق کے تحفظ سے متعلق 1949 کے جنیوا کنونشنز ایسے تمام مقامات پر حملوں کی سخت ممانعت کرتے ہیں جو عام شہریوں کی زندگی کے لیے ضروری سمجھے جاتے ہیں صدر ٹرمپ کی جانب سے ان تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں کے بعد امریکا کے بین الاقوامی قانون کے ماہرین نے اپریل میں خبردار کیا تھا کہ اس طرح کے حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔

  • ایرانی افواج کے پاس میزائلوں کا بڑاذخیرہ موجود ہے، نیویارک ٹائمز کا دعویٰ

    ایرانی افواج کے پاس میزائلوں کا بڑاذخیرہ موجود ہے، نیویارک ٹائمز کا دعویٰ

    امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ایران نے گزشتہ پانچ روز کے دوران اردن میں موجود امریکی افواج کو چار بڑے حملوں میں نشانہ بنایا، جن کے نتیجے میں دو امریکی فوجی ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے ایرانی حملوں کے دوران امریکی فوجی تنصیبات کو بھی نقصان پہنچا، جبکہ متعدد ہیلی کاپٹرز متاثر ہوئے، مسلسل حملوں نے خطے میں امریکی فوجی موجودگی کو درپیش خطرات میں اضافہ کر دیا ہے۔

    امریکی اخبار کے مطابق اردن میں ہونے والے یہ حملے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ایرانی افواج کے پاس اب بھی میزائلوں کا بڑا ذخیرہ موجود ہے، جبکہ امریکی فضائی دفاعی نظام کو چکمہ دینے کی ایرانی صلاحیت میں بھی اضافہ ہوا ہے ایران کی جانب سے مختلف مقامات پر حملوں کا سلسلہ خطے میں جار ی کشیدگی کی شدت کو ظاہر کرتا ہے، جبکہ امریکا اور اس کے اتحادی ایرانی کارروائیوں کے جواب میں اپنی دفاعی حکمت عملی پر نظرثانی کر رہے ہیں۔

    امریکی حکام نے بتایا کہ گزشتہ پانچ دنوں میں پہلا حملہ کنگ فیصل ایئربیس کی رہائشی عمارت پر ہوا، جس میں 5 امریکی فوجی زخمی ہوئے دوسرے حملے میں مشرقی اردن کے ایک اڈے کو نشانہ بنایا گیا جہاں امریکی بلیک ہاک ہیلی کاپٹر موجود تھے اور کئی ہیلی کاپٹرز کو نقصان پہنچا اس کے بعد عراق کی سرحد کے قر یب واقع موفق السلتی ایئربیس کو نشانہ بنایا گیا، جہاں جمعے کو ہونے والے حملے میں دو امریکی فوجی ہلاک اور چار زخمی ہوئے۔

    ایرانی فوج نے دعویٰ کیا کہ اس نے اردن کے ازرق ایئربیس پر امریکی اڈے کے ایندھن کے ذخائر کو ڈرون حملے میں نشانہ بنایا، جبکہ ایران کے پاسداران انقلاب سے منسلک خبر رساں ادارے فارس کے مطابق میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے طیاروں کے شیلٹرز کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

    امریکی فضائیہ کے سابق جنرل ڈیوڈ ڈیپٹولا نے کہا کہ یہ صرف ایک فوجی اڈے پر حملہ نہیں تھا بلکہ یہ امریکا کے علاقائی اتحاد کو نشانہ بنانے کی کوشش تھی تاکہ امریکی فوج کی میزبانی کی سیاسی قیمت بڑھائی جا سکے۔

    پینٹاگون نے حملوں پر تفصیلی تبصرہ کرنے سے گریز کیا، تاہم امریکی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ایران کے خلاف جوابی کارروائیاں شروع کر دی ہیں تاکہ امریکی فوجیوں پر حملے کرنے والے ایرانی پاسداران انقلاب کو نشانہ بنایا جا سکے۔

    واضح رہے کہ اردن خطے میں امریکا کا ایک اہم اتحادی ملک ہے جہاں امریکی فوجی دستے مختلف سیکیورٹی اور دفاعی مشنز کے لیے موجود ہیں ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث مشرق وسطیٰ میں صورتِ حال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔

  • ایران کیساتھ کشیدگی میں اضافہ امریکا کا اپنے شہریوں کیلئے عالمی ٹریول الرٹ جاری

    ایران کیساتھ کشیدگی میں اضافہ امریکا کا اپنے شہریوں کیلئے عالمی ٹریول الرٹ جاری

    امریکا نے ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر اپنے شہریوں کے لیے دنیا بھر میں سفری انتباہ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال کسی بھی وقت غیر متوقع طور پر مزید سنگین رخ اختیار کر سکتی ہے۔

    امریکی محکمہ خارجہ نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ سفر کے دوران غیر معمولی احتیاط برتیں، تازہ ترین صورتحال پر نظر رکھیں اور قریبی امریکی سفارت خانوں یا قونصل خانوں کی ہدایات پر عمل کریں مشرق وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے تناؤ کے باعث پروازوں کی منسوخی، فضائی حدود کی عارضی بندش اور بین الاقوامی سفر میں رکاوٹوں کا خدشہ موجود ہےایران کے حامی گروہ دنیا کے مختلف حصوں میں امریکی مفادات، سفارتی تنصیبات یا امریکی شہریوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

    یہ انتباہ ایسے وقت میں جاری کیا گیا ہے جب امریکی سینٹرل کمانڈ نے تصدیق کی کہ اردن میں ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کے دوران 2 امریکی فوجی ہلاک جبکہ ایک لاپتا ہو گیا، جس کے بعد امریکا نے ایران میں نئے فضائی حملے بھی کیے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد ایرانی پاسداران انقلا ب کی ان تنصیبات کو نشانہ بنانا تھا جو امریکی فوجیوں پر حملوں میں ملوث تھیں۔

  • امریکا کی مسلسل ساتویں روز بمباری ، ایران کا اردن میں امریکی فوجی اڈے پر حملہ ، کئی فوجی زخمی

    امریکا کی مسلسل ساتویں روز بمباری ، ایران کا اردن میں امریکی فوجی اڈے پر حملہ ، کئی فوجی زخمی

    امریکی فوج نے ایران کے خلاف مسلسل ساتویں رات حملے کئے، جبکہ ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے اردن میں امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنایا۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق حملوں میں ایران کے نگرانی کے مراکز، فوجی لاجسٹکس کے بنیادی ڈھانچے، زیرِ زمین ہتھیاروں کے ذخائر اور بحری صلاحیتوں کو نشانہ بنایا گیا،امریکی فورسز نے دیگر ذرائع کے علاوہ جنگی طیاروں، فضائی ڈرونز اور جنگی بحری جہازوں کا بھی استعمال کیا۔

    سینٹکام نے کہا کہ سینٹکام کمانڈر اِن چیف کی ہدایت پر ایران کو جواب دہ ٹھہرانے کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے اور ایرانی بندرگاہوں کے خلاف بحری نا کہ بندی پر مکمل طور پر عمل درآمد کر رہا ہے 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکار مشرق وسطیٰ میں تعینات ہیں اور مسلسل چوکس، مہلک کارروائی کے لیے تیار اور مکمل طور پر مستعد ہیں۔

    ادھرا یرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق صوبہ ہرمزگان کے ڈپٹی گورنر نے کہا ہے کہ امریکی فضائی حملوں میں 3 افراد شہید اور 8 زخمی ہو گئے ہیں اس سے قبل گزشتہ روز بھی ایران نے ہرمزگان صوبے پر امریکی حملوں میں 8 شہری شہید ہوئے تھے شہدا میں 4 خواتین اور 2 معذور بھائیوں سمیت 4 مرد شامل ہیں۔

    ایران نے ہرمزگان صوبے پر امریکی حملوں میں شہید ہونے والے 8 شہریوں کی تصاویر جاری کردیں،ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایکس پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ رات ہرمزگان صوبے میں اپنے غیر قانونی حملوں کے دوران امریکا نے پلوں کو نشانہ بنا کر ایک اور کھلے جنگی جرم کا ارتکاب کیا اور 8 بے گناہ ایرانیوں کو قتل کر دیا، جن میں 4 مرد اور 4 خواتین شامل ہیں ایرانی عوام اب پہلے سے کہیں زیادہ پرعزم اور متحد ہیں اور ا پنے محبوب وطن کے خلاف اس مجرمانہ جارحیت پر اپنے سفاک دشمنوں کو سخت پچھتاوا دینے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔

    اس کے علاوہ ایرانی وزیرخارجہ نے بندر خمیر میں امریکی حملے سے شہید ہونے والے 3 شہریوں کی بھی تصویر جاری کر دی اور کہا کہ تینوں بندرخمیر پل سے گزر رہے تھے جب انہیں نشانہ بنایا گیا، امریکی حملوں سے شہید افراد کاخون رائیگاں جانے نہیں دیں گے، آخری سانس تک وطن کا دفاع کیا جائے گا۔

    دوسری جانب ایران نے امریکی حملوں کے جواب میں اردن میں امریکی فوجی اڈے پر میزائل حملہ کیا ہے جن میں کئی امریکی فوجی زخمی ہوئے تاہم ہلاکتوں کی اطلاع موصول نہیں ہوئی روسی میڈیا کے مطابق اس حملے سے پہلے امریکی فوجیوں کا انخلا نہیں کرایا گیا تھا، امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ اس حملے میں جانی نقصان بھی ہوا ہے۔

    علاوہ ازیں ایران کی پاسداران انقلاب کی بحریہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایرانی بندرگاہی شہر بوشہر کے اوپر ایک امریکی ڈرون مار گرایا ہے ایم کیو-9 ڈرون کو ایران کے مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک کے زیرِ کنٹرول کام کرنے والے جدید فضائی دفاعی نظام کے ذریعے روکا گیا اور تباہ کر دیا گیاخلاف ورزی پر آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے 4 ٹینکر جہازوں کو میزائل اور ڈرون کے مشترکہ آپریشن میں روک دیا گیا۔

  • امریکا کے ایران پر مسلسل چھٹے روز بھی بڑے پیمانے پر فضائی حملے

    امریکا کے ایران پر مسلسل چھٹے روز بھی بڑے پیمانے پر فضائی حملے

    امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل چھٹے روز بھی بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیے، جن میں جنوبی ایران کے مختلف شہروں اور ساحلی علاقوں میں واقع شہری اور بنیادی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا۔

    جنوبی ایران کے شہر بندر عباس کے حکام کے مطابق امریکی حملوں میں بجلی کی تنصیبات، ریلوے اسٹیشن اور دیگر شہری سہولیات کو نقصان پہنچا ہے،ایرانی میڈیا کے مطابق امریکی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 3 افراد جاں بحق اور 14 زخمی ہوئے، جبکہ ایران نے ان حملوں کے جواب میں بحرین اور کویت میں امریکی فوجی تنصیبات کو ڈرون حملوں سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

    ایرانی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق امریکی طیاروں نے مختلف شہروں میں فوجی اور بنیادی ڈھانچے (انفرااسٹرکچر) کو نشانہ بنایا صوبہ ہرمزگان میں ہونے والے حملے میں 2 افراد جاں بحق اور 8 زخمی ہوئے، جبکہ خورستان پل اور بندر خمیر کے علاقے میں تین پلوں کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔

    دوسری جانب بین الاقوامی میڈیا نے ایرانی فوج کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس نے بحرین میں واقع ایک امریکی فوجی اڈے پر تعینات امریکی طیاروں کو نشانہ بنایا، جبکہ کویتی فوج کا کہنا ہے کہ وہ ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کا مقابلہ کر رہی ہے۔ قطری حکام کے مطابق ایرانی حملوں کو ناکام بنانے کے دورا ن گرنے والے میزائل کے ملبے سے ایک بچہ زخمی ہوا۔

    ایران کی مسلح افواج کے ترجمان نے کہا ہے کہ جنگ کے بعد آبنائے ہرمز کبھی بھی اپنی سابقہ صورتحال میں واپس نہیں آئے گی ادھر امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ امریکی فوجیوں نے خلیج عمان میں ایک بحری جہاز پر سوار ہو کر ایران کے خلاف نافذ بحری ناکہ بندی پر عمل درآمد کرایا۔

    الجزیرہ نے ایرانی خبر رساں ادارے مہر کے حوالے سے خبر دی ہے کہ امریکی میزائل حملے میں چابہار میری ٹائم کنٹرول ٹاور کو نشانہ بنایا گیا،رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران یہ تیسرا موقع ہے کہ اس تنصیب پر امریکی حملہ کیا گیا ہے۔

    اطلاعات کے مطابق امریکی حملوں میں ،اہواز، قشم، بوشہر، دشتی، بستان، سیریک اور بندر لنگہ میں متعدد دھماکے ہوئے، جن سے بنیادی انفراسٹرکچر کو گزشتہ راتوں کے مقابلے میں زیادہ نقصان پہنچابندر خمیر کے قریب 2 پل تباہ کر دیے گئے بندر عباس میں ٹپہ اللہ اکبر کے علاقے سمیت شہر کے مختلف حصوں میں دھماکے ہوئے صوبہ ہرمزگان میں سڑکوں اور ریلوے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا ایران شہر کے ہوائی اڈے پر حملے کے نتیجے میں تنصیبات کو نقصان پہنچا اور کئی علاقوں میں بجلی منقطع ہوگئی کیش جزیرہ بھی فضائی حملوں کی زد میں رہا، جہاں بعض علاقوں میں عارضی طور پر بجلی بند ہوگئی امریکی فضائی حملوں میں جنو بی صوبہ ہرمزگان کے 5 پلوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    ہرمزگان گورنری کے حوالے سے جاری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حملوں میں متاثر ہونے والے پلوں میں گریوہ پل بھی شامل ہے، جو بندر عباس کو خمیر اور لار سے ملاتا ہے اس طرح لتی دان گاؤں کے قریب واقع ایک پل۔ کہورستان۔لار شاہراہ پر قائم دو پل۔ بندر خمیر، کشار اور بندر عباس کو ملانے والا زیرِ تعمیر پل۔ خمیر ضلع کے گاؤں مارو میں واقع ایک پل شامل بھی ہے حملوں کے بعد متعلقہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں، تاہم فوری طور پر جانی نقصان یا زخمیوں کے بارے میں کوئی سرکاری تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

    ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے کویت میں امریکی فوج کی تعیناتی کے مقامات اور لاجسٹک سپورٹ مراکز کو ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا ہے فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم اپنی تاریخ، عوامی حمایت، تجربے اور جنگی تیاری پر بھروسہ کرتے ہوئے ہر قسم کے دباؤ اور دھمکی کا پوری چوکسی اور قوت کے ساتھ مقابلہ کریں گے۔

    ایرانی فوج کے اس دعوے پر تاحال امریکی یا کویتی حکام کی جانب سے کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ حملوں سے ہونے والے ممکنہ نقصان یا جانی نقصان کی بھی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے خلاف تازہ بڑے پیمانے کی فضائی کارروائی کامیابی سے مکمل کر لی گئی ہے سینٹ کام کے مطابق امریکی لڑاکا طیاروں، ڈرونز اور جنگی بحری جہازوں نے انتہائی درست نشانے والے ہتھیار استعمال کرتے ہوئے ایران کی درجنوں عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا حملوں میں ساحلی نگرانی کے مراکز، فضائی دفاعی نظام، فوجی لاجسٹکس انفراسٹرکچر اور بحری صلاحیتوں سے متعلق تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا یہ ایران پر مسلسل چھٹے روز کیے گئے حملے تھے۔

    سینٹ کام نے مزید کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایات کے مطابق ایران کی فوجی صلاحیتوں کو مزید کمزور کیا جا رہا ہے اور تجارتی بحری جہازوں پر حالیہ حملوں کا جواب دیا جا رہا ہے مشرق وسطیٰ میں اس وقت 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی تعینات ہیں، جو مکمل طور پر چوکس اور ہر قسم کی کارروائی کے لیے تیار ہیں۔

  • پڑوسی یا خطے کے اسلامی ممالک کے ساتھ تصادم کا کوئی ارادہ نہیں، ایران

    پڑوسی یا خطے کے اسلامی ممالک کے ساتھ تصادم کا کوئی ارادہ نہیں، ایران

    ایران نے کہا ہے کہ اس کا اپنے پڑوسی ممالک یا خطے کے اسلامی ممالک کے ساتھ تصادم کا کوئی ارادہ نہیں، تاہم اگر امریکا نے ایران پر حملے جاری رکھے تو جنگ کا دائرہ نئے محاذوں تک پھیل سکتا ہے۔

    ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمینیا نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ایران ہمیشہ خطے کے ممالک کے ساتھ برادرانہ تعلقات اور باہمی تعاون کے فروغ کا حامی رہا ہے ایران کی مسلح افواج کی اولین ذمہ داری ملک کی سلامتی، قومی مفادات اور خودمختاری کا دفاع ہے، اور اس مقصد کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا-

    ترجمان نے واضح کیا کہ ایران اپنے ہمسایہ ممالک کے خلاف کسی قسم کی محاذ آرائی نہیں چاہتا، بلکہ خطے میں استحکام اور تعاون کو ترجیح دیتا ہے،اگر امریکا کی جانب سے ایران پر فوجی کارروائیاں جاری رہیں تو ایران اپنی جوابی کارروائیوں کا دائرہ مزید وسیع کر سکتا ہے۔

    انہوں نےکہا کہ اگر امریکی جارحیت برقرار رہی تو جنگ نئے محاذوں تک پھیل جائے گی۔ ان کے مطابق ایران کی مسلح افواج کی تمام صلاحیتیں ابھی تک استعمال نہیں کی گئیں، اور اگر دشمن نے مزید حملے کیے تو ایران کا ردعمل حالات کے مطابق ہوگا، جو مخالفین کی توقعات سے بھی زیادہ سخت ہو سکتا ہے-

    سیاسی مبصرین کے مطابق ایران ایک جانب اپنے پڑوسی ممالک کو یہ یقین دہانی کرانے کی کوشش کر رہا ہے کہ اس کی پالیسی ان کے خلاف نہیں، جبکہ دوسری جانب امریکا کو سخت پیغام دے رہا ہے کہ مزید حملوں کی صورت میں تنازع مزید وسیع ہو سکتا ہے۔

  • امریکی حملوں میں 30 سے زائد ایرانی شہری اور 7 فوجی جاں بحق، 260 سے زائد زخمی

    امریکی حملوں میں 30 سے زائد ایرانی شہری اور 7 فوجی جاں بحق، 260 سے زائد زخمی

    ایرانی حکام نے تصدیق کی ہے کہ گزشتہ چند دنوں کے دوران جنوبی ایران پر ہونے والے امریکی حملوں میں 30 سے زائد عام شہری جاں بحق ہوئے ہیں۔

    ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے ایک بیان میں کہا کہ ہم سوگوار خاندانوں سے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق ہونے والوں کی یاد کو سلام پیش کرتے ہیں حکومت اپنی پوری طاقت کے ساتھ عوام کے ساتھ کھڑی رہے گی کیونکہ جنوبی ایرا ن اس سرزمین کا دھڑکتا ہوا دل ہے۔

    دوسری جانب ایرانی فوج نے بھی تصدیق کی ہے کہ جنوب مشرقی ایران میں واقع ایران شہر کے بمپور گیریژن پر امریکی میزائل حملوں میں سات ایرانی فوجی جاں بحق ہوئے ہیں ایرانی فوج نے اس کارروائی کو بزدلانہ جارحیت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس جرم کا مناسب وقت پر فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔

    ایرانی نیوز ایجنسی ’تسنیم‘ کے مطابق، امریکی فوج کی جانب سے تیرہ میزائلوں کے ذریعے بمپور کی بیرکوں پر حملہ کیا گیا جس سے 388 ویں بریگیڈ کے سات اہلکار جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے ان کے دفاعی اقدامات کی وجہ سے جانی نقصان کو ایک حد تک محدود رکھنے میں مدد ملی، ورنہ امریکی حملوں کا مقصد گیسٹ ہاؤس، گارڈ پوسٹس اور رہائشی تنصیبات کو نشانہ بنا کر زیادہ سے زیادہ جانی نقصان پہنچانا تھا۔

    ایران کی وزارت صحت کے ترجمان حسین کرمانپور نے بتایا کہ حالیہ امریکی حملوں میں 260 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں سے 222 افراد کو ضرور ی طبی امداد کی فراہمی کے بعد اسپتالوں سے فارغ کر دیا گیا ہے زخمیوں میں تین بچے بھی شامل ہیں جن کی عمریں 18 سال سے کم ہیں، جبکہ ان مخصوص حملوں میں کم از کم دو افراد جان کی بازی ہار گئے۔

    واضح رہے کہ امریکی افواج نے ایران کی بندرگاہوں پر دوبارہ بحری ناکہ بندی نافذ کرنے کے ساتھ ساتھ درجنوں ایرانی اہداف کو نشانہ بنایا ہے جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان پانچویں دن بھی لڑائی کا سلسلہ جاری ہے۔