Baaghi TV

Tag: خام تیل

  • خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز

    خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز

    عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت پہلی مرتبہ مئی کے آخر کے بعد 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق جمعرات کو برینٹ خام تیل کے سودے 6.58 ڈالر یعنی تقریباً 7 فیصد اضافے کے بعد 100.65 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے،جو گزشتہ دو ماہ کی بلند ترین سطح ہےجبکہ عالمی مارکیٹ میں ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت بھی 91.65 ڈالر فی بیرل کی سطح تک پہنچ چکی ہے۔

    دوسری جانب مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکرز کی تعداد کم ہو کر دو ماہ کی کم ترین سطح پر آ گئی ہےخبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جمعرات کو صرف ایک آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزرا، خام تیل لے جانے والا جہاز نیو جائنٹ، جس میں تقریباً 20 لاکھ بیرل عراقی خام تیل لدا تھا، جمعرات کو آبنائے ہرمز سے گزر کر چین کی بندرگاہ ریژاؤ پورٹ کی جانب روانہ ہوا۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آئندہ دنوں میں تیل کی قیمتوں کا رخ اس بات پر منحصر ہوگا کہ حوثی بحیرہ احمر کے راستے باب المندب سے کن بحری جہازوں کو گزرنے کی اجازت دیتے ہیں اور کنہیں نشانہ بناتے ہیں۔

    حوثیوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ سعودی عرب سے آنے والے تیل بردار جہازوں کی بحری ناکہ بندی کریں گے اور سعودی عرب، اسرائیل اور امریکا سے وابستہ آئل ٹینکروں کو باب المندب میں نشانہ بنائیں گے،یہ آبی گزرگاہ بحیرہ احمر کو بحرِ ہند سے ملاتی ہے اور عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہےجمعرات کو حوثیوں نے 2 سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کا دعویٰ کیا، جبکہ سعودی خبر رساں ایجنسی نے تصدیق کی کہ ان میں سے ایک جہاز میں آگ لگ گئی۔

  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں6 ہفتوں سے زائد عرصے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

    عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں6 ہفتوں سے زائد عرصے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

    عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد قیمتیں 6 ہفتوں سے زائد عرصے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔

    برینٹ خام تیل کے سودے 1.93 ڈالر، یعنی تقریباً 2 فیصد اضافے کے بعد 96 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے، جو 8 جون کے بعد بلند ترین سطح ہے،گزشتہ روز بھی برینٹ خام تیل کی قیمت 3 ڈالر سے زائد اضافے کے ساتھ 94.07 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئی تھی،امریکی خام تیل یعنی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت بھی 1.44 ڈالر، یعنی 1.7 فیصد اضافے کے بعد 88.27 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی،اس سے قبل بدھ کے روز اس کی قیمت میں تقریباً 3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔

    ماہرین کے مطابق بحیرۂ احمر میں حوثیوں کی بحری ناکہ بندی اور آبنائے ہرمز میں ایران کی جانب سے عائد پابندیاں عالمی توانائی کی رسد کو متاثر کر سکتی ہیں، جس کے باعث عالمی تیل منڈی میں بے یقینی اور قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

    دوسری جانب امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق گزشتہ ہفتے امریکا میں خام تیل کے ذخائر میں 20 لاکھ بیرل اضافہ ہوا یہ اضافہ ریفائنریوں کی سرگرمیوں میں کمی، خام تیل کی برآمدات میں کمی اور درآمدات میں اضافے کے باعث سامنے آیا، جبکہ ماہرین نے اس کے برعکس 11 لاکھ بیرل کمی کی توقع ظاہر کی تھی۔

  • امریکا، ایران کشیدگی: عالمی منڈی میں تیل کی قیمت کئی ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

    امریکا، ایران کشیدگی: عالمی منڈی میں تیل کی قیمت کئی ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

    امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں کئی ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔

    رائٹرز کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر قریباً 88 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 82 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا، جو کئی ماہ کی بلند ترین سطح ہے-

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی مزید بڑھی یا آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمدورفت مزید متاثر ہوئی تو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں اور اقتصادی سرگرمیوں پر بھی مرتب ہوں گے۔

    توانائی کے شعبے کے ماہرین کے مطابق سرمایہ کاروں کی نظریں اب خطے کی سیکیورٹی صورتحال اور تیل کی سپلائی پر مرکوز ہیں، کیونکہ مشرقِ وسطیٰ دنیا کی توانائی کی فراہمی میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے-

  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی

    عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی

    عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی۔

    بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق برینٹ کروڈ آئل کی قیمت 73 سینٹ یا 1.02 فیصد کمی کے بعد 70.84 ڈالر فی بیرل پر آ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمت 83 سینٹ یا 1.21 فیصد کمی کے بعد 67.75 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی۔

    رپورٹ کے مطابق گزشتہ تجارتی سیشن میں بھی دونوں عالمی معیار کے خام تیل کی قیمتیں ایک فیصد سے زائد گر گئی تھیں، جو گزشتہ چار ماہ کی کم ترین سطح سمجھی جا رہی ہیں۔

    ذرائع کے مطابق امریکی اور ایرانی مذاکرات کاروں نے دوحہ میں دو روز تک جاری رہنے والی بات چیت کے دوران آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت، عالمی جہاز رانی کی سلامتی اور ایران کے منجمد مالی اثاثوں کی بحالی جیسے اہم معاملات پر تبادلہ خیال کیا-

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی پیش رفت کا سلسلہ جاری رہا اور آبنائے ہرمز میں صورتحال معمول پر آئی تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ خطے میں کسی بھی نئی کشیدگی کی صورت میں قیمتیں دوبارہ تیزی سے بڑھ سکتی ہیں۔

    ماہرین کے مطابق سرمایہ کار اس وقت دونوں ممالک کے درمیان آئندہ مذاکرات، آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیوں کی بحالی اور ایران کے منجمد اثاثوں سے متعلق ممکنہ فیصلوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ یہی عوامل آنے والے دنوں میں عالمی توانائی کی مارکیٹ کا رخ متعین کریں گے۔

  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ

    عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ

    ایران کی جانب سے امریکی نمائندوں سے ملاقات سے انکار کے بعد عالمی منڈی میں بدھ کے روز ابتدائی کاروبار کے دوران خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    برینٹ خام تیل کے فیوچر معاہدوں کی قیمت 50 سینٹ یا 0.69 فیصد اضافے کے ساتھ 73.45 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی،جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 63 سینٹ یا 0.91 فیصد اضافے کے بعد 70.13 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔

    رواں سال کی پہلی اور دوسری سہ ماہی کے درمیان برینٹ خام تیل کی قیمت میں تقریباً 45 ڈالر فی بیرل کی کمی ریکارڈ کی گئی، جو 2008 کے عالمی مالیاتی بحران کے بعد سب سے بڑی سہ ماہی کمی ہے اسی عرصے میں امریکی خام تیل کی قیمت تقریباً 31 ڈالر فی بیرل گری، جو 2020 میں کورونا وبا کے دوران عالمی طلب میں شدید کمی کے بعد سب سے بڑی گراوٹ تھی۔

    دوسری جانب خبر رساں ادارے رائٹرز کے سروے کے مطابق تجزیہ کاروں نے ایران جنگ شروع ہونے کے بعد پہلی مرتبہ 2026 کے لیے تیل کی قیمتوں کی پیشگوئی کم کر دی ہے اس کی بڑی وجہ آبنائے ہرمز کی بحالی ہے، جس سے تیل کی فراہمی میں طویل تعطل کے خدشات کم ہوئے ہیں۔

    ادھر امریکی پیٹرولیم انسٹیٹیوٹ کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ہفتے امریکا میں خام تیل کے ذخائر میں 61 لاکھ بیرل کی کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ پیٹرول کے ذخائر بھی کم ہوئے ہیں۔

    اب سرمایہ کاروں کی نظریں امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کی جانب سے بدھ کو جاری کیے جانے والے تیل کے سرکاری ذخائر کے اعداد و شمار پر مرکوز ہیں، جو عالمی منڈی کی آئندہ سمت کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

  • خام تیل کی قیمتوں میں کمی

    خام تیل کی قیمتوں میں کمی

    عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جہاں سرمایہ کاروں کی توجہ امریکا اور ایران کے درمیان قطر کے دارالحکومت دوحہ میں متوقع مذاکرات پر مرکوز ہے۔

    بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق برینٹ خام تیل کے اگست کے سودے 1.03 فیصد یا 75 سینٹ کمی کے بعد 72.40 ڈالر فی بیرل پر آ گئے، جبکہ زیادہ سرگرمی سے ٹریڈ ہونے والا ستمبر کا برینٹ کنٹریکٹ 0.54 فیصد یا 40 سینٹ کمی کے بعد 73.51 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا،اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت بھی 0.66 فیصد یا 47 سینٹ کم ہو کر 70.32 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔

    ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان سفارتی پیش رفت کی امید نے مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں پر دباؤ ڈالا ہے، اگرچہ خطے میں کشیدگی اب بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی،مارکیٹ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سرمایہ کار دوحہ میں ممکنہ امریکا ایران مذاکرات کے مثبت نتائج کی توقع کر رہے ہیں جس کے باعث تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل ابھی مکمل طور پر معمول پر نہیں آئی، اس لیے مارکیٹ میں محتاط رویہ برقرار ہے-

  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی

    عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی

    عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے،قیمتیں گزشتہ سیشن میں دیکھی گئی تقریباً 4 ماہ کی کم ترین سطح کے قریب پہنچ گئیں۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق تیل کی قیمتوں میں کمی کی بڑی وجہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل بردار جہازوں کی آمدورفت میں بہتری اور مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں نسبتاً کمی ہے، جس سے عالمی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات کم ہوئے ہیں، برینٹ خام تیل کے فیوچر معاہدوں کی قیمت 37 سینٹ یا 0.5 فیصد کمی کے بعد 76.71 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 36 سینٹ یعنی 0.5 فیصد کمی کے ساتھ 72.85 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔

    اس ہفتے تیل کی قیمتوں پر دباؤ اس وقت بڑھا جب واشنگٹن نے ابتدائی امن مذاکرات کے بعد تہران کو 60 روزہ پابندیوں میں نرمی دیدی، جس کے تحت ایران کو تیل فروخت کرنے کی اجازت مل گئی دوسری جانب لبنان میں کشیدگی میں کمی نے بھی منڈی کو سہارا دیا۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں حالات مزید بہتر رہے اور آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل معمول پر آتی رہی تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔ تاہم کسی بھی نئی جغرافیائی کشیدگی کی صورت میں قیمتوں میں دوبارہ اضافہ بھی ممکن ہے۔

  • پیٹرولیم مصنوعات سستی ہونے کا امکان

    پیٹرولیم مصنوعات سستی ہونے کا امکان

    عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں بڑی کمی ہوئی ہے۔

    عالمی منڈی میں خام تیل قیمت میں 7 فیصد سے زائد کمی ہوئی ہے جس کے بعد امریکی خام تیل 80 ڈالر فی بیرل کی سطح پر ٹریڈ ہو رہا ہے برطانوی برینٹ خام تیل 82 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے متحدہ عرب امارات کا مربن تیل 77 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے، امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے معاہدے کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی کا سلسلہ جاری ہے آبنائے ہرمز میں جہازوں کے لیے کھل چکی ہے جس کے بعد جہازوں کی آمد و رفت کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔

    عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کا اثر پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر بھی پڑتا ہے، ایران امریکا معاہدے کے بعد اب پاکستان میں پیٹرول و ڈیزل کی قیمت بھی کم ہونے کا امکان ہے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے بارے میں حتمی فیصلہ حکومت کرے گی، امید ہے عوام کو بڑا ریلیف مل سکتا ہے۔

  • امریکا  ایران امن معاہدے کی پیشرفت:خا،م تیل کی قیمتوں میں کمی

    امریکا ایران امن معاہدے کی پیشرفت:خا،م تیل کی قیمتوں میں کمی

    درمیان ممکنہ امن معاہدے کی پیش رفت کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں دو ہفتوں کی کم ترین سطح پر آگئی ہیں۔

    عالمی منڈی میں پیر کے روز خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی برینٹ کروڈ کی قیمت 4 اعشاریہ 55 فیصد کمی کے بعد 98 ڈالر 83 سینٹ فی بیرل تک آگئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 4 اعشاریہ 73 فیصد سستا ہو کر 92 ڈالر 3 سینٹ فی بیرل پر پہنچ گیا۔

    دونوں اہم آئل بینچ مارکس سیشن کے دوران 7 مئی کے بعد اپنی کم ترین سطح پر بھی پہنچے مارکیٹ میں یہ کمی امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے سے متعلق بڑھتی ہوئی امیدوں کے باعث سامنے آئی۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز کہا تھا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان امن معاہدے پر ’’بڑی حد تک مذاکرات مکمل‘‘ ہوچکے ہیں ممکنہ معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز دوبارہ کھول دی جائے گی۔ جنگ سے قبل دنیا بھر میں تیل اور ایل این جی کی تقریباً 20 فیصد ترسیل اسی اہم بحری راستے سے ہوتی تھی۔

    تاہم دونوں ممالک کے درمیان اب بھی کئی اہم معاملات پر اختلافات برقرار ہیں صدر ٹرمپ نے اتوار کو کہا کہ انہوں نے اپنے نمائندوں کو ہدایت کی ہے کہ ایران کے ساتھ کسی بھی معاہدے میں جلد بازی نہ کی جائے۔

    مارکیٹ تجزیہ کار ساؤل کاوونک کا کہنا ہے کہ اگرچہ امن معاہدے اور آبنائے ہرمز کی بحالی سے متعلق اب بھی کئی خطرات اور خدشات موجود ہیں، لیکن صورتحال میں بہتری کی امید نے قلیل مدت کے لیے تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم کردیا ہے۔

  • عالمی توانائی مارکیٹ شدید دباؤ کا شکار،خام تیل کی قیمتیں نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

    عالمی توانائی مارکیٹ شدید دباؤ کا شکار،خام تیل کی قیمتیں نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

    30 اپریل 2026 تک، مشرق وسطیٰ میں 61 دن سے جاری تنازعہ کے باعث عالمی توانائی مارکیٹ شدید دباؤ کا شکار ہے۔

    عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں جمعرات کے روز مزید اضافہ دیکھا گیا، کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں سپلائی متاثر ہونے کے خدشات برقرار ہیں اور امریکا و اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے ہیں۔

    امریکی زیر قیادت ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کے نتیجے میں برینٹ خام تیل (Brent Crude) کی قیمتیں جنگ کے دوران نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں، جو 30 اپریل کو مختصر وقت کے لیے $119.71 فی بیرل تک جا پہنچیں-

    برینٹ خام تیل کی جون ڈیلیوری کے لیے فیوچرز کی قیمت 1.91 ڈالر یا 1.62 فیصد اضافے کے ساتھ 119.94 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ گزشتہ سیشن میں اس میں 6.1 فیصد اضافہ ہوا تھا جبکہ جولائی کے زیادہ فعال معاہدے کی قیمت 111.38 ڈالر رہی، جو 94 سینٹس یا 0.85 فیصد اضافے کو ظاہر کرتی ہے۔

    ادھر امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی جون ڈیلیوری کے لیے قیمت 63 سینٹس یا 0.59 فیصد اضافے کے ساتھ 107.51 ڈالر فی بیرل ہو گئی، جبکہ اس سے قبل سیشن میں اس میں 7 فیصد اضافہ ہوا تھا۔

    برینٹ کروڈ 120 ڈالر کے قریب پہنچ گیا ہے، جو فروری کے آخر میں جنگ کے آغاز سے اب تک 55 فیصد سے زیادہ اضافہ ہے ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ نے ایرانی بندرگاہوں پر ناکہ بندی سخت کر دی ہے، جس کے تحت ایران کی تیل برآمدات کو روکنے کے لیے بحری جہازوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

    ایران کی جانب سے خلیجی آبی گزرگاہوں (آبنائے ہرمز) پر جزوی کنٹرول اور کشیدگی نے عالمی سپلائی کو شدید متاثر کیا ہے، جس سے 13 ملین بیرل روزانہ کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ ہے اسرائیل اور ایران کے درمیان توانائی کی تنصیبات پر حملوں نے بھی قیمتوں کو بڑھایا ہے، جس کے بعد دنیا بھر میں تیل کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران کے خلاف یہ ناکہ بندی طویل عرصے تک جاری رہتی ہے، تو تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں، جس سے 2026 میں عالمی افراط زر میں ریکارڈ اضافے کا خطرہ ہے-

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو تیل کمپنیوں کے ساتھ ملاقات کی، جس میں ایران کی بندرگاہوں پر ممکنہ امریکی ناکہ بندی کے اثرات کم کرنے پر غور کیا گیا۔ اس پیش رفت نے مارکیٹ میں خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے کہ تیل کی سپلائی طویل عرصے تک متاثر رہ سکتی ہے۔

    ماہرین کے مطابق ایران کے ساتھ تنازع کے جلد حل ہونے یا آبنائے ہرمز کی دوبارہ بحالی کے امکانات کم دکھائی دیتے ہیں۔ ایران نے خلیج سے گزرنے والی زیادہ تر بحری ترسیل کو محدود کر رکھا ہے، جس سے عالمی توانائی کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے۔

    دوسری جانب اوپیک پلس ممالک کے گروپ کی جانب سے اتوار کو تیل کی پیداوار میں معمولی اضافہ متوقع ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ اور سپلائی میں رکاوٹوں کے باعث اس کے اثرات محدود رہیں گے۔

    ماہرین کے مطابق خلیجی ممالک، بشمول متحدہ عرب امارات، کو جنگ سے قبل کی پیداوار بحال کرنے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں، جس کے باعث عالمی منڈی میں غیر یقینی صورتحال برقرار رہنے کا امکان ہے۔