Baaghi TV

Tag: خالصتان

  • سکھوں کیلئےعلیحدہ ملک "خالصتان” کے قیام پر کینیڈا میں ریفرنڈم،مہم کی حمایت میں ہزاروں گاڑیوں کی ریلی

    سکھوں کیلئےعلیحدہ ملک "خالصتان” کے قیام پر کینیڈا میں ریفرنڈم،مہم کی حمایت میں ہزاروں گاڑیوں کی ریلی

    ٹورنٹو: کینیڈین سکھوں نے خالصتان تحریک کی حمایت میں کار ریلی نکال کر ایک نیا ریکارڈ درج کرایا ہے ریلی میں کاروں اور مشہور کینیڈین ٹرکوں سمیت 2000 سے زائد گاڑیاں شامل تھیں۔

    باغی ٹی وی : دی نیوز کے مطابق سکھوں کیلئے علیحدہ ملک خالصتان کے قیام پر برطانیہ، سوئٹزر لینڈ اوراٹلی میں ریفرنڈم کے بعد اب 18 ستمبر کو کینیڈا میں ووٹنگ ہوگی سکھ فار جسٹس کے زیرِ اہتمام 18 ستمبر کو ٹورنٹو کے نواحی علاقے برامپٹن سے ریفرنڈم شروع کیا جائے گا۔
    https://twitter.com/sikhsikhsikh61/status/1567040080992243714?s=20&t=HU9XPmhzj0mLuRlLTmLHeA
    خالصتان ریفرنڈم کی ووٹنگ 18 ستمبر کو ووٹنگ گورنمنٹ کی ملکیت میں چلائی جانے والی سہولت برامپٹن کے گور میڈوز ریکریشن سینٹر میں ہوگی لیکن بڑے پیمانے پر سرگرمیاں پہلے ہی زوروں پر شروع ہو چکی ہیں۔

    خالصتان کے قیام کے لیے پنجاب کی بھارت سے علیحدگی کی حمایت


    سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں خالصتان اور برامپٹن میں ہونے والے خالصتان ریفرنڈم ووٹ کی حمایت میں مالٹن، اونٹاریو سے ہزاروں خالصتان کے جھنڈوں سے سجی گاڑیوں کی ایک بڑی قطار دیکھا جا سکتا ہے-


    کینیڈا میں مقیم سکھوں کی جانب سے مقامی افراد کی توجہ حاصل کرنے اور ریفرنڈم سے متعلق آگاہی کیلئے 5 میل لمبی کار ریلی بھی نکالی گئی، ٹورنٹو میں اتوار کی شب نکالی گئی کار ریلی میں دو ہزار سے زائد گاڑیوں نے شمولیت اختیار کی۔


    ریفرنڈم کے حوالے سے ٹرک ریلی کا بھی اہتمام کیا گیا جبکہ میگا بِل بورڈز پر خالصتان ریفرنڈم کی تشہیر بھی جاری ہے۔


    ان ویڈیوز میں خالصتان کے حامیوں کی ایک سے زیادہ کلومیٹر لمبی قطار دکھائی گئی ہے جو منفرد انداز میں سامنے آئے ہیں، جو کینیڈین ٹرک ڈرائیوروں کے حالیہ احتجاجی مظاہروں کی یاد دلاتا ہے جسے "آزادی قافلہ” کہا جاتا ہے جس میں ہزاروں ٹرک ڈرائیور اپنی گاڑیوں میں اپنے مطالبات کے لیے نکلتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

    اٹلی میں خالصتان ریفرنڈم کا انعقاد ، ووٹنگ کیلئے ہزاروں افراد کی شرکت

    18 ستمبر کو ہونے والی ووٹنگ سکھس فار جسٹس (SFJ) کی طرف سے منعقد کی گئی ہے،جو کہ ایک بین الاقوامی انسانی حقوق کی وکالت کرنے والی تنظیم ہے جو سکھوں کے حق خود ارادیت کے لیے مہم کی سربراہی کر رہی ہے۔

    ایس ایف جے کے جنرل کونسلر اور اس کے سرکاری ترجمان گروپتونت سنگھ پنن نے کہا کہ کینیڈا کےسکھوں نےدکھایا ہے کہ وہ خالصتان کے قیام کے اپنے مطالبے میں کہاں کھڑے ہیں۔


    گروپتونت سنگھ پنون نے کہا کہ کینیڈا کے سکھوں نے 5 کلومیٹر سےزیادہ کی کار ریلی کےلیےہزاروں کی تعداد میں نکل کرایک نیا ریکارڈ بنایا ہے۔ یہ ایک نیا واقعہ ہے اور مغرب میں پیدا ہونے اور پرورش پانے والی تیسری نسل کے سکھوں میں ایک نئی بیداری کی صبح ہے-

    انہوں نے کہا کہ یہ سکھ نوجوان ہیں جو اب خالصتان کے لیے مہم کی قیادت کر رہے ہیں۔ 18 ستمبر کو ہونے والی ووٹنگ میں کئی دن باقی ہیں لیکن جوش و خروش بے مثال ہے۔ یہ ہندوتوا انتہا پسند مودی انتظامیہ کے لیے ایک ڈراؤنا خواب ہے۔

    برطانیہ کی نئی وزیراعظم لز ٹرس نے اپنی کابینہ کا اعلان کر دیا

    انہوں نے مزید کہا کہ سکھ خود ارادیت کا حق مانگ رہے ہیں جو اقوام متحدہ کے چارٹر میں ضمانت دیے گئے تمام لوگوں کے بنیادی حقوق میں سے ایک ہے بین الاقوامی معاہدہ برائے شہری اور سیاسی حقوق (ICCPR)۔

    18 ستمبر سے پہلے، ٹورنٹو میں خالصتان ریفرنڈم ووٹنگ سے پہلے، خالصتان کے حامی کارکن خالصتان بینرز کے ساتھ ٹرک ریلیاں نکال رہے ہیں، میگا بل بورڈز، نشانات پلستر کر رہے ہیں اور برامپٹن کے گردواروں میں تشہیری مواد تقسیم کر رہے ہیں۔

    خالصتان پرریفرنڈم کا آغاز گزشتہ برس 31 اکتوبر کو لندن سے ہوا تھاجسکےبعد سوئٹزرلینڈ اور اٹلی میں بھی ووٹنگ کرائی گئی ریفرنڈم میں اب تک بیرون ممالک میں مقیم ساڑھے چار لاکھ سے زائد سکھ حصہ لے چکے ہیں۔

    پنجاب ریفرنڈم کمیشن (PRC)، ریفرنڈم اور براہ راست جمہوریت پر غیر منسلک ماہرین کا ایک پینل، ووٹنگ کے طریقہ کار کی نگرانی کر رہا ہے تاکہ بیلٹنگ کے بین الاقوامی معیارات کی شفافیت اور تعمیل کو یقینی بنایا جا سکے۔


    ٹورنٹو، کینیڈا میں خالصتان ریفرنڈم کے لیے 18 ستمبر کو ہونے والے ووٹنگ سینٹر کا نام شہید ہرجندر سنگھ پرہا کے نام پر رکھا گیا ہے تاکہ خالصتان کے حامی نوجوان سکھوں کے اعزاز میں رکھا جائے جو ہندوستان کے تناظر میں خالصتان کے لیے اس وقت کی جاری مسلح جدوجہد میں حصہ لینے کے لیے کینیڈا سے واپس انڈیا گئے تھے۔ فوج کا جون 1984 میں گولڈن ٹیمپل پر حملہ۔ ایک اسٹیجڈ پولیس مقابلے میں، بھارتی فورسز نے 1988 میں پرہا کو ماورائے عدالت قتل کر دیا تھا-

    امریکی ورلڈ آرڈرنہیں اب چلےگا’رشین ورلڈ:ولادیمیر پیوٹن نے نئی خارجہ پالیسی کی منظوری دیدی

    قبل ازیں رواں سال جون میں تاریخی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سکھ رہنماؤں نے بتایا تھا کہ ریفرنڈم میں حصہ لینے والوں سے صرف ایک سادہ سوال پوچھا جاتا ہے کہ آپ کی رائے میں کیا بھارت کے زیرِانتظام پنجاب کو علیحدہ ملک ہونا چاہئے یا نہیں-

    انہوں نے بتایا تھا کہ برطانوی حکومت نے لندن میں ہمارے اظہار رائے کے اس جمہوری حق کا اس حد تک احترام کیا کہ ریفرنڈم کے انعقاد کے لئے سرکاری سنٹر بھی پیش کر دیا‘ اٹلی میں ریفرنڈم کے موقع پر بھارتی حکومت نے ہمارے لئے کافی مشکلات کھڑی کیں لیکن اٹلی میں بسنے والے سکھوں نے بڑی تعداد میں ریفرنڈم میں حصہ لیا۔

    سکھ رہنما گْرپتونت پَنوں نے کہا تھا کہ ہمیں کینیڈین اتھارٹیز کی جانب سےکسی قسم کی رکاوٹ کھڑے کئےجانے کا کوئی اندیشہ نہیں۔ انہوں نے واشگاف الفاظ میں چیلنج کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر کینیڈین وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے آئندہ وزیراعظم بننا ہے تو انہیں ہمارے ریفرنڈم والے معاملے پر بات کرنا ہوگی۔

    ایک سوال کے جواب میں علیحدگی پسند سکھ رہنماؤں نے کہا تھا کہ خالصتان کے معاملے پر بھارتی حکومت پاکستان اور پاکستانی اداروں پر بے بنیاد الزام لگاتی رہی ہےتو وہ امریکی سی آئی اے پر الزام کیوں نہیں لگاتے جہاں میں گرپتونت سنگھ اور ڈاکٹر بخشیش سنگھ بیٹھے ہیں۔ ہم امریکہ سے اپنی خالصتان کی ریفرنڈم تحریک کو آپریٹ کر رہے ہیں-

    ٹرمپ کا فاکس نیوز پرڈیموکریٹس کےایجنڈے کو آگے بڑھانے کا الزام، سی این این کو قدامت…

  • بھارتی پنجاب میں خالصتان تحریک کی بڑھتی مقبولیت  سے مودی سرکار شدید خائف

    بھارتی پنجاب میں خالصتان تحریک کی بڑھتی مقبولیت سے مودی سرکار شدید خائف

    بھارتی پنجاب میں خالصتان تحریک کی بڑھتی مقبولیت سے مودی سرکار کی راتوں کی نیند حرام ہو گئی-

    باغی ٹی وی : بھارتی پنجاب سے عام آدمی پارٹی کے وزیر اعلی کی خالی کردہ لوک سبھا کی نشست پر خالصتان تحریک کے سرگرم رہنما سمرن جیت سنگھ کامیاب ہو گئے

    سمرن جیت سنگھ نے کامیابی کے بعد سکھوں کے حقوق کی جنگ لڑنے پر بھنڈرانوالہ سے لیکر سدھوموسے والا تک تمام سکھ شہدا کو خراج تحسین پیش کیا اور اپنی کامیابی کو شہدا کی قُربانیوں کا ثمر قرار دیا۔

    انہوں نے واضح کیا کہ سکھ تحریک اب جس مرحلے پر داخل ہو چکی ہے بھارتی حکومت ان کے ساتھ کشمیریوں، ماؤنواز یا نکسلائیٹ کارکنوں والا سلوک نہیں کر سکتی جن کو بھارتی فوج نے سیدھی گولیاں کا نشانہ بنایا اور کوئی انکوائری کروانا بھی گوارہ نہیں کیا ۔

    انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ لوک سبھا میں ان مظلوموں کی بھی آواز بنیں گے۔

    اُدھر بھارتی حکومت تحریک میں شدت آنے پر شدید خائف ہے-

    بھارتی حکومت نے نے حال ہی میں قتل ہونے والے سکھ گلوکار سدھو موسے والا کا گانا یوٹیوب سے ہٹوا دیا ہے جس میں پنجاب کے سکھ کسانوں کو دریائی پانی کا حصہ نہ دینے کا مسئلہ اجاگر کیا تھا۔

    کورونا وائرس سے 2 مریض جاں بحق،384 نئےکیسز رپورٹ

    بھارتی حکومت نے پاکستان کا دورہ کرنے والے سکھ زائرین پر بھی پابندی لگا دی ہے کہ وہ پاکستان میں کسی میزبان کے گھر میں قیام نہیں کر سکتے بصورتِ دیگر اُنکو بلیک لسٹ میں ڈال کر مقدمات چلاۓ جایئں گے پاکستان کا دورہ کرنے والے سکھ زائرین صرف گردواروں میں ہی قیام کرسکتے ھیں۔

    تمام ریاستی حکومتوں کو کہا گیا ہے کہ وہ اپنے صوبے میں متعلقہ سکھ اور ہندو تنظیموں کو اس بارے آگاہ کریں ، خلاف ورزی کرنیوالے یاتریوں کو آئندہ کے لئے بلیک لسٹ قراردے دیا جائے گا۔

    ادھرپاکستان سکھ گورودوارہ پر بندھک کمیٹی نے بھارتی حکومت کے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی قوم مہمان نواز ہے، اپنے گھر آنیوالوں کو عزت اور احترام دینا ہمارے خون میں شامل ہے۔

    پی ٹی آئی لانگ مارچ کے دوران تھوڑ پھوڑ کیس: شیخ رشید کی ضمانت قبل ازگرفتاری منظور

    کمیٹی کا کہنا تھا کہ بھارتی حکومتی ایسے ہتھکنڈوں سے نفرتوں کے بیج بوناچاہتی ہے ،پاکستان بھارتی کی طرف سے کرتارپور راہداری کے راستے گورودوارہ دربارصاحب آنیوالے بھارتی اورپاکستانی یاتریوں کے میل ملاپ کے خلاف بے بنیاد پراپیگنڈے کوبھی مسترد کرچکا ہے.

    واضع رہے کہ پاکستان آنیوالے سکھ اور ہندویاتری اپنے مذہبی اور مقدس مقامات کی یاترا کے علاوہ پاکستان میں اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کے مہمان بھی بنتے ہیں، جب کہ کئی یاتریوں کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ یہاں پاکستان میں اپنے آباواجداد کے آبائی گاؤں، علاقے کو دیکھ سکیں پاکستانی حکام سے اجازت لیکر وہ لوگ اپنے آبائی علاقوں کو بھی دیکھ لیتے ہیں جہاں ان کی مہمان نوازی کی جاتی ہے۔

    واضح رہے کہ بھارتی اداروں کی طرف سے یہ ایڈوائزری ایسے وقت میں جاری کی گئی جب بھارت سے 495 سکھ یاتریوں کا جتھہ مہاراجہ رنجیت سنگھ کی برسی منانے آج 21 جون کو پاکستان آرہا تھا۔

    تمام رکاوٹوں کے باوجود سمرن جیت سنگھ کی کامیابی سکھوں کی اپنے آزاد وطن خالصتان کے لئے جمہوری جدوجہد کا آئینہ دار ہے۔

    کولمبیا:بل فائٹنگ کے دوران اسٹینڈ گرنے سے 5 افراد ہلاک ،500 زخمی

  • بھارت: قانون ساز اسمبلی کے مین گیٹ پر خالصتان کا جھنڈا لہرا دیا گیا

    بھارت: قانون ساز اسمبلی کے مین گیٹ پر خالصتان کا جھنڈا لہرا دیا گیا

    شملہ: بھارتی ریاست ہماچل پردیش میں قانون ساز اسمبلی کے مین گیٹ پر خالصتان کا جھنڈالہرایاگیا اوربیرونی دیواروں پر خالصتان کے حق میں نعرے درج کئے گئے۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق پولیس کو اتوار کی صبح قانون ساز اسمبلی کے مین گیٹ پر خالصتان کے جھنڈوں کی موجودگی کی اطلاع ملی ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر نپن جندال نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ دھرم شالہ کے مضافات میں واقع اسمبلی کمپلیکس کی دیواروں پر خالصتان کے حق میں نعرے بھی درج تھے۔

    ڈپٹی کمشنر نےکہا کہ پولیس ملزمان کی گرفتاری کےلیےقریبی علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کو چیک کر رہی ہے کچھ شرپسندوں نے ریاستی قانون ساز اسمبلی کےبیرونی گیٹ پر پانچ سےچھ خالصتانی جھنڈے لگائےتھےاور دیوار پر خالصتان زندہ باد کے نعرے لکھے تھے جھنڈوں کو ہٹا دیا گیا ہے ،تحریروں کو صاف کر دیا گیا ہے جبکہ پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے اورمزید تحقیقات جاری ہے۔

    پولیس نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ یہ پنجاب کے کچھ سیاحوں کی کارروائی ہے نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

    ایک الرٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سکھز فار جسٹس کے سربراہ گروپتونت سنگھ پنوں نے ہماچل پردیش کے وزیر اعلی کو ایک خط لکھا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ شملہ میں بھندرانوالہ اور خالصتان کا جھنڈا لہرایا جائے گا۔

    سعودی فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز علیل،اسپتال منتقل

    اس سے قبل ہماچل پردیش نے بھنڈرانوالہ اور خالصتانی جھنڈے والی گاڑیوں پر پابندی لگا دی تھی جس نے سکھز فار جسٹس کو مشتعل کیا تھا تنظیم نے اعلان کیا تھا کہ وہ 29 مارچ کو خالصتانی پرچم لہرائے گی لیکن سخت سکیورٹی کی وجہ سے ایسا نہیں ہو سکا۔

    دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ (ن) اقلیتی ونگ کے مرکزی جنرل سیکرٹری اور پنجاب اسمبلی کے رکن سردار رمیش سنگھ اروڑا نے کہا ہے کہ سکھوں کیلئے الگ وطن خالصتان کے لیے جاری ریفرنڈم کا ردعمل زبردست رہا ہے تارکین وطن سکھ ریفرنڈم میں بھاری اکثریت سے حصہ لے رہے ہیں جو ابتدائی طور پر گزشتہ سال 31 اکتوبر کو لندن سے شروع ہوا تھا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ بعد میں کورونا وبا کی وجہ سے اس کی رفتار کچھ کم ہوگئی تھی تاہم ریفرنڈم کا یہ عمل اب دوبارہ شروع کر دیا گیا ہے اور لوگ اس میں بھرپور حصہ لے رہے ہیں خالصتان ریفرنڈم اقوام متحدہ کی توجہ بھارتی پنجاب میں سکھوں کے لیے علیحدہ وطن کی طرف مبذول کرائے گا بھارت سکھوں کو ان کا پیدائشی حق آزادی حاصل کرنے سے ہرگز نہیں روک سکتا۔

  • اٹلی میں خالصتان ریفرنڈم کا انعقاد ، ووٹنگ کیلئے ہزاروں افراد کی شرکت

    اٹلی میں خالصتان ریفرنڈم کا انعقاد ، ووٹنگ کیلئے ہزاروں افراد کی شرکت

    اٹلی میں سکھ فار جسٹس کی جانب سے خالصتان ریفرنڈم کا انعقاد کیا گیا-

    باغی ٹی وی : بھارت سے خالصتان کی آزادی کی تحریک اٹلی پہنچ گئی ہے جہاں سکھ فار جسٹس کی جانب سے خالصتان ریفرنڈم کا انعقاد کیا گیا اٹلی کے شہر بریشیا میں خالصتان ریفرنڈم کے لیے ووٹنگ کا عمل مکمل ہوگیا، خالصتان ریفرنڈم میں تقریباً 40 ہزار ووٹ کاسٹ کیےگئے۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق خالصتان پر ووٹنگ صبح 9 سے شام 5بجےتک بغیر وقفےکےجاری رہی، تقریباً 10 ہزار لوگ وقت ختم ہونے کےباعث ووٹ نہ ڈال سکے، اٹلی کے مختلف شہروں میں تقریباً 2 لاکھ سکھ آباد ہیں۔

    سکھ برادری سے تعلق رکھنے والوں کی بڑی تعداد ووٹنگ سینٹر کے باہر موجود تھی، ووٹنگ میں حصہ لینے والوں کا مطالبہ تھا کہ بھارت خالصتان کو آزاد کرے اور اقوام عالم بھارت میں سکھوں پر ہونے والے مظالم کا نوٹس لے۔

    خالصتان ووٹنگ سے ایک روز قبل ہزاروں سکھوں نے مارچ کیا جس کا مقصد بیساکھی کے موقع پر خالصتان کی اہمیت کو اجاگرکرنا تھا خالصتان مارچ میں عورتوں ، بچوں اور مردوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی، سکھوں نے بھارت سے آزادی کے لیے نعرے لگائے۔

    نائجیرین ایئر لائن نے اپنی پروازیں معطل کر دیں

    واضح رہے کہ علیحدہ سکھ وطن کے لیے ریفرنڈم کا آغاز گزشتہ سال 31اکتوبر کو لندن سے ہوا تھا اور اب تک برطانیہ اور دیگر ممالک کے مختلف شہروں میں ہونے والی پولنگ میں ہزارسکھوں نے حصہ لیا ہےاس عمل کے ذریعے بھارت کو سکھوں کے ساتھ امتیازی سلوک ختم کرنے کا سخت پیغام بھی دیاگیا۔

    ریفرنڈم کے نتائج کو اقوام متحدہ اور دیگربین الاقوامی اداروں کو پیش کیا جائے گا تاکہ بھارت میں سکھوں کے لیے علیحدہ وطن کے حوالے سے وسیع تر اتفاق رائے پیدا کیا جا سکے۔سکھوں کا علیحدہ وطن کا مطالبہ اقوام متحدہ کے چارٹر سے مکمل مطابقت رکھتا ہے اور بھارت انہیں آزادی کا پیدائشی حق حاصل کرنے سے نہیں روک سکتا۔

    سعودی فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز علیل،اسپتال منتقل

  • بھارت: پٹیالہ میں خالصتان کے حق میں مظاہرے،ہندوانتہا پسندوں کے حملوں اورجھڑپوں کے بعد کرفیو نافذ

    بھارت: پٹیالہ میں خالصتان کے حق میں مظاہرے،ہندوانتہا پسندوں کے حملوں اورجھڑپوں کے بعد کرفیو نافذ

    بھارتی پنجاب کے شہرپٹیالہ میں سکھوں کے الگ وطن خالصتان کے حق میں مظاہرہ کرنے والوں پرہندوانتہا پسندوں کے حملوں اورجھڑپوں کے بعد کرفیو نافذ کردیا گیا۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی ریاست پنجاب کے شہرپٹیالہ میں خالصتان کے حامیوں اورمخالفین میں جھڑپوں میں متعدد افراد زخمی ہوگئےخالصتان کے حامیوں نے نے تلواریں ہاتھ میں لے خالصتان زندہ باد اور راج کرے گا خالصہ کے نعرے بھی لگائے جس کے بعد پٹیالہ میں کرفیو نافذ کرکے انٹرنیٹ اورموبائل سروس بند کردی گئی۔

    کرناٹک: مسلم باحجاب خواتین کے ساتھ اظہار یکجہتی،ہندو خواتین کی حجاب کے ساتھ افطار…


    ہندوانتہا پسند تنظیم نے خالصتان کے حق میں مظاہرے میں شریک افراد کے گھروں پرحملے کرنے اورانہیں جلانے کی دھمکی دے دی ہندوانتہاپسند تنظیم کی جانب سے پٹیالہ میں ہڑتال کی کال دی گئی ہے اورپولیس سے خالصتان کے حامیوں کوگرفتارکرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

    بھارت: یوپی میں تہواروں سے قبل مذہبی مقامات سے 11000 لاؤڈاسپیکر اتار دیئے گئے

    واضح رہے کہ سکھ بھارت سے آزادی اوراپنے علیحدہ ملک خالصتان کے لئے تحریک چلا رہے ہیں۔ برطانیہ میں سکھ برادری ایک ریفرینڈم کے ذریعے خالصتان کے قیام کی منظوری دے چکی ہے۔

    ہندو انتہاپسندوں کا خوف: دلت نوجوان پولیس حصار میں دلہن بیاہنے پہنچ گیا

  • خالصتان ریفرنڈم کا آٹھواں مرحلہ آج برطانیہ بھرمیں شروع ہوچکا:بھارت سخت پریشان

    خالصتان ریفرنڈم کا آٹھواں مرحلہ آج برطانیہ بھرمیں شروع ہوچکا:بھارت سخت پریشان

    اسلام آباد:خالصتان ریفرنڈم کا آٹھواں مرحلہ آج برطانیہ بھرمیں شروع ہوچکا:بھارت سخت پریشان ،اطلاعات کے مطابق خالصتان ریفرنڈم کا آٹھواں مرحلہ آج برطانیہ کے شہروں لیڈز اور لوٹن میں ہونے جا رہا ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے آج جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سکھوں کے علیحدہ وطن کے لیے ریفرنڈم 31 اکتوبر 2021 کو لندن سے شروع ہوا اور لندن میں خالصتان ریفرنڈم کے پہلے مرحلے میں 30ہزار سے زائد سکھوں نے حصہ لیا۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خالصتان ریفرنڈم میں ڈالے گئے ووٹوں کی مجموعی تعداد اب تک 200,000 سے تجاوز کر چکی ہے، ریفرنڈم میں سکھوں کی بڑے پیمانے پر شرکت نے مودی کی فسطائی بھارتی حکومت کو بے چین کر دیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیاہے کہ مودی نے برطانیہ میں ریفرنڈم کو روکنے کی بھرپور کوشش کی تھی اور سکھوں کے ریفرنڈم کو روکنے کی بھارتی کوششیں بری طرح ناکام ہوچکی ہیں ۔

    خالصتان ریفرنڈم میں سکھوں کے علیحدہ وطن کے لیے تاریکن وطن سکھوں سے رائے معلوم کی جارہی ہے۔رپورٹ میں مزید کہاگیا کہ سکھ ریفرنڈم مستقبل میں امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور بھارتی پنجاب میں بھی ہوگا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خالصتان ریفرنڈم سے سکھوں کے خلاف امتیازی سلوک کے خاتمے کے لیے بھارت کو سخت پیغام دیاگیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق ریفرنڈم کے نتائج کو اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کوپیش کیاجائے گا تاکہ وسیع تر اتفاق رائے پیدا کیا جا سکے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سکھوں کا علیحدہ وطن کا مطالبہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق ہے اور بھارت سکھوں کو ان کا پیدائشی حق آزادی حاصل کرنے سے نہیں روک سکتا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خالصتان کے نام سے سکھوں کا علیحدہ وطن دیوار پر لکھا جاچکا ہے۔

  • بھارت کی تقسیم کا وقت آگیا:خالصتان ریفرنڈم کا ساتواں مرحلہ آج برطانیہ میں شروع ہوچکا

    بھارت کی تقسیم کا وقت آگیا:خالصتان ریفرنڈم کا ساتواں مرحلہ آج برطانیہ میں شروع ہوچکا

    لندن:بھارت کی تقسیم کا وقت آگیا:خالصتان ریفرنڈم کا ساتواں مرحلہ آج برطانیہ میں شروع ہوچکا،اطلاعات کے مطابق بھارت میں سکھوں کے آزاد وطن خالصتان کے لیے ریفرنڈم کا ساتواں مرحلہ آج برطانیہ میں منعقد ہو رہا ہے۔یہ ریفرنڈم برطانیہ میں گرودوارہ سنگھ سبھا ہانسلو، گرودوارہ سنگھ سبھا سلو، گرو نانک گوردوارہ ویڈنس فیلڈ اور گرو نانک گوردوارہ سمتھ وِک سمیت چار گردواروں میں منعقد ہورہا ہے ۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی پروپیگنڈے کے باوجود برطانیہ اور جنیوا میں سکھوں کی بڑی تعدادنے ریفرنڈم کے ابتدائی مرحلوں میں حصہ لیا۔ خالصتان ریفرنڈم آئندہ دنوں میں امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور بھارتی پنجاب میں بھی منعقد کئے جائیں گے ۔ ریفرنڈم کے نتائج اقوام متحدہ اور بین الاقوامی اداروں کوبھی پیش کئے جائیں گے تاکہ بھارت میں سکھوں کے علیحدہ وطن کیلئے وسیع تر اتفاق رائے پیدا کیا جا سکے۔سکھ رہنمائوں نے کہا ہے کہ بھارت غیر انسانی ہتھکنڈوں کے ذریعے سکھوں کی آزادی کی تحریک کو دبانے کی کوشش کر رہا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اپنے علیحدہ وطن کیلئے ہونیوالے ریفرنڈم میں سکھوں کی بڑی تعداد کی شرکت نے بھارت کو بوکھلاہٹ کا شکار کر دیا ہے۔ بھارتی حکومت نے برطانیہ میں خالصتان ریفرنڈم کو رکوانے کیلئے ہر ممکن سفارتی کوششیں کی لیکن برطانوی حکومت نے سکھوں کو ریفرنڈم کے انعقاد سے نہیں روکا۔بیرون ملک مقیم سکھ برادری کے عزم اور خالصتان ریفرنڈم میں ان کی بڑی تعداد میں شرکت کے باعث بوکھلاہٹ کا شکار بھارت اپنے علیحدہ وطن کیلئے سکھوں کی مقامی تحریک کو بدنام کرنے کیلئے جعلی فلیگ آپریشنز کا سہارا لینے کی کوشش کر رہا ہے ۔

    بھارتی سیاسی قیادت جعلی فلیگ آپریشنزکے ذریعے بیرون ملک سکھ فار جسٹس اور خالصتان کی حامی دیگر تنظیموں کے خلاف مقدمات کے اندراج کی کوشش کر رہی ہے ۔مودی کی فسطائی بھارتی حکومت نے لدھیانہ دھماکے میں سکھ فار جسٹس کے ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے ۔ جسوندر سنگھ ملتانی نے جن پر دھماکے میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے، بھارتی حکومت کے دعویٰ کو مسترد کرتے ہوئے کہاہے کہ ان کی لڑائی ہتھیاروں سے نہیں قلم کے ذریعے ہے ۔

    انہوں نے مزید کہا کہ بھارتی حکومت سکھ فار جسٹس اور انہیں بدنام کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ بھارت سکھ فار جسٹس کے لیڈروں اور کارکنوں کو مغربی ممالک میں”دہشت گرد” کے طور پر تسلیم کرانے کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔ جسوندر سنگھ ملتانی نے کہاکہ سکھ فار جسٹس نے خالصتان ریفرنڈم کو ناجائز قراردینے کی بھارت کی کوششوں سے متعلق ایک رپورٹ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے دفتر کوپیش کی ہے اور عالمی ادارے کے حکام کو مطلع کیا گیاہے کہ مودی کی فسطائی بھارتی حکومت ان کی ثقافت اور تاریخ کو مسخ کر رہی ہے۔

    انہوں نے مزید کہاکہ مودی حکومت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو ہائپر انڈین نیشنل ازم کو آگے بڑھانے اور خالصتان ریفرنڈم کی مہم کو دبانے کے لیے استعمال کر رہی ہے ۔

  • برطانیہ میں خالصتان ریفرنڈم کے لیے ووٹنگ مکمل

    برطانیہ میں خالصتان ریفرنڈم کے لیے ووٹنگ مکمل

    برطانیہ میں خالصتان ریفرنڈم کے لیے ووٹنگ مکمل ہوگئی، جس کے نتائج کا اعلان پنجاب ریفرنڈم کمیشن ووٹنگ کے تمام مراحل مکمل ہونے پر کرے گا۔

    باغی ٹی وی : مقامی وقت کے مطابق ووٹنگ صبح 10 سے شام 5 بجے تک جاری رہی جس میں خواتین سمیت بزرگ سکھوں نے بھی حصہ لیا۔

    خالصتان ریفرنڈم کے لیے ووٹنگ کا انعقادسکھ فار جسٹس کے زیراہتمام کیا گیا جبکہ سلاو اور اس کے گردونواع کے 10 ہزار سے زاہد سکھوں نے ووٹنگ میں حصہ لیا اس کے علاوہ سارا دن سکھ رہنما آزاد خالصتان کے حق میں نعرے بھی بلند کرتے رہے۔

    بھارت: سکھوں کے مقدس مقامات کی بے حرمتی کا الزام،چوبیس گھنٹوں میں دو افراد قتل

    سکھ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ سکھ برادری بھارت کے ناروا اور انسانیت سوز سلوک کے آگے ڈٹ کر کھڑی ہوگئی بھارت سکھوں کی آزادی کی تحریک کو طاقت کے ذریعے دبانے کی کوشش کررہا ہے۔

    اس سے قبل برطانیہ میں خالصتان کے قیام کے لیے ریفرنڈم کے تیسرے مرحلےکی ووٹنگ کیلئے ووٹ ڈالنے والوں کا کہنا تھا کہ سکھ آزادی کے حصول تک چین سے نہیں بیٹھیں گے، سکھ کمیونٹی نے آزادی کےلیےگولی کے بجائے ووٹ کو ترجیح دی ہے۔

    ووٹرز کا کہنا تھا کہ بھارت سکھوں کی حق کی آواز کو زیادہ دیر نہیں دبا سکتا، پنجاب میں رہنے والے تمام مذاہب کے لوگ بھارت سے آزادی چاہتے ہیں، ریفرنڈم کے ذریعے اپنا وطن حاصل کرنے کا بہترین موقع ملا ہے، سکھوں کی آزادی کا خواب جلد پورا ہوگا۔

    بھارت میں مذہبی اقلیتیں خوف ودہشت کے عالم میں:بقااوراحیا بھی خطرےمیں:رپورٹ جاری

    سکھ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ پنجاب کی آزادی پر مہر لگانے کے لیے صبح سے ہزاروں سکھ اپنا ووٹ ڈال چکے ہیں، ریفرنڈم کرواکر کئی ممالک نے آزادی حاصل کی ہے، جونا گڑھ بھی ریفرنڈم کے ذریعے بھارت کا حصہ بنا تھا۔

    دوسری جانب بھارتی حکام خالصتان ریفرنڈم سے خوفزدہ ہیں جس کے پیش نظر بھارتی حکام نے سکھوں کو ریفرنڈم میں حصہ لینے سے روکنے کے لیے این آر آئی کارڈ اور ویزے منسوخ کرنے کی دھمکیاں دیں-

    واضح رہے کہ کینیڈا میں سکھ فار جسٹس بھارت میں سکھوں کے علیحدہ وطن سے متعلق مقدمے کے پہلے مرحلے میں کامیابی حاصل کرچکی ہے, کینیڈا کی عدالت کے فیصلے میں پاکستان پر سکھوں کی ریفرنڈم کیمپین کی پشت پناہی کا الزام غلط ثابت ہوا تھا۔

    سکھوں کے مقدس مقامات گولڈن ٹمپل کی بے حرمتی کرنے والا نوجوان ہلاک کر دیا گیا

    یاد رہےکہ اندرا گاندھی کو آپریشن بلیو اسٹار کا حکم دینے پر ان کے سکھ باڈی گارڈز نے 31 اکتوبر کو ہلاک کردیا تھا، اس قتل کے بعد بھارت میں ہزاروں سکھوں کو چن چن کر قتل کیا گیا جب کہ پولیس اہلکار ہنگامہ آرائی کرنے والوں کو روکنے کے بجائے تماشہ دیکھتے تھے۔

    یہی نہیں بعض واقعات میں پولیس اہلکاروں نے ووٹر لسٹیں بھی حملہ آوروں کو فراہم کیں، اس کے پیش نظر سکھوں نے 31 اکتوبر کی مناسبت سے آزادی کے لیے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔

    بھارت: ہم جنس پرست جوڑے نے شادی کرلی

  • خالصتان کا قیام ناگزیر:بھارت ٹوٹنے کے قریب:دنیا بھرسے آوازیں آنے لگیں‌

    خالصتان کا قیام ناگزیر:بھارت ٹوٹنے کے قریب:دنیا بھرسے آوازیں آنے لگیں‌

    لندن :خالصتان کا قیام ناگزیر:بھارت ٹوٹنے کے قریب:دنیا بھرسے آوازیں آنے لگیں‌،اطلاعات کے مطابق خالصتان تحریک مزید زور پکڑنے لگی ہے اور تمام تر بھارتی مخالفت اور سازشوں کے باوجود بھارت میں سکھوں کے علیحدہ وطن کے لیے برطانیہ میں ریفرنڈم پانچویں مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔

    برطانیہ کے شہر لندن میں ہونے والے ریفرنڈم کے پانچواں مرحلے کا آغاز 5 دسمبر کو ہوا۔انتظامیہ کا کہنا ہے کہ خالصتان ریفرنڈم کے نتائج اقوام متحدہ اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ شیئر کیے جائیں گے۔

    برطانیہ کے مختلف شہروں میں ہونے والے ریفرنڈم میں 50 ہزار سے زائد افراد نے حصہ لیا تھا۔خالصتان عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ریفرنڈم مستقبل میں امریکا، کینیڈا، آسٹریلیا اور بھارتی پنجاب کے علاقوں میں بھی کرایا جائے گا۔

    بھارتی میڈیا نے سکھوں کے علیحدہ وطن کے لیے ہونے والے ریفرنڈم کو بدنام کرنے کی پوری کوشش کی تاہم اسکاٹ لینڈ یارڈ نے لندن میں سکھ فار جسٹس کے دفتر پر پولیس کے چھاپے کی تردید کر کے بھارتی میڈیا کی جانب سے خالصتان ریفرنڈم کو متنازع بنانے کیلئے گڑھے جانے والے جھوٹ کا پول کھول دیا تھا۔

  • برطانیہ: خالصتان ریفرنڈم کا پانچواں مرحلہ شروع:بھارت کے پسینے چھوٹ گئے

    برطانیہ: خالصتان ریفرنڈم کا پانچواں مرحلہ شروع:بھارت کے پسینے چھوٹ گئے

    لندن:خالصتان ریفرنڈم کا پانچواں مرحلہ شروع:بھارت کے پسینے چھوٹ گئے،اطلاعات کے مطابق بھارت میں سکھوں کے لئے علیحدہ وطن” خالصتان“ کے لیے ریفرنڈم کا پانچواں مرحلہ آج برطانیہ میں ہورہا ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ابتدائی 4 مراحل میں برطانیہ میں مقیم سکھ برادری کے ہزاروں افراد نے ریفرنڈم میں حصہ لیا جس کا آغاز رواں برس 31 اکتوبر کو لندن میں ووٹنگ سے ہوا تھا۔اپنے علیحدہ وطن کے لیے ہونے والے ریفرنڈم میں سکھوں کی بڑے پیمانے پر شرکت نے نریندر مودی کی فسطائی بھارتی حکومت کو بے چین کر دیا ہے جس نے اسے روکنے کی بھرپور کوشش کی لیکن ناکام رہی۔

    برطانوی حکومت نے نئی دہلی کے خدشات کے باوجود ریفرنڈم کی اجازت دی ہے۔ریفرنڈم نے بھارتی حکومت کو ایک مضبوط پیغام بھیجا ہے کہ اس کے پاس سکھوں کو حق خودارادیت دینے کے سواکوئی چارہ نہیں ہے۔

    سکھ ریفرنڈم مستقبل میں بیلجیم، امریکا، کینیڈا، آسٹریلیا اور بھارتی پنجاب کے علاقے میں بھی کرایا جائے گا۔ ریفرنڈم کے نتائج کا اعلان پنجاب ریفرنڈم کمیشن اگلے چھ ماہ میں آخری مرحلے کی ووٹنگ کے بعد کرے گا۔امریکہ میں قائم تنظیم” سکھز فار جسٹس“ خالصتان کے قیام کے لیے پنجاب کی بھارت سے علیحدگی کی مہم کی قیادت کر رہی ہے۔

    دوسری طرف اس وقت بھارت میں سخت پریشانی پائی جارہی ہے اوربھارتی حکام نے سکھوں کی مانیٹرنگ شروع کردی ہے اور ان کا گھیرا تنگ کررکھا ہے جس کی وجہ سے سکھ سخت پریشان ہیں