Baaghi TV

Tag: خط

  • 190 ملین پاؤنڈ،ڈیم فنڈ کی تفصیلات دی جائیں، مبشر لقمان کا سپریم کورٹ کو خط

    190 ملین پاؤنڈ،ڈیم فنڈ کی تفصیلات دی جائیں، مبشر لقمان کا سپریم کورٹ کو خط

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن، پروگرام کھرا سچ کے میزبان مبشر لقمان نے سپریم کورٹ کو خط لکھا ہے

    سپریم کورٹ کو لکھے گئے خط میں مبشر لقمان نے پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 19Aاور رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ دو ہزار سترہ کے تحت درخواست کی کہ کچھ باتیں جو عام عوام کے علم میں نہیں ہیں اور صحافیوں کے علم میں بھی نہیں ہیں ان کے بارے میں جواب دیا جائے اور ان معلومات تک رسائی کی جو فیس ہے وہ بھی ادا رکرنے کے لیے تیار ہیں۔

    ایک سو نوے ملین پاونڈ کی معلومات
    مبشر لقمان نے خط میں سپریم کورٹ سے کہا کہ برطانیہ سے جو ایک سو نوے ملین پاونڈ لائے گئے اور جو بظاہر سپریم کورٹ کے اکاونٹ میں آئے ۔ ان اکاونٹ کی معلومات کیا ہیں ؟ وہ کس اکاونٹ میں آئے۔ اب وہ پیسے کہاں ہیں ؟ اگر وہ پیسے کسی کام کےلیے لگائے گئے ہیں تو اس کی کیا تفصیلات ہیں ؟

    ڈیم فنڈز کی معلومات
    مبشر لقمان نے سپریم کورٹ کو لکھے گئے خط میں کہا کہ ڈیم کےلیے ایک پوری مہم سازی کی گئی لوگوں نے اس میں کافی فنڈ بھی دیا۔ اربوں روپے اکٹھے ہوئے لیکن اس کے بارے میں کسی کو علم نہیں کہ وہ پیسہ لگا کہاں ؟ تو اس حوالے سے بھی معلومات دی جائیں کہ وہ پیسے کہاں گئے؟

    ریٹائرڈ ججز کی پینشین اور اس کےعلاوہ مراعات کی معلومات
    مبشر لقمان نے سپریم کورٹ کو لکھے گئے خط میں کہا کہ ریٹائرڈ ججز کی پینشن اور ان کو دی جانے والی معلومات کی فراہمی کی بھی درخواست کی گئی ۔انھیں کتنے الاؤنس ملتے ہیں۔ وہ کہاں استعمال ہوتے ہیں ۔ ان کی پینشن کتنی ہے ۔ گھر کا کتنا الاؤنس ملتا ہے اور ریٹائرمنٹ کے بعد کیا کیا مراعات دی جاتی ہیں ۔اور اس کےساتھ ان تمام ریٹائرڈ اور حاضر سروس سپریم کورٹ کے ججز کی معلومات فراہم کی جائیں جنھوں نے ملک سے باہر اثاثے بنائے اور اس کے ساتھ ساتھ جن کی بیرون ملک کاروبار ہیں

    مبشر لقمان نے سپریم کورٹ سے استدعا کی کہ یہ تمام معلومات پاکستان کے قانون کے تحت دیے جانے و الے ٹائم فریم کے اندر اندر رہ کر فراہم کی جائیں ۔

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    اینکر پرسن مبشر لقمان اوورسیز پاکستانیوں کی آواز بننے کے لئے میدان میں آ گئے

     شہبا ز شریف نے جب تک حکومت چلانی اب مولانا نے نخرے ہی دکھانے ہیں

    بشریٰ بی بی پھنس گئی،بلاوا آ گیا، معافی مشکل

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • پشاور بی آر ٹی  سروس  ایک بار پھر خطرے میں

    پشاور بی آر ٹی سروس ایک بار پھر خطرے میں

    پشاور بی آرٹی پر بقایاجات کا معاملہ ایک بار پھر سر اٹھانے لگا ، نجی کمپنی نے سیکرٹری ٹرانسپورٹ کو خط لکھ دیا ،خط میں بتایا گیا کہ مئی اور جون کے بقایات جات ادا نہیں کئے گئے ہے ، مئی اور جون کی مد میں 603 ملین روپے کی بقایاجات ہیں، خط میں بتایا گیا ہے کہ بقایاجات کی عدم ادائیگی سے بس سروس کو برقرار رکھنا متاثر ہوسکتاہے لہذا معاہدے کے تحت رسیدیں جمع کرنے کے 10 دنوں میں حکومت ادائیگی کرنے کا پابندہے،
    خط میں بقایا جات ایک ہفتے کے اندر کی جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے،خط میں بقایا جات کی ادائیگی نہ ہونے کی صورت میں بی آر ٹی آپریشنز معطل کرنے کے حوالے سے خبردار کیا گیا ہے،

  • پاکستان کی موجودہ صورتحال:اراکین کانگریس  نےانٹونی بلنکن کو خط لکھ دیا

    پاکستان کی موجودہ صورتحال:اراکین کانگریس نےانٹونی بلنکن کو خط لکھ دیا

    واشنگٹن: پاکستان کی صورتحال پر امریکا کے 60 اراکین کانگریس نے وزیرخارجہ انٹونی بلنکن کو خط لکھ دیا۔

    باغی ٹی وی: خط میں پاکستان میں جمہوری اقدار اور انسانی حقوق کا احترام یقینی بنانے کیلئے دباؤ ڈالنے کا مطالبہ کیا گیا ہےاس کے علاوہ خط میں سیاسی مخالفین کے خلاف کریک ڈاؤن پر اظہار تشویش کیا گیا جبکہ آزادی اظہار رائے اور اجتماع کی آزادی پر کسی خلاف ورزی کی تحقیقات کرانے پر زور بھی دیا گیا۔

    عمران خان گرہیں جو تمھیں دانتوں سے کھولنی پڑ رہی ہیں تم نے خود لگائیں …

    امریکی وزیر خارجہ کو خط بھیجنے میں پاک پیک تنظیم نے کردار ادا کیا، پاک پیک نے کچھ عرصہ پہلے لابنگ بھی کی تھی۔

    قبل ازیں گزشتہ ماہ امریکی رکن کانگریس بریڈ شرمین نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی حمایت میں امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کوخط لکھاتھاکہ یہ امریکی مفاد میں ہے کہ پاکستان میں انسانی حقوق کو سپورٹ کیا جائے۔پاکستان کی پالیسی جمہوریت، انسانی حقوق اور قانون کے احترام سے متعلق امریکی ترجیحات کا مظہر ہو۔

    اختلاف جتنا ہو، مذاکرات ہمیشہ ہونے چاہئے،سعید غنی

    امریکی رکن کانگریس نے خط میں کہا تھا کہ مبینہ خلاف ورزیوں کی تحقیقات اور ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائےخط میں بریڈ شرمین نے شہبازگل پر مبینہ تشدد اور علی امین گنڈا پور کی گرفتاریوں پر تشویش کا اظہار کیا تھا لکھا تھا کہ وزیرداخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ عمران خان کو سیاسی ایرینا سےختم کردیا جائے گا۔

    بدقسمتی سے پی ٹی آئی دوسری ایم کیو ایم بننے جا رہی ہے،فیصل واوڈا

  • آپ کا خط پی ٹی آئی کی پریس ریلیز دکھائی دیتا ہے،وزیر اعظم کا صدر مملکت کو جوابی خط ارسال

    آپ کا خط پی ٹی آئی کی پریس ریلیز دکھائی دیتا ہے،وزیر اعظم کا صدر مملکت کو جوابی خط ارسال

    اسلام آباد: وزیراعظم شہبازشریف نے صدر مملکت عارف علوی کو 5 صفحات اور 7 نکات پر مشتمل جوابی خط ارسال کر دیا جس میں انہوں نے کہا کہ آپ کا خط صدر کے آئینی منصب کا آئینہ دار نہیں اور آپ مسلسل یہی کر رہے ہیں۔

    باغی ٹی وی: پنجاب میں انتخابات کے التوا اور تحریک انصاف کے کارکنوں کی گرفتاریوں پر صدر ڈاکٹر عارف علوی نے 24 مارچ کو وزیراعظم شہبازشریف کو خط لکھا تھا جس میں صدرمملکت نے کہا تھا کہ پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوگی ہے، سیاستدانوں، سیاسی کارکنوں اور صحافیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہےالیکشن کمیشن نے پنجاب میں انتخابات اکتوبر تک ملتوی کرنے کا فیصلہ مختلف محکموں کے سربراہان کی بریفنگ کی بنیاد پر کیا اور ان سربراہان کو حکومت نے ہدایات دی تھیں۔


    صدر عارف علوی کا کہنا تھا کہ آئین کے تحت وزیراعظم تمام پالیسی امور پر صدر کو آگاہ رکھنے کے پابند ہیں لیکن حکومت کی جانب سے کوئی مشاورت نہیں کی جا رہی، وزیراعظم انتخابات کیلئے الیکشن کمیشن کی معاونت کی ہدایت کریں،الیکشن کا التوا توہین عدالت ہے ، حکام کو انسانی حقوق کی پامالی سے باز رہنے کی ہدایت کی جائے۔


    تاہم اب صدر عارف علوی کی جانب سے کو لکھےگئے خط کے جواب میں وزیراعظم شہباز شریف نے لکھا کہ کہنے پر مجبور ہوں کہ آپ کا خط پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی پریس ریلیز دکھائی دیتا ہے، آپ کا خط یک طرفہ اور حکومت مخالف خیالات کا حامل ہے جن کا آپ کھلم کھلا اظہار کرتے ہیں-

    وزیراعظم شہباز شریف نے لکھا ہےکہ آپ کا خط صدر کے آئینی منصب کا آئینہ دار نہیں، آپ مسلسل یہی کر رہے ہیں، 3 اپریل 2022 کو آپ نے قومی اسمبلی تحلیل کرکے سابق وزیراعظم کی غیر آئینی ہدایت پر عمل کیا، قومی اسمبلی کی تحلیل کے آپ کے حکم کو سپریم کورٹ نے 7 اپریل کو غیر آئینی قرار دیا۔

    وزیراعظم کا کہنا ہےکہ آرٹیکل 91 کلاز 5 کے تحت بطور وزیراعظم میرے حلف کے معاملے میں بھی آپ آئینی فرض نبھانے میں ناکام ہوئے،کئی مواقع پر آپ منتخب آئینی حکومت کے خلاف فعال انداز میں کام کرتے آرہے ہیں، میں نے آپ کے ساتھ اچھا ورکنگ ریلیشن شپ قائم کرنے کی پوری کوشش کی، اپنے خط میں آپ نے جو لب ولہجہ استعمال کیا اُس سے آپ کو جواب دینے پر مجبور ہوا ہوں۔

    وزیر اعظم شہباز شریف نے لکھا ہےکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا آپ کا حوالہ ایک جماعت کے سیاست دانوں اور کارکنوں کے حوالے سے ہے، آئین کے آرٹیکل 10اے اور 4 کے تحت آئین اور قانون کا مطلوبہ تحفظ ان تمام افراد کو دیا گیا ہے، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ریاستی عمل داری کے لیے قانون اور امن عامہ کے نفاذ کے مطلوبہ ضابطوں پر سختی سے عمل کیا ہے، تمام افراد نے قانون کے مطابق داد رسی کے مطلوبہ فورمز سے رجوع کیا ہے۔

    وزیر اعظم شہباز شریف نےکہا ہےکہ جماعتی وابستگی کے سبب آپ نے قانون نافذ کرنے و الے اداروں پر حملوں کو یکسر فراموش کردیا، آپ نے نجی وسرکاری املاک کی توڑپھوڑ، افراتفری پیدا کرنے کی کوششوں کو نظر انداز کردیا، پی ٹی آئی کی جانب سے ملک کو معاشی ڈیفالٹ کے کنارے لانے کی کوششوں کو آپ نے نظرانداز کردیا، پی ٹی آئی کی وجہ سے آئین، انسانی حقوق اور جمہوریت کے مستقبل سے متعلق پاکستان کی عالمی ساکھ خراب ہوئی، آپ نے بطور صدر ایک بار بھی عمران خان کی عدالتی حکم عدولی اور تعمیل کرانے والوں پر حملوں کی مذمت نہیں کی۔

    وزیراعظم نے لکھا کہ عدالت کے حکم کے خلاف کسی سیاسی جماعت کی طرف سے ایسی عسکریت پسندی پہلےکبھی نہیں دیکھی گئی، ہماری حکومت آئین کے آرٹیکل 19 کے مطابق آزادی اظہار پر مکمل یقین رکھتی ہے، آپ کی توجہ ہیومن رائٹس واچ کی سالانہ ورلڈ رپورٹ 2022 کی طرف دلاتا ہوں-

    وزیراعظم شہباز شریف نے خط میں لکھا کہ پی ٹی آئی اس وقت اقتدار میں تھی، اس رپورٹ میں لکھا ہے کہ حکومت پاکستان میڈیا کو کنٹرول کرنےکی کوششیں تیز کرچکی ہے، رپورٹ میں لکھا ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت اختلاف رائے کو کچل رہی ہے، رپورٹ میں صحافیوں، سول سوسائٹی اور سیاسی مخالفین کو ہراساں کرنے، قید وبند اور نشانہ بنانے کی تمام تفصیل درج ہے، پی ٹی آئی حکومت کے دور میں انسانی حقوق کا قومی کمیشن معطل رہا۔

    وزیراعظم نے خط میں کہا کہ قومی کمشن برائے انسانی حقوق کی رپورٹ پی ٹی آئی حکومت پر فرد جرم ہے۔ انسانی حقوق کے عالمی اداروں کی متعدد رپورٹس میں پی ٹی آئی حکومت کی خلاف ورزیوں کا ریکارڈ موجود ہے۔ رکن قومی اسمبلی رانا ثناء اللہ پر منشیات کا جھوٹا مقدمہ بنایا گیا جس کی سزا موت ہے، پی ٹی آئی حکومت نے مرد و خواتین ارکان پارلیمان کو قید وبند اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نشانہ بنایا گیا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ ایک سابق وزیراعظم کے خاندان کی خاتون رُکن کو بھی معاف نہ کیا گیا اور سیاسی مخالفین کا صفایا کرنے کے لیے نیب کو استعمال کیا گیا لیکن افسوس بطور صدر پاکستان آپ نے ایک بار بھی اِن میں سے کسی بھی واقعے پر آواز بلند نہ کی۔ آپ بطور صدر انسانی حقوق، آئین اور قانون کی اِن خلاف ورزیوں پر اُس وقت کی حکومت سے پوچھ سکتے تھے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ صدر نے اپنے خط میں سابق حکومت کے وفاقی وزراء کے جارحانہ رویے اور انداز بیان پر اعتراض نہیں کیا جبکہ سابق حکومت کے وزراء مسلسل الیکشن کمشن کے اختیار اور ساکھ پر حملے کررہے ہیں آئین کےآرٹیکل 46 اور رولز آف بزنس کی شق15 پانچ بی کی صدر کی تشریح درست نہیں، صدر اور وزیراعظم کے درمیان مشاورت کی آپ کی بات درست نہیں کیونکہ آئین کے آرٹیکل 48 کلاز وَن کے تحت صدر کابینہ یا وزیراعظم کی ایڈوائس کے مطابق کام کرنے کا پابند ہے۔

    الیکشن کے حوالے سے وزیراعظم نے لکھا کہ پی ٹی آئی کی طرف سے آپ نے پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلیوں کے انتخابات کی تاریخ دے دی، آپ کا یہ فیصلہ سپریم کورٹ نے یکم مارچ 2023 کے حکم سے مسترد کر دیا، آپ نے 2 صوبوں میں بدنیتی پر مبنی اسمبلیوں کی تحلیل پر کوئی تشویش تک ظاہرنہ کی، یہ سب آپ نے چیئرمین پی ٹی آئی کی انا اور تکبرکی تسکین کے لیےکیا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ صوبائی اسمبلیاں کسی آئینی و قانونی مقصد کے لیے نہیں، صرف وفاقی حکومت کو بلیک میل کرنے کے لیے تحلیل کی گئیں اور آپ نے یہ بھی نہ سوچا کہ دو صوبائی اسمبلیوں کے پہلے الیکشن کروانے سے ملک نئے آئینی بحران میں گرفتار ہو جائے گا۔ آپ نے آرٹیکل 218 کلاز تین کے تحت شفاف، آزادانہ اور غیرجانبدارانہ انتخابات کے تقاضے کو بھی فراموش کر دیا، آئین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کو آپ نے مکمل طور پر نظر انداز کر دیا جو نہایت افسوسناک ہے۔ کا یہ طرز عمل صدر کے آئینی کردار کے مطابق نہیں۔

    وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ صدر کو مطلع رکھنے کی حد تک اس کا اطلاق ہے، نہ زیادہ نہ اس سے کم اور وفاقی حکومت کے انتظامی اختیار کو استعمال کرنے میں وزیراعظم صدر کی مشاورت کا پابند نہیں۔ جناب صدر، میں اور وفاقی حکومت آئین کے تحت اپنی ذمہ داریوں سے پوری طرح آگاہ ہیں، آئین کی مکمل پاسداری، پاسبانی اور دفاع کے عہد پر کار بند ہیں، آئین میں درج ہر شہری کے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ پر کاربند ہیں۔

    وزیراعظم نے خط میں کہا کہ حکومت پرعزم ہے کہ کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے اور ریاست پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کی اجازت نہ دی جائے۔ آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آئینی طور پر منتخب حکومت کو کمزور کرنے کی ہر کوشش ناکام بنائیں گے۔

  • عمران خان کا صدر مملکت کو خط،سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے بیانات پر تحقیقات کا مطالبہ

    عمران خان کا صدر مملکت کو خط،سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے بیانات پر تحقیقات کا مطالبہ

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے صدر مملکت عارف علوی سے سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے بیانات پر تحقیقات کا مطالبہ کر دیا۔

    باغی ٹی وی: چیئرمین پاکستان تحریکِ انصاف، سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے صدرِ مملکت عارف علوی کو خط لکھا ہے چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے صدرمملکت عارف علوی کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ چند روز کے دوران عوامی سطح پر نہایت ہوشربا انکشافات ہوئے ہیں۔ منظر عام پر آنے والی معلومات سے واضح ہوتا ہے کہ جنرل (ر) باجوہ اپنے حلف کی صریح خلاف ورزی کے مرتکب ہو ئے ہیں جنرل باجوہ نے صحافی سےاعتراف کیا کہ ’ہم عمران خان کو ملک کےلیےخطرہ سمجھتے تھے‘، جنرل باجوہ نےیہ بھی اعتراف کیا کہ ’عمران خان اقتدار میں رہے تو ملک کو نقصان ہو گا‘ تحقیق کی جائے کہ جنرل باجوہ کے استعمال کیے گئے اس ’ہم‘ سے کیا مراد ہے؟

    وزیرخزانہ اسحاق ڈار کی تمام سیاسی جماعتوں کو میثاق معیشت کی دعوت

    عمران خان نے صدر عارف علوی کو لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ جنرل باجوہ کو یہ اختیار کس نے دیا کہ منتخب وزیرِ اعظم سے متعلق فیصلہ کریں، فیصلہ صرف عوام کا ہے کہ وہ کسے وزیرِ اعظم منتخب کرنا چاہتے ہیں، جنرل باجوہ کا خود کو فیصلہ ساز بنانا آئین کے آرٹیکل 244 اور آئین میں تیسرے شیڈول میں درج حلف کی خلاف ورزی ہے۔

    ان کا خط میں کہنا ہے کہ جنرل باجوہ نے اپنی گفتگو میں نیب کو کنٹرول کرنے کا دعویٰ بھی کیا، انہوں نے تسلیم کیا کہ انہوں نے شوکت ترین کے خلاف نیب کا مقدمہ ختم کرایا، جنرل باجوہ کا یہ دعویٰ بھی حلف کی صریح خلاف ورزی ہے، آئین کے تحت افواجِ پاکستان وزارتِ دفاع کے ماتحت ڈپارٹمنٹ ہے، آئینی نظم کے تحت سویلین حکام یا خود مختار ادارے فوج کے ماتحت نہیں۔

    عمران خان کا خط میں کہنا ہے کہ جنرل باجوہ کی وزیرِ اعظم سے گفتگو کی ریکارڈنگز آرمی چیف کے حلف کی اور بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے، اس سوال کا جواب اہم ہے کہ جنرل باجوہ کیوں اور کس حیثیت و اختیار سے خفیہ بات ریکارڈ کرتے تھے۔

    عدالت نے شیخ رشید کی ضمانت منظورکرتے ہوئے رہائی کا حکم دیدیا

    چئیرمین پی ٹی آئی نے کہا ہے کہ روس اور یوکرین جنگ پر حکومت کی غیر جانبداریت کی پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھی جنرل باجوہ نے اپنےحلف کےتقاضوں کو پامال کیا، انہوں نے 2 اپریل 2022ء کو سیکیورٹی کانفرنس میں روس و یوکرین جنگ پر حکومتی پالیسی سے متضاد مؤقف اپنایا۔

    سابق وزیر اعظم عمران خان نے اپنے خط میں یہ بھی کہا ہے کہ میں نشاندہی کر دوں کہ معاملے پر حکومتِ پاکستان کی پالیسی کو وزارتِ خارجہ اور متعلقہ ماہرین سمیت تمام فریقین میں مکمل اتفاقِ رائے سے مرتب کیا گیا، آئین کا چیپٹر دوم اور خاص طور پر آرٹیکل 243، 244 افواجِ پاکستان کے دائرہ اختیار کی وضاحت کرتے ہیں۔

    صدر عارف علوی سے عمران خان نے درخواست کی ہے کہ صدرِ مملکت اور افواجِ پاکستان کے سپریم کمانڈر ہونے کے ناتے آپ کی آئینی ذمے داری ہے کہ آپ معاملے کا فوری نوٹس لیں، تحقیقات کے ذریعے تعین کیا جائے کہ آیا آئین کے تحت آرمی چیف کے حلف کی ایسی سنگین خلاف ورزیاں کی گئی ہیں؟-

    جنرل(ر) قمر جاوید باجوہ کی جانب سے حلف کی خلاف ورزیوں کی تفصیلات بھی صدر مملکت کو ارسال کر دی گئیں۔

    عمران خان کی حفاظتی ضمانت،عدالت کا عمران خان کو ساڑھے بارہ بجے پیش ہونے کا حکم

  • ملکہ الزبتھ کا انتہائی خفیہ خط جو 2085 میں کھولاجائے گا، کس کے نام ہے پیغام؟

    ملکہ الزبتھ کا انتہائی خفیہ خط جو 2085 میں کھولاجائے گا، کس کے نام ہے پیغام؟

    ملکہ الزبتھ دوم نے آسٹریلیا کے سڈنی کے رہائشیوں کو ایک انتہائی خفیہ خط لکھا، اور اسے سال 2085 تک نہیں کھولا جائے گا۔

    باغی ٹی وی: حال ہی میں فوت ہونے والی برطانوی ملکہ الزبتھ دوم کے حوالے سے ایک دلچسپ معاملہ کی طرف توجہ مبذول کرائی گئی ہے کہ ملکہ کا ایک خفیہ پیغام ہے جسے 63 برس بعد کھولا جائے گا۔ ملکہ نے یہ پیغام آسٹریلوی شہر سڈنی کے شہریوں کے نام لکھا تھا۔ یہ خط شہر کی ایک مشہور عبارت میں چھپا کر رکھا گیا ہے۔

    سرکاری تدفین سے قبل عوام کو ملکہ الزبتھ کے آخری دیدار کی اجازت

    ملکہ نے یہ خط نومبر 1986 میں اس عمارت کی تزئین وآرائش کے بعد لکھا تھا، یہ سڈنی کے بزنس ڈسٹرکٹ میں ملکہ وکٹوریہ بلڈنگ ہے جو اصل میں 1898 میں تعمیر کی گئی تھی اور ملکہ کی عظیم دادی وکٹوریہ کے نام پررکھی گئی ہے،یہ سڈنی کی سب سے مشہورعمارتوں میں سےایک ہے، جو شہر کے مرکز میں واقع ہے۔

    ملکہ کے عملے کو بھی معلوم نہیں کہ اس خط میں کیا ہے یہ خط شیشے کے ایک کیس میں رکھا گیا ہے۔ اس کیس سے صرف ملکہ کی ہدایات نظر آتی ہیں اس خط کو نہ کھولنے کی سخت ہدایات کی گئی ہیں۔

    ملکہ کی جانب سے ان ہدایات میں لکھا ہے یہ خط آسٹریلوی شہر سڈنی کے میئر کیلئے ہے۔ براہ کرم اسے 2085 میں اپنے انتخابات کے مناسب کسی دن کھولئے گا اور سڈنی کے شہریوں کو میرا پیغام پہنچائیے گا۔

    ملکہ الزبتھ دوم کی وفات پر پاکستان میں یوم سوگ،قومی پرچم سرنگوں رہا

    ملکہ کے خط کے مندرجات واضح نہیں ہیں، لیکن یہ ممکنہ طور پر سڈنی کے رہائشیوں کا شکریہ ادا کرے گا کہ انہوں نے تاریخی عمارت کو بچانے اور اس کی تزئین و آرائش کرنے کے لیے، جب اسے پارکنگ کے لیے تقریباً مسمار کر دیا گیا تھا۔

    1986 میں، ملائیشیا کی ایک کمپنی نے عمارت پر 99 سال کی لیز پر دستخط کیے، ان کا معاہدہ 2085 تک لے لیا – اسی سال ملکہ کی خط و کتابت کو کھولا اور عام کیا جانا ہے۔

    آسٹریلیا ایک دولت مشترکہ ملک ہے، اور ملکہ الزبتھ دوم نے 70 سال تک ملک کی سربراہ مملکت کے طور پر خدمات انجام دیں۔ اس نے اپنے دور حکومت میں آسٹریلیا کے 16 دورے کیے، آخری دورہ 2011 میں کیا تھا ملکہ 8 ستمبر کو 96 برس کی عمر میں رحلت کر گئیں اور ان آخری رسومات 19 ستمبر کو لندن میں ادا کی جائے گی۔

    ملکہ برطانیہ کی وفات کے بعد برطانیہ سے کوہ نور کی واپسی کا مطالبہ

  • اسٹینڈنگ کمیٹیوں کی کارروائی بھی ٹی وی  پرعوام تک پہنچانے کا فیصلہ

    اسٹینڈنگ کمیٹیوں کی کارروائی بھی ٹی وی پرعوام تک پہنچانے کا فیصلہ

    وزیراعظم شہبازشریف سے ترکیہ کے نئے سفیر مہمت پاچاجی کی ملاقات ہوئی ہے

    وزیراعظم محمد شہبازشریف سے پاکستان میں ترکی کے نئے سفیر Mehmet Pacaci نے آج اسلام آباد میں ملاقات کی. وزیراعظم نے سفیر کو ان کی تقرری پر مبارکباد دی اور پاکستان میں کامیاب مدت کے لیے ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور ترکی کے برادرانہ تعلقات باہمی اعتماد، افہام و تفہیم پر مبنی ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ سفیر کے دور میں دوطرفہ تعاون بالخصوص تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں مزید مضبوط ہوگا۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے جموں و کشمیر کے تنازع پر ترکی کی مستقل حمایت پر اظہار تشکر کیا.

    جون 2022 میں ترکی کے اپنے دورے کو یاد کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے بتایا کہ وہ ستمبر 2022 میں پاکستان میں اعلیٰ سطحی اسٹریٹجک کوآپریشن کونسل (HLSCC) کے 7ویں اجلاس کے لیے صدر رجب طیب ایردوان کا خیرمقدم کرنے کے منتظر ہیں۔ وزیراعظم نے پاکستان اور ترکی کے سفارتی تعلقات کی 75 ویں سالگرہ کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا اور دونوں ممالک میں یادگاری تقریبات کے ذریعے اس سنگ میل کو احسن طریقے سے منانے کی اہمیت پر زور دیا۔

    قبل ازیں وزیراعظم نے پارلیمنٹ کے بعد اسٹینڈنگ کمیٹیوں کی کارروائی بھی ٹی وی پر عوام تک پہنچانے کا فیصلہ کیا ہے ضابطے کی کارروائی پوری کرنے کے لیے وزیراعظم نے اسپیکرقومی اسمبلی کو خط لکھ دیا ،جس میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی وی پارلیمنٹ کے آغاز کی صورت میں انقلابی قدم اٹھایا گیا تھا،پارلیمان کا نہایت کلیدی حصہ مجالس قائمہ کے اجلاسوں کی کارروائی بھی براہ راست نشر کی جائے،اس ضمن میں مطلوبہ حدود اور مناسب طریقہ کار وضع کرلیاجائے، سیاسی کارکن اور آئین کی تخلیق کا کارنامہ انجام دینے والی جماعت پارلیمنٹ کی اہمیت سے آگاہ ہیں، مریم اورنگزیب کی ر ہنمائی میں اس مرحلے کو تیزی سے مکمل کرلیا جائے،امید ہے کہ ہم سب کی یہ کاوش پارلیمان کی توقیر بڑھائے گی،نوجوان آئین، حقوق، جمہوری نظام میں پارلیمنٹ کی اہمیت اور کارکردگی سے آگاہ ہوں گے،

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ جائیداد کے اصل مالک ہیں یا نہیں؟ اٹارنی جنرل نے سب بتا دیا

    صدارتی ریفرنس کیس، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سپریم کورٹ پیش ہو گئے،اہلیہ کے بیان بارے عدالت کو بتا دیا

    منافق نہیں، سچ کہتا ہوں، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ،آپ نے کورٹ کی کارروائی میں مداخلت کی،جسٹس عمر عطا بندیال

    علاوہ ازیں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے صحافیوں کے خلاف تشدد کے واقعات کا نوٹس لے لیا ،صدر مملکت نے وزیراعظم کے نام خط میں صحافیوں اور میڈیا پرسن کی ہراسیت اور تشدد کے بڑھتے ہوئے رجحان پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ صحافیوں کے خلاف تشدد کے واقعات عدم برداشت کی ذہنیت کی عکاسی کرتے ہیں ، ایسے واقعات سے جمہوریت کے مستقبل اور آزادی ِاظہار ِرائے پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں ، آئین کا آرٹیکل 19 اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر کا آرٹیکل 19 آزادی اظہار رائے کی ضمانت دیتا ہے ،پاکستان میں خوف پیدا کرنے کے علاوہ ایسے واقعات بین الاقوامی توجہ میں آتے ہیں اور ملک کا تاثر داغدار کرتے ہیں ،مختلف بین الاقوامی تنظیموں نے اپنی رپورٹوں میں صحافیوں کو ہراساں کرنے ، دھمکیاں دینے اور جسمانی تشدد کو پاکستان کی مایوس کن پوزیشن کی بنیادی وجوہات قرار دیا ہے،صدر مملکت نے خط میں صحافیوں کے تحفظ کی کمیٹی اور ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹوں کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 1992 سے 2022 تک 96 صحافیوں کو قتل کیا گیا ،عزیز میمن اور ناظم جوکھیو کو قتل کیا گیا، مطیع اللہ جان کو اسلام آباد کے ایک مصروف علاقے سے دن دیہاڑے اغوا کیا گیااسد علی طور اور ابصار عالم کو نامعلوم افراد نے حملہ کر کے زخمی کر دیا،ایسا لگتا ہے کہ آزاد رائے رکھنے والے میڈیا پرسنز کو دہشت کا نشانہ بنایا جارہا ہے ،پچھلی حکومتوں کے اقدامات یا بے عملی کو ایسی خلاف ورزیوں کو دہرانے کے لیے وجہ کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے ،یہ موازنہ ملک کو ترقی اور مثبت سمت میں لے جانے کے بجائے صحافیوں کے خلاف انتقامی کاروائیاں کرنے کا جواز بن جائے گا، آئین کے آرٹیکل 41 کے مطابق صدر کو تمام شہریوں کے لیے آزادی اظہار اور منصفانہ ٹرائل کے بنیادی حقوق کے تحفظ کو ممکن بنانا چاہیے،پاکستان ایک جمہوری ملک ہے جس میں دانشوروں اور صحافیوں پر ظلم و ستم نہیں ہونا چاہیے، وزیر اعظم قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذریعے صحافیوں اور میڈیا پرسن کے تحفظ کو یقینی بنائیں ،سیاست دان بھی صحافیوں کو نامعلوم اور دیگر عناصر کے غیر قانونی اقدامات سے بچانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں،آئین کے آرٹیکل 46 کے تحت وزیر اعظم اس سلسلے میں کیے گئے اقدامات سے صدر کو آگاہ رکھیں ،

  • ڈرون سے خط،پارسل پہنچانے کا کامیاب تجربہ

    ڈرون سے خط،پارسل پہنچانے کا کامیاب تجربہ

    ڈرون سے خط،پارسل پہنچانے کا کامیاب تجربہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں محکمہ ڈاک نے خط اور پارسل پہنچانے کے لئے ڈرون کا استعمال شروع کر دیا ہے

    بھارتی وزیراعظم مودی کی آبائی ریاست گجرات میں محکمہ ڈاک نے ڈرون کے ذریعے خط اور پارسل پہنچانے کا کام شروع کیا ہے اس ضمن میں گجرات کے ضلع کچھ میں ایک پارسل ایک گاؤں سے تقریبا 46 کلو میٹر ڈرون کے ذریعے پہنچایا گیا ہے، پارسل ڈرون کے ذریعے بھجوانے میں 46 کلو میٹر کا سفر طے کرنے میں 25 منٹ لگے، پارسل مقام پر پہنچا تو حکام نے ایک بڑی پارٹی کا اہتمام کیا اور جشن منایا، وزارت مواصلات کے حکام نے ایک دوسرے کو مبارکبادیں دیں

    پاکستان کے قومی اخبار روزنامہ جنگ میں شائع ہونے والی خالد محمود خالد کی رپورٹ کے مطابق گجرات میں ڈرون کے ذریعے خط اور پارسل پہنچانے کے کامیاب تجربے کے بعد اب یہ سلسلہ مزید وسیع کیا جائے گا اور دیگر ریاستوں میں بھی خطوط پہنچانے کے لئے ڈرون کا استعمال کیا جائے گا،

    بھارتی وزیراعظم مودی نے ڈرون کے ذریعے پارسل پہنچانے پر محکمہ مواصلات کو مبارکباد دی ہے اور اسے بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ مواصلات کی دنیا میں بھارت مزید ایک قدم اور آگے جا رہا ہے

    سائبر کرائم ونگ کی کاروائی، چائلڈ پورنوگرافی میں ملوث تین ملزمان گرفتار

    سائبر کرائم کا شکار ہونے والی خواتین خودکشی کی طرف مائل ہو جاتی ہیں،انکشاف

    پاکستانی اداروں پر سائبر حملوں میں اضافہ، بھارت سمیت کئی ممالک ملوث

    بریکنگ، ابوظہبی ڈرون حملہ،ایک پاکستانی اور 2 بھارتی شہری مارے گئے

    ابوظہبی پر ڈرون حملوں کے بعد سعودی عرب کا یمن پر فضائی حملہ

    حوثیوں کے سعودی عرب،یو اے ای پر بیلسٹک میزائل حملے،یو اے ای نے میزائل تباہ کر دیئے

    اسرائیلی صدر کے دورہ کے دوران حوثی باغیوں کا یو اے ای پر بیلسٹک میزائل حملہ

    حوثی باغیوں کے حملے، امریکا کا جنگی بحری جہاز اور لڑاکا طیارے یو اے ای بھجوانے کا اعلان

  • مفتاح اسماعیل نے بھی پریس کانفرنس میں خط لہرا کر بڑا دعویٰ کر دیا

    مفتاح اسماعیل نے بھی پریس کانفرنس میں خط لہرا کر بڑا دعویٰ کر دیا

    مفتاح اسماعیل نے بھی پریس کانفرنس میں خط لہرا کر بڑا دعویٰ کر دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ کابینہ اجلاس میں آج 8 نکاتی ایجنڈے پرسیرحاصل گفتگو ہوئی،

    مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ 4 سال مالی مشکلات کے اثرات ہرشخص کی زندگی پر مرتب ہوئے مہنگائی پر قابو پانا پوری کابینہ کی اولین ترجیح ہے،وزیراعظم عوام کو مہنگائی سے ریلیف دینے کے لیے کوششیں کررہے ہیں وزیراعظم کی خواہش ہے عوام کو فوری ریلیف دیا جائے رمضان بازاروں سے متعلق مانیٹرنگ چیف سیکریٹری کر رہے ہیں،پنجاب میں وزیراعظم نے 10 کلو آٹا 550 سے 400 کا کردیا رمضان بازار اور یوٹیلیٹی اسٹورز پر چینی 70 روپے کی ملے گی وفاقی اور صوبائی سطح پر پرائس کنٹرول کمیٹی بنادی دی گئی ہے وزیراعظم کو ہر دوسرے روز پرائس پر بریفنگ دی جائیگی ،

    کابینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں مفتاح اسماعیل نے بھی ایک خط لہرا دیا کہتے ہیں کہ یہ عمران خان کی کرپشن اور نااہلی کا ثبوت ہے اور میں اسے جیب میں ڈال کر گھر نہیں لیجاوں گا بلکہ آپ سب کو دکھاوں گا۔ مفتاح اسماعیل کا مزید کہنا تھا کہ کھانے پینے کی اشیا میں مہنگائی 17اعشاریہ 3فیصد ہے،بجٹ خسارہ 2017،18میں 260ارب روپے تھا،بجٹ خسارہ 2021-22میں 5600ارب روپے ہیں،عوامی قرضے 2017-18میں24ہزار 913ارب روپے تھے، عوامی قرضے 2021-22میں 42ہزار 745ارب روپے ہیں ،ہم نے ملک میں سڑکوں کا جال بچھایا،70سال میں تمام وزرائے اعظم نے لگ بھگ 25ہزار ارب روپے قرض لیا،عمران خان نے پونے چار سال میں 20ہزار ارب روپے سے زائد قرض لیا عمران خان کا سارا خرچہ تختیوں پر ہوا ہے 2017میں 6.1 فیصد شرح نمو تھی اسد عمر نے ایک سال میں 9.1 فیصد بجٹ خسارہ کیا عمران خان نے اسد عمر کو وزارت سے نکالا ملک میں مہنگائی 17.3 فیصد ہے آج دیہی علاقوں میں مہنگائی شہری علاقوں سے زیادہ ہے ن لیگ کے 5 سال بجٹ خسارہ 16سو ارب تھا ،رواں سال 56 سو ارب کا بجٹ خسارہ ہے ٹیکس کولیکشن 11 فیصد پر چھوڑ کر گئے، آج 9 فیصد پر ہے،

    مفتاح اسماعیل کا مزید کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن نے 130 ارب بھاشا ڈیم کی زمین خریدنے پر لگائے مسلم لیگ ن نے ایچ ای سی کا بجٹ ڈبل کیا ن لیگ کے دور میں 122 روپے کا ڈالر تھا آج 189 کو پہنچ چکا ہے نواز شریف دور میں 2 کروڑ افراد سطح غربت سے باہر آئے ،عمران خان کے دور میں 2 کروڑ افراد سطح غربت سے نیچے گئے امپورٹ پچھلے سال سے زیادہ بڑھ رہی ہے،آپ تنقید ضرور کریں لیکن ایسی بات نہ کریں جس پر لوگ تمسخر اڑائیں،

    دوسری جانب وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی منظوری دے دی گئی ہے مفتاح اسماعیل کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی منظوری کے بعد وزیر خزانہ آج رات واشنگٹن روانہ ہوں گے

    اب آئین شکن اور گھڑی چور جیلوں میں جائیں گے۔وفاقی وزیر داخلہ

    وزیراعظم کے حکم پر عملدرآمد،آٹا سستا ہو گیا

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرح نے خاموشی توڑ دی

    فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

    عمران خان کا دور اقتدار،دعوے کیا کئے؟ کام کیا کیا؟ کیا ہو گا خان کا بھی احتساب؟

    عمران خان کا ٹویٹر سپیس پر عوام سے مخاطب ہونے کا فیصلہ

    زبانی نکاح،پھر حق زوجیت ادا،پھر شادی سے انکار،خاتون پولیس اہلکار بھی ہوئی زیادتی کا شکار

    10 سالہ بچے کے ساتھ مسجد کے حجرے میں برہنہ حالت میں امام مسجد گرفتار

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ڈیجیٹل میڈیا ونگ ختم،ملک میں جاری انتشار اب بند ہونا چاہیے،وفاقی وزیر اطلاعات

    پارلیمنٹ لاجز میں صفائی کرنے والے لڑکے کو مؤذن بنا دیا گیا تھا،شگفتہ جمانی

    کابینہ ڈویژن نے وفاقی کابینہ سے متعلق نوٹیفکیشن جاری کر دیا

    توقع ہے باہمی مشاورت سے تمام چیلنجز پر قابو پا لیں گے،وزیراعظم کا کابینہ اجلاس سے خطاب

  • حکومت کو سپریم کورٹ نے دیا بڑا جھٹکا

    حکومت کو سپریم کورٹ نے دیا بڑا جھٹکا

    حکومت کو سپریم کورٹ نے دیا بڑا جھٹکا

    دھمکی آمیز خط کا معاملہ،خط کی تحقیقات کیلئے دائر درخواست پر اعتراضات عائد کر دیا گیا

    سپریم کورٹ رجسٹرار آفس نے درخواست پر اعتراضات لگا کر واپس کر دی ،رجسٹرار آفس نے اعتراض عائد کرتے ہوئے کہا کہ درخواست بنیادی انسانی حقوق سے متعلق نہیں،آرٹیکل 184/3 کے تحت درخواست پر سماعت نہیں ہوسکتی درخواست گزار نے متعلقہ فورم سے رجوع نہیں کیا،

    دھمکی آمیز خط کی تحقیقات ،رجسٹرار آفس کے اعتراضات کیخلاف چیمبر اپیل دائر کر دی گئی،اور استدعا کی گئی کہ رجسٹرار آفس کے اعتراضات دور کر کے کیس سماعت کیلئے مقرر کیا جائے اٹارنی جنرل خالد جاوید خان سپریم کورٹ پہنچ گئے

    قبل ازیں وزیر اعظم کو لکھے گئے خط کی تحقیقات کیلئے درخواست سپریم کورٹ میں دائر کر دی گئی ،درخواست نعیم الحسن ایڈووکیٹ کی جانب سے کی گئی ،درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ عدالتی کمیشن بنا کر میمو گیٹ کی طرز پر لیٹر گیٹ کی تحقیقات کرائی جائیں کمیشن قائم کر کے روزانہ کی بنیاد پرسماعت کی جائے، تحریک عدم اعتماد پر کارروائی روکی جائے وزیر اعظم کو ہٹانے کیلئے بین الاقوامی سازش کی گئی ،سازش کرنے والے غداری کے زمرے میں آتے ہیں، مختلف ٹی وی اینکرز نے تحریک عدم اعتماد کا پہلے ہی بتا دیا تھالندن میں نواز شریف سے خفیہ ملاقاتیں ہوئیں جہاں سازش تیار کی گئی

    درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ نیشنل سیکیورٹی کمیٹی بھی خط پر اپنا بھرپور ردعمل دے چکی ہے،خط کی تحقیقات کے لیے میمو گیٹ سکینڈل کی طرز پر تحقیقاتی کمیشن تشکیل دیا جائے جو اعلی عدلیہ کے ججز پر مشتمل ہو

    وزیراعظم عمران خان کی جانب سے لہرائے گئے دھمکی آمیز خط کے حوالہ سے پورے ملک میں باز گشت جاری ہے

    اپوزیشن ا س خط کو جھوٹا قرار دے رہی ہے ، بلاول کا کہنا تھا کہ خط وزیر خارجہ نے خود لکھوایا، پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں اپوزیشن نے شرکت نہیں، وزیراعظم نے گزشتہ روز خطاب کر کے قوم کو پھر اعتماد میں لیا، قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں خط کا جواب دینے کا فیصلہ کیا گیا، بعد ازاں امریکی ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کر کے احتجاج ریکارڈ کروایا گیا، امریکہ نے اس طرح کے کسی بھی خط کی تردید کی ،اب سپریم کورٹ میں اس خط کے حوالہ سے درخواست دائر کر دی گئی

    وزیراعظم کا حکم ہے، آڈیو لیک ہو گئی،سارا منصوبہ سامنے آ گیا

    حتمی فیصلہ 3 اپریل کو ہوگا،بجٹ کے بعد الیکشن ہونے چاہیں،شیخ رشید

    وزیراعظم کو دھمکی آمیز خط کس نے بھیجا؟ بحث جاری

    دھمکی آمیز خط کونسی شخصیت کو دکھانا چاہتے ہیں؟ حکومت کا بڑا اعلان

    وزیراعظم کو دھمکی آمیز خط کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا

    دھمکی آمیز خط ،وزیراعظم نے سینئر صحافیوں کو دکھانے کا اعلان کر دیا

    پیکنگ ہو گئی ،عمران خان کابینہ کے وزرا بیرون ملک بھاگنے کو تیار

    غیر ملکی سرمایہ والی اپوزیشن کو کوئی معاف نہیں کرے گا،شیخ رشید

    ن لیگ نے پنجاب کے وزیراعلیٰ کے امیدوار کا اعلان کر دیا

    شہباز شریف وزیراعظم بن گیا تو خود کشی کرلوں گا،میانوالی کے ایک شہری کا اعلان

    اپوزیشن کی بڑی کامیابی، بزدار کو واقعی نکال دیا گیا

    پتہ نہیں پرسوں سیاست میں رہوں گا یا نہیں ؟ شیخ رشید

    وزیراعظم عمران خان پرقاتلانہ حملے کا منصوبہ، سیکورٹی بڑھا دی گئی

    این آر نہیں دونگا ..بلکہ لوں گا، عمران خان نے "این آر او”مانگ لیا

    اپوزیشن اتحاد کا ایک اور وار، اسمبلی میں 172 اراکین موجود،درخواست میں بڑا مطالبہ کر دیا

    نکل جاؤ، منحرف اراکین کو کہاں سے نکال دیا گیا؟

    دھمکی دینے والے کو بھرپور جوابی ردعمل دینے کا فیصلہ

    دھمکی آمیز خط۔ امریکی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی

    دھمکی آمیز خط کا معاملہ وائیٹ ہاؤس پہنچ گیا، امریکی رد عمل بھی آ گیا

    دھمکی آمیز خط 7 مارچ کوملا،21 مارچ کو گرمجوشی سے استقبال.قوم کو بیوقوف بنانیکی چال

    3 سال میں 57 لاکھ لوگوں کو روز گار فراہم کیا،اسد عمر کا دعویٰ

    ہارے ہوئے عمران خان کی الوداعی تقریر قوم نے کل سن لی، اہم شخصیت بول پڑی