Baaghi TV

Tag: حامد میر

  • انٹرنیٹ سپیڈ کی سست روی،فائر وال انسٹالیشن کیخلاف درخواست پر جواب طلب

    انٹرنیٹ سپیڈ کی سست روی،فائر وال انسٹالیشن کیخلاف درخواست پر جواب طلب

    اسلام آباد ہائیکورٹ: انٹرنیٹ سپیڈ کی سست روی اور فائر وال انسٹالیشن کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے پیر تک جواب طلب کرلیا ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نےسینئر صحافی حامد میر کی درخواست پر سماعت کی، دوران سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ آج کل انٹرنیٹ سست ہو گیا ہے؟اس سے پہلے کہ ہم کوئی آرڈر جاری کریں، یہ بتائیں کہ دراصل ہو کیا رہا ہے؟کون سی وزارت اس سے متعلقہ ہے، پتہ چلے کہ انٹرنیٹ سپیڈ میں کمی کی وجہ کیا ہے؟اس متعلق پی ٹی اے سے پوچھیں یا وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی سے؟ ایمان مزاری ایڈوکیٹ نے کہا کہ پی ٹی اے اس معاملے پر خاموش ہے،عدالت نے کہا کہ سیکرٹری، جوائنٹ سیکرٹری میں سے کس کو بلائیں؟ایمان مزاری ایڈوکیٹ نے کہا کہ استدعا ہے کہ متعلقہ وزارتوں کے اعلی عہدیداروں کو طلب کیا جائے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اس کو بلائیں گے جو اس معاملے کا علم رکھتا ہو اور عدالت کو بریف کر سکے، عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت پیر تک ملتوی کر دی.

     سینئر صحافی حامد میر نے فائر وال کی تنصیب اور انٹرنیٹ کی بندش کیخلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی ،درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر کرنے والی فائر وال کی تنصیب کو روکا جائے۔شہریوں کی بلا تعطل انٹرنیٹ تک رسائی کو یقینی بنانے کے احکامات دینے کی بھی استدعا کی گئی ہے حامدمیر نے وکیل ایمان مزاری کے توسط سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی ہے.دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ فائر وال کی تنصیب تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت اور بنیادی حقوق کے تحفظ سے مشروط قرار دی جائے ،ذریعہِ معاش کیلئے انٹرنیٹ تک رسائی کو آئین کے تحت بنیادی انسانی حق قرار دیا جائے،فریقین سے فائر وال سے متعلق تمام تفصیلات پر مبنی رپورٹ طلب کی جائے، درخواست پر فیصلہ ہونے تک فائر وال کی تنصیب کا عمل معطل کر دیا جائے،درخواست میں سیکرٹری کابینہ، سیکرٹری آئی ٹی، سیکرٹری داخلہ کو فریق بنایا گیا ہے،پی ٹی اے اور وزارت انسانی حقوق بھی فریقین میں شامل ہیں،

    درخواست میں کہاگیا ہے کہ بظاہر فائروال کی انسٹالیشن کے باعث انٹرنیٹ کی سپیڈ میں انتہائی کمی آئی، نوجوانوں کا نقصان ہوا جو ڈیجیٹل اکانومی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، ایک رپورٹ کے مطابق تھری جی اور فور جی سروسز کی بندش سے 1.3 ارب روپے یومیہ کا نقصان ہو رہا ہے، ایکس کی بندش اور فائروال کی انسٹالیشن سے انٹرنیٹ سپیڈ میں کمی سے بنیادی حقوق متاثر ہو رہے ہیں،ملک بھر کے صارفین کو ایک ماہ سے سوشل میڈیا نیٹ ورکس کے استعمال میں مشکلات کا سامنا ہے، پبلک فنکشنریز کے non responsive رویے کی وجہ سے مزید کنفیوژن پیدا ہوئی ہے، وزیر دفاع خواجہ آصف نے ٹاک شو میں سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کی بات کی، خواجہ آصف نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک میں بھی ریاست مخالف مواد کو فلٹر کیا جاتا ہے، مسلم لیگ ن کے دانیال چودھری نے امریکا اور یوکے میں فائروال کے استعمال کا دعوی کیا جو جھوٹا نکلا،

    انٹرنیٹ کی سست رفتاری پاکستان کی اقتصادی ترقی کے لیے خطرہ: اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس کی وارننگ

    انٹرنیٹ فائروال کے نفاذ سے پاکستانی معیشت کو 30 کروڑ ڈالر کا نقصان ہو سکتا ہے: پی ایس ایچ اے

    انٹرنیٹ کی سست روی ناقابل برداشت، 5G کی نیلامی کے لیے کوششیں جاری، شزہ فاطمہ

    حساس ڈیٹا گوگل پر عام مل جاتا ہے، اسے کیسے روکا جائے،سینیٹر پلوشہ خان

    واضح رہے کہ پاکستان کے مختلف شہروں میں انٹرنیٹ سروسز کے شدید تعطل نے شہریوں کی روزمرہ زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا ہے، سوشل میڈیا صارفین کو سست رفتار انٹرنیٹ کے باعث مشکلات کا سامنا ہے۔ذرائع کے مطابق، واٹس ایپ سمیت دیگر مقبول سوشل میڈیا ایپلی کیشنز بھی سست روی کا شکار ہیں۔ انٹرنیٹ سروسز کے اس تعطل نے شہریوں کی روزمرہ کی سرگرمیوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔اس کے علاوہ، واٹس ایپ پر پیغامات ڈاؤن لوڈ نہ ہونے کی شکایات بھی سامنے آ رہی ہیں۔ اس صورتحال نے شہریوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔

    پیدائشی سماعت سے محروم بچوں کے کامیاب آپریشن کے بعد”پاکستان زندہ باد” کے نعرے

    معذوری کا شکار طالبات کی ملی دارالاطفال گرلز ہائی سکول راجگڑھ آمد،خصوصی تقریب

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    ریاست مدینہ کی جانب حکومت کا پہلا قدم،غریب عوام کی دعائیں، علی محمد خان نے دی اذان

    وفاقی حکومت کی طرف سے پاکستان بیت المال کو سماعت وگویائی سے محروم بچوں کے لیے فنڈز نہ مل سکے ،

    سماعت سے محروم بچے چلا رہے ہیں ریسٹورینٹ، صدر مملکت بھی وہاں پہنچ گئے، کیا کہا؟

    ویلڈن پاک فوج، سماعت سے محروم افراد سننے اور بولنے لگے

    چلڈرن ہسپتال کا کوکلیئر امپلانٹ کے تمام اخراجات برداشت کرنے کافیصلہ،ڈاکٹر جاوید اکرم

    حکومتی نااہلی،سماعت سے محروم سینکڑوں بچوں کا مستقل معذور ہونے کا خدشہ

  • بائیں ہاتھ سے جونیئر صحافی کو سلام کا جواب،  ویڈیو وائرل،تنقید،حامدمیر کی وضاحت

    بائیں ہاتھ سے جونیئر صحافی کو سلام کا جواب، ویڈیو وائرل،تنقید،حامدمیر کی وضاحت

    سینئر صحافی و اینکر حامد میر کی اسلام آباد ہائیکورٹ آمد پر صحافی سے ہاتھ ملانے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ، حامد میر پر جہاں تنقید کی جا رہی ہے تو وہیں حامد میر سے سلام کرنے والے صحافی اور پھر حامد میر نے بھی وضاحت پیش کر دی ہے

    حامد میر اسلام آباد ہائیکورٹ آئے، اس دوران صحافی طیب نے حامد میر سے سلام کیا، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی، طیب سلام کرنے گئے، السلام علیکم سر کہا، حامد میر نے الٹے ہاتھ سے ہی بنا توجہ کئے صحافی کا ہاتھ پکڑا اور یوں سلام کا جواب دیا، بعد میں حامد میر عدالت کے اندر چلے گئے، یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی، صارفین کا کہنا تھا کہ حامد میر کو جونیئر صحافی سے ہاتھ ملانا چاہئے تھا، ایک صارف کا کہنا تھا کہ حامد میر نے یہ کہہ کر رپورٹر سے ہاتھ تک نہی ملایا کہ یہ نون لیگ سے تعلق رکھتا ہے اب یہ بتائیں مریم اورنگزیب کے اس چہیتے بھائی کے پروگرام میں آج نون لیگ کا کونسا وزیر جائے گا ؟

    طیب نے ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کچھ نہیں ہے انہوں نے ہاتھ ملایا اور وہ ہمارے سینئیر صحافی خدارہ کسی سے پوچھ کر ٹوئٹ کیا کریں حامد میر صاحب ہمارے سینئیر صحافی اور ہمارا فخر ہیں خداراہ میرے نام کا غلط استعمال نہ کریں حامد میر صاحب نے ہاتھ ملا کر جواب دیا آپ اسطرح کی ٹوئٹ کرنے سے پہلے تصدیق کر لیا کریں ویڈیو کا مخصوص کلپ چلا کر غلط خبریں نہ پھیلاہیں

    حامد میر نے ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ پیارے طیب آپ اچھی طرح جانتے کہ میں سامنے سے آنے والے ایک شخص سے پوچھ رہا تھا کہ آپ کون ہیں میں رجسٹرار آفس جا رہا تھا اور ایک ساتھی مجھے کسی اور طرف لیجا رہا تھا اس کبفیوژن میں آپ بیچ میں آ گئے آپ سے کئی دفعہ مل چکا ہوں اور آپ کی ذہانت کا بھی قائل ہوں حاسدین کی باتوں میں نہ آنا اللّٰہ آپ کو کامیاب کرے آمین،

    صحافی عمران وسیم کہتے ہیں کہ ویڈیو بنانے والا ن لیگ کا میڈیا سیل چلاتا ہے۔حامرمیر کا ویڈیو بنانے کیطرف اشارہ کرکے دعوی

    صحافی وقار ستی کہتے ہیں کہ چھوٹے بھائی۔ ویڈیو بنانے والا سما ٹی وی کا انتہائی فرض شناس اور سینئرکیمرہ مین چنگیز چوہدری ہے جس نے ان کی فوٹیج بنائی لیکن میر صاحب کو یہ بات شاید ناگوار گزری اور چنگیز چوہدری پر ن لیگ کا Media Cell آپریٹ کرنے کا الزام لگادیا۔ حالانکہ یہاں تحریک انتشار اور فیض حمید پروجیکٹ کو پروان چھڑانے والے غیر صحافی یوٹیونرز درجنوں کی تعداد میں موجود ہوتے ہیں۔

  • انٹرنیٹ کی بندش،فائر وال کی تنصیب،حامد میر عدالت پہنچ گئے

    انٹرنیٹ کی بندش،فائر وال کی تنصیب،حامد میر عدالت پہنچ گئے

    لاہور ہائیکورٹ انٹر نیٹ کی بندش کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی،

    دوران سماعت عدالت نے وفاقی حکومت کے وکیل کو متعلقہ حکام سے ہدایات لے کر 12 بجے پیش ہونے کا حکم دے دیا،لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شکیل احمد نے مقامی وکیل ندیم سرور کی درخواست پر سماعت کی،لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں درخواست گزار نے مؤقف اختیارکیا ہے کہ ملک میں بغیر کسی نوٹس اور وجہ بتائے انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا ایپس بند کر دی گئی ہیں، انٹر نیٹ بند کرنا بنیادی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے، ملک میں انٹر نیٹ فوری طور پر مکمل بحال کرنے کے احکامات جاری کیے جائیں۔

    لاہور ہائیکورٹ میں دوبارہ سماعت ہوئی تو انٹرنیٹ کی بندش سے متعلق کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا گیا،جسٹس شکیل احمد نے کہا کہ یہ عوامی مفاد کی درخواست ہے،مناسب حکم جاری کریں گے ،یہ صورتحال ہے کہ آپ کو بنیادی معلومات کا ہی علم نہیں ،لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شکیل احمد نے شہری کی درخواست پر سماعت کی

    دوسری جانب ، سینئر صحافی حامد میر نے فائر وال کی تنصیب اور انٹرنیٹ کی بندش کیخلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی ہے،درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر کرنے والی فائر وال کی تنصیب کو روکا جائے۔شہریوں کی بلا تعطل انٹرنیٹ تک رسائی کو یقینی بنانے کے احکامات دینے کی بھی استدعا کی گئی ہے حامدمیر نے وکیل ایمان مزاری کے توسط سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی ہے.دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ فائر وال کی تنصیب تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت اور بنیادی حقوق کے تحفظ سے مشروط قرار دی جائے ،ذریعہِ معاش کیلئے انٹرنیٹ تک رسائی کو آئین کے تحت بنیادی انسانی حق قرار دیا جائے،فریقین سے فائر وال سے متعلق تمام تفصیلات پر مبنی رپورٹ طلب کی جائے، درخواست پر فیصلہ ہونے تک فائر وال کی تنصیب کا عمل معطل کر دیا جائے،درخواست میں سیکرٹری کابینہ، سیکرٹری آئی ٹی، سیکرٹری داخلہ کو فریق بنایا گیا ہے،پی ٹی اے اور وزارت انسانی حقوق بھی فریقین میں شامل ہیں،

    درخواست میں کہاگیا ہے کہ بظاہر فائروال کی انسٹالیشن کے باعث انٹرنیٹ کی سپیڈ میں انتہائی کمی آئی، نوجوانوں کا نقصان ہوا جو ڈیجیٹل اکانومی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، ایک رپورٹ کے مطابق تھری جی اور فور جی سروسز کی بندش سے 1.3 ارب روپے یومیہ کا نقصان ہو رہا ہے، ایکس کی بندش اور فائروال کی انسٹالیشن سے انٹرنیٹ سپیڈ میں کمی سے بنیادی حقوق متاثر ہو رہے ہیں،ملک بھر کے صارفین کو ایک ماہ سے سوشل میڈیا نیٹ ورکس کے استعمال میں مشکلات کا سامنا ہے، پبلک فنکشنریز کے non responsive رویے کی وجہ سے مزید کنفیوژن پیدا ہوئی ہے، وزیر دفاع خواجہ آصف نے ٹاک شو میں سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کی بات کی، خواجہ آصف نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک میں بھی ریاست مخالف مواد کو فلٹر کیا جاتا ہے، مسلم لیگ ن کے دانیال چودھری نے امریکا اور یوکے میں فائروال کے استعمال کا دعوی کیا جو جھوٹا نکلا،

    انٹرنیٹ کی سست رفتاری پاکستان کی اقتصادی ترقی کے لیے خطرہ: اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس کی وارننگ

    انٹرنیٹ فائروال کے نفاذ سے پاکستانی معیشت کو 30 کروڑ ڈالر کا نقصان ہو سکتا ہے: پی ایس ایچ اے

    انٹرنیٹ کی سست روی ناقابل برداشت، 5G کی نیلامی کے لیے کوششیں جاری، شزہ فاطمہ

    حساس ڈیٹا گوگل پر عام مل جاتا ہے، اسے کیسے روکا جائے،سینیٹر پلوشہ خان

    واضح رہے کہ پاکستان کے مختلف شہروں میں انٹرنیٹ سروسز کے شدید تعطل نے شہریوں کی روزمرہ زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا ہے، سوشل میڈیا صارفین کو سست رفتار انٹرنیٹ کے باعث مشکلات کا سامنا ہے۔ذرائع کے مطابق، واٹس ایپ سمیت دیگر مقبول سوشل میڈیا ایپلی کیشنز بھی سست روی کا شکار ہیں۔ انٹرنیٹ سروسز کے اس تعطل نے شہریوں کی روزمرہ کی سرگرمیوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔اس کے علاوہ، واٹس ایپ پر پیغامات ڈاؤن لوڈ نہ ہونے کی شکایات بھی سامنے آ رہی ہیں۔ اس صورتحال نے شہریوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔

    پیدائشی سماعت سے محروم بچوں کے کامیاب آپریشن کے بعد”پاکستان زندہ باد” کے نعرے

    معذوری کا شکار طالبات کی ملی دارالاطفال گرلز ہائی سکول راجگڑھ آمد،خصوصی تقریب

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    ریاست مدینہ کی جانب حکومت کا پہلا قدم،غریب عوام کی دعائیں، علی محمد خان نے دی اذان

    وفاقی حکومت کی طرف سے پاکستان بیت المال کو سماعت وگویائی سے محروم بچوں کے لیے فنڈز نہ مل سکے ،

    سماعت سے محروم بچے چلا رہے ہیں ریسٹورینٹ، صدر مملکت بھی وہاں پہنچ گئے، کیا کہا؟

    ویلڈن پاک فوج، سماعت سے محروم افراد سننے اور بولنے لگے

    چلڈرن ہسپتال کا کوکلیئر امپلانٹ کے تمام اخراجات برداشت کرنے کافیصلہ،ڈاکٹر جاوید اکرم

    حکومتی نااہلی،سماعت سے محروم سینکڑوں بچوں کا مستقل معذور ہونے کا خدشہ

  • ارشد شریف کیس، تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی درخواست ،سماعت ملتوی

    ارشد شریف کیس، تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی درخواست ،سماعت ملتوی

    ارشد شریف کے قتل کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کیس کی سماعت کی،سینئر صحافی حامد میر اور اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کی درخواست دائر کر رکھی ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ سپریم کورٹ میں اس کیس میں کیا پیشرفت ہے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ سپریم کورٹ میں کیس لگا تھا لیکن لارجر بنچ تشکیل دینے کیلئے واپس بھیج دیا گیا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ میری پہلے دن سے بےچینی ہے کہ یہ کیس سپریم کورٹ میں بھی زیرسماعت ہے، اِس عدالت کو بتایا گیا تھا کہ جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کا معاملہ وہاں زیرسماعت نہیں،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ میری بھی استدعا ہے کہ سپریم کورٹ میں یہ معاملہ ہے تو ہائیکورٹ نہیں سُن سکتی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ میں آپکی اس بات سے اتفاق نہیں کرتا، آرڈر سے دکھائیں کہ جوڈیشل کمیشن کا معاملہ سپریم کورٹ دیکھ رہی ہو، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہمارے درخواست زیرسماعت ہونے پر تین اعتراضات ہیں،کینیا کی حکومت سے ایم ایل اے معاہدے کی کابینہ منظوری ہو گئی ہے، یہ کرمنل معاملہ ہے، پٹیشنر کے پاس درخواست دائر کرنے کا اختیار نہیں

    جے آئی ٹی نے جو کچھ کیا ہے وہ بھی ہم نے دیکھ لیا ہے،وہ ایک نظر کا دھوکہ تھا. عدالت
    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ کرمنل معاملہ نہیں ہے، یہ عوامی مفاد کا کیس ہے،کمیشن حکومت نے ہی بنانا ہے عدالت نے نہیں، حکومت کے پاس اختیار ہے، جو کمیشن بنے گا وہ کینیا جا کر تو تفتیش نہیں کریگا وہ یہاں حقائق دیکھے گا،میرا اپنا خیال ہے کہ جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جانا چاہیے، مجھے سمجھ نہیں آ رہی حکومت کمیشن کیوں نہیں بنانا چاہتی یہ تو آپکا کریڈٹ ہے، جوڈیشل کمیشن بنانے میں غلط کیا ہے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ جے آئی ٹی بنی ہوئی ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ جے آئی ٹی نے جو کچھ کیا ہے وہ بھی ہم نے دیکھ لیا ہے،وہ ایک نظر کا دھوکہ تھا. ہم نے بلا کر پوچھ لیا جے آئی ٹی نے کچھ نہیں کیا، میں نے اٹارنی جنرل کو پیش ہونے کا کہا تھا پتہ نہیں وہ اس سے بھاگ کیوں رہے ہیں،کچھ سوچیں کہ آپ اپنی کریڈیبلٹی کیسے بہتر کر سکتے ہیں،رواں سال مزید صحافیوں کے قتل کی تحقیقات کی بھی استدعا کی گئی ہے،

    وفاقی حکومت کس چیز سے خائف ہے؟ کمیشن بن جائے تو کیا ہو گا؟ارشد شریف کیس میں عدالت کے ریمارکس
    حامد میر نے عدالت میں کہا کہ گزشتہ سماعت تک رواں سال سات صحافی قتل ہوئے تھے اب آٹھ ہو چکے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ حکومت کے پاس دیگر صحافیوں کے قتل کا کوئی ریکارڈ نہیں،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ جانے نہ جانے گُل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے، اب وہ زمانہ نہیں کہ ایک واقعہ چھ سال جا کر پتہ چلتا ہو،مجھے افسوس ہے کہ ہم انسانی جان سے متعلق اس طرح کا جواب دیں، آپ نے تو اسے مکمل طور پر نظرانداز ہی کر دیا ہے، اٹارنی جنرل سے کہیں پیش ہوں،وزارتِ اطلاعات کیا کر رہی ہے کیا یہ اس کا کام نہیں ہے؟حامد میر صاحب آپ دیگر صحافیوں سے متعلق ڈیٹا اِن کو دیدیں، وفاقی حکومت کس چیز سے خائف ہے؟ کمیشن بن جائے تو کیا ہو گا؟ عدالت نے کیس کی سماعت اگست کے آخری ہفتے تک ملتوی کر دی

    ارشد شریف قتل کیس،نوازشریف،مریم کیخلاف سکاٹ لینڈ یارڈ میں کیس بند

    ارشد شریف کیس ،اسلام آباد ہائیکورٹ کاکمیشن بنانے کا عندیہ

    ارشد شریف کیس پر کینیا ہائیکورٹ کا فیصلہ، پی ٹی آئی سازشی تھیوریوں کی موت

    واضح رہے کہ ارشد شریف کو ایک برس سے زائد عرصہ ہو چکا کینیا میں گولیاں مار کر قتل کیا گیا تھا، تا ہم ابھی تک ارشد شریف کے قاتل سامنے نہیں آ سکے،کینیا کی حکومت کے مطابق یہ ایک مبینہ پولیس مقابلہ تھا جس میں ارشد شریف کی موت ہوئی،23 اکتوبر 2022 کو کینیا کے شہر نیروبی میں میگاڈی ہائی وے پر یہ واقعہ پیش آیا تھا جب پولیس نے ایک گاڑی پر گولیاں چلائیں، مرنیوالے کی شناخت ارشد شریف کے طور پر ہوئی،کینیا کی پولیس حکام میں اس کیس میں موقف کے حوالے سے تضاد نظر آیا.پولیس نے ابتدائی بیان میں کہا تھا کہ وہ ایک بچے کی بازیابی کے لئے موجود تھے ،مقامی تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ جس طرح گولیاں چلائی گئیں اس سے یہ نہیں لگتا کہ چلتی گاڑی پر گولیاں چلیں

    واقعے کے وقت ارشد شریف کی کار چلانے والے خرم کے مطابق وہ جائے وقوعہ سےآدھے گھنٹے کی مسافت پر ٹپاسی کے گاؤں تک گاڑی لے گئے تھے،قتل کیس میں ملوث کینیا پولیس کے پانچوں اہلکار بحال ہونے کے بعد ڈیوٹی پر واپس آگئے ہیں،

    پاکستان کی سپریم کورٹ نے ارشد شریف کے قتل پر ازخود نوٹس بھی لیا تھا تاہم کئی سماعتوں کے باوجود کیس کسی فیصلے پر نہ پہنچ سکا،

    جویریہ صدیق نے ٹویٹر پر ارشد شریف کی جانب سے مریم نواز کی والدہ کے لیے دعا کا سکرین شاٹ شیئر کیا اور مریم نواز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کچھ شرم کر۔ اللہ سے ڈر

    اسلام آباد ہائیکورٹ کاسیکرٹری داخلہ و خارجہ کو ارشد شریف کے اہلخانہ سے رابطے کا حکم

     ارشد شریف کا لیپ ٹاپ ، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے قریبی ساتھی کے پاس ہے

    ارشد شریف قتل کیس، رپورٹ میں ایسا کیا ہے جو سپریم کورٹ میں جمع نہیں کرائی جا رہی؟ سپریم کورٹ

    ارشد شریف قتل کیس،جے آئی ٹی کو تفتیش کے لئے مکمل تیار رہنا ہوگا،سپریم کورٹ

    کینیا کےٹی وی نے صحافی ارشد شریف کے قتل کی تحقیقاتی رپورٹ شائع کردی

    مرحوم صحافی ارشد شریف کی صاحبزادی نےاپنےوالد کی طرح صحافت کا آغاز کردیا

    ارشد شریف قتل کیس،عمران خان،واوڈا،مراد سعید کو شامل تفتیش کیا جائے،والدہ ارشد شریف

    ارشد شریف قتل کیس، کینیا کی عدالت کا ملزمان کیخلاف کاروائی کا حکم

  • ارشد شریف قتل کیس،حامد میر کی جوڈیشل انکوائری کی درخواست،اٹارنی جنرل طلب

    ارشد شریف قتل کیس،حامد میر کی جوڈیشل انکوائری کی درخواست،اٹارنی جنرل طلب

    اسلام آباد ہائیکورٹ،سینئر صحافی حامد میر کی ارشد شریف کے قتل کی جوڈیشل انکوائری کیلئے دائر درخواست پر سماعت ہوئی،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کیس کی سماعت کی، دوران سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ درخواست یہ ہے کہ ارشد شریف کے قتل پر تحقیقات جوڈیشل کمیشن بنایا جائے ،آپ نے پچھلی سماعت میں کہا تھا کہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیرالتوا ہے، آپ کوئی آرڈر شیٹ دیکھا دیں،جے آئی ٹی کی رپورٹ میں کیا ہے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ جے آئی ٹی ابھی کام کر رہی ہے ابھی کینیا سے ایم ایل ار سے متعلق ایم او یو سائن ہونا ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ایک ڈیڑھ سال سے جے آئی ٹی آئی نے کوئی کام نہیں کیا، جے آئی ٹی کو ہیڈ کون کر رہا ہے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ جی مائی لارڈ ایسا ہے۔

    شعیب رزاق نے کہا کہ ان کی رپورٹ میں لکھا ہوا ہے کہ جے آئی ٹی کو کوئی ہیڈ نہیں کر رہا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ایف آئی آر ہوئی ہے؟ شعیب رزاق نے کہا کہ جی تھانہ رمنا میں ایف آئی آر درج کروائی گئی ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ نے اٹارنی جنرل کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ جب جے آئی ٹی کا کچھ حصہ لیک ہوا تو جس پر کینیا نے ریزرویشن دیں، عدالت نے تھانہ رمنا کے ایس ایچ کو بھی ذاتی حثیت میں اگلی سماعت میں طلب کر لیا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پہلے دیکھ لوں سٹیٹ نے کیا کیا ہے اب تک ؟جے آئی ٹی میں کون ہے،عدالت نے ایس ایچ او تھانہ رمنا کو اصل ریکارڈ کے ساتھ عدالت میں طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 11 جولائی تک ملتوی کر دی۔

    واضح رہے کہ سینئیر صحافی و اینکر پرسن حامد میر نے ارشد شریف کے قتل کی شفاف جوڈیشل انکوائری کی درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کر رکھی ہے،حامد میر کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ عدالت فریقین کو ارشد شریف قتل کی شفاف تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن قائم کرنے کا حکم دے، سینئر صحافی حامد میر نے وکیل شعیب رزاق کے ذریعے درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کی، دائر کی گئی درخواست میں ایف آئی اے ،وفاقی حکومت اور وزارت داخلہ کو فریق بنایا گیا ہے

    واضح رہے کہ ارشد شریف کو ایک برس سے زائد عرصہ ہو چکا کینیا میں گولیاں مار کر قتل کیا گیا تھا، تا ہم ابھی تک ارشد شریف کے قاتل سامنے نہیں آ سکے،کینیا کی حکومت کے مطابق یہ ایک مبینہ پولیس مقابلہ تھا جس میں ارشد شریف کی موت ہوئی،23 اکتوبر 2022 کو کینیا کے شہر نیروبی میں میگاڈی ہائی وے پر یہ واقعہ پیش آیا تھا جب پولیس نے ایک گاڑی پر گولیاں چلائیں، مرنیوالے کی شناخت ارشد شریف کے طور پر ہوئی،کینیا کی پولیس حکام میں اس کیس میں موقف کے حوالے سے تضاد نظر آیا.پولیس نے ابتدائی بیان میں کہا تھا کہ وہ ایک بچے کی بازیابی کے لئے موجود تھے ،مقامی تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ جس طرح گولیاں چلائی گئیں اس سے یہ نہیں لگتا کہ چلتی گاڑی پر گولیاں چلیں

    واقعے کے وقت ارشد شریف کی کار چلانے والے خرم کے مطابق وہ جائے وقوعہ سےآدھے گھنٹے کی مسافت پر ٹپاسی کے گاؤں تک گاڑی لے گئے تھے،قتل کیس میں ملوث کینیا پولیس کے پانچوں اہلکار بحال ہونے کے بعد ڈیوٹی پر واپس آگئے ہیں،

    پاکستان کی سپریم کورٹ نے ارشد شریف کے قتل پر ازخود نوٹس بھی لیا تھا تاہم کئی سماعتوں کے باوجود کیس کسی فیصلے پر نہ پہنچ سکا،

    جویریہ صدیق نے ٹویٹر پر ارشد شریف کی جانب سے مریم نواز کی والدہ کے لیے دعا کا سکرین شاٹ شیئر کیا اور مریم نواز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کچھ شرم کر۔ اللہ سے ڈر

    اسلام آباد ہائیکورٹ کاسیکرٹری داخلہ و خارجہ کو ارشد شریف کے اہلخانہ سے رابطے کا حکم

     ارشد شریف کا لیپ ٹاپ ، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے قریبی ساتھی کے پاس ہے

    ارشد شریف قتل کیس، رپورٹ میں ایسا کیا ہے جو سپریم کورٹ میں جمع نہیں کرائی جا رہی؟ سپریم کورٹ

    ارشد شریف قتل کیس،جے آئی ٹی کو تفتیش کے لئے مکمل تیار رہنا ہوگا،سپریم کورٹ

    کینیا کےٹی وی نے صحافی ارشد شریف کے قتل کی تحقیقاتی رپورٹ شائع کردی

    مرحوم صحافی ارشد شریف کی صاحبزادی نےاپنےوالد کی طرح صحافت کا آغاز کردیا

    ارشد شریف قتل کیس،عمران خان،واوڈا،مراد سعید کو شامل تفتیش کیا جائے،والدہ ارشد شریف

    صحافی ارشد شریف قتل کیس،پی ایف یوجے نے سپریم کورٹ کو تحقیقات کے لیے خط لکھا تھا،پی ایف یو جے نے چیف جسٹس  سے معاملے پر ازخود نوٹس کی اپیل کی تھی،پی ایف یو جے نے سپریم کورٹ کے حاضر سروس جج کی سربراہی میں کمیشن بنانے کی استدعا کی تھی، خط مین کہا گیا کہ ارشد شریف کے قتل سے صحافی برادری گہرے صدمے میں ہیں،پوری قوم ارشد شریف قتل سے جڑے سوالات کے جوابات چاہتی ہے، ارشد شریف کی فیملی اور صحافی برداری کو عدالت عظمیٰ پر اعتماد ہے،سپریم کورٹ صحافی برداری اور ارشد شریف کی فیملی کو انصاف فراہم کرے،

  • ارشد شریف قتل کیس،حامد میر کی اضافی دستاویزات جمع کروانے کی متفرق درخواست منظور

    ارشد شریف قتل کیس،حامد میر کی اضافی دستاویزات جمع کروانے کی متفرق درخواست منظور

    ارشد شریف قتل کیس، تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن بنانے کی صحافی حامد میر کی درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے اضافی دستاویزات جمع کروانے کی متفرق درخواست منظور کرلی،سپریم کورٹ میں زیرسماعت ارشد شریف کیس کی سماعتوں کے تحریری حکمنامے پیش کر دیئے گئے،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق نے حامد میر کی درخواست پر سماعت کی.حامد میر کے وکیل شعیب رزاق ایڈوکیٹ عدالت میں پیش ہوئے،

    واضح رہے کہ سینئیر صحافی و اینکر پرسن حامد میر نے ارشد شریف کے قتل کی شفاف جوڈیشل انکوائری کی درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کر رکھی ہے،حامد میر کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ عدالت فریقین کو ارشد شریف قتل کی شفاف تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن قائم کرنے کا حکم دے، سینئر صحافی حامد میر نے وکیل شعیب رزاق کے ذریعے درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کی، دائر کی گئی درخواست میں ایف آئی اے ،وفاقی حکومت اور وزارت داخلہ کو فریق بنایا گیا ہے

    واضح رہے کہ ارشد شریف کو ایک برس سے زائد عرصہ ہو چکا کینیا میں گولیاں مار کر قتل کیا گیا تھا، تا ہم ابھی تک ارشد شریف کے قاتل سامنے نہیں آ سکے،کینیا کی حکومت کے مطابق یہ ایک مبینہ پولیس مقابلہ تھا جس میں ارشد شریف کی موت ہوئی،23 اکتوبر 2022 کو کینیا کے شہر نیروبی میں میگاڈی ہائی وے پر یہ واقعہ پیش آیا تھا جب پولیس نے ایک گاڑی پر گولیاں چلائیں، مرنیوالے کی شناخت ارشد شریف کے طور پر ہوئی،کینیا کی پولیس حکام میں اس کیس میں موقف کے حوالے سے تضاد نظر آیا.پولیس نے ابتدائی بیان میں کہا تھا کہ وہ ایک بچے کی بازیابی کے لئے موجود تھے ،مقامی تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ جس طرح گولیاں چلائی گئیں اس سے یہ نہیں لگتا کہ چلتی گاڑی پر گولیاں چلیں

    واقعے کے وقت ارشد شریف کی کار چلانے والے خرم کے مطابق وہ جائے وقوعہ سےآدھے گھنٹے کی مسافت پر ٹپاسی کے گاؤں تک گاڑی لے گئے تھے،قتل کیس میں ملوث کینیا پولیس کے پانچوں اہلکار بحال ہونے کے بعد ڈیوٹی پر واپس آگئے ہیں،

    پاکستان کی سپریم کورٹ نے ارشد شریف کے قتل پر ازخود نوٹس بھی لیا تھا تاہم کئی سماعتوں کے باوجود کیس کسی فیصلے پر نہ پہنچ سکا،

    جویریہ صدیق نے ٹویٹر پر ارشد شریف کی جانب سے مریم نواز کی والدہ کے لیے دعا کا سکرین شاٹ شیئر کیا اور مریم نواز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کچھ شرم کر۔ اللہ سے ڈر

    اسلام آباد ہائیکورٹ کاسیکرٹری داخلہ و خارجہ کو ارشد شریف کے اہلخانہ سے رابطے کا حکم

     ارشد شریف کا لیپ ٹاپ ، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے قریبی ساتھی کے پاس ہے

    ارشد شریف قتل کیس، رپورٹ میں ایسا کیا ہے جو سپریم کورٹ میں جمع نہیں کرائی جا رہی؟ سپریم کورٹ

    ارشد شریف قتل کیس،جے آئی ٹی کو تفتیش کے لئے مکمل تیار رہنا ہوگا،سپریم کورٹ

    کینیا کےٹی وی نے صحافی ارشد شریف کے قتل کی تحقیقاتی رپورٹ شائع کردی

    مرحوم صحافی ارشد شریف کی صاحبزادی نےاپنےوالد کی طرح صحافت کا آغاز کردیا

    ارشد شریف قتل کیس،عمران خان،واوڈا،مراد سعید کو شامل تفتیش کیا جائے،والدہ ارشد شریف

    صحافی ارشد شریف قتل کیس،پی ایف یوجے نے سپریم کورٹ کو تحقیقات کے لیے خط لکھا تھا،پی ایف یو جے نے چیف جسٹس  سے معاملے پر ازخود نوٹس کی اپیل کی تھی،پی ایف یو جے نے سپریم کورٹ کے حاضر سروس جج کی سربراہی میں کمیشن بنانے کی استدعا کی تھی، خط مین کہا گیا کہ ارشد شریف کے قتل سے صحافی برادری گہرے صدمے میں ہیں،پوری قوم ارشد شریف قتل سے جڑے سوالات کے جوابات چاہتی ہے، ارشد شریف کی فیملی اور صحافی برداری کو عدالت عظمیٰ پر اعتماد ہے،سپریم کورٹ صحافی برداری اور ارشد شریف کی فیملی کو انصاف فراہم کرے،

  • ارشد شریف قتل کیس،حامد میر کی جوڈیشل کمیشن بنانے کی درخواست پر اعتراض دور

    ارشد شریف قتل کیس،حامد میر کی جوڈیشل کمیشن بنانے کی درخواست پر اعتراض دور

    ارشد شریف قتل کیس، صحافی حامد میر کی جانب سے جوڈیشل کمیشن بنانے کی درخواست پر سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ میں ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے درخواست پر اعتراض کے ساتھ سماعت کی،رجسٹرار آفس نے درخواست پر اعتراض عائد کر رکھا ہے کہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے، اس دوران حامد میر سمیت دیگر صحافی کمرہ عدالت میں موجود تھے، کیس میں عدالت نے رجسٹرار آفس کے اعتراضات دور کر دئیے اور درخواست پر نمبر لگانے کی ہدایت کر دی۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ جی شعیب صاحب، کیا اعتراض ہے اس درخواست پر؟ بیرسٹر شعیب رزاق نے کہا کہ سپریم کورٹ میں سو موٹو ایکشن لیا گیا تھا،عدالت نے ہدایت کی کہ اعتراضات میں دور کر دیتا ہوں، آپ سپریم کورٹ میں زیر سماعت کیس کی آرڈر شیٹس مہیا کر دیں۔

    واضح رہے کہ سینئیر صحافی و اینکر پرسن حامد میر نے ارشد شریف کے قتل کی شفاف جوڈیشل انکوائری کی درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کر رکھی ہے،حامد میر کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ عدالت فریقین کو ارشد شریف قتل کی شفاف تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن قائم کرنے کا حکم دے، سینئر صحافی حامد میر نے وکیل شعیب رزاق کے ذریعے درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کی، دائر کی گئی درخواست میں ایف آئی اے ،وفاقی حکومت اور وزارت داخلہ کو فریق بنایا گیا ہے

    واضح رہے کہ ارشد شریف کو ایک برس سے زائد عرصہ ہو چکا کینیا میں گولیاں مار کر قتل کیا گیا تھا، تا ہم ابھی تک ارشد شریف کے قاتل سامنے نہیں آ سکے،کینیا کی حکومت کے مطابق یہ ایک مبینہ پولیس مقابلہ تھا جس میں ارشد شریف کی موت ہوئی،23 اکتوبر 2022 کو کینیا کے شہر نیروبی میں میگاڈی ہائی وے پر یہ واقعہ پیش آیا تھا جب پولیس نے ایک گاڑی پر گولیاں چلائیں، مرنیوالے کی شناخت ارشد شریف کے طور پر ہوئی،کینیا کی پولیس حکام میں اس کیس میں موقف کے حوالے سے تضاد نظر آیا.پولیس نے ابتدائی بیان میں کہا تھا کہ وہ ایک بچے کی بازیابی کے لئے موجود تھے ،مقامی تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ جس طرح گولیاں چلائی گئیں اس سے یہ نہیں لگتا کہ چلتی گاڑی پر گولیاں چلیں

    واقعے کے وقت ارشد شریف کی کار چلانے والے خرم کے مطابق وہ جائے وقوعہ سےآدھے گھنٹے کی مسافت پر ٹپاسی کے گاؤں تک گاڑی لے گئے تھے،قتل کیس میں ملوث کینیا پولیس کے پانچوں اہلکار بحال ہونے کے بعد ڈیوٹی پر واپس آگئے ہیں،

    پاکستان کی سپریم کورٹ نے ارشد شریف کے قتل پر ازخود نوٹس بھی لیا تھا تاہم کئی سماعتوں کے باوجود کیس کسی فیصلے پر نہ پہنچ سکا،

    جویریہ صدیق نے ٹویٹر پر ارشد شریف کی جانب سے مریم نواز کی والدہ کے لیے دعا کا سکرین شاٹ شیئر کیا اور مریم نواز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کچھ شرم کر۔ اللہ سے ڈر

    اسلام آباد ہائیکورٹ کاسیکرٹری داخلہ و خارجہ کو ارشد شریف کے اہلخانہ سے رابطے کا حکم

     ارشد شریف کا لیپ ٹاپ ، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے قریبی ساتھی کے پاس ہے

    ارشد شریف قتل کیس، رپورٹ میں ایسا کیا ہے جو سپریم کورٹ میں جمع نہیں کرائی جا رہی؟ سپریم کورٹ

    ارشد شریف قتل کیس،جے آئی ٹی کو تفتیش کے لئے مکمل تیار رہنا ہوگا،سپریم کورٹ

    کینیا کےٹی وی نے صحافی ارشد شریف کے قتل کی تحقیقاتی رپورٹ شائع کردی

    مرحوم صحافی ارشد شریف کی صاحبزادی نےاپنےوالد کی طرح صحافت کا آغاز کردیا

    ارشد شریف قتل کیس،عمران خان،واوڈا،مراد سعید کو شامل تفتیش کیا جائے،والدہ ارشد شریف

    صحافی ارشد شریف قتل کیس،پی ایف یوجے نے سپریم کورٹ کو تحقیقات کے لیے خط لکھا تھا،پی ایف یو جے نے چیف جسٹس  سے معاملے پر ازخود نوٹس کی اپیل کی تھی،پی ایف یو جے نے سپریم کورٹ کے حاضر سروس جج کی سربراہی میں کمیشن بنانے کی استدعا کی تھی، خط مین کہا گیا کہ ارشد شریف کے قتل سے صحافی برادری گہرے صدمے میں ہیں،پوری قوم ارشد شریف قتل سے جڑے سوالات کے جوابات چاہتی ہے، ارشد شریف کی فیملی اور صحافی برداری کو عدالت عظمیٰ پر اعتماد ہے،سپریم کورٹ صحافی برداری اور ارشد شریف کی فیملی کو انصاف فراہم کرے،

  • ارشد شریف قتل کیس،حامد میر نے شفاف جوڈیشل انکوائری کی درخواست دائر کر دی

    ارشد شریف قتل کیس،حامد میر نے شفاف جوڈیشل انکوائری کی درخواست دائر کر دی

    اسلام آباد ہائیکورٹ: سینئیر صحافی و اینکر پرسن حامد میر نے ارشد شریف کے قتل کی شفاف جوڈیشل انکوائری کی درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کردی

    حامد میر کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ عدالت فریقین کو ارشد شریف قتل کی شفاف تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن قائم کرنے کا حکم دے، سینئر صحافی حامد میر نے وکیل شعیب رزاق کے ذریعے درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کی، دائر کی گئی درخواست میں ایف آئی اے ،وفاقی حکومت اور وزارت داخلہ کو فریق بنایا گیا ہے

    واضح رہے کہ ارشد شریف کو ایک برس سے زائد عرصہ ہو چکا کینیا میں گولیاں مار کر قتل کیا گیا تھا، تا ہم ابھی تک ارشد شریف کے قاتل سامنے نہیں آ سکے،کینیا کی حکومت کے مطابق یہ ایک مبینہ پولیس مقابلہ تھا جس میں ارشد شریف کی موت ہوئی،23 اکتوبر 2022 کو کینیا کے شہر نیروبی میں میگاڈی ہائی وے پر یہ واقعہ پیش آیا تھا جب پولیس نے ایک گاڑی پر گولیاں چلائیں، مرنیوالے کی شناخت ارشد شریف کے طور پر ہوئی،کینیا کی پولیس حکام میں اس کیس میں موقف کے حوالے سے تضاد نظر آیا.پولیس نے ابتدائی بیان میں کہا تھا کہ وہ ایک بچے کی بازیابی کے لئے موجود تھے ،مقامی تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ جس طرح گولیاں چلائی گئیں اس سے یہ نہیں لگتا کہ چلتی گاڑی پر گولیاں چلیں

    واقعے کے وقت ارشد شریف کی کار چلانے والے خرم کے مطابق وہ جائے وقوعہ سےآدھے گھنٹے کی مسافت پر ٹپاسی کے گاؤں تک گاڑی لے گئے تھے،قتل کیس میں ملوث کینیا پولیس کے پانچوں اہلکار بحال ہونے کے بعد ڈیوٹی پر واپس آگئے ہیں،

    پاکستان کی سپریم کورٹ نے ارشد شریف کے قتل پر ازخود نوٹس بھی لیا تھا تاہم کئی سماعتوں کے باوجود کیس کسی فیصلے پر نہ پہنچ سکا،

    جویریہ صدیق نے ٹویٹر پر ارشد شریف کی جانب سے مریم نواز کی والدہ کے لیے دعا کا سکرین شاٹ شیئر کیا اور مریم نواز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کچھ شرم کر۔ اللہ سے ڈر

    اسلام آباد ہائیکورٹ کاسیکرٹری داخلہ و خارجہ کو ارشد شریف کے اہلخانہ سے رابطے کا حکم

     ارشد شریف کا لیپ ٹاپ ، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے قریبی ساتھی کے پاس ہے

    ارشد شریف قتل کیس، رپورٹ میں ایسا کیا ہے جو سپریم کورٹ میں جمع نہیں کرائی جا رہی؟ سپریم کورٹ

    ارشد شریف قتل کیس،جے آئی ٹی کو تفتیش کے لئے مکمل تیار رہنا ہوگا،سپریم کورٹ

    کینیا کےٹی وی نے صحافی ارشد شریف کے قتل کی تحقیقاتی رپورٹ شائع کردی

    مرحوم صحافی ارشد شریف کی صاحبزادی نےاپنےوالد کی طرح صحافت کا آغاز کردیا

    ارشد شریف قتل کیس،عمران خان،واوڈا،مراد سعید کو شامل تفتیش کیا جائے،والدہ ارشد شریف

    صحافی ارشد شریف قتل کیس،پی ایف یوجے نے سپریم کورٹ کو تحقیقات کے لیے خط لکھا تھا،پی ایف یو جے نے چیف جسٹس  سے معاملے پر ازخود نوٹس کی اپیل کی تھی،پی ایف یو جے نے سپریم کورٹ کے حاضر سروس جج کی سربراہی میں کمیشن بنانے کی استدعا کی تھی، خط مین کہا گیا کہ ارشد شریف کے قتل سے صحافی برادری گہرے صدمے میں ہیں،پوری قوم ارشد شریف قتل سے جڑے سوالات کے جوابات چاہتی ہے، ارشد شریف کی فیملی اور صحافی برداری کو عدالت عظمیٰ پر اعتماد ہے،سپریم کورٹ صحافی برداری اور ارشد شریف کی فیملی کو انصاف فراہم کرے،

  • پی ٹی آئی چھ وزارتیں دینا چاہتی تھی، مجھے مائنس کرنے کا کہا گیا تھا،آصف زرداری

    پی ٹی آئی چھ وزارتیں دینا چاہتی تھی، مجھے مائنس کرنے کا کہا گیا تھا،آصف زرداری

    سابق صدر مملکت، پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری نے کہا ہے کہ مجھےامیدہےالیکشن8فروری کو ہوں گے،

    نجی ٹی وی جیو کو ایک انٹرویو میں آصف زرداری کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی حکومت نے ہمیں اتحاد کا کہا،پی ٹی آئی ہمیں 6وزارتیں دینا چاہتی تھی،مجھے ملک سے باہر جانے کاکہا گیا،مجھے مائنس کرنے کا کہا،کہا گیا باقی پیپلز پارٹی پی ٹی آئی سے اتحاد کر لے،آصف زرداری کا کہنا تھا کہ تحریک عدم اعتماد درست فیصلہ تھا ،چیئرمین پی ٹی آئی معیشت کے دشمن تھے ، عمران خان کی وجہ سے پاکستان دنیا میں تنہا ہوگیا تھا،چیئرمین پی ٹی آئی کو نا نکالتے تو وہ ایک فوجی کا سہارا لیتے ،الیکشن امید ہیں آٹھ فروری کو ہوں گے، اسی لئے ہم نکلے ہوئے ہیں، ملک بھر میں پروگرام کر رہے ہیں،ہمیں تحریک عدم اعتماد کے دنوں عمران نیازی کے میسنجر فیض نے پیغامات بھیجے کہ پی ٹی آئی کے ساتھ اتحاد کر لو اور 6 وزارتیں بھی لے لو۔

    سابق صدر آصف زرداری کا کہنا تھا کہ شہباز شریف سے میں متاثر تھا،صبح6 بجے اٹھتا ہے، 8بجے تک کام کرتا ہے،اتحادی حکومت کا تجربہ کافی مشکل تھا، شہباز شریف کو کافی چیزیں کہیں جو نہیں مانیں، ملک کا نقصان ہوا،پرویز الہیٰ جیل میں ، بیٹا باہر بیٹھا ہے، بیٹے کو غیرت نہیں کہ واپس آ جائے، سیاست میری مجبوری ہے، ضرورت نہیں،سیاست ضرورت اس لئے ہے کہ بی بی،کارکنوں نے شہادت دی،ہم پر فرض ہے،بلاول ابھی تربیت یافتہ نہیں، کچھ وقت لگے گا،بلاول میرے سے زیادہ ٹیلنٹڈ ہے، لیکن تجربہ تجربہ ہے،آج کی نئی نسل کی اپنی سوچ ہے، انہیں سوچ کے اظہار کاحق ہے،محسن نقوی میرا بیٹا ہے، آج بھی کہتا ہوں،کوئی پارٹی 172 کی اکثریت حاصل نہیں کر سکے گی،میں نے کبھی انتقامی سیاست نہیں کی ، میرے دور میں ایک بھی سیاسی قیدی نہیں تھا ،پی ٹی آئی حکومت سے پاکستان کو نقصان تھا،چیئرمین پی ٹی آئی پاکستان اور دنیا میں تنہائی کا شکار ہوگیا تھا ،میرے خیال میں وہی معیشت کا دشمن ہے ، اس نے خانہ خراب کیا ،اسلام آباد کی بیوروکریسی پاکستان میں نہیں کسی اور ملک رہتی ہے ، صبح دفتر جاتے اور شام گالف کھیلتے ہیں ، انہیں صوبوں کے بنیادی حقوق کا علم نہیں ،پیپلز پارٹی اس الیکشن میں اچھا خاصہ سرپرائز دے گی، ایک ٹرپل پی (پاکستان پیپلز پارٹی) ہے اور ایک فور پی(پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرین) ہے۔ بلاول ٹرپل پی کا چیئرمین ہے اور میں فور پی کا-پارلیمنٹ کے ٹکٹ میں دونگا، بلاول کو بھی ٹکٹ میں ہی دونگا

     سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) مدد کیلئے سامنے آگئی

    پی آئی اے کی نجکاری کے عمل کو جلد از جلد تکمیل تک پہنچانے کی ہدایت

    پائلٹس کی ابتدائی 8 سے 10 ماہ کی تربیت پر 15000 سے 20000 ڈالر کا خرچ

    پاکستان کی قومی ایئر لائن پی آئی اے کو مجموعی طور پر 383 بلین کا خسارہ ہے 

    سپریم کورٹ نے پی آئی اے کو نئی 205 پروفیشنل بھرتیوں کی اجازت دیدی

  • بین الاقوانی شہرت یافتہ صحافی، اینکر پرسن، کالم نگار ، مدیر اور مصنف حامد میر

    بین الاقوانی شہرت یافتہ صحافی، اینکر پرسن، کالم نگار ، مدیر اور مصنف حامد میر

    صحافی، اینکر پرسن، کالم نگار ، مدیر اور مصنف حامد میر 23 جولائی 1966 کو لاہور میں پیدا ہوئے حامد میر، بین الاقوانی شہرت یافتہ پاکستانی صحافی اور مدیر ہیں روزنامہ جنگ میں اپنے اردو مضامین اور جیو نیوز پر نشر ہونے والے پروگرام کیپیٹل ٹاک (Capital Talk) کی وجہ سے مشہور ہیں۔ اس کے علاوہ بھی پاکستان میں آزادیِ صحافت کے لیے ان کی بڑی جدوجہد اور کاوشیں ہیں۔ ان کے والد پروفیسر وارث میر بھی بہت بڑے اور بااصول صحافی اور دانشور تھے۔

    تعلیم
    ۔۔۔۔۔۔
    حامد میر نے 1989ء میں ابلاغ عامہ (Mass Communication) میں جامعہ پنجاب لاہور سے ماسٹرز کی سند حاصل کی۔

    صحافتی سفر
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    حامد میر 1987ء میں مدیر کی حیثیت سے روزنامہ جنگ لاہور سے منسلک ہوئے اور نامہ نگاری اور اشاعت کے شعبوں سے منسلک رہے۔ 1994ء میں آبدوز کیس مر روزنامہ جنگ میں ایک مکالمہ لکھا۔ اس مکالمہ کے چھپتے ہی انھیں اپنی نوکری سے ہاتھ دھونا پڑا۔
    1996ء میں روزنامہ پاکستان اسلام آباد کے مدیر اعلیٰ بنے اور پاکستانی صحافت کے سب سے کم عمر مدیر ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ 1997ء میں ایک بار پھر انہیں پاکستانی وزیر اعظم پر بد عنوانی پر روزنامہ پاکستان پر مکالمہ لکھنے پر اپنے منصب سے سبکدوش ہونا پڑا۔ 1997ء میں روزنامہ اوصاف اسلام آباد کے بانی مدیر بنے۔

    حامد میر نے دس دن مشرقی افغانستان میں گزارے اور دسمبر 2001ء میں تورا بورا کی پہاڑیوں سے اسامہ بن لادن کے فرار کی تحقیق کی اور 2002ء میں جیو ٹیلی ویژن میں شمالی علاقہ کے مدیر کی نوکری اختیار کی۔ نومبر 2002ء سے سیاسی گفتگو کے بر نامہ کیپیٹل ٹالک کی میزبانی کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ آج کل وہ اسامہ بن لادن کی سوانح حیات پر کام کر رہے ہیں اور روزنامہ جنگ اور دی نیوز(انگریزی: The News) میں ہفت روزہ کالم لکھتے ہیں۔

    قاتلانہ حملہ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    19 اپریل 2014ء کو حامد میر نے ڈرون حملوں کے خلاف ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے کراچی کا دورہ کیا۔ کراچی ہوائی اڈے سے جیو کے دفتر جاتے ہوئے راستے میں ناتھا پل کے قریب ان پر مسلح افراد نے حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں حامد میر کو چھ گولیاں لگیں۔ ہسپتال سے خبر کے مطابق اب ان کی جان کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ (اور اب ایک بار پھر عیدالفطر کے بعد حامد میر نے جیو۔ ٹی۔ وی اپنا۔ پروگرام (کیپٹیل ٹاک دوبارہ شروع کر کے یہ ثابت کیا کہ پاکستان میں صحافت اگر کرنی ہو تو اس کے لیے بہت بڑا دل اور ہمت چاہیے۔

    قابل قدر مکالمے
    ۔۔۔۔۔۔
    اور انعامات
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ 2000ء سے 2002ء تک فرائڈے ٹائمز (Friday Times) اور 2002ء سے 2003ء تک دی انڈیپنڈنٹ (The independent) میں ہفت روزہ کالم لکھتے رہے-

    ۔ بھارتی اخبارات ٹائمز آف انڈیا (Times of India)، آؤٹ لک (Outlook)، دہلی، دی ویک (The Week)، انڈیا، دینک بھاسکر اور Rediff.com میں بھی کالم لکھے-

    ۔ 1996،1997،1998ء میں کل جماعتی اخباراتِ پاکستان (All Pakistan Newspaper Society) کی طرف سے بہترین کالم نویس کا اعزاز حاصل کیا-

    ۔ مارچ 2005ء جودھپور میں صحافت میں امتیازی کارکردگی پر ”ٹرسٹ برائے تعلیماتِ وسیط“ کی جانب سے مہاشری سمان اعزاز
    ۔ وزارت ترقی نسواں، حکومتِ پاکستان کی جانب سے عورتوں کے حقوق کے لیے لکھنے اور بولنے پر اگست 2005ء میں فاطمہ جناح طلائی تمغا حاصل کیا-

    ۔ 1994ء میں روزنامہ جنگ کے لیے اسرائیلی وزیر خارجہ شیمون پیریس سے سوئٹزرلینڈ میں ملاقات کی-

    ۔ 1997 میں روزنامہ پاکستان کے لیے اور 1998ء میں روزنامہ اوصاف کے لیے اسامہ بن لادن سے مکالمےاور 2001ء میں روزنامہ ڈان کےلیےگفتگو کی۔ آخری ملاقات 9/11 کے بعد کسی بھی صحافی کی ان سےپہلی ملاقات تھی بی بی سی اور سی این این نےاسے بین الاقوامی دھماکا قرار دیا۔ ماہنامہ ہیرالڈ نے اس ملاقات کو اپنے دسمبر 2001 کے شمارے میں سال کا سب سے بڑا دھماکا قرار دیا-

    تصانیف
    ۔۔۔۔۔۔
    حامد میر نے ذو الفقار علی بھٹو کے سیاسی فلسفہ پر ایک کتاب بھی لکھی ہے جو 1990ء میں طبع ہوئی بھٹو کی سیاسی پیش گوئیاں اور چوتھا مارشل لا جمہوری پبلیکیشنز لاہور

    کارہائے نمایاں:30 برس کی عمر میں ایڈیٹر مقرر ہوئے اسامہ بن لادن سے تین مرتبہ مکالمہ کیا،فلسطین، عراق، افغانستان، لبنان، چیچنیا، بوسنیا اورسری لنکا کی جنگوں کا احاطہ کیا-

    اعزازات
    ۔۔۔۔۔۔
    ہلال امتیاز
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وکیپیڈیا سے ماخوذ
    ترتیب و ترسیل: آغا نیاز مگسی