Baaghi TV

Tag: حکومت سندھ

  • حکومت سندھ نے کتے کی قبر کو محفوظ ورثہ قرار دینے کی منظوری دیدی

    حکومت سندھ نے کتے کی قبر کو محفوظ ورثہ قرار دینے کی منظوری دیدی

    محکمہ ثقافت سندھ نے کتے کی قبرکو محفوظ ورثہ قرار دینے کی منظوری دے دی۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چیف سیکرٹری سندھ آصف حیدر شاہ کی زیر صدارت محکمہ ثقافت کی ایڈوائزری کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں سیکرٹری ثقافت ایڈوائزری کمیٹی کے ممبر حمید ہارون، کلیم اللہ لاشاری اور ایس بی سی اے حکام سمیت دیگر شریک ہوئے۔اجلاس میں محکمہ ثقافت کی جانب سے ورثہ قرار دی گئی عمارتوں کا جائزہ لیا گیا۔چیف سیکرٹری سندھ نے ایس بی سی اے کو ہدایت کی کہ عمارتوں کو خطرناک ڈکلیئر کرنے سے قبل محکمہ ثقافت سے بھی رائے لی جائے۔اجلاس میں مختلف مقامات اور عمارتوں کی ثقافتی ورثہ قرار دینے کی منظوری دی گئی جن میں قمبر شہداد کوٹ میں واقع کتے کی قبر، ضلع نوشہرو فیروز میں قدیم مختیار کار دفتر، سکھر میں قدیم سول کورٹ تعلقہ روہڑی، کندھ کوٹ میں واقع انسپکشن بنگلے (1908)، کنٹونمنٹ کوارٹرز، کراچی میں پارسی انسٹیٹیوٹ کمپائونڈ (KPI) بشمول جہانگیر کوٹھاری ہال اورکاٹراک سوئمنگ باتھ (1905)، ملیر میں واقع سید ہاشمی ریفرنس لائبریری شامل ہیں۔

    مٹھائی کے ڈبوں میں چھپائی ہیروئن، آئس 4 ممالک میں اسمگل کرنے کی کوشش ناکام

  • دہشتگردی سے نمٹنے کے لیےکئی اقدامات کیے ہیں ،مراد علی شاہ

    دہشتگردی سے نمٹنے کے لیےکئی اقدامات کیے ہیں ،مراد علی شاہ

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ حکومت نے انتہاپسندی اور دہشتگردی سے نمٹنے کیلیے کئی اقدامات کیے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ انٹیلی جنس شیئرنگ اور مشترکہ آپریشن بھی کیے جا رہے ہیں۔ انتہاپسندی کو شکست اور امن کو فروغ دینے کیلیے سماجی رابطہ کاری کے پروگرام شروع کیے گئے ہیں۔
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے یہ بات نیشنل سیکیورٹی اینڈ وار کورس 25 کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ 240 شرکا میں پاک فوج کے افسران سول سرونٹس اور 24 دوست ممالک کے فوجی افسران شریک تھے۔ شرکا کی قیادت چیف انسٹرکٹر میجر جنرل محمد اختر کر رہے تھے۔ صوبائی وزرا شرجیل میمن، سردار شاہ، ناصر حسین شاہ، سعید غنی، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، سیکریٹری داخلہ اقبال میمن، چیئرمین پی اینڈ ڈی نجم شاہ ، آئی جی پولیس غلام نبی میمن، سیکریٹری وزیراعلیٰ رحیم شیخ اور دیگر صوبائی سیکریٹریز نے بھی پروگرام میں شرکت کی۔
    وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ حکومت نے پولیس فورس کو مضبوط کرنے کیلیے کئی اقدامات کیے ہیں۔ ان اقدامات میں تربیتی پروگرام اور انفرا اسٹرکچر کی بہتری شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے سی ٹی ڈی اور اسپیشل برانچ کو اپ گریڈ کرنے کے علاوہ کراچی سیف سٹی پروجیکٹ بھی شروع کیا ہے۔ مزید برا?ں ایس فور پروجیکٹ کے ذریعے سندھ بھر کے چالیس ٹول پلازہ پر چہرے اور نمبر پلیٹ کی خودکار شناخت کا نظام نصب کیا گیا ہے۔
    مراد علی شاہ نے بتایا کہ انویسٹی گیشن کے اخراجات میں اضافہ کیا گیا ہے۔ تھانوں کیلیے چار ارب اسی کروڑ روپے کا براہ راست بجٹ مختص کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ پولیس کیلیے چار ارب نوے کروڑ اور دس لاکھ روپے کی ہیلتھ انشورنس کا بھی بندوبست کیا گیا ہے۔ شہدا پیکج بھی 10 ملین سے بڑھا کر 23 ملین روپے کردیا گیا ہے۔ شہید اہلکار کی ریٹائرمنٹ کی عمر تک لواحقین کیلیے تنخواہ کا اجرا اور خاندان کے دو افراد کو نوکری بھی دی جائے گی۔
    وزیراعلیٰ سندھ نے یہ بھی بتایا کہ حکومت کچے کے علاقے میں چیلنجز سے نمٹنے کیلیے بھی کوشاں ہے۔ افرا اسٹرکچر اور سماجی خدمات کو بہتر کیا جا رہا ہے۔ پولیس کو ڈرون، اے پی سیز اور 7۔12 بور بندوقیں بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔ نقل و حمل کو بہتر بنانے کیلیے سڑکیں اور پل بھی تعمیر کیے جا رہے ہیں۔ صوبے کے مالی حالات کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے بتایا کہ 25-2024 کا بجٹ 3 کھرب، پانچ ارب اور ساٹھ کروڑ روپے کا ہے جس میں نقد محاصل 1912 ارب روپے ہیں۔
    959 ارب روپے ترقیاتی منصوبوں پر خرچ ہوں گے جبکہ 184ارب اور اسی کروڑ روپے سرمایہ کاری پر خرچ ہوں گے۔ مراد علی شاہ نے بتایا کہ صوبے کے محاصل 2 کھرب، 56ارب اور 20 کروڑ روپے ہوں گے۔ 1900ارب اور اسی کروڑ روپے وفاقی منتقلی اور 661ارب اور 90 کروڑ روپے صوبائی وسائل سے حاصل ہوں گے تاہم حکومت کو رواں مالی سال کے پہلے دو ماہ میں ایف بی ا?ر سے 139 ارب روپے کم موصول ہوئے ہیں جبکہ صوبائی محاصل میں بھی 35ارب اور 90 کروڑ روپے کی کمی واقع ہوئی ہے۔
    حکومتی اخراجات 300 ارب ، نوے کروڑ روپے ہوگئے ہیں جس کے نتیجے میں حکومت کو 28ارب، نوے کروڑ روپے خسارے کا سامنا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے مالیاتی نظم و ضبط پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تنخواہوں اور پنشن کے ساتھ ضروری ماہانہ اخراجات 143 ارب روپے ہیں۔ حکومت بیرونی امدادی منصوبوں میں انفرا اسٹرکچر، سماجی تحفظ اور سماجی خدمات کو ترجیح دے رہی ہے۔
    مراد علی شاہ نے کہا کہ 2022 کے تباہ کن سیلاب میں 70 فیصد صوبہ متاثر ہوا۔ ایک کروڑ 20 لاکھ افراد بیگھر اور بڑے پیمانے پر نقصان ہوا۔ حکومت سندھ نے ہنگامی اقدامات کا آغاز کیا اور 20 ارب ڈالر نقصانات کا تخمینہ لگایا۔ جینیوا میں پاکستان موسمیاتی کانفرنس میں 11 ارب 60 کروڑ ڈالر کا بحالی منصوبہ پیش کیا۔ وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق رواں مالی سال کے 959 ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ میں انفرا اسٹرکچر، تعلیم، صحت اور زراعت کی بہتری پر توجہ دی جا رہی ہے۔
    پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پروگرام میں پیش رفت جاری ہے۔ سندھ کے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ یونٹ کو ایشیا کا چھٹا بہترین یونٹ قرار دیا گیا ہے۔ سیلاب متاثرین کیلیے گھروں کی تعمیر کا منصوبہ جاری ہے۔ شمسی توانائی کے منصوبے سے 3 لاکھ 60 ہزار افراد مستفیذ ہو رہے ہیں۔ حکومت سندھ بحالی اور طویل مدتی ترقیاتی منصوبوں کیلیے پرعزم ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے مختلف سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ نے مقامی اداروں کا 23-2022 کے 82 ارب روپے کے مقابلے میں بجٹ بڑھا کر 267 ارب روپے کردیا ہے اور خصوصی پروگرام کے تحت ان کی صلاحیتوں میں ضافے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
    مراد علی شاہ نے نشاندہی کی کہ سندھ واحد صوبہ ہے جس نے مقامی انتخابات کرائے اور اختیارات منتخب اداروں کو منتقل کیے۔ کالاباغ ڈیم کی تعمیر کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے اپنے خدشات کا اظہار کیا کہ سسٹم میں پانی کی کمی کی وجہ سے سندھ کو پانی کے بحران کا سامنا ہوگا اور زراعت تباہ ہوجائیگی۔ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے سندھ میں ہندووں سے متعلق ایک سوال سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں ہندو پرامن طور پر مقیم ہیں۔ انہوں نے ہندو مسلم بھائی چارے کا ذکر کرتے ہوئے نشاندہی کی کہ عام انتخابات کے دوران سندھ میں ایک رکن قومی اسمبلی اور دو رکن صوبائی اسمبلی ہندو منتخب ہوئے ہیں۔

    ڈاکٹر ذاکر نائیک کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات: اسلام کی تبلیغ اور اتحاد پر زور

    سندھ میں خالی بلدیاتی نشستوں پر ضمنی انتخابات 14نومبر ہوں گے

  • قلب کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ  افسوسناک ہے؛ وزیراعلیٰ سندھ

    قلب کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ افسوسناک ہے؛ وزیراعلیٰ سندھ

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں قلب کے مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ افسوسناک ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے عالمی یوم قلب کے موقع پر پیغام میں کہا کہانسان کی سب سے قیمتی چیز اس کی اچھی صحت ہے،ہر سال ایک بڑی تعداد قلب کے مرض کا شکار ہوجاتی ہے.ہمیں اپنے کھانے کی عادتوں، اور کھانوں کا صحیح انتخاب کر کے ورزش کو زندگی میں شامل کرنا ہو گا.میرا عالمی یوم قلب پر یہی پیغام ہے کہ اپنے دل کی صحت کا خیال رکھیں اور اس کو امراض سے بچائیں.زندگی میں ہم سب کو سیکھنا ہے کہ علاج سے بہتر احتیاط ہے.ہم نے پاکستان خصوصاً سندھ کے عوام کو دل کی بیماریوں کے علاج کی ہر ممکن سہولت دے رہے ہیں، ہم نے بڑے پیمانے پر موبائل چیسٹ پین یونٹ دیہی اور شہری علاقوں میں قائم کیے ہیں.
    انہوں نے مزید کہا کہ عارضہ قلب ایک ایسی بیماری ہے جسے ہر مریض افورڈ نہیں کرپاتا، حکومت سندھ عارضہ قلب میں مبتلا مریضوں کو بالکل مفت اور قابل رسائی سروس دے رہی ہے.بچوں کے کارڈیک علاج پر پوری توجہ دے رہے ہیں اور اس کے لیے ایک نئی عمارت بھی زیر تعمیر ہے، علاج میں بہترین نتائج کے لیے ٹریکنگ سسٹم متعارف کرارہے ہیں.

    ڈاکٹر شاہنواز قتل کیس،گرفتار ملزمان 4 روزہ جسمانی ریمانڈ پرپولیس کے حوالے

    واضح رہے کہ دنیا بھرمیں امراض قلب کا عالمی دن 29 ستمبر کو منایا جا تاہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد لوگوں میں دل کی بیماریوں کے متعلق مکمل آگاہی اور ان سے بچاو کے لیے شعور پیداکرناہے۔ دنیا میں لاکھوں افراد ہر سال دل کی بیماریوں کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ پاکستان میں ہر سال تقریباً دو لاکھ افراد دل کے امراض کے باعث ہلاک ہوجاتے ہیں۔ عالمی ادارہ برائے صحت(World Health Organisazion) نے خبردار کیا ہے کہ سن دو ہزار تیس تک دنیا بھر میں دل کے امراضِ کے سبب اموات کی شرح سترہ اعشاریہ تین ملین سے بڑھ کر تئیس اعشاریہ چھ ملین تک پہنچ سکتی ہے۔ دل کے امراض کی بڑی وجوہات میں تمباکو نوشی، غیر صحت مند غذا اور جسمانی سرگرمیوں کا فقدان ہے۔ دل کے امراض سے بچنے کے لیے تمباکو نوشی ترک کی جائے، روزانہ پھل اورسبزیوں کا استعمال کیا جائے اور دن بھر میں ایک چائے کے چمچ سے زیادہ نمک کے خوراک میں استعمال سے پرہیز کیا جائے۔ دل کی بیماریوں سے بچنے کے لیے روزانہ کم از کم آدھا گھنٹہ جسمانی سرگرمیوں میں گزارا جائے یا ورزش کی جائے۔ دل کی صحت سے متعلق عوامی آگاہی کی بیداری کا عالمی دن اس دن کی مناسبت سے 29 ستمبرکوملک بھر میں سیمینارزاور آگاہی واک بھی منعقد کی جائیں گی۔

  • حکومت سندھ نے الیکٹرک ٹیکسیاں چلانے کوشش تیز کر دی

    حکومت سندھ نے الیکٹرک ٹیکسیاں چلانے کوشش تیز کر دی

    حکومت سندھ نے الیکٹرک ٹیکسیاں شروع کرنے کے لئے کوششیں تیز کردیں .

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن سے چینی آٹوموبائل بنانے والی کمپنی GAC اور دیوان موٹرز کے نمائندوں سے ملاقات کی،ملاقات میں سیکریٹری ٹرانسپورٹ اسد ضامن، دیوان یوسف فاروقی، چینی کمپنی GAC کے ژو سونگ، ژین وین ، ظفر حسن اور دیگر نے شرکت کی ملاقات میں چینی کمپنی جے اے سی کے جنرل منیجر ژو سونگ نے الیکٹرک وہیکلز کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی اور سندھ میں الیکٹرک ٹیکسیاں متعارف کرانے کے لیے مختلف آپشنز پر تبادلہ خیال کیا گیا .

    توہین مذہب کے ملزم کو پولیس اہلکار نے گولی مار دی

    شگفتہ اعجاز کے شوہر یحیی صدیقی انتقال کر گئے

    ملائکہ اروڑا کا اپنے والد کی مبینہ خودکشی کے بعد پہلا بیان سامنے آ گیا

    سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کی جانب سے چینی کمپنی کی سرمایہ کاری میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی گئی اور اس موقع پر شرجیل انعام میمن کا کہنا تھا کہ حکومت سندھ الیکٹرک ٹیکسیوں کے لیے تمام ضروری انفراسٹرکچر اور سہولت فراہم کرے گی، چارجنگ اسٹیشنز کا قیام، ہموار ریگولیٹری عمل کو یقینی بنانا، اور سرمایہ کاروں کے لیے کاروبار کے لیے سازگار ماحول کو حکومت سندھ یقینی بنائے گی.الیکٹرک ٹیکسیوں کے متعارف ہونے سے نہ صرف لوگوں کو محفوظ اور جدید سفری سہولیات میسر آئیں گی بلکہ کاربن کے اخراج کو کم کرکے ماحول کے تحفظ میں بھی مدد ملے گی، نئی ٹیکسی سروس شروع ہونے سے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہونگے اور خواتین مسافروں کے لیے محفوظ اور قابل اعتماد سفر کے لئے پنک ٹیکسی سروس شروع کی جائے گی،حکومت سندھ کا مقصد ان الیکٹرک ٹیکسیوں کو جلد از جلد شروع کرنا ہے، تاکہ شہری جدید ترین، ماحول دوست سفری سہولت سے مستفید ہوں.

  • موجودہ صورتحال میں ہوٹلز/ریسٹورنٹز کھولنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتے۔ جام اکرام اللہ دھاریجو

    موجودہ صورتحال میں ہوٹلز/ریسٹورنٹز کھولنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتے۔ جام اکرام اللہ دھاریجو

    صوبائی وزیر برائے صنعت وتجارت اور محکمہ امداد باہمی و انسداد بدعنوانی جام اکرام اللہ دھاریجو نے کہا ہے کہ یہ بات باعث تشویش ہے کہ کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی لوکل ٹرانسمیشن کی تعداد میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے اور موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر ہوٹلز/ ریسٹورنٹز کھولنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتے۔

    یہ بات آج انہوں نے کورونا وائرس کی صورتحال پر نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشنز کے تحت ہونے والے وڈیو لنک اجلاس میں حصہ لیتے ہوئے کہی۔ وفاقی وزیر برائے صنعت وتجارت حماد اظہر نے اجلاس کی صدارت کی۔سندھ کے وزیر برائے صنعت وتجارت جام اکرام اللہ دھاریجو کی صوبہ سندھ کی نمائندگی کی ۔ اجلاس میں سیکریٹری صنعت وتجارت سندھ عبدالغنی سہتو نے بھی شرکت کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر برائے صنعت وتجارت جام اکرام اللہ دھاریجو نے مزید کہا کہ شاپنگ مالز ایس او پیز کے مطابق کھلنے چاہیں۔ ہمیں کورونا وائرس کی وبا کو پھیلنے سے روکنے کے لئے بہت احتیاط سے کام لینا ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ صورتحال میں ہوٹلز کھولنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتے جبکہ ایس او پیز کے تحت آٹو موبائل انڈسٹری کھولی جاسکتی ہے۔ صوبائی وزیر جام اکرام اللہ دھاریجو نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ انسانی جانوں کو اولیت دیتے ہوئے روزگار کے مواقع مہیا کئے جائیں۔ کورونا وائرس کے باعث طرز زندگی میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔

    انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ ہر سطح پر عوام کی بہتری کے لئے وفاقی حکومت سے تعاون کررہی ہے۔ کورونا وائرس کو مل کر ہی شکست دے سکتے ہیں۔ صوبائی وزیر صنعت وتجارت نے کہا کہ حکومت سندھ نے ایس او پیز کے تحت مخصوص صنعتوں کو کھولنے اور کاروبار چلانے کی اجازت دی ہے۔ اگر ایس او پیز پر عمل نہیں کیا جائے گا تو عمل نہ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ جام اکرام اللہ دھاریجو نے کہا کہ کاروباری طبقے کو چاہیے کہ وہ خود بھی ایس او پیز پر عمل کریں اور اپنے عملے اور گاہکوں کو بھی ایس او پیز پر عمل کروائیں۔