Baaghi TV

Tag: جنگ

  • ایران ہر قسم کی جارحیت کا مؤثر جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے،ایران

    ایران ہر قسم کی جارحیت کا مؤثر جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے،ایران

    ایران کے نائب وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ملک ہر ممکن صورتِ حال کے لیے تیار ہے اور امریکا کو اب سفارت کاری یا محاذ آرائی میں سے کسی ایک راستے کا انتخاب کرنا ہوگا،-

    ’الجزیرہ‘ کے مطابق ایران کے نائب وزیر خارجہ برائے قانونی و بین الاقوامی امور کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ ایران ہر قسم کی جارحیت کا مؤثر جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور اپنی قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

    تہران میں تعینات سفیروں اور غیر ملکی سفارتی مشنز کے سربراہان کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران مفادات پر مبنی سفارت کاری پر یقین رکھتا ہے اور تنازعات کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہا ہے ایران نے جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے اپنی تجویز پاکستان کے ذریعے امریکا تک پہنچائی۔

    انہوں نے واضح کیا کہ اب فیصلہ امریکا کو کرنا ہے کہ وہ سفارت کاری کا راستہ اختیار کرتا ہے یا محاذ آرائی کو جاری رکھتا ہے ان کا کہنا تھا کہ ایران دونوں راستوں کے لیے تیار ہے تاکہ اپنے قومی مفادات اور سلامتی کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے، تاہم امریکا کے حوالے سے بداعتمادی برقرار ہے۔

    یاد رہے کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کا تنازع فروری کے آخر میں شروع ہوا تھا اور8 اپریل سے جنگ بندی نافذ ہے، جب کہ پاکستان اس تنازع میں مؤثر انداز میں ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے تاہم اب تک کوئی حتمی پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔

  • ایران جنگ کے اثرات: امریکا کی سستی ترین ایئرلائن کا آپریشن بند کرنے کا اعلان

    ایران جنگ کے اثرات: امریکا کی سستی ترین ایئرلائن کا آپریشن بند کرنے کا اعلان

    امریکا کی مشہور اور سستی ترین فضائی کمپنی ’اسپرٹ ایئرلائنز‘ نے ہفتے کے روز اپنا آپریشن مکمل طور پر بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے-

    خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق گزشتہ دو ماہ کے دوران جیٹ فیول کی قیمتوں میں دوگنا اضافہ ہوچکا ہے، جس کے باعث پہلے سے مالی مشکلات کا شکار اسپرٹ ایئرلائنز اپنا آپریشن جاری نہ رکھ سکی،امریکی وزیرِ ٹرانسپورٹ شان ڈفی حکومت نے کہا ہے کہ کمپنی کو بچانے کے لیے بھرپور کوشش کی، تاہم قرض د ہندگان نے امدادی پیکج مسترد کر دیا صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی 50 کروڑ ڈالر کی امداد کی تجویز دی تھی لیکن ان کے فیصلے کو سیاسی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ’اسپرٹ‘ پہلے ہی مالی مشکلات کا شکار تھی لیکن ایران جنگ نے ایندھن کی قیمتوں میں جو اضافہ کیا، وہ کمپنی کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوا۔ کمپنی نے اپنے بحالی کے منصوبے میں ایندھن کی قیمت کا 2.24 ڈالر فی گیلن تخمینہ لگایا تھا تاہم موجودہ قیمت 4.51 ڈالر تک پہنچ جانے سے تمام تخمینے غلط ثابت ہوئے۔

    رپورٹ کے مطابق کمپنی کے بند ہونے سے تقریباً 15 ہزار ملازمین اور کنٹریکٹرز متاثر ہوں گے۔ اس کے ساتھ ہی ہزاروں مسافر مختلف ایئرپورٹس پر پھنس گئے، جن کی مدد کے لیے دیگر بڑی ایئرلائنز میدان میں آ گئی ہیں۔

    یونائیٹڈ ایئرلائنز، ڈیلٹا ایئر لائنز، جیٹ بلیو اور ساؤتھ ویسٹ ایئرلائنز نے اسپرٹ کے متاثرہ مسافروں کے لیے ٹکٹ کی قیمتوں میں کمی اور خصوصی سہولتیں فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کچھ ایئرلائنز نے ’اسپرٹ‘ کے عملے کو مفت سفر کی سہولت بھی فراہم کرنا شروع کردی ہے تاکہ وہ اپنے گھروں تک پہنچ سکیں۔

    ماہرین کے مطابق اسپرٹ ایئرلائنز کی بندش امریکا کی ایوی ایشن انڈسٹری کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے کیونکہ گزشتہ دو دہائیوں میں اس حجم کی کوئی ایئرلائن بند نہیں ہوئی یہ کمپنی کم قیمت ٹکٹ فراہم کر کے مارکیٹ میں مقابلے کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہی تھی۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ایئرلائن کی بندش سے اس کے حریف اداروں کو فائدہ ہو سکتا ہے، لیکن مجموعی طور پر یہ واقعہ عالمی معیشت اور جنگی حالات کے اثرات کو واضح کرتا ہے۔

  • ایران کے ساتھ جاری جنگ سے امریکا جلد بازی میں پیچھے نہیں ہٹے گا،ٹرمپ

    ایران کے ساتھ جاری جنگ سے امریکا جلد بازی میں پیچھے نہیں ہٹے گا،ٹرمپ

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ سے امریکا جلد بازی میں پیچھے نہیں ہٹے گا کیونکہ ایسا کرنے سے مسئلہ دوبارہ سر اٹھا سکتا ہے۔

    عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکا اس بار ’’کام مکمل کیے بغیر‘‘ ایران سے نہیں نکلے گا تاکہ چند سال بعد دوبارہ ایران سے اسی نوعیت کے بحران کا سامنا نہ کرنا پڑےفلوریڈا میں گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ اگر امریکا نے ایران جنگ سے جلدی میں انخلا کیا تو 3 سال بعد یہی مسئلہ دوبارہ پیدا ہوسکتا ہے۔ اس بار مکمل اور دیرپا حل ضروری ہے۔

    صدر ٹرمپ کے بقول ایران جنگ کو امریکا درست طریقے سے حل کرنا چاہتا ہے اور وہ جنگ کے کسی بھی عارضی معاہدے یا حکمت عملی کو قبول نہیں کریں گے، صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں یہ واضح نہیں کیا کہ امریکا کون سے کام کو مکمل کیئے بغیر واپس نہیں جائے گا؟ تاہم اس سے قبل وہ متعدد بار رجیم چینج کا عندیہ دے چکے ہیں۔

    جنگ کے آغاز کے پہلے روز اسرائیلی حملے میں شہید ہونے والے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی قیادت کو امریکا کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے صدر ٹرمپ متعدد بار ایران میں نئی قیادت لانے کے عزم کا اظہار کرچکے ہیں۔

  • ایران کا مریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ کے امکان کا عندیہ

    ایران کا مریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ کے امکان کا عندیہ

    ایران ک ایران کی مسلح افواج کے سینئر کمانڈر بریگیڈیئر جنرل محمد جعفر اسدی نے امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ کے امکان کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی افواج کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کے لیے مکمل تیار ہیں۔

    ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایران کی مسلح افواج کے سینئر کمانڈر بریگیڈیئر جنرل محمد جعفر اسدی نے ہفتے کے روز ایک ٹی وی انٹرویو میں خطے کی حالیہ صورتِ حال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں ایران اور امریکا کے درمیان دوبارہ جنگ کا امکان موجود ہےماضی گواہ ہے کہ امریکا کسی بھی معاہدے، وعدے یا بین الاقوامی اصولوں کی پاسداری نہیں کرتا ہے۔

    انہوں نے واضح کیا کہ اگر امریکا کی جانب سے کسی قسم کی کارروائی کی گئی تو ایران کی مسلح افواج پوری طاقت کے ساتھ اس کا مقابلہ کریں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کی دفاعی تیاری مکمل ہے اور دشمن کی کسی بھی ممکنہ کارروائی کا فیصلہ کُن اور سخت جواب دیا جائے گا دشمن کی سازشوں کے باوجود ریاست کے تمام ستون ایرانی قیادت کی ہدایات کے مطابق مکمل ہم آہنگی کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی پیشکش کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس سے مطمئن نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی قیادت کے اندر شدید اختلافات کے باعث مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔

    ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق تہران نے اپنی نئی مذاکراتی تجویز جمعرات کو ثالث ملک پاکستان کے ذریعے امریکا تک پہنچائی، تاہم اس کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

    دوسری جانب امریکی حکام نے بھی ایرانی تجویز کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں، تاہم رپورٹس کے مطابق امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف نے ایسی ترامیم پیش کی ہیں جن کے تحت ایران کے جوہری پروگرام کو دوبارہ مذاکرات کا حصہ بنایا گیا ہے، ان مطالبات میں یہ بھی شامل ہے کہ ایران بمباری سے متاثرہ جوہری تنصیبات سے افزودہ یورینیم منتقل نہ کرے اور نہ ہی وہاں سرگرمیاں دوبارہ شروع کرے۔

    جمعہ کو فلوریڈا میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ اپنے مقاصد حاصل کیے بغیر ایران کے ساتھ جاری جنگ سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

    دوسری جانب سفارتی محاذ پر پاکستان کی امن کوششوں میں ایک بڑا بریک تھرو سامنے آیا ہے۔ ایران نے مذاکرات کے لیے اپنی نئی تجاویز پاکستان کے ذریعے امریکا کو بھجوا دی ہیں تاہم صدر ٹرمپ نے فی الحال ایرانی تجاویز پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی قیادت کو زیادہ مناسب تجاویز پیش کرنی چاہئیں۔

  • امید ہے ہمارے نئے ہتھیار کو دیکھ کر امریکا کو دل کا دورہ نہیں پڑے گا،ایران

    امید ہے ہمارے نئے ہتھیار کو دیکھ کر امریکا کو دل کا دورہ نہیں پڑے گا،ایران

    ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ جلد ہی ایک ایسا نیا ہتھیار دنیا کے سامنے لانے والی ہے جس سے اس کے مخالفین شدید خوفزدہ ہیں۔

    ایرانی بحریہ کے سربراہ شہرام ایرانی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ بہت جلد اپنے دشمنوں کا سامنا ایک ایسے ہتھیار سے کرے گا جو بالکل ان کے برابر میں موجود ہو گا،مجھے امید ہے اس ہتھیار کو دیکھ کر امریکا کو دل کا دورہ نہیں پڑے گا۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق بحریہ کے سربراہ نے کہا ہے کہ دشمن نے ایران کے خلاف بلا اشتعال جارحیت کے ذریعے اپنے مقاصد کو کم سے کم وقت میں حاصل کرنے کی کوشش کی تھی لیکن اب ان کا یہ مفروضہ فوجی اکیڈمیوں میں ایک لطیفہ بن چکا ہے ایرانی افواج نے جوابی کارروائیوں کے دوران امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن کو سات بار میزائل حملوں سے نشانہ بنایا جس کی وجہ سے وہاں سے طیاروں کی پروازیں عارضی طور پر رک گئیں۔

    شہرام ایرانی نے مزید دعویٰ کیا کہ 28 فروری کو جنگ کے آغاز سے اب تک ایرانی مسلح افواج نے خطے میں امریکی اور اسرائیلی اہداف پر کم از کم 100 لہروں کی صورت میں جوابی حملے کیے ہیں ان کارروائیوں میں مغربی ایشیا کے وسیع جغرافیائی علاقے میں موجود حساس مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    بحریہ کے سربراہ نے کہا کہ امریکا نے ابتدائی ناکامی کے بعد خطے میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ کیا ہے اور مزید تباہ کن بحری جہاز اور میزائل پلیٹ فارم تعینات کیے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ آگے بڑھنے میں ناکام رہے ہیں امریکا کی تمام تر کوششیں ابھی تک رکی ہوئی ہیں اور وہ اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکا ہے۔

  • ایران کے 35 اداروں اور شخصیات پر امریکی پابندیاں عائد

    ایران کے 35 اداروں اور شخصیات پر امریکی پابندیاں عائد

    امریکی حکومت نے ایران کے 35 اداروں اور شخصیات پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

    امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ان اداروں اور شخصیات پر الزام ہے کہ وہ ایران کے بینکنگ کے شعبے کی مدد کر رہے ہیں اور انہوں نے اربوں ڈالر مالیت کے ایرانی تیل کی ترسیل میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

    اس حوالے سے امریکی محکمہ خزانہ کے ذیلی ادارے ’او ایف اے سی‘ نے ایک سخت وارننگ بھی جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ تمام بینک بھی ان پابندیوں کی زد میں آ سکتے ہیں جو ایسی کمپنیوں کے ساتھ کاروبار کر رہے ہیں جو ایران کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کے بدلے ادائیگیاں کرتی ہیں۔

    امریکی حکام نے اس موقع پر چین کے صوبے شینڈونگ میں قائم آئل ریفائنریز کا خاص طور پر ذکر کیا اور کہا کہ وہاں کئی آزاد چینی کمپنیاں ایرانی تیل درآمد کرنے یا اسے صاف کرنے کے عمل میں ملوث ہیں۔

    دوسری جانب امریکی بحری ناکہ بندی کے باعث ایران کی تجارتی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ ایران کی اہم بندرگاہ چاہ بہار میں اس وقت بیس سے زائد تجارتی جہاز پھنس کر رہ گئے ہیں،امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد ایرانی معاشی سرگرمیوں کو محدود کرنا ہے۔

    اسی دوران بحیرہ عرب میں بھی امریکی بحریہ کی جانب سے سخت نگرانی کا عمل جاری ہےامریکی سینٹرل کمانڈ ( سینٹکام )نے بتایا کہ امریکی میرینز نے سمندر میں ایک مشکوک تجارتی جہاز ’ایم وی بلیو اسٹار تھری‘ کو روک کر اس کی تلاشی لی ہے،انہیں شبہ تھا کہ یہ جہاز امریکی ناکہ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہو ئے ایران کی جانب جانے کی کوشش کر رہا ہے تاہم مکمل تلاشی لینے اور اس بات کی تصدیق ہونے کے بعد کہ جہاز کا رخ کسی ایرانی بندرگاہ کی طرف نہیں ہے، اسے سفر جاری رکھنے کی اجازت دے دی گئی۔

  • ٹرمپ نے ایران کو 3 دن کا الٹی میٹم  دیدیا

    ٹرمپ نے ایران کو 3 دن کا الٹی میٹم دیدیا

    امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک بار پھر دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے پاس صرف 3 دن ہیں، اس کے بعد ان کا تیل انفراسٹرکچر ختم ہوجائے گا۔

    اتوار کو امریکی نشریاتی ادارے فوکس نیوز کو دیے گئے انٹر ویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ بات چیت کے لیے وفد کو اس لیے نہیں بھیجا کہ 18 گھنٹے کی فلائٹ ہے، ایران کے ساتھ جاری جنگ جلد ختم ہو جائے گی اور اس صورت حال میں امریکا کو فتح حاصل ہوگی، اگر ایران بات چیت کرنا چاہتا ہے تو وہ براہِ راست فون کے ذریعے رابطہ کر سکتا ہے کیوں کہ یہ معاملہ فون پر بھی طے کیا جا سکتا ہے ایران میں جن فریقین سے امریکا کا سامنا ہے ان میں کچھ قابلِ قبول ہیں جب کہ کچھ نہیں تاہم انہیں امید ہے کہ ایران اس معاملے میں دانشمندی کا مظاہرہ کرے گا۔

    امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایران کے افزودہ یورینیم سے متعلق معاملہ بھی جاری مذاکرات کا حصہ ہے اور امریکا اس تک رسائی حاصل کرے گا۔ چین کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ زیادہ مایوس نہیں ہیں لیکن بیجنگ اس معاملے میں مزید تعاون کر سکتا ہے ایران سے متعلق صورت حال میں نیٹو امریکا کے ساتھ نہیں تھا اور جب جنگ کے خاتمے کے بعد برطانیہ نے بحری جہاز بھیجنے کی پیشکش کی تو یہ ایک غیر مناسب اقدام تھا۔

    امریکی صدر نے ایک بار پھر پاکستان اور بھارت کے درمیان مئی 2025 میں ہونے والی جنگ کا ذکر چھیڑ دیا۔ انہوں نے کہا کہ اپنے دور میں انہوں نے 8 مختلف جنگی تنازعات کو رکوانے میں کردار ادا کیا، جن میں پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بھی شامل ہے پاک بھارت کشیدگی اس حد تک بڑھ رہی تھی کہ صورتحال جوہری تصادم کی طرف جا سکتی تھی، اس دوران 11 جہاز تباہ ہوئے، وزیراعظم پاکستان نے میرے حوالے سے کہا کہ میں نے کردار ادا کر کے لاکھوں جانیں بچائی ہیں، وہ پاکستان کا بہت احترام کرتے ہیں اور وزیراعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل بہت اچھے اور ان کے لیے قابل احترام ہیں۔

  • ایران میں اسرائیل کیلئے مبینہ جاسوسی پر دو افراد کو سزائے موت

    ایران میں اسرائیل کیلئے مبینہ جاسوسی پر دو افراد کو سزائے موت

    تہران میں اسرائیل کیلئے جاسوسی کے الزام میں دو افراد کو سزائے موت سنا دی گئی-

    ایرانی عدالتی ذرائع کے مطابق ملزمان پر الزام تھا کہ انہوں نے حساس معلومات دشمن ملک تک پہنچائیں جسے قومی سلامتی کے خلاف سنگین جرم قرار دیا گیا ہے مقدمے کی سماعت کے بعد عدالت نے دونوں افراد کو سزائے موت کا حکم دیا حکام کا کہنا ہے کہ ملک کی سلامتی کے خلاف سرگرمیوں پر سخت کارروائی جاری رہے گی اور اس حوالے سے زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی گئی ہے۔

    ماہرین کے مطابق خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں اس نوعیت کے مقدمات اور فیصلے زیادہ نمایاں ہو رہے ہیں۔

  • ایرانی حملوں میں تل ابیب کے ہزار سے زائد اپارٹمنٹس  تباہ

    ایرانی حملوں میں تل ابیب کے ہزار سے زائد اپارٹمنٹس تباہ

    اسرائیلی شہر تل ابیب کے میئر رون ہلڈائی نے انکشاف کیا ہے کہ ایرانی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں شہر کے ایک ہزار سے زائد اپارٹمنٹس رہائش کے قابل نہیں رہے ہیں-

    تل ابیب کے میئر رون ہلڈائی نے اسرائیلی چینل 12 کو بتایا ہے کہ ایرانی حملوں کے باعث شہر کے ایک ہزار سے زیادہ اپارٹمنٹس شدید نقصان کا شکار ہو چکے ہیں اور اب ان میں رہائش ممکن نہیں رہی ایرانی میزائلوں اور ڈرون حملوں نے شہری انفراسٹرکچر کو بھی متاثر کیا ہے، جس کے بعد متعدد عمارتوں کو خالی کرایا گیا ہے۔

    اس سے قبل رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے کیے گئے حملوں میں کم از کم 26 اسرائیلی شہری ہلاک جبکہ 2600 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، دوسر ی جانب ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے نتیجے میں اب تک 3,468 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

  • ایران نہ تو جنگ کو بڑھانا چاہتا ہے اور نہ ہی کبھی کوئی جنگ یا تنازع شروع کیا،ایرانی صدر

    ایران نہ تو جنگ کو بڑھانا چاہتا ہے اور نہ ہی کبھی کوئی جنگ یا تنازع شروع کیا،ایرانی صدر

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران نہ تو جنگ کو بڑھانا چاہتا ہے اور نہ ہی اس نے کبھی کوئی جنگ یا تنازع شروع کیا-

    عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے ایرانی صدر نے کہا ہے کہ کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ایران کو اس کے پرامن جوہری حقوق سے محروم کرنے کی بات کرے ایران کا بنیادی مؤقف خطے میں امن، استحکام اور سلامتی کے تحفظ پر مبنی ہےایرانی صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا کہ ایران نہ تو جنگ کو بڑھانا چاہتا ہے اور نہ ہی اس نے کبھی کوئی جنگ یا تنازع شروع کیا ہے ایران کا مؤ قف ہمیشہ دفاعی رہا ہے اور ملک اپنے دفاع کے قانونی اور جائز حق کو استعمال کر رہا ہے۔

    مسعود پزشکیان کے مطابق ایران کسی بھی ملک پر حملہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا اور نہ ہی خطے میں کشیدگی بڑھانا چاہتا ہےدشمن اپنے طے شدہ اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے ایران پر حملوں کے دوران انفرا اسٹرکچر، اسکولوں اور اسپتالوں کو نشانہ بنایا گیا، جو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے مترادف ہے ایسے اقدامات انسانی اصولوں اور عالمی ضوابط کے خلاف ہیں ایران کی تہذیب کو تباہ کرنے اور اسے پتھر کے دور میں دھکیلنے جیسے بیانات دشمن کے اصل عزائم کو بے نقاب کرتے ہیں۔