Baaghi TV

Tag: حادثہ

  • باؤنڈری والز  نا ہونے باعث 8 افراد جانبحق ،وزیر اعلی سے نوٹس کی اپیل

    باؤنڈری والز نا ہونے باعث 8 افراد جانبحق ،وزیر اعلی سے نوٹس کی اپیل

    قصور
    ٹریفک پولیس قصور و ضلعی انتظامیہ قصور کی سخت نااہلی 8 قیمتی جانوں کو نگل گئی، اوور سپیڈ گاڑی باؤنڈری وال نا ہونے باعث روہی نالے میں اتر گئی، ایک خواجہ سرا سمیت 8 افراد جانبحق٫ 2 شدید زخمی،پورے ضلع میں بیشتر چھوٹے بڑے پلوں پر باؤنڈری والز نہیں،ضلعی انتظامیہ بے خبر،ٹریفک پولیس کی مانیٹرنگ صرف اوقات دن تک محدود

    تفصیلات کے مطابق قصور ٹریفک پولیس اور ضلعی انتظامیہ قصور کی سخت نااہلی 8 قیمتی جانوں کو نگل گئی
    آج رات تقریباً دو بجے اوور سپیڈ گاڑی رائیونڈ سے آتے ہوئے سیم نالہ،کھارا روہی میں اتر گئی جس کے باعث 8 افراد جانبحق ہو گئے
    بھٹہ سوہن قصور کے رہائشی 10 مسیحی FAW کیڑی ڈبہ میں سوار شادی فنکشن کے بعد رائیونڈ سے قصور کی طرف آ رہے تھے کہ حدود تھانہ صدر اور پولیس چوکی پیٹرولنگ کھارا موڑ کے بلکل قریب واقع روہی نالہ میں گاڑی اس وجہ سے اتر گئی کہ اول تو شاید گاڑی اوور سپیڈ تھی جسے کسی ٹریفک و پیٹرولنگ اہلکار نے مانیٹر نا کیا دوم یہ کہ روہی نالہ پر باؤنڈری والز نہیں ہیں اس بابت گاڑی بڑی سپیڈ سے روہی نالے میں گری جس کے ٹکڑے بکھر گئے اور 8 افراد بشمول ایک خواجہ سرا جانبحق ہوئے
    واضع رہے کہ اسی طرح باؤنڈری وال نا ہونے اور اوور سپیڈنگ باعث گزشتہ سال دسمبر میں بھی ایک رکشہ اوراڑہ روہی نالہ میں گرنے باعث 6 افراد جانبحق ہوئے تھے اور اس سے بھی قبل 2023 میں اسی مقام پر ٹویوٹا ہائی ایس اسی روہی نالہ میں گرنے پر ڈرائیور جانبحق ہوا تھا
    واضع رہے کہ ضلع بھر کے تمام چھوٹے بڑے بیشتر پلوں پر باؤنڈری والز نہیں ہیں اور ٹریفک پولیس قصور محض دن کے وقت محض کاغذات ہی دیکھتی ہے رات کو نا تو گاڑی کی سپیڈ چیک کی جاتی ہے نا ہی کوئی اہلکار کسی سڑک پر نظر آتا ہے
    قیمتی جانوں کے ضیاع پر غفلت برتنے پر شہریوں نے ڈپٹی کمشنر قصور اور وزیر اعلی پنجاب سے سخت نوٹس لے کر ذمہ داروں کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا ہے

  • بھارتی ہیلی کاپٹرز حادثات، فضائی عملے کی صلاحیتوں پر سنگین سوال

    بھارتی ہیلی کاپٹرز حادثات، فضائی عملے کی صلاحیتوں پر سنگین سوال

    بھارتی ہیلی کاپٹرز حادثات، فضائی عملے کی صلاحیتوں پر سنگین سوال اٹھنے لگے

    5 جنوری 2025ء کوبھارتی ریاست گجرات میں کوسٹ گارڈ ہیلی کاپٹر تباہ ہوا،ہیلی کاپٹر حادثے میں تین افراد ہلاک ہوئے،بھارتی پولیس کے مطابق ”ہیلی کاپٹر معمول کی پرواز کے دوران گر کر تباہ ہوا” "عملے کے 3 افراد کو شدید زخمی حالت میں ریسکیو کیا گیا“

    مودی کے دور اقتدار میں دیگر شعبوں میں نااہلی کے ساتھ شعبہ ہوا بازی میں بھی آئے روز حادثات ہو رہے ہیں ،کبھی بھارت کے جنگی طیارے تباہ ہوتے ہیں، کبھی بحریہ کے جہازوں کو حادثات پیش آتے ہیں اور کبھی ہیلی کاپٹر موت بن جاتے ہیں ،اس کی بڑی وجہ کرپشن اور اہم شعبوں میں رشوت کے عوض نااہل افراد کی بھرتیاں ہیں،بھارت میں ہیلی کاپٹر حادثات کی ایک لمبی فہرست ہے،گزشتہ دو سالوں کے دوران بھارت میں کئی ہیلی کاپٹر حادثات ہوچکے ہیں جن میں فوجی اور نیم فوجی ہیلی کاپٹر شامل ہیں

    16 مارچ 2023ء کو آرمی چیتا ہیلی کاپٹر ریاست ارونا چل پردیش میں گر کر تباہ ہوا جس میں دونوں پائلٹ ہلاک ہوئے، اپریل 2023 میں ہندوستانی بحریہ کو ALH Dhruv ہیلی کاپٹر کوممبئی میں تکنیکی خرابی کے باعث ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی، مئی 2023 میں ہندوستانی کوسٹ گارڈ کا ALH دھروہیلی کاپٹر بحیرہ عرب میں دوران آپریشن تباہ ہوا ،اس حادثے نے آپریشنل حفاظتی انتظامات پر سوال اٹھا دئیے، اکتوبر 2023 میں ہندوستانی فضائیہ کے ALH دھرو ہیلی کاپٹرکو ریاست بہار میں امدادی مشن کے دران ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی،اس حادثے نے آپریشنل صلاحیتوں پر سوال اٹھادئیے،4 نومبر2023 کو کوچی میں چیتک ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہوا جس میں ایک ہلاکت ہوئی ، مارچ 2024 میں پوربندر میں کوسٹ گارڈ ALH دھرو ہیلی کاپٹر گجرات میں لینڈنگ کے دوران تباہ ہوا جس میں عملے کے تین افراد ہلاک ہوئے،2 ستمبر 2024 کو بحیرہ عرب میں ایک اور کوسٹ گارڈ ALH Dhruv ہیلی کاپٹر ریسکیو آپریشن کے دوران تباہ ہوا،ایک سال میں دوسرے حادثے نے طیاروں کی حفاظت پر سنگین سوالات اٹھائے

    بھارتی فضائی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں آئے روز ہیلی کاپٹرز کے حادثات نے عملے کی صلاحیتوں پر سوالات اٹھادئیے،ہیلی کاپٹرز کے آئے روز حادثات کے باعث ان کا کسی بھی ریسکیو آپریشن میں استعمال بھی اب خطرناک بن چکا ہے، اس طرح کے ہیلی کاپٹر حادثات دراصل مودی سرکار کی کرپشن اور میرٹ سے ہٹ کر تعیناتیوں کا نتیجہ ہیں،

    کراچی،تاجر پر حملے کا مقدمہ ترجمان میئر کے خلاف درج

    سعودیہ سمیت دیگر ممالک سے 63 پاکستانیوں کی بے دخلی

  • اوچ شریف: کوٹ خلیفہ روڈ پر بھیانک حادثہ، ٹرالر الٹنے سے بجلی کی لائن ٹوٹ گئی، تین افراد زخمی

    اوچ شریف: کوٹ خلیفہ روڈ پر بھیانک حادثہ، ٹرالر الٹنے سے بجلی کی لائن ٹوٹ گئی، تین افراد زخمی

    اوچ شریف،باغی ٹی وی (نامہ نگارحبیب خان) کوٹ خلیفہ روڈ پر بھیانک حادثہ، ٹرالر الٹنے سے بجلی کی لائن ٹوٹ گئی، تین افراد زخمی

    تفصیل کے مطابق اوچ شریف کے نواحی علاقے کوٹ خلیفہ روڈ پر ہونے والے ایک سنگین حادثے میں 26 ٹن کین لوڈ کے ساتھ ایک ٹرالر الٹ گیا۔ یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب بھلوال (سرگودھا) سے کراچی جانے والا ٹرالر ایک الیکٹرک پول سے ٹکرا کر سڑک کے نیچے جا گرا۔

    اس حادثے کے نتیجے میں بجلی کے کھمبے اور تاریں بھی گر گئیں، جس سے علاقے میں بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی اور مین گرڈ اسٹیشن کو علاقے کی بجلی کی فراہمی معطل کرنی پڑی۔ ریسکیو سٹاف کے مطابق، اس حادثے میں تین افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں سے ایک کو شدید زخمی حالت میں ار ایچ سی اوچ شریف منتقل کیا گیا ہے۔

    حادثے کے فوری بعد، ریسکیو سٹاف نے موقع پر پہنچ کر امدادی کارروائیاں شروع کر دیں اور زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی۔ حادثے کی جگہ کو محفوظ بنانے کے لیے متعلقہ علاقے کو سیل کر دیا گیا تاکہ ٹریفک متاثر نہ ہو۔

  • جنوبی کوریا کے تباہ طیارے کا بلیک باکس تحقیقات کیلئے امریکہ بھجوایا جائے گا

    جنوبی کوریا کے تباہ طیارے کا بلیک باکس تحقیقات کیلئے امریکہ بھجوایا جائے گا

    جنوبی کوریا میں ایئرلائن جیجو ایئر کے مسافر طیارے کے حادثے کے بعد اس کے بلیک باکس کو تجزیے کے لیے امریکہ بھیجا جائے گا۔

    سیول کی وزارتِ ٹرانسپورٹ کے مطابق بدھ کو یہ اعلان کیا گیا ہے کہ بلیک باکس کا تجزیہ امریکی نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ کرے گا، جس میں جنوبی کوریا کے تفتیشی حکام بھی شریک ہوں گے۔ یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب حادثے کے شکار افراد کے اہلِ خانہ سانحہ کی جگہ کا دورہ کرنے پہنچنا شروع ہوگئے تھے۔یہ بلیک باکس بوئنگ 737-800 طیارے کا ایک حصہ ہے، جو اتوار کے روز جنوبی کوریا کے جنوب مغربی علاقے میں موان انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایمرجنسی لینڈنگ کے دوران حادثے کا شکار ہوگیا۔ اس حادثے میں 181 افراد میں سے 179 افراد کی موت واقع ہوئی، جو جنوبی کوریا کا گزشتہ تین دہائیوں میں سب سے مہلک فضائی حادثہ تھا۔

    جنوبی کوریا کی سول ایوی ایشن کے نائب وزیر جو جونگ وان نے بدھ کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بلیک باکس حادثے میں نقصان کا شکار ہوچکا ہے، اور ملک میں اس کا ڈیٹا نکالنے کی صلاحیت نہیں ہے، لہٰذا یہ بلیک باکس تجزیے کے لیے امریکہ بھیجا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ بلیک باکس کے ساتھ ایک کنیکٹر بھی غائب ہے، جو مزید مشکلات کا باعث بن رہا ہے۔امریکی نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ اس بلیک باکس کا تجزیہ کرے گا اور اس میں جنوبی کوریا کے تفتیشی افسران بھی شامل ہوں گے۔ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ اس تجزیے میں کتنی مدت لگے گی۔

    تفتیش کاروں نے طیارے کے دوسرے بلیک باکس، یعنی کاک پٹ وائس ریکارڈر سے ابتدائی ڈیٹا حاصل کرلیا ہے۔ جو جونگ وان نے بتایا کہ اس ڈیٹا کو وائس فائلز میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، اور یہ عمل دو دن میں مکمل ہو جائے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ دونوں بلیک باکسز سے حاصل ہونے والے ڈیٹا سے اس حادثے کی وجہ کا تعین کرنے میں مدد ملے گی۔

    حادثے میں جاں بحق ہونے والے 179 افراد کی شناخت مکمل کرلی گئی ہے، تاہم ابھی تک صرف 11 لاشوں کو عارضی مردہ خانہ سے خاندانوں کے حوالے کیا گیا ہے تاکہ وہ تدفین کی تیاری کر سکیں۔ اس دوران، متاثرہ خاندان اور عزیز و اقارب اتوار سے موان ایئرپورٹ پر موجود ہیں۔ بدھ کے روز، متاثرین کے عزیزوں کو بسوں کے ذریعے حادثے کی جگہ تک پہنچایا گیا تاکہ وہ وہاں جا کر اپنے پیاروں کے لیے دعائیں کریں۔

    فی الحال یہ واضح نہیں ہے کہ جیجو ایئر کی پرواز 7C 2216 کا حادثہ کس وجہ سے پیش آیا۔ تحقیقات میں ممکنہ وجوہات پر غور کیا جا رہا ہے، جن میں طیارے کا ممکنہ طور پر پرندوں سے ٹکرا جانا، لینڈنگ گیئر کا کام نہ کرنا، اور رن وے کے آخر میں موجود کنکریٹ کا بیرئیر شامل ہیں۔طیارے کے پائلٹ نے ایمرجنسی لینڈنگ سے پہلے مے ڈے کال جاری کی تھی اور پرندے کے ٹکرا جانے کی اطلاع دی تھی۔ ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ طیارے کے نہ تو سامنے اور نہ ہی پیچھے کے لینڈنگ گیئر نظر آ رہے تھے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ طیارہ پیٹ کے بل زمین پر آیا تھا اور اس کے بعد ایک زوردار دھماکہ ہوا۔

    جنوبی کوریا اور امریکہ کے 22 تفتیشی حکام اس حادثے کی مشترکہ تحقیقات میں حصہ لے رہے ہیں۔ ان میں امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن ، نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ اور طیارے کے موجد ادارے بوئنگ کے نمائندے بھی شامل ہیں۔

    جنوبی کوریا طیارہ حادثہ، 181 میں سے دو افراد زندہ کیسے بچے

    جنوبی کوریا طیارہ حادثہ،ایئر پورٹ پر لواحقین کی آہ و بکا،141 لاشوں کی شناخت

  • جنوبی کوریا ، بدترین فضائی حادثے کے بعد فضائی حفاظتی تحقیقات کا حکم

    جنوبی کوریا ، بدترین فضائی حادثے کے بعد فضائی حفاظتی تحقیقات کا حکم

    جنوبی کوریا کے نگران صدر چوہی سنگ موک نے پیر کے روز ملک کی تمام فضائی آپریشن سسٹم کی ہنگامی حفاظتی جانچ کرانے کا حکم دیا ہے، کیونکہ تفتیش کار اس بدترین فضائی حادثے کے متاثرین کی شناخت کرنے اور اس کے سبب کا پتہ لگانے میں مصروف ہیں، جس میں ملک کی تاریخ کا سب سے زیادہ جانی نقصان ہوا۔

    یہ حادثہ جےجو ایئر کی پرواز 7C2216 کے ساتھ پیش آیا، جو تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک سے جنوبی کوریا کے موان انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر لینڈ کر رہی تھی۔ جہاز ایک بویئنگ 737-800 تھا جو زمین پر اترتے وقت حادثے کا شکار ہو گیا۔ اس حادثے میں 175 مسافر اور چھ میں سے چار عملے کے اراکین ہلاک ہو گئے، جبکہ دو عملے کے ارکان کو زندہ نکال لیا گیا۔پرواز 7C2216 جب موان ایئرپورٹ پر لینڈ کرنے کی کوشش کر رہی تھی، تو جہاز کا توازن برقرار نہ رہ سکا اور یہ رن وے کے آخر تک پھسلتے ہوئے ایک دیوار سے ٹکرا گیا۔ اس ٹکر سے جہاز میں زبردست آگ بھڑک اُٹھی۔ تحقیقاتی حکام مختلف عوامل کا جائزہ لے رہے ہیں جن میں پرندوں کے ٹکراؤ اور موسمی حالات شامل ہیں۔تفتیشی افسران کا کہنا ہے کہ ایک اہم سوال یہ ہے کہ جہاز اتنی تیز رفتاری سے کیوں چل رہا تھا اور لینڈنگ کے دوران اس کا گیئر نیچے کیوں نہیں تھا۔

    جنوبی کوریا کی وزارت ٹرانسپورٹ کے مطابق حکام اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ آیا جنوبی کوریا کی تمام فضائی کمپنیوں کے 101 بویئنگ 737-800 جہازوں کی خصوصی جانچ کی جائے یا نہیں۔ نگران صدر چوہی سنگ-موک نے اپنے بیان میں کہا کہ "حادثے کی تحقیقات کا عمل شفاف طریقے سے جاری رکھا جائے اور متاثرہ خاندانوں کو جلد اطلاع دی جائے۔” انہوں نے یہ بھی کہا کہ وزارت ٹرانسپورٹ کو ہدایت دی گئی ہے کہ فضائی آپریشن سسٹم کی ہنگامی حفاظتی جانچ کی جائے تاکہ کسی بھی قسم کے فضائی حادثے کی روک تھام کی جا سکے۔

    مذکورہ حادثے کے وقت، طیارہ کے پائلٹس نے ایئر ٹریفک کنٹرول کو اطلاع دی تھی کہ جہاز پر پرندے کے ٹکراؤ کا سامنا ہوا ہے۔ ایئر ٹریفک کنٹرولر نے انہیں اس علاقے میں پرندوں کی موجودگی کے بارے میں آگاہ کیا تھا، اور پھر پائلٹس نے مے ڈے سگنل جاری کیا اور لینڈنگ کو منسوخ کرنے اور دوبارہ کوشش کرنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ تاہم، چند لمحوں بعد جہاز رن وے پر بلی لینڈنگ کرتے ہوئے اختتام پر موجود دیوار سے ٹکرا گیا۔

    حادثے میں ہلاک ہونے والوں میں بیشتر وہ افراد شامل ہیں جو تھائی لینڈ سے تعطیلات کے بعد واپس لوٹ رہے تھے، جن میں دو تھائی شہری بھی شامل تھے۔ موان ایئرپورٹ پر لواحقین اپنے پیاروں کی شناخت کے لیے انتظار کر رہے ہیں۔ ایک متاثرہ خاندان کے رکن پارک ہن-شین نے بتایا کہ ان کے بھائی کی شناخت ہو گئی ہے لیکن وہ ابھی تک اس کا جسم نہیں دیکھ پائے۔حکام نے کہا کہ جہاز کا فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر مل گیا ہے لیکن اس پر کچھ بیرونی نقصان آیا ہے، جس کی وجہ سے یہ واضح نہیں ہے کہ آیا ڈیٹا تحلیل کرنے کے قابل ہے یا نہیں۔

    موان ایئرپورٹ تین دن کے لیے بند کر دیا گیا ہے، لیکن ملک کے دیگر ایئرپورٹس، بشمول انچیون انٹرنیشنل ایئرپورٹ، معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں۔ عالمی ہوابازی کے ضوابط کے مطابق جنوبی کوریا اس حادثے کی سول تحقیقات کی قیادت کرے گا اور اس میں امریکہ کی نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ کو بھی شامل کیا جائے گا کیونکہ بویئنگ 737-800 جہاز کو امریکہ میں ڈیزائن اور تیار کیا گیا تھا۔اس حادثے کی تحقیقات کے نتائج کا انتظار کیا جا رہا ہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ اس دل دہلا دینے والے حادثے کی کیا وجوہات تھیں اور مستقبل میں ایسے حادثات سے بچنے کے لیے کیا حفاظتی اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔

    جنوبی کوریا طیارہ حادثہ،ایئر پورٹ پر لواحقین کی آہ و بکا،141 لاشوں کی شناخت

    ایک دن میں تیسرا فضائی حادثہ، طیارہ رن وے سے اترگیا

    جنوبی کوریا، لینڈنگ کے دوران مسافر طیارے کو حادثہ، ہلاکتوں کی تعداد 151 ہوگئی

  • جنوبی کوریا طیارہ حادثہ،ایئر پورٹ پر لواحقین کی آہ و بکا،141 لاشوں کی شناخت

    جنوبی کوریا طیارہ حادثہ،ایئر پورٹ پر لواحقین کی آہ و بکا،141 لاشوں کی شناخت

    جنوبی کوریا کے ایئرپورٹ پر سوگ اور دعاؤں کی گونج، فضائی حادثے میں جاں بحق افراد کے اہل خانہ کی آہ و فغاں

    جنوبی کوریا کے جنوب مغربی علاقے میں واقع ایک ایئرپورٹ کی روانگی ہال میں اتوار کی صبح ہونے والے ایک فضائی حادثے کے بعد سوگ اور دعاؤں کی گونج سنائی دے رہی تھی۔ ماؤن کاؤنٹی کے موان ایئرپورٹ پر جہاز کے حادثے میں جاں بحق ہونے والوں کے اہل خانہ ان کے پیاروں کی شناخت کے لیے بے چین ہو کر انتظار کر رہے تھے۔

    اتوار کی صبح تقریباً 9 بجے مقامی وقت کے مطابق، جےجو ایئر کی ایک پرواز جو 175 مسافروں اور چھ عملے کے ارکان کو لے کر بنکاک سے موان جا رہی تھی، حادثے کا شکار ہو گئی۔ اس حادثے میں دو افراد کے علاوہ تمام مسافر اور عملہ ہلاک ہو گئے، جو جنوبی کوریا کے تقریباً تیس سالہ تاریخ کا سب سے مہلک فضائی حادثہ سمجھا جا رہا ہے۔موان انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے روانگی ہال میں متاثرہ خاندانوں کے افراد، جن میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی تھی، سوگ میں ڈوبے ہوئے تھے اور ان کے درمیان فریاد، دعائیں اور آہیں سنائی دے رہی تھیں۔ طبی عملے نے 141لاشوں کی شناخت کا اعلان کیا، جبکہ باقی 28 لاشوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹنگ کا عمل جاری ہے۔

    ایئرپورٹ کی معمول کی طور پر وسیع ایٹریئم میں کئی خاندان ایک دوسرے کے ساتھ جمع ہو کر خاموشی سے دعائیں کر رہے تھے۔ کچھ لوگ ایک دوسرے کے ساتھ گلے مل کر رو رہے تھے، جبکہ کئی بدحال رشتہ دار حکام سے مزید معلومات کی درخواست کر رہے تھے۔ ایئرپورٹ کے باہر پیلے رنگ کے خیمے لگے ہوئے تھے جہاں لوگ رات بھر رکے رہے تھے۔محققین اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ آخرکار کیا وجہ تھی جس سے جےجو ایئر کی پرواز 7C 2216 کو حادثہ پیش آیا۔ مقامی حکام نے پرواز کے دوران ایک ممکنہ پرندوں کے ٹکرا جانے کے امکان پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔

    اتوار کے روز حادثے کا جو ویڈیو فوٹیج نشر کیا گیا، اس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بوئنگ 737-800 کے دونوں لینڈنگ گیئر مکمل طور پر کھلے ہوئے نہیں تھے۔ طیارہ اپنی پیٹ کے بل تیز رفتاری سے رگڑتا ہوا زمین پر گرا جس کے نتیجے میں دھماکہ ہوا اور آگ بھڑک اُٹھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ لینڈنگ کے لیے استعمال ہونے والی انڈرکاریاج (یعنی وہ پہیے جو طیارے کو اڑنے اور لینڈ کرنے میں مدد دیتے ہیں) مکمل طور پر نہیں کھلے، جو کہ ایک نادر اور غیر معمولی واقعہ ہے۔ تاہم اس کی وجہ ابھی تک واضح نہیں ہو سکی۔

    مواصلاتی وزارت کے مطابق، حادثے کے مقام سے دو بلیک باکسز (فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر اور وائس ریکارڈر) بازیاب کر لیے گئے ہیں، لیکن فلائٹ ریکارڈر کو بیرونی نقصان پہنچا تھا جس کی وجہ سے اس کا مزید تجزیہ کرنے کے لیے سیول بھیجا گیا۔جنوبی کوریا کے عبوری صدر، چوی سانگ موک نے ملک بھر میں سات دن کے قومی سوگ کا اعلان کیا ہے اور فضائی حادثے کی تحقیقات کے لیے ایک جامع انکوائری کا آغاز کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقات کی پیش رفت کو عوام کے سامنے شفاف طریقے سے پیش کیا جائے گا اور متاثرہ خاندانوں کو مکمل طور پر آگاہ رکھا جائے گا۔حادثے کے فوراً بعد چوی نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور اس سانحے کو ایک "خصوصی قدرتی آفت” قرار دیا، جب کہ انہوں نے جاں بحق افراد کے خاندانوں سے گہری تعزیت کا اظہار کیا۔

    حادثے میں ہلاک ہونے والوں میں 84 مرد، 85 خواتین اور 10 افراد ایسے تھے جن کی جنس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ جنوبی کوریا کی فائر سروس کے مطابق، حادثے میں دو افراد زندہ بچ گئے، جن میں ایک مرد اور ایک خاتون عملے کے رکن شامل ہیں۔ یہ دونوں افراد جاپان کے شہری تھے، باقی تمام مسافر جنوبی کوریا کے تھے۔حادثے میں ہلاک ہونے والوں میں دو تھائی شہری بھی شامل تھے، جن کے بارے میں جنوبی کوریا کی وزارتِ نقل و حمل نے بتایا۔ ان کے علاوہ، باقی تمام افراد جنوبی کوریا کے شہری تھے۔

    حادثے کے فوراً بعد جنوبی کوریا کے حکام نے اس بات کی تصدیق کی کہ کنٹرول ٹاور نے پائلٹ کو ایک پرندوں کے ٹکرا جانے سے بچنے کے لیے سمت تبدیل کرنے کی ہدایت دی تھی، جس پر پائلٹ نے عمل کیا۔ تاہم، ایک منٹ بعد ہی پائلٹ نے ایمرجنسی کال کی اور تقریباً دو منٹ بعد لینڈنگ کی کوشش کی۔جنوبی کوریا کی وزارت نقل و حمل نے بتایا کہ پرواز کے کپتان نے 2019 سے اس عہدے پر کام کیا تھا اور ان کے پاس تقریباً 6,800 گھنٹے کی پرواز کا تجربہ تھا۔مجموعی طور پر، اس سانحے کے بعد جنوبی کوریا کے حکام نے حادثے کی مکمل تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، اور عالمی سطح پر مختلف تحقیقاتی ادارے اس میں معاونت فراہم کر رہے ہیں۔

    موان میں ایک عوامی یادگاری یادگار قائم کی گئی ہے، جہاں لوگ پھول اور موم بتیاں رکھ کر جاں بحق افراد کی یاد میں خراجِ عقیدت پیش کر رہے ہیں۔یہ حادثہ ایک دل دہلا دینے والی سانحے کی صورت میں سامنے آیا ہے، جس نے پورے جنوبی کوریا کو سوگوار کر دیا ہے اور متاثرہ خاندانوں کے لیے ایک کٹھن وقت ہے۔

    ایک دن میں تیسرا فضائی حادثہ، طیارہ رن وے سے اترگیا
    جنوبی کوریا، لینڈنگ کے دوران مسافر طیارے کو حادثہ، ہلاکتوں کی تعداد 151 ہوگئی

    طیارہ حادثہ، روس نے آذربائیجان سے معافی مانگ لی

    آذربائیجان طیارہ حادثہ،دوسرا بلیک باکس مل گیا

    جنوبی کوریا،طیارہ حادثے میں شکار مسافر کی آخری گفتگو

  • جنوبی کوریا،طیارہ حادثے میں شکار مسافر کی آخری گفتگو

    جنوبی کوریا،طیارہ حادثے میں شکار مسافر کی آخری گفتگو

    جنوبی کوریا میں طیارے کے حادثے میں ایک مسافر کی فیملی سے آخری دل چیر دینے والی گفتگو سامنے آئی ہے

    جنوبی کوریا میں لینڈنگ کے دوران پیش آنے والے ایک دل دہلا دینے والے طیارہ حادثے میں 179 افراد ہلاک ہو گئے، جبکہ دو افراد کی جان بچا لی گئی۔ اس واقعے کے بعد، طیارے میں سوار ایک مسافر کی اپنے اہل خانہ سے کی جانے والی آخری گفتگو نے لوگوں کو غم و افسوس میں ڈوبو دیا ہے۔غیر ملکی خبر ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، یہ حادثہ جنوبی کوریا کی قومی ائیر لائن کے طیارے میں پیش آیا، جس کے بارے میں ابھی تک کوئی واضح تحقیقات نہیں کی گئی ہیں۔ سی ای او جیجو ائیر نے بتایا کہ طیارے کی خرابی کے کوئی ابتدائی شواہد نہیں ملے، اور نہ ہی طیارے کے حادثات کا کوئی سابقہ ریکارڈ موجود تھا۔ انہوں نے طیارہ حادثے پر معذرت بھی ظاہر کی اور تحقیقات کے لیے اپنی ٹیم تشکیل دی۔

    اس حادثے کے بارے میں تفصیلات دیتے ہوئے، ایک مسافر کی فیملی کے ایک فرد نے بتایا کہ انہیں طیارے کے حادثے سے قبل اپنے عزیز کے ساتھ ہونے والی آخری گفتگو کا علم ہوا۔ اس شخص نے بتایا کہ انہیں طیارے سے پرندہ ٹکرائے جانے کی اطلاع دی گئی تھی۔اس فرد نے بتایا کہ چند منٹ قبل اس نے اپنے عزیز سے فون پر بات کی تھی، جس میں مسافر نے بتایا: "ہمارے جہاز کے وِنگ میں پرندہ پھنس گیا ہے اور ہم ابھی لینڈ نہیں کر سکتے۔” یہ پیغام موصول ہونے کے بعد، اس شخص نے مزید سوالات کیے کہ "کتنا وقت اور لگے گا؟ اور یہ مسئلہ کب سے شروع ہوا؟” جواب میں، مسافر نے کہا: "یہ ابھی ہوا ہے، کیا مجھے اپنے آخری الفاظ کہہ دینے چاہئیں؟ کیا مجھے اپنی وصیت لکھ دینی چاہیے؟”اس دردناک بات چیت کے بعد، مذکورہ فرد کو اپنی فیملی کی طرف سے کوئی اور پیغام موصول نہیں ہوا، اور اس کے بعد طیارہ حادثے کی اطلاع دی گئی جس میں 179 افراد ہلاک ہو گئے۔

    جنوبی کوریا کی قومی ائیر لائن کے سی ای او نے حادثے کی وجوہات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ طیارے کی تکنیکی خرابی یا دیگر عوامل کی تحقیقات جاری ہیں۔ تاہم، طیارے کی ابتدائی حالت کے بارے میں کسی قسم کے شواہد سامنے نہیں آئے ہیں، اور یہ واقعہ کسی غیر معمولی یا غیر متوقع صورت حال کا نتیجہ لگتا ہے۔جنوبی کوریا کی حکومت اور ائیر لائن حکام اس حادثے کی تفصیلات جاننے کے لیے تحقیقات کر رہے ہیں۔ طیارے کی حادثے کی وجوہات اور اس کی درست نوعیت کا علم تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی ہو سکے گا۔

    ایک دن میں تیسرا فضائی حادثہ، طیارہ رن وے سے اترگیا

    جنوبی کوریا، لینڈنگ کے دوران مسافر طیارے کو حادثہ، ہلاکتوں کی تعداد 151 ہوگئی

    طیارہ حادثہ، روس نے آذربائیجان سے معافی مانگ لی

  • یونان کشتی حادثہ،زندہ بچ جانے والے پاکستانیوں کی داستان

    یونان کشتی حادثہ،زندہ بچ جانے والے پاکستانیوں کی داستان

    13 دسمبر کو یونان کے جزیرہ کریٹ کے جنوب میں ایک افسوسناک کشتی حادثہ پیش آیا تھا جس میں 4 پاکستانیوں کی ہلاکت کی تصدیق ہوچکی ہے۔ اس حادثے میں بچ جانے والے پاکستانیوں نے اپنی دردناک کہانیاں اور حیرت انگیز انکشافات کیے ہیں، جو نہ صرف ان کے لیے بلکہ عالمی سطح پر اس حادثے کی شدت کو واضح کرتے ہیں۔

    حادثے کے حوالے سے بچ جانے والے پاکستانیوں نے بتایا کہ یہ حادثہ 13 دسمبر کی رات، جمعہ اور ہفتے کی درمیانی شب پیش آیا۔ ان کے مطابق سمندر میں حالات انتہائی خراب تھے اور کشتی پر 84 افراد سوار تھے۔ یہ کشتی غیر قانونی طور پر لیبیا سے یونان جا رہی تھی، اور بدقسمتی سے اس حادثے میں کئی پاکستانیوں کی زندگیوں کا خاتمہ ہو گیا۔ متاثرین کے مطابق حادثے کے دوران درجنوں پاکستانیوں کو انہوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے سمندر میں ڈوبتے ہوئے دیکھا۔متاثرین نے مزید بتایا کہ جس کشتی پر وہ سوار تھے، اس کا نہ انجن صحیح کام کر رہا تھا، نہ واکی ٹاکی (رابطہ کے آلات) درست تھے، اور نہ ہی کشتی کے کپتان کا رویہ مناسب تھا۔ ان کے مطابق کشتی کے حادثے کے بعد ایک کارگو شپ نے انہیں بچایا، لیکن اس دوران ان کے کپڑے، موبائل اور جوتے سمندر میں بہہ گئے۔ اس وقت ان کے پاس نہ مناسب کپڑے ہیں، نہ جوتے، اور نہ ہی ضروری سامان۔انہوں نے بتایا کہ اس وقت وہ یونان کے ایک پناہ گزینی کیمپ میں مقیم ہیں، جہاں انہیں عارضی پناہ فراہم کی گئی ہے۔ متاثرین کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان سے لیبیا پہنچے تھے، جہاں وہ ڈیڑھ دو ماہ تک شدید مشکلات کا شکار رہے۔ اس دوران انہیں خوراک اور پانی کی کمی کا سامنا تھا۔ پھر 11 دسمبر کو ان کی کشتی لیبیا سے روانہ ہوئی تھی، اور 13 دسمبر کو یہ حادثہ پیش آیا۔

    یونان میں پاکستان کے سفیر، عامر آفتاب قریشی نے اس حادثے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس حادثے میں درجنوں پاکستانی اب بھی لاپتا ہیں، اور ریسکیو آپریشن جاری ہے، مگر بچ جانے کی امیدیں کم ہیں۔ سفیر نے کہا کہ جاں بحق ہونے والے پاکستانیوں کی لاشیں سفارتخانہ اپنے خرچ پر پاکستان بھیجے گا تاکہ ان کے خاندان کو ان کی آخری رسومات کے لیے آرام دہ حالات فراہم کیے جا سکیں۔

    واضح رہے کہ یہ پانچ کشتیاں لیبیا سے غیر قانونی طریقے سے روانہ ہوئی تھیں، جن پر پاکستانی شہری سوار تھے۔ ان کشتیوں کو ضرورت سے زیادہ افراد سوار ہونے کی وجہ سے حادثہ پیش آیا۔ ان کشتیاں میں پاکستانی بچے بھی شامل تھے، جو اس خوفناک حادثے میں شامل ہوئے۔یونان میں ہونے والا یہ کشتی حادثہ ایک سنگین اور دل دہلا دینے والا واقعہ ہے جس میں پاکستانیوں کی زندگیوں کا نقصان ہوا ہے۔ اس واقعے کی تفصیلات اور بچ جانے والوں کے انکشافات نے اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ غیر قانونی طور پر سمندر کے راستے سفر کرنا نہ صرف خطرناک ہے بلکہ اس میں انسانی جانوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ پاکستان کے سفارتخانے کی جانب سے امداد فراہم کی جا رہی ہے،

    حکومت واپوزیشن عوامی مسائل پر توجہ دیں ،خالد مسعود سندھو

    سرکاری اسپتالوں سے چوری کی گئی لاکھوں روپے مالیت کی ادویات برآمد

    ماسکو،دھماکے میں جنرل اور انکا معاون ہلاک

  • گلگت،پی آئی اے طیارہ حادثہ،کپتان تیزرفتاری کا عادی، سنگین غلطیاں

    گلگت،پی آئی اے طیارہ حادثہ،کپتان تیزرفتاری کا عادی، سنگین غلطیاں

    20 جولائی 2019 کو پی آئی اے کی پرواز 605، جو ایک ATR 42-500 طیارہ تھا اور رجسٹریشن نمبر AP-BHP کے ساتھ اسلام آباد سے لاہور جا رہی تھی، ایک سنگین حادثے کا شکار ہو گئی تھی اس واقعے کے بعد پاکستانی ایوی ایشن کی نگرانی اور حفاظتی اقدامات پر اہم سوالات اٹھے ہیں۔

    پی آئی اے فلائٹ کا طیارہ ATR 42-500 تھا، اس واقعہ میں طیارہ غیرمعمولی رفتار سے لینڈنگ کرنے کے دوران رن وے سے باہر نکل آیا۔ کپتان نے غیر معیاری طریقے سے تیز رفتار سے لینڈنگ کرنے کا فیصلہ کیا، جس کے نتیجے میں طیارہ رن وے سے باہر نکل گیا اور اس کے دائیں طرف کا لینڈنگ گیئر ٹوٹ گیا۔ اس کے باوجود تمام مسافر محفوظ رہے اور انہیں فوری طور پر طیارے سے نکال لیا گیا۔ تحقیقات سے پتہ چلا کہ کپتان بار بار تیز رفتار سے لینڈنگ کرنے کے عادی تھے اور اس بار بھی انہوں نے ایس او پیز کی خلاف ورزی کی، جس کا نتیجہ غیر معمولی لینڈنگ اور طیارے کے رن وے سے باہر نکلنے کی صورت میں نکلا۔ پی آئی اے نے اس حادثے کے بعد طیارے کو مستقل طور پر ریٹائر کرنے کا فیصلہ کیا۔

    پی آئی اے کی پرواز پی آئی اے 605، جس کا طیارہ ATR 42-500 تھا (رجسٹریشن نمبر AP-BHP)، سنگین حادثے کا شکار ہوئی۔ یہ پرواز اسلام آباد سے گلگت کے لیے روانہ ہوئی تھی اور فلائٹ کے دوران کپتان اور فرسٹ آفیسر کی طرف سے کئی سنگین غلطیاں کی گئیں جس کے باعث طیارہ رن وے سے باہر نکل گیا۔ طیارے کا وزن: 18,600 کلوگرام تھا،گلگت میں موسم صاف اور معمولی تھا۔پرواز سے قبل طیارے میں کوئی غیر معمولی یا تکنیکی خرابی رپورٹ نہیں کی گئی۔ کپتان نے پرواز کی قیادت کی تھی، اور فرسٹ آفیسر کو معاونت دی جا رہی تھی۔ پرواز کے آغاز کے بعد، 260 فٹ پر آٹومیٹک پائلٹ کو فعال کیا گیا۔ تاہم، 1,900 فٹ کی بلندی کے بعد، کپتان نے فلیپ کنٹرول کے بجائے وی ایس (Vertical Speed) موڈ کا انتخاب کیا جو فنی طریقہ کار کے مطابق نہیں تھا۔ وی ایس موڈ میں +400 فٹ/منٹ کی رفتار سے کلائمب شروع کیا گیا، جو بعد میں +1,700 فٹ/منٹ اور پھر +2,000 فٹ/منٹ تک پہنچ گیا۔ اس سے طیارے کا زاویہ 15 ڈگری تک بڑھ گیا اور رفتار 130 ناٹ سے کم ہو کر 160 ناٹ کی معیاری کلائمب اسپیڈ سے کم ہو گئی۔ پرواز کے دوران طیارہ FL165 پر کروز کر رہا تھا۔ بلندی 13,200 فٹ کے قریب، وی ایس موڈ کے باوجود رفتار میں مزید کمی آئی۔
    gilgit

    گلگت ایئرپورٹ کے لیے ڈیسنٹ شروع کیا گیا، اور اس دوران طیارہ 245 ناٹ کی تیز رفتار پر تھا، جو کہ پی آئی اے کے ایس او پیز کے خلاف تھا کیونکہ اس رفتار کو کم کر کے 200 ناٹ رکھا جانا چاہیے تھا۔ فرسٹ آفیسر نے کپتان کو اس بات کی اطلاع دی، لیکن کپتان نے اس پر کوئی کارروائی نہیں کی۔ جب طیارہ رن وے کے قریب پہنچا تو 7.1 ناٹیکل میل دور 7,630 فٹ کی بلندی پر، EGPWS نے "Too Low Terrain” کا الرٹ جاری کیا۔ اس الرٹ کی وجہ زمین کی بلندی تھی اور اگر طیارہ ایس او پیز کے مطابق رفتار میں کمی کرتا تو یہ وارننگ نہیں آتی۔ کپتان نے طیارہ 175 ناٹ کی رفتار سے 15 ڈگری فلیپ پر لینڈنگ کی تیاری کی، حالانکہ اس رفتار پر فلیپ کو نیچے کرنے کا معیاری حد 180 ناٹ تھی۔ طیارہ رن وے 25 پر 160 ناٹ کی رفتار سے داخل ہوا اور تقریباً 2,000 فٹ نیچے رن وے پر ٹچ ڈاؤن کیا۔ اس وقت رن وے پر 3,400 فٹ کا فاصلہ باقی تھا، جس میں طیارہ روکنے کی کوشش کی گئی۔ اس وقت تک طیارے کی رفتار بہت زیادہ تھی (150 ناٹ)، جس کے باعث طیارہ رن وے پر زیادہ فاصلے تک "فلوٹ” کرتا رہا۔ کپتان نے تھرسٹ ریوڑسر کی بجائے صرف بریکس لگائیں، جو کہ اتنی مؤثر ثابت نہ ہو سکیں۔ زیادہ رفتار اور ناکافی بریکنگ کے باعث طیارہ رن وے کے آخر میں پہنچ گیا اور پھر کپتان نے طیارہ دائیں طرف موڑنے کی کوشش کی تاکہ وہ رن وے سے باہر نہ جائے۔ رن وے سے باہر نکلنے کے دوران طیارے کا دایاں لینڈنگ گیئر ٹوٹ گیا، جس کے باعث طیارے کو شدید ساختی نقصان پہنچا۔ طیارے کے دائیں انجن کو شدید نقصان پہنچا جب اس کا پروپیلر زمین سے ٹکرا گیا۔ کپتان نے فوری طور پر انجن بند کر دیے اور اس کے بعد تمام سسٹمز کو آف کر دیا۔ تمام مسافروں کو فوراً طیارے سے نکال لیا گیا اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ کپتان تیز رفتار سے لینڈنگ کرنے کا عادی تھا اور اس نے ایس او پیز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیرمعیاری طریقے سے لینڈنگ کی۔ ان کی اس عادت کی وجہ سے پی آئی اے میں کئی دیگر فلائٹس میں بھی ایسی ہی صورتحال پیش آئی، لیکن اس مرتبہ نتیجہ سنگین نکلا۔کریو ریسورس مینجمنٹ کی کمی بھی دیکھنے کو ملی، خاص طور پر اس بات میں کہ فرسٹ آفیسر نے کپتان کی غلطیوں پر آواز اٹھانے کی بجائے خاموش رہنے کو ترجیح دی، کیونکہ وہ کپتان کے اعلیٰ رینک اور تجربے کی وجہ سے اپنی رائے دینے میں محتاط تھا۔ مکمل تحقیقات کے بعد نشاندہی کی گئی کہ کپتان کی طرف سے جان بوجھ کر تیز رفتار لینڈنگ کی گئی جس سے طیارہ رن وے سے باہر نکلا۔ طیارے کے لینڈنگ کی تیاری اور اسپیڈ کے حوالے سے معیاری آپریٹنگ طریقوں کی خلاف ورزی کی گئی، نقصانات کو نظر انداز کرتے ہوئے ناقص فیصلہ سازی کی گئی،فرسٹ آفیسر کی طرف سے مناسب طریقے سے آواز نہیں اٹھائی گئی،

    پی آئی اے کی انٹرنل انویسٹیگیشن رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی کہ کیپٹن نے دوران پرواز ایک انتہائی تیز رفتار اپروچ اور لینڈنگ کی کوشش کی جس کی وجہ سے طیارہ رن وے سے باہر نکل گیا، جو کہ "رن وے ایکسرشن” کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اس واقعے کی تحقیقات کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ پی آئی اے کے طیارے کے کیپٹن کو کبھی بھی اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز کی خلاف ورزی پر کوئی تنبیہ یا سرزنش نہیں کی گئی تھی۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ پی آئی اے کی ایئر کرافٹ ڈی بریفنگ (FDA Analysis) ایک نظرانداز شدہ شعبہ تھا۔ ایئر کرافٹ ڈی بریفنگ پی آئی اے کے تمام پروازوں کا صرف 5% حصہ تھی، جو کہ ایک سنگین کمی تھی۔ مزید برآں، پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے FDA ڈی بریفنگ کی نگرانی میں بھی کوئی سنجیدگی نہیں دکھائی گئی، حالانکہ PCAA کی ذمہ داری تھی کہ وہ پی آئی اے کی حفاظتی طریقہ کار کی نگرانی کرے۔

    پی آئی اے 605 کی اس رپورٹ نے ایک بار پھر پاکستانی ایوی ایشن کی حفاظتی سسٹمز کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے اور یہ واضح کیا ہے کہ جہاں ایک طرف عملے کی تربیت اور ایس اوپیز کی پیروی میں بہتری کی ضرورت ہے، وہیں دوسری طرف ایوی ایشن کی نگرانی اور حادثات کے بعد کی کارروائیوں میں بھی اصلاحات کی ضرورت ہے۔یہ واقعہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ جب تک ایئرلائنسز کی طرف سے حفاظتی تدابیر کو سنجیدگی سے نہیں لیا جائے گا، تب تک ایسے حادثات کا سامنا ممکن ہے، جو نہ صرف مسافروں کی زندگیوں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں بلکہ ایوی ایشن کے شعبے پر منفی اثرات بھی مرتب کر سکتے ہیں۔


    اس حادثے میں کیپٹن مریم مسعود کا نام سامنے آیا ہے جو طیارے کو چلا رہی تھی اور اس حادثے کی ذمہ دار تھیَ مریم مسعود کیپٹن عارف مجید کی بہنوئی ہیں، مریم مسعود کی بہن ارم مسعود بھی ہوابازی کی دنیا سے منسلک ہیں، اگست 2016 میں دونوں بہنوں مریم اور ارم نے ایک ساتھ دو بوئنگ 777 اڑائے تھے دونوں کے والد بھی پائلٹ رہ چکے ہیں۔مریم مسعود کی کوشش ہوتی تھی کہ وہ گلگت کی طرف ہی پروازوں میں کام کریں،

    گلگت میں حادثے کا شکار پی آئی اے کا ناکارہ اے ٹی آر طیارہ 83 لاکھ روپے میں فروخت کیا گیا ہے، 4 ہزار کلوگرام وزنی اس طیارے کی نیلامی میں کامیاب بولی گلگت کے مقامی ٹھیکے دارکو دی گئی،ایئر پورٹ پر کھڑے اس ناکارہ طیارے کے دونوں انجنوں اور دیگر میکینیکل آلات نکال کر وزن کے حساب سے نیلام کیا گیا ہے طیارے کا وزن 4 ہزار کلو گرام تھا،طیارے کی نیلامی کا عمل شعبہ انجینئرنگ کی جانب سے فراہم کردہ رپورٹ کی روشنی میں سر انجام دیا گیا، نیلامی کے لیے اس طیارے کی قیمت 0.844 ملین رکھی گئی تھی تاہم اسے مقررہ قیمت سے10 گنا زائد پر نیلام کیا گیا۔

    پی آئی اے کی کراچی سے تربت کے لیے پروازیں دوبارہ شروع

    پی آئی اے کی 10 جنوری سے یورپ کے لئے پروازیں

    عدالت اعتماد دیتی ہے، پی آئی اے نجکاری اچھے طریقے سے کریں،سپریم کورٹ

    بدعنوانی،اقرباپروری،غیرپیشہ ورانہ انتظامیہ پی آئی اے کی تنزلی کی وجوہات

    پی آئی اے پروازوں کی بحالی پاکستان کے لئے بڑی کامیابی ہے،سحر کامران

    پی آئی اے پر پابندی اٹھنے سے پی آئی اے کی ساکھ مستحکم ہوگی،وزیراعظم

    بلیو ورلڈ کی جانب سےپی آئی اے کی 10 ارب کی بولی کو مسترد کرنے کی سفارش منظور

    پی آئی اے کا 2010 سے 2020 تک آڈٹ نہ ہونے کا انکشاف

  • بہن کی عیادت کیلئے جانے والی 5 بہنیں ٹریفک حادثے میں جاں‌بحق

    بہن کی عیادت کیلئے جانے والی 5 بہنیں ٹریفک حادثے میں جاں‌بحق

    بلوچستان کے علاقے وندر میں پیش آنے والے ایک افسوسناک ٹریفک حادثے میں پانچ خواتین جاں بحق ہو گئیں۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق یہ حادثہ گزشتہ روز اس وقت پیش آیا جب دو گاڑیوں کے درمیان تصادم ہوا۔ حادثے کے نتیجے میں ایک بچی سمیت پانچ خواتین اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔

    مقامی ذرائع نے بتایا کہ جاں بحق ہونے والی خواتین کا تعلق کوئٹہ کی ہزارہ کالونی سے تھا۔ وہ پانچوں خواتین کوئٹہ سے اپنی بہن کی عیادت کے لیے کراچی جا رہی تھیں۔ حادثہ اس وقت پیش آیا جب دونوں گاڑیاں وندر کے علاقے میں آپس میں ٹکرا گئیں۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ حادثے میں جاں بحق ہونے والی خواتین کی لاشوں کو ان کے آبائی علاقے کوئٹہ منتقل کیا جائے گا۔ ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ کر امدادی کارروائیاں کر رہی ہیں اور تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ، بشریٰ بی بی پیش،ضمانت منسوخی درخواست نمٹا دی گئی

    صدر زرداری سے بلاول ہاؤس میں چینی کاروباری وفد کی ملاقات