Baaghi TV

Tag: جہاز

  • آبنائے ہرمز میں دو بحری جہازوں کی ٹکر، ایران نے 23 ڈوبتے غیر ملکیوں کو بچا لیا

    آبنائے ہرمز میں دو بحری جہازوں کی ٹکر، ایران نے 23 ڈوبتے غیر ملکیوں کو بچا لیا

    ایران کے قریب آبنائے ہرمز میں قشم جزیرے کے شمالی حصے کے نزدیک دو مال بردار بحری جہازوں کے درمیان شدید تصادم کے نتیجے میں ایک جہاز کو سنگین نقصان پہنچا، تاہم ایران کی امدادی ٹیموں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے اس پر سوار 23 غیر ملکی عملے کے ارکان کو بحفاظت بچا لیا ہے۔

    ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق حادثہ اس وقت پیش آیا جب ایک بڑا مال بردار جہاز دوسرے بحری جہاز سے بری طرح ٹکرا گیا، تصادم اس قدر شدید تھا کہ متاثرہ جہاز کے نچلے حصے کو شدید نقصان پہنچا، جس کے باعث اس میں تیزی سے پانی بھرنا شروع ہوگیا اور جہاز کے ڈوبنے کا خطرہ پیدا ہوگیا۔

    رپورٹ کے مطابق صورت حال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے جہاز کے کپتان نے فوری طور پر ہنگامی انخلا کا حکم دیا، جس کے بعد عملے نے جہاز خالی کرنا شروع کر دیا ایرانی حکام اور امدادی اداروں نے اطلاع ملتے ہی ریسکیو آپریشن شروع کیا اور جہاز پر سوار تمام 23 غیر ملکی عملے کے ارکان کو بحفاظت نکال کر قشم جزیر ے پر منتقل کر دیا۔

    فارس نیوز ایجنسی کے مطابق امدادی کارروائی بروقت مکمل کی گئی، جس کے باعث کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی، تصادم کے بعد متاثرہ جہاز میں تیزی سے پانی بھر رہا تھا، تاہم امدادی ٹیموں نے تمام افراد کو محفوظ مقام تک منتقل کرنے میں کامیابی حاصل کی حادثے کے بعد متاثرہ جہاز کی صو رتحال کا جائزہ لیا جا رہا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کو محفوظ رکھنے اور حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے بھی تحقیقات اور ضروری اقدا ما ت جاری ہیں۔

    دوسری جانب ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے رپورٹ کیا کہ منگل کے روز بندر عباس میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ جزیرہ کیش پر چھ دھماکوں اور قشم جزیرے پر بھی مزید دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ تاہم ان دھماکوں اور بحری حادثے کے درمیان کسی براہ راست تعلق کی تصدیق نہیں کی گئی۔

  • کشیدگی کے باوجود آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت جاری

    کشیدگی کے باوجود آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت جاری

    آبنائے ہرمز میں سیکیورٹی خدشات اور حالیہ حملوں کے باوجود بحری جہازوں کی آمد و رفت مکمل طور پر بند تو نہیں ہوئی، تاہم جہازوں کی تعداد پہلے کے مقابلے میں کم ہو گئی ہے۔

    عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق عالمی سطح پر بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی کمپنی میرین ٹریفک نے بتایا کہ جمعہ اور ہفتے کے روز دو بحری جہازوں پر حملوں کے باوجود ہفتے کے آخر میں آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمد و رفت جاری رہی، تین دنوں کے دوران مجموعی طور پر 108 تصدیق شدہ بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے۔

    کمپنی کے مطابق 26 جون بروز جمعہ سب سے زیادہ 48 بحری جہاز اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرے، جبکہ 27 جون بروز ہفتہ 38 اور 28 جون بروز اتوار 22 جہازوں کی آمد و رفت ریکارڈ کی گئی، حالیہ حملوں سے پہلے بحری جہازوں کی تعداد زیادہ تھی 25 جون بروز جمعرات 54 جبکہ 24 جون بروز بدھ 70 بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے تھے۔

    میرین ٹریفک کے مطابق بدھ کے روز ریکارڈ کی جانے والی 70 گزرگاہیں امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد سب سے زیادہ تعداد تھی تنازع سے قبل روزانہ تقریباً 130 سے 140 بحری جہاز اس راستے سے گزرتے تھے۔

    ادھر ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق مشترکہ کمیٹی کا پہلا اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں دونوں ممالک نے اس اہم آبی گزرگاہ کے مستقبل کے انتظام پر تبادلہ خیال کیا ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا کہ ایران اور عمان نے آبنائے ہرمز کے مستقبل کے انتظام پر خیالات کا تبادلہ کیا ہے اور دونوں ممالک اس معاملے پر ایک مشترکہ سمجھ بوجھ تک پہنچ گئے ہیں۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق کاظم غریب آبادی نے ایرانی سرکاری میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمان بھی ساحلی ریاست ہونے کے ناطے ان انتظامات کا حصہ بننے کی حمایت کرتا ہے اور اس کا مؤقف ہے کہ فراہم کی جانے والی خدمات کے بدلے فیس وصول کی جانی چاہیےدونوں ممالک کے درمیان تکنیکی کمیٹیاں قائم کی جائیں گی اور آئندہ سات سے آٹھ دن کے اندر ماہرین خصوصی مذاکرات شروع کریں گے تاکہ مجوزہ معاہدے کا مسودہ تیار کیا جا سکے اور بحری جہازوں کے راستوں پر بات چیت مکمل کی جا سکے۔

  • بحری محاصرہ ختم ، ایرانی جہاز پچاس لاکھ بیرل  خام تیل لے کر روانہ،ایران کی تصدیق

    بحری محاصرہ ختم ، ایرانی جہاز پچاس لاکھ بیرل خام تیل لے کر روانہ،ایران کی تصدیق

    امریکا نے ایران کا بحری محاصرہ ختم کر دیا ہے جس کے بعد لاکھوں بیرل خام تیل لے کر ایرانی ٹینکرز سمندر میں روانہ ہو چکے ہیں۔

    ایران کے نائب وزیرِ خارجہ ماجد تخت روانچی نے اپنے ایک بیان میں بحری محاصرہ ختم ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے ایرانی بندرگاہوں پر بٹھایا گیا اپنا پہرہ مکمل طور پر ہٹا لیا ہے۔

    بحری جہازوں کی آمدورفت پر نظر رکھنے والے ادارے ’ٹینکرز ٹریکر‘ نے بھی بتایا ہے کہ تقریباً بیس لاکھ بیرل ایرانی خام تیل سے لدا ہوا ایک بہت بڑا دیو ہیکل ٹینکر امریکی ممنوعہ بحری لائن کو کامیابی سے پار کر چکا ہے، جبکہ ایران کے درجنوں دیگر بحری جہاز بھی اب بندرگاہوں سے نکل کر اس علاقے کی طرف تیزی سے بڑھ رہے ہیں پچھلے دو مہینوں میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ تقریباً پچاس لاکھ بیرل خام تیل لے کر کم از کم تین ایرانی ٹینکرز آبنائے ہرمز میں امریکی بحریہ کے محاصرے سے باہر نکلے ہیں۔

    سمندری ڈیٹا فراہم کرنے والے ادارے ’کے پی ایل ای آر‘ کے مطابق، ڈیونا اور ہیرو ٹو نامی دو بڑے ٹینکرز، جو ایرانی قومی کمپنی کی ملکیت ہیں اور جن پر امریکی پابندیاں بھی لگی ہوئی ہیں، امریکی بحریہ کے گھیرے کو توڑ کر باہر نکلنے میں کامیاب ہو گئے ہیں ان دونوں جہازوں پر مجموعی طور پر اڑتیس لاکھ بیرل ایرانی خام تیل لدا ہوا ہے، جبکہ ایک تیسرا جہاز بھی دس لاکھ بیرل تیل لے کر بدھ کے دن اس محاصرے کی لائن سے باہر نکل آیا ہے۔

    واضح رہے کہ امریکا اور ایران نے پیر کے روز تقریباً چار ماہ سے جاری جنگ کو ختم کرنے کے لیے ایک ابتدائی معاہدے پر دستخط کیے تھے، اور اب جمعہ کے دن سوئٹزرلینڈ میں اس کی اصل اور باقاعدہ تقریب ہوگی اس معاہدے کی تمام تفصیلات تو ابھی سامنے نہیں آئیں لیکن امید ہے کہ اس سے آبنائے ہرمز کا راستہ کھل جائے گا اور ایران کے تیل بیچنے پر لگی پابندیاں بھی ہٹ جائیں گی۔

    لائڈز لسٹ انٹیلی جنس نامی ادارے کا کہنا ہے کہ سمندری شعبہ اس خبر کو جشن کے بجائے ایک ڈر اور بے یقینی کے ساتھ دیکھ رہا ہے پچھلے کئی مہینوں سے جہازوں کے مالکان کرایوں اور جنگ کے بیمہ کی بھاری قیمتوں سے بہت پریشان تھے، اس لیے کچھ مالکان نے تو تیل کی مانگ بڑھنے کی امید پر اپنے جہاز خلیج کی بندرگاہوں کی طرف بھیجنا شروع کر دیے ہیں، لیکن زیادہ تر مالکان اب بھی بہت محتاط ہیں اور پیچھے ہٹے ہوئے ہیں انشورنس کمپنیاں اب بھی جنگ کے خطرے کا بھاری ٹیکس مانگ رہی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ جب تک ٹھوس ثبوت نہیں ملتا کہ یہ سمندری راستہ اب بالکل محفوظ ہے، وہ قیمتیں کم نہیں کریں گی۔

  • روسی بحری جہاز  کی پراسرار حالات میں  غرقابی،عالمی سیاست اور  انٹیلی جنس اداروں میں تشویش

    روسی بحری جہاز کی پراسرار حالات میں غرقابی،عالمی سیاست اور انٹیلی جنس اداروں میں تشویش

    ایک روسی مال بردار بحری جہاز ”اُرسا میجر“جو ممکنہ طور پر آبدوزوں کے لیے دو جوہری ری ایکٹر لے کر جا رہا تھا، ممکنہ طور پر شمالی کوریا کے لیے تھا، اسپین کے ساحل سے تقریباً 60 میل دور بحیرۂ روم کی گہرائی میں ، غیر واضح حالات میں دھماکوں کے ایک سلسلے کا شکار ہوا اور ڈوب گیا جس نے انٹیلی جنس اداروں میں ہلچل مچا دی ہے۔

    امریکی نشریاتی ادار ’سی این این‘ کی ایک حالیہ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق، یہ جہاز ممکنہ طور پر ایٹمی آبدوزوں میں استعمال ہونے والے دو نیوکلیئر ری ایکٹرز لے کر شمالی کوریا جا رہا تھا، جو پرسرار حالات میں دھماکوں کے بعد ڈوب گیا یہ واقعہ روس اور شمالی کوریا کے بڑھتے ہوئے فوجی تعاون اور اسے روکنے کے لیے مغربی ممالک کی ممکنہ خفیہ کارروائی کی ایک سنگین کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق، یہ جہاز 23 دسمبر 2024 کو ڈوبا، لیکن اس کی کہانی 11 دسمبر کو روس سے روانگی کے وقت ہی مشکوک ہو گئی تھی،اگرچہ جہاز کے کاغذات میں درج تھا کہ وہ روس کے مشرقی شہر ولادی ووستوک جا رہا ہے، لیکن ماہرین نے سوال اٹھایا کہ روس کے وسیع ریلوے نیٹ ورک کے بجائے سمندر کے راستے دنیا کا چکر لگا کر دو کرینیں اور خالی کنٹینر لے جانے کی کیا منطق تھی؟

    ہسپانوی حکام کی تفتیش کے دوران جہاز کے روسی کپتان ایگور انیسیموف نے اعتراف کیا کہ جہاز پر ایٹمی آبدوزوں جیسے ری ایکٹرز کے پرزے موجود تھے، کپتا ن کے بقول، اسے خدشہ تھا کہ جہاز کا رخ موڑ کر اسے شمالی کوریا کی بندرگاہ ’راسن‘ لے جایا جائے گا 22 دسمبر کو اسپین کے قریب جہاز کی رفتار اچانک کم ہوئی، اور اگلے ہی دن دائیں جانب تین زوردار دھماکے ہوئے جس میں عملے کے دو ارکان ہلاک ہو گئے۔

    ہسپانوی تحقیقاتی رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ جہاز کو نشانہ بنانے کے لیے ’باراکوڈا‘ نامی ایک خاص ٹارپیڈو استعمال کیا گیا ہوگا جو بغیر آواز پیدا کیے جہاز کے ڈھانچے میں سوراخ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اس واقعے کے ایک ہفتے بعد، ایک روسی جاسوس جہاز ’ینتار‘ نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور وہاں مزید چار دھماکے سنے گئے، جس کے بارے میں گمان ہے کہ روس نے سمندر کی تہہ میں موجود ملبے سے حساس معلومات یا آلات کو تباہ کرنے کے لیے یہ دھماکے کیے۔

    اس واقعے کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ امریکی فضائیہ کے خاص طیاروں، جنہیں ”نیوکلیئر اسنیفر“ کہا جاتا ہے اور جو فضا میں تابکاری کے ذرات سونگھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، انہوں نے دو بار اس مقام پر پروازیں کیں،یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی جب شمالی کوریا نے حال ہی میں اپنی پہلی ایٹمی آبدوز کی تصاویر جاری کی تھیں، جن کے بارے میں ماہرین کا خیال ہے کہ وہ ابھی تک مکمل طور پر فعال نہیں ہیں۔

    ہسپانوی حکومت نے اس معاملے پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے اور موقف اپنایا ہے کہ جہاز 2500 میٹر کی گہرائی میں ہے جہاں سے اس کا ڈیٹا ریکارڈ نکالنا بہت پرخطر ہے تاہم، حزبِ اختلاف کے سیاست دانوں اور ماہرین نے اس پر شکوک کا اظہار کیا ہے۔

    ہسپانوی قانون ساز جوآن انتونیو روہاس کا کہنا ہے کہ ”جب کوئی آپ کی پوچھی گئی معلومات صاف صاف فراہم نہ کرے، تو شک ہوتا ہے کہ کچھ چھپایا جا رہا ہے، دفاعی تجزیہ کار مائیک پلنکیٹ کا کہنا ہے کہ ”روس کی جانب سے اس طرح کی ایٹمی ٹیکنالوجی کی منتقلی صرف انتہائی قریبی اتحادیوں کے درمیان ہوتی ہے، اور اگر یہ سچ ہے تو یہ ماسکو کا ایک بہت بڑا اور پریشان کن قدم ہے-

  • ایرانی بندرگاہ پر کھڑے متعدد تجارتی جہازوں میں آگ بھڑک اٹھی

    ایرانی بندرگاہ پر کھڑے متعدد تجارتی جہازوں میں آگ بھڑک اٹھی

    ایران کے جنوبی صوبے بوشہر کی بندرگاہِ دیر (Dayyer Port) میں لنگر انداز متعدد تجارتی بحری جہازوں (لانچوں) میں اچانک آگ بھڑک اٹھی، جس سے جہازوں کو شدید نقصان پہنچا ہے –

    ایران کی نیم سرکاری نیوز ایجنسی ’مہر‘ کے مطابق یہ آگ بندرگاہ کے کمرشل ایریا میں لگی جس سے وہاں موجود تجارتی سامان کو بھی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے، اس وقت فائر فائٹنگ ٹیمیں آگ پر قابو پانے کے لیے مسلسل کوششیں کر رہی ہیں،واقعے کی وجوہات تاحال نامعلوم ہیں اور کسی جانی نقصان کی فوری اطلاع نہیں ملی۔

    دیر پورٹ کے فائر ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ ماجد عمرانی نے بھی پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ مہر نیوز ایجنسی کو بتایا ہے کہ فائر فائٹرز آگ پر قابو پانے کے لیے کام کر رہے ہیں فی الحال اس حادثے کی وجوہات سامنے نہیں آ سکی ہیں اور متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ آگ لگنے کی اصل وجہ ابھی تک معلوم نہیں ہے اس واقعے کی وجہ کا اعلان فائر فائٹنگ آپریشن مکمل ہونے کے بعد ہی کیا جائے گا۔

    یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار ہے اور ایران نے متحدہ عرب امارات پر تازہ میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران کو حملے شروع کرنے کی دھمکی دی ہوئی ہے۔

  • ایرانی تیل بردار جہاز امریکی بحری ناکہ بندی عبور کرنے میں کامیاب، بحرالکاہل تک پہنچ گیا

    ایرانی تیل بردار جہاز امریکی بحری ناکہ بندی عبور کرنے میں کامیاب، بحرالکاہل تک پہنچ گیا

    ایرانی آئل کمپنی کا جہاز امریکی بحری ناکہ بندی عبور کرنے میں کامیاب ہو گیا۔

    عرب میڈیا کے مطابق ایک ایرانی آئل کمپنی کا تیل بردار جہاز امریکی بحری ناکہ بندی کو عبور کرتے ہوئے ایشیا بحرالکاہل کے علاقے تک پہنچ گیا ہےذرائع کا کہنا ہے کہ اس جہاز میں کروڑوں ڈالر مالیت کا خام تیل موجود ہےا س جہاز کو سری لنکا کے قریب دیکھا گیا تھا جس کے بعد یہ انڈونیشیا کے سمندری را ستے سے آگے بڑھ رہا ہے ایرانی حکام کا دعویٰ ہے کہ درجنوں ایرانی جہاز امریکی ناکہ بندی توڑنے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔

    دوسری جانب امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ کئی ایرانی جہازوں کو واپس جانے پر مجبور کیا گیا ہے اور اس ناکہ بندی کے باعث ایران کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔

  • آبنائےہرمز  میں ایران کے زیر قبضہ  جہاز کے مناظر سامنے آ گئے

    آبنائےہرمز میں ایران کے زیر قبضہ جہاز کے مناظر سامنے آ گئے

    ایران کی جانب سے آبنائےہرمز سے قبضے میں لیے گئے جہاز کے مناظر سامنے آگئے۔

    ایرانی پریس ٹی وی کے صحافی نے زیرقبضہ جہا ز سے خصوصی رپورٹ پیش کی جس میں جہاز پر لدے کنٹینرز دکھائے گئے ایرانی پریس ٹی وی کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو میں جہاز کےاندرونی مناظربھی دیکھے جاسکتےہیں ایرانی صحافی کےمطابق اسٹریٹیجک آبی گزرگاہ پر ایران کامکمل کنٹرول ہے۔

    دوسری جانب ترکیے نے امریکا ایران معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کے لیے مدد کی پیشکش کردی ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے کہا کہ امن معاہدے کے بعد ترکیے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کی کارروائیوں میں حصہ لینے پر غور کرسکتا ہے یہ کام مختلف ممالک کی تکنیکی ٹیمیں انجام دیں گی، ایسے میں ترکیے کو بارودی سرنگوں کی صفائی کی کارروائیوں میں حصہ لینے میں مسئلہ نہیں ہوگا، ترکیے ایسے اقدامات کو انسانی ہمدردی کی ذمہ داری کے طور پر مثبت نظر سے دیکھتا ہے۔

  • بھارت نے  بحیرہ عرب میں  ایران سے منسلک تیل بردار جہاز ضبط کر لیے

    بھارت نے بحیرہ عرب میں ایران سے منسلک تیل بردار جہاز ضبط کر لیے

    بھارت نے چاہ بہار بندرگاہ سے خاموش واپسی کے بعد ایران سے منسلک تیل بردار جہاز بھی ضبط کر لیے۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق بھارتی کوسٹ گارڈ نے بحیرہ عرب میں اسمگلنگ کے الزام میں 3 آئل ٹینکرز کو تحویل میں لیا آئل ٹینکرز کو ممبئی سے تقریباً 100 سمندری میل کے فاصلے پر بحیرہ عرب میں قبضے میں لے لیا گیا ضبط کیے گئے بحری جہازوں میں ال جافزیہ، ایسفالٹ اسٹار اور اسٹیلر روبی شامل ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ چاہ بہار سے واپسی کے بعد ایرانی جہازوں کی ضبطی ایران کے لیے بھارت کی جانب سے چھرا گھونپنے کے مترادف ہے۔

  • روس کا امریکا پر بین الاقوامی سمندری قوانین کی خلاف ورزی کا الزام

    روس کا امریکا پر بین الاقوامی سمندری قوانین کی خلاف ورزی کا الزام

    روس نے امریکا پر بین الاقوامی سمندری قوانین کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ شمالی بحرِ اوقیانوس میں امریکی بحریہ کی جانب سے روسی پرچم بردار آئل ٹینکر مارینیرا پر چڑھائی کے بعد اس جہاز سے رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔

    روسی وزارتِ ٹرانسپورٹ کے مطابق امریکی افواج کی جانب سے ٹینکر کو قبضے میں لینا سمندری قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے 1982 کے اقوامِ متحدہ کنونشن برائے قانونِ سمندر کے تحت کھلے سمندروں میں جہاز رانی کی آزادی حاصل ہے اور کسی بھی ریاست کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کسی دوسری ریاست کے دائرہ اختیار میں رجسٹرڈ جہاز کے خلاف طاقت کا استعمال کرے۔

    ادھر روسی وزارتِ خارجہ نے بھی اس معاملے پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ امریکی افواج کی جانب سے مارینیرا ٹینکر پر چڑھائی کی اطلاعات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے روس نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ جہاز پر موجود تمام روسی شہریوں کے ساتھ انسانی سلوک کیا جائے اور ان کی وطن واپسی میں رکاوٹ نہ ڈالی جائے۔ یہ بیان روس کی سرکاری خبر رساں ایجنسی تاس کے حوالے سے جاری کیا گیا۔

    قوانین کی خلاف ورزی پر کارروائی:امریکا نے بھارتی طلباء کو خبردار کر دیا

    واضح رہے کہ ‘ڈارک فلیٹ’ کی اصطلاح ان آئل ٹینکروں کے لیے استعمال کی جاتی ہے جو پابندیوں اور نگرانی سے بچنے کے لیے اپنی شناخت یا نقل و حرکت چھپاتے ہیں۔ عالمی قوانین کے تحت تمام تجارتی جہازوں کا کسی نہ کسی ملک میں رجسٹرڈ ہونا لازمی ہوتا ہے تاکہ حفاظتی اور ماحولیاتی ضوابط پر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔

    وینزویلا کی تیل برآمدات کے تناظر میں بعض پابندیوں کی زد میں آئے ٹینکر امریکی پابندیوں اور ناکہ بندی سے بچنے کے لیے ‘ڈارک موڈ’ میں سفر کرتے رہے ہیں۔ اس طریقہ کار میں مقام کے بارے میں غلط معلومات دینا، جعلی یا تبدیل شدہ پرچم استعمال کرنا اور دیگر حربے شامل ہیں، جن کے ذریعے پابندیوں کے باوجود خریداروں تک تیل پہنچایا جاتا رہا ہے۔

    امریکی فوج نے وینزویلا سے منسلک روسی آئل ٹینکر قبضے میں لےلیا ۔

  • کراچی: پی این ایس سی کے جہاز میں حادثہ، کریو ممبر جاں بحق

    کراچی: پی این ایس سی کے جہاز میں حادثہ، کریو ممبر جاں بحق

    متحدہ عرب امارات کے فجیرا پورٹ سے پیٹرول لے کر آنے والے پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (پی این ایس سی) کے جہاز میں حادثہ پیش آیا ہے۔

    پی این ایس سی ذرائع کے مطابق متحدہ عرب امارات کے فجیرا پورٹ سے پیٹرول لے کر آنے والے پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (پی این ایس سی) کے جہاز میں حادثہ پیش آیا ہے، حادثہ جہاز کے ایک ٹینک کی صفائی کے دوران پیش آیا، جہاں بے احتیاطی کے باعث ایک کریو ممبر جاں بحق ہوگیا، واقعے میں جہاز کا پمپ مین بھی زخمی ہوا، تاہم اس کی حالت خطرے سے باہر بتائی جارہی ہے،جاں بحق ہونے والے کریو ممبر کی میت گوادر پورٹ سے اس کے آبائی علاقے بھکر روانہ کر دی گئی ہے۔