Baaghi TV

Tag: خام تیل

  • عالمی توانائی مارکیٹ شدید دباؤ کا شکار،خام تیل کی قیمتیں نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

    عالمی توانائی مارکیٹ شدید دباؤ کا شکار،خام تیل کی قیمتیں نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

    30 اپریل 2026 تک، مشرق وسطیٰ میں 61 دن سے جاری تنازعہ کے باعث عالمی توانائی مارکیٹ شدید دباؤ کا شکار ہے۔

    عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں جمعرات کے روز مزید اضافہ دیکھا گیا، کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں سپلائی متاثر ہونے کے خدشات برقرار ہیں اور امریکا و اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے ہیں۔

    امریکی زیر قیادت ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کے نتیجے میں برینٹ خام تیل (Brent Crude) کی قیمتیں جنگ کے دوران نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں، جو 30 اپریل کو مختصر وقت کے لیے $119.71 فی بیرل تک جا پہنچیں-

    برینٹ خام تیل کی جون ڈیلیوری کے لیے فیوچرز کی قیمت 1.91 ڈالر یا 1.62 فیصد اضافے کے ساتھ 119.94 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ گزشتہ سیشن میں اس میں 6.1 فیصد اضافہ ہوا تھا جبکہ جولائی کے زیادہ فعال معاہدے کی قیمت 111.38 ڈالر رہی، جو 94 سینٹس یا 0.85 فیصد اضافے کو ظاہر کرتی ہے۔

    ادھر امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی جون ڈیلیوری کے لیے قیمت 63 سینٹس یا 0.59 فیصد اضافے کے ساتھ 107.51 ڈالر فی بیرل ہو گئی، جبکہ اس سے قبل سیشن میں اس میں 7 فیصد اضافہ ہوا تھا۔

    برینٹ کروڈ 120 ڈالر کے قریب پہنچ گیا ہے، جو فروری کے آخر میں جنگ کے آغاز سے اب تک 55 فیصد سے زیادہ اضافہ ہے ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ نے ایرانی بندرگاہوں پر ناکہ بندی سخت کر دی ہے، جس کے تحت ایران کی تیل برآمدات کو روکنے کے لیے بحری جہازوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

    ایران کی جانب سے خلیجی آبی گزرگاہوں (آبنائے ہرمز) پر جزوی کنٹرول اور کشیدگی نے عالمی سپلائی کو شدید متاثر کیا ہے، جس سے 13 ملین بیرل روزانہ کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ ہے اسرائیل اور ایران کے درمیان توانائی کی تنصیبات پر حملوں نے بھی قیمتوں کو بڑھایا ہے، جس کے بعد دنیا بھر میں تیل کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران کے خلاف یہ ناکہ بندی طویل عرصے تک جاری رہتی ہے، تو تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں، جس سے 2026 میں عالمی افراط زر میں ریکارڈ اضافے کا خطرہ ہے-

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو تیل کمپنیوں کے ساتھ ملاقات کی، جس میں ایران کی بندرگاہوں پر ممکنہ امریکی ناکہ بندی کے اثرات کم کرنے پر غور کیا گیا۔ اس پیش رفت نے مارکیٹ میں خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے کہ تیل کی سپلائی طویل عرصے تک متاثر رہ سکتی ہے۔

    ماہرین کے مطابق ایران کے ساتھ تنازع کے جلد حل ہونے یا آبنائے ہرمز کی دوبارہ بحالی کے امکانات کم دکھائی دیتے ہیں۔ ایران نے خلیج سے گزرنے والی زیادہ تر بحری ترسیل کو محدود کر رکھا ہے، جس سے عالمی توانائی کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے۔

    دوسری جانب اوپیک پلس ممالک کے گروپ کی جانب سے اتوار کو تیل کی پیداوار میں معمولی اضافہ متوقع ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ اور سپلائی میں رکاوٹوں کے باعث اس کے اثرات محدود رہیں گے۔

    ماہرین کے مطابق خلیجی ممالک، بشمول متحدہ عرب امارات، کو جنگ سے قبل کی پیداوار بحال کرنے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں، جس کے باعث عالمی منڈی میں غیر یقینی صورتحال برقرار رہنے کا امکان ہے۔

  • ایران نے چین کو خام تیل بھیجنے کیلئے ایک نیا  راستہ تلاش کر لیاہے،امریکی میڈیا

    ایران نے چین کو خام تیل بھیجنے کیلئے ایک نیا راستہ تلاش کر لیاہے،امریکی میڈیا

    امریکی جریدے نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اب ٹرینوں کے ذریعے خام تیل چین بھیجنے کی کوششیں کر رہا ہے-

    امریکی جریدے ’وال اسٹریٹ جرنل‘ کی رپورٹ کے مطابق، سمندری راستوں پر امریکی پہرے کے باعث ایران اب ٹرینوں کے ذریعے خام تیل چین بھیجنے کی کوششیں کر رہا ہے، یہ قدم ایک ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب ایران میں تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش تقریباً ختم ہو چکی ہے اور صورتحال اس حد تک سنگین ہو گئی ہے کہ تہران اب کچرے کے ڈھیروں اور پرانے ناکارہ ٹینکوں میں تیل رکھنے پر مجبور ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپریل کے وسط میں آبنائے ہرمز کی سخت بحری ناکہ بندی کا آغاز کیا تھا جس کا مقصد ایرانی معیشت کو اس ’شٹ ان‘ پوائنٹ تک پہنچانا ہے جہاں اس کے پاس تیل رکھنے کی جگہ باقی نہ رہے اور اسے پیداوار بند کرنی پڑےصدر ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی تیل کی صنعت کے پاس صرف تین دن باقی ہیں، جس کے بعد یہ نظام بیٹھ جائے گا اور اسے دوبارہ بحال کرنا ناممکن ہوگا-

    تاہم، توانائی کے ماہرین صدر ٹرمپ کے اس مختصر وقت سے اتفاق نہیں کرتے،توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس ابھی تقریباً ایک ماہ کی گنجائش باقی ہے، ایران مزید دو ماہ تک یہ دباؤ برداشت کر سکتا ہے۔

    واضح رہے کہ ایران کا تقریباً 90 فیصد تیل ’خارگ آئی لینڈ‘ سے برآمد ہوتا ہے جہاں 20 سے 30 ملین بیرل تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش موجود ہے، لیکن موجودہ حالات میں یہ گنجائش چند ہفتوں میں بھر سکتی ہے۔

  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

    عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

    آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتوار کے روز نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

    برطانوی خام تیل کی قیمت میں 5 فیصد اضافہ ہوگیا، 5.13 ڈالر اضافے سے برطانوی خام تیل کی قیمت 95.51 ڈالر فی بیرل ہوگئی اسی طرح امریکی خام تیل کی قیمت بھی 7 فیصد اضافے کے ساتھ 90.33 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔

    جمعہ کو یہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ ایران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر آمادہ ہے، جس کے بعد قیمتوں میں کمی دیکھی گئی تھی، تاہم ہفتے کے روز ایر ان نے اچانک اس اہم راستے کو دوبارہ بند کرنے کا اعلان کر دیا دوسری جانب امریکی بحریہ نے خلیج عمان میں ناکہ بندی عبور کرنے کی کوشش کرنے والے ایک ایرانی پرچم بردار مال بردار جہاز پر فائرنگ کرتے ہوئے اسے تحویل میں لے لیا، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

    جہازوں کی نقل و حرکت کے دستیاب اعداد و شمار کے مطابق اتوار کے روز آبنائے ہرمز سے کوئی آئل ٹینکر نہیں گزرا، جس نے عالمی توانائی منڈیوں میں تشو یش کی لہر دوڑا دی ہے۔

  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز

    عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز

    عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں معمولی کمی کے بعد ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہیں۔

    منگل کے روز اسرائیل اور ایران کے درمیان رات بھر ہونے والی جھڑپوں کے بعد برینٹ کروڈ کی قیمت میں 1.6 فیصد اضافہ ہوا ہے جس کے بعد قیمت 101.5 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے، جبکہ امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 2.7 فیصد اضافے کے ساتھ 90.5 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا ہے۔

    پیر کے روز برینٹ کروڈ ایک موقع پر 114 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گیا تھا، تاہم بعد میں کمی کے بعد 99.94 ڈالر پر بند ہوا۔ گزشتہ روز تیل کی قیمتوں میں 10 فیصد سے زائد کمی آئی تھی،اس کمی کی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا وہ بیان تھاجس میں انہوں نےایران کےساتھ جنگ کےخاتمے کے لیے مثبت اور مفید بات چیت کا کا دعویٰ کیا تھا۔

    تاہم ایران نے امریکا کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کی سختی سے تردید کی ہے، تاہم وہیں دونوں ممالک کے درمیان جنگ روکنے کے لیے پاکستان، ترکیہ اور مصر سمیت دیگر ممالک کی جانب سے ثالثی کی کوششیں جاری ہیں۔

  • خام تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ،پاکستان میں بھی پیٹرول مہنگا ہونے کا امکان

    خام تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ،پاکستان میں بھی پیٹرول مہنگا ہونے کا امکان

    ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ خام تیل کی عالمی قیمتوں میں اس اضافے کے نتیجے میں پاکستان میں آئندہ 15 روزہ میں پیٹرول کی قیمت میں اضافے کا امکان ہے-

    ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ خام تیل کی عالمی قیمتوں میں اس اضافے کے نتیجے میں پاکستان میں آئندہ 15 روزہ نظرثانی کے دوران پیٹرول کی قیمت میں 10 سے 15 روپے فی لیٹر تک اضافے کا امکان ہے، جبکہ ڈیزل 20 روپے فی لیٹر تک مہنگا ہو سکتا ہے، اور اگر خام تیل کی قیمت 80 ڈالر فی بیرل کو کراس کرتی ہے تو قیمتوں میں 25 روپے فی لیٹر تک کا اضافہ ہو سکتا ہے-

    واضح رہے کہ یکم مارچ کو جب حکومت نے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 8 روپے کا اضافہ کیا تھا اس وقت خام تیل کی قیمت 73 ڈالر فی بیرل تھی جو کہ اب بڑھ کر 77.09 فی بیرل ہو گئی ہے، اس قیمت میں مزید بھی اضافے کا امکان ہے۔

    امریکا کی اپنے شہریوں کو سعودی عرب سمیت مشرقِ وسطیٰ کے 14ممالک فوری طور پر چھوڑنے کی ہدایت

    مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جنگی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، بین الاقوامی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک ہی دن میں 5.79 فیصد اضافے کے بعد 77.09 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی، جبکہ ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد تیل کی قیمتوں میں مجموعی طور پر 10 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور قیمت 80 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، اگر بحران طویل ہوا اور آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل متاثر رہی تو خام تیل 100 ڈالر فی بیرل تک بھی جا سکتا ہے-

    دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی قیمتوں کے ممکنہ اثرات کے پیشِ نظر 18 رکنی اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے دی ہے نوٹیفکیشن کے مطابق وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کمیٹی کے کنوینر ہوں گے۔

    ایرانی حملوں سے متحدہ عرب امارات اور بحرین میں تین زونز کو نقصان پہنچا،ایمیزون کی تصدیق

    کمیٹی میں وزیر پیٹرولیم، وزیر توانائی، وزیر مملکت خزانہ، مختلف وزارتوں کے سیکریٹریز، گورنر اسٹیٹ بینک، چیئرمین ایف بی آر، چیئرمین اوگرا اور دیگر اعلیٰ حکام شامل ہیں، کمیٹی عالمی جنگی صورتحال کے باعث پاکستان کی معیشت پر پڑنے والے اثرات، تیل کی سپلائی اور قیمتوں پر مسلسل نظر رکھے گی، جبکہ پیٹرو لیم سپلائی متاثر نہ ہونے کے لیے حکمتِ عملی بھی تیار کرے گی۔

  • امریکہ ایران کشیدگی میں کمی ، خام تیل کی قیمتیں گرگئیں

    امریکہ ایران کشیدگی میں کمی ، خام تیل کی قیمتیں گرگئیں

    امریکہ ایران کشیدگی میں کمی کے بعد خام تیل کی قیمتیں گرگئیں-

    بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں چار فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے بعد توانائی کی عالمی منڈی میں غیر یقینی کی فضا برقرار ہے برینٹ خام تیل 67 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ڈبلیو ٹی آئی خام تیل 63 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق تیل کی قیمتوں میں حالیہ کمی کی بڑی وجوہات میں عالمی معاشی سست روی کے خدشات، تیل کی طلب میں کمی اور بڑے پیداواری ممالک کی پالیسیوں سے متعلق غیر یقینی صورتحال شامل ہے۔

    اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ اور یورپ میں مہنگائی پر قابو پانے کے لیے سخت مالی پالیسیوں کے باعث صنعتی سرگرمیوں میں سست روی دیکھنے میں آ رہی ہے، جس سے تیل کی طلب متاثر ہو رہی ہے اس کے علاوہ چین میں معاشی بحالی کی رفتار توقع سے کم رہنے نے بھی تیل کی عالمی طلب پر دباؤ ڈالا ہے۔

    ٹرمپ نے ایران کو بارہا دھمکی دی تھی کہ اگر وہ نیوکلیئر معاہدے پر نہیں آئے گا یا مظاہرین کو قتل روکنے میں ناکام رہا تو امریکہ مداخلت کرے گا۔ ہفتے کے روز ٹرمپ نے صحافیوں سے کہا کہ ایران واشنگٹن کے ساتھ سنجیدہ بات چیت کر رہا ہے، اس سے چند گھنٹے قبل تہران کے اعلیٰ سکیورٹی اہلکار علی لاریجانی نے کہا کہ مذاکرات کے انتظامات جاری ہیں۔

    ایسٹرن مارکیٹ کے تجزیہ کار ٹونی سائی کامور کے مطابق ٹرمپ کے بیانات اور ایران کے انقلابی گارڈز کی جانب سے آبنائے ہرمز میں لائیو فائر مشقیں نہ کرنے کی خبریں کشیدگی میں کمی کی علامت ہیں ان کے مطابق اس سے تیل کی قیمتوں میں جغرافیائی سیاسی خطرے کا پریمیم کم ہوا اور منافع لینے کی سرگرمی بڑھی

    دوسری جانب اوپیک پلس کی جانب سے مستقبل میں پیداوار سے متعلق واضح حکمت عملی سامنے نہ آنے کے باعث سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں مارکیٹ میں یہ خدشہ بھی پایا جا رہا ہے کہ اگر عالمی معیشت مزید دباؤ کا شکار ہوئی تو تیل کی قیمتوں میں مزید کمی دیکھنے میں آ سکتی ہے۔

    ماہرین کے مطابق تیل کی قیمتوں میں کمی کا اثر ترقی پذیر ممالک پر دوہرا ہو سکتا ہے، جہاں ایک جانب درآمدی بل میں کمی سے کچھ ریلیف ملے گا، وہیں دوسری جانب توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری متاثر ہونے کا خدشہ بھی موجود ہے۔

  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی

    عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی

    عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

    برینٹ کروڈ 0.68 فیصد گر کر 68.15 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی خام تیل 0.7 فیصد کم ہو کر 64.14 ڈالر فی بیرل پر آ گیا ہےدوسری جانب تجزیہ کاروں نے پیشگوئی کی ہے کہ سال 2026کے آخر تک خام تیل (cruid oil)کی قیمتیں کم ہو کر 50ڈالر فی بیرل تک پہنچ جائیں گی۔

    رپورٹ کے مطابق سال 2026کے آخرتک خام تیل کی فراہمی میں یومیہ اٹھارہ لاکھ بیرل اضافہ ہوگا،یہ پیشگوئی خام تیل کی منڈی کے لیے بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے اندازوں کے مطابق ہےآئی ای اے نے تیل کی فراہمی میں21 لاکھ بیرل یومیہ اضافے کا تخمینہ لگایا ہے، جو یومیہ 7 لاکھ بیرل یومیہ کی طلب سے کافی زیادہ ہےاس طرح 14 لاکھ بیرل خام تیل اضافی دستیاب ہوگا، فی الحال بین الاقوامی منڈی میں لندن برینٹ کروڈ کی قیمت 67 ڈالر 32 سینٹس جبکہ امریکی خام تیل کا بھاؤ 63 ڈالر 32 سینٹس فی بیرل ہے۔

    دریائے راوی میں سیلاب کا الرٹ جاری

    پاکستانی عدلیہ پر حکومت کا کوئی اختیار نہیں ،اسحاق ڈار

    لندن میں منعقدہ اسلحہ نمائش میں اسرائیل کی شرکت پر پابندی

  • عالمی سظح پر خام تیل کی قیمتیں 3 سال کی کم ترین سطح پر آ گئیں

    عالمی سظح پر خام تیل کی قیمتیں 3 سال کی کم ترین سطح پر آ گئیں

    خام تیل کی قیمتیں 3 سال کی کم ترین سطح تک گر گئیں، برطانوی خام تیل کی قیمت 70 ڈالرز فی بیرل کی سطح سے نیچے اور امریکی خام تیل 67 ڈالرز فی بیرل کی سطح سے نیچے آ گئی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق لندن برینٹ خام تیل 1.82 ڈالرکم ہوکر 69.22 ڈالر فی بیرل کا ہوگیا، جبکہ امریکی ڈبلیو ٹی آئی 2.06 ڈالرکم ہوکر 66.20 ڈالر فی بیرل کا ہوگیا۔معاشی ماہرین کے مطابق امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ حکومت کی جانب سے مختلف ممالک پر نئے ٹیرف لگانے کے اعلانات کے بعد سے دنیا میں ایک نئی ٹریڈ وار شروع ہو گئی ہے۔عالمی مارکیٹ میں ہلچل دیکھی جا رہی ہے اسی باعث تیل کی قیمتیں مسلسل گراوٹ کا ٹرینڈ دکھا رہی ہیں۔ ماہرین نے آنے والے دنوں میں تیل کی قیمتوں میں مزید کمی کا عندیہ دیا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق اس وقت خام تیل کی قیمت اگست 2021 کی سطح پر آ چکی ہے۔عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت میں 12.7 ڈالر کی کمی کے بعد پاکستانی عوام امید کررہے ہیں کہ یہاں بھی پیٹرول کی قیمت میں بڑی کمی کی جائے گی۔ اگست 2021 میں پاکستان میں پیٹرول کی قیمت فی لیٹر 119 روپے تھی۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان میں بھی پیٹرول کی قیمت اگست 2021 کی سطح تک گرسکتی ہے؟ اگر ایسا ہوا تو پاکستان میں پیٹرول کی قیمت 150 روپے فی لیٹر کم ہوگی۔

    پاکستان میں پیٹرول کی قیمت میں بڑی کمی ہو رہی ؟

    چینی وفد کا کراچی کے ٹیکسٹائل اینڈ لیدر ڈویژن کا دورہ

  • پاکستان میں پیٹرول کی قیمت میں بڑی کمی ہو رہی ؟

    پاکستان میں پیٹرول کی قیمت میں بڑی کمی ہو رہی ؟

    عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اچانک بڑی کمی ہوئی ہے۔ خام تیل کی قیمت رواں سال 20 جنوری کو 82 ڈالر تھی۔اور 50 دنوں سے کم وقت میں 12 ڈالر سے زائد کمی کے بعد اب قیمت 69.3 ڈالر ہو گئی ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق اس وقت خام تیل کی قیمت اگست 2021 کی سطح پر آ چکی ہے۔عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت میں 12.7 ڈالر کی کمی کے بعد پاکستانی عوام امید کررہے ہیں کہ یہاں بھی پیٹرول کی قیمت میں بڑی کمی کی جائے گی۔ اگست 2021 میں پاکستان میں پیٹرول کی قیمت فی لیٹر 119 روپے تھی۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان میں بھی پیٹرول کی قیمت اگست 2021 کی سطح تک گرسکتی ہے؟ اگر ایسا ہوا تو پاکستان میں پیٹرول کی قیمت 150 روپے فی لیٹر کم ہوگی۔

    حکومت کی جانب سے ہر 15 روز بعد پیٹرول کی قیمت میں ردوبدل کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ گزشتہ 50 دنوں کے دوران عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں 12.7 ڈالر کی کمی کے باعث توقع کی جا رہی ہے کہ پیٹرول کی قیمت میں 20 سے 30 روپے کی کمی ہو گی، تاہم ایسا اس لیے ممکن نہیں ہے کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی کمی کے اثرات پاکستان میں پیٹرول کی قیمتوں پر 2 ماہ بعد اثرانداز ہوتے ہیں۔

    معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق اس وقت پیٹرول کی قیمت میں 10 روپے تک کی کمی ممکن ہے، زیادہ کمی آئندہ ماہ سے ہو سکے گی۔ پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کا حتمی فیصلہ وزارت خزانہ اوگرا کی سمری کی روشنی میں 15 مارچ کی شب کرے گی۔

  • پاکستان میں تیل و گیس کی پیداوار میں کمی

    پاکستان میں تیل و گیس کی پیداوار میں کمی

    ملک میں تیل و گیس کی پیداوار میں ہفتہ وار بنیادوں پر کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

    پی پی آئی ایس اور انڈسٹری کے اعداد و شمار کے مطابق 21 فروری کو ختم ہونے والے ہفتہ میں ملک میں خام تیل کی اوسط یومیہ پیداوار 60511 بیرل ریکارڈ کی گئی جو پیوستہ ہفتہ کے مقابلہ میں ایک فیصد کم ہے۔ پیوستہ ہفتہ میں ملک میں خام تیل کی اوسط یومیہ پیداوار 61345 بیرل ریکارڈ کی گئی تھی۔اسی طرح 21 فروری کو ختم ہونے والے ہفتہ میں ملک میں گیس کی اوسط یومیہ پیداوار 2644 ایم ایم سی ایف ڈی ریکارڈ کی گئی جو پیوستہ ہفتہ کے مقابلہ میں تین فیصد کم ہے۔ پیوستہ ہفتہ میں ملک میں گیس کی اوسط یومیہ پیداوار 2716 ایم ایم سی ایف ڈی ریکارڈ کی گئی تھی۔

    اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ ہفتہ کے دوران او جی ڈی سی ایل کی خام تیل کی اوسط یومیہ پیداوار 30066، پی پی ایل 8727، ماڑی گیس 1084 اور پی او ایل کی خام تیل کی اوسط یومیہ پیداوار 3730 بیرل ریکارڈ کی گئی۔21 فروری کو ختم ہونے والے ہفتہ میں او جی ڈی سی ایل کی گیس کی اوسط یومیہ پیداوار 526، پی پی ایل 489، ماڑی گیس 826 اور پی او ایل کی گیس کی اوسط یومیہ پیداوار 43 ایم ایم سی ایف ڈی ریکارڈ کی گئی۔

    ڈیڈلاک ختم، اسرائیل نے 456 فلسطینی قیدی رہا کردیے، 97 مصر جلاوطن

    صدر مملکت سے ابوظہبی کے ولی عہد کی ملاقات، نشان پاکستان کا اعزاز

    یوکرین جنگ میں پاکستان کی مداخلت کے کوئی ثبوت نہیں ملے، روس

    بھارت میں امیر مزید امیر غریبوں کی حالت خراب ہوگئی، رپورٹ

    نمرہ ملک،فخر تلہ گنگ، صحافت میں ایک قابل فخر نام