Baaghi TV

Tag: حادثہ

  • فیروز پور روڈ پر افسوسناک ٹریفک حادثہ ، میاں‌ بیوی شدید زخمی ، بیوی کی ٹانگ ہی کٹ گئی

    فیروز پور روڈ پر افسوسناک ٹریفک حادثہ ، میاں‌ بیوی شدید زخمی ، بیوی کی ٹانگ ہی کٹ گئی

    لاہور : تیزرفتاری خطرہ جان ، پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا ، فیروز پور روڈ پر جنرل ہسپتال کے سامنے ٹرک کی ٹکر لگنے سے موٹر سائیکل سوار میاں بیوی شدید زخمی ہوگئے۔

    ریسکیو ذرائع کے مطابق فیروز پور روڈ پر جنرل ہسپتال کے سامنے ٹرک نے موٹر سائیکل کو ٹکر ماردی جس کے نتیجے میں موٹر سائیکل سوارمیاں بیوی شدید زخمی ہوگئے، حادثے کی اطلاع ملنے پر ریسکیو اہلکار موقع پر پہنچ گئے اور زخمیوں کو طبی امداد کیلئے جنرل ہسپتال منتقل کردیا، نشتر کالونی پولیس نے ملزم کو حراست میں لے کر کارروائی کا آغاز کر دیا۔

    ریسکیو حکام کے مطابق حادثے میں شامل خاتون 30 سالہ کومل بی بی کی ٹانگ کٹ گئی، خاتون شوہر کے ہمراہ گھر جارہی تھی کہ ٹرک نے ٹکر مار دی، زخمیوں کا تعلق یوحنا آباد کے علاقے سے ہے۔ہسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں موٹرسائیکل سواروں کو تشویشناک حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا جن کی حالت ابھی بھی خطرے میں ہے

  • تیز رفتاری خطرہ جان ،  مزدا 2 شہریوں کی جان لے گیا ، ہر آنکھ اشک بار

    تیز رفتاری خطرہ جان ، مزدا 2 شہریوں کی جان لے گیا ، ہر آنکھ اشک بار

    فیروز پور روڈ پر مزدا کی بریک فیل ہونے کے باعث دو موٹر سائیکل سواروں پر چڑھ دوڑی، ڈرائیور کی غفلت کے باعث دو افراد جاں بحق جبکہ 5 زخمی ہوگئے۔

    فیروز پور روڈ پر مزدا کی بریک فیل ہو گئی جس کے باعث تیز رفتار مزدا نے دو موٹر سائیکل سوار افراد 50 سالہ الیاس، 26 سالہ نامعلوم شخص موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے۔ بریک فیل ہونے کے باعث تیز رفتار مزدا نے تین گاڑیوں اور دو رکشوں کو بھی شدید نقصان پہنچایا جبکہ حادثہ میں پانچ افراد بھی زخمی ہوئے جن کو قریبی ہسپتال منتقل کردیا گیا۔

    موقع پر موجود وارڈن کا کہنا تھا کہ مزدا ڈرائیور نے بھاگنے کی کوشش کی جس کو گرفتار کرکے ڈولفن پولیس کے حوالے کردیا۔ حادثے میں زخمی ہونے والے لوگوں کا کہنا تھا کہ مزدا کی رفتار تیز تھی جس کے باعث حادثہ پیش آیا۔

    فیروز روزپور روڈ پر حادثہ کی وجہ سے کلمہ چوک سے چونگی تک ٹریفک کا شدید دباؤ رہا، ٹریفک وارڈنز نے گاڑیوں کو لفٹر کے ذریعے ہٹا کر راستہ کلیئر کیا۔

  • خوف ناک حادثہ ، نوجوان جاں بحق ، یہ حادثہ کہاں رونما ہوا ؟ جانیئے اس رپورٹ میں‌

    خوف ناک حادثہ ، نوجوان جاں بحق ، یہ حادثہ کہاں رونما ہوا ؟ جانیئے اس رپورٹ میں‌

    لاہور: تیز رفتاری خطرہ جان ، آج کی رات مبشر کے کے گھروالوں کے لیے قیامت کا منظر پیش کرنے لگی ، اطلاعات کے مطابق سگیاں راوی پل پر تیز رفتار ٹرک نے موٹر سائیکل سوار کو کچل دیا، موٹر سائیکل سوار مبشر نامی نوجوان موقع پر جاں بحق جبکہ ٹرک ڈرائیور فرار ہوگیا۔پولیس اس ملزم کی تلاش میں مصروف ہے.

    ریسکیوذرائع کے مطابق سگیاں راوی پل پر حادثہ تیز رفتاری کے باعث پیش آیا، ٹرک سگیاں پھول منڈی کی جانب سے بند روڈ کی طرف آرہا تھا کہ اچانک ٹرک نے موٹر سائیکل سوار کو کچل دیا جس کی وجہ سے موٹر سائیکل پر سوار بیس سالہ مبشر موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا۔پولیس کے مطابق اس حادثے کے بعد ٹرک ڈرائیور موقع پر سے فرار ہو گیا جبکہ ٹریفک وارڈنز نے پولیس اور ریسکیو کو اطلاع کی۔ پولیس نے لاش کو پوسٹمارٹم کیلئے مردہ خانے منتقل کر دی۔

  • دیپالپور روڈ پر تیز رفتار مزدا ڈالہ حادثے کا شکار

    دیپالپور روڈ پر تیز رفتار مزدا ڈالہ حادثے کا شکار

    کھڈیاں خاص ، قصور:-
    (نمائندہ باغی ٹی وی) کھڈیاں خاص سے آتے ہوئے تیز رفتار مزدا ڈالہ فٹ پاتھ پر چڑھ گیا۔
    تفصیلات کے مطابق کھڈیاں خاص سے 4 کلومیٹر دور
    جمال پور سٹی کے قریب آلو سے بھرا ہوا مزدا ڈالہ تیز رفتاری کے باعث کار کو بچاتے ہوئے فٹ پاتھ پر چڑھ گیا۔
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حادثہ تیز رفتاری کے باعث پیش آیا تھا تاہم ڈرائیور اور ساتھی زخمی ہوئے جبکہ کسی قسم کا کوئی بھی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔
    مزدا ڈالہ جس کا نمبر
    LES 8554
    ہے آلو کی فصل لوڈ کرکے دیپالپور روڈ کے ذریعے لاہور جا رہا تھا کہ تیز رفتاری کے باعث سامنے کار آنے کی وجہ سے مزدا ڈالہ فٹ پاتھ پر چڑھ گیا اور مزدا ڈالہ کے اگلے دونوں ویل ڈالے سے الگ ہو کر دور جا گرے تھے۔ حادثہ شام 6 بجے کے قریب پیش آیا تھا۔
    پٹرولنگ پولیس چوکی نورپور نے موقع پر پہنچ کر جاۓ وقوعہ کا جائزہ لیا ہے اور کاروائی شروع کردی ہے ۔

  • اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا ۔۔۔ تحریر : سلمان آفریدی

    اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا ۔۔۔ تحریر : سلمان آفریدی

    حافظ ابتسام الحسن بھائی ایک انسان دوست ، حکمت سے معمور اور دعوتی جذبے سے سرشار عالم دین تھے۔ دعوتی تڑپ اور دین کے پھیلاؤ کی جو لگن ان مِیں دیکھی وہ بہت ہی کم لوگوں میں نظر آتی ہے۔ گزشتہ روز رات بارہ بجے کے قریب ہمارے ایک مشترکہ دوست اور ایک عزیز بھائی اویس کا فون آیا جنہوں نے اطلاع دی کہ سلمان بھائی ابتسام بھائی ہم میں نہیں رہے ، چند ثانیے تو یقین ہی نہیں آیا وہ کہنے لگے کہ ان کے چھوٹے بھائی اور اہلیہ ہسپتال میں ہیں میں اپنی فیملی کے ساتھ ان کے پاس جا رہا ہوں آپ بھی آ جائیں۔ میں کچھ تاخیر سے جب وہاں پہنچا تو ان کا جسد خاکی میو ہسپتال کے ڈیڈ ہاوس میں پوسٹ مارٹم کے لیے لایا جا رہا تھا۔ گلاب کی طرح کھلا ہوا چہرہ ، اور چہرے پر اطمینان دیکھ کر آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔
    ابتسام بھائی روڈ ایکسیڈنٹ میں گاڑی کی ٹکر سے شہید ہوئے ۔ اطلاعات کے مطابق انار کلی بازار لاہور کے قریب گاڑی میں دو لوگ سوار تھے جو آپس میں کسی وجہ سے الجھے جس بناء پر گاڑی ابتسام بھائی کی بائیک سے جا ٹکرائی وہ گرے مگر اٹھ کر کھڑے ہو گئے گاڑی والا ڈر کر بھاگتے ہوئے دوبارہ ان سے جا ٹکرایا اور ان کو شدید چوٹیں آئیں۔ اس دوران وہاں موجود لوگ ڈرائیور کے ساتھی کو پکڑنے میں کامیاب ہو گئے جبکہ ڈرائیور بھاگ نکلا۔ ابتسام بھائی کو قریب واقع میو ہسپتال لے جایا گیا جہاں پہلے ان کی طبیعت سنبھل گئی۔ اس دوران جب ان کی طبیعت بہتر تھی انہوں نے دیگر باتوں کے ساتھ ساتھ ڈرائیور کو معاف کرنے کی بھی وصیت کی (اللہ اکبر کیسا اعلی ظرف انسان تھا، کیسا وسیع القلب آدمی تھا اللہ تو اس کو معاف کر اور اس سے راضی ہو جا) کچھ دیر ٹھیک رہنے کے بعد طبیعت پھر بگڑنا شروع ہوئی یہاں تک کہ ابتسام بھائی بہت سی آنکھوں کو اشکبار چھوڑ کر جان جان آفریں کے سپرد کر گئے۔
    اس دھیمے مزاج اور خوبیوں سے مالا مال شخص کی وفات کی اطلاع جس جس نے سنی اس کا دل غم سےلبریز ہو گیا۔ ابتسام بھائی ایک واعظ اور خطیب ہونے کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر بھی تحریر و تقریر سے دعوت کے کام میں مصروف عمل رہتے تھے۔ ڈیفنس کی جامع مسجد الرباط میں ایک لمبا عرصہ امام تراویح رہے۔ ان کی دلنشیں اور پرسوز آواز میں کی جانیوالی قرات قران سننے کے لیے لوگ دور دور سے آتے تھے خصوصا قنوت میں ان کا رو رو کر دعائیں کرنا دیکھ کر بہت رشک آتا جب وہ خود بھی رو رہے ہوتے اور ان کے پیچھے کھڑے مقتدیوں کی آنکھیں بھی اشکبار ہوتیں۔ سوشل میڈیا پر وہ علم و عمل انسٹیٹوٹ، پاک بلاگرز فورم سمیت کئی فورمز سے وابستہ تھے ۔ ان کے مضامین ، کالمز اور آڈیو ویڈیو لیکچرز گاہے بگاہے شائع و نشر ہوتے رہتے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ حفظ القران اور تجوید کے استاد بھی تھے۔ مرکز الودق ڈیفنس اور دیگر کئی مقامات پر خدمات سرانجام دینے بعد انہوں نے حلیمہ سعدیہ ایجوکیشنل کمپلیکس نزد شرقپور روڈ پر کام کا آغاز کر رکھا تھا جہاں تعلیم بالغاں کے ساتھ مدرسہ حفظ القران اور تجوید کا بھی اجراء کیا جا چکا تھا۔ یقینا وہ گوناگوں صفات کے مالک اور کثیر الصلاحیت شخص تھے۔
    ان کے ساتھ کام کرنے والے دوستوں میں طہ منیب بھائی نے ان کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی اچانک وفات سے دل بہت غمگین اور اداس ہے۔ دعوتی اور اصلاحی پلیٹ فارمز پر ویڈیو ریکارڈنگ کے سلسلے میں ان سے ملاقاتیں ہوتی رہتی تھیں۔ رمضان المبارک اور ربیع الاول میں محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم کے موضوع پر ان کے متعدد لیکچرز ریکارڈ کروائے جبکہ چند ماہ پہلے ان کی کال آئی جس میں انہوں نے اپنے مقتدیوں کے اصرار پر تلاوت قران کی ریکارڈنگ کے لیے آڈیو ریکاڈنگ سٹوڈیو کا پوچھا ہم نے ریکارڈنگ شروع کی اب تک تین پارے ہو چکے تھے کہ اللہ کی مشیت غالب آ گئی۔
    اس طرح پاک بلاگرز فورم کے مدیر خنیس الرحمان نے ان کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ
    ہم حافظ ابتسام رحمۃ اللہ کے ہوتے ہوئے فخر محسوس کرتے تھے کہ ہمارے درمیان عالم دین موجود ہیں آج پاک بلاگرز فورم ان کے جانے سے یتیم ہوگیا, ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا, یقین ہی نہیں آتا. بار بار ان کی گفتگو اور ان کے کہے ہوئے بہت سے الفاظ کانوں میں گونجتے ہیں۔ ان کو یاد کرنے اور کہنے کو بہت کچھ ہے مگر ان کی جدائی کا صدمہ اس قدر ہے کہ کچھ سمجھ نہیں آتا کہ کیا کہوں۔

    بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
    اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا

    شہادت کی دعائیں مانگنے والا شہادت کا یہ طلبگار ان شااللہ شہید ہو کر اپنے رب کے پاس پہنچا۔ اللہ سے دعا ہے کہ اللہ رب العالمین ہمارے بھائی کی کوتاہیوں سے درگزر فرمائے اس کو معاف فرمائے اس سے راضی ہو جائے اور اس کو جنت الفردوس میں اپنا مہمان بنائے۔ آمین یا رب العالمین

  • پاکستان میں خوفناک حادثات کی شرح میں خطرناک اضافہ

    پاکستان میں خوفناک حادثات کی شرح میں خطرناک اضافہ

    پاکستان کی شاہراہوں پرسالانہ ٹریفک حادثات میں ہلاکتوں کی تعداد 30 ہزار سے تجاوز کرگئی،

    نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹرویز اتھارٹی کے مطابق ملک کی بڑی شاہراہوں پر ہونے والے ٹریفک حادثات میں سالانہ 15 سے 16 ہزار افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں،

    بڑے شہروں کے اندر ہونے والے حادثات کو بھی شامل کرلیا جائے تو تعداد 30 ہزار سالانہ تک پہنچ جاتی ہے۔ ریلوے اور فضائی حادثات میں ہونے والی اموات اس کے علاوہ ہیں۔

    ملک میں گزشتہ 10 سال کے دوران 3 بڑے اور 15 چھوٹے فضائی حادثات بھی ہوئے جن میں 620 افراد جاں بحق ہوئے۔

    قومی اسمبلی میں جمع کروائی گئی رپورٹ کے مطابق 2013 سے 2018 کے دوران ریل کے 339 سے زائد حادثات ہوئے جن میں 120 افراد لقمہ اجل بنے۔ ان تمام بڑے فضائی اور ریلوے حادثات کی تحقیقات تو ہوئیں لیکن انہی محکموں نے کی جو خود ذمہ دار تھے، یوں حادثے کی ذمہ داری جاں بحق ڈرائیورز یا پائلٹ پر ڈال کر جان چھڑا دی گئی۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں جان لیوا حادثات کی تحقیقات کے لئے ایک مستقل ادارہ بنتا ہے جس کا مقصد نہ صرف ذمہ داروں کا تعین کرنا ہے بلکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچنے کے لئے سفارشات بھی مرتب کرنا ہوتا ہے،
    واضح رہے کہ ملک میں ہر سال دہشت گردی سے اتنے لوگ جاں بحق نہیں ہوتے جتنی
    انسا نی جانیں مختلف حادثات کی نذر ہوجاتی ہیں
    بدقسمتی سے پاکستان میں آزادانہ تحقیقاتی بورڈ نہ ہونے کی وجہ سے مسافروں کے تحفظ کے لیے کوئی پالیسی مرتب نہیں کی جاسکی.