Baaghi TV

Tag: خلائی مشن

  • سپارکو نے خلائی سفر سے متعلق ایک اور اہم سنگ میل عبور کرلیا

    سپارکو نے خلائی سفر سے متعلق ایک اور اہم سنگ میل عبور کرلیا

    سپارکو نے خلائی مشن کیلئے امیدواروں کے انتخاب کا مرحلہ کامیابی سے مکمل کر لیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق ابتدائی اسکریننگ کے بعد دو امیدواروں کو شارٹ لسٹ کیا گیا، دونوں امیدواروں نے چین کے آسٹروناٹس سینٹر (ACC) میں بین الاقوامی انسانی خلائی پرواز کے معیارات کے مطابق جامع طبی، نفسیاتی اور صلاحیتی جائزے مکمل کیے۔

    دونوں امیدوار 2ماہ کے لیے چینی آسٹروناٹس سینٹر میں خلائی مسافر کی تربیت حاصل کریں گے، تربیت کی تکمیل کے بعد، اکتوبر، نومبر میں خلائی مشن کے لئے ایک امیدوار کا انتخاب کیا جائے گا، خلائی مشن پاکستانی خلاباز کو لیکر چینی خلائی اسٹیشن سےروانہ ہوگا دو طرفہ "خلائی تعاون کےمعاہدے” پر فروری 2025 میں دستخط ہوئے تھےوزیر اعظم پاکستان کی قیادت میں سپیس وژن کے تحت اقدا ما ت کئے گئے ہیں، اس تاریخی اقدام کے مطابق چین کی حکو مت نے اپنے خلاباز پروگرام میں پاکستان کو پہلے غیر ملکی شراکت دار کے طور پر منتخب کیا۔

  • چاند پر ہوٹل   کےمنصوبے کی افتتاحی تقریب سامنے آ گئی

    چاند پر ہوٹل کےمنصوبے کی افتتاحی تقریب سامنے آ گئی

    امریکی خلائی کمپنی (Galactic Resource Utilization Space) نے چاند پر دنیا کا پہلا ہوٹل بنانے کا اعلان کیا ہے، جسے 2032 تک مکمل کر کے سیاحوں کے لیے کھولنے کا ارادہ ہے۔

    کمپنی کے مطابق یہ ہوٹل زمین پر تیار کر کے خلائی مشن کے ذریعے چاند کی سطح پر منتقل کیا جائے گا ابتدائی طور پر ہوٹل میں چار مہمانوں تک قیام کے انتظا ما ت ہوں گے، جنہیں چاند کے مناظر، چہل قدمی، گاڑی چلانے اور گالف جیسے منفرد تجربات فراہم کیے جائیں گے،تعمیر کا عمل 2029 میں شروع ہو سکتا ہے، بشرطیکہ تمام سرکاری اجازتیں مل جائیں، ہوٹل میں قیام کی ابتدائی قیمتیں بہت زیادہ ہوں گی، کیونکہ ہر مہمان سے ایک ملین ڈالر کے برابر رقم بطور پیشگی ادائیگی لی جائے گی۔

    وزیراعظم نے پاکستان آسان خدمت مرکز کا باضابطہ افتتاح کر دیا

    کمپنی کے مطابق جیسے جیسے خلائی سیاحت عام ہوگی، قیمتوں میں کمی متوقع ہے، بالکل ویسے ہی جیسے ابتدائی دور کے ہوائی سفر میں صرف امیر شہری سفر کر سکتے تھے،ماہرین کے مطابق یہ منصوبہ خلائی سیاحت کی دنیا میں ایک نیا سنگِ میل ثابت ہوگا اور مستقبل میں عام سیاحوں کے لیے خلا میں قیام کے امکانات کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہوگا۔

    سینیٹ قائمہ کمیٹی میں سینیٹر ناصر بٹ اور وفاقی وزیر ریلوے کے درمیان سخت مکالمہ

  • سپارکو کا روورچانگی-8 مشن کے ذریعے چاند کی سطح پر اترنے کے لیے تیار

    سپارکو کا روورچانگی-8 مشن کے ذریعے چاند کی سطح پر اترنے کے لیے تیار

    اسلام آباد:پاکستان کے خلائی ادارے اسپیس اینڈ اپر ایٹماسفیئر ریسرچ کمیشن (SUPARCO) نے خلائی تحقیق میں ایک اہم سنگِ میل عبور کر لیا۔

    باغی ٹی وی : پاکستان کے خلائی ادارے اسپیس اینڈ اپر ایٹماسفیئر ریسرچ کمیشن (SUPARCO) نے چائنا نیشنل اسپیس ایڈمنسٹریشن (CNSA) کے ساتھ ایک تاریخی مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط کئے ہیں ،یہ معاہدہ 5 فروری 2025 کو پاکستان کے صدر، جناب آصف علی زرداری، اور چین کے صدر، جناب شی جن پنگ، کی موجودگی میں طے پایا۔

    معاہدہ پاکستان کے پہلے مقامی طور پر تیار کردہ قمری روور کی چین کے چینگ ای-8 مشن میں شمولیت کی راہ ہموار کرتا ہے، جو 2028 میں خلاء میں روانہ ہوگا چینگ ای-8 مشن (جو CNSA کے ذریعے تیار اور نافذ کیا گیا ہے) کا مقصد خودکار سائنسی تحقیق، ٹیکنالوجی کی جانچ، چاند کی سطح کی نقشہ سازی اور وسائل کے استعمال کی تحقیق کرنا ہے۔

    پاکستان کی اس مشن میں شمولیت اس کے خلائی پروگرام میں ایک اہم سنگ میل ہے،ترجمان سپارکو کے مطابق یہ انٹرنیشنل قمری ریسرچ اسٹیشن (ILRS) کے منصوبے میں پاکستان کی شراکت کو بھی اجاگر کرتا ہے۔

    چانگی-8 مشن، جو CNSA کے ذریعے تیار اور نافذ کیا گیا ہے، کا مقصد خودکار سائنسی تحقیق، ٹیکنالوجی کی جانچ، چاند کی سطح کا نقشہ سازی، اور وسائل کے استعمال کی تحقیق کرنا ہے۔ پاکستان کی اس مشن میں شمولیت اس کے خلائی پروگرام میں ایک اہم سنگ میل ہے اور یہ انٹرنیشنل قمری ریسرچ اسٹیشن (ILRS) کے منصوبے میں پاکستان کی شراکت کو بھی اجاگر کرتا ہے۔

    پاکستان کا مقامی طور پر تیار کردہ قمری روور

    سپارکو کا قمری روور چاند کے جنوبی قطب پر تعینات کیا جائے گا، جو اپنی منفرد خصوصیات اور مستقبل میں انسانی تحقیق کے امکانات کے باعث غیرمعمولی سائنسی اہمیت رکھتا ہے۔ یہ روور سپارکو کے جدید سائنسی payloads سے لیس ہوگا، جبکہ اس کے ساتھ ایک بین الاقوامی سائنسی payload بھی شامل کیا گیا ہے، جو چینی اور یورپی سائنسدانوں کے اشتراک سے تیار کیا گیا ہے۔ یہ تعاون مشن کی سائنسی صلاحیت کو مزید بہتر بنائے گا اور چاند کی سطح کے تفصیلی تجزیے میں مدد دے گا۔

    سپارکو کے سائنسدانوں اور انجینئرز نے اس روور کو مکمل طور پر خود تیار کیا ہے، جس میں اس کی ڈیزائننگ، مینوفیکچرنگ، اسمبلنگ، انٹیگریشن اور جانچ شامل ہیں یہ پاکستان کی بڑھتی ہوئی خلائی ٹیکنالوجی کی مہارت کا مظہر ہے ایک بار چاند پر پہنچنے کے بعد، پاکستانی سائنسدان زمین سے اس روور کو کنٹرول اور آپریٹ کریں گے، جو پاکستان کے خلائی تحقیق میں اہم کردار ادا کرے گا۔

    سائنسی اور تکنیکی اہداف
    پاکستان کا قمری روور درج ذیل اہم سائنسی اور تکنیکی مقاصد میں معاونت کرے گا:
    – چاند کی مٹی کی ترکیب کا مطالعہ اور وسائل کے ممکنہ استعمال کی تحقیق۔
    – چاند کی سطح کا نقشہ تیار کرنا تاکہ مستقبل کے مشنز میں مدد مل سکے۔
    – چاند پر طویل مدتی آپریشنز اور پائیدار انسانی موجودگی کے لیے نئی ٹیکنالوجیز کی جانچ۔
    – چاند کی سطح پر تابکاری کی سطح اور پلازما خصوصیات کا مطالعہ تاکہ مستقبل کے مشنز اور انسانی موجودگی پر ان کے ممکنہ اثرات کو سمجھا جا سکے۔

    یہ تعاون سپارکو اور CNSA کے درمیان مضبوط دوطرفہ تعلقات کو اجاگر کرتا ہے اور خلا کی گہرائیوں کی تحقیق کے لیے دونوں ممالک کے مشترکہ عزم کو ظاہر کرتا ہے اس کے ساتھ ساتھ، یہ پاکستان کے قومی خلائی پروگرام کو مزید آگے بڑھانے اور عالمی سائنسی تحقیق میں اس کی شراکت کو مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

  • چین کا چاند پر پانی کی تلاش کیلئے  روبوٹک ”فلائر ڈیٹیکٹر“ بھیجنے کا اعلان

    چین کا چاند پر پانی کی تلاش کیلئے روبوٹک ”فلائر ڈیٹیکٹر“ بھیجنے کا اعلان

    بیجنگ: چین نے 2026 میں چاند کے جنوبی قطب پر ایک روبوٹک ”فلائر ڈیٹیکٹر“ بھیجنے کا اعلان کیا ہے، جو وہاں پانی کی تلاش کرے گا۔

    باغی ٹی وی : چینی خبر رساں ادارے ”ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ“ کے مطابق چین اگلے سال اپنے Chang’e-7 مشن کے حصے کے طور پر قطب قمری پر پانی کی تلاش کے لیے ایک سمارٹ روبوٹک "فلائنگ ڈیٹیکٹر” تعینات کرنے کا ارادہ رکھتا ہے – جو پانچ سالوں میں انسانوں کو چاند پر اتارنے کے ملک کے ہدف میں ایک قدم ہے۔

    چینی خلائی ماہرین نے پیر کو سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے اڑنے والے روبوٹ کے منصوبوں کا انکشاف کیاچینی خلائی ماہرین نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ یہ مشن مستقبل میں چاند پر ایک تحقیقاتی اسٹیشن کے قیام کے لیے بنیادی کام انجام دے گا فلائنگ روبوٹ ”چانگ ای-7“ مشن کا حصہ ہوگا، جس میں ایک آربیٹر، ایک لینڈر، ایک قمری روور اور ایک فلائنگ روبوٹک ڈیٹیکٹر شامل ہوگا، یہ مشن چاند کے ان دائمی سائے والے گڑھوں میں پانی کی موجودگی اور تقسیم کی تصدیق کرے گا، جہاں سورج کی روشنی کبھی نہیں پہنچتی –

    بل گیٹس نے اپنی گرل فرینڈ سے تعلقات کے بارے خاموشی توڑ دی

    مشن کے نائب چیف ڈیزائنر تانگ یوہوا کے مطابق، چانگ ای-7 مشن کا مقصد چین کی قمری تحقیقاتی صلاحیتوں کو جانچنا ہے کہ آیا وہ چاند کے کسی بھی حصے میں پہنچ سکتی ہے اگر چاند پر پانی کی برف کی شکل میں کامیابی سے نشاندہی ہو گئی تو اس سے زمین سے پانی لانے کے اخراجات اور وقت میں نمایاں کمی آئے گی اس کے نتیجے میں، چاند پر انسانی بیس کے قیام اور مریخ یا دیگر خلائی مشنز کے لیے مزید تحقیق میں آسانی ہوگی۔

    تانگ یوہوا کے مطابق، یہ فلائنگ ڈیٹیکٹر ایک ”انتہائی ذہین روبوٹ“ ہوگا، جو چاند کی سطح پر مختلف ڈھلانوں پر بار بار اترنے اور واپس اڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے، بالکل ایسے جیسے کوئی انسان اونچائی سے چھلانگ لگانے کے بعد اپنے گھٹنوں کو موڑتا ہے۔ یہ روبوٹ لیگ ٹریکٹری پلاننگ اور جوائنٹ ڈریون موومنٹ کے ذریعے چاند کی سطح پر نقل و حرکت کرے گا۔

    خیبر پختونخوا میں دہشتگردوں کا پولیو ٹیم پر ایک بار پھر حملہ

    چین کے قمری تحقیقاتی پروگرام کے چیف ڈیزائنر وو وی رین نے وضاحت کی کہ چانگ ای-7 مشن کو منفی 100 ڈگری سیلسیس سے بھی کم درجہ حرارت اور چاند کی پیچیدہ سطح جیسے سخت چیلنجز کا سامنا ہوگا اس مشن کے لیے تیار کیا گیا ”موبائل ہاپر“ روشنی والے علاقوں سے اندھیرے گڑھوں تک چھلانگ لگا کر وہاں کی تفصیلی جانچ کرے گا۔

    رپورٹس کے مطابق، یہ فلائنگ ڈیٹیکٹر ایک ہی جست میں درجنوں کلومیٹر تک سفر کر سکتا ہے اس کا ملٹی لیگڈ ڈیزائن اسے چاند کی ناہموار سطح پر مؤثر طریقے سے چلنے میں مدد دے گا، جس سے چانگ ای-7 چاند کے ان حصوں تک پہنچ سکے گا جہاں سورج کی روشنی کبھی نہیں پہنچتی اور جہاں ممکنہ طور پر برف موجود ہو سکتی ہے۔

    پاکستان کا چین سے پولیس کے لیے جدید ٹیکنالوجی و آلات لینے کا فیصلہ

    اس کا راکٹ پاورڈ سسٹم اسے چاند کے بغیر ہوا والے ماحول میں کام کرنے کے قابل بنائے گا اس کے جسم میں چار فیول ٹینکس اور ایک چھوٹے تھرسٹرز کا دائرہ موجود ہوگا، جو اسے مختلف مقامات پر اترنے اور اڑنے کی صلاحیت فراہم کرے گا مشن کے دوران یہ فلائنگ ڈیٹیکٹر کم از کم تین بار پاورڈ لیپس کرے گا، اس کے بعد طویل مدتی قمری تحقیق کے لیے سولر پاور پر منتقل ہو جائے گا۔

    پانی کی تلاش کے علاوہ، چانگ ای-7 مشن چاند پر طویل مدتی انسانی قیام کے لیے مختلف ٹیکنالوجیز اور حالات کا بھی جائزہ لے گاچین 2028 میں چانگ ای-8 مشن لانچ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، جو چانگ ای-7 کے ساتھ مل کر ایک خودکار قمری تحقیقاتی نیٹ ورک قائم کرے گا، جس سے 2030 تک انسان بردار قمری مشن کی راہ ہموار ہوگی۔

    عمران خان کا افغان قیادت کیلئے خصوصی پیغام

  • چین کا انسان بردار خلائی مشن روانہ

    چین کا انسان بردار خلائی مشن روانہ

    بیجنگ: چین کا انسان بردار خلائی مشن شینزو 19 تین خلابازوں کو لے کر تیانگونگ خلائی اسٹیشن کے لیے روانہ ہوگیا ہے۔

    باغی ٹی وی : سرکاری خبر رساں ایجنسی شنہوا کے مطابق 3 چینی خلانورد جن میں ایک خاتون خلاباز بھی شامل ہے، بدھ کی صبح تیانگونگ خلائی اسٹیشن کے لیے روانہ ہوگئے، اس خلائی مشن کو’’ ڈریم مشن’’ کا نام دیا گیا ہے،نئی تیانگونگ ٹیم چاند پر مستقل اسٹیشن بنانے اور وہاں خلابازوں کو رکھنے کے ہدف کے تحت اپنے تجربات کرے گی،خلائی عملے کے مشن میں چاند کی مٹی سے اینٹیں تیار کرنے کا تجربہ بھی شامل ہو گا۔

    شینزو 19 مشن نے بدھ کی صبح 4 بج کے 27 منٹ پر شمال مغربی چین کے جیوکوان سیٹلائٹ لانچ سینٹر سے اڑان بھری چائنا مینڈ اسپیس ایجنسی (سی ایم ایس اے) کے مطابق شینزو 19 کے عملے میں 34 سالہ وانگ ہاؤزے بھی شامل ہیں، جو چین کی واحد خاتون خلائی انجینئر ہیں، وہ عملے کے مشن میں حصہ لینے والی تیسری چینی خاتون ہیں –

    سپریم کورٹ میں زیرالتواء مقدمات کی تفصیلات جاری

    خلا میں مواد کی نقل و حمل کی زیادہ لاگت کی وجہ سے چینی سائنسدانوں کو امید ہے کہ وہ چاند کی مٹی کو مستقبل میں بیس (اڈے)کی تعمیر کے لیے استعمال کر سکیں گے تیانگونگ، جس کا بنیادی ماڈیول 2021 میں شروع کیا گیا تھا، تقریباً 10 سال تک استعمال کرنے کا منصوبہ ہے۔

    قاضی فائز عیسیٰ مڈل ٹیمپل میں” بینچر”منتخب،پی ٹی آئی کا ادارے کے باہر احتجاج

  • انسانی باقیات و دیگر اشیاء لے کر  چاند پر جانے والا مشن ناکام

    انسانی باقیات و دیگر اشیاء لے کر چاند پر جانے والا مشن ناکام

    چاند کے لیے روانہ ہونے والا خلائی جہاز پریریگرن لینڈر ناکام ہوگیا ہے اور کسی بھی وقت زمین پر گرسکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : پیریگرین خلائی جہاز جو 50 سال سے زائد عرصے میں چاند پر اترنے کے مقصد کے لیے پہلے امریکی مشن پر گزشتہ ہفتے شروع کیا گیا تھا – واپس زمین کی طرف گامزن ہے چاند پر اترنے کی ناکام کوشش ناسا کے کمرشل لونر پے لوڈ سروسز، یا CLPS، پروگرام کے لیے ایک دھچکا ہے، جو خلائی ایجنسی کو چاند کی سطح کی تحقیقات میں مدد کے لیے بھرتی کرتی ہے کیونکہ اس کا مقصد اس دہائی کے آخر میں انسانوں کو چاند پر واپس لانا ہے۔

    ایسٹروبولک ٹیکنالوجی کمپنی جس نے ناسا کے ساتھ 108 ملین ڈالر کے معاہدے کے تحت پیریگرین لینڈر تیار کیا تھا، نے اتوار کو انکشاف کیا کہ اس نے خلائی جہاز کو زمین کی طرف واپس آتے ہوئےدرمیانی ہوا کو اسے ٹھکانے لگانے کا فیصلہ کیاہے-

    بھارتی فضائی کمپنی اکاسا ایئر نے 150 بوئنگ 737 میکس طیاروں کا آرڈر دے …

    اس خلائی جہاز کو چاند کے مشن پر روانہ کرنے والے ادارے ایسٹروبوٹک نے بتایا کہ وہ جہاز کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے کمپنی نے خلائی تحقیق کے امریکی ادارے ناسا سے بھی رابطہ رکھا ہے مشن ناکام ہو جانے کے بعد یہ خلائی جہاز جمعہ کو کسی وقت زمین پر گر سکتا ہے ایسٹرو بوٹک نے پیریگرن کی زمین پر واپسی کو عمدگی سے کنٹرول کیا ہے اور اسے جنوبی بحرالکاہل میں کہیں گرالیا جائے گا۔

    عراق نے بھی ایران سے اپنا سفیر واپس بلالیا

    انسانوں کی باقیات، بٹ کوئن اور چند دوسری غیر روایتی اشیا لے کر چاند کے لئے روانہ ہوا تھا،یہ خلائی جہاز 20 پے لوڈز لے کر چاند کی سمت روانہ کیا گیا تھا پے لوڈز کا مجموعی وزن 90 کلو گرام تھا ان میں دنیا کی بلند ترین پہاڑی چوٹی ایوریسٹ کے ایک ٹکڑے کے علاوہ وکی پیڈیا کی ایک کاپی بھی شامل تھی سائنس فکشن ٹی وی سیریز اسٹار ٹریک کے خالق جینی راڈنبیری کی باقیات بھی اس جہاز کے پے لوڈز کا حصہ ہیں۔

    برطانیہ میں خالصتان کے حامیوں کی جان کو خطرات،برطانوی پولیس نے وارننگ جاری …

  • امریکا کا 2030 تک چاند پر ایک اور انسانی مشن بھیجنے کے منصوبے کا اعلان

    امریکا کا 2030 تک چاند پر ایک اور انسانی مشن بھیجنے کے منصوبے کا اعلان

    واشنگٹن: امریکا نے 2030 تک چاند پر ایک اور انسانی مشن بھیجنے کے منصوبے کا اعلان کردیا ہے،امریکہ نے حال ہی میں اگلے دہائی کے اندر، خاص طور پر سال 2030 تک چاند پر ایک اضافی انسان بردار مشن بھیجنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق وائٹ ہاؤس نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ امریکا 2030 تک ایک بین الا قو امی خلاباز کو چاند کی سطح پر دوبارہ بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے امریکی نائب صدر کمالا ہیرس اسپیس کونسل کے اجلاس میں مذکورہ بالا مشن کا باضابطہ اعلان کریں گی جو کہ ریاستہائے متحدہ کی خلائی تحقیق کی کوششوں کا ایک اہم لمحہ ہےاعلان کے مطابق، وائٹ ہاؤس نے اجلاس کے وسیع مقصد پر زور دیا تاکہ مضبوط بین الاقوامی شراکت داری کی اہمیت کو اجاگر کیا جائے اور خلا میں مشترکہ مقاصد کے حصول کے لیے ان کی توسیع کو فروغ دیا جائے۔

    وائٹ ہاؤس کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ اجلاس میں بین الاقوامی سطح پر شراکت داری کی وسعت اور اسے مزید مضبوط کرنے کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا جائے گا صدر جو بائیڈن نے اس منصوبے سے متعلق خلائی آپریشنز میں اتحادیوں کے ساتھ انضمام کی منظوری دے دی ہے جس کا مقصد باہمی مفاد کے لیے معلومات کے تبادلے، انسدادِ خلائی خطرات اور خلا کے مخالفانہ استعمال کو روکنا ہے اتحادیوں میں اٹلی، جاپان اور ناروے کے ساتھ ساتھ آسٹریلیا، کینیڈا، فرانس، جرمنی، نیوزی لینڈ اور برطانیہ شامل ہیں۔

  • جاپان بھی چاند پر مشن بھیجنے کے لیے تیار

    جاپان بھی چاند پر مشن بھیجنے کے لیے تیار

    جاپان نے بھی چاند پر خلائی مشن چاند پر بھیجنے کااعلان کیا ہے-

    باغی ٹی وی: جاپانی مشن کو اگست کے آخر میں لانچ کیا جانا تھا مگر خراب موسم کے باعث ایسا نہ ہو سکا، اب یہ 7 ستمبر 2023 کو روانہ ہوگا، اسمارٹ لینڈر فار انویسٹی گیٹنگ مون (سلم) نامی یہ مشن چھوٹے اسپیس کرافٹ پر مشتمل ہوگا جس کا وزن 200 کلوگرام ہے، اس مشن کا بنیادی مقصد منتخب کردہ لینڈنگ کے مقام کے 1 00 میٹر کے اندر پن پوائنٹ لینڈنگ کی صلاحیت کا اظہار کرنا ہے، جس کے ساتھ چاند کی لینڈنگ جنوری 2024 سے شروع ہوگی۔

    جاپان امریکہ، سابق سوویت یونین، چین اور اب ہندوستان کے بعد چاند پر اترنے والا پانچواں ملک بن جائے گا۔ اس ماہ ہندوستان کے چندریان -3 چاند کی تلاش کے مشن کی کامیابی جاپان کے خلائی مشنوں میں حالیہ ناکامیوں سے متصادم ہے-

    مودی حکومت کا آئین میں "انڈیا” کا نام تبدیل کرنے کا فیصلہ

    جاپانی حکام کے مطابق ابھی تو جہاں آسانی محسوس ہوتی ہے خلائی مشن کو لینڈ کیا جاتا ہے، مگر اس مشن سے ہم یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ ہم جہاں چاہے چاند پر لینڈ کر سکتے ہیں یہ چندریان 3 مشن کی سافٹ لینڈنگ تکنیک سے کچھ مختلف ہے،یہ ایک موثر کیمیکل پروپلشن سسٹم کا استعمال کرتا ہے اور اس میں چھوٹے الیکٹرانک آلات شامل ہیں،اس سال تک SLIM کی مجموعی ترقی پر تقریباً 15 بلین ین ($102 ملین) لاگت آئی ہے۔ بھارت نے تقریباً 75 ملین ڈالر کے بجٹ سے اپنا لینڈر لانچ کیا۔

    جے جاپان ایرو اسپیس ایکسپلوریشن ایجنسی (جے اے ایکس اے) کے مطابق پن پوائنٹ لینڈنگ ٹیکنالوجی سے ہم سائنسی طور پر زیادہ اہم مقامات کے قریب اسپیس کرافٹ کو اتار سکیں گے اس مقصد کے حصول سے دیگر سیاروں پر لینڈ کرنا بھی ممکن ہو جائے گا جاپانی مشن کو چاند کے استوائی خطے کے ایک چھوٹے گڑھے Shioli کے قریب اتارنے کی کوشش کی جائے گی یہ پہلی بار ہے جب جے اے ایکس اے کی جانب سے چاند پر مشن بھیجا جا رہا ہے۔

    آئی سی سی کرکٹ ورلڈکپ:بھارت نے اپنے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کردیا

    اس سے قبل ایک نجی جاپانی کمپنی نے کچھ ماہ قبل چاند پر مشن روانہ کیا تھا مگر وہ لینڈنگ میں ناکام رہا تھا جاپانی مشن کے لیے کسی طاقتور راکٹ پر انحصار نہیں کیا جائے گا بلکہ یہ چندریان 3 مشن کی طرح پہلے زمین کے مدار میں داخل ہوگا اور پھر چاند کی جانب روانہ ہوگا اس مشن کو چاند کے مدار میں داخل ہونے میں 4 سے 6 ماہ کا عرصہ لگے گا۔

  • سعودی خلابازوں کا مشن مکمل،10 دن بعد زمین پر واپس پہنچ گئے

    سعودی خلابازوں کا مشن مکمل،10 دن بعد زمین پر واپس پہنچ گئے

    خلا میں سفرکرنے والی پہلی سعودی خاتون خلا باز ریانہ برناوی اور علی القرنی تاریخی خلائی مشن کی تکمیل کے بعد آج زمین پر واپس پہنچیں گے-

    باغی ٹی وی: سعودی وقت کے مطابق شام چار بجے سعودی خلا باز بین الاقوامی اسپیس اسٹیشن سے نکل جائیں گے جبکہ امریکی خلائی ادارہ ناسا سعودی خلا بازوں کی اسٹیشن سے روانگی اور زمین پر آمد تک براہ راست کارروائی دکھائے گا۔

    مقابلہ حسن میں بیوی کا دوسرا نمبر آنے پر شوہر نے فاتح کا تاج ہی …


    10 دن تک جاری رہنے والے خلائی مشن میں خلا بازوں نے متعدد تجربات کیے خلا میں جانے والی پہلی سعودی خاتون ریانہ برناوی نے ٹیم کا شکریہ بھی ادا کیا۔
    https://twitter.com/saudispace/status/1663527980793204739?s=20
    دو سعودی خلابازوں اور ان کے ساتھی امریکیوں پیگی وائٹسن اور جان شوفنر کو لے کر "ڈریگن” خلائی جہاز جو کہ انسانوں کو خود بخود زمین سے باہر لے جانے والا پہلا خلائی جہاز ہے نے واپسی کا سفر شروع کیا ہے جس میں پانی تک پہنچنے میں تقریباً 12 گھنٹے لگیں گے۔ سعودی عرب کی اسپیس اتھارٹی نے کہا کہ "Ax-2” خلائی مشن جسے 22 مئی کو پہلے سعودی سائنسی مشن کے طور پرشروع کیا گیا تھا وہ اختتام پذیر ہوگیا ہے۔

    روس کی "جاسوس وہیل” سویڈن کے ساحلوں پر پہنچ گئی

    خلائی جہاز نے منگل کو بین الاقوامی خلائی اسٹیشن سے اپنا علیحدگی کا سفر شروع کیا۔ اس نے فضا میں داخل ہونے تک کئی تجربات کیے اور یوں ساحل سے دور بدھ کی صبح فلوریڈا میں اتر گیا ہے۔

    واضح رہے کہ بین الاقوامی اسپیس اسٹیشن سے ایکس ٹو مشن کے لئے خلائی شٹل روانہ ہوئی تھی اس میں پہلی مرتبہ 2 سعودی خلا باز شامل تھے جن میں ایک ریانہ برناوی بھی تھیں جو خلا میں سفر کرنے والی پہلی سعودی خاتون بن چکی ہیں۔

    کم ازکم 119 اڑن طشتریاں زمین پر گرکر تباہ ہوچکیں ہیں

  • یو اے ای کی پہلی چاند گاڑی نےخلا میں ایک ماہ کامیابی سے مکمل کرلیا

    یو اے ای کی پہلی چاند گاڑی نےخلا میں ایک ماہ کامیابی سے مکمل کرلیا

    متحدہ عرب امارات کے پہلے چاند مشن کے سلسلے میں روانہ ہونے والی چاند گاڑی "راشد روور” نے خلا میں ایک ماہ کامیابی سے مکمل کر لیا ہے۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی میڈیا کے مطابق جمعہ کے روز راشد روور سے زمینی پر موجود سائندانوں کی ٹیم کو تازہ ڈیٹا موصول ہوا ہے جس کے مطابق اماراتی "راشد روور” نے اب تک کامیابی سے 1،34 ملین کلو میٹر کا خلائی سفر مکمل کیا ہے امکانی طور پر چاند پر ماہ اپریل میں اتر سکے گی۔

    یو اے ای نے چاند پر لینڈ کرنے والا مشن روانہ کر دیا

    "راشد روور” خالصتاً امارات کے سائنسدانوں اور انجینئیرز کی تیار کردہ چاند گاڑی ہے۔ اسے گیارہ دسمبر کو فلوریڈا کے خلائی مرکز سے چاند مشن پر روانہ کیا گا تھا۔ ‘راشد روور’ چاند پر اترنے کے بعد چاند کی سطح سےمتعلق حقائق پرمبنی ڈیٹا زمین پر منتقل کرنا شروع کرے گی اس میں چاند پر موجود ذرارت، دھول، لینڈنگ ایریا کی ہیت اور موسم وغیرہ کے بارے میں بھی آگاہی دینے کے علاوہ دیگر حقائق کی بھی تصویر کشی کرے گی۔

    زمین پر موجود خلائی مرکز کی ٹیم نے ہر ہفتے "راشد روور” سے رابطے کی صورت اس کےبارےمیں ڈیٹا کاجائزہ لےگی اور راشد روور کی کامل درستی کے ساتھ ورکنگ کے بارے میں رپورٹس تیار کرے گی۔

    ماہرین فلکیات کا زمین کےمدارمیں گردش کرتےسیٹلائٹس پرگہری تشویش کا اظہار

    "راشد روور” کو چاند مشن پر روانہ کرنے والی زمینی ٹیم اس کے چاند پر اترنے سے پہلے 12 کے قریب ایسی فرضی اقدامات کرے گی جو چاند گاڑی کے چاند پر اترنے کے بعد کے امکانی ڈیٹا سے متعلق ہوں گے بتایا گیا ہے کہ چاند گاڑی چاند کے کسی غیر دریافت شدہ حصے پر اترے گی-