امریکا نے ایران کا بحری محاصرہ ختم کر دیا ہے جس کے بعد لاکھوں بیرل خام تیل لے کر ایرانی ٹینکرز سمندر میں روانہ ہو چکے ہیں۔
ایران کے نائب وزیرِ خارجہ ماجد تخت روانچی نے اپنے ایک بیان میں بحری محاصرہ ختم ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے ایرانی بندرگاہوں پر بٹھایا گیا اپنا پہرہ مکمل طور پر ہٹا لیا ہے۔
بحری جہازوں کی آمدورفت پر نظر رکھنے والے ادارے ’ٹینکرز ٹریکر‘ نے بھی بتایا ہے کہ تقریباً بیس لاکھ بیرل ایرانی خام تیل سے لدا ہوا ایک بہت بڑا دیو ہیکل ٹینکر امریکی ممنوعہ بحری لائن کو کامیابی سے پار کر چکا ہے، جبکہ ایران کے درجنوں دیگر بحری جہاز بھی اب بندرگاہوں سے نکل کر اس علاقے کی طرف تیزی سے بڑھ رہے ہیں پچھلے دو مہینوں میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ تقریباً پچاس لاکھ بیرل خام تیل لے کر کم از کم تین ایرانی ٹینکرز آبنائے ہرمز میں امریکی بحریہ کے محاصرے سے باہر نکلے ہیں۔
سمندری ڈیٹا فراہم کرنے والے ادارے ’کے پی ایل ای آر‘ کے مطابق، ڈیونا اور ہیرو ٹو نامی دو بڑے ٹینکرز، جو ایرانی قومی کمپنی کی ملکیت ہیں اور جن پر امریکی پابندیاں بھی لگی ہوئی ہیں، امریکی بحریہ کے گھیرے کو توڑ کر باہر نکلنے میں کامیاب ہو گئے ہیں ان دونوں جہازوں پر مجموعی طور پر اڑتیس لاکھ بیرل ایرانی خام تیل لدا ہوا ہے، جبکہ ایک تیسرا جہاز بھی دس لاکھ بیرل تیل لے کر بدھ کے دن اس محاصرے کی لائن سے باہر نکل آیا ہے۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران نے پیر کے روز تقریباً چار ماہ سے جاری جنگ کو ختم کرنے کے لیے ایک ابتدائی معاہدے پر دستخط کیے تھے، اور اب جمعہ کے دن سوئٹزرلینڈ میں اس کی اصل اور باقاعدہ تقریب ہوگی اس معاہدے کی تمام تفصیلات تو ابھی سامنے نہیں آئیں لیکن امید ہے کہ اس سے آبنائے ہرمز کا راستہ کھل جائے گا اور ایران کے تیل بیچنے پر لگی پابندیاں بھی ہٹ جائیں گی۔
لائڈز لسٹ انٹیلی جنس نامی ادارے کا کہنا ہے کہ سمندری شعبہ اس خبر کو جشن کے بجائے ایک ڈر اور بے یقینی کے ساتھ دیکھ رہا ہے پچھلے کئی مہینوں سے جہازوں کے مالکان کرایوں اور جنگ کے بیمہ کی بھاری قیمتوں سے بہت پریشان تھے، اس لیے کچھ مالکان نے تو تیل کی مانگ بڑھنے کی امید پر اپنے جہاز خلیج کی بندرگاہوں کی طرف بھیجنا شروع کر دیے ہیں، لیکن زیادہ تر مالکان اب بھی بہت محتاط ہیں اور پیچھے ہٹے ہوئے ہیں انشورنس کمپنیاں اب بھی جنگ کے خطرے کا بھاری ٹیکس مانگ رہی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ جب تک ٹھوس ثبوت نہیں ملتا کہ یہ سمندری راستہ اب بالکل محفوظ ہے، وہ قیمتیں کم نہیں کریں گی۔
