Baaghi TV

Tag: جوڈیشل کمیشن

  • ججز تعیناتی کیلئے جوڈیشل کمیشن رولز کا ابتدائی مسودہ جاری

    ججز تعیناتی کیلئے جوڈیشل کمیشن رولز کا ابتدائی مسودہ جاری

    اسلام آباد: سپریم کورٹ نے ججز تعیناتی کیلئے جوڈیشل کمیشن رولز کا ابتدائی مسودہ جاری کر دیا –

    باغی ٹی وی: ابتدائی مسودہ عوام رائے جاننے کیلئے ویب سائٹ پر جاری کیا گیا ،مسودے کے مطابق ججز کی تقرری کیلئے میرٹ پروفیشنل کوالیفیکیشن، قانونی پر عبور، صلاحیت پر مشتمل ہوگا، ججز کیلئے میرٹ میں امیدوار کی ساکھ اور دباؤ سے آزاد ہونا بھی شامل ہوگا، ججز کیلئے نامزدگیوں میں وکلاء اور سیشن ججز کی مناسب نمائندگی ہونی چاہیے-

    مسودے کے مطابق سپریم کورٹ میں تعیناتی کیلئے تمام ہائی کورٹس کی مناسب نمائندگی یقینی بنائی جائے، سپریم کورٹ میں تعیناتی ہائی کورٹس کے پانچ سینئر ترین ججز میں سے ہونی چاہیے، ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی تقرری تین سینئر ترین ججز میں سے ہوگی، جوڈیشل کمیشن میں تمام ناموں پر غور کرنےکے بعد ووٹنگ کا عمل شروع ہوگا، جوڈیشل کمیشن کے 2010 کے رولز ختم کر دیے گئے-

  • لاہور ہائیکورٹ کی 25 آسامیوں کیلئے 47نام جوڈیشل کمیشن کو ارسال

    لاہور ہائیکورٹ کی 25 آسامیوں کیلئے 47نام جوڈیشل کمیشن کو ارسال

    لاہور ہائیکورٹ میں25ججز کی آسامیوں کیلئے 47نام جوڈیشل کمیشن کو بھیج دئیے گئے ہیں۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے 25ججز کی تقرری کیلئے43 وکلا اور 4 سیشن ججز کے نام شامل ہیں،اعظم نذیر تارڑنے ایک سیشن جج سمیت 4نام ،بیرسٹر علی ظفر نے 3وکلا کے نام ،فاروق ایچ نائیک نے 8وکلا کے نام تجویز کیے۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے21 نام تجویز کیے،جسٹس منصور علی شاہ نے 3سیشن ججز اور 8وکلا کے نام تجویز کیے۔چیف جسٹس کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن کا اجلاس 21 دسمبر کو ہوگا،جوڈیشل کمیشن اجلاس میں لاہور ہائیکورٹ کے ججزکی تقرری کیلئے ناموں پر غور ہوگا۔

    ڈاکٹر عافیہ کی رہائی ،انسانی حقوق تنظیموں کا امریکی جیل کے باہر بڑامظاہرہ

    پریانکا گاندھی نے مودی کی تقریر کو ریاضی کا پریڈ قرار دے دیا

    خیبر پختونخوا سے وفاق پر تین بار حملے کیا گیا، رانا ثناء اللہ

    پیپلز پارٹی کا وفاقی کابینہ کا حصہ نہ بننے کا فیصلہ

  • جوڈیشل کمیشن رولز بنانے کے لیے کمیٹی تشکیل

    جوڈیشل کمیشن رولز بنانے کے لیے کمیٹی تشکیل

    سپریم کورٹ آف پاکستان نے جوڈیشل کمیشن رولز کی تشکیل کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق چیف جسٹس کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن کے اجلاس کا اعلامیہ جاری کردیا گیا ہے جس کے مطابق جوڈیشل کمیشن رولز کی تشکیل کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی گئی۔اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ جسٹس جمال مندوخیل کمیٹی کے سربراہ ہوں گے جب کہ بیرسٹر علی ظفر، فاروق نائیک اور پاکستان بار کے نمائندہ اختر حسین بھی کمیٹی میں شامل ہیں۔سپریم کورٹ نے اعلامیے میں بتایا کہ اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان بھی رولز بنانے کے لئے قائم کمیٹی کا حصہ ہوں گے جب کہ کمیٹی کو سیکرٹری جوڈیشل کمیشن سمیت دو ریسرچ افسران کی خدمات بھی حاصل ہوں گی۔اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ پشاور اور سندھ ہائی کورٹس میں ججز تعیناتی کا عمل 21 دسمبر تک موخر کردیا گیا ہے، دونوں ہائی کورٹس کے لئے ججز کی نامزدگیاں دس دسمبر تک بھیجوائی جاسکتی ہیں۔

    نیپرا نے بجلی صارفین کیلیے ونٹر پیکج کی منظوری دے دی

    سرفراز دلبرداشتہ ،ریٹائرمنٹ کا اشارہ دے دیا

    متحدہ نے یونیورسٹیز انسٹیٹیوٹس ایکٹ 2018ء میں ترمیم مسترد کر دی

    تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت، چین کی 13 امریکی کمپنیوں پر پابندیاں

  • جوڈیشل کمیشن اجلاس، جسٹس امین الدین  خان کی سربراہی میں 7 رُکنی آئینی بینچ قائم

    جوڈیشل کمیشن اجلاس، جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7 رُکنی آئینی بینچ قائم

    اسلام آباد،چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیرصدارت جوڈیشل کمیشن کا اجلاس ہوا
    جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے اجلاس میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحیٰی آفریدی، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر ، جسٹس امین الدین خان ، وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان، سینیٹر فاروق ایچ نائیک، سینیٹر شبلی فراز، شیخ آفتاب ، عمر ایوب ، روشن خورشید بروچہ اور پاکستان بار کونسل کا نامزد ممبر اختر حسین بھی اجلاس میں شریک تھے

    جوڈیشل کمیشن اجلاس میں جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7 رُکنی آئینی بینچ قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،جوڈیشل کمیشن اجلاس میں آئینی بینچ کا فیصلہ 7 اور 5 کے تناسب سے آیا، جسٹس یحییٰ آفریدی، منصور علی شاہ، منیب اختر، عمر ایوب اور شبلی فراز نے مخالفت کی،آئینی بینچ کا قیام، جسٹس امین الدین خان سربراہ ہوں گے، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس نعیم اختر افغان ممبر ہوں گے۔آئینی بینچ میں پنجاب، سندھ اور بلوچستان سے دو دو، خیبر پختون خوا سے ایک جج شامل کیا گیا ہے

    جوڈیشل کمیشن کا اجلاس بڑے اچھے ماحول میں ہوا۔جوڈیشل میں یہ تجویز بھی آئی کہ تمام سپریم کورٹ ججز کو آئینی بینچز کیلئے نامزد کیا جائے۔

    پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹیاں قائم
    جوڈیشل کمیشن اجلاس میں پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹیاں بھی تشکیل دی گئی ہیں،پریکٹس اینڈ پروسیجر آئینی بنچز کمیٹی میں جسٹس امین الدین خان (سربراہ آئینی بنچ) ، جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس محمد علی مظہر شامل ہیں،پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی میں چیف جسٹس یحییٰ آفریدی ، جسٹس منصور علی شاہ ، جسٹس امین الدین خان (سربراہ آئینی بنچز) شامل ہیں،

    سپریم کورٹ، جوڈیشل کمیشن اجلاس کا اعلامیہ جاری
    جسٹس امین الدین خان آئینی بینچ کے سربراہ ہونگے۔سپریم کورٹ،جوڈیشل کمیشن اجلاس کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا
    اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ جسسٹس جمال خان مندوخیل ،جسٹس محمد علی مظہر آئینی بینچز میں شامل ہیں،جسٹس عائشہ ملک ،جسٹس حسن رضوی آئینی بینچز میں شامل ہیں،جسٹس مسرت ہلالی جسٹس نعیم اختر افغان شامل ہیں،چاروں صوبوں کی نمائیندگی سے بینچ کے ججز کی دو ماہ کیلئے منظوری دی گئی ،آئینی بینچ کے ججز کی منظوری سات ،پانچ کے تناسب سے کی گئی ،،چیف جسٹس یحیی آفریدی نے جوڈیشل کمیشن ارکان کو اجلاس میں خیر مقدم کیا۔چیف جسٹس نے جوڈیشل کمیشن ارکان کو نامزدگیوں پر مبارکباد پیش کی۔کمیشن کے رکن عمر ایوب نے اجلاس کورم کم ہونے کی نشاندہی کی۔جوڈیشل کمیشن ارکان نے ووٹنگ سے عمر ایوب کے کورم کے اعتراض کو مسترد کیا ،جوڈیشل کمیشن اجلاس میں کمیشن کے سیکرٹریٹ کے قیام پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔کمیشن ارکان نے چیئرمین کمیشن کو سیکرٹریٹ کے قیام سے متعلق فیصلہ کے اختیارات دیئے۔

  • چیف جسٹس نے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس طلب کر لیا

    چیف جسٹس نے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس طلب کر لیا

    اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے جوڈیشل کمیشن کا پہلا اجلاس طلب کرلیا۔

    باغی ٹی وی: چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے 5 نومبرکو جوڈیشل کمیشن کا اجلاس طلب کیا ہے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس 5 نومبر کو دوپہر 2 بجے سپریم کورٹ میں ہوگا، چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اجلاس کی صدارت کریں گے، 26 ویں آئینی ترمیم اور جوڈیشل کمیشن کی تشکیل نو کے بعد یہ پہلا اجلاس ہوگا،اجلاس میں جوڈیشل کمیشن کے سیکرٹریٹ کے قیام پر بات ہوگی، سپریم کورٹ میں آئینی بینچوں کے لیے ججوں کی نامزدگی پر بھی غور کیا جائےگا۔

    اجلاس میں جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس امین الدین شرکت کریں گے، وفاقی وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ، اٹارنی جنرل منصورعثمان اعوان، نمائندہ پاکستان بار کونسل اختر حسین، پیپلزپارٹی کے سینیٹر فاروق ایچ نائیک، ن لیگ کے شیخ آفتاب احمد، تحریک انصاف کے عمرایوب اور شبلی فراز بھی شرکت کریں گے، اجلاس میں خاتون ممبر روشن خورشید بھی شرکت کریں گی۔

    پنجاب پولیس میں اربوں روپے کی مالی بےضابطگیوں کا انکشاف

    جاپان کا سب سے اونچا پہاڑ ماؤنٹ فیوجی بھی موسمیاتی تبدیلیوں کی زد میں

    بم کی دھمکیوں کے بعد ایئر انڈیا کی پرواز سے ملی بارودی گولی

  • سپیکر نے پارلیمانی جماعتوں کی جوڈیشل کمیشن میں نامزدگی کردی

    سپیکر نے پارلیمانی جماعتوں کی جوڈیشل کمیشن میں نامزدگی کردی

    سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے سپریم جوڈیشل کمیشن کو خط لکھ دیا

    سپیکر نے پارلیمانی جماعتوں کی جوڈیشل کمیشن میں نامزدگی کردی،جوڈیشل کمیشن کےلیے قومی اسمبلی سے اپوزیشن لیڈر عمر ایوب اور مسلم لیگ ن کے شیخ آفتاب کو نامزد کیا گیا ہے ،سینیٹ سے جوڈیشل کمیشن کےلیے سینیٹر فاروق نائیک اور سینیٹر شبلی فراز نامزد کیے گئے ہیں ،سپیکر قومی اسمبلی نے خاتون نشست پر روشن خورشید بروچہ کو نامزد کیا ہے ،ترجمان قومی اسمبلی کے مطابق تمام نامزدگیاں سیکرٹری جوڈیشل کمیشن کو بھجوا دی گئی۔26 ویں ترمیم کی منظوری کے بعد جوڈیشل کمیشن میں پانچ اراکین پارلیمنٹ کو شامل کیا گیا ہے۔پارلیمنٹ سے بھجوائے گئے ناموں میں حکومت اپوزیشن کی برابر کی نمائندگی ہے ۔تمام نامزدگیاں سپریم کورٹ کو موصول ہوگئی ہیں ۔سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی اور تمام پارلیمانی جماعتوں سے مشاورت کے بعد نام بھجوائے ۔

    واضح رہے کہ 26 ویں آئینی ترمیم کے بعد وزارت قانون و انصاف نے وضاحت کی تھی کہ آرٹیکل 175 اے شق 2 کے تحت جوڈیشل کمیشن آف پاکستان 13 ممبران پر مشتمل ہوگا۔ جوڈیشل کمیشن اپنے پہلے اجلاس میں آرٹیکل 191 اے کے تحت آئینی بینچز تشکیل دے گا، جس میں نامزد ججز میں سے سب سے سینئر جج آئینی بینچز کا سربراہ ہوگا۔وزارت قانون و انصاف کے مطابق، آرٹیکل 175 اے شق 2 اور آرٹیکل 175 اے شق 3D کے تحت کمیشن کا کوئی فیصلہ کسی رکن کی عدم حاضری یا خالی اسامی پر باطل نہیں ہوگا، جو کہ اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ جوڈیشل کمیشن کی کارکردگی متاثر نہیں ہوگی۔اس نامزدگی کے بعد، توقع کی جا رہی ہے کہ جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کا عمل جلد مکمل ہوگا، جو پاکستان کے عدالتی نظام میں اصلاحات کے لیے اہم سنگ میل ثابت ہوسکتا ہے۔

    بس ایک دن کیلئے برداشت کر لیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    سپریم کورٹ میں 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف ایک اور درخواست

    جسٹس منصور علی شاہ کا چیف جسٹس کو خط،مخصوص بنچ میں بیٹھنے سے معذرت

    رجسٹرار آفس کو آئینی بنچ کے حوالے سے پالیسی دے دی ہے،نامزد چیف جسٹس

    سپریم کورٹ،برطرف ملازمین بحالی کی درخواست آئینی بینچز کو بھیج دی گئی

    40 فیصد مقدمات آئینی بنچوں کو منتقل کئے جائیں گے

  • پی ٹی آئی کا ’’جو ڈیشل کمیشن آف پاکستان‘‘ کا حصہ بننے کا فیصلہ

    پی ٹی آئی کا ’’جو ڈیشل کمیشن آف پاکستان‘‘ کا حصہ بننے کا فیصلہ

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)نے باضابطہ طور پر ’’جوڈیشل کمیشن آف پاکستان‘‘ کا حصہ بننے کا فیصلہ کر لیا –

    باغی ٹی وی : پاکستان تحریک انصاف کی سیاسی کمیٹی کے خصوصی اجلاس کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا، جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے لیے حزبِ اختلاف کی جانب سے دو اراکین کی نامزدگیوں اور اس حوالے سے اسپیکر قومی اسمبلی کے خط پر جامع بریفنگ دی گئی۔

    بریفنگ میں بتایا گیا کہ 13 اراکین پر مشتمل جوڈیشل کمیشن کی ذمہ داریوں میں اضافہ کیا گیا ہے، جوڈیشیل کمیشن سپریم کورٹ، ہائیکورٹس اور فیڈرل شریعت کورٹ میں ججز کی تقرریاں کرے گا جبکہ جوڈیشل کمیشن ہائیکورٹ کے ججز کی کارکردگی پر نگاہ رکھے گا اور ان کی سالانہ کارکردگی رپورٹ مرتب کرے گا۔

    جوڈیشل کمیشن ہائیکورٹ کے ججز کے لیے موزوں ناموں کی تجاویز بھی پیش کرنے کا مجاز ہے، یہی جوڈیشل کمیشن ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ میں بینچز بھی قائم کرے گا جوڈیشل کمیشن کے اراکین کی ایک تہائی تعداد کمیشن کا اجلاس طلب کر سکتی ہے، 13 رکنی کمیشن کے فیصلے اراکین کی سادہ اکثریت سے ہوں گے۔

    سیاسی کمیٹی کی جانب سے جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کا حصہ بننے کی تجویز متفقہ طور پر منظور کرلی گئی، سیاسی کمیٹی کے اس فیصلے کو توثیق کے لیے کور کمیٹی اور حتمی منظوری کے لیے بانی چیئرمین عمران خان کے روبرو پیش کیا جائے گا۔

    کمیشن میں حزبِ اختلاف کی نمائندگی کے لیے مجوّزہ دو ناموں کے بانی چیئرمین پی ٹی آٗی عمران خان سے باضابطہ منظوری کے بعد اعلان پر مکمل اتفاق کیا گیا، اجلاس میں 26ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے پارٹی کے دوٹوک اور اصولی مؤقف کا بھی اعادہ کیا گیا۔

    دوسری جانب پی ٹی آئی رہنما شیخ وقاص نے کہا کہ پی ٹی آئی لیگل کمیٹی کے سربراہ سلمان اکرم ہیں، وہ کسے لیگل ٹیم میں رکھتے ہیں، کس کو نہیں رکھتے، اس پر کسی کو کیا اعتراض ہے؟ہ فیصل چوہدری قابل احترام ہیں مگر انہیں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے کسی کیس میں وکیل نہیں رکھا گیا، بانی پی ٹی آئی کہہ چکے ہیں کہ ان کے خاندان سے کوئی بھی سیاست میں شامل نہیں ہوگا۔

  • جوڈیشل کمیشن میں  اتفاق رائے سےاہم فیصلے

    جوڈیشل کمیشن میں اتفاق رائے سےاہم فیصلے

    ججز تقرری کیلئے جوڈیشل کمیشن میں اہم فیصلوں پر اتفاق رائے ہوگیا۔

    باغی ٹی کی رپورٹ کے مطابق جوڈیشل کمیشن کے آج کے اجلاس کی کارروائی کے اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں جسٹس منصور علی شاہ نے اراکین کو رولز کے بارے میں بریف کیا۔چیف جسٹس آف پاکستان نے اراکین اور شریک چیئرمین کا رولز ڈرافٹ کرنے پر شکریہ ادا کیا۔اعلامیے کے مطابق اجلاس میں یقینی بنایا گیا کہ ڈرافٹ رولز آئین سے مطابقت رکھتے ہوں جبکہ تجاویز پر اتفاق رائے پیدا کیا گیا۔اجلاس کے اختتام پر فیصلہ کیا گیا کہ چیف جسٹس اور سینئر جج رولز ڈرافٹ کارروائی کے مطابق رولز ڈرافٹ کریں، آیندہ اجلاس 28 ستمبر کو ہوگا جبکہ ترامیم کے مجوزہ ڈرافٹ میں کچھ تبدیلیوں پر اتفاق رائے ہوا۔نیا ڈرافٹ آئندہ اجلاس میں اراکین کے سامنے پیش کیا جائے گا۔جوڈیشل کمیشن کا آئندہ اجلاس 28 ستمبر صبح 10 بجے ہوگا۔

    دوست ممالک نے قرض پروگرام ممکن بنایا، وزیراعظم

    اجلاس سے قبل رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی شریک ہوں گے، اجلاس میں جسٹس (ر) منظور ملک، اٹارنی جنرل منصور اعوان اور وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ بھی شریک ہوں گے۔عام طور پر ہائی کورٹس کے سینئر ترین ججز ممبر نہ ہونے کے باعث جوڈیشل کمیشن اجلاس میں شرکت نہیں کرتے، تاہم ذرائع نے بتایا تھا کہ ہائی کورٹس کے اجلاس میں چیف جسٹس اور سینئر ترین ججز کو خصوصی طور پر مدعو کیا گیا ہے، اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزرائے قانون بھی شریک ہوں گے، عام حالات میں جس ہائی کورٹ میں ججز تعیناتی ہوتی ہے اس کے متعلقہ چیف جسٹس اور وزیر قانون اجلاس میں شرکت کرتے ہیں۔

    پی ٹی آئی رہنماؤں کی پریس کانفرنس،صحافیوں نے بائیکاٹ کر دیا

    اجلاس میں مجوزہ جوڈیشل کمیشن رولز 2024 کا جائزہ لیا جائے گا اور جوڈیشل کمیشن رولز 2024 کی منظوری کے بعد ججز کی تقرریاں کی جائیں گی، اسلام آباد ہائی کورٹ سمیت پانچوں صوبائی ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان کو خط ارسال کیا جاچکا ہے، خط میں ہائی کورٹس سے ججز کے تقرر کے لیے امیدواروں کی تلاش کی درخواست کی گئی ہے۔یاد رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں اس وقت دو ججز کی اسامیاں خالی ہیں جبکہ لاہور ہائی کورٹ میں 24 ججز کی آسامیاں خالی ہیں، صدر مملکت نے پشاور ہائی کورٹ میں ججز کی تعداد 20 سے بڑھا کر 30 کردی ہے۔پشاور ہائی کورٹ میں اس وقت 13 ججز خدمات سرانجام دے رہے ہیں جبکہ وہاں کل 17ججز کی تعیناتیاں ہونی ہیں، سندھ ہائی کورٹ میں 11 اور بلوچستان ہائی کورٹ میں 4 ججز کی آسامیاں خالی ہیں۔سپریم کورٹ میں بھی ججز کی تعداد 17 سے بڑھا کر 23 کرنے سے متعلق بل متعلقہ کمیٹی میں زیر غور ہے، اس سے قبل رولز میں ترمیم کے لیے گزشتہ اجلاس 3 مئی کو بلایا گیا تھا، وزیر قانون نے کمیشن کو بتایا تھا کہ وفاقی حکومت آئین کے آرٹیکل 175 میں ترمیم کا ارادہ رکھتی ہے جس کے بعد کمیٹی نے رولز میں ترمیم کی منظوری کا معاملہ ملتوی کردیا تھا۔

  • چیف الیکشن کمشنر اور اراکین کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں شکایت دائر

    چیف الیکشن کمشنر اور اراکین کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں شکایت دائر

    تحریک انصاف الیکشن کمیشن کے خلاف میدان میں آ گئی، سپریم جوڈیشل کونسل میں چیف الیکشن کمشنر سکند ر سلطان راجہ اور اراکین کے خلاف شکایت دائر کر دی گئی ہے

    سپریم جوڈیشل کونسل میں چیف الیکشن کمشنر کے خلاف شکایت تحریک انصاف کے رہنما حلیم عادل شیخ، جسٹس (ر) نور الحق قریشی اور شبیر احمد نے مشترکہ طور پر دائر کی ،شکایت میں سنگین بدعنوانی اور آئینی خلاف ورزیوں کا الزام لگایا گیا ہے،شکایت کے متن کے مطابق چیف الیکشن کمشنر اور ارکان آئینی ذمے داری ادا کرنے میں ناکام رہے، انہوں تحریک انصاف کے مینڈیٹ اور عدالتی فیصلوں کو نیچا دکھانے کی کوشش کی، چیف الیکشن کمشنر اور ارکان کے اقدامات سے 12 کروڑ سے زائد ووٹرز متاثر ہوئے ہیں، چیف الیکشن کمشنر اور ارکان پر عائد الزامات کی انکوائری کی جائے،

    شکایت نمبر /2024 PTI سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ اور دو دیگر پارٹی ارکان، بشمول اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج جسٹس نوراُلحق قُریشی نے دائر کی ہے۔. شکایت میں الزام لگایا گیا ہے کہ الیکشن کمشنرز نے پری پول، پول ڈے، اور پوسٹ پول دھاندلی میں ملوث ہوکر جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا۔تحریک انصاف کا دعویٰ ہے کہ الیکشن کمیشن نے آرٹیکل 224 کی خلاف ورزی کی ہے، جس کے تحت عام انتخابات 60 یا 90 دنوں میں کرائے جانے چاہئیں۔ شکایت میں فوری تحقیقات اور الیکشن کمشنرز کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ الیکشن کمشنرز کی بدعنوانی نے آئینی حقوق کو نقصان پہنچایا ہے اور جمہوریت کے بنیادوں کو کمزور کیا ہے۔

    پی ٹی آئی پرپابندی،رہنماؤں کیخلاف آرٹیکل 6کے تحت کاروائی،عطا تارڑ کا بڑا اعلان

    لڑائی شروع،کیا ایمرجنسی لگ سکتی؟جمعہ پھر بھاری،کپتان جیت گیا

    مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کا فیصلہ،ملک ایک اور آئینی بحران سے دوچار

    حکومت کو کوئی خطرہ نہیں،معاملہ تشریح سے آگے نکل گیا،وفاقی وزیر قانون

    سپریم کورٹ کا فیصلہ، سیاسی جماعتوں کا ردعمل،پی ٹی آئی خوش،حکومتی اتحاد پریشان

    عمران خان نے آخری کارڈ کھیل دیا،نواز شریف بھی سرگرم

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    "بھولے بابا” کا عام آدمی سے خود ساختہ بابا بننے کا سفر ،اربوں کے اثاثے

    اصلی ولن آئی ایم ایف یا حکومت،بے حس اشرافیہ نے عوام پر بجلی گرا دی

    کرکٹ میں سٹے بازی اور سپاٹ فکسنگ،پاک بھارت میچ میں‌کتنے کا جوا؟

  • ارشد شریف قتل کیس،آئی جی اسلام آباد،جے آئی ٹی سربراہ عدالت طلب

    ارشد شریف قتل کیس،آئی جی اسلام آباد،جے آئی ٹی سربراہ عدالت طلب

    سینئیر صحافی ارشد شریف کے قتل کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کیس کی سماعت کی،عدالت نے آئی جی اسلام آباد اور جے آئی ٹی کے سربراہ کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ،اسلام آباد ہائیکورٹ نے اٹارنی جنرل کو بھی 25 جولائی کو عدالتی معاونت کے لیے طلب کر لیا،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ جے آئی ٹی نے پاکستان کی حد تک اپنی انوسٹی گیشن مکمل کر لی ہے،کینیا کے ساتھ ایم ایل ایز کے معاملے پر معاہدے پر مشاورت چل رہی ہے، جے آئی ٹی کی 44 میٹنگز ہوئی ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ 44 میٹنگز ہوئیں میرا ان سے کوئی تعلق نہیں، کچھ ہوا یا نہیں مجھے وہ بتا دیں،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ وقوعہ کینیا میں ہوا تو جب تک وہاں سے تعاون نہیں ہوتا کچھ نہیں ہو سکتا،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ تو پھر یہ کہیں کہ ابھی تک کچھ نہیں ہوا، ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل نے کہا کہ نہیں سر، کچھ پراگرس ہوئی ہے،پاکستان میں درج ہونے والے تمام مقدمات کا ریکارڈ لیا گیا ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ پھر کیا ہوا؟ حتمی طور پر نتیجہ کیا نکلا ہے؟ اٹارنی جنرل سے ہی کہیں کہ وہ خود ہی عدالت میں پیش ہو جائیں، عدالت نے کیس کی سماعت 25 جولائی تک ملتوی کر دی

    واضح رہے کہ ارشد شریف کو ایک برس سے زائد عرصہ ہو چکا کینیا میں گولیاں مار کر قتل کیا گیا تھا، تا ہم ابھی تک ارشد شریف کے قاتل سامنے نہیں آ سکے،کینیا کی حکومت کے مطابق یہ ایک مبینہ پولیس مقابلہ تھا جس میں ارشد شریف کی موت ہوئی،23 اکتوبر 2022 کو کینیا کے شہر نیروبی میں میگاڈی ہائی وے پر یہ واقعہ پیش آیا تھا جب پولیس نے ایک گاڑی پر گولیاں چلائیں، مرنیوالے کی شناخت ارشد شریف کے طور پر ہوئی،کینیا کی پولیس حکام میں اس کیس میں موقف کے حوالے سے تضاد نظر آیا.پولیس نے ابتدائی بیان میں کہا تھا کہ وہ ایک بچے کی بازیابی کے لئے موجود تھے ،مقامی تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ جس طرح گولیاں چلائی گئیں اس سے یہ نہیں لگتا کہ چلتی گاڑی پر گولیاں چلیں

    واقعے کے وقت ارشد شریف کی کار چلانے والے خرم کے مطابق وہ جائے وقوعہ سےآدھے گھنٹے کی مسافت پر ٹپاسی کے گاؤں تک گاڑی لے گئے تھے،قتل کیس میں ملوث کینیا پولیس کے پانچوں اہلکار بحال ہونے کے بعد ڈیوٹی پر واپس آگئے ہیں،

    پاکستان کی سپریم کورٹ نے ارشد شریف کے قتل پر ازخود نوٹس بھی لیا تھا تاہم کئی سماعتوں کے باوجود کیس کسی فیصلے پر نہ پہنچ سکا،

    جویریہ صدیق نے ٹویٹر پر ارشد شریف کی جانب سے مریم نواز کی والدہ کے لیے دعا کا سکرین شاٹ شیئر کیا اور مریم نواز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کچھ شرم کر۔ اللہ سے ڈر

    اسلام آباد ہائیکورٹ کاسیکرٹری داخلہ و خارجہ کو ارشد شریف کے اہلخانہ سے رابطے کا حکم

     ارشد شریف کا لیپ ٹاپ ، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے قریبی ساتھی کے پاس ہے

    ارشد شریف قتل کیس، رپورٹ میں ایسا کیا ہے جو سپریم کورٹ میں جمع نہیں کرائی جا رہی؟ سپریم کورٹ

    ارشد شریف قتل کیس،جے آئی ٹی کو تفتیش کے لئے مکمل تیار رہنا ہوگا،سپریم کورٹ

    کینیا کےٹی وی نے صحافی ارشد شریف کے قتل کی تحقیقاتی رپورٹ شائع کردی

    مرحوم صحافی ارشد شریف کی صاحبزادی نےاپنےوالد کی طرح صحافت کا آغاز کردیا

    ارشد شریف قتل کیس،عمران خان،واوڈا،مراد سعید کو شامل تفتیش کیا جائے،والدہ ارشد شریف

    ارشد شریف قتل کیس، کینیا کی عدالت کا ملزمان کیخلاف کاروائی کا حکم