Baaghi TV

Tag: جڑانوالہ

  • قائد اعظم ہم شرمندہ ہیں آپ کے گھر جلانے والے زندہ ہیں،خلیل جارج

    قائد اعظم ہم شرمندہ ہیں آپ کے گھر جلانے والے زندہ ہیں،خلیل جارج

    نگران وفاقی وزیر انسانی حقوق خلیل جارج نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ جناح ہاؤس میں بلوچستان سے آئے انسانی حقوق و خواتین حقوق کا حلف لیا ہے،جناح ہائوس پہنچا تو سر شرم سے جھک گیا جس عظیم ہستی کا گھر تھا اس پر حملہ کیا گیا،

    خلیل جارج کا کہنا تھا کہ جنہوں نے ذہنوں کی گرومنگ کی ملک کا حشر نو مئی کو کیا اس سے قوم کا سر شرم سے جھک گیا، قائد اعظم ہم شرمندہ ہیں آپ کے گھر جلانے والے زندہ ہیں، جس طرح لڑوایا جا رہا ہے ملک تو عظیم قربانیوں سے بنا ہے مائوں بہنوں نے عزتیں لٹائیں ،ملک ہمیشہ اور پرچم سربلند رہے گا، جڑانوالہ چرچز کو جلایا جائے یا جناح ہائوس کو اگر ذمہ داروں کو سزا نہ دی گئی تو نوجوانوں کی مزید ذہن سازی ہوگی جو ملک کےلئے اچھا نہ ہوگا،ملک کو سنوارنا ہے نوجوانوں سے ہاتھ جوڑ کر اپیل کروں گا کسی کے بہکاوے میں مت آئیں،

    خلیل جارج کا کہنا تھا کہ شدت پسند کا کوئی مذہب نہیں ہوتا خدا کو ماننے والا کبھی کسی چرچ یا مقدس جگہ کو نہیں جلاتا، جڑانوالہ سانحہ سازش ہے جو بھی ہوا خواہ جناح ہائوس یا جڑانوالہ واقعہ اس کی مذمت کرتے رہیں گے،الیکشن کمیشن کا کام الیکشن کروانا ہے کوشش ہے الیکشن کمیشن کو ہدایت جاری کہ تیاری جاری رکھیں،سانحہ نو مئی کے لوگوں کو ہر صورت سزا ملنی چاہیے واجب ہوگیا جو دنیا کو چور کہتا خود کا کیا حال ہوا،جناح ہائوس یا نو مئی کے حملے کے دوران شہدا کے ماڈل کو جلایا گیا شہدا کے خاندان کیا سوچیں گے پاکستان کےلئے اچھا سائن نہیں ،نوجوان کی گرومنگ کی گئی ایسی سیاست کو ختم ہونا چاہئیے، وفاقی حکومت وزیراعظم کے حکم پر جڑانوالہ گیا بہت نقصان ہوا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا گھر جلائے گئے تاریخ میں پہلی بار مائیں بہنیں ڈر کر کھیتوں میں سو رہی تھیں،کمشنر کو ہدایت دی کہ وہ اپنے چرچز میں تعمیر مکمل ہونے کے بعد عبادت کریں گے،

    خلیل جارج کا کہنا تھا کہ پہلا وفاقی وزیر مسیح ہوں جس نے حلف لیا،شدت پسندی گھریا ملک میں ہو سکتی ہے سویڈن واقعہ پر بھی مذمت کی الہامی کتاب بائبل کی طرح قرآن بھی مقدس سمجھتے ہیں ،ہم سب کو مل کر ملک کے امن اور استحکام کے لیے کام کرنا ہوگا ملک کو عظیم سے عظیم تر بنانے کے لیے دل و جان سے کوشش کریں گے۔

    نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے جڑانوالہ واقعہ کا نوٹس لیا ہے

    جڑانوالہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے

     مسیحی قائدین کے پاس معافی مانگنے آئے ہیں،

    جڑانوالہ ہنگامہ آرائی کیس،گرفتار ملزمان کو عدالت میں پیش کر دیا گیا

    توہین کے واقعہ میں ملوث ملزم کو قرار واقعہ سزا دی جائے،تنظیم اسلامی

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اہلیہ کے ہمراہ متاثرہ علاقے کا دورہ کیا

  • جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کے ہمراہ جڑانوالہ آمد،متاثرین سے ملاقات

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کے ہمراہ جڑانوالہ آمد،متاثرین سے ملاقات

    جڑانوالہ میں قرآن پاک کی مبینہ بے حرمتی کے بعد جلاو گھیراو کے واقعات کے بعد مسیحی خاندانوں کی گھروں میں واپسی شروع ہو گئی ہے، سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اہلیہ کے ہمراہ متاثرہ علاقے کا دورہ کیا ہے، آئی جی پنجاب نے بھی علاقے کا دورہ کیا، تین دن بعد شہر کے حالات معمول پر آ چکے ہیں،

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جڑانوالہ آمد ہوئی ہے، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کرسچیئن کالونی کا دورہ کیا جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ سرینا عیسیٰ بھی ہمراہ تھیں، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جلائے جانے والےگھر اور چرچز دیکھے ،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے متاثرہ میسحی برداری سے گفتگو بھی کی ، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے متاثرہ خواتین کو دلاسے دیئے اور انکے ساتھ اظہار یکجہتی کیا،

    اس موقع پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے متاثرین سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگوں کو ڈرنے کی ضرورت نہیں،دکھ میں شریک ہونے آپ کے پاس خود آیا ہوں،انتظامیہ کو ہدایت کروں گا بحالی کا کام ہنگامی بنیادوں پر کریں آپ کو ہر قسم کا تحفظ کرنے میں مدد کروں گا، بہت دکھ تھا اسی لیے ذاتی طور پر ملنے آیا ہوں،

    مذہبی جذبات مجروح کرنے پر دس سال قید اور جرمانے کی سزا ہے،جسٹس قاضی فائز عیسی
    جسٹس قاضی فائز عیسی نے اپنا لکھا ہوا بیان میڈیا نمائندگان کے حوالے کیا، تحریری بیان میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ گمراہوں کے بے ہنگم ہجوم نے متعدد گرجا گھروں مسیحی آبادی مکانات کو جلایا، جڑانوالہ واقعے پر ایک مسلمان، پاکستانی اور انسان کی حیثیت سے نہایت گہرا صدمہ پہنچا، جسٹس قاضی فائز عیسی نے بیان میں اقلیتوں کے حقوق پر قرآنی آیات اور احادیث کے متعدد حوالے دیئے، اور کہا کہ گرجا گھروں پر حملہ کرنے والے نے قرآن اور نبی پاک ﷺ کی واضح ہدایات کی سنگین خلاف ورزی کی، قائد اعظم محمد علی جناح کی جانب سے غیر مسلم شہریوں کو دی گئی ضمانتوں کی بھی خلاف ورزی کی گئی، پاکستان کے آئین اور قانون کو پامال کیا گیا ہے پاکستانی پرچم میں سفید رنگ غیر مسلم شہریوں کی عکاسی اور ان کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بناتا ہے،

    جسٹس قاضی فائز عیسی نے اپنا لکھے ہوئے بیان میں اقلیتوں کے حوالے سے آئین میں موجود آرٹیکلز کا حوالہ بھی بیان میں دیا اورکہا کہ دفعات 295 اور 295 اے کے تحت مذہبی مقامات اور علامات کو نقصان پہنچانا جرم ہے، کسی کے مذہبی جذبات مجروح کرنے پر دس سال قید اور جرمانے کی سزا ہے، سلامتی کے مذہب کو ماننے والوں نے اپنی مذہبی تعلیمات پامال کرتے ہوئے وحشت اور ظلم کا مظاہرہ کیا، ہر مسلمان کا دینی فریضہ ہے وہ دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کی جان مال اور عبادت گاہ کی حفاظت کرے،اسلامی شریعت کی اس خلاف ورزی کو کسی بدلے یا انتقام سے جواز نہیں دیا جا سکتا،

    جڑانوالہ دورے کے دوران جسٹس قاضی فائزعیسی نے سی پی او کی سرزنش کی، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سوال کیا کہ کیا تحصیل کے سب سے بڑے پولیس آفیسر کا بیان ریکارڈ کیا ہے، ایس پی کو شامل تفتیش کیوں نہیں کیا گیا، آپ کےخیال میں درست تفتیش ہو رہی ہے؟، کیا پولیس والے خود سے کہیں گے کہ ہم غفلت میں تھے، سی پی او نے جواب دیا کہ سر میرٹ پر تفتیش ہو گی ، جسٹس قاضی فائز عیسی نے سوال کیا کہ میرٹ کا کیا مطلب ہے ؟ایک دم جتھا آ جائے تو الگ بات ہے مگر اعلانات کر کے کہا جائے گھروں سے نکلو، آپ کو ان باتوں کا خیال نہیں آیا؟ جسٹس قاضی فائز عیسی نے سوال کیا کہ کتنے بجے کا واقعہ ہے، سی پی او نے جواب دیا کہ سوا چھ بجے کا واقعہ ہے، قاضی فائز عیسی نے کہا کہ لوگ کہہ رہے ہیں چار بجے کے بعد کا واقعہ ہے، میں آپ سے الگ بات کر رہا ہوں آپ جواب کچھ اور دے رہے ہیں، آپ کو گھبراہٹ ہو رہی ہے، یہاں کا ایس پی کہاں ہے وہ یہاں کیوں نہیں موجود، قاضی فائز عیسی نے سی پی او کو ہدایت کی کہ جو بیان ریکارڈ کروانا چاہتے ہیں ان کے بیان ریکارڈ کریں، آپ قانون کے مطابق چلیں، تفتیش کریں، جسٹس قاضی فائز عیسی نے سوال کیا کہ یہاں کا اسسٹنٹ کمشنر کہاں پر ہے، سی پی او نے جواب دیا کہ ان کو معطل کر دیا گیا ہے،

    جڑانوالہ ، تین دن بعد حالات معمول پر، کاروباری مراکز کھل گئے
    جڑانوالہ میں تین دن بعد شہر میں حالات معمول پر آگئے، تین روز بعد کاروباری مراکز کھل گئے کرسچین کالونی میں نئے میٹرز لگا کر بجلی اور گیس بحال کر دی گئی ،کرسچین کالونی اور عیسی نگری کے اجڑے گھروں کے مکینوں کی واپسی جاری ہے،جلے گھروں اور تباہی کے مناظر دیکھ کر متاثرین رنجیدہ ہیں، دانش اسکول میں متاثرہ فیملیز کے قیام و طعام کے انتظامات کئے گئے ہیں، دانش سکول میں مقیم اور کرسچین کالونی میں لوٹنے والوں کیلئے پولیس کی جانب سے ناشتے کا انتظام کیا گیا ہے، مسیحی آبادیوں کے باہر پولیس اور رینجرز تعینات ہے، آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کی ہدایت پر دانش سکول جڑانوالہ اور بستی شیروں میں پنجاب پولیس کی طرف سے قائم کئے گئے ریلیف کیمپس میں مسیحی برادری کے افراد کو کھانے کی فراہمی جاری ہے، سی پی او فیصل آباد عثمان اکرم گوندل اور دیگر سینئر افسران خود کھانا فراہم کرنے کے کام کی نگرانی کر رہے ہیں

    اس وقت عیسائی، ہندو، مسلمان اور سکھ بن کر نہیں بلکہ پاکستانی بن کر سوچیں،آئی جی پنجاب
    آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے جڑانوالہ کا دورہ کیا اور متاثرہ کرسچین کالونی اور دیگر مقامات کا جائزہ لیا، اس موقع پر آئی جی پنجاب عثمان انور کا کہنا تھا کہ اتوارکو جڑانوالہ میں سروسز ہوں گی اور گرجا گھروں کو مکمل تحفظ دیا جائے گا واپسی کا سفر شروع ہوچکا ہے، متاثرہ افراد پہلے سے بہتر گھروں میں واپس جائیں گے جلاؤ گھیراؤ کرنے والوں کی ویڈیوز اور تصاویر ہیں جس پر ہرپہلو سے تفتیش ہوگی کسی بے گناہ کو سزا نہیں ملے گی اور نہ ہی کسی کو بغیر وجہ سلاخوں کے پیچھے رکھا جائے گا ،اس وقت عیسائی، ہندو، مسلمان اور سکھ بن کر نہیں بلکہ پاکستانی بن کر سوچیں

    جڑانوالہ ،تباہی کے مناظر دیکھ کر ہر آنکھ اشکبار
    جڑانوالہ میں مسیحی برادری گھر واپس آنا شروع ہو گئی ہے، تباہی کے مناظر دیکھ کر ہر آنکھ اشکبار ہے، گھر، گرجا گھر، دکانیں سب کچھ جلا دیا گیا، مال و متاع لوٹ لیا گیا، گاڑیوں کو بھی آگ لگا دی گئی تھی، متاثرین کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں میں مقامی افراد کی بجائے باہر کے لوگ زیادہ تھے جن میں کم عمر لڑکے بھی شامل تھے، مقامی مسلمانوں نے انکو روکا لیکن شرپسند نہ رکے، جس کی وجہ سے انہیں جانیں بچا کر، سب کچھ چھوڑ کر بھاگنا پڑا،جڑانوالہ میں ہر گھر کی ایک الگ کہانی، مظاہرین نے لوگوں کے گھروں میں سامان کو بھی لوٹ لیا سندس جس کی شادی نومبر میں ہونا تھی اس کے جہیز کا سارا سامان لوٹ لیا گیا ،کرسچن کالونی اور عیسی نگری کے متاثرین کا کہنا تھا کہ ان کی جمع پونجی کو جلا دیا گیا یا لوٹ لیا گیا، سندس کا کہنا تھا کہ اسکا ساراجہیز بنا ہوا تھا، اوون، فریج، بسترے،مکمل جہیز تھا غلطی کسی کی اور سزا ہمیں ملی کیوں؟

    جڑانوالہ میں بدھ کے روز جلاؤ گھیراؤہوا تو اسکے مسیحی خاندانوں کو جانیں بچا کر بھاگنا پڑا، کئی خاندانوں نے رات کھیتوں میں گزاری، خواتین اور بچے بھی کھلے آسمان تلے رات گزارنے پر مجبور تھے، کئی مسیحی خاندانوں کو گھر چھوڑ کر اپنے عزیز و اقارب کے پاس دیگر علاقوں میں منتقل ہونا پڑا۔

    نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے جڑانوالہ واقعہ کا نوٹس لیا ہے

    توہین رسالت کی مجرمہ خاتون کو سزائے موت سنا دی گئی

    توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم و توہین مذہب کا مقدمہ،دفاعی شہادت پیش کرنے کے لئے مزید مہلت کی استدعا مسترد

    پابندی کے بعد مذہبی جماعت کیخلاف سپریم کورٹ میں کب ہو گا ریفرنس دائر؟

    ن لیگ نے گرفتار مذہبی جماعت کے سربراہ کو اہم پیغام بھجوا دیا

    کالعدم جماعت کے ساتھ مذاکرات کا پہلا دور کامیاب، کس نے کیا اہم کردار ادا،شیخ رشید نے بتا دیا

    پولیس افسر و اہلکاروں کو حبس بے جا میں رکھنے کے واقعے کا مقدمہ درج

    جڑانوالہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے

     مسیحی قائدین کے پاس معافی مانگنے آئے ہیں،

    جڑانوالہ ہنگامہ آرائی کیس،گرفتار ملزمان کو عدالت میں پیش کر دیا گیا

    توہین کے واقعہ میں ملوث ملزم کو قرار واقعہ سزا دی جائے،تنظیم اسلامی

  • تشدد سے پاک معاشرے کے فروغ کی طرف جانا ہو گا،مولانا عبدالخبیر آزاد

    تشدد سے پاک معاشرے کے فروغ کی طرف جانا ہو گا،مولانا عبدالخبیر آزاد

    چیئرمین انٹر فیتھ کونسل فار پیس اینڈ ہارمونی پاکستان ،رویئت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مولانا عبدالخبیر آزاد نے لاہور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ جڑانوالہ واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں،

    اقلیتی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا عبدالخبیر آزاد کا کہنا تھا کہ پاکستان کو بہت سارے چیلنجز کا سامنا ہے، دشمن ہمیشہ ہمیں آپس میں لڑانے کی سازشیں کرتا ہے، سویڈن میں قرآن پاک کی بے حرمتی پر مسیحی برادری نے احتجاج کیا،اسلام امن اور سلامتی کا دین ہے،احترام انسانیت، تشدد سے پاک معاشرے کے فروغ کی طرف جانا ہو گا، درندہ صفت لوگوں نے لوگوں کو اکٹھا کیا، اعلٰی سطح پر واقعے کی تحقیقات ہونی چاہئیں، آسمانی کتاب کا احترام ہمارے ایمان کا حصہ ہے،

    مولانا عبدالخبیر آزاد کا کہنا تھا کہ ملک دشمن عناصر کی سازشوں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے جن لوگوں نے یہ عمل کیا انہیں قرار واقعی سزا دی جائے تمام مکاتب فکر نے جڑانوالہ واقعے کی مزمت کی قرآن ہو، زنبور ہو، توارت ہو یا انجیل ان کی تعظیم ضروری ہے اسلامی ریاست میں اقلیتوں کے تحفظ کے احکامات ہیں

    توہین کے واقعہ میں ملوث ملزم کو قرار واقعہ سزا دی جائے،تنظیم اسلامی
    دوسری جانب ترجمان تنظیم اسلامی کا کہنا ہے کہ اقلیتوں کی جان ،مال اور عزت کی حفاظت حکومت کی دینی اور قومی ذمہ داری ہے۔تنظیم اسلامی جڑانوالہ میں عیسائی برادری کی املاک اور گرجا گھروں پر حملہ اور جلاؤ گھیراؤ کی شدید مذمت کرتی ہے۔ اسلام میں اقلیتوں کی جان و مال اور عبادت گاہوں کی حفاظت کرنا حکومت کا فرض ہے۔ پھر یہ کہ ہمارا آئین بھی اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔ یقیناٗ قرآن پاک اور نبی مکرم ﷺ کی ناموس مسلمانوں کے نزدیک اُن کی جان، مال اور ہر شے پر مقدم ہے۔ درحقیقت یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ اگر ایسے گھناؤنے فعل کا ارتکاب ہو تو انتظامی سطح پر شفاف اور غیر جانبدار تحقیق کرکے مجرم کو تعزیراتِ پاکستان کے مطابق قرار واقعی سزا دی جائے۔ البتہ بلوائیوں کو ہرگز یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ قانون کو ہاتھ میں لے کر ملک کے شہریوں کی جان، مال اور عزت و آبرو پر حملہ کریں اور غیر مسلموں کی مقدسات کا جلاؤ گھیراؤ کریں۔ سوال یہ ہے کہ ضلعی اور صوبائی انتظامیہ نے نقض امن عامہ کے اس شرم ناک واقعہ کی روک تھام کے لیے کوئی قدم کیوں نہیں اُٹھایا۔ ہمارا حکومتِ پاکستان سے مطالبہ ہے کہ ایک طرف قرآن پاک اور نبی اکرم ﷺ کی توہین کے واقعہ میں ملوث ملزم کو قرار واقعہ سزا دی جائے اور دوسری طرف عیسائی برادری کے گرجاگھروں اور املاک کو نقصان پہنچانے کے ذمہ دار تمام افراد کو بھی سخت سزا دی جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات کو روکا جا سکے۔

    گرجا گھرجلا دیئے جائیں تو کس سے جا کر بات کریں،طاہر اشرفی
    چیئرمین پاکستان علماء کونسل طاہر محمود اشرفی نے جمعہ کے خطبہ سے خطاب کرتے ہوئے قرآن پاک اور تورات نذر آتش کرنے والوں کو سزائیں دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ملزمان کے ٹرائلز میں تاخیر نہ کی جائے، اگر کوئی شخص توہین قرآن یا توہین نبی کرتا ہے تو ہمیں تھانے جانا چاہئے خود ہی منصف نہیں بننا ہے ہماری ذمہ داری ریاست کو اطلاع دینا ہے، بیرونی ملک میں اگر توہین مذہب ہو تو ہم احتجاج کرتے ہیں جب ہمارے ملک میں گرجا گھرجلا دیئے جائیں تو کس سے جا کر بات کریں مغربی دنیا کہے گی کہ پہلے اپنے گھر کی تو خبر لیں

    سانحہ جڑانوالہ کی ہمہ جہت تحقیقات ہونی چاہیے ، صاحبزادہ زاہد محمود قاسمی
    چیئرمین مرکزی علماء کونسل وسیکرٹری جنرل انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ پاکستان صاحبزادہ زاہد محمود قاسمی نے مرکزی جامع مسجد گول میں جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ جڑانوالہ کی ہمہ جہت تحقیقات ہونی چاہیے انتشار میں خفیہ بیرونی سازش کو بھی مد نظر رکھا جائے قرآن مجید کی توہین کے بعد مسیحی آبادی گرجا گھروں پر حملے مسلم مسیحی فسادات پھیلانے کی گہری مذموم سازش ہے اسلام میں اقلیتوں کے حقوق ہیں تعلیمات نبوی اور دور خلافت راشدہ میں اقلیتوں کے حقوق واحترام و تحفظ کی روشن مثالیں موجود ہیں اسلام میں اقلیتوں کے جو حقوق ہیں دوسرے کسی معاشرے میں اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا جڑانوالہ واقعہ میں ملوث افراد کو گرفتار کیا جائے سانحہ جڑانوالہ پر علماء کرام مذہبی جماعتوں اور دینی حلقوں کی جانب سے پرزور مذمت کی گئی ہے جڑانوالہ واقعات کے پیچھے پاکستان دشمن قوتوں کی سازش کو بھی مد نظر رکھا جائے حکومت کو اس سانحہ کی ہمہ جہت تحقیقات کرکے اصل حقائق قوم کے سامنے لانے چاہئیں بھارت میں اقلیتوں پر تشدد دہشت گردی اقوام عالم کو کیوں دیکھائی نہیں دیتی بھارت میں خود ریاست اقلیتوں پر ظلم کررہی ہے جبکہ پاکستان کے ریاستی اداروں نے فساد پھیلانے والوں کے خلاف ضروری قانونی کارروائی شروع کردی ہے مذہبی جماعتوں نے اس معاملے پر فساد کرنے والوں کی حمایت نہیں کی ریاست انصاف سے کام لیتے ہوئے قرآن کی توہین اور اس کے رد عمل میں ہر نوع کا فساد پھیلانے شر انگیزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق اقدامات کرے توہین قرآن توہین مذہب اور مقدسات کی اہانت کرنے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور ایسے نازک امور میں سینیئر افسران معاملے کو سنجیدہ لیں اور فوری طور پر اعلیٰ حکام اس قسم کے نازک معاملات کو فریقین کے سینیئر رہنماؤں کی معاونت سے حل کرنے کی فوری کوشش کریں جڑانوالہ واقعہ کی تمام پہلوؤں سے تحقیق کروانی چاہئے عدل و انصاف کو یقینی بنایا جائے

    جڑانوالہ میں بدھ کے روز جلاؤ گھیراؤ ہوا تو اسکے مسیحی خاندانوں کو جانیں بچا کر بھاگنا پڑا، کئی خاندانوں نے رات کھیتوں میں گزاری، خواتین اور بچے بھی کھلے آسمان تلے رات گزارنے پر مجبور تھے، کئی مسیحی خاندانوں کو گھر چھوڑ کر اپنے عزیز و اقارب کے پاس دیگر علاقوں میں منتقل ہونا پڑا۔

    نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے جڑانوالہ واقعہ کا نوٹس لیا ہے

    توہین رسالت کی مجرمہ خاتون کو سزائے موت سنا دی گئی

    توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم و توہین مذہب کا مقدمہ،دفاعی شہادت پیش کرنے کے لئے مزید مہلت کی استدعا مسترد

    پابندی کے بعد مذہبی جماعت کیخلاف سپریم کورٹ میں کب ہو گا ریفرنس دائر؟

    ن لیگ نے گرفتار مذہبی جماعت کے سربراہ کو اہم پیغام بھجوا دیا

    کالعدم جماعت کے ساتھ مذاکرات کا پہلا دور کامیاب، کس نے کیا اہم کردار ادا،شیخ رشید نے بتا دیا

    پولیس افسر و اہلکاروں کو حبس بے جا میں رکھنے کے واقعے کا مقدمہ درج

    جڑانوالہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے

     مسیحی قائدین کے پاس معافی مانگنے آئے ہیں،

    جڑانوالہ ہنگامہ آرائی کیس،گرفتار ملزمان کو عدالت میں پیش کر دیا گیا

  • عوام مشکل میں،ہمیں اخراجات بڑھانے کا کوئی اخلاقی حق نہیں،مرتضیٰ سولنگی

    عوام مشکل میں،ہمیں اخراجات بڑھانے کا کوئی اخلاقی حق نہیں،مرتضیٰ سولنگی

    نگران وفاقی وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے وفاقی کابینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کو عوام کے منتخب نمائندے چلائیں گے، ہر صورت حلف کی پاسداری کریں گے،

    مرتضیٰ سولنگی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے کہا مسئلہ کشمیر کو نظر انداز نہیں کریں گے وزیراعظم نے ملک کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر و بحالی پر زور دیا،اسلام کے نام پر کسی دوسرے مذہب کی تضحیک نہیں ہونے دیں گے،میری پہلی میٹنگ چیف الیکشن کمشنر کیساتھ تھی، شفاف انتخابات کیلئے نگران وفاقی کابینہ کے عزم سے آگاہ کیا، معاشی بدحالی، مہنگائی، غربت ایک حقیقت ہے 2015 اور 16 کے بعد ملکی حالات خراب ہونا شروع ہوئے،پٹرولیم قیمتوں میں اضافہ مہنگائی کا طوفان ساتھ لے کر آتا ہے، آئی ایم ایف کے منجمد پروگرام کو دھکا دیکر اسٹارٹ کرایا،ہم آئی ایم ایف کیساتھ اسٹینڈ بائی معاہدے میں ہیں،کوشش ہوگی ٹیکسوں کو بےدردی سے خرچ نہ کریں،عوام مشکل میں ہیں، ہمیں اخراجات بڑھانے کا کوئی اخلاقی حق نہیں،انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، الیکشن کمیشن نے ویب سائٹ پر پورا شیڈول دیا ہوا ہے، الیکشن کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے وہ 90 دن یا فروری میں الیکشن کرائے ہماری کوئی خواہش نہیں،وزیراعظم نے کہا الیکشن والے دن پہلا ووٹ میں اور میری کابینہ کاسٹ کرینگے

    نگران وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی کا کہنا تھا کہ میرے پاس پتلی گلی کا راستہ ہے یہاں سے اٹھ کر سامنے آکر بیٹھ جاؤں گا، ہم کسی کیس کو تیز کرنے میں اپنا کردار ادا نہیں کریں گے، ہم اس سب سے مکمل طور پر باہر ہیں،پوری کوشش ہوگی اپنے حلف کی پاسداری کریں، وزیراعظم اور کابینہ کے فیصل آباد واقعہ کے حوالے سے جذبات آپ کے سامنے رکھے، یہ 25 کروڑ پاکستانیوں کا ملک ہے ان کے عقائد جو بھی ہوں، تمام عقائد کا احترام ہماری اور ریاست کی ذمہ داری ہے،یقین ہے آپ کا دل بھی میری اور متاثرین کی طرح دکھی ہے،پاکستان میں عدم برداشت کی بھٹیاں بڑی دیر سے جل رہیں، جہاں قانون، ریاست اور سیکورٹی اداروں نے کردار ادا کرنا ہے وہاں آپ کا بھی کردرا ہے، ہم اس کے ماننے والے ہیں جو رحمت العالمین ہے، ریاست اپنی ذمہ داری پوری بلا تخصیص کرے گی، اس پر آرمی چیف نے بھی بیان دیا،ہمارا کام ہے نفرت کے لاوے کو ختم کریں،ہر کام صرف ڈنڈے سے ٹھیک نہیں ہوتا،ہمارے پاس تحریری آئیں اور ادارے بھی موجود ہیں جو عمل درآمد کروائیں گے،

    نگران وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کو اگر انتخابات کا حکم دیا گیا تو ہم الیکشن کمیشن کے ساتھ انتخابات کروائیں گے، میں نے آج اپنے دائیں بائیں اور سامنے کابینہ اراکین کو دیکھا سب اچھے لوگ لگے،آپ کابینہ اور وزیراعظم کو ان کے اعمال سے جج کریں ہمارے کام بولیں گے،

    پولیس افسر و اہلکاروں کو حبس بے جا میں رکھنے کے واقعے کا مقدمہ درج

    جڑانوالہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے

     مسیحی قائدین کے پاس معافی مانگنے آئے ہیں،

    نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے جڑانوالہ واقعہ کا نوٹس لیا ہے

    توہین رسالت کی مجرمہ خاتون کو سزائے موت سنا دی گئی

  • ہم شرمندہ ہیں!! (سانحہ جڑانوالہ) ،ازقلم:حسین ثاقب

    ہم شرمندہ ہیں!! (سانحہ جڑانوالہ) ،ازقلم:حسین ثاقب

    یہ نہیں اسلام کا پیغام، ہم شرمندہ ہیں
    اے نجاشی! لائقِ اکرام، ہم شرمندہ ہیں

    تاجدارِ حبش! فخرِ عیسیٰ و عیسائیت
    خیر خواہِ بانئ اسلام، ہم شرمندہ ہیں

    تیرے دامن میں ملی اسلام کو جائے اماں
    یہ نہیں احسان کا انعام، ہم شرمندہ ہیں

    تیرے ہم مذہب بہت ہیں محترم اپنے لئے
    کیا دیا ہم نے مگر پیغام، ہم شرمندہ ہیں

    درد کا چارہ تھا واجب درد کے ہنگام میں
    ہم ہوئے لیکن سدا ناکام ہم شرمندہ ہیں

    جاں گنوا کر بھی حفاظت چاہئے سب کی مگر
    کر نہ پائے ہم کوئی اقدام، ہم شرمندہ ہیں

    ابنِ مریم بھی رسولِ حق ہیں اپنے دین میں
    کچھ نہیں اس بات میں ابہام، ہم شرمندہ ہیں

    اے خداوندانِ نفرت! اب رہے گا حشر تک
    اپنے سر اس بات کا الزام، ہم شرمندہ ہیں

    کتابیں ساتھ دیتی ہیں

  • جڑانوالہ ہنگامہ آرائی کیس،ملزمان جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

    جڑانوالہ ہنگامہ آرائی کیس،ملزمان جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

    جڑانوالہ ہنگامہ آرائی کیس،گرفتار ملزمان کو عدالت میں پیش کر دیا گیا

    ملزمان کو سخت سیکورٹی میں عدالت پیش کیا گیا، عدالت نے 128 ملزمان کو دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا، عدالت نے دو دن بعد ملزمان کو دوبارہ عدالت پیش کرنے کا حکم دے دیا،

    دوسری جانب جڑانوالہ میں جلاو گھیراو کے واقعات میں نقصانات کی رپورٹ تیار کر لی گئی، ابتدائی رپورٹ کے مطابق جلاو گھیراو کے واقعات میں 19 چرچ چلائے گئے۔ پرتشدد مظاہروں میں 86 مکانات کی توڑ پھوڑ کی اور جلایا گیا۔ کرسچین کالونی میں 2 چرچ اور 29 مکانات کی توڑ پھوڑ اور جلایا گیا۔ عیسی نگری میں 3 چرچ جلائے، 40 مکانات کو نقصان پہنچایا گیا۔ چک 240 گ ب میں 2 چرچ جلائے 12 مکانات کو نقصان پہنچایا۔ چک 238 گ ب میں 2 چرچ جلائے اور 5 مکانات کو جلایا گیا۔ چک 126 گ ب میں 4 چرچ محلہ فاروق پارک اور مہارانوالہ میں 2،2 چرچ جلائے ۔ محلہ کیمپ اور ٹیلی فون ایکسچینج کے قریب ایک ایک چرچ کو جلایا گیا۔

    جڑانوالہ میں قرآن پاک کی مبینہ بے حرمتی کے بعد جلاو گھیراو کے واقعات ،جلاو گھیراو کے واقعات کے مقدمات میں ملوث مزید 17 ملزمان گرفتارکر لئے گئے،پانچ مقدمات میں گرفتار ملزمان کی تعداد 145 ہو گئی ۔ تھانہ سٹی جڑانوالہ میں 4 مقدمات، تھانہ لنڈیانوالہ میں ایک مقدمہ درج ہوا۔ پانچ مقدمات میں 134 نامزد افراد سمیت 1470 ملزمان ملوث ہیں۔ پنجاب کے شہر جڑانوالہ میں افسوسناک واقعہ پیش آیا تھا، قرآن مجید کی مبینہ طور پر بے حرمتی کے بعد مشتعل افراد نے مسیحی برادری کے املاک کو آگ لگا دی، چرچوں سے سامان باہر پھینکا، اور چرچ جلا دیئے، صلیب اتار دی، واقعات کے بعد جڑانوالہ میں دفعہ 144 نافذ کی گئی ہے، شہر میں رینجرز اور پولیس تعینات ہے،

    کرسچن بزنس مین فیلو شپ کے صدر سلیم شاکرنے ضلع فیصل آباد کی تحصیل جڑانوالہ میں کرسچین کالونی، ناصر کالونی، عیسیٰ نگری، مہاراوالامیں مسیحی کمیونٹی کی عبادت گاہوں ،مقدس کتاب بائبل اور مکانات کو آگ لگانے کے دلخراش اور افسوسناک واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے نگراں وزیر اعظم انوارالحق کاکڑ،نگراں وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی ،آرمی چیف اور چیف جسٹس پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ مسیحی کمیونٹی اور ان کی عبادت گاہوں کو تحفظ فراہم کیا جائے اور جڑانوالہ واقعہ میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے عبرت کا نشان بنایا جائے ۔

    ۔کرسچن بزنس مین فیلو شپ کے صدراور لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی ہیومن رائٹس کمیٹی کے کنونیئرسلیم شاکر نے کہا کہ توہین مذہب کی آڑ میں مسیحی کمیونٹی کے گھروں اور عبادت گاہوں پر حملے عدم برداشت کی بدترین مثالیں ہیں جس کی دین اسلام اور آئین پاکستان ہرگز اجازت نہیں دیتاہے،مسیحی کمیونٹی نے پاکستان بنانے میں اہم ترین کردار ادا کیا تھا پاکستان کی سلامتی اور دفاع کیلئے بے شمار قربانیاں بھی دی ہیں،مسیحی کمیونٹی نے اپنے خون سے پاکستان کی آبیاری کی ہے لہٰذا جڑانوالہ واقعہ کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے جو واقع کی شفاف تحقیقات کرکے مسیحیوں کی عبادت گاہوں اور مکانات کو آگ لگانے والے افراد کو عبرت ناک سزا دے۔کرسچن بزنس مین فیلو شپ کے صدر سلیم شاکرکا کہنا تھا کہ معاشرتی اتحاد و اتفاق کیلئے رواداری کا فروغ ضروری ہے اگر ہم نے آج سنجیدگی سے اس مہلک معاشرتی بیماری کے خاتمے پرتوجہ نہ دی تو تاریخ شاہد ہے کہ جس قوم میں صبر و برداشت اور رواداری دم توڑ جاتی ہے اس قوم کا نام و نشان مٹ جاتا ہے

    جڑانوالہ میں بدھ کے روز جلاؤ گھیراؤ ہوا تو اسکے مسیحی خاندانوں کو جانیں بچا کر بھاگنا پڑا، کئی خاندانوں نے رات کھیتوں میں گزاری، خواتین اور بچے بھی کھلے آسمان تلے رات گزارنے پر مجبور تھے، کئی مسیحی خاندانوں کو گھر چھوڑ کر اپنے عزیز و اقارب کے پاس دیگر علاقوں میں منتقل ہونا پڑا۔

    نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے جڑانوالہ واقعہ کا نوٹس لیا ہے

    توہین رسالت کی مجرمہ خاتون کو سزائے موت سنا دی گئی

    توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم و توہین مذہب کا مقدمہ،دفاعی شہادت پیش کرنے کے لئے مزید مہلت کی استدعا مسترد

    پابندی کے بعد مذہبی جماعت کیخلاف سپریم کورٹ میں کب ہو گا ریفرنس دائر؟

    ن لیگ نے گرفتار مذہبی جماعت کے سربراہ کو اہم پیغام بھجوا دیا

    کالعدم جماعت کے ساتھ مذاکرات کا پہلا دور کامیاب، کس نے کیا اہم کردار ادا،شیخ رشید نے بتا دیا

    پولیس افسر و اہلکاروں کو حبس بے جا میں رکھنے کے واقعے کا مقدمہ درج

    جڑانوالہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے

     مسیحی قائدین کے پاس معافی مانگنے آئے ہیں،

  • چرچز کو جلانا،گھروں کو نذرآتش کرنا کسی صورت قبول نہیں،حافظ نعیم

    چرچز کو جلانا،گھروں کو نذرآتش کرنا کسی صورت قبول نہیں،حافظ نعیم

    امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے سینٹ پیٹرک چرچ کا دورہ کیا ،اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جڑانوالہ میں جو واقعہ رونما ہوا ہے سراج الحق نے پر زور مذمت کی ہے پاکستانی قوم مسیحی برادری کے ساتھ ہے چرچز کو جلانا اور گھروں کو نذر آتش کرنا کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا قرآن پاک ہمیں سب کی تحفظ کا درس دیتا ہے،لوگوں کی تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے قرآن پاک کی بے حرمتی دنیا بھر میں ہو رہی ہے،واقعات کا رد عمل سامنے بھی آتا ہے سویڈن میں قرآن پاک کی بے حرمتی کے خلاف احتجاج میں مسیحی برادری نے شرکت کی تھی قرآن پاک کی بے حرمتی کرنے والے کی نشاندہی کرنا حکومت اور پولیس کا کام تھا مسیحی برادری نے ہمیشہ ایسے واقعات کی مذمت کی ہے مسئلہ ایک ملک کا نہیں پوری انسانیت کا معاملہ ہے دنیا کو قانون سازی کرنی ہوگی کسی کی بھی مقدس کتاب ، مقدس انبیاء کرام کی شان میں کوئی بھی گستاخی کرتا ہے فوری طور پر اس کے خلاف کاروائی کرنی چاہیے چند دن بات چلتی ہے پھر ختم ہو جاتی ہے مسجدوں اور امام بارگاہوں پر بھی حملے ہوتے ہیں اسلام اور پاکستان کو بد نام کیا جا رہا ہے پوری قوم کی تربیت کرنی ہوگی اور انکے خلاف ایک ہو کر لڑنا ہوگا

    ہمارے مذہب میں اجازت نہیں مقدس مقامات کی بے حرمتی کرنے کی،سعید غنی
    رہنما پیپلزپارٹی ،سابق صوبائی وزیر سعید غنی نے سینٹ پیٹرک چرچ کا دورہ کیا، اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جڑانوالہ واقعے نے پوری قوم کا سر شرم سے جھکا دیا،ہمارے مذہب میں اجازت نہیں مقدس مقامات کی بے حرمتی کرنے کی ،اگر کوئی شخص غیر قانونی کام کرتا ہے تو کاروائی کے لیے ادارے موجود ہیں غیر قانونی واقعے پر مقدس کتاب کی توہین کرنےکی کسی مذہب میں اجازت نہیں، یہ ملک اقلیتوں کا بھی اتنا ہی ہے جتنا ہمارا ہے جڑانوالہ واقعات میں ملوث عناصر کو گرفتار کر کے قانون کے مطابق سزا دی جائے ، ہمارا مذہب کسی بھی طرح ان واقعات کی اجازت نہیں دیتا ہم دنیا بھر میں اپنا کیس لڑ رہے تھے کہ قرآن پاک کی بےحرمتی ہوئی ہےاور چند عناصر نے ہمارے مقدمے کو بھی کمزور کردیا ہے

    نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے جڑانوالہ واقعہ کا نوٹس لیا ہے

    توہین رسالت کی مجرمہ خاتون کو سزائے موت سنا دی گئی

    توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم و توہین مذہب کا مقدمہ،دفاعی شہادت پیش کرنے کے لئے مزید مہلت کی استدعا مسترد

    پابندی کے بعد مذہبی جماعت کیخلاف سپریم کورٹ میں کب ہو گا ریفرنس دائر؟

    ن لیگ نے گرفتار مذہبی جماعت کے سربراہ کو اہم پیغام بھجوا دیا

    کالعدم جماعت کے ساتھ مذاکرات کا پہلا دور کامیاب، کس نے کیا اہم کردار ادا،شیخ رشید نے بتا دیا

    پولیس افسر و اہلکاروں کو حبس بے جا میں رکھنے کے واقعے کا مقدمہ درج

    جڑانوالہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے

     مسیحی قائدین کے پاس معافی مانگنے آئے ہیں،

  • جڑانوالہ واقعہ، 145 سے زائد افراد گرفتار

    جڑانوالہ واقعہ، 145 سے زائد افراد گرفتار

    جڑانوالہ میں قرآن پاک کی مبینہ بے حرمتی کے بعد جلاو گھیراو کے واقعات ،جلاو گھیراو کے واقعات کے مقدمات میں ملوث مزید 17 ملزمان گرفتارکر لئے گئے،

    پانچ مقدمات میں گرفتار ملزمان کی تعداد 145 ہو گئی ۔ تھانہ سٹی جڑانوالہ میں 4 مقدمات، تھانہ لنڈیانوالہ میں ایک مقدمہ درج ہوا۔ پانچ مقدمات میں 134 نامزد افراد سمیت 1470 ملزمان ملوث ہیں۔ پنجاب کے شہر جڑانوالہ میں افسوسناک واقعہ پیش آیا تھا، قرآن مجید کی مبینہ طور پر بے حرمتی کے بعد مشتعل افراد نے مسیحی برادری کے املاک کو آگ لگا دی، چرچوں سے سامان باہر پھینکا، اور چرچ جلا دیئے، صلیب اتار دی، واقعات کے بعد جڑانوالہ میں دفعہ 144 نافذ کی گئی ہے، شہر میں رینجرز اور پولیس تعینات ہے،

    آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے کہا ہے کہ جڑانوالہ میں ایک انتہائی افسوسناک واقعہ پیش آیا، پولیس نے 24 گھنٹوں کے اندر دونوں مرکزی نامزد ملزمان حراست میں لے لئے، جن سے تفتیش ہو رہی ہے ،تمام مسلمانوں کی طرح ہم بھی قرآن پاک کی بے حرمتی یا خدانخواستہ نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی شان میں گستاخی برداشت نہیں کر سکتے،غصہ جائز تھا، ہم ان علماء کرام کے شکر گزار ہیں جنہوں نے عوام کو اشتعال انگیزی سے روکے رکھا اور پورے پنجاب میں امن قائم رہا جہاں شرپسندوں نے بڑھ کر برے طریقے سے چرچز کو آگ لگائی ، مقدس مقامات کو خراب کیا ، ان کے گھروں کو ضائع کیا، ان کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالا ، یہ بھی اسلام میں قابل برداشت نہیں،اللہ پاک اور نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا حکم ہے کہ ہم نے اقلیتوں کی حفاظت کرنی ہے ، ہمارا قانون بھی ہمیں اس بات کا حکم دیتا ہے کہ ان کی حفاظت ہم کرکے دکھائیں گے،

    آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انورکا کہنا تھا کہ جنہوں نے یہ کیا ہم ان تمام کو قانون کے کٹہرے میں لائیں گے، آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی مدد سے ہم نے ان کو گرفتار کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے،125 سے زائد افراد ہم نے اپنی ہیومن انٹیلی جنس ، کمپیوٹر کے ساتھ ویڈیو کیمرے کی مدد اور دیگر طریقوں سے گرفتار کر لئے ہیں جن کو ہم قانون کے کٹہرے میں لائیں گے،میرا امن کا پیغام ہے ، علماء مسجدوں میں یوم امن کی ضرور درخواست کریں ، علماء لوگوں کو بتائیں کہ اقلیتوں کی کیسے حفاظت کرنی ہے،ہم امن کمیٹی کے ، عیسائی سمیت تمام مذاہب کے لیڈرز کے شکر گزار ہیں ، اور سب سے بڑھ کر مسلمان علماء کے شکر گذار ہیں جنہوں نے اس واقعہ کی مذمت کی اور پنجاب پولیس کا ساتھ دیا،ہم نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور قرآن پاک کی بے حرمتی اور عیسائیوں کے ساتھ ظلم و زیادتی دونوں واقعات کے ملزموں کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے،عوام سے وعدہ کرتے ہیں کہ بہت جلد یہ کرکے دکھائیں گے کیونکہ اللہ تعالٰی ہمارے ساتھ ہیں اور ہمارا حامی و ناصر ہوگا

    جڑانوالہ میں بدھ کے روز جلاؤ گھیراؤہوا تو اسکے مسیحی خاندانوں کو جانیں بچا کر بھاگنا پڑا، کئی خاندانوں نے رات کھیتوں میں گزاری، خواتین اور بچے بھی کھلے آسمان تلے رات گزارنے پر مجبور تھے، کئی مسیحی خاندانوں کو گھر چھوڑ کر اپنے عزیز و اقارب کے پاس دیگر علاقوں میں منتقل ہونا پڑا۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ امن و امان کی صورت حال بہتر ہونے پر متاثرہ خاندانوں کی واپسی جاری ہے جڑانوالہ واقعات میں 16 گرجا گھروں کو آگ لگائی گئی، کرسچن کالونی میں 11 بجے مظاہرین نے توڑ پھوڑ کی، چرچ اور گھروں کو آگ لگائی ،مظاہرین کی جانب سے اسسٹنٹ کمشنر کے گھر کو بھی آگ لگا دی گئی۔

    نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے جڑانوالہ واقعہ کا نوٹس لیا ہے

    توہین رسالت کی مجرمہ خاتون کو سزائے موت سنا دی گئی

    توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم و توہین مذہب کا مقدمہ،دفاعی شہادت پیش کرنے کے لئے مزید مہلت کی استدعا مسترد

    پابندی کے بعد مذہبی جماعت کیخلاف سپریم کورٹ میں کب ہو گا ریفرنس دائر؟

    ن لیگ نے گرفتار مذہبی جماعت کے سربراہ کو اہم پیغام بھجوا دیا

    کالعدم جماعت کے ساتھ مذاکرات کا پہلا دور کامیاب، کس نے کیا اہم کردار ادا،شیخ رشید نے بتا دیا

    پولیس افسر و اہلکاروں کو حبس بے جا میں رکھنے کے واقعے کا مقدمہ درج

    جڑانوالہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے

     مسیحی قائدین کے پاس معافی مانگنے آئے ہیں،

  • جڑانوالہ میں جو کچھ ہوا ہم شرمندہ ہیں، طاہر اشرفی

    جڑانوالہ میں جو کچھ ہوا ہم شرمندہ ہیں، طاہر اشرفی

    چیئرمین پاکستان علماء کونسل مولانا طاہر محمود اشرفی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسیحی قائدین کے پاس معافی مانگنے آئے ہیں،

    علامہ چاہر اشرفی کا کہنا تھا کہ جڑانوالہ میں جو کچھ ہوا ہم شرمندہ ہیں، ہم بڑے ہونے کے ناطے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر سکے،جن کے گھر جلے ان کی بچیوں نے رات کھیتوں میں گزاری، جلاؤ گھیراؤ کرنے والے کون لوگ ہیں، معافی اور شرمندگی الفاظ چھوٹے ہیں، مسیحی قائدین سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگتا ہوں،جوزف کالونی کے مجرموں کو سزا دی ہوتی تو آج یہ واقعہ نہ ہوتا، جڑانوالہ سانحے کے ذمہ داروں نے کسے خوش کرنے کیلئے ایسا کیا؟ پاکستان میں اقلیتی برادری کو ہر قسم کا تحفظ حاصل ہے، اسلام تمام انبیاء کرام کی عزت و احترام کا درس دیتا ہے،ہمارا ایمان ہے کہ الہامی کتابوں کی توہین کرنے والا مسلمان نہیں ہو سکتا ۔پاکستان پر اقلیتوں کا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا ہمارا ہے۔ پوری ریاست اپنے مسیحی بھائیوں کے ساتھ کھڑی ہے۔

    واضح رہے کہ پنجاب کے شہر جڑانوالہ میں گزشتہ روز افسوسناک واقعہ پیش آیا تھا، قرآن مجید کی مبینہ طور پر بے حرمتی کے بعد مشتعل افراد نے مسیحی برادری کے املاک کو آگ لگا دی، چرچوں سے سامان باہر پھینکا، اور چرچ جلا دیئے، صلیب اتار دی، واقعات کے بعد جڑانوالہ میں دفعہ 144 نافذ کی گئی ہے، شہر میں رینجرز اور پولیس تعینات ہے، آج عام تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے، آئی جی پنجاب اور چیف سیکرٹری پنجاب نے رات گئے جڑانوالہ کا دورہ کیا ہے، پنجاب کی نگراں حکومت نے واقعات کی تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔

    نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے جڑانوالہ واقعہ کا نوٹس لیا ہے

    توہین رسالت کی مجرمہ خاتون کو سزائے موت سنا دی گئی

    توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم و توہین مذہب کا مقدمہ،دفاعی شہادت پیش کرنے کے لئے مزید مہلت کی استدعا مسترد

    پابندی کے بعد مذہبی جماعت کیخلاف سپریم کورٹ میں کب ہو گا ریفرنس دائر؟

    ن لیگ نے گرفتار مذہبی جماعت کے سربراہ کو اہم پیغام بھجوا دیا

    کالعدم جماعت کے ساتھ مذاکرات کا پہلا دور کامیاب، کس نے کیا اہم کردار ادا،شیخ رشید نے بتا دیا

    پولیس افسر و اہلکاروں کو حبس بے جا میں رکھنے کے واقعے کا مقدمہ درج

    جڑانوالہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے

  • دفتر خارجہ کی مسیحی برادری کو اعلیٰ سطح کی تحقیقات کی یقین دہانی

    دفتر خارجہ کی مسیحی برادری کو اعلیٰ سطح کی تحقیقات کی یقین دہانی

    اسلام آباد: جڑانوالہ میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے پر دفتر خارجہ کا بھی رد عمل سامنے آیا ہے-

    باغی ٹی وی : ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ نگران وزیراعظم پاکستان نے فیصل آباد میں ہونے والے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے مسیحی برادری کو اعلیٰ سطح کی تحقیقات کی یقین دہانی کرائی ہے، پورے ملک کے عوام مسیحی برادری سے سلوک پر دکھی ہیں،وزیراعظم نے جڑانوالا واقعہ میں ملوث مجرمان کی جلد گرفتاری کا حکم دیا ہے اس واقعے میں ملوث افراد کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔

    علاوہ ازیں ہفتہ وار بریفنگ میں دفترخارجہ کی ترجمان ممتاز زہرا بلوچ کا کہنا تھا کہ ورلڈ کپ میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی سیکیورٹی پر بھار تی بیانات کاجواب نہیں دوں گی، ورلڈ کپ کرکٹ میں پاکستانی ٹیم کو فول پروف سیکیورٹی فراہم کرنا بھارت کی ذمہ داری ہے پاکستانی ٹیم کو خوف اور ہراسانی سے پاک ماحول فراہم کرنابھارت کی ذمہ داری ہے، ایسا ماحول ہوجس میں تماشائی پاکستانی کھلاڑیوں کوہراساں نہ کر سکیں-

    نگران وزیراعظم سے سعودی سفیر ملنے پہنچ گئے

    ترجمان نے کہا کہ افغان طالبان سپریم لیڈر ملا ہیبت اللہ کا پاکستان کے اندر حملے کرنے کے خلاف بیان خوش آئند ہے، جب کہ روس کی طرف سے 14 اگست کے بیان اور انتظامات کیلیے شکرگزار ہیں۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز جڑانوالہ میں مشتعل ہجوم نے توہینِ مذہب کا الزام لگا کر 4 گرجا گھروں سمیت مسیحی برادری کے درجنوں مکانات اور گاڑیاں اور مال و اسباب کو جلا دیا تھا،فیصل آباد پولیس کا ملزمان تک پہنچنے کے لیے کریک ڈاؤن جاری ہے اور اب تک 100 سے زائد افراد کو گرفتار کرکے دو مقدمات درج کرلیےگئےہیں، جڑانوالہ میں مساجد میں اعلانات کر کے عوام کو اشتعال دلانےوالے شخص کو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو کی مدد سے گرفتار کر لیا ہے 37 نامزد اور 600 سے زائد نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمات میں انسداد دہشت گردی اور توہین مذہب سمیت 13 سے زائد دفعات لگا دی گئی ہیں۔

    جڑانوالہ سانحہ،میرے گھر پر بھی حملہ کیا گیا،پادری،100 افراد گرفتار

    کشیدہ صورتحال کے باعث جڑانوالہ شہر میں عام تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے اور رینجرز کی دو کمپنیاں مختلف مقامات پر تعینات کی گئی ہیں جبکہ فیصل آباد میں تاحکم ثانی دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔

    ترجمان پنجاب کی جانب سے کہا گیا ہے کہ پولیس اور انتظامیہ نے بروقت کارروائی کی اور مساجد سے یہ اعلان بھی کروایا گیا کہ ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے لیکن قرآن کی بے حرمتی کی وجہ سے اشتعال بڑھ چکا تھا اور 5 سے 6 ہزار کا مجمع مختلف ٹولیوں کی صورت میں جڑانوالہ کے مختلف علاقوں میں اکٹھا ہوا اور انہوں نے ایک اقلیت کی آبادیوں پر حملہ کیا-

    جڑانوالہ،مبینہ طور پر قرآن پاک کی بے حرمتی،مشتعل افراد نے چرچ جلا دیا

    جڑانوالہ کے گرجا گھروں کے انچارج بادری خالد مختار کا کہنا ہے کہ مشتعل ہجوم نے چھ گرجا گھروں کو نشانہ بنایا، ان کی اپنی رہائش گاہ پیرش پادری ہاؤس پر بھی حملہ کیا گیا مظاہرین دو گھنٹے تک ان کی رہائشگاہ کے باہر جمع رہے اور وہ بمشکل اپنے اہل خانہ کے ساتھ فرار ہونے میں کامیاب ہوئے،پادری خالد نے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے متعدد بار پولیس کو بلایا لیکن وہ مدد کے لیے نہیں آئے-