Baaghi TV

Tag: جڑانوالہ

  • جڑانوالہ واقعہ کے تانے بانے دشمن انٹیلی جنس ایجنسی سے ملتے ہیں،آئی جی پنجاب

    جڑانوالہ واقعہ کے تانے بانے دشمن انٹیلی جنس ایجنسی سے ملتے ہیں،آئی جی پنجاب

    آئی جی پنجاب عثمان انور نے جڑانوالہ سانحہ کے حوالہ سے پریس کانفرنس میں اہم انکشافات کئے ہیں

    آئی جی پنجاب عثمان انور کا کہنا ہے کہ جڑانوالہ اور سرگودھا میں قصوروار لوگ گرفتار ہو چکے ہیں۔ کچھ شرپسندوں نے جڑانوالہ میں گھروں اور عبادت گاہوں کو نقصان پہنچایا، جڑانوالہ میں قانون کو ہاتھ میں لیا گیا ،سانحہ جڑانوالہ کے تانے بانے دشمن انٹیلی جنس ایجنسیوں سے ملتے ہیں، نیٹ ورک توڑ دیا ،مسلمانوں کو مسیحی بھائیوں سے لڑانے کی کوشش کی گئی،واقعات میں مسلمان علما اور مسحیی پادریوں کا مثبت کردار قابل تعریف ہے،سرگودھا میں کچھ دن پہلے قرآن پاک کی بے حرمتی کا واقعہ ہوا،سانحہ جڑانوالہ میں ملوث 3 مرکزی ملزمان کو گرفتار کرلیا، جس شخص کی لکھائی تھی جہاں پر لکھا گیا بے حرمتی ہوئی تینوں کو گرفتار کرلیا ،جڑانوالہ کے متاثرین کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے متاثرین کی ہرممکن مدد کی جارہی ہے،حکومت اورانتظامیہ متاثرین کیساتھ ہیں علماء اور سول سوسائٹی نے بہترین اندازمیں اپنا کرداراداکی ،کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں پنجاب پولیس نے تمام مراکز میں میشاق سینٹر بنائے ہیں،جڑانوالہ واقعہ کے تانے بانے دشمن انٹیلی جنس ایجنسی سے ملتے ہیں،دشمن کے آلہ کاروں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا وعدہ کرتے ہیں ،

    دوسری جانب سانحہ جڑانوالہ سے متاثرہ کرسچن کالونی میں زندگی کی بحالی سست روی سے دوچار ہے ،مکینوں کی مشکلات کم نہیں ہو سکیں، رفاہی ادارے بھی مدد کے لئے آ رہے ہیں تاہم ابھی تک بربادی کے آثار ہر طرف نظر آتے ہیں، امدادی رقم ملی تو لوگوں کا کہنا ہے کہ کم ہے، جو رقم ملی اس سے گھر بنائیں، یا گھر کے لئے سامان خریدیں، رہنے کے لئے تو اور بھی مسائل ہیں،

    دوسری جانب گریس بائبل فیلو شپ چرچ کی جانب سے سانحہ جڑانوالہ کے متا ثرہ مسیحی خا ندا نوں کے ساتھ ملاقات کی اور متاثرہ خاندانوں میں نقد مالی رقم ،بچوں ، خواتین کے کپڑے ، کھانا ، پینے کیلئے منرل واٹر کی بوتلیں ، جوس ، بسکٹ سمیت دیگر اشیاءضروریہ بھی تقسیم کی گئیں۔ گریس بائبل فیلو شپ چرچ کے چیئرمین پیٹر چارلس سہوتراکی قیادت میں جڑانوالہ میں کرسچین کالونی،عیسیٰ نگری ، محلہ چمڑہ منڈی، ٹیلی فون ایکسچینج ،فاروق پارک اورمہاراں والاکے علاقوںکا دورہ کیا اورشر پسند عناصر کی جانب سے نذر آتش کیے گئے چرچ اور مکانات کی صورتحال کا جائزہ لیا۔گریس بائبل فیلو شپ چرچ کے چیئرمین پیٹر چارلس نے جلاو گھیراو کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے افراد سے ریلیف کیمپ میں ملاقاتیں کیں اور متاثرہ خاندا نوں کی دادرسی کی اورانہیں حو صلہ دیا ۔اس موقع پر گریس بائبل فیلو شپ چرچ کی جانب سے سانحہ جڑانوالہ کے متا ثرہ مسیحی خا ندا نوں میں نقد رقم ، کھانے پینے کی اشیاءکیساتھ ساتھ دیگر امدادی ساما ن اور تحائف بھی تقسیم کیے ۔ گریس بائبل فیلو شپ چرچ کے چیئرمین پیٹر چارلس نے نگران پنجاب حکومت کی جانب سے سانحہ جڑانوالہ کے متا ثرین میں 20 لاکھ روپے فی کس مالی مدد کرنے کی ستائش کی اور وفاقی وصوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ سانحہ جڑانوالہ کے متا ثرین کو فوری طور پرنئے مکانات بنا کر دیئے جائیں اورگھریلو استعمال کا سامان فراہم کیا جائے جبکہ جن بچیوں کے جہیز کا سامان جل کر راکھ ہوا ہے انہیں جہیزبنا کردیا جائے جبکہ سانحہ جڑانوالہ کی سازش کے اصل کرداروں کو بے نقاب کرکے نشان عبرت بنایا جائے

    نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے جڑانوالہ واقعہ کا نوٹس لیا ہے

    جڑانوالہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے

     مسیحی قائدین کے پاس معافی مانگنے آئے ہیں،

    جڑانوالہ ہنگامہ آرائی کیس،گرفتار ملزمان کو عدالت میں پیش کر دیا گیا

    توہین کے واقعہ میں ملوث ملزم کو قرار واقعہ سزا دی جائے،تنظیم اسلامی

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اہلیہ کے ہمراہ متاثرہ علاقے کا دورہ کیا

  • سانحہ جڑانوالہ،تحقیقات کیلئے جوڈیشل انکوائری کمیٹی تشکیل دینے کی درخواست

    سانحہ جڑانوالہ،تحقیقات کیلئے جوڈیشل انکوائری کمیٹی تشکیل دینے کی درخواست

    سانحہ جڑانوالہ کی صاف شفاف تحقیقات اور ٹرائل کے لیے جوڈیشل انکوائری کمیٹی تشکیل دینے کی درخواست ہائیکورٹ میں دائر کر دی گئی،

    درخواست گریس بائبل فالو شپ چرچ پاکستان کی جانب سے دائر کی گئی، درخواست میں پنجاب حکومت سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے، لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ سانحہ جڑانوالہ کے مقدمے میں پانچ سو سے زائد افراد ملوث ہیں پولیس نے 25 سے 30 ملزمان کو گرفتار کیا ہے متاثرہ مسیحی برادری کی امداد کی جائے مسیحی برادری کی جانوں کو خطرہ ہے عدالت صاف شفاف تحقیقات اور ٹرائل کرنے کے لیے جوڈیشل انکوائری کمیٹی تشکیل دے عدالت متاثرہ فیملیز کی امداد فراہم کرنے کا حکم دے تاکہ وہ اپنی روزمرہ زندگی شروع کرسکے

    دوسری جانب فیصل آباد انسداد دہشت گردی کی عدالت میں جڑانوالہ گھیراؤ جلائو واقعات کی سماعت ہوئی،انسداد دہشت گردی کی عدالت نے 55 ملزمان کو شناخت پریڈ کیلئے جیل بھیج دیا ،گرفتار ملزمان کو شناخت پریڈ کیلئے جیل بھجوانے کی استدعا تفتیشی افسران نے کی تھی

    دوسری جانب پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق کے فیکٹ فائنڈنگ مشن کے مطابق، 16 اگست کو جڑانوالہ میں مقامی مسیحی برادری پر ہجوم نے وحشیانہ حملے کر کے کم ازکم 24 گرجا گھروں، کئی چھوٹی عبادت گاہوں اوردرجنوں گھروں کو آگ لگائی اور لوٹ مار کی، ایک مسیحی شخص پر توہینِ مذہب کے الزامات لگنے اور افواہیں پھیلنے کے بعد مسجد کے اسپیکرز سے اعلانات کے ذریعے مسلمانوں کو کارروائی کرنے پر اکسایا گیا جس کے باعث قصبے میں ہزاروں لوگ جمع ہو‏گئے اور پھرانہوں نے مسیحی عبادت گاہوں اور گھروں کا رخ کر لیا ،اِس شبہ کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا کہ یہ ہجوم بغیر سوچے سمجھے یا اچانک جمع نہیں ہوا بلکہ مقامی مسیحوں کے خلاف وسیع تر نفرت انگیز مہم کا حصہ تھا.

    نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے جڑانوالہ واقعہ کا نوٹس لیا ہے

    جڑانوالہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے

     مسیحی قائدین کے پاس معافی مانگنے آئے ہیں،

    جڑانوالہ ہنگامہ آرائی کیس،گرفتار ملزمان کو عدالت میں پیش کر دیا گیا

    توہین کے واقعہ میں ملوث ملزم کو قرار واقعہ سزا دی جائے،تنظیم اسلامی

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اہلیہ کے ہمراہ متاثرہ علاقے کا دورہ کیا

  • ڈھوک سیداں،مسیحی بستی جلانے کی افواہ،علاقہ مکین گھرچھوڑ گئے

    ڈھوک سیداں،مسیحی بستی جلانے کی افواہ،علاقہ مکین گھرچھوڑ گئے

    راولپنڈی: ڈھوک سیداں برف خانہ میں واقع کرسچن کالونی میں رات گئے خوف و دہشت پھیل گئی

    کرسچن کالونی کے مکینوں نے راتوں رات بستی خالی کردی، علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ کرسچن کالونی میں افواء پھیلائی گئی بستی کو جلا دیا جائے گا، مسیحی برادری کے لوگ فیملیز اور بچوں کے ہمراہ گھر چھوڑ کر چلے گئے ،بیشتر فیملیز گھروں کو تالے لگا کر علاقہ چھوڑ گئے، اطلاع پر پولیس پہنچی اور کہا کہ کرسچن کالونی میں کسی شرپسند نے افواء پھیلائی کہ گھروں کو جلایا جائے گا، واقعہ کی تحقیقات کی جارہی ہے مسیحی برادری کو مکمل تحفظ فراہم کرینگے،

    پولیس حکام کے مطابق معاملہ مسیحی برادری کے دو فریقین کے مابین جائیداد کے تنازع پر پھیلا علاقے میں کسی قسم کی کشیدگی کی صورت حال نہیں ہے سینئیر افسران فوری موقعہ پر پہنچے ہیں، معاملہ مسیحی فیملی کا آپسی جائیداد تنازعہ اور ایک دوسرے کو دھمکیاں دینے کا ہے جسے غلط رنگ دینے کی کوشش کی گئی ہے، راولپنڈی پولیس علاقے میں موجود اور الرٹ ہے اور سینئر پولیس افسران معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

    ترجمان پولیس نے سوشل میڈیا پھر پھیلائی جانے والی بے بنیاد افواہوں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ راولپنڈی پولیس شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائے گی

    دوسری جانب پنجاب کے شہر جڑانوالہ میں گھروں اور گرجا گھروں کو جلانے کے واقعات کی تحقیقات کیلئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم ،جے آئی ٹی تشکیل دی گئی ہے، چھ رکنی جے آئی ٹی میں ایس ایس پی سی ٹی ڈی، ایس پی، ڈی ایس پی اور سب انسپکٹر شامل ہیں ،جو واقعہ کی تحقیقات کریں گے، آئی جی پنجاب نے جڑانوالہ میں جلاؤ گھیراؤ کے واقعات میں ملوث 170 ملزمان کی فہرست تیار کی تھی جس میں سے 160 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے ،

    علاوہ ازیں گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمن سے مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے علما کرام ، مشائخ اور مسیحی ، ہندواور سکھ مذہبی رہنمائوں کے وفد کی پیر ناظم حسین شاہ کی قیادت میں ملاقات ہوئی ہے، وفد میں بشپ سبستین شا ء۔، مفتی عاشق حسین، سردار بشن سنگھ، بھگت لال، مولانا عبدالوحید خان روپڑی، علامہ سید رضا کاظمی، سید علی مہدی، مفتی عمران حنفی، مولانا جاوید نقشبندی، مولانا عبدالعزیز سیالوی اور دیگر شامل تھے، علما مشائخ اور اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے ,مذہبی رہنماؤں نے جڑانوالہ میں قرآن پاک کی بے حرمتی اور اس کے ردعمل میں گرجا گھروں اور مکانوں کو جلائے جانے کے واقعات پر رنج و غم کا اظہار کیا ،وفد نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ذمہ داران کا تعین کر کے قرار واقعی سزا دی جائے۔ تمام مسلم کمیونٹی اپنے مسیحی بھائیوں کے ساتھ ہے اورکسی کے جان ، مال، عبادت گاہ کو خطرہ نہیں ہونا چاہیے۔ اقلیتی مذہبی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ کسی بھی مقدس کتاب کی بے حرمتی قابل قبول نہیں۔

    گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمن کا کہنا تھا کہ آج ہم سب جڑانوالہ واقعہ پر مذمتی ریفرنس اور مسیحی برادری سے اظہار یکجہتی کے لیے اکٹھے ہوئے ہیں۔ جڑانوالہ واقعہ میں مسلم کمیونٹی کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے واقعہ کے بعد مسیحی بہن بھائیوں کو اشیائے ضروریہ پہنچائیں۔ علما کرام کا بھی جنہوں نے مسیحی برادری کے لیے مساجد کھولیں۔ اسلام سمیت تمام مذاہب امن، برداشت اور بھائی چارے کا درس دیتے ہیں۔ بین المذاہب ہم آہنگی میں علما کا کلیدی کردار ہے۔مسیحی برادری کی تحریک پاکستان اور قیام پاکستان کے بعد تعلیم, صحت، دفاع قانون سمیت مختلف شعبوں میں ناقابل فراموش خدمات ہیں۔پاکستان کے آئین میں اقلیتیں ملک میں برابر کی شہری ہیں حکومت پاکستان اقلیتوں کے حقوق کے لیے پرعزم ہے۔ دونوں واقعات کے ذمہ داروں کا تعین کر کے قرار واقعی سزا دی جائے گی۔پنجاب حکومت نے مختصر عرصے میں چرچز پہلے سے بہتر حالت میں بحال کر کے مسیحی برادری کے حوالے کرنا شروع کر دیے ہیں۔

    بشپ سبستین شاء نے مسیحی برادری سے اظہار یکجہتی پر حکومت اور مسلم کمیونٹی کا شکریہ ادا کیا۔ آخر میں جڑانوالہ واقعہ کے متاثرین کے لیے دعا بھی کی گئی۔

    نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے جڑانوالہ واقعہ کا نوٹس لیا ہے

    جڑانوالہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے

     مسیحی قائدین کے پاس معافی مانگنے آئے ہیں،

    جڑانوالہ ہنگامہ آرائی کیس،گرفتار ملزمان کو عدالت میں پیش کر دیا گیا

    توہین کے واقعہ میں ملوث ملزم کو قرار واقعہ سزا دی جائے،تنظیم اسلامی

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اہلیہ کے ہمراہ متاثرہ علاقے کا دورہ کیا

  • جڑانوالہ،اتوار تک تمام چرچ بحال کرنے کی ہدایت کی ہے، خلیل جارج

    جڑانوالہ،اتوار تک تمام چرچ بحال کرنے کی ہدایت کی ہے، خلیل جارج

    نگران وفاقی وزیر خلیل جارج نے وزارت انسانی حقوق اور ویمن ایمپاورمنٹ کا چارج سنبھال لیا۔

    انہوں نے 17اگست کو بطور نگران وفاقی وزیر حلف اٹھایا تھا، وہ 2013 سے 2018 تک رکن قومی اسمبلی رہے ہیں۔ وہ 2013 سے 2018 تک پارلیمانی سیکرٹری وزارت مذہبی امور اور بین المذاہب ہم آہنگی کے عہدے پر تعینات رہ چکے ہیں۔ وہ پورٹس اینڈ شپنگ اور گلگت بلتستان سٹینڈنگ کمیٹی کے ممبر رہے ہیں۔ ماضی میں وہ 1999 میں دو بار ضلع کوئٹہ کے کونسلر منتخب ہوئے

    خلیل جارج نگران وفاقی وزیر انسانی حقوق اور ویمن امپاورمنٹ کا کہنا ہے کہ سانحہ جڑانوالہ کے کے متاثرین کی بحالی کے لئے ہر ممکن اقدامات کررہے ہیں۔ اتوار کو جڑانوالہ کے چرچز میں مسیحی برادری کی عبادت یقینی بنائیں گے۔مقامی انتظامیہ کو اتوار تک تمام چرچ بحال کرنے کی ہدایت کردی ہے۔ ایک دو چرچز کو بحال کردیا گیا ہے۔ جڑانوالہ کے تمام چرچ پوری طرح بحال اور ان کی تزئین و آرائش کریں گے۔ سانحہ جڑانوالہ کے 80 متاثرہ خاندانوں کو 20، 20 لاکھ روپے کے امدادی چیک دیے گئے ہیں۔ متاثرین کی آباد کاری کے لئے ہر ممکن اقدامات کئے جارہے ہیں۔ سانحہ جڑانوالہ کی معاشرے کے تمام طبقات نے مذمت کی ہے۔

    خلیل جارج کا کہنا تھا کہ متاثرین کی مدد و حمایت پر مسلمان بہن ،بھائیوں اور علماء کرام کے شکر گزار ہیں۔ نوجوان گمراہ کرنے والوں سے ہوشیار رہیں،بطور وزیر انسانی حقوق کے حوالے عوام کی بلا تخصیص مدد کروں گا۔ ہم دکھی انسانیت کی خدمت کے لیے آئے ہیں،ان کے حقوق کے ضامن ہیں۔خواتین اور اقلیتوں سے ناروا سلوک کے خاتمے کے لئے مل کر کام کریں گے۔لفٹ میں پھنسے افراد کو باحفاظت نکالنے پر پاک فوج اور ریسکیو ٹیموں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔

    نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے جڑانوالہ واقعہ کا نوٹس لیا ہے

    جڑانوالہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے

     مسیحی قائدین کے پاس معافی مانگنے آئے ہیں،

    جڑانوالہ ہنگامہ آرائی کیس،گرفتار ملزمان کو عدالت میں پیش کر دیا گیا

    توہین کے واقعہ میں ملوث ملزم کو قرار واقعہ سزا دی جائے،تنظیم اسلامی

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اہلیہ کے ہمراہ متاثرہ علاقے کا دورہ کیا

  • جڑانوالہ متاثرین کی بحالی کے لئے جہانگیر ترین کا ایک کروڑ روپے امداد کا اعلان

    جڑانوالہ متاثرین کی بحالی کے لئے جہانگیر ترین کا ایک کروڑ روپے امداد کا اعلان

    فیصل آباد۔ استحکام پاکستان پارٹی کے سربراہ جہانگیر ترین نے جڑانوالہ کا دورہ کیا

    جہانگیر ترین نے عیسی نگری میں چرچ کی بحالی کے کام کا جائزہ لیا،استحکام پاکستان پارٹی کے چئیرمین جہانگیر ترین جڑانوالہ پہنچ گئے،جہانگیر خان ترین کے ہمراہ اسحاق خاکوانی اور نعمان لنگڑیال موجود ہیں، جہانگیر ترین مسیحی متاثرین کیلئے مالی امداد کا اعلان بھی کرینگے۔ جہانگیر ترین بذریعہ ہیلی کاپٹر جڑانوالہ پہنچے ،جہانگیر خان ترین نے متاثرہ گھروں اور چرچز کا دورہ کیا اور متاثرین سانحہ جڑانوالہ سے ملاقات کی ،جہانگیر خان ترین نے واقعہ پر افسوس کا اظہار کیا اور متاثرین کی بحالی کے لئے ایک کروڑ روپے امداد کا اعلان کیا

    اس موقع پر جہانگیر ترین کا کہنا تھا کہ ہم مسیحی بھائیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہیں اور ان کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں، پاکستان کو بنے 75 سال ہو گئے آج تک ان لوگوں کو کوئی تکلیف نہیں ہوئی، پاکستان کا یہ کلچر نہیں ہے، کمیٹی بنا رہا ہوں، چودھری ظہیر الدین کمیٹی کی سربراہی کریں گے، یہاں پر کمیونٹی سنٹر بننا چاہیے،

    دوسری جانب گرجا گھروں اور مکانات کو نذر آتش کرنے کے کیس میں اب تک 207 ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا، نامزد ملزمان کو ویڈیوز اور جیو فینسنگ کی مدد سے گرفتار کیا گیا، دہشتگردی دفعات کے تحت مزید 11مقدمات درج کر لئے گئے، مزید 750سے زائد نامعلوم افراد کےخلاف پرچے کٹ گئے، مسیحی املاک پر حملوں کے درج مقدمات کی تعداد 21ہوگئی، مقدمات میں نامزد 118 ملزمان ریمانڈ پر پولیس حراست میں ہیں

    جڑانوالہ کیس میں پولیس نے وزیرآباد میں بھی کاروائی کی ہے اور مرکزی ملزمان کے محلے دار کو گرفتار کر لیا ہے پولیس نے پاسٹر عالم امجد کو حراست میں لیا ہے،پاسٹر عالم امجد کا ویڈیو بیان بھی سامنے آیا ہے کہ میرا ان واقعات سے کوئی لینا دینا نہیں اور نہ ہی اس دن میں جڑانوالہ میں تھا،پاسٹر عالم کی اہلیہ کا کہنا ہے کہ واقعہ کے دن عالم جڑانوالہ نہیں تھے بلکہ پشاور میں تھے اور انکا اس کیس سے کوئی لینا دینا نہیں،میرے شوہر اس کیس میں پکڑے گئے مرکزی ملزمان کے واقف کار ہیں

    دوسری جانب پاکستانی نژاد امریکی مذہبی رہنماو ں نے پاکستان کی حکومت کی طرف سے جڑانوالہ کی مسیحی برادری کا اعتماد بحال کرنے کیلئے کئے گئے اقدامات کو سراہا ہے،واشنگٹن ڈی سی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اقلیتوں کے تحفظ کے حوالے سے پاکستانی حکومت کے عزم اور جڑانوالہ کی مسیحی برادری سے اظہار یکجہتی کی بھی تعریف کی۔ امریکہ میں پاکستان کے سفیر مسعود خان نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے جڑانوالہ کے گھناونے واقعہ کی شدید مذمت کی اور کہا کہ یہ سماجی ہم آہنگی اور دونوں مذاہب کے پیرو کاروں کے درمیان مذہبی مراسم کو سبوتاژ کرنے کی سازش ہے۔ پاکستان کی پوری قیادت اور سول سوسائٹی ان مسیحی بہن بھائیوں کے شانہ بشانہ ہے جو جلاو گھیراو اور توڑ پھوڑ سے متاثر ہوئے ہیں۔

    جڑانوالہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے

     مسیحی قائدین کے پاس معافی مانگنے آئے ہیں،

    جڑانوالہ ہنگامہ آرائی کیس،گرفتار ملزمان کو عدالت میں پیش کر دیا گیا

    توہین کے واقعہ میں ملوث ملزم کو قرار واقعہ سزا دی جائے،تنظیم اسلامی

    نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے جڑانوالہ واقعہ کا نوٹس لیا ہے

    توہین رسالت کی مجرمہ خاتون کو سزائے موت سنا دی گئی

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جڑانوالہ آمد ہوئی 

  • سپریم کورٹ،جڑانوالہ واقعہ سے متعلق متفرق درخواست سماعت کیلئے مقرر

    سپریم کورٹ،جڑانوالہ واقعہ سے متعلق متفرق درخواست سماعت کیلئے مقرر

    سپریم کورٹ چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے جڑانوالہ واقعہ سے متعلق متفرق درخواست سماعت کیلئے مقرر کردی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے جڑانوالہ واقعہ پر سماعت کیلئے بینچ تشکیل دیدیا ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس شاہد وحید پر مشتمل بینچ کل سماعت کریگا سپریم کورٹ نے متعلقہ فریقین کو نوٹسز جاری کردئیے

    جڑانوالہ میں چرچ اور عیسائی برادری کے گھروں پر حملوں کے خلاف متفرق درخواست سپریم کورٹ میں دائر کی گئی تھی، درخواست میں سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی تھی سپریم کورٹ گھنائونے واقعے کا ازخود نوٹس لے ،درخواست اقلیتوں کے حقوق سے متعلق مقدمے میں دائر کی گئی ،درخواست میں استدعا کی گئی کہ اقلیتی برادری پر۔حملوں کی تحقیقات کا حکم دیا جائے ذمہ داروں کا تعین کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے ،درخواست منارٹیز الائنس ایمپلیمنٹشن کی جانب سے دی گئی تھی

    جڑانوالہ ،تباہی کے مناظر دیکھ کر ہر آنکھ اشکبار
    جڑانوالہ میں مسیحی برادری گھر واپس آنا شروع ہو گئی ہے، تباہی کے مناظر دیکھ کر ہر آنکھ اشکبار ہے، گھر، گرجا گھر، دکانیں سب کچھ جلا دیا گیا، مال و متاع لوٹ لیا گیا، گاڑیوں کو بھی آگ لگا دی گئی تھی، متاثرین کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں میں مقامی افراد کی بجائے باہر کے لوگ زیادہ تھے جن میں کم عمر لڑکے بھی شامل تھے، مقامی مسلمانوں نے انکو روکا لیکن شرپسند نہ رکے، جس کی وجہ سے انہیں جانیں بچا کر، سب کچھ چھوڑ کر بھاگنا پڑا،

    جڑانوالہ میں بدھ کے روز جلاؤ گھیراؤہوا تو اسکے مسیحی خاندانوں کو جانیں بچا کر بھاگنا پڑا، کئی خاندانوں نے رات کھیتوں میں گزاری، خواتین اور بچے بھی کھلے آسمان تلے رات گزارنے پر مجبور تھے، کئی مسیحی خاندانوں کو گھر چھوڑ کر اپنے عزیز و اقارب کے پاس دیگر علاقوں میں منتقل ہونا پڑا۔

    جڑانوالہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے

     مسیحی قائدین کے پاس معافی مانگنے آئے ہیں،

    جڑانوالہ ہنگامہ آرائی کیس،گرفتار ملزمان کو عدالت میں پیش کر دیا گیا

    توہین کے واقعہ میں ملوث ملزم کو قرار واقعہ سزا دی جائے،تنظیم اسلامی

    نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے جڑانوالہ واقعہ کا نوٹس لیا ہے

    توہین رسالت کی مجرمہ خاتون کو سزائے موت سنا دی گئی

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جڑانوالہ آمد ہوئی 

  • جڑانوالہ: چرچ کے اندر کابینہ اجلاس،20 لاکھ روپے فی گھر امداد کی منظوری

    جڑانوالہ: چرچ کے اندر کابینہ اجلاس،20 لاکھ روپے فی گھر امداد کی منظوری

    جڑانوالہ: نگران وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے چرچ کے اندر کابینہ اجلاس منعقد کیا-

    باغی ٹی وی : چرچ کے اندر منعقد کیے گئے کابینہ اجلاس میں میں تمام وزرا اور متعلقہ حکام نے شرکت کی چیف سیکرٹری نے کابینہ کا یک نکاتی ایجنڈا پیش کیا کابینہ نے اجلاس میں جڑانوالہ واقعہ کیلئے 20 لاکھ روپے فی گھر امداد کی منظوری دی محسن نقوی اس موقع پر کہا کہ بے شک مجھے 10 دفعہ یہاں آنا پڑے، سارے چرچ بحال کئے جائیں گے۔

    نگران وزیراعلیٰ نے کہا کہ واقعہ میں نذرآتش ہونے والے ہر گھر کے مالک کو بیس لاکھ فوری طور پر ملے گا، امدادی رقوم کے چیک جلد مالکان تک پہنچ جائیں گے سارے گرجا گھروں کی عیسائی برادری کی مرضی کے مطابق تعمیر و بحالی کی جائے گی 2 چرچ سو فیصد بحال کر دیئے گئے ہیں، تمام متاثرہ لوگوں کو انصاف دلانے کا وعدہ پورا کریں گے۔

    جڑانوالہ کیس:170 ملزمان کی فہرست تیار کر لی گئی

    قبل ازیں آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے کہا ہے کہ جڑانوالہ میں جلاؤ گھیراؤ کے واقعات میں ملوث 170 ملزمان کی فہرست تیار کر لی گئی ہے، آئی جی پنجاب نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ جڑانوالہ واقعے میں 160 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ ویڈیوز، جیو فینسنگ، ایجنسیوں کی رپورٹ اور نادرا ریکارڈ کی مدد سے ملزمان کی شناخت کر رہے ہیں، متاثرہ گھروں کی بحالی تک خواتین اے ایس پیز جڑانو الہ میں ڈیوٹی دیں گی، خواتین پولیس افسران مسیحی خواتین اور بچیوں کی سکیورٹی اور احساس تحفظ کو یقینی بنائیں گی –

    کم عمر ترین شہید پائلٹ آفیسر راشد منہاس

    واضح رہے کہ جڑانوالہ میں جلاؤ گھیراؤ کے واقعات کی تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ جلاؤ گھیراؤ کے واقعات میں 19 چرچ چلائے گئے۔ اور مظاہروں میں 86 مکانات کی توڑ پھوڑ کرکے جلایا گیا کرسچین کالونی میں 2 چرچ اور 29 مکانات کی تو پھوڑ اور جلایا گیا، عیسی نگری میں 3 چرچ جلائے، 40 مکانات کو نقصان پہنچایا گیا، چک 240 گ ب میں 2 چرچ جلائے، 12 مکانات کونقصان پہنچایا، چک 238 گ ب میں 2 چرچ جلائے،5 مکانات کو نذر آتش کیا گیا، چک 126 گ ب میں 4 چرچ محلہ فاروق پارک اورمہارانوالہ میں 2،2 چرچ نذر آتش کیے گئے۔

    فرح گوگی کےاکاؤنٹس میں ایک سال کے دوران کتنی رقم جمع کرائی گئی،رپورٹ منظرعام پر

    توہین مذہب کے مبینہ واقعے پر سٹی پولیس نے 2 الگ الگ مقدمات درج کرلیے ہیں، مقدمات میں امن کمیٹی سمیت 42 نامزد اور 600 نامعلوم ملزمان نامزد کئے گئے ہیں، جب کہ مقدمے میں شرانگیزی، دہشت گردی اور املاک کو نقصان پہنچانے کی دفعات کے علاوہ جلاؤ گھیراؤ اور توڑپھوڑ کی دفعات بھی شامل ہیں۔

  • جڑانوالہ کیس:170 ملزمان کی فہرست تیار کر لی گئی

    جڑانوالہ کیس:170 ملزمان کی فہرست تیار کر لی گئی

    لاہور: آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے کہا ہے کہ جڑانوالہ میں جلاؤ گھیراؤ کے واقعات میں ملوث 170 ملزمان کی فہرست تیار کر لی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی: آئی جی پنجاب نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ جڑانوالہ واقعے میں 160 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ ویڈیوز، جیو فینسنگ، ایجنسیوں کی رپورٹ اور نادرا ریکارڈ کی مدد سے ملزمان کی شناخت کر رہے ہیں، متاثرہ گھروں کی بحالی تک خواتین اے ایس پیز جڑانوالہ میں ڈیوٹی دیں گی، خواتین پولیس افسران مسیحی خواتین اور بچیوں کی سکیورٹی اور احساس تحفظ کو یقینی بنائیں گی ملزمان کے خلاف توہینِ مذہب کی دفعات 295 بی اور 295 سی کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ملزمان نے ایک درجن سے زائد گرجا گھروں اور کئی مکانات کو آگ لگا دی تھی۔

    سابق رکن قومی اسمبلی علی وزیر گرفتار

    دوسری جانب سانحہ جڑانوالہ میں جلائے گئے گرجا گھروں کی بحالی کا کام جاری ہے اور گرجا گھروں میں آج سروسز بھی ہوں گی ڈپٹی کمشنر کے مطابق حملہ آوروں نے 21 گرجا گھر جلائے اور 92 گھر تباہ کیے، جلاو گھیراؤ سے متاثرہ خاندانوں کی گھروں کو واپسی ہے۔

    گزشتہ روز سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج اور نامزد چیف جسٹس پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جڑانوالہ کا دورہ کیا جہاں انہوں نے سانحہ میں متاثر مکانات اورگرجا گھروں کی صورتحال کا جائزہ لیاجسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جڑانوالہ کے متاثرین سے بھی ملاقات کی جب کہ اس موقع پر ان کی اہلیہ بھی ان کے ہمراہ تھیں۔

    شیریں مزاری کی بیٹی ایمان مزاری گرفتار

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ڈپٹی کمشنر پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ واقعےکو 3 دن گزرگئے لیکن متاثرہ گلیاں صاف نہیں کی گئیں نامزد چیف جسٹس نے ڈپٹی کمشنر کو کرسچین کالونی کی گلیاں فوری صاف کرانے کی بھی ہدایات دیں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے دانش اسکول میں متاثرین سے ملاقات کی جس کے بعد وہ روانہ ہوگئے۔

  • ملک میں اب دہشت اور وحشت نہیں چلے گی،طاہر اشرفی

    ملک میں اب دہشت اور وحشت نہیں چلے گی،طاہر اشرفی

    پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین علامہ طاہر اشرفی نے جڑانوالہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں تمام مذاہب کو مکمل آزادی حاصل ہے،پاکستان میں اقلیتوں اور مسلمانوں کو برابری کے حقو ق حاصل ہیں،اسلام کسی مذہب کی توہین کی اجازت نہیں دیتا،جڑانوالہ میں ہونے والے نقصانات کا تدارک کیا جا رہا ہے،ملک میں اب دہشت اور وحشت نہیں چلے گی، ریاست اقلیتوں کو نقصان پہنچانے والوں کے ساتھ نہیں،پاکستان صرف مسلمانوں کا نہیں غیر مسلموں کا بھی ہے،

    قبل ازیں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے طاہر اشرفی کا کہنا تھا کہ انٹرنیشنل انٹرفیتھ ہارمنی کونسل، پاکستان علماء کونسل اور چرچز آف پاکستان کااعلی سطحی وفد جڑانوالہ میں جلائے گئے چرچ کے دورے کیلئے لاہور سے روانہ ہو گیا 50 رکنی وفد کی قیادت چیئرمین حافظ محمد طاہر محمود اشرفی ، چرچز آف پاکستان کے صدر بشپ آزاد مارشل اور کیتھولک چرچ آف پاکستان کے آرچ بشپ سبسٹین شاء کررہے ہیں

    جلائے گئے چرچ، گھر جلد بحال کیے جائیں :گریس بائبل فیلو شپ چرچ
    گریس بائبل فیلو شپ چرچ ،گریس فیلو شپ لاءفرم، گلوبل سہوترا ایسوسی ایشن اورکرسچن بزنس مین فیلو شپ کے عہدیداروں پر مشتمل ایک وفد نے جڑانوالہ میں کرسچین کالونی، ناصر کالونی، عیسیٰ نگری اور مہاراوالا کا دورہ کیا اور مقامی افراد کے ہمراہ نذر آتش کیے گئے چرچ اور مکانات کی صورتحال کا جائزہ لیا۔وفد میں شامل گریس بائبل فیلو شپ چرچ کے چیئرمین اور گلوبل سہوترا ایسوسی ایشن پنجاب کے صدر پیٹر چارلس سہوترا،کرسچن بزنس مین فیلو شپ کے صدر سلیم شاکر، سینئر نائب صدر تیمور سندھو ، گریس فیلو شپ لاءفرم کے شہباز فضل ایڈووکیٹ سرویا،میڈیا کوآڈینیٹرآفتاب گل ،پاسٹر عاشر جوزف،پاسٹر صام ، پاسٹر مقصود گل ، پاسٹر ارشد،روی بھٹی نے کہا ہے کہ جڑانوالہ میں مسیحی کمیونٹی کی عبادت گاہوں،مقدس کتاب بائبل اور مکانات نذر آتش کرکے معاشرے میںفتنہ اور فساد پھیلانے والے پاکستان دشمن ہیںلہٰذا حکومت اور عدالت سانحہ جڑانوالہ کے ملزمان کوسخت سزائیں دیکر عبرت کا نشان بنائے ، انہوں نے وفاقی اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ گرجاگھروں کو جلدازجلد اصل حالت مےں بحال کیا جائے اورنذر آتش کیے جانے والے گھروں کے نقصان کا تخمےنہ لگاکر متاثرہ خاندانوں کو فوری طور پر مالی امداد دی جائے۔گریس بائبل فیلو شپ چرچ کے چیئرمین اور گلوبل سہوترا ایسوسی ایشن پنجاب کے صدر پیٹر چارلس سہوتراکا کہنا تھا کہ پاکستان دُشمن عناصر مسلم مسیحی فسادات پھیلا کر اختلافات اور نفرت کے بیج بو کر قومی یکجہتی کو نقصان اور پاکستان میں عدم استحکام پیدا کر نا چاہتے ہیں لہٰذا ملکی سلامتی کےلئے باہمی اتحاد، برداشت اور رواداری کے رویوں کو اپنانے کی اشد ضرورت ہے۔ گریس فیلو شپ لاءفرم کے شہباز فضل ایڈووکیٹ سرویانے وفاقی وصوبائی حکومت اور سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ جڑانوالہ واقعہ کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے جو واقع کی شفاف تحقیقات کرکے قانون شکنوں اور مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچائے تاکہ آئندہ کوئی شخص کسی بھی مذہب کی عبادت گاہوں اور مقدس کتابوں کی توہین کرنے کی جسارت نہ کرسکے

    جڑانوالہ میں بدھ کے روز جلاؤ گھیراؤہوا تو اسکے مسیحی خاندانوں کو جانیں بچا کر بھاگنا پڑا، کئی خاندانوں نے رات کھیتوں میں گزاری، خواتین اور بچے بھی کھلے آسمان تلے رات گزارنے پر مجبور تھے، کئی مسیحی خاندانوں کو گھر چھوڑ کر اپنے عزیز و اقارب کے پاس دیگر علاقوں میں منتقل ہونا پڑا۔

    جڑانوالہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے

     مسیحی قائدین کے پاس معافی مانگنے آئے ہیں،

    جڑانوالہ ہنگامہ آرائی کیس،گرفتار ملزمان کو عدالت میں پیش کر دیا گیا

    توہین کے واقعہ میں ملوث ملزم کو قرار واقعہ سزا دی جائے،تنظیم اسلامی

    نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے جڑانوالہ واقعہ کا نوٹس لیا ہے

  • سانحہ جڑانوالہ کی شفاف تحقیقات کے لئے اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل

    سانحہ جڑانوالہ کی شفاف تحقیقات کے لئے اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل

    جڑانوالہ میں قرآن پاک کی مبینہ بے حرمتی کے بعد جلاو گھیراو کے واقعات کے بعد مسیحی خاندانوں کی گھروں میں واپسی شروع ہو گئی ہے، آئی جی پنجاب نے علاقے کا دورہ کیا، واقعہ میں ملوث 200 سے زائد افراد کی شناخت کر لی گئی ہے، 148 ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے ملوث ملزمان کی گرفتاری کے لیے جیو فینسنگ کی جارہی ہے

    جڑانوالہ میں جلاؤ گھیراؤ کے دوران مکانات اور گھروں کو ہونے والے نقصانات کا تخمینہ لگانے کے لیے قائم 8 رکنی کمیٹی نے کام کا آغاز کردیا ہے ،محکمہ مال کا عملہ مسیحی افراد سے ان کے نقصانات کا ڈیٹا حاصل کر رہا ہے ایڈیشنل کمشنر ریوینیو عبداللہ محمود کی سربراہی میں قائم 8 رکنی کمیٹی میں محکمہ بلڈنگ، پولیس، محکمہ ایکسائز اور دیگر محکموں کے ممبران شامل ہیں ،

    واپس آئیے، آپکے گھر آپکے منتظر ہیں،آئی جی پنجاب کا مسیحی برادری کے نام پیغام
    آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے جڑانوالہ کے دورے کے موقع پر مسیحی برادری کی خواتین، بچیوں اور مرد حضرات کو اپنے گھروں واپس لوٹنے کا پیغام دیا، آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے ویڈیو پیغام میں کہا کہ جڑانوالہ میں نماز فجر کے وقت ہم گئے ، 6500 کی نفری ہے، وزیراعلیٰ پنجاب کے حکم کے مطابق ری کنسٹرکشن کا عمل شروع ہو چکا، امن کمیٹی کے لوگوں سے ملاقات کی، یہ بہت بڑا سٹیپ ہے، بہت سی مسیحی فیملی واپس آ چکیں، ہم نے ان بچوں، فیملی کو دانش سکول میں منتقل کیا، بہت سی بچیاں گھروں میں واپس آنے کو تباہ ہیں، ہم سب کو گھروں میں بسائین گے ، سب واپس آ جائیں، فورسز موجود ہیں ،قیام و طعام کا بندوبست کر دیا گیاہے ،پولیس اپنا کام کرتی رہے گی، واپس آئیے، آپکے گھر آپکے منتظر ہیں

    دوسری جانب سانحہ جڑانوالہ کی شفاف تحقیقات کے لئے اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے، سی پی او عثمان اکرم کا کہنا ہے کہ کمیٹی میں وزارت داخلہ، سی ٹی ڈی، سینئر پولیس آفیسرز اور اسپیشل برانچ کے افسر شامل ہیں،کمیٹی شفاف تحقیقات کر کے حقائق پر مبنی رپورٹ پیش کرے گی،

    سوال کرتے ہیں کہ اب ازالہ کون کرے گا؟بشپ فرید
    علاوہ ازیں بشپ فرید سرفراز نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ے کہ توریت، زبور اور انجیل بھی آسمانی کتابیں ہیں جن کی بے حرمتی کی گئی ہمارے گھروں کو جلا دیا گیا،ہم سوال کرتے ہیں کہ اب ازالہ کون کرے گا؟ پاکستانی مسیحی تعداد میں اقلیت ہیں لیکن حیثیت میں برابر کے پاکستانی ہیں ہم نے پاکستان بنایا ہے اور پاکستان کو سنوارا ہے ہمیں دیکھنا ہے کہ ملک میں راواداری سے کیسے رہا جا سکتا ہے ہماری برادری بہت امن پسند ہیں آرٹیکل 25 سب کو مکمل آزادی کا حق دیتا ہے 21 چرچ اور 45 سے زائد گھروں کو جلایا گیا۔وزارت داخلہ اور وزارت تعلیم مذہبی رواداری پر کام کرنے کا کہتے آئے ہیں قرآن پاک اوررسول اللہ ﷺ کے فرمان پرعمل کیا جانا چاہیے

    جڑانوالہ ،تباہی کے مناظر دیکھ کر ہر آنکھ اشکبار
    جڑانوالہ میں مسیحی برادری گھر واپس آنا شروع ہو گئی ہے، تباہی کے مناظر دیکھ کر ہر آنکھ اشکبار ہے، گھر، گرجا گھر، دکانیں سب کچھ جلا دیا گیا، مال و متاع لوٹ لیا گیا، گاڑیوں کو بھی آگ لگا دی گئی تھی، متاثرین کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں میں مقامی افراد کی بجائے باہر کے لوگ زیادہ تھے جن میں کم عمر لڑکے بھی شامل تھے، مقامی مسلمانوں نے انکو روکا لیکن شرپسند نہ رکے، جس کی وجہ سے انہیں جانیں بچا کر، سب کچھ چھوڑ کر بھاگنا پڑا،

    جڑانوالہ میں بدھ کے روز جلاؤ گھیراؤہوا تو اسکے مسیحی خاندانوں کو جانیں بچا کر بھاگنا پڑا، کئی خاندانوں نے رات کھیتوں میں گزاری، خواتین اور بچے بھی کھلے آسمان تلے رات گزارنے پر مجبور تھے، کئی مسیحی خاندانوں کو گھر چھوڑ کر اپنے عزیز و اقارب کے پاس دیگر علاقوں میں منتقل ہونا پڑا۔

    نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے جڑانوالہ واقعہ کا نوٹس لیا ہے

    توہین رسالت کی مجرمہ خاتون کو سزائے موت سنا دی گئی

    توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم و توہین مذہب کا مقدمہ،دفاعی شہادت پیش کرنے کے لئے مزید مہلت کی استدعا مسترد

    پابندی کے بعد مذہبی جماعت کیخلاف سپریم کورٹ میں کب ہو گا ریفرنس دائر؟

    ن لیگ نے گرفتار مذہبی جماعت کے سربراہ کو اہم پیغام بھجوا دیا

    کالعدم جماعت کے ساتھ مذاکرات کا پہلا دور کامیاب، کس نے کیا اہم کردار ادا،شیخ رشید نے بتا دیا

    پولیس افسر و اہلکاروں کو حبس بے جا میں رکھنے کے واقعے کا مقدمہ درج

    جڑانوالہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے

     مسیحی قائدین کے پاس معافی مانگنے آئے ہیں،

    جڑانوالہ ہنگامہ آرائی کیس،گرفتار ملزمان کو عدالت میں پیش کر دیا گیا

    توہین کے واقعہ میں ملوث ملزم کو قرار واقعہ سزا دی جائے،تنظیم اسلامی