پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر غلام علی نے کہا کہ میرا کسی سیاسی جماعت کے لیڈر کے ساتھ کوئی اختلاف نہیں ہے
انہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) خیبر پختونخوا کا صدر ایمل ولی خان مجھ سے چھوٹا اور بھتیجے جیسا ہے۔
غلام علی نے مزید کہا کہ الزامات لگتے رہتے ہیں، میں دعوے سے کہتا ہوں، ایک بھی الزام میں صداقت نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ میرے خلاف ایک بھی سفارش سے پوسٹنگ ٹرانسفر ثابت کر دیں، میں سیاست چھوڑ دوں گا۔
گورنر خیبر پختونخوا نے یہ بھی کہا کہ وزیراعظم کی طرح میں بھی ہر وقت عوام کی خدمت میں رہنا فرض سمجھتا ہوں، مجھ پر الزامات لگانے والے دراصل سنی سنائی باتوں پر یقین کرکے بول رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ن لیگ، اے این پی، پی پی اور دیگر اتحادی جماعتوں کے کارکنوں کو ہمیشہ خوش آمدید کہا ہے۔واضح رہے کہ گورنر کے پی کے پر عوامی نیشنل پارٹی مسلسل عدم اعتماد کا اظہار کر رہی ہے،
Tag: جے یو آئی ف
-

کرپشن کا ایک بھی الزام ثابت ہوا تو سیاست چھوڑ دونگا،گورنر کے پی کے
-

کے پی کے گورنر کے معاملے پر اے این پی اور جے یو ائی ف کا ایک دوسرے پر زبانی گولہ باری
ترجمان عوامی نیشنل پارٹی خیبرپختونخوا ثمرہارون بلور نے مولانا فضل الرحمن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مولانا صاحب! سمدھی کے علاوہ کوئی رشتہ دار گورنرہاؤس بھیج دیں، وہاں آتے جاتے بریف کیسز دیکھ لیں، ثمرہارون بلور نے گورنر کے پی کے پر الزام لگا کہ کہا کہ گورنرہاؤس میں باپ بیٹا اتحادی جماعتوں کے کونسلرز کو 30 سٹریٹ لائٹس کی رشوت دے رہے ہیں، ہم اس قوم کیلئے جانیں دینے والی پارٹی ہیں، 30 لائٹس تو کیا 30 ارب روپے بھی ہمارا ضمیر نہیں خرید سکتا،ثمرہارون بلورنے مزید کہا کہ تمیز اور تہذیب اگر سکھانی ہے تو گورنرہاؤس میں بیٹھے لوگوں کو سکھائے، بڑی کرسی پر بیٹھ کر تہذیب سے بات کرنے سے عاری لوگوں کی حمایت نہیں کرسکتے،اے این پی کے صوبائی ترجمان اور رہنما ثمر بلور نے مزید کہا باچاخان اور ولی خان کے سیاسی وارث کا قد پوری دنیا جانتی ہے، ولی باغ سیاسی مدرسہ ہے جہاں لوگ سیاست سیکھتے ہیں، کون کہاں تک محدود ہے، سب کچھ چند مہینوں میں واضح ہوجائیگا،صوبائی ترجمان اے این پی نے کہا اے این پی اپنے اصولی مؤقف اور ماضی کی خدمت کی بنیاد پر عوام میں نکل چکی ہے ، انہوں نے کہا غیرسنجیدہ رویوں کی وجہ سے پختونخوا کے پرامن سیاسی ماحول کو خراب کرنے کے پیچھے گورنرہاؤس کی سازش ہے،صرف اے این پی ہی نہیں، پورا اتحاد کہہ چکا ہے کہ گورنرہاؤس میں کیا کچھ ہورہا ہے،ثمرہارون بلور نے سوال کیا کہ کیا تمام لوگ غلط اور ایک جماعت درست ہے؟ عوام پر حکمرانی حلوہ نہیں کہ کھایا جائے،عوام اپنے حق پر کھبی ڈاکہ نہیں ڈالنے دے گی،
-

مردان جمعیت علماء اسلام کا سوئیڈن کے خلاف احتجاج
جمیت علماء اسلام ف مردان کے رہنماؤں نے سوئیڈن میں قرآن پاک کی بے حرمتی کے واقعے کیخلاف احتجاج کیا ہے،
احتجاجی مظاہرے میں جمعیت علمائے اسلام کے کارکنوں سمیت شہریوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی،. مظاہرین نے سویڈن کی حکومت کے خلاف شدید نعرہ بازی کی۔مظاہرین نے کہا کہ قرآن کریم کی بے حرمتی مسلمانوں کے جذبات سے کھیلنے کے مترادف ہے، قرآن کریم کی بے حرمتی برداشت سے باہر ہے،لہذا سویڈن سے سفارتی تعلقات ختم کیا جائے،احتجاج کے دوران سوئیڈن جھنڈے کو جلا دیا گیا، -

حکومت کو حکومت کرنے دی جائے:مولانا فضل الرحمان
اسلام آباد:سربراہ جمعیت علماء اسلام مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ حکومت کو حکومت کرنے دی جائے۔اداروں کی سیاست میں مداخلت سے ریاست کمزور ہورہی ہے
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ عدالت کو بڑے فورم پر فیصلہ کرنے کی درخواست کررہے ہیں، ہم عدالتوں سے فیصلوں کا اختیار نہیں چھین رہے۔ پی ڈی ایم و جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ہم دستور کی بقا کے لیے ہر جدوجہد کریں گے۔
سپریم کورٹ میں زیر سماعت مقدمات:پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی نے اہم فیصلے کرلیے
تفصیلات کے مطابق جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ فضل الرحمان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ فوری درخواست اور فوری سماعت احساس دلا رہی ہے کہ عدالت یا دباو یا اپنی دلچپسی سے سب کر رہی ہے، جے یو آئی اس مقدمے میں فریق بننے کا اعلان کرتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دستور کی بقا کے لیے ہم ہر جدوجہد کریں گے، نئی نئی باتیں عدالتی ماحول سے عام آدمی کے کانوں میں پڑتی ہیں، پارٹی لیڈر ہی آخری فیصلوں کا اختیار رکھتا ہے، پوری دنیا میں وزیر اعظم یا پارٹی صدر ہی آخری فیصلہ کرتا ہے، آج نئی بحث چھیڑ دی گئی ہے کہ پارلیمانی پارٹی لیڈر ہی سب کچھ ہے۔
انہوں نے کہا کہ بعض اوقات پارٹی سربراہ ایوان سے باہر ہوتا ہے مگر نگرانی وہی کرتا ہے، تین یا پانچ رکنی بنچ قابل قبول نہیں ہو گا، عمران خان بیانیہ جھوٹا ہے۔
عمران خان کے پریشر گروپوں کے ذریعہ اداروں کو ڈرانے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔خ
جے یو آئی کے سربراہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بات کی سمجھ ججوں کو نہیں آرہی، فل کورٹ اس کیس کو سنیں، تین یا پانچ نہیں فل کورٹ چاہیے، ریاست کمزور ہو رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اپنے اداروں کی سیاست میں مداخلت سے ریاست کمزور ہو رہی ہے، حکومت کو حکومت کرنے دیں، ہم نے مشکل چیلنج قبول کیا ہے، اگر ابہام رہے گا تو کچھ بھی درست کام نہیں کرے گا۔انہوں نے کہا کہ ادارے کو ایک پارٹی کے لئے کچھ لوگ استعمال کرتے ہیں۔
-

جے یو آئی کی مرکزی مجلس عاملہ و صوبائی امرا ونظما کا اہم اجلاس
اسلام آباد:جے یو آئی کی مرکزی مجلس عاملہ و صوبائی امراء ونظماء کا اہم اجلاس،اطلاعات کے مطابق اج جےیوآئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے زیرصدارت اجلاس منعقد ہوا ہے ،اس اجلاس میں ملک میں جاری سیاسی اور معاشی صورت حال کے متعلق صورتحال کا جائزہ لینا تھا
جے یو آئی ف کے ترجمان اسلم غوری کے مطابق اس اہم اجلاس میں سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری، اپوزیشن لیڈر کے پی اسمبلی اکرم خان درانی ،مولانا فضل علی حقانی، مولانا امجد خان، مولانا سعید یوسف میں شریک ہیں، اس کے علاوہ اس اجلاس میں وفاقی وزراء مولانا عبدالواسع، مفتی عبدالشکور ، سید محمود شاہ،ڈاکٹر عتیق الرحمان، مولانا صلاح الدین، سینیٹر کامران مرتضی سمیت دیگربھی شریک ہیں
ترجمان جے یو آئی ف اسلم غوری کا کہنا ہے کہ اجلاس میں وفاقی حکومت سمیت جے یو آئی کے وزراء کی کارکردگی بہتر بنانے کے لئے تجاویز پر غور کیا گیا ہے ،اجلاس میں موجودہ سیاسی صورتحال اور آئندہ کے لائحہ عمل پر غور وخوض ہوگا ۔
ترجمان جے یو آئی اسلم غوری کا کہنا ہے کہ اجلاس میں حالیہ بجٹ سمیت مجموعی صورتحال پر غور و خوض ہوگا ۔اجلاس میں جے یو آئی کی مرکزی مجلس عمومی کے اجلاس کی تاریخ اور مقام کے تعین بارے غور ہوگا
-

میں علما سے فتوے لیکرعمران خان کی حکومت کوگرا دوں گا:فضل الرحمن نے اپنا آخری کارڈ کھیل دیا
اسلام آباد:میں علما سے فتوے لیکرعمران خان کی حکومت کوگرا دوں گا:فضل الرحمن نے اپنا آخری کارڈ کھیل دیا ،اطلاعات کے مطابق مولانا فضل الرحمن انصارالاسلام کے ہزاروں کارکنوں کے ساتھ اسلام آباد میں داخل ہوچکے ہیں اور داخل ہوتے ہی اپنا آخری کارڈ بھی کھیل دیا ہے اور ایسی دھمکی دی ہے کہ جس سے مذہبی طبقے کی عزت کو خطرے میں ڈال دیا ہے

اطلاعات کے مطابق پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن انصار الاسلام کے ہزاروں کارکنوں کےساتھ اسلام آباد میں داخل ہوگئے ہیں اور شہرمیں اس وقت ایک عجیب سماں ہے،
دوسری طرف اس موقع پرمولانا فضل الرحمن کا کہنا ہے کہ حکومت گرتی ہوئی دیوار ہے ایک دھکا دینے کی ضرورت ہے۔
مولانا فضل الرحمن نے کہا ہےکہ وہ علما کوعمران خان کی حکومت کے خلاف تیار کریں گے ان کی ذہن سازی کریں گے اورپھران سے فتوے کےلیکر ان فتوں کی مدد سے حکومت کا خاتمہ کریں گے اورپھرملک میں فوری اسلام لائیں گے
آپ ہی اپنی اداؤں پہ ذرا غور کریں ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی pic.twitter.com/wK8KRLklDD
— Baaghi TV باغی ٹی وی (@BaaghiTV) March 26, 2022
ذرائع کے مطابق اسلام آباد داخل ہونےسے پہلے جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پورا ملک اسلام آباد کی طرف امڈ آیا ہے، 28 مارچ کو متحدہ اپوزیشن کا جلسہ ہوگا، سب کی ایک ہی آواز ہے یہ حکومت جائے اور شفاف انتخابات ہوں۔
انہوں نے کہا کہ ملک تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے معیشت تباہ ہوچکی ہے، دن کم رہ گئے ہیں جب قوم نجات کا دن منائے گی۔
واضح رہے کہ گزشتہ دنوں ایم کیو ایم قیادت سے ملاقات کے بعد مولانا فضل الرحمان نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومت کے اتحادی اب ان کے ساتھ نہیں رہے، انہیں ہمارے ساتھ ہونے کا اعلان کرنے میں ایک دو دن لگ سکتے ہیں۔
Siringar highway right now. JUIF workers with sticks sitting on roofs of buses pic.twitter.com/fED2KQb87A
— Baaghi TV باغی ٹی وی (@BaaghiTV) March 26, 2022
ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم قیادت سے ملاقات کے بعد مکمل مطمئن ہوں، تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کا یقین ہے۔
فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ جلسوں میں جو زبان استعمال ہوئی وہ کسی شریف انسان کی نہیں، سمجھتا ہوں کہ اتنے بڑے منصب پر ایسے لوگوں کا ہونا مناصب کی بے توقیری ہے۔
-

عدالت سے وعدہ خلافی پرجے یو آئی کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کرنےکافیصلہ
اسلام آباد:عدالت سے وعدہ خلافی پرجے یو آئی کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائر، کب ہوگی اس حوالے سے مشاورت جاری ہے ،،اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت نے جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
وزیرداخلہ شیخ رشید اور وزیراعظم عمران خان کے مشیربرائے پارلیمانی امور بابراعوان کی زیرصدارت اجلاس ہوا جس میں آئی جی، ڈی سی اسلام آباد، راولپنڈی پولیس اوررینجرز حکام شریک ہوئے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے جے یو آئی کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ جے یو آئی عدالتی احکامات کے برعکس سرینگر ہائی وے پرجلسے کی تیاریاں کررہی ہے۔
حکومتی ذرائع بتاتے ہیں کہ سپریم کورٹ میں وفاقی حکومت کی طرف سے عملدرآمد رپورٹ بھی جمع کرائی جائے گی، رپورٹ میں عدالتی احکامات کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے والوں کا ذکر کیا جائے گا۔
ادھر دوسری طرف وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ تین چوہے مل کر میرا شکار کرنا چاہتے ہیں، ہم انہیں شکست دیں گے، یہ چاہتے ہیں کہ کسی طرح عمران خان ان کو این آر او دے۔اسلام آباد میں منڈی لگی ہوئی ہے جہاں لوگوں کو خریدنے کے لیے 20/25 کروڑ کی آفر کی جارہی ہے۔
خیبرپختونخوا کے ضلع مانسہرہ میں پی ٹی آئی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ شاندار استقبال پر عوام کا شکریہ ادا کرتا ہوں، شاندار جلسے پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں، میں ہر جلسے میں اپنے آپ کو کہہ کر جاتا ہوں میں فضل الرحمان کو ڈیزل نہیں کہوں گا، میں جب تقریر کیلئے کھڑا ہوتا ہوں تو پنڈال سے ڈیزل ڈیزل کی آواز آنا شروع ہوجاتی ہے۔ برے اور مشکل وقت میں پوری کوشش کی ڈیزل کی قیمت کم کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ میں کرکٹ کی دنیا کا سپر سٹار رہ چکا ہوں، نوجوان پاکستان کا مستقبل ہیں، نوجوانوں کو سکھانا چاہتا ہوں تباہی اور عظمت کا راستہ کون سا ہے، پی ٹی آئی رکن قومی اسمبلی صالح محمد خان کے ضمیر کو خریدنے کیلئے 20 سے 25کروڑ روپے رکھے گئے، اسلام آباد میں جو منڈی لگی ہوئی ہے اس میں لوگوں کو خریدنے کیلئے 25کروڑ کی آفر کی جارہی ہے، صالح محمد کے پاس بھی2 راستے تھے کہ وہ پیسے لے کر کہتے کہ عمران خان بہت غلط آدمی ہے، سچ اور حق کا راستہ آسان نہیں بہت مشکل ہوتا ہے۔
-

پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف نے بھی صدارتی ریفرنس کا تحریری جواب جمع کرا دیا
مسلم لیگ ن، پاکستان پیپلز پارٹی ،سابق صدر آصف علی زرادری اور تحریک انصاف نے صدارتی ریفرنس پر جواب سپریم کورٹ میں جمع کرا دیا۔
باغی ٹی وی :مسلم لیگ ن کی جانب سے جمع کروائے گئے تحریری جواب میں کہا گیا ہے کہ آئین کا آرٹیکل 63 اے اور 95 واضح ہے، ہر رکن کو ووٹ ڈالنے کا حق ہے اور ہر رکن اسمبلی کا کاسٹ کیا گیا ووٹ گنتی میں شمار بھی ہو گا۔
مسلم لیگ ن کے جواب میں کہا گیا ہے کہ صدارتی ریفرنس قبل از وقت اور غیر ضروری مشق ہے، سپریم کورٹ کے پاس آئین کی تشریح کا اختیار ہے، آئینی ترمیم کا نہیں۔
تحریک انصاف کی جانب سے جواب سینیٹر علی ظفر نے سپریم کورٹ میں جمع کرایا تحریک انصاف نے نے صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے جواب یں کہا کہ جواب ووٹ اجتماعی ہے-
تحریک انصاف نے جواب میں کہا کہ ممبر پارٹی سے ہٹ کر ووٹ نہیں دے سکتا، اکیلا ووٹ شمار میں نہیں کیاجائے گا، اگر کوئی منحرف ہو جاتا ہے تو اس کے خلاف کارروائی ہوسکتی ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی صدارتی ریفرنس پر اپنا جواب جمع کرادیا، جواب سینیٹر فاروق نائیک کے زریعے جمع کرایا۔
پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے جمع کرائے گئے جواب میں کہا گیا ہے کہ صدارتی ریفرنس آر ٹیکل 186 کے دائرہ کار میں نہیں آتا، اگر اس صدارتی ریفرنس کے تحت فیصلہ یا رائے دی گئی تواپیل کا حق بھی متاثر ہوگا۔
پاکستان پیپلز پارٹی نے جواب میں کہا کہ صدارتی ریفرنس آرٹیکل 186 کے دائرہ کار میں نہیں آتا، یہ صدارتی ریفرنس قابل سماعت نہیں، واپس کیا جائے۔ رکن اسمبلی کے ووٹ کاسٹ کرنے سے پہلے 63 اے کا اطلاق نہیں ہو سکتا۔
پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے بھی صدارتی ریفرنس پر جواب جمع کرادیا انہوں نے جواب لطیف کھوسا کے زریعے جمع کرایا گیا۔
قبل ازیں عدالت عظمیٰ،سپریم کورٹ بار اورجے یو آئی نے صدارتی ریفرنس کا تحریری جواب جمع کرا یا تھا-
سپریم کورٹ بار نے عدم اعتماد کی تحریک میں رکن قومی اسمبلی کے ووٹ کے حق کو انفرادی قرار دیدیا عدالت عظمیٰ میں جمع کرائے گئے تحریری جواب میں کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 95 کے تحت ووٹ کسی سیاسی جماعت کا حق نہیں ہے کسی رکن کو ووٹ ڈالنے سے روکا نہیں جا سکتا،عوام اپنے منتحب نمائندوں کے ذریعے نظام حکومت چلاتے ہیں-
سپریم کورٹ بارنے اپنے جواب میں کہا کہ آرٹیکل 63 کے تحت کسی بھی رکن کو ووٹ ڈالنے سے پہلے نہیں روکا جاسکتا آرٹیکل 95 کے تحت ڈالا گیا ہر ووٹ گنتی میں شمار ہوتا ہے ہر رکن قومی اسمبلی اپنے ووٹ کا حق استعمال کرنے میں خودمختار ہے آرٹیکل 63 اے میں پارٹی ڈائریکشن کیخلاف ووٹ ڈالنے پرکوئی نااہلی نہیں، جے یو آئی نے موقف اختیارکیا ہے کہ عدالت پارلیمنٹ کی بالادستی ختم کرنے سے اجتناب کرے۔
دوسری جانب جے یو آئی کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے اپنے جواب میں کہا گیا کہ تحریک انصاف میں پارٹی الیکشن نہیں ہوئے جماعت سلیکٹڈ عہدیدار چلا رہے ہیں، سلیکٹڈ عہدیدار آرٹیکل 63 اے کے تحت ووٹ ڈالنے یا نہ ڈالنے کی ہدایت نہیں کر سکتے۔
سپیکر کو اراکین کے ووٹ مسترد کرنے کا اختیار نہیں دیا جا سکتا، لازمی نہیں کہ عدم اعتماد پر ووٹنگ سے پہلے ہی ریفرنس پر رائے دی جائے۔ سپریم کورٹ نے پہلے رائے دی تو الیکشن کمیشن کا فورم غیر موثر ہو جائے گا۔ آرٹیکل 63 اے پہلے ہی غیر جمہوری ہے آزاد جیت کر پارٹی میں شامل ہونے والوں کی نشست بھی پارٹی کی پابند ہو جاتی ہے ریفرنس سے لگتا ہے صدر وزیراعظم اور سپیکر ہمیشہ صادق اور امین ہیں اور رہیں گے۔
جے یو آئی نے جواب جمع کرایا کہ پارٹی کیخلاف ووٹ پر تاحیات نااہلی کمزور جمہوریت کو مزید کم تر کرے گی صدارتی ریفرنس آرٹیکل 186 کے دائرے سے باہر ہے، صدارتی ریفرنس پارلیمنٹ کی بالا دستی کو ختم کرنے کے مترادف ہے، صدارتی ریفرنس بغیر رائے دیئے واپس کردیا جائے۔
دوسری جانب وفاقی وزیراطلاعات فوادچودھری نے سپریم کورٹ بار کے جواب پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وکیل وکلا تنظیموں کےاس کردار سےنالاں ہیں وکلا تنظیموں کا کام سیاسی جماعتوں کا آلہ کار بننا نہیں اپنی آزادانہ حیثیت برقراررکھنا ہے،سپریم کورٹ بار کا جواب پڑھ کر لگتا ہے بار باڈی ن لیگ کے ماتحت ہے-
SCBAکا جواب پڑہ کر لگتا ہے سپریم کورٹ بارباڈی نون لیگ کیSubsidiary ہے وکلاء تنظیموں کا کام سیاسی جماعتوں کا آلہ کار بننا نہیں اپنی آزادانہ حیثیت برقراررکھنا ہے، عام وکیل وکلاء تنظیموں کےاس کردار سےنالاں ہے اور لاہور بار کے انتخابات میں اس گروپ کو جو شکست ہوئ وہ وکلاء کاردعمل ہے
— Ch Fawad Hussain (@fawadchaudhry) March 24, 2022
خیال رہے کہ وفاقی حکومت نے آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا جس پر سپریم کورٹ نے بار کونسل اور سیاسی جماعتوں سے بھی جواب طلب کیا تھا-
-

بیرونی قوتیں پاکستان میں عدم اعتماد کروارہی ہیں:مگرمیراووٹ پاکستان کےلیےہے:اہم شخصیت کا اعلان
اسلام آباد: بیرونی قوتیں پاکستان میں سیاست سیاست کھیل رہی ہیں:میرا ووٹ پاکستان کے لیےہے:جےیوآئی ایم این اے کے ممبر قومی اسمبلی نے حقائق سے پردہ اٹھا کرپاکستان کے خلاف عالمی سازشوں کو بے نقاب کردیا ، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ جمعیت علماے اسلام کے ایک ایم این اے نے انکشاف کیا ہے کہ اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کے پیچھے بیرونی ہاتھ ہے۔
ذرائع کے مطابق جے یو آئی کے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ایک رکن قومی اسمبلی نے حکومت کو اپنی حمایت کی یقین دہانی کرا دی ہے۔ ایم این نے کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کے پیچھے بیرونی ہاتھ ہے، ایسی کسی تحریک کا حصہ نہیں بن سکتا جو بیرونی ہاتھوں میں کھیلے۔
واضح رہے کہ ملکی سیاست میں اس وقت ایک ہلچل مچی ہوئی ہے، اپوزیشن نے وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد اور اسمبلی کا اجلاس بلانے کی ریکوزیشن اسمبلی سیکریٹریٹ میں جمع کرا دی ہے، جس پر 100 سے زائد ارکان کے دستخط موجود ہیں۔
دوسری طرف حکومت پُر اعتماد نظر آ رہی ہے، ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کے 8 ایم این ایز نے حکومت کو ساتھ دینے کی یقین دہانی کرائی ہے، 2 اپوزیشن رہنماؤں نے منسٹر انکلیو میں وفاقی وزرا سے کچھ دیر قبل اہم ملاقات بھی کی۔
ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ تحریک عدم اعتماد کو ناکام بنانے کے لیے حکومت کی جانب سے اپوزیشن کے مزید ارکان سے بھی رابطے جاری ہیں۔
-

اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد:مسودے پرصرف 80 سے زائد اراکین کے دستخط:نئی بحث چھڑ گئی
اسلام آباد:اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد:مسودے پرصرف 80 سے زائد اراکین کے دستخط:نئی بحث چھڑ گئی ،اطلاعات کے مطابق اپوزیشن نے تحریک عدم اعتماد کا مسودہ تیار کرلیا۔ تحریک پر 80 سے زائد اپوزیشن اراکین کے دستخط ہیں۔دوسری طرف ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے کہ دعوے تو بڑے ہورہے تھے مگردستخط صرف 80 ممبران کے ،
ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی، ن لیگ، جے یو آئی ف، اے این پی، بی این پی مینگل اور دیگر کے دستخط ہیں۔ ملک اقتصادی زبوں حالی کا شکار ہے۔ ملک کو معاشی بحرانوں سے نکالنے کا کوئی روڈ میپ نہیں۔ مجوزہ مسودے کے مطابق ملک میں سیاسی عدم استحکام اور غیر یقینی صورتحال ہے، خارجہ پالیسی مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے۔
مجوزہ مسودے میں کہا گیا کہ قائد ایوان اس ایوان کی اکثریت کا اعتماد کھو چکے ہیں، مذکورہ بالا صورتحال کے تناظر میں قائد ایوان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کی جاتی ہے۔ اپوزیشن نے اسمبلی اجلاس بلانے کی ریکوزیشن بھی تیار کر رکھی ہے۔ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کے چیمبر کو الرٹ کر دیا گیا۔ تحریک عدم اعتماد اور ریکوزیشن کسی بھی وقت جمع کروائی جا سکتی ہے۔
واضح رہےکہ اپوزیشن جماعتیں حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے لیے سرگرم ہیں اور اس سلسلے میں سیاست کے بڑے کھلاڑیوں کی بیٹھکیں جاری ہیں جب کہ (ن) لیگ کے رہنما رانا ثنااللہ نے تحریک عدم اعتماد کامیابی کا دعویٰ کیا ہے۔