Baaghi TV

Tag: جوبائیڈن

  • امریکی صدر جوبائیڈن کرونا میں مبتلا

    امریکی صدر جوبائیڈن کرونا میں مبتلا

    امریکی صدر جوبائیڈن کو کرونا ہو گیا، جس کے بعد جوبائیڈن نے انتخابی سرگرمیاں روک دی ہیں

    وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ امریکی صدر جوبائیڈن کو کورونا کی معمولی علامات ہیں، انہیں ویکسین لگادی گئی ہے،جوبائیڈن نے قرنطینہ کرلیا ہے ،جوبائیڈن دفتری امور انجام دیتے رہیں گے ،جوبائیڈن کو آج نیواڈا میں ریلی سے خطاب کرنا تھا تاہم کرونا کی وجہ سے وہ اب انتخابی ریلی سے خطاب نہیں کر سکیں گے

    جوبائیڈن کو کورونا کی علامات کی خبریں ایسے وقت منظرعام پر آئیں جب ایوان نمائندگان کے 20 ڈیموکریٹ اراکین اور ایک سینیٹر اب تک بائیڈن سے کہہ چکے ہیں کہ وہ دوبارہ صدارت کے امیدوار بننے سے دستبردار ہوں،جوبائیڈن نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اگر ڈاکٹروں نے طبی بنیاد پر تجویز کیا تھا تو وہ دوبارہ صدارت کی دوڑ سے دستبردار ہوجائیں گے،تاہم ساتھ ہی بائیڈن نے دوبارہ صدارتی امیدوار بننے کی خواہش کے حق میں دلائل دیے اور کہا تھا کہ وہ تو خود چاہتے تھے کہ عبوری امیدوار بنیں اور پھر یہ عہدہ کسی اور کے سپرد کردیں مگر انہوں نے تصور بھی نہیں کیا تھا کہ معاملات اس قدر تفریق کا شکار ہوجائیں گے

    امریکی صدر جوبائیڈن نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ میں بیمار ہوگیا ہوں۔

    ٹرمپ پر حملہ،ایران پر الزام لگ گیا،ایران کی تردید

    اوہائیو،ریپبلکن نیشنل کنونشن کے باہر فائرنگ سےچاقو بردار شخص ہلاک

    گولی لگنے سے میرا کان کا حصہ کٹ گیا ،ٹرمپ

    ڈونلڈ ٹرمپ پر قائم مقدمہ عدالت نے کیا خارج

    ٹرمپ سے قبل کن اہم شخصیات پر ہوئے حملے؟

    ہمیشہ سے کہیں زیادہ اب متحد ہونے کی ضرورت ہے،ٹرمپ

    صدر مملکت اور وزیر اعظم کاسابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر انتخابی ریلی کے دوران حملے کی شدید مذمت

    چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے ا مریکی صدر جو بائیڈن کے لیے جلد اور مکمل صحت یابی کے لئے دعا اور نیک تمناوں کا اظہارکیا اور کہا کہ ہماری دعائیں اس مشکل وقت میں صدر بائیڈن اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ امریکی صدر بائیڈن جلد صحت یا ب ہو کربھرپور اندازمیں قیادت اور امریکی عوام کی خدمت کرتے رہیں گے ۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن جلد ازجلد صحت یاب ہوں

    صدر مملکت آصف علی زرداری نے امریکی صدر جوزف بائیڈن کی کورونا سے جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہارکیا, صدر آصف زرداری نے صدر بائیڈن کی صحت اور تندرستی کے لیے اپنی نیک تمناؤں کا اظہار کیا.

  • ٹرمپ سے قبل کن اہم شخصیات پر ہوئے حملے؟

    ٹرمپ سے قبل کن اہم شخصیات پر ہوئے حملے؟

    سابق امریکی صدر، امریکی صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ پر گزشتہ روز ایک ریلی کے دوران حملہ ہوا،ٹرمپ کے کان کو گولی چھو کر گزری، ٹرمپ محفوظ رہے تاہم حملہ آور کو موقع پر ہی مار دیا گیا،حملے کے بعد بھی ٹرمپ کی انتخابی مہم جاری ہے،ٹرمپ پر حملے کے بعد عالمی رہنماؤں کی سیکورٹی پر سوال اٹھ گئے ہیں،

    ٹرمپ پہلے رہنما نہیں جن پر اس طرح کا حملہ ہوا، ماضی میں بھی کئی اہم شخصیات پر حملے ہو چکے ہیں،پاکستان کی خاتون وزیراعظم بینظیر بھٹو پر لیاقت باغ میں جلسے کے بعد حملہ ہوا تھا جس میں بینظیر شہید ہو گئی تھیں،اسکے علاوہ دنیا کے مختلف ممالک میں کئی رہنماؤں پر حملے ہوئے ہیں، ان میں سے چند درج ذیل ہیں.

    سلوواکیہ کے وزیر اعظم رابرٹ فیکو (15 مئی 2024)
    رواں برس مئی کے مہینے میں سلواکیہ کے وزیراعظم رابرٹ فیکو پر بھی حملہ کیا گیا تھا، سلوواکیہ کے وزیراعظم پر فائرنگ کی گئی تھی جس سے وہ زخمی ہو گئے تھے، حملہ اس وقت کیا گیا تھا جب رابرٹ فیکو ایک اجلاس کے بعد شرکاء سے مخاطب تھے، رابرٹ فیکو کو گولیاں‌لگنے کے بعد زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا تھا ،انکا علاج جاری ہے اور حالت بہتر ہے.

    جاپان کے سابق وزیر اعظم شنزو آبے (جولائی 2022)
    جولائی 2022 میں جاپان کے وزیراعظم شنزو آبے پر بھی حملہ کیا گیا تھا، ان پر فائرنگ اس وقت کی گئی تھی جب وہ نارا شہر میں ایک ریلی کی قیادت کر رہے تھے، جاپانی وزیراعظم پر حملہ کرنے والے حملہ آور نے دو گولیاں فائر کی تھیں، جن میں سے ایک گولی انکی گردن میں لگی تھی.

     عمران خان (3 نومبر 2022)
    پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان پر بھی پنجاب کے شہر وزیرآباد میں جلسے کے دوران حملہ ہوا تھا، حملہ آور نے گولیاں چلائیں جس کے بعد بھگدڑ مچ گئی تھی، مبینہ طور پر عمران خان کی ٹانگ میں گولی لگی تو ہم عمران خان طبی امداد کے لئے سرکاری ہسپتال جانے کی بجائے شوکت خانم چلے گئے، عمران خان عدالتوں میں وہیل چیئر پر پیش ہوتے رہے ہیں تا ہم جب نومئی کو اسلام آباد سے عمران خان کو گرفتار کیا گیا تھا اس وقت عمران خان کے دوڑنے سے ایسے لگ رہا تھا جیسے انہیں کچھ نہیں ہوا،اور وہ بالکل تندرست ہیں،

    بے نظیر بھٹو، (27 دسمبر 2007)
    پاکستان کی پہلی خاتون وزیراعظم، بھٹو کی بیٹی، بینظیر بھٹو پر بھی قاتلانہ حملہ ہوا تھا، کراچی میں ریلی کے دوران کارساز پر حملہ ہوا جس میں وہ محفوظ رہیں تا ہم اسکے بعد دسمبر 2007 میں راولپنڈی کے لیاقت باغ میں جلسے کے بعد حملہ ہوا جس میں بینظیر شہید ہو گئیں،یہ حملہ بہت قریب سے کیا گیا تھا،بینظیر شرکاء کے نعروں کا جواب دینے گاڑی سے باہر نکلیں ، جونہی انہوں نے سر گاڑی سے باہر نکالاحملہ آور نے انکو نشانہ بنایا،

    ہیتی کے صدر جوونیل موئز (جولائی 2021)
    ہیتی کے صدر جوونیل موئز پر بھی قاتلانہ حملہ جولائی 2021 میں کیا گیا تھا، ان پر اس وقت حملہ کیا گیا جب وہ اپنی رہائشگاہ پر آرام کر رہے تھے، ہیتی کے صدر جوونیل موئز کو کرائے کے فوجیوں نے قتل کیا تھا، 28 ملزمان حملہ آوروں میں شامل تھے،بعد ازاں تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی کہ ہیتی کے صدر جوونیل موئز پر حملہ کسی اور نے نہیں بلکہ انکی بیوی نے کروایا تھا،

    بھارت کی سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی (31 اکتوبر 1984)
    بھارت کی سابق وزیراعظم اندرا گاندھی پر بھی قاتلانہ حملہ ہوا تھا، 1984 میں اندرا گاندھی کو کسی اور نے نہیں بلکہ انکے ذاتی محافظوں نے ہی گولیاں چلا کر قتل کر دیا تھا، تحقیقات ہوئیں تو سامنے آیا کہ حملہ آور آپریشن بلیو سٹار سے بہت ناراض تھے۔

    تحریک انصاف پر جلد پابندی لگنے والی ہے؟

    فیصلے سے ثابت ہوا کہ لاڈلہ ازم آج تک برقرار ہے ، شرجیل انعام میمن

    سپریم کورٹ فیصلے کے بعد پی ٹی آئی کا چیف الیکشن کمشنر کیخلاف کاروائی کا مطالبہ

    مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کا فیصلہ،ملک ایک اور آئینی بحران سے دوچار

    حکومت کو کوئی خطرہ نہیں،معاملہ تشریح سے آگے نکل گیا،وفاقی وزیر قانون

    سپریم کورٹ کا فیصلہ، سیاسی جماعتوں کا ردعمل،پی ٹی آئی خوش،حکومتی اتحاد پریشان

  • ٹرمپ،جوبائیڈن میں پہلا مباحثہ،ہاتھ تک نہ ملایا، ایک دوسرے پر الزامات

    ٹرمپ،جوبائیڈن میں پہلا مباحثہ،ہاتھ تک نہ ملایا، ایک دوسرے پر الزامات

    امریکی صدارتی امیدواروں ڈونلڈ ٹرمپ اور جوبائیڈن کے مابین پہلا مباحثہ ہوا ہے

    امریکی انتخابا ت میں ڈیموکریٹک پارٹی کے میدوار اور امریکی صدر جو بائیڈن اور ری پبلکن پارٹی کے امیدوار سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہیں، دونوں کے مابین پہلا صدارتی مباحثہ اٹلانٹا میں ہوا،سابق و امریکی صدر دونوں مباحثے میں آئے شریک ہوئے تاہم دونوں نے ایک دوسرے سے ہاتھ نہیں ملایا، دوران مباحثہ ایک دوسرے پر سخت الزامات لگائے گئے اور تلخ جملوں کا بھی تبادلہ ہوا،ٹرمپ اور جوبائیڈن نے حماس اسرائیل جنگ پر ایک دوسرے کو ذمہ دار قرار دیا وہیں مہنگائی پر دونوں ایک دوسرے کے ذمہ دار قرار دیتے رہے،

    پہلے مباحثے میں امیدواروں ڈونلڈ ٹرمپ اور جو بائیڈن کی عمر اہم موضوع رہی،میزبان نے امیدواروں سے عمر سے متعلق سوال کیا تو ٹرمپ نے کہا کہ میں آج بھی خود کو 20 سال پہلے جیسا فٹ محسوس کر رہا ہوں،جوبائیڈن نے جواب دیا کہ میں بھرپور توانا ہوں اور میری صحت پر عمر کے کوئی زیادہ اثرات نہیں ہیں،مباحثے میں دونوں دوسری، دوسری مرتبہ امریکی صدر بننے کے لیے اپنی اپنی پالیسیاں اور ترجیحات بیان کیں،نئے قواعد کے تحت پہلی بار صدارتی مباحثے میں حاضرین نے شرکت نہیں کی۔

    صدارتی مباحثے کا آغاز ہوا تو امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا کہ جب میں نے صدارت سنبھالی تو معیشت بہت خراب تھی اس بات کو یقینی بناؤں گا کہ ملازمتوں میں اضافہ ہو، گھروں کی خریداری آسان ہو سکے، ٹرمپ واحد صدر تھے جن کے دور میں ملازمتوں میں کمی ہوئی ٹرمپ کے ٹیکس چھوٹ سے صرف امیروں کو فائدہ پہنچا ہے، اسقاطِ حمل کے معاملے میں ٹرمپ نے جو کیا وہ بہت غلط تھا، اسقاطِ حمل کے معاملے کو ریاستوں کے حوالے کرنا ایسا ہی ہے جیسے سول راٹس کو ریاستوں کے حوالے کرنا، سیاستدانوں کے پاس اسقاطِ حمل کا فیصلہ نہیں ہونا چاہیے، ہم نے امیگریشن کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے ایسا قانون بنایا جس سے تارکین وطن کی تعداد میں 40 فیصد کمی ہوئی، اور کوئی گھر ٹوٹا نہیں، ہم نے یوکرین کو امدادی رقم اُن ہتھیاروں کی شکل میں دی جو ہم خود بناتے ہیں، غزہ میں جنگ بندی کے ہمارے منصوبے کو عالمی حمایت حاصل ہے، ہم حماس کو اسامہ بن لادن کی طرح ختم کر دیں گے،امریکا اسرائیل کی امداد کرنے والا سب سے بڑ املک ہے، ہم یہ سلسلہ جاری رکھیں گے، ٹرمپ وہ شخص ہے جو نیٹو سے نکلنا چاہتا ہے،میرے سامنے اس وقت واحد مجرم ٹرمپ ہے جسے عدالت سے سزا ہو چکی ہے،ٹرمپ کو ووٹ امریکی جمہوریت کے خلاف ووٹ ہوگا،کیا وجہ ہے کہ ٹرمپ کے ٹاپ 44 سابقہ ساتھیوں نے اس مرتبہ اُن کی حمایت نہیں کی۔

    مدمقابل صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ میرے دور میں معیشت کی جو حالت تھی اُس کی دنیا نے تعریف کی، ہم نے جس طرح کوویڈ کو سنبھالا ہمیں اُس کا کریڈٹ نہیں دیا گیا، امر یکا آنے والے ہزاروں تارکین وطن سے سوشل سیکورٹی کا نظام برباد ہو جائے گا، میں بھی افغانستان سے انخلاء کر رہا تھا، لیکن جس طرح بائیڈن نے کیا وہ امریکی تاریخ کا شرمندہ ترین واقعہ تھا،کمپنیوں اور امیروں کو ٹیکس چھوٹ دینے سے مزید نوکریاں پیدا ہوں گی، اور اُس کا فائدہ نچلے طبقے تک جائے گا، بائیڈن کے زیرِ صدارت امریکا کو دنیا میں کوئی سنجیدگی سے نہیں لیتا، ہم تیسری دنیا کا ملک بن گئے ہیں، میں نے اسقاطِ حمل کے معاملے میں جو کیا، اُس کا ہر سطح سے مطالبہ تھا،میرے دور میں امریکی سرحدیں تاریخ میں سب سے محفوظ تھیں، کسی نے امریکی فوجیوں کا اتنا خیال نہیں رکھا جتنا میں نے رکھا،بائیڈن کے دور میں سب سے زیادہ جرائم پیشہ افراد اور دہشت گرد امریکا میں داخل ہوئے،ہمارے ریٹائرڈ فوجی سڑکوں پر رہ رہے ہیں جبکہ غیر قانونی تارکین وطن لگژری ہوٹلز میں رہ رہے ہیں،سابق امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر آج امریکا میں ایسا صدر ہوتا جس کی دنیا میں عزت ہوتی، تو روسی صدر پیوٹن کبھی یوکرین پر حملہ نہ کرتا،اگر میں صدر ہوتا تو حماس کبھی بھی اسرائیل پر حملہ نہ کرتی ،ٹرمپ کا کہنا تھا کہ 6 جنوری میں نے اسپیکر نینسی پیلوسی کو 10 ہزار گارڈز کی پیشکش کی تھی،انہوں نے منع کر دیا تھا، نینسی پیلوسی 6 جنوری کی ہنگامہ آرائی کی ذمہ داری قبول چکی ہیں، تو میں کیسے ذمہ دار ہو گیا، وہ 6 جنوری کے مجرموں کی سزائیں ختم کر دیں گے، ڈیموکریٹس نے 6 جنوری کے حوالے سے تمام معلومات ضائع کردیں، اس لیے مجھ پر الزام لگا، بائیڈن کے اپنے بیٹے کو سزا ہو چکی ہے، کل کو بائیڈن کو سزا ہو سکتی ہے،اگر بائیڈن صدر منتخب ہوئے تو امریکا ہی باقی نہیں بچے گا۔

  • اسرائیل ایران پر کسی بھی جوابی کارروائی سے پہلے ہمیں بتائے،امریکا

    اسرائیل ایران پر کسی بھی جوابی کارروائی سے پہلے ہمیں بتائے،امریکا

    واشنگٹن: امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو واضح کر دیا ہے کہ امریکا ایران پر جارحانہ آپریشن میں حصہ نہیں لے گا۔

    باغی ٹی وی : امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نےاسرائیل پر ایران کے حملےکی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ تناؤ میں اضافہ نہیں چاہتے، اسرائیل کے دفاع کی سپورٹ اور خطے میں اتحادیوں اور شراکت داروں سے مشاورت جاری رکھیں گےاسرائیل پر ایرانی حملے کے بعد امریکی وزیر دفاع لائیڈآسٹن نے اسرائیلی ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ کر کے کہا اسرائیل ایران پر کسی بھی جوابی کارروائی سے پہلے ہمیں بتائے۔

    ایران کی طرف سے اسرائیل پر داغے جانے والے میزائل اور ڈرونز عراق اور شام کی فضائی حدود میں مار گرانے میں امریکا اور برطانیہ نے بھرپور کردار ادا کیا،ساتھ ہی ساتھ اردن کی فضائیہ نے بھی درجنوں ایرانی میزائل مار گرائے۔

    امریکا کہنا ہے کہ اسرائیل کی سلامتی یقینی بنانے کردار ادا کرنا امریکی کمٹمنٹ کا حصہ ہے، برطانیہ کی رائل ایئر فورس نے بھی اسرائیلی سلامتی یقینی بنانے کے لیے اپنے حصۓ کا کردار ادا کیا امریکی صدر جو بائیڈن نے بتایا ہے کہ امریکا نے ایرانی حملے سے پہلے ہی اچھا خاصا بلڈ اپ کردیا تھا کمک بروقت پہنچائے جانے سے ایرانی حملہ ناکام بنانے میں کلیدی مدد ملی۔

    امریکی صدر جو بائیڈن نے اِسی ہفتے امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل ایرک کُریلا کو اسرائیل بھیجا تھا تاکہ وہ اسرائیلی جرنیلوں کے ساتھ مل کر ممکنہ ایرانی حملے سے موثر دفاع کی جامع اور کارگر حکمتِ عملی تیار کریں۔

    برطانوی اخبار گارڈین نے ایک رپورٹ میں بتایا کہ خطے کی تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتِ حال کے پیشِ نظر چند ہفتوں کے دوران امریکی فوج نے میزائل شکن میکینزم خطے میں پہنچادیا تھا۔ اس حوالے سے فیصلے بروقت کیے گئے اور یوں اسرائیل کا تحفظ یقینی بنانے میں فیصلہ کن مدد ملی ایران کی طرف سے اسرائیل پر داغے جانے والے میزائلوں کو اردن کی فضا میں مار گرانے کے حوالے سے اردنی فضائیہ نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ اردنی فضائیہ نے دریائے اردن کے مشرقی کنارے پر اور عراق و شام کی سرحد سے ملحق علاقے میں ایرانی میزائل مار گرائے۔

    گارڈین مطابق اب امریکی حکام اس امر کے لیے کوشاں ہیں کہ اسرائیل کو ایران کے خلاف کچھ بھی ایسا کرنے سے باز رکھا جائے جس کے نتیجے میں کسی علاقائی جنگ کے چھڑنے کا اندیشہ ہو اسرائیل کو کنٹرول کرنے کا مدار اس بات پر ہوگا کہ ایرانی حملے میں اسرائیل کا کتنا جانی و مالی نقصان ہوا ہے۔

    دوسری جانب وائٹ ہاؤس سے جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ اسرائیل کے دفاع کے لیے امریکی فوج نے پچھلے ہفتے ہوائی جہاز اور بیلسٹک میزائل ڈیفنس ڈسٹرائرز کو خطے میں منتقل کیا تھا جن کے ذریعے اسرائیل کی طرف آنے والے ڈرونز اور میزائلز گرانے میں مدد ملی۔

    ادھر سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر وہ امریکا کے صدر ہوتے تو اسرائیل پر ایران کبھی حملہ نہ کرتا، اسرائیل پر حملہ اس لیے ہوا کیونکہ موجودہ حکومت نے بڑی کمزوری کا مظاہرہ کیا۔

    اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے داغےگئے 99 فیصد ڈرون اور میزائلوں کو تباہ کردیاگیا اسرائیلی وزیر دفاع کے مطابق ایران نے 300سے زائد پروجیکٹائل اسرائیل کی طرف داغے، بیلسٹک میزائلوں کی معمولی تعداد اسرائیلی سرزمین تک پہنچ سکی۔

    واضح رہے کہ ایران نے اسرائیل پر ڈرون اور کروز میزائلز فائر کیے، ایرانی پاسدران انقلاب نے اسرائیل پر حملے کی باضابطہ تصدیق کی جبکہ اسرائیلی فوج نے بھی تسلیم کیا کہ ایران کے فائر کردہ کچھ میزائل اسرائیل میں گرے، ایران نے اسرائیلی دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے، گولان کی پہاڑیوں اور شام کے قریب اسرائیلی فوجی ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

  • امریکہ پاکستان کے ساتھ کھڑا رہے گا،امریکی صدر کا شہباز شریف کو خط

    امریکہ پاکستان کے ساتھ کھڑا رہے گا،امریکی صدر کا شہباز شریف کو خط

    وزیر اعظم شہباز شریف کو امریکی صدر جو بائیڈن کا خط موصول ہوا ہے

    امریکی صدر جوبائیڈن نے پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کو خط لکھ دیا ہے، خط میں امریکی صدر جوبائیڈن کا کہنا تھا کہ اہم چیلنجز کا سامنا کرنے میں امریکہ پاکستان کے ساتھ کھڑا رہے گا، دونوں ممالک کے عوام میں شراکت داری دنیا اور ہمارے عوام کی سلامتی یقینی بنانے میں اہم ہے، امریکہ پاکستان کے ساتھ کھڑا رہے گا،

    امریکی صدر جو بائیڈن نے وزیراعظم شہباز شریف کو خط میں وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد دی اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا،امریکی صدر نےوزیراعظم شہبازشریف کو معاشی،صحت،تعلیم کے شعبوں میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی اورپاک امریکہ اتحاد کو مزید مضبوط کرنے کا عزم کیا.

    وزیراعظم شہباز شریف کے منصب سنبھالنے کے بعد امریکی صدر کا یہ پہلا خط ہے،امریکی صدر جوبائیڈن کا خط میں کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے عوام کے درمیان شراکت داری دنیا اور ہمارے عوام کی سلامتی یقینی بنانے میں نہایت اہم ہے ،دنیا اور خطے کو درپیش وقت کے اہم ترین چیلنجز کا سامنا کرنے میں امریکہ پاکستان کے ساتھ کھڑا رہے گا ،صحت عامہ کا تحفظ، معاشی ترقی اور سب کے لئے تعلیم مشترکہ وژن ہے جسے مل کر فروغ دیتے رہیں گے امریکہ پاکستان گرین الائنس فریم ورک سے ماحولیاتی بہتری کے لئے ہم اپنے اتحاد کو مزید مضبوط کریں گے، پائیدار زرعی ترقی، آبی انتظام اور 2022 کے سیلاب کے تباہ کن اثرات سے بحالی میں پاکستان کی معاونت جاری رکھیں گے،پاکستان کے ساتھ مل کرانسانی حقوق کے تحفظ اور ترقی کے فروغ کے لئے پرعزم ہیں، دونوں اقوام کے درمیان استوارمضبوط پارٹنرشپ کو تقویت دیں گے ، دونوں ممالک کے عوام کے درمیان استوار قریبی رشتے مزید مضبوط بنائیں گے.

    چین کا پاکستان سے دہشت گردانہ حملے کی جلد از جلد جامع تحقیقات کا مطالبہ

    بشام واقعہ تحقیقات کیلئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنانے پر اتفاق ہوا،عطا تارڑ

    امریکہ نے پاکستان میں چینی شہریوں پر حملے کی شدید مذمت کی ہے

    وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی شانگلہ میں دھماکے کے فوری بعد چینی سفارت خانے پہنچ گئے،

    چین نے شانگلہ میں گاڑی پر حملے میں اپنے باشندوں کی ہلاکت پر مکمل تحقیقات کا مطالبہ کردیا۔

    پاک فوج نے بشام میں چینی شہریوں سمیت 6 بے گناہ افراد کی ہلاکت کی مذمت کی 

    شانگلہ میں گاڑی پر خودکش حملہ، 5 چینی باشندوں سمیت 6 افراد ہلاک

  • غزہ جنگ:جوبائیڈن  کی اسرائیلی وزیراعظم  پر کھلے مائیک پر تنقید

    غزہ جنگ:جوبائیڈن کی اسرائیلی وزیراعظم پر کھلے مائیک پر تنقید

    واشنگٹن: غزہ کی صورتحال پر امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو بے دھیانی میں کھلے مائیک پر تنقید کا نشانہ بنا ڈالا۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق جمعہ کو امریکی صدر بائیڈن نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے بارے میں کہا کہ انہوں نے اسرائیلی رہنما سے کہا ہے کہ انہیں دو ٹوک بات چیت کی ضرورت ہوگی۔

    بائیڈن نے نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ انہیں تشویش ہے کہ اگر غزہ میں جنگ بندی نہ ہوئی تو مشرقی یروشلم میں کشیدگی اور تشدد بڑھے گا۔

    انہوں نے یہ بات غزہ کے لئے اشد ضروری امداد کے حوالے سے کہی اور اس کیلئے ’Come to Jesus Meeting‘ کا ایکسپریشن استعمال کیا، جس کا امریکہ میں عام طور پر مطلب ہے ”آؤ آمنے سامنے دو ٹوک بات کریں، امریکی صدر نے غزہ کی موجودہ صورتحال اور غذائی امدام کی فراہمی پر یہ بیان دیا۔

    بائیڈن کے تبصرے اس وقت سامنے آئے جب وہ جمعرات کی رات کے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب کے بعد ہاؤس کے فلور پر ڈیموکریٹ سینیٹر مائیکل بینیٹ، ے بات کر رہے تھے، مائیکل بینیٹ نے بائیڈن کو ان کی تقریر پر مبارکباد دی اور صدر پر زور دیا کہ وہ غزہ میں بڑھتے ہوئے انسانی خدشات کے بارے میں نیتن یاہو پر دباؤ ڈالتے رہیں۔

    جس پر صدربائیڈن نے نیتن یاہو کی عرفیت (بی بی) استعمال کرتے ہوئے جواب دیا کہ میں نے ان سے کہا کہ بی بی، یہ بات دہرائیں نہیں، لیکن آپ کو اور مجھے دوٹوک گفتگو کی ضرورت ہے،اس وقت قریب ہی کھڑے صدر کے ایک معاون نے خاموشی سے صدر کے کان میں سرگوشی کی، بظاہر وہ بائیڈن کو متنبہ کر رہے تھے کہ اس وقت مائیکروفون آن ہیں، بائیڈن الرٹ ہونے کے بعد کہتے ہیں ’میں یہاں ایک کھلےمائیک پر ہوں،‘ ’اچھا، یہ اچھی بات ہے۔

    جبکہ ایک اور کلپ میں امریکی صدر کو دیکھا جا سکتا ہے، جہاں میڈیا نے سوال کیا کہ کیا رمضان میں سیز فائر ہو سکتا ہے؟ اس پر امریکی صدر کا کہنا تھا کہ یہ مشکل لگتا ہے۔

    غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق کولوراڈو ڈیموکریٹک سینیٹر مائیکل بینیٹ امریکی صدر کو یہ کہتے دکھائی دئیے کہ اسرائیل پر غزہ میں غذائی امداد فراہم کرنے کی اجازت پر دباؤ دینے کی ضرورت ہے،جبکہ امریکہ ہوائی جہاز کے ذریعے غزہ میں امداد فراہم کر رہا ہے، تاہم زمینی راستوں میں سست روی کے باعث میری ٹائم ڈیلیوریز کے ذریعے امداد کی عارضی فراہمی کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔

    دوسری جانب حماس نے کہا ہے کہ وہ غزہ میں جنگ بندی کے اپنے مطالبات سے دستبردار نہیں ہو گی، حماس غزہ میں اسرائیلی فو جی کارروائیوں کو مکمل طور پر بند کرنے اور امداد، بے گھر لوگوں کے لیے پناہ گاہوں کا انتظام کرنے اور تعمیر نو کی کارروائیوں کے آغاز کا مطالبہ کرتی ہے۔

    اس تناظر میں اخبار "اسرائیل ہیوم” نے کہا ہے کہ اسرائیلی حکام غزہ کی پٹی میں کچھ شہریوں کو مسلح کرنے پر بات کر رہے ہیں تاکہ پٹی کی طرف جانے والے امدادی قافلوں کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

    اخبار نے کہا کہ یہ شہری حماس سمیت مسلح گروپوں سے منسلک نہیں ہوں گے تاہم ان کی شناخت ابھی واضح نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اس معاملے پر فیصلہ ملتوی کر دیا۔

    اس سال رمضان کا مہینہ فلسطینیوں کے موجودہ حالات، غزہ کی پٹی پر اسرائیلی جنگ اور مغربی کنارے پر عائد پابندیوں کی وجہ سے غیر معمولی طور پر خوف کی فضا میں آ رہا ہے۔ رمضان کے دوران مشرقی یروشلم اور فلسطین کے دوسرے علاقوں میں تشدد اور کشیدگی میں اضافے کے خدشات سے ہیں۔

    واضح رہے کہ جنگ چھٹے ماہ میں داخل ہو چکی ہے اور اس دوران تقریباً 31 ہزار فلسطینی اسرائیلی فوج کے ہاتھوں قتل ہوئے ہیں جبکہ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق 23 لاکھ فلسطینی بےگھر ہو چکے ہیں، ہلاک ہونے والوں میں اکثریت فلسطینی عورتوں اور بچوں کی ہے اور بےگھر ہونے والے ان فلسطینیوں میں کم از کم نصف تعداد خواتین کی ہے۔

  • جوبائیڈن کی حمایت پر اسرائیل غزہ میں جارحیت کو طول دے رہا ہے،ممبر یورپی پارلیمنٹ

    جوبائیڈن کی حمایت پر اسرائیل غزہ میں جارحیت کو طول دے رہا ہے،ممبر یورپی پارلیمنٹ

    آئرلینڈ کی یورپی پارلیمنٹ کی رکن کلیئر ڈیلی نے کہا ہے کہ امریکی صدر نے اسرائیل کی بے جا حمایت کرکے خود کو قصاب ثابت کردیا۔ وہ اپنے آبا و اجداد کا تعلق آئر لینڈ سے کرنے سے باز رہیں۔

    باغی ٹی وی: یورپی پارلیمنٹ میں اپنے خطاب میں آئرلینڈ کی رکن کلیئر ڈیلی نے غزہ میں معصوم لوگوں کی ہلاکتوں پر امریکی صدر جوبا ئیڈن اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو پر کڑی تنقید کی کہا کہ عوامی عدالت میں اسرائیل کی شکست ہوچکی ہے لیکن وہ زمینی حقائق کو تسلیم کرنے کے بجائے تنازعات کو ہوا دینے کے لیے مایوس کن کارروائیوں کا سہارا لے رہا ہے،اتنی طاقت استعمال کرنے کے باوجود وہ عوامی رائے میں بھی ہار چکا ہے-

    کلیئر ڈیلی نے کہا کہ جوبائیڈن کی حمایت پر اسرائیل غزہ میں جارحیت کو طول دے رہا ہے کلیئر ڈیلی نے ارسلا وان ڈیر لیین اور جرمنی کو بین الاقوامی عدالت انصاف میں اسرائیل کی حمایت کرنے پر بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یورپ کے لوگ ہمارے نام پر نہیں بلکہ فلسطین اور عالمی عدالت میں غزہ کا کیس لڑنے والے جنوبی افریقا کے ساتھ کھڑے ہیں۔

    دوسری جانب غزہ میں اسرائیل کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے لیے امریکی سینیٹ میں پیش کی گئی قرارداد کثرتِ رائے سے مسترد کردی گئی۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ میں برنی سینڈرز نے گزشتہ ماہ غزہ میں اسرائیل کی سنگین خلاف ورزیوں کی تحقیقات کرانے کے لیے قرارداد پیش کی تھی جس پر آج رائے شماری کی گئی سینیٹر برنی سینڈر کی قرارداد میں امریکی وزارت خارجہ سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ عالمی قوانین کے تحت غزہ میں اسرائیلی فوجیوں کی غزہ میں سنگین خلاف ورزیوں کی تحقیقات کرائیں، تاہم رائے شماری کے دوران امریکی سینٹ کے 100 میں سے صرف 11 ارکان نے تحقیقات کرانے کے مطالبے کی حمایت کی جب کہ 72 نے مخالفت میں ووٹ ڈالا۔

    واضح رہے کہ امریکی سینیٹ میں حکمراں جماعت ڈیوکریٹس کو اپوزیشن جماعت ریپبلکن پر معمولی برتری حاصل ہے تاہم آج کی رائے شماری میں دونوں جانب سے اسرائیل کے حق میں ووٹ دیئے گئے،قبل ازیں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں غزہ کی صورت حال پر پیش کی گئی قرارداد کو بھی امریکا نے ویٹو کردیا تھا۔

  • اسرائیلی مظالم پر صدر جوبائیڈن کی خاموشی،سینئیر رہنما عہدے سے احتجاجاً مستعفیٰ

    اسرائیلی مظالم پر صدر جوبائیڈن کی خاموشی،سینئیر رہنما عہدے سے احتجاجاً مستعفیٰ

    واشنگٹن: فلسطینیوں پر غزہ میں ہونے والے اسرائیلی مظالم پر صدر جوبائیڈن کی خاموشی پر احتجاج کرتے ہوئے امریکی محکمہ تعلیم کے سینئر افسر طارق حبش نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیدیا۔

    باغی ٹی وی : امریکی میڈیا کے مطابق محکمہ تعلیم کے دفتر برائے منصوبہ بندی، تشخیص اور پالیسی کے معاون خصوصی طارق حبش نے سیکرٹری تعلیم میگوئل کارڈونا کو اپنا استعفیٰ پیش کردیااستعفے میں لکھا کہ میں بے گناہ فلسطینیوں کی زندگیوں پر ہونے والے مظالم پر امریکی صدر اور انتظامیہ کی آنکھیں بند ہونے پر مزید خاموش نہیں رہ سکتا اور نہ اس عمل کا ساتھ دے سکتا ہوں انسانی حقوق کے سرکردہ ماہرین بھی اسرائیلی حکومت کی کارروائیوں کو فلسطینیوں کی نسل کشی کی مہم قرار دے رہے ہیں لیکن امریکی حکومت چپ سادھے ہوئے ہیں۔

    طارق حبش ایک فلسطینی نژاد امریکی ہیں جو طلباء کے لیے تعلیمی قرض اور اسکالر شپ کے ماہر سمجھے جاتے ہیں اور انھی صلاحیتوں کی بنیاد پر امریکی صدر جوبائیڈن نے طارق حبش کو محکمہ تعلیم میں معاون مقرر کیا تھا۔

    پاکستان کی خارجہ پالیسی کا مقصد پوری دنیا میں امن اور باہمی فائدہ مند تعلقات …

    غزہ پر امریکا کی پالیسی پر یہ پہلا استعفی نہیں قبل ازیں اکتوبر میں وزارت خارجہ کے ایک سابق اہلکار جوش پال نے بھی احتجاجاً استعفیٰ دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ صدر جوبائیڈن اسرائیل کی اندھی حمایت کر رہے ہیں،اسی طرح اسرائیل نواز پالیسی پر وزارت خارجہ میں شدید اختلافات کا انکشاف ہوا تھا اور نومبر میں وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے ایک خط میں اس اختلاف کی موجودگی کو تسلیم بھی کیا تھا۔

    ادھرامریکی ایجنسی برائے بین الاقوامی ترقی (USAID) کے ہزار سے زائد اہلکاروں نے ایک کھلے خط پر دستخط کیے جس میں بائیڈن انتظامیہ پر زور دیا گیا کہ وہ غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کریں۔

    زرتاج گل پر دھوکہ دہی کا مقدمہ درج

    دوسری جانب جوبائیڈن کے صدارتی انتخابی مہم کے عملے کے 17 ارکان نے ایک گمنام خط میں متنبہ کیا ہے کہ امریکی صدر بائیڈن اس معاملے (غزہ پالیسی) کی وجہ سے ووٹرز کی حمایت کھو سکتے ہیں جوبائیڈن کی انتخابی مہم کے عملے نے ایسے کئی ووٹرز کو بڑی تعداد میں ساتھ چھوڑتے ہوئے دیکھا اور جو دہائیوں سے جوبائیڈن کی جماعت کو ووٹ دیتے آئے ہیں۔

    دوسری جانب اسرائیلی فوج کی غزہ پر وحشیانہ بمباری جاری ہے، رفح میں نقل مکانی کے دوران نہتے فلسطینیوں پر حملے کرکے متعدد افراد کو شہید کردیا، نقل مکانی کے دوران اسرائیلی اسنائپرز نے بھی تاک تاک کر معصوم بچے اور خواتین سمیت متعدد فلسطینی قتل کیے، سڑکوں پر لاشوں کے ڈھیر لگ گئے، آخری سانسنیں لیتے فلسطینیوں کے درد ناک مناظر نے دل دہلادیے۔

    پشاور میں گردوں کی غیر قانونی پیوند کاری کرنیوالے گروہ کا سرغنہ گرفتار

    صیہونی فوج نے جبالیہ میں اقوام متحدہ کے شیلٹر پر بھی حملہ کیا، شمالی غزہ سے فوج نکالنےکے بعد اسرائیل نے غزہ پر بمباری تیز کردی اور زیادہ شدت والے بموں کا استعمال کیا، 24 گھنٹوں میں مزید 120 سے زائد فلسطینی شہید ہوگئے، خان یونس کے علاقے میں گھر پر بمباری سے صلاح خاندان کے14 افراد شہید ہوگئے اور متعدد زخمی ہوئے، خان یونس کے گھر میں غزہ کے مختلف علاقوں کے بے گھر افراد پناہ لیے ہوئے تھے اسرائیلی حملوں شہید فلسطینیوں کی مجوعی تعداد 22 ہزار 313 ہوگئی ہے۔

    دوسری جانب جنوبی لبنان کے علاقے نقورا میں اسرائیل نے عمارت پر حملہ کیا، اسرائیلی حملے میں حزب اللہ کے سینیئر اہلکار حسین یزبیک سمیت 9 ارکان شہید ہوگئے۔

    لیگی رہنما پی پی میں شامل

  • بھارت کو بڑا دھچکا، امریکی صدر کا یوم جمہوریہ کی تقریب میں شرکت سے انکار

    بھارت کو بڑا دھچکا، امریکی صدر کا یوم جمہوریہ کی تقریب میں شرکت سے انکار

    امریکی صدر جوبائیڈن نے جنوری میں بھارتی یوم جمہوریہ کے موقع پر بھارت کے دورے سے انکار کر دیا ہے

    امریکی شہری گرپتونت سنگھ کو قتل کرنے کی بھارتی سازش بے نقاب ہونے کے بعد امریکی صدر جو بائیڈن نے بھارت کا ہائی پروفائل دورہ منسوخ کردیا ہے،امریکی صدر کو بھارتی یوم جمہوریہ کی تقریب میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی ، بھارتی وزیراعظم مودی نے امریکی صدر کو دعوت دی تھی، تا ہم اب میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن نے بھارتی دورے کا دعوت نامہ مسترد کردیا ہے

    بھارتی میڈیا کے مطابق نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر عہدیدار کا کہنا تھا کہ اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن اگلے ماہ بھارت نہیں آئیں گے جس کی وجہ سے بھارتی فریق نئی دہلی کی میزبانی میں ہونے والی کواڈ سمٹ کے لیے نئی تاریخ کا تعین کرے گا،وہیں بھارتی یوم جمہوریہ کی تقریبات میں مہمان خصوصی کے طور پر بھارت کو کسی اور عالمی لیڈر کی تلاش کرنی پڑے گی.

    واضح رہے کہ گزشتہ ماہ امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے سکھ رہنماکے قتل کی سازش کو بے نقاب کیا تھا،کینیڈا بھی سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجرکے قتل سے متعلق بھارت سے تحقیقات کا مطالبہ کررہا ہے۔ برطانوی اخبار نے انکشاف کیا تھا کہ بھارت سکھ گرپتونت سنگھ پنوں کو امریکا میں قتل کرنا چاہتا تھا جس کے بعد امریکی انٹیلی جنس نے اس سازش کو ناکام بنادیا تھا اور بھارت کو بھی خبردار کیا تھا۔

    سکھ یاتریوں کی بھارت میں ہی مودی کے خلاف نعرے بازی

    بھارتی ہٹ دھرمی، ایک بار پھرپاکستان آنیوالے سکھ یاتریوں کوروک دیا گیا

    خالصتانی ہوں،حکومت مودی کے دباؤ کا شکارہے، گوپال سنگھ چاولہ کی باغی ٹی وی سے گفتگو

    سکھ برادی کا خالصتان بارے ریفرنڈم 2020، وینا ملک نے بڑا اعلان کر دیا

    آسٹریلوی حکومت نے میلبرن میں خالصتان ریفرنڈم رکوانے سے انکار کردیا۔

    الصتان کے حامی علیحدگی پسند گروپ سکھس فار جسٹس (SFJ) نے میلبورن آسٹریلیا میں خالصتان ریفرنڈم مہم کا آغاز کیا ج

    انٹرپول نے خالصتان کے رہنما کے ریڈ وارنٹ جاری کرنے کی بھارت کی درخواست مسترد کردی

    ٹورنٹو:کینیڈا میں خالصتان ریفرنڈم کے حوالے سے تاریخ رقم ، خالصتان ریفرنڈم میں ایک لاکھ 10 ہزار سکھوں نے ووٹ کاسٹ کی

  • امریکی مسلمانوں کا اگلے انتخابات میں جوبائیڈن کے خلاف مہم چلانے کا اعلان

    امریکی مسلمانوں کا اگلے انتخابات میں جوبائیڈن کے خلاف مہم چلانے کا اعلان

    واشنگٹن: بائیڈن کو دوبارہ صدارت کی دوڑ میں شامل ہونے سے روکنے کے لیے امریکا کے مسلمان رہنماؤں نے بائیڈن کو روکو "AbandonBiden” مہم شروع کر دی ہے۔

    باغی ٹی وی : غزہ کے معصوم فلسطینیوں پر وحشیانہ بم باری کرنے والے اسرائیل کی حمایت امریکی صدر بائیڈن کو مہنگی پڑگئی ہے،کئی اہم امریکی ریاستوں کے مسلم رہنماؤں نے ہفتے کو عہد کیا کہ وہ غزہ میں اسرائیلی جنگ پر بائیڈن کے مؤقف کی وجہ سے ان کی انتخابی مہم کی مخالفت کریں گے۔

    عرب میڈیا کے مطابق امریکی ریاست منی سوٹا کے مسلمان امریکیوں نے بائیڈن سے 31 اکتوبر تک جنگ بندی کا مطالبہ کیا بعد ازاں بائیڈن مخالف مہم مشی گن، ایری زونا، وسکونسن، پنسلوانیا اور فلوریڈا تک پھیل گئی ہے،بڑی مسلم اور عرب امریکی آبادی کی مخالفت آئندہ انتخابات میں بائیڈن کے لیے ایک چیلنج بن سکتی ہے۔

    بحیرہ احمر میں امریکی جنگی اورتجارتی بحری جہازوں پر حملے

    امریکی مسلمان رہنماؤں نےا س عزم کا اظہار کیا ہےکہ فلسطینیوں کی نسل کشی میں ساتھ دینے والے بائیڈن کو دوبارہ صدر بننے سے روکنےکی ہر ممکن کوشش کریں گےمہم کی قیادت کرنے والے امریکی مسلمان رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بائیڈن نے غزہ میں جنگ بندی رکوانے اور معصوم افراد کو تحفظ فراہم کرنےکے مطالبے کو نہیں مانا اس لیے ہم نے صدر بائیڈن کی حمایت واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ وہ 2024 میں ہونے والے صدارتی انتخابات کی دوڑ میں شامل نہ ہوسکیں۔

    امریکی صدر اور نائب صدر کا انتخاب ”انتخاب کاروں“ (الیکٹورل کالج) کے ایک گروپ کے ذریعے کیا جاتا ہے جنہیں زیادہ تر معاملات میں اس ریاست کی سیاسی جماعتیں منتخب کرتی ہیں، مہم شروع کرنے والی تنظیم منی سوٹا کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز کے ڈائریکٹر حسین جیلانی کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس صرف دو آپشن نہیں بلکہ متعدد لوگ ہیں۔

    غزہ: جبالیہ کیمپ پر اسرائیلی فضائی حملے، مکمل رہائشی بلاک منہدم

    امریکی سیاست پر دو جماعتوں کا غلبہ ہے – ڈیموکریٹس اور ریپبلکن – لیکن آزاد امیدوار بھی صدر کے لیے انتخاب لڑ سکتے ہیں، ہارورڈ کے سابق پروفیسر اور ممتاز سیاہ فام فلسفی کارنیل ویسٹ، جو آزاد امیدوار کے طور پر انتخاب لڑ رہے ہیں، انہوں نے غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے اور فلسطین پر اسرائیل کے قبضے کی مذمت کی ہےگرین پارٹی کے پلیٹ فارم پر دوڑ میں شامل جل سٹین نے بھی غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ وہ 2016 اور 2012 میں بھی امیدوار تھیں۔

    امریکی مسلمانوں کا کہنا ہےکہ وہ ٹرمپ کو متبادل کے طور پر نہیں دیکھ رہے نہ وہ ان سے مسلمانوں کے لیےکسی بہتری کی امید رکھتے ہیں، ہم متبادل امیدوار چاہتے ہیں، وہ بائیڈن کو ووٹ دینے سے انکار کو امریکی پالیسی کی تشکیل کا واحد ذریعہ سمجھتے ہیں مسلمانوں کا کہنا ہے کہ ہم ٹرمپ کی حمایت نہیں کر رہے، مسلم کمیونٹی فیصلہ کرے گی کہ دوسرے امیدواروں کا انٹرویو کیسے کیا جائےدوسری جانب حماس نے بھی امریکی مسلمانوں سے اپیل کی ہےکہ وہ آئندہ انتخابات کے لیے بائیڈن کو سپورٹ نہ کریں۔

    پاکستان ترقی پذیر ممالک کے موسمیاتی مالیات کیلئےایک توانا آواز اور پرزورحامی رہا ہے،نگران …

    ایک حالیہ سروے میں عرب امریکیوں میں بائیڈن کی حمایت میں نمایاں کمی کا انکشاف ہوا ہے، جو کہ 2020 میں کافی اکثریت سے گر کر صرف 17 فیصد رہ گئی ہےعرب امریکن انسٹی ٹیوٹ کے مطابق، اس تبدیلی کا مشی گن جیسی ریاستوں میں اہم اثر ہو سکتا ہے، جہاں بائیڈن نے 2.8 فیصد پوائنٹس سے فتح حاصل کی، اور عرب امریکن انسٹی ٹیوٹ کے مطابق، 5 فیصد ووٹ عرب امریکی ہیں عام لوگوں کے درمیان، رائے عامہ کے جائزوں میں زیادہ تر امریکیوں نے محاصرہ زدہ علاقے میں اسرائیل کی جنگ کے خاتمے کی حمایت کی ہے۔

    واضح رہےکہ 7 اکتوبر کے بعد سے اسرائیلی جارحیت میں 16 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں جن میں بڑی تعداد بچوں کی ہے اسرائیلی بمباری سے غزہ پٹی میں اب تک 15 لاکھ سے زائد افراد بےگھر بھی ہو چکے ہیں تاہم امریکی صدر بائیڈن کی جانب سے غزہ میں قتل عام رکوانے کے لیے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی بلکہ امریکا نے اسرائیل کو فوجی امداد بھی فراہم کی ہے اور قرار دیا ہے کہ دفاع اسرائیل کا حق ہے۔

    بنگلہ دیش نے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے بین الاقوامی اتحاد قائم کرلیا