Baaghi TV

Tag: جہاز

  • بحری محاصرہ ختم ، ایرانی جہاز پچاس لاکھ بیرل  خام تیل لے کر روانہ،ایران کی تصدیق

    بحری محاصرہ ختم ، ایرانی جہاز پچاس لاکھ بیرل خام تیل لے کر روانہ،ایران کی تصدیق

    امریکا نے ایران کا بحری محاصرہ ختم کر دیا ہے جس کے بعد لاکھوں بیرل خام تیل لے کر ایرانی ٹینکرز سمندر میں روانہ ہو چکے ہیں۔

    ایران کے نائب وزیرِ خارجہ ماجد تخت روانچی نے اپنے ایک بیان میں بحری محاصرہ ختم ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے ایرانی بندرگاہوں پر بٹھایا گیا اپنا پہرہ مکمل طور پر ہٹا لیا ہے۔

    بحری جہازوں کی آمدورفت پر نظر رکھنے والے ادارے ’ٹینکرز ٹریکر‘ نے بھی بتایا ہے کہ تقریباً بیس لاکھ بیرل ایرانی خام تیل سے لدا ہوا ایک بہت بڑا دیو ہیکل ٹینکر امریکی ممنوعہ بحری لائن کو کامیابی سے پار کر چکا ہے، جبکہ ایران کے درجنوں دیگر بحری جہاز بھی اب بندرگاہوں سے نکل کر اس علاقے کی طرف تیزی سے بڑھ رہے ہیں پچھلے دو مہینوں میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ تقریباً پچاس لاکھ بیرل خام تیل لے کر کم از کم تین ایرانی ٹینکرز آبنائے ہرمز میں امریکی بحریہ کے محاصرے سے باہر نکلے ہیں۔

    سمندری ڈیٹا فراہم کرنے والے ادارے ’کے پی ایل ای آر‘ کے مطابق، ڈیونا اور ہیرو ٹو نامی دو بڑے ٹینکرز، جو ایرانی قومی کمپنی کی ملکیت ہیں اور جن پر امریکی پابندیاں بھی لگی ہوئی ہیں، امریکی بحریہ کے گھیرے کو توڑ کر باہر نکلنے میں کامیاب ہو گئے ہیں ان دونوں جہازوں پر مجموعی طور پر اڑتیس لاکھ بیرل ایرانی خام تیل لدا ہوا ہے، جبکہ ایک تیسرا جہاز بھی دس لاکھ بیرل تیل لے کر بدھ کے دن اس محاصرے کی لائن سے باہر نکل آیا ہے۔

    واضح رہے کہ امریکا اور ایران نے پیر کے روز تقریباً چار ماہ سے جاری جنگ کو ختم کرنے کے لیے ایک ابتدائی معاہدے پر دستخط کیے تھے، اور اب جمعہ کے دن سوئٹزرلینڈ میں اس کی اصل اور باقاعدہ تقریب ہوگی اس معاہدے کی تمام تفصیلات تو ابھی سامنے نہیں آئیں لیکن امید ہے کہ اس سے آبنائے ہرمز کا راستہ کھل جائے گا اور ایران کے تیل بیچنے پر لگی پابندیاں بھی ہٹ جائیں گی۔

    لائڈز لسٹ انٹیلی جنس نامی ادارے کا کہنا ہے کہ سمندری شعبہ اس خبر کو جشن کے بجائے ایک ڈر اور بے یقینی کے ساتھ دیکھ رہا ہے پچھلے کئی مہینوں سے جہازوں کے مالکان کرایوں اور جنگ کے بیمہ کی بھاری قیمتوں سے بہت پریشان تھے، اس لیے کچھ مالکان نے تو تیل کی مانگ بڑھنے کی امید پر اپنے جہاز خلیج کی بندرگاہوں کی طرف بھیجنا شروع کر دیے ہیں، لیکن زیادہ تر مالکان اب بھی بہت محتاط ہیں اور پیچھے ہٹے ہوئے ہیں انشورنس کمپنیاں اب بھی جنگ کے خطرے کا بھاری ٹیکس مانگ رہی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ جب تک ٹھوس ثبوت نہیں ملتا کہ یہ سمندری راستہ اب بالکل محفوظ ہے، وہ قیمتیں کم نہیں کریں گی۔

  • روسی بحری جہاز  کی پراسرار حالات میں  غرقابی،عالمی سیاست اور  انٹیلی جنس اداروں میں تشویش

    روسی بحری جہاز کی پراسرار حالات میں غرقابی،عالمی سیاست اور انٹیلی جنس اداروں میں تشویش

    ایک روسی مال بردار بحری جہاز ”اُرسا میجر“جو ممکنہ طور پر آبدوزوں کے لیے دو جوہری ری ایکٹر لے کر جا رہا تھا، ممکنہ طور پر شمالی کوریا کے لیے تھا، اسپین کے ساحل سے تقریباً 60 میل دور بحیرۂ روم کی گہرائی میں ، غیر واضح حالات میں دھماکوں کے ایک سلسلے کا شکار ہوا اور ڈوب گیا جس نے انٹیلی جنس اداروں میں ہلچل مچا دی ہے۔

    امریکی نشریاتی ادار ’سی این این‘ کی ایک حالیہ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق، یہ جہاز ممکنہ طور پر ایٹمی آبدوزوں میں استعمال ہونے والے دو نیوکلیئر ری ایکٹرز لے کر شمالی کوریا جا رہا تھا، جو پرسرار حالات میں دھماکوں کے بعد ڈوب گیا یہ واقعہ روس اور شمالی کوریا کے بڑھتے ہوئے فوجی تعاون اور اسے روکنے کے لیے مغربی ممالک کی ممکنہ خفیہ کارروائی کی ایک سنگین کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق، یہ جہاز 23 دسمبر 2024 کو ڈوبا، لیکن اس کی کہانی 11 دسمبر کو روس سے روانگی کے وقت ہی مشکوک ہو گئی تھی،اگرچہ جہاز کے کاغذات میں درج تھا کہ وہ روس کے مشرقی شہر ولادی ووستوک جا رہا ہے، لیکن ماہرین نے سوال اٹھایا کہ روس کے وسیع ریلوے نیٹ ورک کے بجائے سمندر کے راستے دنیا کا چکر لگا کر دو کرینیں اور خالی کنٹینر لے جانے کی کیا منطق تھی؟

    ہسپانوی حکام کی تفتیش کے دوران جہاز کے روسی کپتان ایگور انیسیموف نے اعتراف کیا کہ جہاز پر ایٹمی آبدوزوں جیسے ری ایکٹرز کے پرزے موجود تھے، کپتا ن کے بقول، اسے خدشہ تھا کہ جہاز کا رخ موڑ کر اسے شمالی کوریا کی بندرگاہ ’راسن‘ لے جایا جائے گا 22 دسمبر کو اسپین کے قریب جہاز کی رفتار اچانک کم ہوئی، اور اگلے ہی دن دائیں جانب تین زوردار دھماکے ہوئے جس میں عملے کے دو ارکان ہلاک ہو گئے۔

    ہسپانوی تحقیقاتی رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ جہاز کو نشانہ بنانے کے لیے ’باراکوڈا‘ نامی ایک خاص ٹارپیڈو استعمال کیا گیا ہوگا جو بغیر آواز پیدا کیے جہاز کے ڈھانچے میں سوراخ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اس واقعے کے ایک ہفتے بعد، ایک روسی جاسوس جہاز ’ینتار‘ نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور وہاں مزید چار دھماکے سنے گئے، جس کے بارے میں گمان ہے کہ روس نے سمندر کی تہہ میں موجود ملبے سے حساس معلومات یا آلات کو تباہ کرنے کے لیے یہ دھماکے کیے۔

    اس واقعے کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ امریکی فضائیہ کے خاص طیاروں، جنہیں ”نیوکلیئر اسنیفر“ کہا جاتا ہے اور جو فضا میں تابکاری کے ذرات سونگھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، انہوں نے دو بار اس مقام پر پروازیں کیں،یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی جب شمالی کوریا نے حال ہی میں اپنی پہلی ایٹمی آبدوز کی تصاویر جاری کی تھیں، جن کے بارے میں ماہرین کا خیال ہے کہ وہ ابھی تک مکمل طور پر فعال نہیں ہیں۔

    ہسپانوی حکومت نے اس معاملے پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے اور موقف اپنایا ہے کہ جہاز 2500 میٹر کی گہرائی میں ہے جہاں سے اس کا ڈیٹا ریکارڈ نکالنا بہت پرخطر ہے تاہم، حزبِ اختلاف کے سیاست دانوں اور ماہرین نے اس پر شکوک کا اظہار کیا ہے۔

    ہسپانوی قانون ساز جوآن انتونیو روہاس کا کہنا ہے کہ ”جب کوئی آپ کی پوچھی گئی معلومات صاف صاف فراہم نہ کرے، تو شک ہوتا ہے کہ کچھ چھپایا جا رہا ہے، دفاعی تجزیہ کار مائیک پلنکیٹ کا کہنا ہے کہ ”روس کی جانب سے اس طرح کی ایٹمی ٹیکنالوجی کی منتقلی صرف انتہائی قریبی اتحادیوں کے درمیان ہوتی ہے، اور اگر یہ سچ ہے تو یہ ماسکو کا ایک بہت بڑا اور پریشان کن قدم ہے-

  • ایرانی بندرگاہ پر کھڑے متعدد تجارتی جہازوں میں آگ بھڑک اٹھی

    ایرانی بندرگاہ پر کھڑے متعدد تجارتی جہازوں میں آگ بھڑک اٹھی

    ایران کے جنوبی صوبے بوشہر کی بندرگاہِ دیر (Dayyer Port) میں لنگر انداز متعدد تجارتی بحری جہازوں (لانچوں) میں اچانک آگ بھڑک اٹھی، جس سے جہازوں کو شدید نقصان پہنچا ہے –

    ایران کی نیم سرکاری نیوز ایجنسی ’مہر‘ کے مطابق یہ آگ بندرگاہ کے کمرشل ایریا میں لگی جس سے وہاں موجود تجارتی سامان کو بھی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے، اس وقت فائر فائٹنگ ٹیمیں آگ پر قابو پانے کے لیے مسلسل کوششیں کر رہی ہیں،واقعے کی وجوہات تاحال نامعلوم ہیں اور کسی جانی نقصان کی فوری اطلاع نہیں ملی۔

    دیر پورٹ کے فائر ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ ماجد عمرانی نے بھی پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ مہر نیوز ایجنسی کو بتایا ہے کہ فائر فائٹرز آگ پر قابو پانے کے لیے کام کر رہے ہیں فی الحال اس حادثے کی وجوہات سامنے نہیں آ سکی ہیں اور متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ آگ لگنے کی اصل وجہ ابھی تک معلوم نہیں ہے اس واقعے کی وجہ کا اعلان فائر فائٹنگ آپریشن مکمل ہونے کے بعد ہی کیا جائے گا۔

    یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار ہے اور ایران نے متحدہ عرب امارات پر تازہ میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران کو حملے شروع کرنے کی دھمکی دی ہوئی ہے۔

  • ایرانی تیل بردار جہاز امریکی بحری ناکہ بندی عبور کرنے میں کامیاب، بحرالکاہل تک پہنچ گیا

    ایرانی تیل بردار جہاز امریکی بحری ناکہ بندی عبور کرنے میں کامیاب، بحرالکاہل تک پہنچ گیا

    ایرانی آئل کمپنی کا جہاز امریکی بحری ناکہ بندی عبور کرنے میں کامیاب ہو گیا۔

    عرب میڈیا کے مطابق ایک ایرانی آئل کمپنی کا تیل بردار جہاز امریکی بحری ناکہ بندی کو عبور کرتے ہوئے ایشیا بحرالکاہل کے علاقے تک پہنچ گیا ہےذرائع کا کہنا ہے کہ اس جہاز میں کروڑوں ڈالر مالیت کا خام تیل موجود ہےا س جہاز کو سری لنکا کے قریب دیکھا گیا تھا جس کے بعد یہ انڈونیشیا کے سمندری را ستے سے آگے بڑھ رہا ہے ایرانی حکام کا دعویٰ ہے کہ درجنوں ایرانی جہاز امریکی ناکہ بندی توڑنے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔

    دوسری جانب امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ کئی ایرانی جہازوں کو واپس جانے پر مجبور کیا گیا ہے اور اس ناکہ بندی کے باعث ایران کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔

  • آبنائےہرمز  میں ایران کے زیر قبضہ  جہاز کے مناظر سامنے آ گئے

    آبنائےہرمز میں ایران کے زیر قبضہ جہاز کے مناظر سامنے آ گئے

    ایران کی جانب سے آبنائےہرمز سے قبضے میں لیے گئے جہاز کے مناظر سامنے آگئے۔

    ایرانی پریس ٹی وی کے صحافی نے زیرقبضہ جہا ز سے خصوصی رپورٹ پیش کی جس میں جہاز پر لدے کنٹینرز دکھائے گئے ایرانی پریس ٹی وی کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو میں جہاز کےاندرونی مناظربھی دیکھے جاسکتےہیں ایرانی صحافی کےمطابق اسٹریٹیجک آبی گزرگاہ پر ایران کامکمل کنٹرول ہے۔

    دوسری جانب ترکیے نے امریکا ایران معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کے لیے مدد کی پیشکش کردی ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے کہا کہ امن معاہدے کے بعد ترکیے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کی کارروائیوں میں حصہ لینے پر غور کرسکتا ہے یہ کام مختلف ممالک کی تکنیکی ٹیمیں انجام دیں گی، ایسے میں ترکیے کو بارودی سرنگوں کی صفائی کی کارروائیوں میں حصہ لینے میں مسئلہ نہیں ہوگا، ترکیے ایسے اقدامات کو انسانی ہمدردی کی ذمہ داری کے طور پر مثبت نظر سے دیکھتا ہے۔

  • بھارت نے  بحیرہ عرب میں  ایران سے منسلک تیل بردار جہاز ضبط کر لیے

    بھارت نے بحیرہ عرب میں ایران سے منسلک تیل بردار جہاز ضبط کر لیے

    بھارت نے چاہ بہار بندرگاہ سے خاموش واپسی کے بعد ایران سے منسلک تیل بردار جہاز بھی ضبط کر لیے۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق بھارتی کوسٹ گارڈ نے بحیرہ عرب میں اسمگلنگ کے الزام میں 3 آئل ٹینکرز کو تحویل میں لیا آئل ٹینکرز کو ممبئی سے تقریباً 100 سمندری میل کے فاصلے پر بحیرہ عرب میں قبضے میں لے لیا گیا ضبط کیے گئے بحری جہازوں میں ال جافزیہ، ایسفالٹ اسٹار اور اسٹیلر روبی شامل ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ چاہ بہار سے واپسی کے بعد ایرانی جہازوں کی ضبطی ایران کے لیے بھارت کی جانب سے چھرا گھونپنے کے مترادف ہے۔

  • روس کا امریکا پر بین الاقوامی سمندری قوانین کی خلاف ورزی کا الزام

    روس کا امریکا پر بین الاقوامی سمندری قوانین کی خلاف ورزی کا الزام

    روس نے امریکا پر بین الاقوامی سمندری قوانین کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ شمالی بحرِ اوقیانوس میں امریکی بحریہ کی جانب سے روسی پرچم بردار آئل ٹینکر مارینیرا پر چڑھائی کے بعد اس جہاز سے رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔

    روسی وزارتِ ٹرانسپورٹ کے مطابق امریکی افواج کی جانب سے ٹینکر کو قبضے میں لینا سمندری قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے 1982 کے اقوامِ متحدہ کنونشن برائے قانونِ سمندر کے تحت کھلے سمندروں میں جہاز رانی کی آزادی حاصل ہے اور کسی بھی ریاست کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کسی دوسری ریاست کے دائرہ اختیار میں رجسٹرڈ جہاز کے خلاف طاقت کا استعمال کرے۔

    ادھر روسی وزارتِ خارجہ نے بھی اس معاملے پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ امریکی افواج کی جانب سے مارینیرا ٹینکر پر چڑھائی کی اطلاعات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے روس نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ جہاز پر موجود تمام روسی شہریوں کے ساتھ انسانی سلوک کیا جائے اور ان کی وطن واپسی میں رکاوٹ نہ ڈالی جائے۔ یہ بیان روس کی سرکاری خبر رساں ایجنسی تاس کے حوالے سے جاری کیا گیا۔

    قوانین کی خلاف ورزی پر کارروائی:امریکا نے بھارتی طلباء کو خبردار کر دیا

    واضح رہے کہ ‘ڈارک فلیٹ’ کی اصطلاح ان آئل ٹینکروں کے لیے استعمال کی جاتی ہے جو پابندیوں اور نگرانی سے بچنے کے لیے اپنی شناخت یا نقل و حرکت چھپاتے ہیں۔ عالمی قوانین کے تحت تمام تجارتی جہازوں کا کسی نہ کسی ملک میں رجسٹرڈ ہونا لازمی ہوتا ہے تاکہ حفاظتی اور ماحولیاتی ضوابط پر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔

    وینزویلا کی تیل برآمدات کے تناظر میں بعض پابندیوں کی زد میں آئے ٹینکر امریکی پابندیوں اور ناکہ بندی سے بچنے کے لیے ‘ڈارک موڈ’ میں سفر کرتے رہے ہیں۔ اس طریقہ کار میں مقام کے بارے میں غلط معلومات دینا، جعلی یا تبدیل شدہ پرچم استعمال کرنا اور دیگر حربے شامل ہیں، جن کے ذریعے پابندیوں کے باوجود خریداروں تک تیل پہنچایا جاتا رہا ہے۔

    امریکی فوج نے وینزویلا سے منسلک روسی آئل ٹینکر قبضے میں لےلیا ۔

  • کراچی: پی این ایس سی کے جہاز میں حادثہ، کریو ممبر جاں بحق

    کراچی: پی این ایس سی کے جہاز میں حادثہ، کریو ممبر جاں بحق

    متحدہ عرب امارات کے فجیرا پورٹ سے پیٹرول لے کر آنے والے پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (پی این ایس سی) کے جہاز میں حادثہ پیش آیا ہے۔

    پی این ایس سی ذرائع کے مطابق متحدہ عرب امارات کے فجیرا پورٹ سے پیٹرول لے کر آنے والے پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (پی این ایس سی) کے جہاز میں حادثہ پیش آیا ہے، حادثہ جہاز کے ایک ٹینک کی صفائی کے دوران پیش آیا، جہاں بے احتیاطی کے باعث ایک کریو ممبر جاں بحق ہوگیا، واقعے میں جہاز کا پمپ مین بھی زخمی ہوا، تاہم اس کی حالت خطرے سے باہر بتائی جارہی ہے،جاں بحق ہونے والے کریو ممبر کی میت گوادر پورٹ سے اس کے آبائی علاقے بھکر روانہ کر دی گئی ہے۔

  • غلطی سے فائر الارم بجنے سے مسافر جہاز سے کود گئے ، 18 زخمی

    غلطی سے فائر الارم بجنے سے مسافر جہاز سے کود گئے ، 18 زخمی

    سپین میں مایورکا ائیر پورٹ پر نجی ائیر لائن کی پرواز میں غلطی سے فائر الارم بجنے سے مسافروں نے جہاز سے چھلانگیں لگا دیں۔

    برطانوی میڈیا کے مطابق الارم بجنے سے مسافروں میں خوف و ہراس پھیل گیا ، چھلانگیں لگانے کے نتیجے میں 18 مسافر زخمی ہو گئے جس کے بعد مانچسٹر جانے والی پرواز روک دی گئی،بیشتر مسافروں کو معمولی چوٹیں آئیں جبکہ 6 کو اسپتال منتقل کر دیا گیا گیا ، واقعے کے بعد ایئرپورٹ کی ایمرجنسی سروسز کو فوراً الرٹ کیا گیا ، نجی ائیر لائن نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

    عینی شاہدین نے بتایا کہ کچھ مسافروں نے گھبراہٹ میں ایمرجنسی دروازے کھولے، طیارے کے ونگ پر چڑھے اور نیچے کود گئے-

    https://x.com/runews/status/1941406687518400798

    دوسری جانب اہور سے اسکردو جانے والی نجی ائیر لائن کی پرواز سے پرندہ ٹکرا گیا جس کے بعد طیارے کو واپس لاہور میں لینڈنگ کرنا پڑی۔

    نجی ائیرلائن کے ترجمان کے مطابق پرواز پی اے 481 کو لاہور سے ٹیک آف کرتے ہوئے برڈ اسٹرائیک کا سامنا ہوا پرواز کو فوری لاہور واپس اتار لیا گیا اور 149 مسافروں کو آف لوڈ کر دیا گیااہور سے اسکردو کے لیے پرواز پی اے 481 منسوخ کر دی گئی ہے، اسکردو سے لاہور کی پرواز بھی منسوخ کردی گئی ہے،پرندہ ٹکرانے سے طیارے کے انجن نمبر 2 کے دو بلیڈ متاثر ہوئے ہیں۔

  • کراچی ایئر پورٹ، آوارہ کتوں نے مشکلات کھڑی کر دیں

    کراچی ایئر پورٹ، آوارہ کتوں نے مشکلات کھڑی کر دیں

    کراچی: کراچی ایئرپورٹ پر آوارہ کتوں کا آزادانہ گھومنا روزانہ کا معمول بن چکا ہے، جس سے نہ صرف ایئرپورٹ کی صفائی متاثر ہو رہی ہے بلکہ یہ کتوں کی موجودگی مسافروں اور طیاروں کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکی ہے۔ پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے) ان کتوں کو ایئرپورٹ سے دور رکھنے میں ناکام نظر آ رہی ہے، حالانکہ کتوں کی موجودگی ایئرپورٹ کی فلائٹ سیفٹی کو بھی متاثر کر رہی ہے۔

    اتھارٹی کا موقف یہ ہے کہ صوبائی حکومت کے قوانین کے مطابق آوارہ کتوں کو تحفظ فراہم کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے ان کتوں کو مارنے کی اجازت نہیں۔ اس صورتحال کی وجہ سے ایئرپورٹ کے مختلف حصوں میں کتوں کی آمدورفت جاری ہے، خاص طور پر جناح ٹرمینل کی پارکنگ میں جہاں ریسٹورنٹس کے قریب کتوں کا آنا جانا رہتا ہے۔ اس کے علاوہ ایئرپورٹ کے جنرل ایوی ایشن ایریا میں بھی یہ کتوں کی موجودگی خطرے کی گھنٹی بن چکی ہے، جہاں یہ طیاروں کے قریب گھومتے ہوئے دیکھے گئے ہیں۔

    فلائٹ سیفٹی کے ماہرین نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ایئرپورٹ کے علاقے میں آوارہ کتوں کی موجودگی طیاروں کی حفاظت کے لیے سنگین خطرہ ہو سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ کتوں کی تعداد اور موجودگی مزید بڑھتی ہے تو کسی بڑے حادثے کا خدشہ بھی ہو سکتا ہے۔

    پی اے اے کے ترجمان نے بتایا کہ ایئرپورٹ کے لینڈ سائیڈ ایریا میں آوارہ کتوں کی موجودگی کا نوٹس لیا گیا ہے اور اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ایدھی فاؤنڈیشن سے مدد طلب کی گئی ہے تاکہ ان کتوں کو پکڑا جا سکے۔پی اے اے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ کراچی ایئرپورٹ 3700 ایکڑ پر مشتمل ہے اور یہ گنجان آباد علاقوں سے گھرا ہوا ہے، جس کی وجہ سے آوارہ کتوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی اے اے نے اپنی حدود میں صفائی کے لیے خصوصی انتظامات کر رکھے ہیں اور ضلعی انتظامیہ سے بھی آوارہ کتوں کی روک تھام کے لیے تعاون جاری ہے۔ تاہم، صوبائی قانون آوارہ کتوں کو مارنے کی اجازت نہیں دیتا، جس سے ان کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

    کراچی ایئرپورٹ پر آوارہ کتوں کے بڑھتے ہوئے مسئلے کو حل کرنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ ایئرپورٹ کی صفائی اور مسافروں کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔

    سپریم کورٹ ، ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل نے توہین عدالت کا شوکاز نوٹس چیلنج کر دیا

    قدیم چولستان : سرائیکی تہذیب کے منفرد رنگ