Baaghi TV

Tag: جوڈیشل کمیشن

  • جوڈیشل کمیشن نے سپریم کورٹ کی آئینی بینچ کی مدت بڑھادی

    جوڈیشل کمیشن نے سپریم کورٹ کی آئینی بینچ کی مدت بڑھادی

    اسلام آباد میں جوڈیشل کمیشن نے اکثریتی رائے سے سپریم کورٹ کی آئینی بینچ کی مدت میں مزید 6ماہ کی توسیع کر دی، جو اب 30 نومبر 2025 تک کام کرے گی۔

    پاکستان کی جوڈیشل کمیشن (جے سی پی) نے اکثریتی ارکان کی منظوری سے سپریم کورٹ کی آئینی بینچ کی مدت 30 نومبر 2025 تک بڑھا دی، اس بینچ کی مدت رواں ماہ ختم ہونے والی تھی 26ویں آئینی ترمیم کے تحت، 5 نومبر 2024 کو سات رکنی آئینی بینچ تشکیل دیا گیا تھا، جس کی ابتدائی مدت 60 دن مقرر کی گئی تھی۔

    بینچ میں جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ اے ملک، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس شاہد بلال حسن شامل تھے،بعد ازاں دسمبر میں اس بینچ کی مدت میں چھ ماہ کی توسیع کر دی گئی تھی،فروری میں بینچ کو توسیع دے کر اس کے ارکان کی تعداد 13 کر دی گئی تھی، جن میں جسٹس ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پہنور، جسٹس شکیل احمد، جسٹس عامر فاروق اور جسٹس اشتیاق ابراہیم کو شامل کیا گیا۔

    جے سی پی نے جمعرات کو دو اجلاس منعقد کیے،کمیشن نے 23 جولائی سے مزید چھ ماہ کے لیے توسیع کی منظوری دی اور جسٹس عدنان اقبال چوہدری اور جسٹس جعفر رضا کو نامزد کیا، جب کہ جسٹس آغا فیصل اور جسٹس ثنا اکرم منہاس کی جگہ لی گئی۔

  • جوڈیشل کمیشن اجلاس: آئینی بینچ میں دو نئے ججز کا اضافہ

    جوڈیشل کمیشن اجلاس: آئینی بینچ میں دو نئے ججز کا اضافہ

    اسلام آباد: جوڈیشل کمیشن نے آئینی بینچ میں اضافے کیلئے دو نئے ججز کے ناموں کی منظوری دے دی ہے۔

    باغی ٹی وی : جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کا اہم اجلاس جمعرات کو چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں آئینی بینچ کے لیے دو نئے ججز کی نامزدگی پر غور کیا گیا اجلاس میں جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس عقیل عباسی کے ناموں پر کثرت رائے سے اتفاق کیا گیا، جس کے بعد دونوں ججز کو آئینی بینچ کا حصہ بنا دیا گیا ہےنئے ججز کی شمولیت کے بعد آئینی بینچ میں ججز کی مجموعی تعداد 15 ہو گئی ہے اجلاس میں اعلیٰ عدالتی امور اور بینچ کی فعالیت کو مزید مؤثر بنانے پر بھی گفتگو کی گئی، جسٹس عقیل عباسی کے نام کی منظوری 8 ووٹوں کی اکثریت دے گئی، جسٹس علی باقر نجفی کو 7 ووٹ ملے۔

    مہاجرین کی باعزت واپسی کے لیے پاکستان کے ساتھ قریبی تعاون ناگزیر ہے،افغان وزیر تجارت

    ذرائع نے دعویٰ کیا کہ جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر نے آئینی بینچ میں مزید ججز تعیناتی کی مخالفت کی، بیرسٹر علی ظفر، بیرسٹر گوہر نے بھی مخالفت کی، مخالفت کرنے والوں کا مؤقف تھا کہ آئینی بینچز میں ججز نامزدگی کے لیے رولز بنائے جائیں،جسٹس جمال مندوخیل نے دونوں ججوں کی منظوری کے عمل میں حصہ نہ لیا، کہا کہ میں رولز کمیٹی کا سربراہ ہوں، رولز بننے تک کوئی رائے نہیں دے سکتا۔

    ذرائع نے بتایا کہ چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے جسٹس علی باقر نجفی کیلئے ووٹنگ کے عمل میں حصہ نہیں لیا، چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے جسٹس عقیل عباسی کی آئینی بینچز میں شامل کرنے کے حق میں ووٹ دیا۔

    حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کا ایک اور موقع ضائع کر دیا ،شاہد خاقان عباسی

    واضح رہے کہ جوڈیشل کمیشن آئینی اور قانونی نوعیت کے اہم مقدمات کے لیے ججز کی تعیناتی کا مجاز فورم ہے، اور اس اجلاس کو آئینی بینچ کی تشکیل نو کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

  • احسن بھون جوڈیشل کمیشن کے ممبر بن گئے

    احسن بھون جوڈیشل کمیشن کے ممبر بن گئے

    اسلام آباد:پاکستان بار کونسل نے احسن بھون کو ممبر جوڈیشل کمیشن بنانے کی منظوری دے دی۔

    باغی ٹی وی : احسن بھون 2 سال کے لیے جوڈیشل کمیشن کے رُکن ہوں گے، احسن بھون جوڈیشل کمیشن میں پاکستان بار کونسل کی جانب سے نمائندگی کریں گےاحسن بھون کو 14 ووٹ ملے اور 4 ممبران نے مخالفت کی جبکہ ایک ممبر نے رائے ہی نہیں دی، وو ٹنگ کے عمل کے دوران 19 ممبران نے شرکت کی۔

    پاکستان بار کونسل نے کہا کہ احسن بھون 2 سال کے لیے جوڈیشل کمیشن کے رُکن ہوں گےاحسن بھون پاکستان بار کونسل کی جانب سے نمائندگی کریں گے۔

    افغانستان میں امن و استحکام خطے کے مفاد میں ہے،وزیراعظم شہباز شریف

    واضح رہے کہ 2 روز قبل پاکستان بار کونسل کے نمائندے اختر حسین جوڈیشل کمیشن کی رکنیت سے مستعفی ہو گئے تھے،اختر حسین ایڈوو کیٹ نے کہا تھا کہ میں اپنی ذمے داریاں اپنی بہترین صلاحیتوں کے مطابق انجام دیتا رہا، حالیہ عدالتی تقرریوں سے متعلق تنازعات کی بناء پر میں مزید کام جاری نہیں رکھ سکتا۔

    پاکستان میں جمہوریت مضبوط نہیں،بلاول بھٹو زرداری

  • لاہورہائیکورٹ کے ایڈیشنل ججز کیلئے 9 ناموں کی منظوری

    لاہورہائیکورٹ کے ایڈیشنل ججز کیلئے 9 ناموں کی منظوری

    اسلام آباد: جوڈیشل کمیشن نے لاہورہائیکورٹ کے ایڈیشنل ججز کے لیے 9 ناموں کی منظوری دے دی۔

    باغی ٹی وی : ذرائع کے مطابق چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیرصدارت جوڈیشل کمیشن کا اجلاس ہوا، جس میں لاہور ہائی کورٹ کے لیے ایڈیشنل ججز کے ناموں پر غور کیا گیا، جوڈیشل کمیشن نے لاہورہائیکورٹ کے ایڈیشنل ججز کے لیے 9 ناموں کی منظوری دے دی گئی جبکہ دسویں نمبر کے لیے کوئی بھی امیدوار مطلوبہ ووٹ حاصل نہ کر سکا۔

    جن ناموں کی منظوری دی گئی ان میں حسن نواز مخدوم، ملک وقار حیدر اعوان، سردار اکبر علی، ملک جاوید اقبال وینس اور سید احسن رضا کاظمی شامل ہیں، جوڈیشل کمیشن نے محمد جواد ظفر، خالد اسحاق، ملک محمد اویس خالد اور چوہدری سلطان محمود کے نام بھی منظور کرلیے۔

    مشتری سے بھی 12 گنا بڑا سیارہ دریافت

    لاہور ہائیکورٹ میں ایڈیشنل ججز کی تعیناتی سے متعلق اجلاس کا اعلامیہ جاری کردیا گیا جس میں کہا گیا کہ جوڈیشل کمیشن کی اکثریت نے لاہور ہائیکورٹ میں 9 ایڈیشنل جج لگانے کی منظوری دی، حسن نواز مخدوم، سردار اکبر علی، ملک جاوید اقبال وینس اور ملک وقار حیدر کے ناموں کی منظوری دی، سید احسن کاظمی،محمد جواد ظفر اور خالد اسحاق کے ناموں کی منظوری دی گئی۔

    اعلامیے کے مطابق جوڈیشل کمیشن نے ملک اویس خالد اور سلطان محمود کے ناموں کی بھی منظوری دی، اجلاس کے آغاز پر ممبر جوڈیشل کمیشن ایڈوکیٹ اختر حسین کی اہلیہ کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔

    اس سے قبل جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کو 10 ایڈیشنل ججز کے لیے 49 نامزدگیاں موصول ہوئی تھیں، 10 ایڈیشنل ججز کی تعیناتی کے لیے 4 ڈسٹرکٹ سیشن ججز اور 45 سینئر وکلا کے ناموں پر غور کیا گیا۔

    اجلاس کے دوران ڈسٹرکٹ سیشن جج قیصر نذیر بٹ، محمد اکمل خان، جزیلہ اسلم، ابہر گل خان کے ناموں پر غور کیا گیا جبکہ اجلاس میں ایڈووکیٹ عدنان شجاع بٹ، ایان طارق بھٹہ، امبرین انور راجہ کے ناموں پر غور کیا گیا۔

    اجلاس کے دوران اسد محمود عباسی، عصمہ حامد، بشریٰ قمر، اقبال احمد خان، سلطان محمود، غلام سرور، حیدر رسول مرزا، حارث عظمت، حسیب شکور پراچا، حسن نواز مخدوم، ہماں اعجاز زمان، خالد اسحٰق، ملک جاوید اقبال، ملک محمد اویس خالد کے ناموں پر غور کیا گیا۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں دوسرے فلور سے لفٹ گراؤنڈ فلور پر جاگری

    جوڈیشل کمیشن نے ملک وقار حیدر اعوان، میاں بلال بشیر، مغیث اسلم ملک، محمد اورنگزیب خان، محمد جواد ظفر، محمد نوید فرحان، نوازش علی پیرزادہ، ساجد خان تنولی، ثاقب جیلانی، محمد زبیر خالد، منور السلام، مقتدر اختر شبیر، مشتاق احمد مہل، نجف مزمل خان، نوید احمد خواجہ کے ناموں پر غور کیا گیا۔

    علاوہ ازیں، قادر بخش، قاسم علی چوہان، رافع زیشان جاوید الطاف، رانا شمشاد خان، رضوان اختر اعوان، صباحت رضوی، سلمان احمد، سمیعہ خالد، سردار اکبر علی، شیغن اعجاز، سید احسن رضا کاظمی، انتخاب حسین شاہ اور عثمان اکرم ساہی کے نام بھی زیر غور آئے۔

    موسمیاتی تبدیلی پر قابو پانے کیلئے ایک آزاد اور مضبوط عدلیہ کی ضرورت ہے،جسٹس منصور

  • 8 نئے ججز کی تعیناتی  کے معاملہ:جوڈیشل کمیشن  اجلاس کا شیڈول تبدیل

    8 نئے ججز کی تعیناتی کے معاملہ:جوڈیشل کمیشن اجلاس کا شیڈول تبدیل

    اسلام آباد: سپریم کورٹ میں 8 نئے ججز کی تعیناتی کے معاملے پر جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے اجلاس کا شیڈول تبدیل کردیا گیا-

    باغی ٹی وی:جوڈیشل کمشن کا اجلاس 11 فروری کے بجائے اب 10 فروری کو ہوگا اجلاس سپریم کورٹ کے کانفرنس روم میں دن 2 بجے ہوگا، جوڈیشل کمیشن کے ممبران کو اجلاس ایک دن پہلے بلانے سے متعلق باقاعدہ طور پر آگاہ کردیا گیا،سپریم کورٹ میں 8 نئے ججز کے لیے پانچوں ہائیکورٹس کے 5 سنیر ججز کے نام طلب کیے گئے ہیں۔

    دوسری جانب وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے چیف جسٹس پاکستان سے الگ الگ ملاقات کی،ذرائع نے بتایا کہ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے چیف جسٹس پاکستان یحیٰ آفریدی سے ان کے چیمبر میں ملاقات کی، اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے چیف جسٹس پاکستان سے الگ ملاقات کی۔

    حماس نے 5 تھائی باشندوں سمیت 8 یرغمالی رہا کردیئے

    شعبان کا چاند نظر آگیا، شب برات 13 فروری کو ہوگی

    ایف بی آر افسران نے مجھے جان سے مارنےکی دھمکیاں دیں، فیصل واوڈا کا انکشاف

  • حکومت جوڈیشل کمیشن بنانے کا اعلان کرے تو ہم آگے دیکھیں گے،بیرسٹر گوہر

    حکومت جوڈیشل کمیشن بنانے کا اعلان کرے تو ہم آگے دیکھیں گے،بیرسٹر گوہر

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین گوہر علی خان کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں پہل بانی پی ٹی آئی نے کی۔

    باغی ٹی وی: بیرسٹر گوہر علی خان نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے اپنے مطالبات حکومت کے سامنے رکھے تھے، لیکن حکومت نے مذاکرات میں تاخیر کی، ہمارے اوپر ہر قسم کی سختیاں کی گئیں، تاہم اس کے باوجود ہم نے مذاکرات کی پیشکش کی،اگر حکومت سنجیدہ ہوتی تو اپنا جواب فوری طور پر دیتی حکومت کی جانب سے کہا گیا تھا کہ 28 تاریخ کو کمیٹی روم میں جواب دیں گے، لیکن جوڈیشل کمیشن بنانے کے مطالبات پر حکومت نے ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا،حکومت چاہتی ہی نہیں تھی کہ مذاکرات ہوں اور ان کا حل نکلے،مذاکرات ختم ہونے کے بعد ابھی تک کسی سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔

    ون چائنہ پالیسی پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم حصہ ہے،صدر مملکت

    قبل ازیں چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا حکومت جوڈیشل کمیشن بنانے کا اعلان کرے تو ہم آگے دیکھیں گے اور بانی پی ٹی آئی سے بات کریں گے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے حکومت اور پی ٹی آئی کی مذاکراتی کمیٹیوں کا اجلاس طلب کیا تھا ہم پی ٹی آئی کی مذاکراتی کمیٹی کے ارکان کی عدم شرکت کے باعث اجلاس ملتوی کر دیا گیا۔

    ملٹری ٹرائل کس بنیاد پر چیلنج ہو سکتا ہے؟جسٹس جمال مندوخیل کا خواجہ حارث سے استفسار

    بانی پی ٹی آئی عمران خان نے چند روز قبل اعلان کیا تھا کہ حکومت نے ہمارے مطالبے پر 7 روز میں 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات پر جوڈیشل کمیشن بنانے کا اعلان نہیں کیا اس لیے ہم حکومت کے ساتھ مذاکرات ختم کر رہے ہیں۔

  • سندھ ہائیکورٹ میں ایڈیشنل ججز کیلئے 12 ناموں کی منظوری

    سندھ ہائیکورٹ میں ایڈیشنل ججز کیلئے 12 ناموں کی منظوری

    سندھ ہائیکورٹ میں ایڈیشنل ججز کیلئے جوڈیشل کمیشن نے 12 ناموں کی منظوری دے دی ہے ۔

    اعلامیہ کے مطابق جوڈیشل کمیشن کا اجلاس سپریم کورٹ میں ہوا، جوڈیشل کمیشن نے اکثریت سے ایڈیشنل ججز کے ناموں کی منظوری دی۔محمدجعفر رضا، محمدحسن اکبر ،عبدالحامدبھرگڑی، جان علی جونیجو ،میراں محمد شاہ اور علی حیدر ادا کو سندھ ہائیکورٹ میں ایڈیشنل جج بنانے کی منظوری دی گئی ۔اس کے علاوہ ریاضت علی سحر، فیض الحسن شاہ ،تسنیم سلطانہ اورنثار بھنبھرو کو بھی سندھ ہائیکورٹ میں ایڈیشنل جج بنانے کی منظوری دیدی گئی ۔جوڈیشل کمیشن نے عثمان علی ہاد ی اور خالد حسین شاہانی کو بھی سندھ ہائیکورٹ میں ایڈیشنل جج بنانے کی منظوری دی۔، اس کے علاوہ سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ کے ججز کی مدت میں چھ ماہ کی توسیع بھی کی۔

    یاد رہے چیف جسٹس نے جوڈیشل کمیشن، سپریم جوڈیشل اور لا اینڈ جسٹس کمیشن میں تقرریوں کے لیے کمیٹیاں بنا دی ہیں۔سپریم کورٹ نے اس حوالے سے اعلامیہ جاری کردیا جس میں بتایا گیا کہ قانون و انصاف کمیشن کے سیکریٹری کی تعیناتی کیلئے کمیٹی کی سربراہی چیف جسٹس کریں گے، کمیٹی میں جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس شاہد وحید شامل ہونگے، کمیٹی صوبائی چیف سیکرٹری کے نامزد کردہ امیدواروں کا انٹرویو کریں گے۔اعلامیے کے مطابق جوڈیشل کمیشن کے سیکریٹری کی تقرری کے لیے پانچ رکنی کمیٹی قائم کی گئی ہے، کمیٹی میں جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر اور جسٹس امین الدین خان شامل ہوں گے، جسٹس جمال مندوخیل اور اٹارنی جنرل بھی کمیٹی کا حصہ ہوں گے۔

    پسند کی شادی ،شوہر نے بیوی کو قتل کردیا

    جعلی دستاویزات پر بیرون ملک سفر کرنے والے 3 مسافر گرفتار

    ٹرمپ نے حاملہ خواتین کو قبل از وقت زچگیوں پر مجبور کردیا

    جرمنی میں بچوں کو قتل اور زخمی کرنے والا افغان شہری نکلا

  • سندھ ہائیکورٹ میں 12 ایڈیشنل ججوں کیلئے نام سامنے آگئے

    سندھ ہائیکورٹ میں 12 ایڈیشنل ججوں کیلئے نام سامنے آگئے

    جوڈیشل کمیشن کو سندھ ہائی کورٹ میں 12 ایڈیشنل ججوں کی تعیناتی کے لیے 46 نام بھیج دیے گئے اور اس اجلاس میں غور ہوگا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق سیکرٹری جوڈیشل کمیشن نے جوڈیشل کمیشن کے اراکین کو سندھ ہائی کورٹ میں 12 ایڈیشنل ججوں کی خالی آسامیوں پر ججوں کی تعیناتی کے لیے 46 نام بھجوادیے ہیں جن پر غور ہوگا۔سندھ ہائی کورٹ میں ایڈیشنل ججوں کی تعینات کے لیے بھیجے گئے 46 ناموں میں سے 6 ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججوں کے نام شامل ہیں اور دیگر 40 وکلا کے نام شامل ہیں۔ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججوں میں سوریش کمار، خالد حسین شاہانی، مشتاق احمد لغاری، تسنیم سلطانہ، منور سلطانہ اور امیر علی مہسیر کے نام ہیں۔جوڈیشل کمیشن کو بھجے گئی40 وکلا کے ناموں میں علی حیدر ادا، نثار احمد بھمبرو، ریاضت علی ساحر، میراں محمد شاہ، راجا جواد علی سحر، عبید الرحمان خان، رفیق احمد کلوار، عمائمہ انور خان، محمد عثمان علی ہادی، محمد عمر لاکھانی، منصور علی گھنگرو، محمد ذیشان عبداللہ، محمد جعفر رضا شامل ہیں۔وکلا کے ناموں میں ذوالفقار علی سولنگی، حق نواز تالپور، عبد الحامد بھرگڑی، ڈاکٹر سید فیاض الحسن شاہ، محسن قادر شاہوانی، قاضی محمد بشیر، سندیپ ملانی، محمد حسن اکبر، سید احمد شاہ، امداد علی اونر، چوہدری عاطف رفیق، محمد جمشید ملک اور عرفان میر ہالپوتا شامل ہیں۔سندھ ہائی کورٹ میں تعیناتی کے لیے بھیجے گئے وکلا کے ناموں میں جان علی جونیجو، ولی محمد کھوسو، فیاض احمد سمور، الطاف حسین، غلام محی الدین، راشد مصطفی، ارشد زاہد علوی، سید طارق احمد شاہ، صغیر احمد عباسی، وزیر حسین کھوسو، پرکاش کمار، محمد ذیشان، ریحان عزیزاور شازیہ ہنجرا شامل ہیں۔یاد رہے کہ سندھ ہائی میں ججوں کی خالی آسامیوں کے لیے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس 23 جنوری کو ہوگا اور اجلاس میں مذکورہ ناموں پر غور کیا جائے گا۔

    وائی فائی سےحساس معلومات کی چوری ، راؤٹرز غیر محفوظ قرار

    سی ٹی ڈی افسر سمیت 3 اہلکار شہری کے اغوا کیس میں معطل

    سعودی عرب نے گریٹر اسرائیل نقشہ مسترد کر دیا

    بجلی بلوں کےسیلز ٹیکس میں کمی نہیں ہوگی

  • سپریم کورٹ آئینی بینچ کی مدت میں6 ماہ کی توسیع

    سپریم کورٹ آئینی بینچ کی مدت میں6 ماہ کی توسیع

    چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن اجلاسوں میں سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کو 6 ماہ کے لیے توسیع اور ججز تعیناتی سے متعلق قوانین کی منظوری دے دی گئی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق کمیشن کے دوسرے اجلاس میں سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کو 6 ماہ کے لیے توسیع دی گئی، عدالت عظمیٰ کے جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔سپریم کورٹ کے اعلامیے کے مطابق چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے ججز کی تعیناتی کے لیے رولز کے مسودے کا جائزہ لینے کے لیے جوڈیشل کمیشن کے دو اجلاسوں کی سربراہی کی، پہلے اجلاس کا آغاز صبح 11 بجے ہوا جو 8 گھنٹے تک جاری رہا جس میں ججوں کی تقرری رولز کے مسودے کا جائزہ لیا گیا۔جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ جوڈیشل کمیشن نے اجلاس کے دوران مانگی گئی عوامی رائے کا بھی جائزہ لیا۔دوران اجلاس آئینی بینچ کی تشکیل برقرار رکھنے کا فیصلہ 7، 6 کے تناسب سے ہوا، ووٹنگ میں 7 ممبران نے بینچ برقرار رکھنے کے حق میں فیصلہ دیا۔اجلاس میں جسٹس جمال مندوخیل نے تمام سپریم کورٹ ججز کو آئینی بینچ میں شامل کرنے کی تجویز دی۔جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں ججوں کی تعیناتی سے متعلق کچھ رولز میں معمولی تبدیلی کے ساتھ قوانین کی منظوری بھی دی گئی۔ججز تعیناتی کے حتمی مسودے میں نئے ایڈیشنل ججز کے لیے میڈیکل ٹیسٹ کی شرط نکال دی گئی ہے جبکہ کسی امیدوار کی انٹیلی جنس رپورٹ لینا یا نہ لینا کمیشن کی صوابدید ہو گا۔رپورٹ کے مطابق مسودے میں ہائی کورٹ چیف جسٹس کے لیے 3 نام زیر غور آئیں گے، سینئر جج کو چیف جسٹس ہائی کورٹ نہ بنانے پر وجوہات بتانا لازمی ہوں گی۔مسودے میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ میں ججوں کی تعیناتی کے لیے ہائی کورٹ سے 5 نام تجویز کیے جائیں گے۔ججز قوانین کے حوالے سے جوڈیشل کمیشن اجلاس میں نئے رولز کے تحت ایڈیشنل ججز کے لیے نامزدگیاں 3 جنوری تک طلب کی گئی ہیں جبکہ ان ججز کے لیے نامزدگیاں متعلقہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے ذریعے بھیجی جائیں گی۔

    غیر قانونی ماہی گیری میں ملوث 10ٹرالرز ضبط

  • جوڈیشل کمیشن:ججز تعیناتی کے رولز میں اہم تبدیلیاں،خفیہ ایجنسی کی رپورٹ پر بھی فیصلہ

    جوڈیشل کمیشن:ججز تعیناتی کے رولز میں اہم تبدیلیاں،خفیہ ایجنسی کی رپورٹ پر بھی فیصلہ

    اسلام آباد: سپریم کورٹ میں جوڈیشل کمیشن اجلاس میں رولز کی منظوری دے دی گئی ہے، کچھ رولز میں معمولی تبدیلی بھی کر دی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی : چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن کا اجلاس ہوا جہاں رولز سے متعلق فیصلہ ہوا اور مجوزہ رولز کی معمولی تبدیلی کے ساتھ منظوری دے دی گئی،ذرائع کے مطابق رولز میں سے نئے ایڈیشنل ججز کیلئے میڈیکل ٹیسٹ کی شرط نکال دی گئی ہےنئے رولز کے مطابق کسی امیدوار کی انٹیلی جنس رپورٹ لینا نہ لینا کمیشن کی صوابدید ہوا کرے گا۔

    حتمی ڈرافٹ کے مطابق ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے لیے تین نام زیر غور آیا کریں گے، سینئر جج کو چیف جسٹس ہائیکورٹ نہ بنانے پر وجوہات بتانا لازمی ہوں گی سپریم کورٹ میں جج کی تعیناتی کیلئے ہائیکورٹ سے پانچ نام آیا کریں گے۔

    ذرائع کے مطابق آئینی بنچ کی توسیع کے ایجنڈے پر دوسرا اجلاس بھی ہوا، جس میں سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کو چھ ماہ کیلئے توسیع دے دی گئی۔

    ذرائع کے مطابق آئینی بینچ کی تشکیل برقرار رکھنے کا فیصلہ سات چھ کے تناسب سے ہوا، جسٹس جمال مندوخیل نے تمام سپریم کورٹ ججز کو آئینی بینچ میں شامل کرنے کی تجویز دی، ووٹنگ میں سات ممبران نے بنچ برقرار رکھنے کے حق میں فیصلہ دیاجوڈیشل کمیشن نے نئے رولز کے تحت ایڈیشنل ججز کے لیے نامزدگیاں تین جنوری تک طلب کرلی ہیں۔

    ذرائع کے مطابق ایڈیشنل ججز کے لیے نامزدگیاں متعلقہ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے ذریعے بھیجی جائیں گی، ایڈیشنل ججز کے لیے پہلے سے بھیجے گئے نام متفقہ طور پر واپس لے لئے گئے-