Baaghi TV

Tag: جوبائیڈن

  • ڈونلڈ ٹرمپ نے تاریخ رقم کر دی،دوسری بار امریکا کے  صدر منتخب

    ڈونلڈ ٹرمپ نے تاریخ رقم کر دی،دوسری بار امریکا کے صدر منتخب

    امریکی صدر کے انتخاب کیلئے انڈیانا اور کینٹکی کے بعد جارجیا، جنوبی کیرولائنا، ورمونٹ ، ورجینیا اور فلوریڈا میں بھی پولنگ کا وقت ختم ہوگیا ہےجس کے بعد ووٹوں کی گنتی کا عمل شروع کردیا گیا

    وائٹ ہاؤس کا نیا مکین مل گیا،ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدر منتخب ہو گئے ہیں، ٹرمپ امریکہ کے 47 ویں صدر منتخب ہوئے ہیں، اب تک کے نتائج کے مطابق ٹرمپ277ووٹ لے چکے ہیں،فاکس نیوز نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹرمپ صدر منتخب ہو گئے ہیں ،سی این این کے مطابق ابھی تک الیکٹورل نتائج مکمل سامنے نہیں آئے، سی این این کے مطابق امریکی صدارتی انتخاب،538 میں سے اب تک ڈونلڈ ٹرمپ نے 276 اور کملا ہیرس نے 223 الیکٹورل ووٹ حاصل کرلیے ہیں، سات میں 2 سوئنگ اسٹیٹس جارجیا اور شمالی کیرولائنا میں ٹرمپ کامیاب ہو گئے ہیں، پینسلوینیا کی 19الیکٹورل نشستیں بھی ٹرمپ کے نام ہو گئی ہیں،

    ٹرمپ کی فتخ کے تاریخی اعلان کے ساتھ ہی ٹرمپ نے ایک بار پھر امریکہ کی سیاست میں اپنی اہمیت کو ثابت کیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت کے بعد امریکہ کی سیاست میں ایک نئے دور کی شروعات متوقع ہے، جہاں ان کے اقتدار میں مزید سیاسی اور اقتصادی فیصلے ہوں گے جو نہ صرف امریکہ بلکہ عالمی سطح پر بھی اثر انداز ہوں گے۔ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسری بار صدر منتخب ہونے پر ٹرمپ ہیڈ کوارٹر میں جشن کا آغاز ہو گیا ہے، ٹرمپ کے حامیوں نے نعرے بازی کی، رقص کیا، اور ٹرمپ کو جیت پر مبارکباد دی،ٹرمپ کے ہزاروں ہامی ٹرمپ ہیڈ کوارٹر میں موجود ہیں ، ڈونلڈ ٹرمپ نے وقت فلوریڈا کے شہر ویسٹ پام بیچ میں اپنے حامیوں سے خطاب بھی کیا، اطلاعات کے مطابق، ٹرمپ کی ٹیم نے پارٹی کے شرکاء کو شام کے وقت کنوینشن سینٹر منتقل کر دیا تھا۔

    آپ کا شکریہ،امریکا کے سنہری دور کا آغاز ہونیوالا ہے،ٹرمپ کا ووٹرز سے فاتحانہ خطاب
    ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے الیکشن آفس میں جمع ہونے والے کارکنوں سے وکٹری سپیچ میں کارکنان کو مبارکبار دی اور کہ ہم امریکہ کو عظیم تر بنائیں گے،ہم امریکہ میں مہنگائی کا خاتمہ کریں گے، مشرق وسطیٰ میں امن قائم کیا جائے گا،بہترین انتخابی مہم چلائی گئی، یہ امریکا کی سیاسی جیت ہے،امریکا کے سنہری دور کا آغاز ہونیوالا ہے ،یہ امریکیوں کی شاندار فتح ہے، ایک بار پھر منتخب کرنے پر عوام کا بہت شکریہ ہم ایک تاریخ رقم کرنے جارہے ہیں، ٹرمپ نے امریکی عوام سے وعدہ کیا کہ "ہر دن میں آپ کے لیے لڑوں گا” اور کہا کہ وہ "امریکہ کے سنہری دور” کا آغاز کریں گے۔ٹرمپ کے ساتھ اسٹیج پر ان کے اہل خانہ، بیوی میلانیا ٹرمپ، ان کے نائب امیدوار جی ڈی ونس اور ایوان نمائندگان کے اسپیکر مائیک جانسن بھی موجود تھے۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا اب نئی بلندیوں پر پہنچے گا اور ملک کے تمام معاملات کو ٹھیک کیا جائے گا، امریکی عوام نے ایسی کامیابی کبھی نہیں دیکھی، اور ایسی سیاسی جیت پہلے کبھی نہیں ہوئی، "امریکا کو محفوظ، مضبوط اور خوشحال بناؤں گا، اور ہم امریکا کو دوبارہ عظیم بنائیں گے،ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وہ باقی کی سوئنگ اسٹیٹ میں جیت کر 315 الیکٹورل ووٹ حاصل کریں گے، اور اپنے حامیوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ "آپ کے ووٹ کے بغیر یہ کامیابی ممکن نہیں تھی۔

    ڈونلڈ ٹرمپ پیر 20 جنوری 2025 کو یو ایس کیپیٹل کمپلیکس کے میدان میں اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔ اس تقریب کے دوران صدر افتتاحی خطاب بھی کریں گے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم کی ٹیم منگل کی صبح اپنے نتائج کے حوالے سے پراعتماد نظر آرہی تھی جب پولنگ شروع ہوئی اور ووٹنگ کا عمل جاری تھا۔ تاہم، سی این این سے بات کرنے والے مہم کے متعدد معاونین نے کہا کہ انہیں توقع نہیں تھی کہ ٹرمپ کی کامیابیاں اتنی جلدی ہوں گی جتنی آج رات کے نتائج میں نظر آ رہی ہیں۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیم کے اراکین کو کنونشن سنٹر جانے کی ہدایات
    سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیم کے ارکان کو کنونشن سینٹر منتقل کیا جا رہا ہے۔ سی این این کے مطابق، اس حوالے سے آگاہی رکھنے والے ذرائع نے بتایا کہ ٹرمپ کی حمایت کرنے والے افراد اور ان کی ٹیم کے دیگر ارکان کو اب بسوں میں بٹھا کر کنونشن سینٹر روانہ کیا جا رہا ہے۔ اس پیشرفت کے پیچھے کچھ سیاسی حکمت عملی ہو سکتی ہے، کیونکہ یہ اقدام خاص طور پر ان موقعوں کے لیے کیا جاتا ہے جب کسی اہم سیاسی شخصیت کی تقریر متوقع ہو۔امریکی انتخابات میں فتح کے بعد کنونشن سنٹر میں ٹرمپ کا خطاب متوقع ہے

    کملا ہیرس آج رات خطاب نہیں کریں گی،اعلان ہو گیا
    امریکی صدارتی امیدوار کملا ہیرس آج رات اپنے حامیوں سے خطاب نہیں کریں گی، لیکن کل خطاب کا امکان ہے، کملا ہیرس کی انتخابی مہم کے شریک چیئرنے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ کملا ہیرس کا خطاب کل متوقع ہے، یہ اعلان اس وقت سامنے آیا ہے جب ملک بھر سے انتخابات کے نتائج آنا جاری ہیں۔کملا ہیرس کی انتخابی مہم کے شریک چیئر کا کہنا تھا کہ "ہمارے پاس ابھی ووٹ گننے کا عمل جاری ہے۔ ہم ابھی بھی ایسے ریاستوں میں ہیں جن کے نتائج کا اعلان نہیں ہوا۔”ان کے اس بیان کے فوراً بعد سی این این نے یہ پیش گوئی کی کہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ دو اہم بیٹل گراؤنڈ ریاستوں، نارتھ کیرولائنا اور جارجیا میں کامیابی حاصل کر چکے ہیں۔
    kamala

    امریکا میں صدارتی انتخابات میں 50 میں سے 43 ریاستوں کے نتائج آچکے ہیں،50 ریاستوں میں سے 25 میں ڈونلڈ ٹرمپ اور 18 ریاستوں میں کملا ہیرس کامیاب ہوئی ہیں،ری پبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ فلوریڈا، ٹیکساس، لوئزیانا، الاباما، مسی سپی، ارکنساس، اوکلاہوما، اوہائیو، انڈیانا، نبراسکا، وائیومنگ میں کامیاب ہوئے ،ڈونلڈ ٹرمپ ساؤتھ ڈکوٹا، نارتھ ڈکوٹا، میزوری، یوٹا، ٹینیسی، ساؤتھ کیرولائنا، کینٹکی اور ویسٹ ورجینیا میں بھی کامیاب ہوئے ،ڈیموکریٹ امیدوار کملا ہیرس نیویارک، الی نوائے، ورمونٹ، میساچوسٹس، کنیٹیکٹ، روڈ آئی لینڈ، نیو جرسی، ڈیلاویئر، میری لینڈ میں کامیاب ہوئی ہیں۔امریکا کی 50 ریاستوں میں 538 الیکٹورل کالجز ہیں، کیلیفورنیا 54 الیکٹورل کالجز کے ساتھ سرِ فہرست ہے۔

    ایوان نمائندگان کے اسپیکر مائیک جانسن نے لوزیانہ میں ایک تقریب کے دوران صحافیوں کو بتایا کہ وہ آج رات سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے انتخابی واچ پارٹی میں شرکت کے لیے مار اے لاگو روانہ ہوں گے۔جانسن نے کہا، "مجھے امید ہے کہ ہمیں نہ صرف ایوان میں بڑی اکثریت حاصل ہوگی، بلکہ سینیٹ اور وائٹ ہاؤس بھی واپس حاصل ہوگا تاکہ میرا کام آسان ہو سکے۔”

    امریکی انتخابات،واشنگٹن ڈی سی میں سیکورٹی سخت،وائیٹ ہاؤس کے گرد باڑنصب
    امریکا میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے پیش نظر واشنگٹن ڈی سی میں سیکیورٹی کے انتہائی سخت اقدامات کیے گئے ہیں۔ شہر کی گلیوں میں پولیس اہلکار اور پولیس موبائلز گشت کر رہی ہیں، جبکہ وائٹ ہاؤس کے ارد گرد 8 فٹ اونچی لوہے کی باڑ نصب کی گئی ہے۔کیپیٹل کی عمارت کے گرد بھی اضافی حفاظتی انتظامات کے تحت باڑ اور رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں، اور حفاظتی تدابیر کے باعث متعدد کاروباری اداروں نے اپنے کاروبار عارضی طور پر بند کر دیے ہیں۔اؤریگن، پنسلوینیا اور کیلیفورنیا جیسے ریاستوں میں بھی سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔اس کے علاوہ، پولنگ کے دوران امریکی ریاست جارجیا کے فلٹن کاؤنٹی کے پانچ پولنگ اسٹیشنز پر بم کی افواہیں پھیلنے سے سنسنی پھیل گئی۔ دھمکیوں کے نتیجے میں دو پولنگ اسٹیشنز سے ووٹرز کے انخلا کے باعث ووٹنگ کے عمل میں تاخیر ہوئی۔ تاہم، عارضی طور پر بند کیے گئے پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ ووٹنگ کا عمل بحال کر دیا گیا۔

    جارجیا ،بم دھماکوں کی 60 دھمکیوں کے باوجود ریکارڈ ووٹر نکلے
    جارجیا کے سیکرٹری آف اسٹیٹ بریڈ رافنسپرگر نے کہا ہے کہ انہیں امید ہے کہ زیادہ تر انتخابی نتائج رات کے اختتام تک رپورٹ کر دیے جائیں گے۔اس وقت تک ریاست بھر میں کم از کم 88 فیصد ووٹ رپورٹ کیے جا چکے ہیں۔ رافنسپرگر نے کہا کہ اس بار ووٹوں کی گنتی کا زیادہ تر حصہ مکمل ہو چکا ہے، جو کہ "ہمارے تاریخ کا پہلا موقع ہے”۔انہوں نے بتایا کہ "جارجیا کے مختلف اضلاع میں 60 بم دھماکے کی دھمکیاں موصول ہوئیں، لیکن پھر بھی ریکارڈ تعداد میں ووٹرز نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا”۔ اس کے علاوہ، رافنسپرگر نے کہا کہ جارجیا کے پولنگ اسٹیشنز پر بم دھمکیوں کا ماخذ روس سے تھا۔”اور جو لوگ آج ہمارے انتخابات میں مداخلت کرنے کی کوشش کر رہے تھے، میں ان کے لیے ایک پیغام رکھتا ہوں، "آپ نے غلط جارجیا کو چیلنج کیا۔ آپ کی کوششیں ناکام ہو گئیں۔”انہوں نے انتخابی عملے کا بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ "جارجیا میں کامیاب انتخاب اس لیے ہوا کیونکہ آپ نے ہر روز ہر قانونی ووٹ کو محفوظ کرنے کے لیے محنت کی۔”یاد رہے کہ جارجیا ریاستی سطح پر اہم ہے، خاص طور پر سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نائب صدر کمیلا ہیرس کے خلاف انتخابی دوڑ میں۔ جارجیا نے 2020 میں تقریباً 30 سال بعد پہلی بار نیلے رنگ کا رنگ اپنایا تھا جب جو بائیڈن نے 11,000 سے زیادہ ووٹوں کے فرق سے جیت حاصل کی۔

    فولٹن کاؤنٹی میں امریکی انتخابات کے دوران ، 32 بم دھماکوں کی دھمکیاں
    فولٹن کاؤنٹی میں آج کے ووٹوں کے نتائج کی اپلوڈنگ کا عمل تقریباً مکمل ہو چکا ہے۔ الیکشن ہب میں آخری میموری کارڈز پہنچ چکے ہیں، جنہیں سکین کرکے فوراً اپلوڈ کیا جائے گا۔ اس کے بعد، نتائج کا مکمل اعلان جلد متوقع ہے۔کاؤنٹی حکام نے اس عمل کو "حیرت انگیز” قرار دیا، خاص طور پر جب یہ بات سامنے آئی کہ آج کاؤنٹی کو 32 بم دھمکیوں کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ ان دھمکیوں کے باوجود ووٹوں کی گنتی بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہی۔جارجیا کے سیکریٹری آف اسٹیٹ، بریڈ ریفن سپرگر نے تقریباً 11 بجے رات کے قریب ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ انہیں توقع ہے کہ یہ رات جلد ختم ہو گی۔ انہوں نے کہا، "میں نے وعدہ نہیں کیا تھا اور نہ ہی وعدہ کرکے جواب نہیں دیا تھا، لیکن لگتا ہے کہ رات جلد ختم ہو جائے گی۔ یہ تقریباً مکمل ہو چکا ہے۔ ہاں، ہمیں آخری 400,000 ووٹوں کا انتظار کرنا ہوگا، لیکن موجودہ نتائج کی روشنی میں لگتا ہے کہ جو لیڈز ہیں، وہ مستحکم ہیں۔”کاؤنٹی حکام نے ان نتائج کی پروسیسنگ کو کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس بار پورے عمل میں شفافیت اور تیزی سے کام کیا گیا، جو انتخابات کے کامیاب انعقاد کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔

    نیواڈا میں نیا مسئلہ،11ہزار بیلٹ پیپر پر دستخطوں کی عدم مطابقت،پنسلوانیا میں سافٹ ویئر خراب،ووٹوں کی ہاتھوں سے گنتی
    نیواڈا میں ایک نیا مسئلہ سامنے آیا ہے جس میں دستخطوں کی عدم مطابقت کی شکایات موصول ہو رہی ہیں۔ نیواڈا کے سیکریٹری آف اسٹیٹ، فرانسسکو ایگیلار نے سی این این کو بتایا کہ 11,000 سے زائد بیلٹوں کو دوبارہ تصدیق کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ ان پر دستخط موجود ریکارڈ سے میل نہیں کھاتے۔ ایگیلار نے کہا، "ہمیں یہ پتہ چل رہا ہے کہ زیادہ تر نوجوان ووٹرز کو دستخط کرنے میں مشکل پیش آ رہی ہے کیونکہ وہ ڈیجیٹل دنیا میں رہتے ہیں اور حقیقی زندگی میں دستخط نہیں کرتے۔”دوسری جانب پنسلوانیا کے کاؤنٹی کیمبیا میں ان بیلٹس کی ہاتھوں سے گنتی کی جا رہی ہے جو پہلے اسکین نہیں ہو سکے تھے کیونکہ اس میں سافٹ ویئر کا مسئلہ تھا۔ پنسلوانیا کے سیکریٹری آف اسٹیٹ، ایل اسمتھ نے کہا کہ اس عمل میں وقت لگ سکتا ہے۔ علاوہ ازیں نارم کارولائنا کے انتخابی ڈیٹا میں وقتی طور پر تاخیر کا سامنا ہو سکتا ہے، کیونکہ کئی کاؤنٹیز ایک ہی وقت میں بڑی مقدار میں ڈیٹا شیئر کریں گی، جیسا کہ پیٹرک گینن، اسٹیٹ بورڈ آف الیکشن کے ترجمان نے بتایا۔پنسلوانیا کے ویسٹ چیسٹر کے قریب دو پولنگ اسٹیشنوں پر بم کی دھمکی کے بعد ان پولنگ اسٹیشنوں میں ووٹنگ کا وقت 10 بجے تک بڑھا دیا گیا ہے تاکہ ان ووٹرز کو سہولت دی جا سکے جو دوسری جگہوں پر منتقل کیے گئے تھے،

    فتح ہماری، سو جاؤ،کملا ہیرس کی انتخابی مہم کے انچارج کا عملے کو مشورہ
    امریکی صدارتی انتخابات میں کملا ہیرس کی انتخابی مہم کے انچارج چیئر جین او میللی ڈیلن نے منگل کی رات ایک ای میل میں عملے کو بتایا کہ وہ نتائج کے فوری طور پر سامنے آنے کی توقع نہیں رکھتے، اور وہ اس بات پر پُرامید ہیں کہ نائب صدر کملا ہیریس کے پاس فتح کے لیے ابھی بھی ایک راستہ موجود ہے۔اس ای میل میں 270 انتخابی ووٹوں کے حصول کے لیے کسی بھی راستے کو مسترد نہیں کیا گیا، تاہم او میللی ڈیلن نے "بلُو وال” یعنی مشیگن، وسکونسن اور پنسلوانیا پر زور دیا، جو ہمیشہ سے مہم کے لیے فتح کی سب سے ممکنہ راہ سمجھی جاتی ہے،
    او میللی ڈیلن نے لکھا، "مہم میں ہم نے جو تیاری کی تھی، یہ انتخابی مقابلہ ویسا ہی ہے جیسا ہم نے متوقع کیا تھا۔ ہم ابھی بھی سن بیلٹ ریاستوں سے ڈیٹا آتا ہوا دیکھ رہے ہیں، لیکن ہمیں ہمیشہ سے معلوم تھا کہ 270 انتخابی ووٹوں کا ہمارا سب سے واضح راستہ ‘بلُو وال’ ریاستوں سے ہے۔ اور جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں، اس کے بارے میں ہمیں اچھا لگ رہا ہے۔”انہوں نے مشیگن، پنسلوانیا اور وسکونسن کے میٹرو علاقے، جیسے فلاڈیلفیا، ڈیٹرائٹ اور ملواکی سے آنے والی غیر حتمی ووٹوں کی تعداد کا حوالہ دیا اور بتایا کہ مہم نے اس بات کا اشارہ لیا ہے کہ ان علاقوں میں ووٹرز کی بڑی تعداد نے حصہ لیا ہے، جو انتخابی نتائج کو ان کے حق میں بدل سکتی ہے۔او میللی ڈیلن نے مزید کہا کہ نتائج کے بارے میں کئی گھنٹوں تک کچھ واضح نہیں ہوگا۔ یہ مقابلہ راتوں رات ختم نہیں ہو سکتا۔ جن لوگوں نے 2020 کے انتخابات میں حصہ لیا تھا، انہیں اس بات کا بخوبی اندازہ ہے،انہوں نے مہم کے عملے کو کہا، "یہ وہ چیلنج ہے جس کے لیے ہم تیار ہیں، تو آج رات جو ہمارے سامنے ہے، اسے مکمل کریں، نیند لیں اور کل سے اپنی مہم ختم کرنے کے لیے تیار ہو جائیں۔

    ایری زونا اسٹیٹ یونیورسٹی کے طلباء کی بڑی تعداد نے طویل قطاروں میں کھڑے ہو کر ووٹ ڈالے
    ایری زونا اسٹیٹ یونیورسٹی کی 27 سالہ گریجویٹ طالبہ، ٹیری سروےور نے اس بات کا اندازہ لگایا کہ وہ آج رات اپنے یونیورسٹی کے فٹنس سینٹر میں ایک گھنٹہ تک ووٹ ڈالنے کے لیے قطار میں کھڑی رہیں۔ اس دوران وہاں 300 سے زائد افراد کی لائن لگ چکی تھی۔ہوپی اور ناواجو نسل سے تعلق رکھنے والی سروےور نے سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ دونوں امیدواروں کے بارے میں متذبذب تھیں، کیونکہ وہ نہ تو کملا ہیرس کے حق میں تھیں اور نہ ہی ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت کر رہی تھیں، لیکن آخرکار انہوں نے ہیرس کا انتخاب کیا۔ تاہم، وہ یہ دیکھ کر خوش ہوئیں کہ نوجوان ووٹرز کی بڑی تعداد لائن میں کھڑی ہو کر اپنے حق رائے دہی کا استعمال کر رہی تھی۔ان کے پیچھے فرسٹ ایئر طالب علم اینڈریو آرمور کھڑے تھے، جنہوں نے بھی دونوں امیدواروں کے بارے میں تحفظات کا اظہار کیا لیکن ان کا ماننا تھا کہ ٹرمپ بہتر انتخاب ہیں، خاص طور پر امیگریشن، اسرائیل اور اسقاط حمل جیسے مسائل کی بنیاد پر۔21 سالہ لارنس پیریٹ، جو پہلی بار ووٹ ڈال رہے تھے اور کملا ہیرس کی حمایت کر رہے تھے، نے کہا کہ انہیں اس تاریخی انتخابات کا حصہ بننے پر خوشی محسوس ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چاہے لائن کتنی ہی لمبی ہو، ان کے لیے ووٹ دینا ضروری تھا اور وہ خوش ہیں کہ انہوں نے صبر سے اپنی باری کا انتظار کیا۔ اس دوران مختلف مقررین اور رضا کاروں نے ان کے تجربے کو مزید خوشگوار بنایا، جیسے ووٹر گائیڈز، کھانا، پانی ،فاطمہ الارا جی، ایک اور طالبہ، نے کہا کہ انہیں اپنے ساتھی طلباء اور دیگر ووٹروں کی حوصلہ افزائی دیکھ کر خوشی ہوئی جو طویل لائن میں کھڑے ہو کر اپنا ووٹ ڈالنے کے لیے آئے۔اس دوران، فینکس کی 25 سالہ ڈینیلا، جو کی سابقہ طالبہ ہیں اور اپنا آخری نام شیئر کرنے سے گریز کر رہی تھیں، نے بتایا کہ یہ پہلا موقع ہے جب وہ اس انتخاب میں ریپبلکن پارٹی کے امیدواروں کو ووٹ دے رہی ہیں۔ وہ میکسیکن نژاد امیگرنٹس کی بیٹی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ان کے خاندان اور کاروبار کو ٹرمپ انتظامیہ کے تحت فراہم کی جانے والی گرانٹس اور قرضوں کی وجہ سے کووڈ-19 کی وبا کے دوران زندہ رہنے میں مدد ملی۔ ایک مسیحی ہونے کے ناطے، ڈینیلا نے اس بات کو بھی اجاگر کیا کہ اسقاط حمل پر حکومت کا موقف ان کے اپنے نظریات سے زیادہ ہم آہنگ ہے۔یہ انتخابات نہ صرف اہم سیاسی انتخاب ہیں، بلکہ یہ نوجوانوں اور مختلف پس منظر رکھنے والے ووٹروں کی بڑھتی ہوئی شرکت کی غمازی بھی کرتے ہیں، جو اپنے حقوق کو تسلیم کرتے ہوئے جمہوریت میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔

    امریکا میں پولنگ مکمل ہونے کے اوقات بھی مختلف ریاستوں میں مختلف ہیں، 6 مختلف ٹائم زون کے باعث مختلف امریکی ریاستوں میں پولنگ کا اختتام الگ الگ وقت پر ہوگا۔امریکا کی دیگر ریاستوں میں صدارتی انتخابات کیلئے ووٹنگ کا عمل جاری ہے جس میں ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ اور ڈیموکریٹک امیدوار کملا ہیرس میں کانٹے کا مقابلہ متوقع ہےامریکی میڈیا کے مطابق 7 کروڑ 89 لاکھ افراد پہلے ہی ووٹ کاسٹ کرچکے ہیں اور کسی بھی امیدوار کو جیت کیلئے کل 538 میں سے کم از کم 270 الیکٹورل ووٹ درکار ہوں گے،آج ہونے والے انتخابات میں ووٹرز ایوان نمائندگان کے 435 ارکان کو منتخب کریں گے،ایوان نمائندگان پر کنٹرول کیلئے 218 سیٹیں درکار ہیں، امریکی سینیٹ کے100 میں سے34 ارکان کا انتخاب بھی آج ہوگا، اس وقت سینیٹ میں ریپبلکن ارکان 38، ڈیموکریٹس 28 ہیں۔ 11 ریاستوں میں گورنرز کا انتخاب بھی ہو گا۔

    خیال رہے کہ امریکا میں صدارتی انتخابات کیلئے ووٹنگ کا عمل جاری ہے جس میں ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ اور ڈیموکریٹک امیدوار کملا ہیرس میں کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے

    امریکی انتخابات،شمالی کیرولائنا میں ووٹنگ اسٹیشن پر طویل قطاریں

    امریکی انتخابات،کئی علاقوں میں ووٹرز کو شدید بارش اور طوفانی موسم کا سامنا

    امریکی صدارتی انتخابات،کون بنے گا وائیٹ ہاؤس کا مکین

    امریکی انتخابات،غزہ جنگ نے عرب،مسلم ووٹرز کو جل سٹائن کی طرف کیا مائل

    امریکی انتخابات،ٹک ٹاک نے نوجوانوں کےسیاسی خیالات بدل ڈالے

    کملا ہیرس کی کامیابی کے لئے بھارت کے مندروں میں دعائیں

    کون بنے گا وائیٹ ہاؤس کا مکین،پہلا حیران کن نتیجہ موصول

    امریکی صدارتی انتخابات،فیصلہ کن دن،ٹرمپ اور کملا کی نظریں کن ریاستوں پر

    کملا کی آخری ریلی،میوزک سپراسٹار لیدی گاگاکی شرکت،مداحوں کو پرجوش کر دیا

    انتخابی مہم،ٹرمپ کے 900 جلسے،گالیاں،کملاہیرس کو "سیکس ورکر”کہہ دیا

    غزہ جنگ کا خاتمہ کروں گی،کملاہیرس کی عرب امریکیوں کی حمایت کی کوشش

    ٹرمپ کی معیشت کے حوالے سے ہیرس پر تنقید

    ڈونلڈ ٹرمپ کا پہلا دور اقتدار کیسا رہا؟ انتخابی مہم میں حملے،الزامات
    سابق امریکی صدر اور 2024 کے لیے ریپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کا پہلا دورِ اقتدار کئی تنازعات سے بھرپور رہا ہے، انہوں نے 91 الزامات کا سامنا کرتے ہوئے اپنی دوسری صدارتی مہم شروع کی، اور اس دوران اُن پر دو ناکام قاتلانہ حملے بھی ہوئے۔ٹرمپ امریکا کی تاریخ کے تیسرے صدر ہیں جنہیں مواخذے کا سامنا کرنا پڑا، لیکن وہ بری ہوگئے، ان پر طاقت کے غلط استعمال، کانگریس کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے اور اپنے حامیوں کو بغاوت پر اکسانے کے الزامات عائد ہوئے۔اپنے دورِ صدارت میں ٹرمپ نے امریکی فوجی فنڈز کو امریکا-میکسیکو سرحد پر دیوار کی تعمیر کی طرف موڑا، غیر قانونی تارکین وطن کے لیے ایک متنازعہ خاندانی علیحدگی پالیسی نافذ کی، اور سات مسلم اکثریتی ممالک کے شہریوں کی امریکا آمد پر پابندی عائد کی۔انہوں نے امریکا کو پیرس ماحولیاتی معاہدے اور ایرانی جوہری معاہدے سے الگ کیا، امریکی سفارت خانہ تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس منتقل کیا، ملک میں ریکارڈ ٹیکس چھوٹ دی، چین کے ساتھ تجارتی جنگ چھیڑی اور شمالی کوریا کے ساتھ تاریخی ملاقاتیں کیں، جس سے وہ شمالی کوریا جانے والے پہلے امریکی صدر بنے۔اپنے صدراتی دور میں ٹرمپ نے کورونا وائرس کے خلاف غیر سائنسی اقدامات کو فروغ دیا، جس کے نتیجے میں امریکا میں اس وبا سے 4 لاکھ اموات ہوئیں۔2020 کے صدارتی انتخابات میں شکست کو تسلیم نہ کرنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے دھاندلی کے الزامات بھی لگائے۔ انتخابی فراڈ کے 60 سے زائد دعووں میں وہ عدالتوں میں شکست سے دوچار ہوئے۔ڈونلڈ ٹرمپ پر یہ الزام بھی ہے کہ 2020 کے انتخابات میں شکست کے بعد انہوں نے اپنے حامیوں کو کیپیٹل ہل کے باہر جمع ہونے کی دعوت دی، جس کے نتیجے میں ان کے حامیوں نے کیپیٹل ہل پر حملہ کیا، جس دوران پانچ افراد ہلاک ہوگئے،انتخابی مہم کے دوران جان لیوا حملے، جنسی ہراسانی کے الزامات بھی ٹرمپ کی فتح میں رکاوٹ نہ بنے اور ٹرمپ کامیاب ہو گئے، ٹرمپ کی انتخابی مہم کے دوران ایک دو دہائی پرانے جنسی ہراسانی کے الزام کو سامنے لایا گیا تھا، ٹرمپ پر قائم مقدمات کو بھی انکے خلاف انتخابی مہم میں استعمال کیا گیا تھا لیکن ٹرمپ نے اس سب کے باوجود فتح حاصل کر لی.

    امریکی سینیٹ میں ڈونلڈ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی نے میدان مارلیا
    امریکی سینیٹ میں ریپبلکن نے 51نشستیں حاصل کرلیں ، امریکہ کی سینیٹ میں ری پبلکن پارٹی نے اکثریت حاصل کر لی ہے، جس کے بعد سینیٹ میں طاقت کا توازن تبدیل ہو گیا ہے۔ سینیٹ میں اب ری پبلکن پارٹی کی نشستوں کی تعداد 51 ہو گئی ہے، جبکہ ڈیموکریٹک پارٹی کے پاس 43 نشستیں ہیں۔امریکی سینیٹ میں کل 100 نشستیں ہیں، اور اکثریت حاصل کرنے کے لیے کسی بھی پارٹی کو کم از کم 51 نشستیں درکار ہوتی ہیں۔ ری پبلکن پارٹی کی اکثریت حاصل کرنے کے بعد، اب ان کے پاس سینیٹ میں قانون سازی اور دیگر اہم فیصلوں پر اثر ڈالنے کی طاقت ہوگی۔اس تبدیلی کا اثر آئندہ سیاست پر بھی پڑے گا، کیونکہ سینیٹ میں اکثریت حاصل کرنا کسی بھی حکومت کے لیے اہم حکومتی فیصلوں میں اثر ڈالنے کا ذریعہ ہوتا ہے۔ ڈیموکریٹس کے لیے یہ ایک بڑا دھچکا ہے کیونکہ 51 نشستوں کے ساتھ ری پبلکن پارٹی اب سینیٹ میں زیادہ تر اہم کمیٹیوں پر بھی قابض ہو سکتی ہے، جس سے قانون سازی کے عمل پر ان کا کنٹرول مزید مستحکم ہو گا۔ری پبلکنز کی اکثریت سینیٹ کو اس پوزیشن میں لا کر رکھے گی کہ وہ ممکنہ طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کو مضبوط بنا سکیں گے،چند انتخابات کے نتائج ابھی آنے ہیں، لیکن اس وقت ری پبلکنز کے پاس سینیٹ میں 51 سیٹیں ہیں اور وہ جنوری میں نیا کانگریس شروع ہونے پر کنٹرول سنبھال لیں گے۔ سینیٹ کا کنٹرول حاصل کرنا ری پبلکنز کی اس رات کی پہلی بڑی کامیابی ہے، ری پبلکنز کی کامیابی کی ابتدا الیکشن کی رات کے ابتدائی اوقات میں ہوئی، جب ویسٹ ورجینیا کے گورنر جم جسٹس کو سینیٹ کی وہ نشست جیتنے کے لیے منتخب کیا گیا جو ڈیموکریٹک سینیٹر جو مینچن کے ریٹائر ہونے کے بعد خالی ہوئی تھی۔ مینچن نے دوبارہ انتخاب میں حصہ نہ لینے کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد ڈیموکریٹس نے اس نشست کے لیے مقابلہ کرنا چھوڑ دیا تھا۔

    امریکی انتخابات،پولنگ مقامات پر بم دھمکیوں کی ای میل روسی ڈومین سے آئیں،دعویٰ
    واشنگٹن: امریکی حکام کا کہنا ہے کہ متعدد ریاستوں میں پولنگ مقامات کو ملنے والی بم دھمکیوں میں سے کچھ روسی ای میل ڈومینز سے آئیں۔ تاہم تحقیقات جاری ہیں اور ایف بی آئی نے ابھی تک یہ تصدیق نہیں کی کہ دھمکیوں کے پیچھے روس کا ہاتھ ہے۔امریکی سائبر سیکیورٹی اور انفراسٹرکچر سیکیورٹی ایجنسی کی سربراہ جین ایسٹرلی نے منگل کی رات صحافیوں کو بتایا کہ "ایف بی آئی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ دھمکیاں روسی ڈومینز سے آئی ہیں۔ اگر یہ واقعی کسی غیر ملکی دشمن یا روس سے جڑی ہوئی ہیں، تو ہم اس کے اثرات پر غور کریں گے کہ حکومت کے طور پر ہمارے لیے اس کا کیا مطلب ہو گا۔”ایف بی آئی مقامی قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ان چار ریاستوں کے حکام کے ساتھ کام کر رہی ہے جہاں پولنگ اور انتخابات سے متعلق مقامات کو بم دھمکیاں موصول ہوئی ہیں۔ سی این این کو منگل کی رات ایک قانون نافذ کرنے والے اہلکار نے بتایا کہ ان ریاستوں میں مِشیگن، وسکونسن، ایریزونا اور جارجیا شامل ہیں، جنہوں نے دھمکیوں کے بعد اپنے پولنگ اسٹیشنز کو خالی کر لیا تھا،ایف بی آئی نے پہلے ہی تصدیق کی تھی کہ بعض دھمکیاں روسی ای میل ڈومینز سے آئی تھیں اور ان کو غیر معتبر قرار دے دیا تھا۔تحقیقات جاری ہیں اور مزید معلومات کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

    ٹرمپ کی قیادت میں معیشت بہتر،مہنگائی میں کمی ہو گی،ووٹرز کی رائے
    امریکی شہریوں نے ٹرمپ کو ووٹ کیوں دیئے، اس ضمن میں خبر رساں ادارے سی این این نےووٹرز سے بات چیت کی ہے،30 سالہ شہری ڈینزیل کسیمایو کا کہنا تا کہ ان کا خاندان کینیا سے امریکہ میں ہجرت کر کے آیا تھا۔ ایریزونا میں ایک رجسٹرڈ ریپبلکن، کسیمایو نے 2020 میں صدر جو بائیڈن کو ووٹ دیا تھا، لیکن اب وہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت کر رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کی قیادت میں معیشت بہتر ہو گی، گیس اور کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتیں کم ہوں گی، اور دوسرے ممالک امریکہ کی عزت کرتے تھے۔ انہیں یہ بھی پسند ہے کہ ٹرمپ نے اصلاحات کی بات کی تھی۔ تاہم، وہ اس بات کے حق میں ہیں کہ خواتین کو اسقاط حمل کے بارے میں اپنے فیصلے خود کرنے کا حق ہونا چاہیے۔

    59 سالہ مری ویپریکٹ کا کہنا تھا کہ پچھلے چار سال بہت مشکل تھے، معیشت بدتر تھی اور سرحدوں کی صورتحال بھی خراب تھی۔ وہ کہتی ہیں کہ اب وہ زیادہ لوگوں کو جانتی ہیں جو ٹرمپ کی حمایت میں کھل کر بات کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے لیے ٹرمپ کی پالیسیوں کی اہمیت ہے اور انہیں یقین ہے کہ اس کے دوبارہ صدر بننے سے ملک کی صورتحال بہتر ہو گی۔

    45 سالہ برُوس ٹویئر اسکی کا کہنا تھا کہ انہوں نے فینکس کے علاقے میں 100 سے زیادہ دروازے کھٹکھٹائے ہیں اور ریپبلکن ووٹرز کو پہلے ووٹ ڈالنے کی کوششوں کا حصہ بنے انہیں "100 فیصد اعتماد ہے” کہ ٹرمپ ایریزونا جیتیں گے۔ وہ امریکہ کی سرحدی سیکیورٹی اور اسرائیل کے حوالے سے ٹرمپ کی پالیسیوں کی حمایت کرتے ہیں، اور ان کے مطابق یہ دو موضوعات ان کے لیے سب سے زیادہ اہم ہیں۔

    امریکی عوام نے ٹرمپ کو تبدیلی کے لیے صاف اور واضح مینڈیٹ دیا،ایلون مسک
    ٹیسلا اور اسپیس ایکس ،ٹویٹر،ایکس کے مالک ایلون مسک نے حالیہ ایک بیان میں کہا ہے کہ "امریکہ کے عوام نے آج رات ڈونلڈ ٹرمپ کو تبدیلی کے لیے صاف اور واضح مینڈیٹ دیا ہے۔”مسک نے یہ بیان سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر دیا جس میں انہوں نے امریکہ کے عوام کی خواہشات اور سیاست میں تبدیلی کے حوالے سے اپنی رائے کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ سیاسی صورتحال میں عوام نے اپنی طاقت کا اظہار کیا ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ تبدیلی چاہتے ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکہ میں تبدیلی کی سمت متعین ہوگی اور یہ وقت ہے کہ امریکہ عالمی سطح پر اپنی پوزیشن کو مضبوط کرے۔ اس بیان کے بعد ایلون مسک کے حمایتی اور ناقدین دونوں کی طرف سے مختلف ردعمل سامنے آئے ہیں۔

    elun

  • امریکی انتخابات،جوبائیڈن نے سرگرمیاں ترک کر دیں،گھر ہی رہیں گے

    امریکی انتخابات،جوبائیڈن نے سرگرمیاں ترک کر دیں،گھر ہی رہیں گے

    جو بائیڈن انتخابی نتائج وائٹ ہاؤس میں اپنی رہائش گاہ سے دیکھیں گے، مہم کا خاموش اختتام

    امریکا میں صدارتی انتخابات ہو رہے ہیں، ٹرمپ اور کملا ہیرس میں مقابلہ ہے، موجودہ امریکی صدر جوبائیڈن نے کملاہیرس کو نامزد کیا تھا، اب ہونے والے انتخابات میں امریکی صدر جو بائیڈن کا نام بیلٹ پیپر پر نہیں ہوگا، لیکن ان کے لیے اس انتخابات کے نتائج کا بڑا اثر ہے، خاص طور پر ان کی 81 سالہ عمر اور ان کی سیاسی میراث کے حوالے سے، کیونکہ وہ یہ دیکھنے کے منتظر ہیں کہ وائیٹ ہاؤس کا مکین انکی نامزد کملا ہیرس بنتی ہیں یا ڈونلڈ ٹرمپ،

    صدر بائیڈن نے حالیہ دنوں میں نسبتاً کم سرگرمی دکھائی ہے اور آج بھی یہی توقع ہے۔ جوبائیڈن اور خاتون اول جِل بائیڈن وائٹ ہاؤس کی رہائش گاہ سے انتخابات کے نتائج دیکھیں گے، جہاں ان کے طویل عرصے سے ساتھ کام کرنے والے مشیر اور سینئر عملہ بھی موجود ہوگا، ایک وائٹ ہاؤس اہلکار کے مطابق جو بائیڈن، جن کے شیڈول میں کوئی عوامی تقریبات شامل نہیں ہیں انتخابات کے نتائج کے دوران ملک بھر میں اپ ڈیٹس وصول کرنے کی توقع رکھتے ہیں۔

    آج کا انتخاب گزشتہ چند ماہ کے مقابلے میں بالکل مختلف دکھائی دے رہا ہے، اگرچہ بائیڈن کو پس منظر میں ڈال دیا گیا ہے، وہ ٹرمپ کی ممکنہ دوبارہ صدارت کے خطرات سے بار بار آگاہ کرتے رہے ہیں۔ وائٹ ہاؤس نے بائیڈن کی کچھ اہم کامیابیوں کو محفوظ رکھنے کی کوشش کی ہے تاکہ اگر ٹرمپ جیت کر ان کی کامیابیوں کو رد کرنے کی کوشش کریں تو ان کا دفاع کیا جا سکے۔بائیڈن نے ہفتے کو کہا تھا کہ "میرے اور ٹرمپ کی شخصیت میں بڑے اختلافات ہیں،” "کیا ہوگا؟ اگر آپ میری انتظامیہ کو ان کی انتظامیہ سے بدل دیں گے تو کیا ہوگا؟”

    امریکی انتخابات،شمالی کیرولائنا میں ووٹنگ اسٹیشن پر طویل قطاریں

    امریکی انتخابات،کئی علاقوں میں ووٹرز کو شدید بارش اور طوفانی موسم کا سامنا

    امریکی صدارتی انتخابات،کون بنے گا وائیٹ ہاؤس کا مکین

    امریکی انتخابات،غزہ جنگ نے عرب،مسلم ووٹرز کو جل سٹائن کی طرف کیا مائل

    امریکی انتخابات،ٹک ٹاک نے نوجوانوں کےسیاسی خیالات بدل ڈالے

    کملا ہیرس کی کامیابی کے لئے بھارت کے مندروں میں دعائیں

    کون بنے گا وائیٹ ہاؤس کا مکین،پہلا حیران کن نتیجہ موصول

    امریکی صدارتی انتخابات،فیصلہ کن دن،ٹرمپ اور کملا کی نظریں کن ریاستوں پر

    کملا کی آخری ریلی،میوزک سپراسٹار لیدی گاگاکی شرکت،مداحوں کو پرجوش کر دیا

    انتخابی مہم،ٹرمپ کے 900 جلسے،گالیاں،کملاہیرس کو "سیکس ورکر”کہہ دیا

    غزہ جنگ کا خاتمہ کروں گی،کملاہیرس کی عرب امریکیوں کی حمایت کی کوشش

    ٹرمپ کی معیشت کے حوالے سے ہیرس پر تنقید

  • انتخابی مہم میں ٹرمپ کے جھوٹ،ہارتے ہیں تونتائج چیلنج کرنیکی تیاری

    انتخابی مہم میں ٹرمپ کے جھوٹ،ہارتے ہیں تونتائج چیلنج کرنیکی تیاری

    امریکی صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ ، 2024 کے انتخابات میں اگر وہ ہار جاتے ہیں تو نتائج کو چیلنج کرنے کے لیے انہوں نے مہینوں سے تیاری کر رکھی ہے، بالکل اسی طرح جیسے انہوں نے چار سال پہلے کیا تھا۔

    ٹرمپ اپنی ریلیوں میں اپنے حامیوں سے کہتے ہیں کہ وہ ایک ایسی فتح دلائیں جو "چوری کرنے کے لیے بہت بڑی” ہو، اور یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ صرف اس صورت میں ہار سکتے ہیں اگر ڈیموکریٹس دھوکہ کریں۔ انہوں نے بار بار یہ کہنے سے انکار کیا ہے کہ کیا وہ نتائج کو قبول کریں گے چاہے جو بھی نتیجہ ہو۔ ان کا کہنا ہے کہ دھوکہ دہی پہلے ہی جاری ہے، حالانکہ ان کے دعوے بے بنیاد اور مضحکہ خیز نظریات پر مبنی ہیں۔ٹرمپ نے جمعرات کی رات ایری زونامیں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "ہمیں صرف دھوکہ ہی روک سکتا ہے۔ یہی چیز ہمیں روک سکتی ہے،”

    2020 میں، ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس سے قبل از وقت فتح کا اعلان کیا۔ انہوں نے اپنے ہار کو جیت میں بدلنے کے لیے قانونی اور سیاسی کوششیں شروع کیں جو 6 جنوری 2021 کو ان کے حامیوں کی جانب سے کیپیٹل پر حملے کی صورت میں بھی نظر آئیں،ڈیموکریٹس کو خدشہ ہے کہ وہ اس سال بھی ایسا ہی کچھ کر سکتے ہیں جب تک کہ انتخابات کا فیصلہ نہ آ جائے۔ انہوں نے جمعہ کو ڈیئر بورن، مشی گن میں ڈیموکریٹس کی تشویشات پر ایک سوال کا جواب نہیں دیا اور اس کے بجائے نائب صدر کاملا ہیرس پر حملہ کیا۔

    ٹرمپ نے اپنی 2024 کی انتخابی مہم میں انتخابی جھوٹ کو مرکزی حیثیت دی ہے، دھوکہ دہی کے بارے میں انتباہات دیتے ہوئے اور ان لوگوں کے خلاف انتقام لینے کا وعدہ کیا ہے جنہیں وہ اپنی راہ میں رکاوٹ سمجھتے ہیں۔

    یہاں ٹرمپ کی اس سال کے انتخابات میں شکوک و شبہات پھیلانے کی حکمت عملی اور ہر دعویٰ کے پیچھے حقائق کا جائزہ لیا گیا ہے۔

    ٹرمپ نے بغیر کسی ثبوت کے دعویٰ کیا ہے کہ ڈیموکریٹس نے لاکھوں تارکین وطن کو غیر قانونی طور پر ملک میں داخل ہونے دیا ہے تاکہ انہیں ووٹ کے لیے رجسٹر کیا جا سکے۔ ستمبر میں نیوز میکس کے ساتھ ایک انٹرویو میں، انہوں نے کہا کہ یہ کوششیں پہلے ہی جاری ہیں۔”وہ الیکشن میں ووٹ دینے کے لیے لوگوں کو غیر قانونی طور پر رجسٹر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں،” انہوں نے دعویٰ کیا۔ "وہ کام کر رہے ہیں کہ لوگوں کو سرحد سے آنے والے دیکھیں۔”

    حقائق: نئے آنے والوں کے لیے شہریت حاصل کرنے میں سال لگتے ہیں اور صرف شہری ہی وفاقی انتخابات میں قانونی طور پر ووٹ ڈال سکتے ہیں۔ غیر شہریوں کے غیر قانونی طور پر ووٹ ڈالنے کے واقعات عموماً غلطی کی وجہ سے ہوتے ہیں اور یہ ایک بڑی سازش کی عکاسی نہیں کرتے۔

    ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ ڈیموکریٹس کی طرف سے بیرون ملک رہنے والے امریکیوں کے ووٹ کے حصول کی کوششیں دھوکہ دہی کا موقع فراہم کرتی ہیں، اور انہوں نے یہ الزام عائد کیا ہے کہ وہ "دھوکہ دینے کے لیے تیار ہیں!”

    حقائق: سابق صدر نے خود بیرون ملک رہنے والے امریکیوں کے ووٹ کے لیے مہم چلائی ہے، انہیں دوہری ٹیکس کی روک تھام کا وعدہ کرتے ہوئے۔

    ٹرمپ نے یہ بھی تجویز دیا ہے کہ نائب صدر ہیرس کو کسی خفیہ معلومات تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے جس کا ابھی فیصلہ نہیں ہوا۔

    حقائق: ڈیموکریٹس کی جانب سے کسی سازش کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ ٹرمپ نے نیو یارک کے میڈیسن اسکوائر گارڈن میں ایک ریلی کے دوران اپنی طرف سے شکوک و شبہات پھیلانے کے لیے بات کی۔

    اس صورتحال میں، ٹرمپ نے اپنی مہم کے ذریعے عوامی خدشات اور سیاسی ماحول کو متاثر کرنے کی کوشش کی ہے۔

    امریکی انتخابات،دونوں جماعتوں کا کچھ نشستوں کے لیے سخت مقابلہ

    امریکی صدارتی انتخابات،ٹرمپ بمقابلہ ہیرس،الٹی گنتی شروع

    کیا ٹرمپ 2016 کی فتح کو دوبارہ حاصل کر سکیں گے؟

    مارے جانے والے گلہری نے جعلی ٹرمپ پوسٹ کے بعد انتخابات میں حیران کن بحث پیدا کر دی

    امریکی صدارتی انتخابات: ٹرمپ اور کملا ہیرس کے درمیان کانٹے دار مقابلہ، کروڑوں ووٹ کاسٹ

    ٹرمپ کی انتخابی ریلی کے دوران فلسطین کی آزادی کے لیے نعرے

  • امریکی انتخابات،40 منٹ لائن میں لگ کر جوبائیڈن نے ووٹ دے دیا

    امریکی انتخابات،40 منٹ لائن میں لگ کر جوبائیڈن نے ووٹ دے دیا

    امریکی صدارتی انتخابات، امریکی صدر جوبائیڈن نے اپنا ووٹ ڈال دیا

    امریکی صدر جو بائیڈن نے آج صدارتی انتخابات کے سلسلے میں "قبل از وقت پولنگ ڈے” کے تحت اپنا ووٹ کاسٹ کر لیا۔ بائیڈن کو ووٹ ڈالنے کے لیے تقریباً 40 منٹ تک قطار میں کھڑا ہونا پڑا،جب جوبائیڈن کی باری آئی تو انہوں نے اپنی شناختی دستاویزات الیکشن ورکر کے حوالے کیں، جس کے بعد الیکشن ورکر نے صدر بائیڈن سے فارم پر دستخط کروائے اور اعلان کیا کہ "جوزف بائیڈن اب ووٹ ڈال رہے ہیں”۔امریکی میڈیا کے مطابق، کورونا وبا کے دوران عوامی ہجوم اور رش سے بچنے کے لیے "قبل از وقت پولنگ ڈے” کی سہولت متعارف کرائی گئی تھی۔ اس سہولت کا مقصد بزرگ شہریوں اور بیمار افراد کو ووٹ ڈالنے میں آسانی فراہم کرنا تھا۔یہ کامیاب تجربہ کورونا کے بعد بھی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کے تحت امریکا کی مختلف ریاستوں میں اب بھی قبل از وقت ووٹ ڈالنے کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ اس موقع پر سابق امریکی صدر جمی کارٹر، جو کہ 100 سال کی عمر کے ہیں، نے بھی اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔

    دوسری جانب امریکی صدر جو بائیڈن نے ٹیسلا کے سی ای او ایلون مسک کی جانب سے ووٹرز کو ڈونیشن دینے کے وعدے پر سخت تنقید کی ہے۔ بائیڈن نے کہا کہ مسک کا یہ اقدام جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے اور اس کا مقصد سیاسی مفاد حاصل کرنا ہے۔بائیڈن نے ایک حالیہ بیان میں کہا، "ایسے اقدام سے عوام کی رائے پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو کہ جمہوری عمل کی بنیادی روح کے خلاف ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ ووٹ ڈالنا ہر شہری کا حق ہے، اور کسی بھی قسم کی مالی ترغیبات کا استعمال اس حق کو مشکوک بنا دیتا ہے۔یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب مسک نے یہ وعدہ کیا کہ وہ ووٹرز کو ان کے ووٹ ڈالنے کی صورت میں مالی مدد فراہم کریں گے، خاص طور پر اگر وہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حق میں ووٹ دیں۔ اس پر مختلف حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے، جس میں کہا جا رہا ہے کہ اس طرح کی پالیسیوں سے جمہوری انتخابات کی شفافیت متاثر ہو سکتی ہے۔بائیڈن نے اپنے حامیوں سے اپیل کی کہ وہ اس طرح کے غیر اخلاقی اقدامات کے خلاف آواز اٹھائیں اور جمہوریت کی حفاظت کے لیے متحد رہیں۔

    غیر ملکی کوچز لگانے کافائدہ کیا ہے؟سابق ٹیسٹ کرکٹر عبدالرؤف کی باغی ٹی وی سے گفتگو

    فخر زمان کو بابر کے حق میں بولنا پڑا مہنگا،بابر اعظم فخر کونکالے جانے پر خاموش کیوں؟

    نئے کھلاڑیوں کو موقع دینے سے نتیجہ جیت کی صورت میں آیا۔محسن نقوی

    جیت کا سارا کریڈٹ پاکستانی عوام کو ملنا چاہیے۔شان مسعود

  • ٹرمپ کسی جرم میں سزا پانے والے پہلے امریکی رہنما ہیں،کاملا ہیرس

    ٹرمپ کسی جرم میں سزا پانے والے پہلے امریکی رہنما ہیں،کاملا ہیرس

    امریکی نائب صدر کاملا ہیرس نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو درندہ صفت اور دھوکے باز شخص سے تشبیہ دی ہے

    کاملا ہیرس کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کسی جرم میں سزا پانے والے پہلے امریکی رہنما ہیں،ڈونلڈ ٹرمپ کی شخصیت کے بارے میں جانتی ہوں، ماضی میں بطور پراسیکیوٹر ہر قسم کے مجرموں کے خلاف کارروائی کی،خواتین کے ساتھ بدسلوکی کرنے والے درندوں کے خلاف بھی کارروائی کی

    دوسری جانب امریکی صدر جوبائیڈن نے اپنے سپورٹرز سے امریکا کی نائب صدر کملاہیرس کی مکمل حمایت کا مطالبہ کردیا،جوبائیڈن کا کہنا تھا کہ وائٹ ہاؤس کی دوڑ سے باہر ہونے کا میرا فیصلہ بالکل درست تھا۔

    امریکی ایوان نمائندگان کی سابق اسپیکر اور ڈیموکریٹک رہنُما نینسی پیلوسی نےکاملا کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے ہوئے کہا کہ وہ صدر جو بائیڈن کی جگہ ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار کے طور پر نائب صدر کملا ہیرس کی انتخابی مہم شروع کرنے کی حمایت کرتی ہیں،آج ہمارے ملک کے مستقبل کے لیے بڑے فخر اور بے پناہ امید کے ساتھ میں نائب صدر کملا ہیرس کی صدر کے امیدوار کے لیے تائید کرتی ہوں، پیلوسی نے بائیڈن کے صدارتی الیکشن کی دوڑ سے دست برداری کے اعلان تک ان کی حمایت میں کلیدی کردار ادا کیا تھا،پیلوسی نے کہا کہ کیلیفورنیا میں ان کے ساتھی ڈیموکریٹ ہیرس کی حمایت کرتے ہیں، ہیرس اس سے قبل کیلیفورنیا کے ریاستی سینیٹر اور ریاستی اٹارنی جنرل کے طور پر خدمات انجام دے چکی ہیں

    واضح رہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنی جگہ کملا ہیرس کی بطور صدارتی امیدوار حمایت کی ہے،کملا ہیرس ڈیمو کریٹس کی صدارتی امیدوار بنیں تو امریکی تاریخ میں پہلی بار سیاہ فام خاتون صدارتی امیدوار ہوں گی،

    واضح رہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے آئندہ انتخابات کےلیے صدارتی دوڑ سے دستبردار ہونے کا اعلان کردیا ہے اور کہا ہے کہ بقیہ مدت بطور صدر اپنے فرائض کی تکمیل پر توجہ دوں گا،میری دستبرداری پارٹی اور ملک کے بہترین مفاد میں ہے.

    حملہ آور نے ٹرمپ پر حملہ سے قبل ڈرون اڑا کر جائزہ لیا تھا

    ٹرمپ پر حملہ،ایران پر الزام لگ گیا،ایران کی تردید

    اوہائیو،ریپبلکن نیشنل کنونشن کے باہر فائرنگ سےچاقو بردار شخص ہلاک

    گولی لگنے سے میرا کان کا حصہ کٹ گیا ،ٹرمپ

    ڈونلڈ ٹرمپ پر قائم مقدمہ عدالت نے کیا خارج

    ٹرمپ سے قبل کن اہم شخصیات پر ہوئے حملے؟

    ہمیشہ سے کہیں زیادہ اب متحد ہونے کی ضرورت ہے،ٹرمپ

    صدر مملکت اور وزیر اعظم کاسابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر انتخابی ریلی کے دوران حملے کی شدید مذمت

    انتخابات نہیں جیت سکتے، جوبائیڈن کو پیغام مل گیا

    امریکی میگزین نے ٹرمپ،جوبائیڈن کی نیم برہنہ تصویر سرورق پر شائع کر دی

  • امریکا کو دوبارہ عظیم بنائیں گے،جوبائیڈن کی دستبرداری کے بعد ٹرمپ کا اعلان

    امریکا کو دوبارہ عظیم بنائیں گے،جوبائیڈن کی دستبرداری کے بعد ٹرمپ کا اعلان

    امریکی صدارتی انتخابات ، جوبائیڈن آؤٹ، نائب صدر کملا ہیرس کی ڈیموکریٹس کا صدارتی امیدوار بننے کی راہ ہموار ہوگئی ہے

    امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنی جگہ کملا ہیرس کی بطور صدارتی امیدوار حمایت کی ہے،کملا ہیرس ڈیمو کریٹس کی صدارتی امیدوار بنیں تو امریکی تاریخ میں پہلی بار سیاہ فام خاتون صدارتی امیدوار ہوں گی،کملا ہیرس کا تعلق کیلی فورنیا سے ہے تاہم اس ریاست میں بھی بعض سینئر ڈیموکریٹ اراکین نہیں چاہتے کہ کملا ہیرس امیدوار بنیں اس لیے ابھی یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اگر کملاہیرس نے 10 فیصد ڈیلی گیٹس یعنی 200 ڈیلی گیٹس کی حمایت حاصل کربھی لی تو وہ 100 فیصد صدارتی امیدوار بن جائیں گی، یہ عین ممکن ہے کہ 19 اگست کو ہونے والے ڈیموکریٹ کنونشن کو اوپن کنونشن ڈکلیئر کرایا جائے تاکہ کوئی اور مضبوط امیدوار بھی میدان میں آسکے،

    دوسری جانب امریکی نائب صدر کاملا ہیرس نے کہا ہے کہ صدارتی امیدوار کے لیے صدر بائیڈن کا توثیق کرنا میرے لیے اعزاز ہے،ڈیموکریٹک پارٹی سے نامزدگی کے حصول اور صدارتی انتخاب جیتنے کے لیے پُرعزم ہوں

    امریکی نائب صدر کاملا ہیرس کے متوقع صدارتی امیدوار ہونے پر ری پبلکن کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی خوشی کا اظہار کیا ہے،ٹرمپ کا کہنا تھا کہ صدارتی انتخاب میں کاملا ہیرس کو ہرانا آسان ہوگا،ٹرمپ نے بائیڈن کو امریکی تاریخ کا واحد بدترین صدر قرار دیا،ٹرمپ کا کہنا تھا کہ جو بائیڈن صدر بننےکی دوڑ میں شامل ہونےکے بالکل اہل نہیں تھے، انہوں نے صرف جھوٹ اور جعلی خبروں کے باعث یہ عہدہ حاصل کیا،ان کے آس پاس موجود لوگ جن میں ان کے ڈاکٹر اور میڈیا کے نمائندے شامل ہیں وہ جانتے تھے کہ بائیڈن صدر بننے کے قابل نہیں ہیں، اب دیکھ لیں کہ بائیڈن ہمارے ملک کو کیا نقصان پہنچا چکے ہیں، لاکھوں لوگ سرحد عبور کرکے بغیر کسی جانچ پڑتال کے ہمارے ملک میں داخل ہو رہے ہیں جن میں بہت سے جیلوں سے نکل کر آئے ہیں تو کوئی مینٹل ہاسپٹل سے آیا ہے اور بہت سے دہشت گرد بھی ہیں، بائیڈن کے صدر بننے کی وجہ سے ہمیں بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا، لیکن ہم اس نقصان کا جلد ازالہ کریں گے اور امریکا کو دوبارہ عظیم بنائیں گے۔

    ڈیموکریٹ پارٹی نے اپنا صدارتی امیدوار جلد از جلد نامزد کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں،ڈیموکریٹ پارٹی نے امریکا بھر میں ڈیلی گیٹس کو ای فارم بھیج دیے،کاملا ہیریس کے لیے کم سے کم 10فیصد ڈیلی گیٹس کی حمایت لینے کی کوشش کی جا رہی ہے،مجموعی ڈیلی گیٹس کا 10فیصد کاملا ہیرس کے حامی ہوئے تو صدارتی امیدوار بنانا نسبتاً آسان ہو گا۔

    واضح رہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے آئندہ انتخابات کےلیے صدارتی دوڑ سے دستبردار ہونے کا اعلان کردیا ہے اور کہا ہے کہ بقیہ مدت بطور صدر اپنے فرائض کی تکمیل پر توجہ دوں گا،میری دستبرداری پارٹی اور ملک کے بہترین مفاد میں ہے.

    حملہ آور نے ٹرمپ پر حملہ سے قبل ڈرون اڑا کر جائزہ لیا تھا

    ٹرمپ پر حملہ،ایران پر الزام لگ گیا،ایران کی تردید

    اوہائیو،ریپبلکن نیشنل کنونشن کے باہر فائرنگ سےچاقو بردار شخص ہلاک

    گولی لگنے سے میرا کان کا حصہ کٹ گیا ،ٹرمپ

    ڈونلڈ ٹرمپ پر قائم مقدمہ عدالت نے کیا خارج

    ٹرمپ سے قبل کن اہم شخصیات پر ہوئے حملے؟

    ہمیشہ سے کہیں زیادہ اب متحد ہونے کی ضرورت ہے،ٹرمپ

    صدر مملکت اور وزیر اعظم کاسابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر انتخابی ریلی کے دوران حملے کی شدید مذمت

    انتخابات نہیں جیت سکتے، جوبائیڈن کو پیغام مل گیا

    امریکی میگزین نے ٹرمپ،جوبائیڈن کی نیم برہنہ تصویر سرورق پر شائع کر دی

    کون کون ممکنہ امیدوار  جو ڈیموکریٹک کی جانب سے بطور صدارتی امیدوار آ سکتے ہیں

    کملا ہیرس
    جو بائیڈن کی جگہ لینے والوں میں سب سے پہلا نام موجودہ نائب صدر کملا ہیرس کا ہے،کملا ہیرس بائیڈن کی وفادار اتحادی ہیں، اگر کملا ہیرس، صدارتی انتخابات لڑکر کامیاب ہو جاتی ہیں تو وہ پہلی خاتون صدر، دوسری سیاہ فام صدر اور پہلی ایشیائی امریکی صدر کے طور پر منتخب ہوکر تاریخ رقم کر دیں گی۔

    گیون نیوزوم
    کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوزوم صدر جو بائیڈن کی جگہ لینے کے لیے ایک مضبوط امیدوار ہیں، گیون نیوزوم قومی سطح پر ڈیموکریٹس کی حمایت اور اینٹی ریپبلکن کے طور پر جانے جاتے ہیں،گیون نیوزوم امریکی سیاست میں کافی متحریک ہیں، لیکن وہ فی الحال بائیڈن کو منتخب کروانے کے لیے مہیم چلا رہے ہیں۔

    گریچین وائٹمر
    مشی گن کی گورنر گریچن وائٹمر بھی صدارتی انتخابات کے لیے اہم امیدوار ہیں، انہوں نے ماضی میں بائیڈن کے لیے مہم چلائی تھی، وہ خواتین کے لیے اہم مسائل پر کھل کر بات کرتی ہیں، اگر وہ منتخب ہوئیں تو وہ پہلی خاتون صدر ہوں گی۔

    جے بی پرٹزکر
    ایلی نوائے کے گورنر جے بی پرٹزکر، پرٹزکر خاندان کے ایک ارب پتی شخص اور امریکی صدارت کے لیے اہم امیدوار ہیں،اسقاط حمل کے حقوق، اسلحہ پر قابو اور چرس کی قانونی حیثیت جیسے اہم مسائل پر مضبوط موقف رکھنے والے جے بی پرٹزکر امریکی صدارتی امیدوار کے لیے مالی اعتبار سے ایک امیر ترین اور ترقی پسند خیال کے حامل انتخاب ہیں تاہم وہ بائیڈن کی انتخابی مہم کے لیے کام کر رہے ہیں۔

    جوش شاپیرو
    پنسلوینیا کے گورنر جوش شاپیرو پنسلوینیا کی سیاست کے میدان میں ایک ابھرتا ہوا ستارہ ہیں اور صدارتی انتخابات کے لیے ایک بہترین امیدوار ہیں

  • حملہ آور نے ٹرمپ پر حملہ سے قبل ڈرون اڑا کر جائزہ لیا تھا

    حملہ آور نے ٹرمپ پر حملہ سے قبل ڈرون اڑا کر جائزہ لیا تھا

    سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر حملے کے بارے میں امریکی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ حملہ آور نے پیلے ڈرون اڑا کر ہدف کا جائزہ لیا تھا

    امریکی میڈیا کے مطابق مقامی ٹیکٹیکل ٹیم کا اہلکارٹرمپ پرحملہ آورکونشانہ بنانے میں ناکام رہا تھا جس کے بعد سیکریٹ سروس کے اہلکار نے ہدف واضح نہ ہونے کے باوجود حملہ آور کو ایک ہی گولی سے ہلاک کر دیا تھا۔14 جولائی کو امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر انتخابی ریلی کے دوران فائرنگ ہوئی تھی جس سے وہ زخمی ہوگئے تھے اور فائرنگ سے ریلی میں شریک ایک شخص بھی ہلاک ہوا تھا،ڈونلڈ ٹرمپ پر فائرنگ کرنے والا 20 سال کا مقامی نوجوان تھا جس کی شناخت تھامس میتھیو کروکس کے نام سے ہوئی جو ریاست پینسلوینیا کا ہی رہائشی تھا۔

    ٹرمپ کے تحفظ میں ناکامی پرسیکرٹ سروس کی ڈائریکٹر ایوان نمائندگا ن میں طلب کر لی گئیں ،کمبرلی چیٹل سوموارکوہاؤس اوورسائٹ کمیٹی میں پیش ہوکربیان ریکارڈکرائیں گی،چیئرمین کمیٹی جیمز کومر کا کہنا ہے کہ ڈونلڈٹرمپ پرحملہ سیکرٹ سروس کی تاریخی ناکامی ہے،ٹرمپ پرحملے کے بعدکمبرلی چیٹل کے استعفے یا ہٹانے کامطالبہ زورپکڑگیا ہے

    ٹرمپ پر حملہ،ایران پر الزام لگ گیا،ایران کی تردید

    اوہائیو،ریپبلکن نیشنل کنونشن کے باہر فائرنگ سےچاقو بردار شخص ہلاک

    گولی لگنے سے میرا کان کا حصہ کٹ گیا ،ٹرمپ

    ڈونلڈ ٹرمپ پر قائم مقدمہ عدالت نے کیا خارج

    ٹرمپ سے قبل کن اہم شخصیات پر ہوئے حملے؟

    ہمیشہ سے کہیں زیادہ اب متحد ہونے کی ضرورت ہے،ٹرمپ

    صدر مملکت اور وزیر اعظم کاسابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر انتخابی ریلی کے دوران حملے کی شدید مذمت

    انتخابات نہیں جیت سکتے، جوبائیڈن کو پیغام مل گیا

    امریکی میگزین نے ٹرمپ،جوبائیڈن کی نیم برہنہ تصویر سرورق پر شائع کر دی

  • جوبائیڈن صدارتی انتخابات سے پیچھےہٹنے پر قائل

    جوبائیڈن صدارتی انتخابات سے پیچھےہٹنے پر قائل

    امریکی صدر جوبائیڈن صدارتی انتخابات میں پیچھے ہٹتے دکھائی دے رہے ہیں، توقع کی جا رہی ہے کہ وہ دستبردار ہو جائیں گے اور انکی جگہ کسی اور کو امیدوار نامزد کیا جائے گا

    خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن صدارتی دوڑ سے باہر ہو سکتے ہیں،جوبائیڈن جلد دستبردار کا اعلان کر دیں گے،جوبائیڈن نائب صدر کملا ہیرس کی اپنے جانشین کے طور پر حمایت نہیں کریں گےتاہم کئی میڈیا رپورٹس میں یہ خبریں آ رہی ہیں کہ ڈیموکریٹک امیدوار نائب صدر کملا ہیرس ہو سکتی ہیں

    سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ حالیہ صدارتی مباحثے میں ڈونلڈ ٹرمپ کو جو بائیڈن پر برتری حاصل ہوئی تھی، اس مباحثے کے بعد امریکی صدر جوبائیڈن کی صحت اور خراب کارکردگی بارے سوال اٹھائے گئے تھے، نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ جوبائیڈن کے قریبی لوگوں کا خیال ہے کہ بائیڈن نے اس خیال کو قبول کرنا شروع کر دیا ہے،اب وہ بھی محسوس کرنے لگے ہیں کہ وہ نومبر میں ہونے والے انتخابات جیتنے کے قابل نہیں ہیں، ڈیموکریٹک پارٹی کے سینئر رہنماؤں کو لگتا ہے کہ بائیڈن اب پیچھے ہٹ جائیں گے

    دو روز قبل سابق امریکی صدر براک اوباما نے بھی کہا تھا کہ اس بار بائیڈن کی جیت کے امکانات بہت کم ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی کہا کہ جمعرات کی رات تک یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ بائیڈن شاید کبھی یہ اعلان نہیں کریں گے کہ وہ الیکشن لڑیں گے، اس کے ساتھ ہی نائب صدر کملا ہیرس نے پارٹی امیدوار بننے کے امکان کے درمیان نائب صدر کے امیدوار کے لیے آپشنز تلاش کرنا شروع کر دیا ہے۔

    امریکی اخبار کے مطابق بظاہر جو بائیڈن اس حقیقت کو تسلیم کررہے ہیں کہ انہیں ممکنہ طور پر اس دوڑ سے دستبردار ہونا پڑے گا، جو بائیڈن 2024 کی امریکی صدارتی دوڑ سے دستبردار ہو جاتے ہیں، تو کون کون ممکنہ امیدوار ہے جو ڈیموکریٹک کی جانب سے بطور صدارتی امیدوار ان کی جگہ لے سکتے ہیں ؟

    کملا ہیرس
    جو بائیڈن کی جگہ لینے والوں میں سب سے پہلا نام موجودہ نائب صدر کملا ہیرس کا ہے،کملا ہیرس بائیڈن کی وفادار اتحادی ہیں، اگر کملا ہیرس، صدارتی انتخابات لڑکر کامیاب ہو جاتی ہیں تو وہ پہلی خاتون صدر، دوسری سیاہ فام صدر اور پہلی ایشیائی امریکی صدر کے طور پر منتخب ہوکر تاریخ رقم کر دیں گی۔

    گیون نیوزوم
    کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوزوم صدر جو بائیڈن کی جگہ لینے کے لیے ایک مضبوط امیدوار ہیں، گیون نیوزوم قومی سطح پر ڈیموکریٹس کی حمایت اور اینٹی ریپبلکن کے طور پر جانے جاتے ہیں،گیون نیوزوم امریکی سیاست میں کافی متحریک ہیں، لیکن وہ فی الحال بائیڈن کو منتخب کروانے کے لیے مہیم چلا رہے ہیں۔

    گریچین وائٹمر
    مشی گن کی گورنر گریچن وائٹمر بھی صدارتی انتخابات کے لیے اہم امیدوار ہیں، انہوں نے ماضی میں بائیڈن کے لیے مہم چلائی تھی، وہ خواتین کے لیے اہم مسائل پر کھل کر بات کرتی ہیں، اگر وہ منتخب ہوئیں تو وہ پہلی خاتون صدر ہوں گی۔

    جے بی پرٹزکر
    ایلی نوائے کے گورنر جے بی پرٹزکر، پرٹزکر خاندان کے ایک ارب پتی شخص اور امریکی صدارت کے لیے اہم امیدوار ہیں،اسقاط حمل کے حقوق، اسلحہ پر قابو اور چرس کی قانونی حیثیت جیسے اہم مسائل پر مضبوط موقف رکھنے والے جے بی پرٹزکر امریکی صدارتی امیدوار کے لیے مالی اعتبار سے ایک امیر ترین اور ترقی پسند خیال کے حامل انتخاب ہیں تاہم وہ بائیڈن کی انتخابی مہم کے لیے کام کر رہے ہیں۔

    جوش شاپیرو
    پنسلوینیا کے گورنر جوش شاپیرو پنسلوینیا کی سیاست کے میدان میں ایک ابھرتا ہوا ستارہ ہیں اور صدارتی انتخابات کے لیے ایک بہترین امیدوار ہیں

    ٹرمپ پر حملہ،ایران پر الزام لگ گیا،ایران کی تردید

    اوہائیو،ریپبلکن نیشنل کنونشن کے باہر فائرنگ سےچاقو بردار شخص ہلاک

    گولی لگنے سے میرا کان کا حصہ کٹ گیا ،ٹرمپ

    ڈونلڈ ٹرمپ پر قائم مقدمہ عدالت نے کیا خارج

    ٹرمپ سے قبل کن اہم شخصیات پر ہوئے حملے؟

    ہمیشہ سے کہیں زیادہ اب متحد ہونے کی ضرورت ہے،ٹرمپ

    صدر مملکت اور وزیر اعظم کاسابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر انتخابی ریلی کے دوران حملے کی شدید مذمت

    انتخابات نہیں جیت سکتے، جوبائیڈن کو پیغام مل گیا

    امریکی میگزین نے ٹرمپ،جوبائیڈن کی نیم برہنہ تصویر سرورق پر شائع کر دی

  • امریکی میگزین نے ٹرمپ،جوبائیڈن کی نیم برہنہ تصویر سرورق پر شائع کر دی

    امریکی میگزین نے ٹرمپ،جوبائیڈن کی نیم برہنہ تصویر سرورق پر شائع کر دی

    امریکی میگزین نے اپنے سرورق پر سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور موجودہ صدر جوبائیڈن کی نیم برہنہ تصویر شائع کر دی

    امریکی میگزین نیویارک نے صحت سے متعلق میگزین کے سر ورق پر دونوں صدور کی نیم برہنہ تصویر شائع کی جو جعلی ہے اور کمپیوٹر کی مدد سے بنائی گئی ہے، میڈیا رپورٹس کے مطابق دونوں صدور کی نیم برہنہ تصویر شائع کرنے کا مقصد دونوں کی صحت کا موازنہ کرنا ہے تا ہم اسے شہریوں نے غیر اخلاقی و غیرقانونی قرار دے دیا،شہری بڑی تعداد میں میگزین پر تنقید کر رہے ہیں،امریکی میگزین نے دعویٰ کیا کہ یہ تصویر دونوں امیدواروں کی صحت اور عمر کے بارے ہے،ہ یہ ایک ایسا موضوع ہے جس میں عوام کی دلچسپی بڑھ رہی ہے

    ٹرمپ پر حملہ،ایران پر الزام لگ گیا،ایران کی تردید

    اوہائیو،ریپبلکن نیشنل کنونشن کے باہر فائرنگ سےچاقو بردار شخص ہلاک

    گولی لگنے سے میرا کان کا حصہ کٹ گیا ،ٹرمپ

    ڈونلڈ ٹرمپ پر قائم مقدمہ عدالت نے کیا خارج

    ٹرمپ سے قبل کن اہم شخصیات پر ہوئے حملے؟

    ہمیشہ سے کہیں زیادہ اب متحد ہونے کی ضرورت ہے،ٹرمپ

    صدر مملکت اور وزیر اعظم کاسابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر انتخابی ریلی کے دوران حملے کی شدید مذمت

    انتخابات نہیں جیت سکتے، جوبائیڈن کو پیغام مل گیا

    trump

  • انتخابات نہیں جیت سکتے، جوبائیڈن کو پیغام مل گیا

    انتخابات نہیں جیت سکتے، جوبائیڈن کو پیغام مل گیا

    امریکہ کے صدارتی انتخابات میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور جوبائیڈن کے مابین مقابلہ ہونا ہے، اب تک کے پولز کے مطابق جوبائیڈن ہار رہے ہیں، ٹرمپ پر حملے کے بعد سے ٹرمپ کی حمایت میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے

    ایسے میں امریکی ایوانِ نمائندگان کی سابق اسپیکر نینسی پیلوسی کی صدر جوبائیڈن سے فون کال پر مبینہ گفتگو کی تفصیلات سامنے آئی ہے،امریکی میڈیا کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ نینسی پلوسی نے امریکی صدر جوبائیڈن سے کال پرحال ہی میں گفتگو کی ہے جس میں پیلوسی نےجو بائیڈن کو کہا کہ پولز سے پتا چلتا ہے کہ وہ جیت نہیں سکتے،پولز میں ان کی شکست دکھائی دے رہی ہے، پولز کے مطابق بائیڈن ٹرمپ کو نہیں ہرا سکتے، بائیڈن کا انتخاب لڑنا ڈیموکریٹس کی جیت کے امکان کو نقصان پہنچا سکتا ہے

    نینسی پیلوسی کی گفتگو کے ردعمل میں امریکی صدر جو بائیڈن نے پولز سے متعلق دفاعی انداز اختیار کیا اور ردعمل میں کہا کہ ان کے پاس ایسے پولز ہیں جو کامیابی کا بتاتے ہیں

    دوسری جانب نینسی پیلوسی نے گزشتہ ہفتے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ صدربائیڈن پر منحصر ہے کہ وہ فیصلہ کریں کہ وہ انتخاب لڑیں گے یا نہیں، ہم سب صدر کو فیصلہ کرنے کی ترغیب دے رہے ہیں کیونکہ وقت کم ہوتا جا رہا ہے۔

    وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے حالیہ پیلوسی بائیڈن کال پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ صدر بائیڈن پارٹی کے امیدوار ہیں، وہ جیتنے کا ارادہ رکھتے ہیں،نینسی پیلوسی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ سابق اسپیکر جمعہ سے کیلیفورنیا میں ہیں اور انہوں نے بائیڈن سے بات نہیں کی۔

    دوسری جانب امریکی صدر جو بائیڈن صدارتی دوڑ سے دستبردار ہونے کیلئے تیار ہو گئے ہیں،گزشتہ 24 گھنٹوں میں نینسی پیلوسی سمیت کانگرس کے تین اعلی ڈیموکریٹس نے جوبائیڈن سے ملاقات کی ،اور کہا کہ اب جانے کا وقت ہے کسی اور کو موقع دیں،خبر رساں ادارے ڈیل میل کی رپورٹ کے مطابق پچھلے 24 گھنٹوں کے دوران ، کانگریس کے تین اعلی ڈیموکریٹس کے ساتھ نجی بات چیت کا انکشاف ہوا ہے ،ان سب نے مبینہ طور پر بائیڈن کو ایک ہی مشورہ دیا کہ وہ جیت نہیں سکتے،سی این این کے مطابق سینیٹ کے اکثریتی رہنما چک شومر نے بائیڈن کے ساتھ نجی ملاقات کے لئے گذشتہ ہفتے کے آخر میں ریہوبوتھ کا سفر کیا اور صدرجوبائیڈن کو استعفیٰ دینے کو کہا، ہاؤس اقلیتی رہنما حکیم جیفریز نے بائیڈن کو ویسا ہی پیغام دیا جیسا کہ شومر نے گزشتہ ہفتے ملاقات کے وقت دیا تھا،اس ہفتے ایک انٹرویو میں بائیڈن نے کہا تھا کہ وہ صرف اس صورت میں دستبردار ہوں گے جب ڈاکٹرانہیں اس طرح کا مشورہ دیں گے.

    ٹرمپ پر حملہ،ایران پر الزام لگ گیا،ایران کی تردید

    اوہائیو،ریپبلکن نیشنل کنونشن کے باہر فائرنگ سےچاقو بردار شخص ہلاک

    گولی لگنے سے میرا کان کا حصہ کٹ گیا ،ٹرمپ

    ڈونلڈ ٹرمپ پر قائم مقدمہ عدالت نے کیا خارج

    ٹرمپ سے قبل کن اہم شخصیات پر ہوئے حملے؟

    ہمیشہ سے کہیں زیادہ اب متحد ہونے کی ضرورت ہے،ٹرمپ

    صدر مملکت اور وزیر اعظم کاسابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر انتخابی ریلی کے دوران حملے کی شدید مذمت