Baaghi TV

Tag: حوثی

  • یمنی فورسز کا حوثیوں کے ٹھکانوں کو تباہ کرنے کا دعویٰ

    یمنی فورسز کا حوثیوں کے ٹھکانوں کو تباہ کرنے کا دعویٰ

    یمنی حکومتی فورسز نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے جنوب مغربی صوبے عدالی میں حوثیوں کے ٹھکانوں پر ڈرون حملے کیے جس میں بھاری جانی نقصان ہوا اور فوجی سازوسامان تباہ کردیا گیا ہے، یہ کارروائی حوثیوں کی طرف سے سرکاری کیمپوں اور رہائشی علاقوں پر کیے گئے حالیہ حملوں کے جواب میں کی گئی-

    میڈیا رپورٹس کے مطابق صدارتی لیڈرشپ کونسل کے رکن عبدالرحمان المحرامی کی سربراہی میں جنوبی مسلح افواج نے ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ یمنی فورسز نے شمالی عدالی میں باب غلق، الفخر اور مارس کے محاذوں پر حوثیوں کے ٹھکانوں، فوجی بیرکوں اور گاڑیوں کو نشانہ بنایا،حملوں میں حوثی بیرکوں، خندقوں، سرنگوں اور فوجیوں کے ٹھکانوں کے ساتھ ساتھ فوجی گاڑیوں اور آلات کو بھی نقصان پہنچا، یہ حملے حوثی فوجیوں کی نقل و حرکت اور اگلے مورچوں پر کمک کے جواب میں کیے گئے تھے اور ان کا مقصد کسی بھی ایسی سرگرمی کا مقابلہ کرنا تھا جو عد دالی میں ان کی پوزیشنوں کو خطرہ لاحق ہو۔

    حوثی باغیوں نے مارب اور حضرموت میں سرکاری فوجی کیمپوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے تھے، جن کے نتیجے میں جانی نقصان بھی ہوا تھایمنی فوج نے خبردار کیا ہے کہ وہ اپنے اہلکاروں یا شہریوں پر ہونے والے ہر حملے کا موثر اور ضروری عسکری کارروائی کے ساتھ جواب دیتی رہے گی۔

    دوسری جانب حوثیوں نے فوری طور پر ان دعوؤں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے-

  • یمنی حوثیوں  نے سعودی تیل کمپنی آرامکو پر حملے کی ذمہ داری قبول کر لی

    یمنی حوثیوں نے سعودی تیل کمپنی آرامکو پر حملے کی ذمہ داری قبول کر لی

    یمن کے حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے صوبے جیزان میں واقع دنیا کی سب سے بڑی تیل کمپنی ’سعودی آرامکو‘ کی ایک تنصیب پر حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے، جس کے نتیجے میں وہاں آگ بھڑک اٹھی تھی۔

    حوثی گروپ کے ماتحت کام کرنے والے المسیرہ ٹی وی کے مطابق، باغیوں نے ایک باقاعدہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے آرامکو کی اس تنصیب کو ڈرون طیاروں کے ذریعے نشانہ بنایا ہے یہ اقدام سعودی عرب کی جانب سے یمن کے صوبوں صعدہ اور حجہ پر کیے گئے ڈرون حملوں کا جواب ہے۔

    دوسری جانب، سعودی عرب کی وزارتِ توانائی نے تصدیق کی ہے کہ بحیرہ احمر کے ساحل پر یمن کی سرحد کے قریب واقع جیزان کی آرامکو ریفائنری کی ایک تنصیب میں صبح صادق کے وقت آگ بھڑک اٹھی تھی، جسے فائر فائٹرز نے فوری کارروائی کرتے ہوئے کامیابی سے بجھا دیا ہےاس واقعے میں کوئی بھی شخص زخمی نہیں ہوا۔

    اگرچہ سعودی وزارتِ توانائی نے اپنے بیان میں آگ لگنے کی اصل وجہ نہیں بتائی، لیکن یہ پہلا موقع نہیں ہے جب اس علاقے کو نشانہ بنایا گیا ہو،اس سے قبل بھی ایران نواز حوثی باغی جیزان میں سعودی تیل کی تنصیبات پر حملوں کے دعوے کرتے رہے ہیں، جبکہ سعودی حکام ان حملوں کا ذمہ دار عراق میں موجود ایران نواز عسکریت پسندوں کو بھی ٹھہراتے ہیں۔

    ’رائٹرز‘ نے ایک مشاورتی فرم کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ حوثیوں کے ایک پچھلے حملے کے بعد، جس میں پلانٹ کے گیسی فکیشن کمپلیکس اور ٹینکوں کو نقصان پہنچا تھا، آرامکو نے 27 جولائی کو جیزان میں واقع روزانہ چار لاکھ بیرل تیل صاف کرنے والی اپنی اس اہم ریفائنری کو عارضی طور پر بند کر دیا تھا۔

    سعودی وزارتِ خارجہ نے عالمی برادری پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ان تمام خلاف ورزیوں کے خلاف ایک مضبوط اور دوٹوک موقف اختیار کرے جو خطے کے امن و استحکام، عالمی تجارت اور بحری سفر کے تحفظ کو خطرے میں ڈال رہی ہیں اور یمن میں امن کے قیام کی کوششوں کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔

    اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے اپنے اعلامیے میں یمن کی قانونی اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی اجازت کے بغیر3 جولائی کو صنعا ایئرپورٹ اور 13 جولائی کو حدیدہ ایئرپورٹ پر طیاروں کی لینڈنگ کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے،سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2216 کے تحت یمن میں حوثیوں سمیت کسی بھی ایسے فرد یا تنظیم کو ہتھیاروں کی فراہمی، فروخت یا منتقلی پر مکمل پابندی عائد ہے جس پر اقوامِ متحدہ نے پابندیاں لگا رکھی ہیں۔

  • حوثیوں کا سعودی ڈرون تباہ کرنے کا دعویٰ

    حوثیوں کا سعودی ڈرون تباہ کرنے کا دعویٰ

    یمن کے حوثی گروہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے سعودی عرب کا ایک جاسوس ڈرون یمن کے شمالی صوبے صعدہ کی فضائی حدود میں مار گرایا ہے۔

    حوثی فوج کے ترجمان یحییٰ سریع نے اپنے بیان میں کہا کہ کرائیل طرز کے اس ڈرون کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ صعدہ گورنریٹ کی فضائی حدود میں مبینہ طور پر دشمنانہ سرگرمیوں میں مصروف تھا، حوثی فضائی دفاعی یونٹ نے کارروائی کرتے ہوئے ڈرون کو کامیابی سے تباہ کیا تاہم انہوں نے اس بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں کہ ڈرون کو کس ہتھیار یا دفاعی نظام کے ذریعے مار گرایا گیا،ان کا گروہ یمن کی خودمختاری اور فضائی حدود کے تحفظ کے لیے اپنی کارروائیاں جاری رکھے گا اور کسی بھی مبینہ خلاف ورزی کا جواب دینا اپنا جائز حق سمجھتا ہے۔

    دوسری جانب سعودی عرب کی جانب سے حوثیوں کے اس دعوے پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ آزاد ذرائع سے بھی اس دعوے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

  • وزیراعظم کا سعودی ولی عہد سے رابطہ،سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی مذمت

    وزیراعظم کا سعودی ولی عہد سے رابطہ،سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی مذمت

    وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔

    وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں، یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں-

    وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں-

    انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔

    گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعر یف کی اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔

  • حوثیوں کا سعودی عرب کے دو آئل ٹینکروں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    حوثیوں کا سعودی عرب کے دو آئل ٹینکروں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    یمن کی حوثی تحریک انصاراللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحری ناکہ بندی کی خلاف ورزی پر سعودی عرب کے دو آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا ہے۔

    انصاراللہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ بحری کارروائی ان جہازوں کے خلاف کی گئی جو ان کی تنبیہ کے باوجود سفر جاری رکھے ہوئے تھےگروپ کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام یمن پر عائد محاصرے کے ردعمل میں کیا گیا۔

    حوثی باغیوں کی جانب سے جن دو ٹینکرز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے ان میں سے ایک کا نام ’اینسیلیا‘ اور دوسرے کا ’لیلیٰ‘ بتایا گیا ہے۔

    دوسری جانب سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق بحیرہ احمر میں سفر کے دوران سعودی ملکیت کے جہاز اینسیلیا کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں جہاز کے اگلے حصے میں آگ بھڑک اٹھی، تاہم جہاز کا تمام عملہ محفوظ رہا اور کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی، اینسیلیا نے بدھ کی دیر رات سعودی بندرگاہ جیزان کے قریب میزائل لگنے کی خبر دیتے ہوئے مدد کی اپیل بھیجی تھی۔

    اس سے قبل برطانوی میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی نے بھی اطلاع دی تھی کہ سعودی عرب کے ساحلی شہر الشقیق سے تقریباً 70 ناٹیکل میل دور ایک جہاز میں آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا ہےٹینکر کے کپتان کے مطابق آگ میزائل لگنے کے بعد بھڑکی، ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس واقعے میں نہ کوئی جانی نقصان ہوا اور نہ ہی سمندری ماحول کو نقصان پہنچنے کی اطلاع ملی ہے۔

    واضح رہے کہ چند روز قبل حوثی تنظیم انصاراللہ نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا تھاتنظیم کے ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ یمن پر عائد محاصرے اور صنعا ایئرپورٹ کی بندش کے جواب میں کیا گیا ہے اگر یمن پر پابندیاں اور محاصرہ برقرار رہا تو وہ بحیرہ احمر میں سعودی جہازوں کی آمدورفت کو بھی نشانہ بنا سکتے ہیں۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں اور بحری ناکہ بندی کے اعلانات سے عالمی جہاز رانی، تیل کی ترسیل اور خطے کی سلامتی پر مزید دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

  • سعودی تیل کے ٹینکرز باب المندب سے واپس لوٹ گئے

    سعودی تیل کے ٹینکرز باب المندب سے واپس لوٹ گئے

    یمن کے حوثی گروہ کی جانب سے سعودی عرب کا سمندری محاصرہ کرنے اور سعودی تیل لے جانے والے جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی کے بعد بحرِ احمر سے ایشیا جانے والے سعودی خام تیل کے دو بڑے ٹینکرز منگل کے روز واپس لوٹ گئے۔

    حوثیوں کی جانب سے جہاز رانی کی کمپنیوں کو خط کے ذریعے دھمکی دی گئی تھی کہ کوئی بھی جہاز جو سعودی تیل لوڈ یا ان لوڈ کرے گا اس پر حملہ کیا جائے گا۔
    اس تنازع کے باعث عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں دو فیصد سے زائد بڑھ کر 91 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہیں۔

    یمن بحرِ احمر کے جنوبی راستے باب المندب کے قریب واقع ہے، اور اس اہم راستے کی بندش سے توانائی بحران اور ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی میں ایک نیا محاذ کھل سکتا ہے۔

    آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد سے خلیجی ممالک کے تیل اور دیگر مصنوعات کی نقل و حمل کے لیے بحرِ احمر ایک انتہائی اہم متبادل راستہ بن چکا ہے۔ اگر یہ راستہ بھی متاثر ہوتا ہے تو مشرقِ وسطیٰ کے دونوں بڑے تیل برآمد کرنے والے راستے ایک ساتھ بند ہو جائیں گے۔

    پہلے ہی 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی جزوی ناکہ بندی سے خلیجی خطے سے تیل کی زیادہ تر برآمدا ت متاثر ہیں،ا س مصیبت سے نمٹنے کے لیے سعودی عرب نے اپنی خام تیل کی 70 فیصد برآمدات بحرِ احمر کی ینبع بندرگاہ کی طرف موڑ رکھی ہیں، ینبع سے یورپی ممالک کو جانے والے جہاز نہر سویز کے ذریعے شمال کی طرف اور ایشیا جانے والے جہاز باب المندب سے گزرتے ہیں اعداد و شمار کے مطابق جون میں باب المندب کے راستے روزانہ 7.4 ملین بیرل تیل منتقل ہوا جو عالمی پیداوار کا تقریباً سات فیصد ہے۔

    یمن میں حوثی تحریک کی شروعات 1990 کی دہائی میں ہوئی اور وہ گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے سعودی عرب کی حمایتی حکومت کے خلاف نبرد آزما ہیں دونوں فریقین کے درمیان 2022 میں ہونے والا معاہدہ قائم تھا، لیکن گزشتہ ہفتے صنعا ایئرپورٹ پر حملے کی وجہ سے تنازع دوبارہ بڑھ گیا حوثیوں نے اس کا ذمہ دار سعودی عرب کو ٹھہراتے ہوئے ابہا ایئرپورٹ پر میزائل داغے۔

  • اگر حوثیوں نے بحیرہ احمر کی ناکہ بندی کی دھمکی پر عمل کیا تو امریکا اس کا جواب دےگا، ٹرمپ

    اگر حوثیوں نے بحیرہ احمر کی ناکہ بندی کی دھمکی پر عمل کیا تو امریکا اس کا جواب دےگا، ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثی گروپ کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حوثیوں نے سعودی عرب کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کی دھمکی پر عمل کیا تو امریکا فوری اور فیصلہ کن کارروائی کرے گا۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق وائٹ ہاؤس میں لبنانی ہم منصب جوزف عون سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس بریفنگ میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر حوثیوں نے بحیرہ احمر میں جہاز رانی یا سعودی بندرگاہوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تو امریکا اس صورتحال سے نمٹنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے اگر ایسا کچھ ہوا تو ہم اس کا بندوبست کریں گے ہم پہلے بھی حوثیوں کے خلاف کارروائی کر چکے ہیں اور اس کے بعد ہمیں ان سے کافی عرصے سے کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔

    صدر ٹرمپ نے حالیہ ایران جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حتیٰ کہ ایران کے ساتھ جاری تنازع کے دوران بھی حوثیوں نے ہمارے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی، فی الحال حوثیوں نے سمندری راستوں کو بند نہیں کیا اور امریکا کو اس حوالے سے کوئی بڑا مسئلہ درپیش نہیں،انھوں نے اپنی گفتگو میں 2025 میں حوثیوں کے خلاف ہونے والی امریکی فضائی کارروائی کا بھی ذکر کیا جو تقریباً دو ماہ تک جاری رہی تھی۔ اس مہم کے بعد جنگ بندی عمل میں آئی اور اس کے بعد حوثیوں کی سرگرمیوں میں نمایاں کمی آئی تھی۔

    واضح رہے کہ حوثی گروپ نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کرتے ہوئے عالمی شپنگ کمپنیوں کو خبردار کیا کہ سعودی بندرگاہوں پر سامان لوڈ یا ان لوڈ نہ کریں بصورت دیگر ان کے جہازوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے،اس دھمکی کے بعد سعودی خام تیل لے جانے والے بعض آئل ٹینکروں نے بحیرہ احمر میں اپنا راستہ تبدیل کر لیا جس سے عالمی توانائی کی سپلائی اور بین الاقوامی تجارت کے حوالے سے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔

  • حوثیوں کی سعودی جہازوں اور شپنگ کمپنیوں کو براہِ راست وارننگ

    حوثیوں کی سعودی جہازوں اور شپنگ کمپنیوں کو براہِ راست وارننگ

    یمن کے ایران نواز حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف اعلان کردہ بحری ناکا بندی پر عملی اقدامات شروع کرتے ہوئے سعودی جہازوں اور بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں کو براہِ راست وارننگ جاری کر دی ہے۔

    امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کے مطابق حوثیوں نے بحیرۂ احمر میں جہاز رانی کے لیے ایف ایم ریڈیو پر انگریزی زبان میں ایک مختصر پیغام نشر کیا، جس میں سعودی عرب سے وابستہ تمام جہازوں کو ریڈ سی کے بجائے خلیجِ عدن کے راستے سفر کرنے کی ہدایت کی گئی پیغام میں کہا گیا کہ اگر سعودی جہازوں نے حوثیوں کی ہدایات پر عمل نہ کیا تو وہ ان کے حملوں کا ہدف بن سکتے ہیں۔

    یونان کی میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی مارسکس کے مطابق یہ اعلان خطے میں سمندری سلامتی کی صورتِ حال میں ایک اہم اور خطرناک پیشرفت ہے، کیونکہ اب کشیدگی فضائی اور سیاسی محاذ سے بڑھ کر بحری راستوں تک پہنچ چکی ہے، اگر حوثیوں نے اس ناکا بندی پر عملی کارروائی شروع کی تو ابتدائی طور پر سعودی ملکیت یا سعودی مفادات سے وابستہ تجارتی جہاز نشانہ بن سکتے ہیں۔

    واضح رہے کہ حوثیوں نے پیر کے روز سعودی عرب کے خلاف بحری ناکا بندی کا اعلان کیا تھا، بیان میں کہا گیا تھا کہ 20 جولائی سے سعودی بندرگاہوں پر کارگو کی نقل و حرکت حوثیوں کی جانب سے ممنوع تصور کی جائے گی، جب کہ خلاف ورزی کرنے والے جہاز پابندیوں اور ممکنہ فوجی کارروائی کی زد میں آ سکتے ہیں۔

    حوثیوں کی جانب سے شپنگ کمپنیوں کو ای میل کے ذریعے بھی خبردار کیا گیا کہ وہ سعودی عرب کی کسی بھی بندرگاہ پر سامان کی لوڈنگ یا ان لوڈنگ سے گریز کریں،ایسی سرگرمی میں ملوث جہازوں کو کسی بھی مقام پر نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

    سعودی جہازوں کے خلاف بحری ناکا بندی کے اعلان کے بعد سعودی عرب کی جانب سے اس کی سخت مذمت کی گئی بحیرۂ احمر اس وقت سعودی عرب کے لیے تیل کی برآمدات کا اہم متبادل راستہ بن چکا ہے، کیونکہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں جہاز رانی شدید متاثر ہوئی ہے۔

    بحری تجزیاتی ادارے ’کپلر‘ کے اعداد و شمار کے مطابق 15 سے 19 جولائی کے دوران باب المندب کی گزرگاہ سے 209 تجارتی جہاز گزرے، جب کہ حوثی ماضی میں بھی اس علاقے میں متعدد جہازوں پر حملے کر چکے ہیں،باب المندب دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سمندر ی تجارت کا تقریباً 15 فی صد حصہ گزرتا ہے،ماہرین کے مطابق 2023 سے 2025 کے دوران اس علاقے میں بحری آمدورفت متاثر ہونے سے عالمی شپنگ صنعت کو سالانہ تقریباً 20 ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا۔

  • اسرائیل پر حوثی حملے صرف وارننگ ہیں جنگ میں شمولیت نہیں،سابق امریکی سفیر

    اسرائیل پر حوثی حملے صرف وارننگ ہیں جنگ میں شمولیت نہیں،سابق امریکی سفیر

    سابق امریکی سفارتکار نبیل خوری کے مطابق یمن کے حوثیوں کی جانب سے اسرائیل پر کیے گئے میزائل حملے مکمل جنگی شمولیت نہیں بلکہ محض انتباہ ہیں۔

    الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے یمن میں امریکی مشن کے سابق نائب سربراہ نبیل خوری نے کہا کہ حوثیوں نے صرف چند میزائل فائر کیے ہیں تاکہ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ایک پیغام دیا جا سکے خطے میں امریکی افواج کی آمد اور ممکنہ بڑے پیمانے پر کشیدگی کی باتوں کے پیش نظر یہ اقدام ایک وارننگ کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، اگر کوئی معاہدہ نہ ہوا تو ایران کے خلاف ایک بڑے حملے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جیسا کہ اس سے قبل نہیں دیکھا گیا۔

    نبیل خوری کے مطابق حوثی یہ پیغام دے رہے ہیں کہ ہم اب بھی موجود ہیں، اور اگر ایران کے خلاف مکمل کارروائی کی گئی تو ہم بھی اس میں شامل ہو جائیں گے، تاہم فی الحال وہ عملی طور پر مکمل جنگ میں شامل نہیں ہوئے اگر حوثی اس تنازع میں مکمل طور پر شامل ہوتے ہیں تو ان کا سب سے اہم اور خطرناک اقدام آبنائے باب المندب کو بند کرنا ہو سکتا ہے، جو بحیرہ احمر کا داخلی راستہ ہے۔

    انہوں نے کہا کہ حوثی کشتیوں، بارودی سرنگوں یا میزائلوں کے ذریعے اس اہم گزرگاہ کو نشانہ بنا سکتے ہیں نبیل خوری کے بقول انہیں صرف چند بحری جہاز وں پر حملہ کرنا ہوگا، جس کے بعد بحیرہ احمر سے گزرنے والی تمام تجارتی جہاز رانی رک سکتی ہے،انہوں نے خبردار کیا کہ ایسا اقدام ایک سرخ لکیر ثابت ہوگا، جس کے بعد یمن کے خلاف فوری فوجی کارروائیاں دیکھنے میں آ سکتی ہیں۔

    واضح رہے کہ یمن کے حوثی باغیوں نے ہفتے کو پہلی بار اسرائیل پر میزائل حملہ داغا تھا، جس کی حوثی فوجی ترجمان یحیی ساری نے تصدیق کی تھی۔

  • یمن کے حوثی باغیوں سے منسلک تقریباً 3 درجن افراد اور کمپنیاں  بلیک لسٹ

    یمن کے حوثی باغیوں سے منسلک تقریباً 3 درجن افراد اور کمپنیاں بلیک لسٹ

    امریکا نے یمن کے حوثی باغیوں سے منسلک تقریباً 3 درجن افراد اور کمپنیوں کو بلیک لسٹ کردیا ہے۔

    امریکی وزارت خزانہ نے یمن کے حوثی باغیوں کے لیے وسیع پیمانے پر فنڈ ریزنگ، اسمگلنگ اور ہتھیاروں کی خریداری کے نیٹ ورک میں ملوث تقریباً 32 افراد اور کمپنیوں کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کردیا ہے۔ یہ نیٹ ورک یمن، چین، متحدہ عرب امارات اور مارشل آئی لینڈز میں فعال ہے۔

    امریکہ کے مطابق ان افراد اور کمپنیوں پر الزام ہے کہ وہ حوثی باغیوں کے لیے جدید قسم کے عسکری ساز و سامان، بشمول بیلسٹک اور کروز میزائل اور ڈرونز کے پرزہ جات کی خریداری اور مالی معاونت کرتے ہیں حوثیوں نے ان ڈرونز کا استعمال امریکی فوجی اور تجارتی جہازوں پر حملے کرنے کے لیے کیا ہے۔

    گوجرہ : شراب فروش گرفتار، 524 پونڈا شراب برآمد

    یہ پابندیاں اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری جنگ کے پس منظر میں لگائی گئی ہیں حماس بھی ایران کی حمایت یافتہ ایک تنظیم ہے جس نے 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حملہ کیا تھا، جس کے بعد اسرائیل نے غزہ پر حملے شروع کیے جس سے اب تک تقریباً 65 ہزار فلسطینی شہید ہوچکے ہیں جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں،نومبر 2023 سے حوثیوں نے بحر احمر پر فوجی محاصرہ نافذ کیا ہوا ہے اور ایسے جہازوں پر حملے کررہے ہیں جو اسرائیل کی حمایت میں وہاں سے گزرتے ہیں ان حملوں میں کم از کم 4 جہاز ڈوب چکے ہیں۔

    امریکی محکمہ خزانہ کے سیکریٹری برائے دہشتگردی اور مالیاتی انٹیلیجنس، جان ہرلی نے کہا حوثی بحر احمر میں امریکی عملے اور اثاثوں کو مسلسل نقصان پہنچا رہے ہیں، خطے میں ہمارے اتحادیوں پر حملے کر رہے ہیں اور ایرانی حکومت کے تعاون سے بین الاقوامی سمندری سیکیورٹی کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

    ننکانہ صاحب: گندم اور آٹے کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کا کریک ڈاؤن

    ان افراد میں صالح دبیش بھی شامل ہیں، جنہیں 2021 میں پابندیوں کے بعد صالح مصفر الشاعر کی جگہ حوثیوں کے اثاثے ضبط کرنے کا ذمہ دار مقرر کیا گیا ہے صالح دبیش نے ملک بھر میں نجی اور سرکاری زمینیں حوثیوں کے لیے ضبط کی ہیں، جس کا جواز انہوں نے ان زمینوں کے مالکان پر دہشتگردی کا الزام لگا کر پیش کیااسی خاندان کے عبد اللہ مصفر الشاعر کو بھی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے، اور ان کے نام سے چلنے والی کمپنیوں کو بھی پابندی کا سامنا ہے۔

    اسی طرح محمد عبدالسلام سے منسلک ایک گروپ جو پیٹرولیم کی اسمگلنگ میں ملوث ہے، ان پر بھی پابندیاں عائد کی گئی ہیں محمد عبدالسلام کو مارچ میں پہلے ہی پابندیوں کا سامنا تھا، حوثی باغیوں سے جڑی سمندری شپنگ کمپنیاں اور ہتھیاروں اور ان کے پرزہ جات کی خریداری میں مدد فراہم کرنے والے افراد اور ادارے بھی بلیک لسٹ کیے گئے ہیں۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ،ایچ ای سی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ معطل