Baaghi TV

Tag: درخواست

  • عورت مارچ رکوانے کے لئے درخواست خارج

    عورت مارچ رکوانے کے لئے درخواست خارج

    لاہور ہائیکورٹ نے عورت مارچ رکوانے کیلئے دائر درخواست خارج کر دی،

    عدالت نے درخواست کو ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے خارج کر دیا،گزشتہ روز عدالت نے فیصلہ محفوظ کیا تھا جو اب سنا دیا گیا ہے،درخواست گزار کی جانب سے رانا سکندر ایڈووکیٹ پیش ہوئے تھے،درخواست میں پنجاب حکومت ، ڈپٹی کمشنر لاہور سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا تھا،جسٹس شاہد کریم نے شہری اعظم علی بٹ کی درخواست پر محفوظ فیصلہ جاری کیا،

    درخواست گزار نے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ عورت مارچ کے کارڈز اور بینرز اسلامی معاشرے کے لئے کسی صورت قابل قبول نہیں، خدشہ ہے کہ ایک اور عورت مارچ سے نقصِ امن کا ویسا ہی خطرہ پیدا ہوگا جیسا ماضی میں ہوتا رہا ہے، اگر کسی کو بنیادی حقوق نہیں مل رہے تو وہ عدالت سے رجوع کرسکتا ہے۔

    واضح رہے کہ خواتین کے عالمی دن کے موقع پر خواتین لاہور سمیت کئی شہروں میں‌عورت مارچ کے نام سے تقریب کا انعقاد کرتی ہیں، گزشتہ برس بھی عورت مارچ کو رکوانے کےلئے درخواست دائر کی گئی تھی تا ہم عدالت نے مشروط اجازت دی تھی

    عورت مارچ کے خلاف برقع پوش خواتین سڑکوں پر آ گئیں، بے حیائی مارچ نا منظور کے نعرے

    اسلام آباد: عورت مارچ اور یوم خواتین ریلی کے شرکا میں تنازع، عورت مارچ شرکاء نے دیکھتے ہی غلیظ نعرے اورپتھراو شروع کردیا

    عورت مارچ پر پتھراوَ کرنے والوں کے خلاف مقدمہ درج

    حنا پرویز بٹ "عورت مارچ” کے حق میں کھڑی ہو گئیں

  • صادق سنجرانی کو عہدے سے ہٹانے کے لیے  درخواست دائر

    صادق سنجرانی کو عہدے سے ہٹانے کے لیے درخواست دائر

    چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو عہدے سے ہٹانے کے لیے عدالت میں درخواست دائر کردی گئی ہے

    صادق سنجرانی کو چیئرمین سینیٹ کے عہدے سے ہٹانے کے لیے شہری مشکور حسین نے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی ہے، درخواست میں صادق سنجرانی سمیت الیکشن کمیشن اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے،لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہےکہ صادق سنجرانی نے بلوچستان کی صوبائی اسمبلی کی نشست پر الیکشن لڑا اور انہوں نے الیکشن جیتا، الیکشن کمیشن نے کامیابی کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا، صادق سنجرانی بیک وقت دو سیٹیں نہیں رکھ سکتے، وہ غیرقانونی طور پر چیئرمین سینیٹ کے طور پر کام کر رہے ہیں،درخواست میں استدعا کی گئی ہےکہ الیکشن کمیشن صادق سنجرانی کی بطور سینیٹر نشست خالی قرار دینے کا حکم دے اور لاہور ہائیکورٹ انہیں بطور چیئرمین سینیٹ کام کرنے سے بھی روکے۔

  • انتخابات کالعدم قرار دینے کی درخواست سپریم کورٹ میں سماعت کیلئے مقرر

    انتخابات کالعدم قرار دینے کی درخواست سپریم کورٹ میں سماعت کیلئے مقرر

    8 فروری کے عام انتخابات کالعدم قرار دینے کی درخواست سپریم کورٹ میں سماعت کیلئے مقرر کر دی گئی
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ سماعت کریگا، 19 فروری کو درخواست پر سماعت ہو گی،

    سپریم کورٹ میں 8 فروری کے انتخابات کو کالعدم قرار دینے کیلئے درخواست دائر کی گئی ہے، درخواست میں کہا گیا ہے کہ8 فروری کے انتخابات کے نتیجے میں حکومت بننے کے عمل کو روکا جائے ،عدلیہ کی زیر نگرانی 30 روز میں نئے انتخابات کروانے کا حکم دیا جائے ،درخواست علی خان نامی شہری نے دائر کی ہے

    واضح رہے کہ آٹھ فروری کو ملک بھر میں انتخابات ہوئے جس میں کسی بھی جماعت نے واضح اکثریت حاصل نہیں کی،سیاسی جماعتیں ایک طرف حکومت بنانے سے ہچکچا رہی ہیں تو وہیں دھاندلی کے خلاف بھی سراپا احتجاج ہیں،

    پنجاب میں میاں اسلم،بلوچستان میں سالار وزارت اعلیٰ کے امیدوار،بیرسٹر گوہر کا اعلان

    جماعت اسلامی کا تحریک انصاف سے اتحاد سے انکار

    نواز شریف کا چوتھی بار وزارت عظمیٰ کا خواب ادھورا، شہباز شریف وزیراعظم نامزد

    اگر آزاد کی اکثریت ہے تو حکومت بنا لیں،ہم اپوزیشن میں بیٹھ جائینگے، شہباز شریف

    پی ٹی آئی کا وفاق اور پنجاب میں ایم ڈبلیو ایم ،خیبر پختونخوامیں جماعت اسلامی سے اتحاد کا اعلان

    نواز شریف چیخ اٹھے مجھے کیوں بلایا،زرداری کی شرط،مولانا کی ضد،ن کی ڈیمانڈ

    موبائل بندش سے نتائج تاخیر کا شکار،دھاندلی بھی ہوئی، الیکشن کمیشن کی تصدیق

    جہانگیر ترین پارٹی عہدے سے مستعفی،سیاست چھوڑنے کا اعلان

  • نگران وزیراعظم  انوار الحق کاکڑ کو عہدے سے ہٹانےکی درخواست ناقابل سماعت قرار

    نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کو عہدے سے ہٹانےکی درخواست ناقابل سماعت قرار

    لاہور ہائیکورٹ: نگران وزیراعظم اور وزرا کو انکے عہدوں سے ہٹانے کے لیے درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایسی درخواستوں کی پزیرائی نہیں ہونا چاہے .کیا عدالت نگران وزیراعظم کو اسطرح کا حکم دے سکتی ہے ،سرکاری وکیل نے کہاکہ اس طرح کی درخواست جسٹس رضا قریشی مسترد کر چکے ہیں، درخؤاست گزار نے کہا کہ وہ نگران وزیر اعلی کے بارے میں جو زیر سماعت ہے، عدالت نے کہا کہ اس بابت سپریم کورٹ کا فیصلہ آچکا ہے ،سپریم کورٹ کے حکم پر الیکشن تاریخ کا اعلان ہو چکا ہے، نگران وزیراعظم بھی الیکش کرانے کی یقین دہانی کرا چکے ہیں ،آپ نے سپریم کورٹ میں پیٹیشن کیوں دائر نہ کی

    ایڈشنل اٹارنی جنرل نصر احمد نے درخواست کی مخالف کی،وفاقی وکیل نے کہاکہ درخواست قابل سماعت نہیں ہے ۔
    اسطرح کا معاملہ جسٹس عابد عزیز کے پاس زیر سماعت ہے، نگران حکومت نئی حکومت آے تک کام کرتی ہے، ملک کو وزیراعظم کے بغیر چھوڑا نہیں جا سکتا ۔عدالت نے کہا کہ نگران حکومت نے نوے روزمیں الیکشن کرانا ہے ،نوے روز کے بعد الیکشن رزلٹ اور کابینہ وغیرہ کا انتخاب ہونا ہوتا ہے ،سرکاری وکیل نے کہا کہ پہلے سپیکر کا انتخاب ہوتا ہے ،نئی حکومت کو اقتدار سنھبالنے کے لیے 30 روز چاہیئے،جسٹس شاہد بلال حسن نے قانون دان مقصط سلیم کی درخواست پر سماعت کی.

    لاہور ہائی کورٹ نے نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کو عہدے سے ہٹانےکی درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر خارج کردی،لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شاہد بلال حسن نے محفوظ فیصلہ سنا دیا

  • بیوہ کے سامنے اس کے  یتیم بچے پہ تشدد کی حد،انصاف کی اپیل

    بیوہ کے سامنے اس کے یتیم بچے پہ تشدد کی حد،انصاف کی اپیل

    قصور
    بیوہ عورت پہ اس کے سامنے یتیم بچے پہ تشدد،ملزمان یتیم کے مکان پہ قبضہ کرنا چاہتے ہیں

    تفصیلات کے مطابق قصور تھانہ سٹی اے ڈویژن کو رحمت بی بی بیوہ رحمت علی سکنہ کوٹ میر باز خان قصور نے مورخہ 24/11/23 کو درخواست دی کہ وہ اپنے بیٹے مظہر فرید کے ساتھ سبزی منڈی جا رہی تھی کہ تجمل ولد مشتاق اپنے ساتھیوں سمیت گلی کی نکر پہ اپنے ساتھیوں سمیت کھڑا تھا جس نے مجھے اور میرے بیٹے کو دیکھتے ہی گالیاں دینی شروع کر دیں جب میں نے اسے منع کیا تو اس نے میرے بیٹے کو میرے سامنے مارنا شروع کر دیا جس سے میرا بیٹا زخمی ہو گیا تو اس کے اور میرے شور کرنے پہ اہل محلہ نے چھڑوایا
    ملزمان ہم دونوں کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دیتے ہوئے فرار ہو گئے
    اس سے قبل بھی ملزمان نے میرے بیٹے اور مجھے نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے جس کی دو مرتبہ پہلے درخواست گزاری جا چکی ہے تاہم کوئی شنوائی نہیں ہوئی
    بیوہ رحمت بی بی نے بتایا کہ ملزمان میرے مکان پہ قبضہ کرنا چاہتے ہیں جس کی وہ دھمکیاں کئ بار دے چکے ہیں لہذہ ڈی پی او قصور ازخود نوٹس لیتے ہوئے مجھے انصاف مہیا کریں

  • ہر ہفتے بیٹوں سے بات کروائی جائے،عمران خان کی درخواست دائر

    ہر ہفتے بیٹوں سے بات کروائی جائے،عمران خان کی درخواست دائر

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے ہر ہفتے اپنے بیٹوں سے بات کرنے کے لئے درخواست دائر کر دی

    عمران خان کی کی جانب سے ان کے وکلا نے درخواست آفیشل سیکرٹ ایکٹ خصوصی عدالت کے عملے کو جمع کرائی ،عمران خان کی جانب سے عدالت میں دی گئی درخواست میں کہا گیا ہے کہ عدالت نے 21 اکتوبر کو چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی بیٹوں سے بات کرانےکا حکم دیا. سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے چیئرمین پی ٹی آئی کی بیٹوں سے بات کرائی گزشتہ ہفتےکی طرح آج چیئرمین پی ٹی آئی کی بیٹوں سے بات نہیں کرائی جارہی،عمران خان کا اپنے بیٹوں قاسم خان اور سلیمان خان سے بات کرنا حق ہے لہٰذا ہرہفتے کے روز چیئرمین پی ٹی آئی کی بیٹوں سے بات کرانےکا حکم دیا جائے

    عمران خان کے وکیل نے بات کروانے بارے درخواست عدالتی عملے کو جمع کروائی،عدالت کےجج ابوالحسنات کی عدم دستیابی کے باعث درخواست پر کارروائی نہ ہوسکی.

    واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی اڈیالہ جیل سے بیٹوں کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو کروا دی گئی تھی،عمران خان کی بیٹوں سے بات واٹس ایپ پر کروائی گئی،عمران خان نے تین منٹ تک بیٹوں سے بات کی،سلیمان اور قاسم جیل میں قید والد سے گفتگو کرتے جذباتی ہوگئے،عمران خان نے مسکراتے اپنے بیٹوں کو تسلی دی،عمران خان کو بیٹوں سے بات کرنے کا حکم عدالت نے دیا تھا.عمران خان سائفر کیس میں اڈیالہ جیل میں قید ہیں، عمران خان پر فر د جرم عائد ہوچکی ہے، آئندہ سماعت پر گواہوں کے بیانات ریکارڈ ہوں گے.

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

  • پولیس ناکام،خود چور ڈاکو پکڑنے لگی عوام

    پولیس ناکام،خود چور ڈاکو پکڑنے لگی عوام

    قصور
    عوام اپنی مدد اپکے تحت چور ڈاکو پکڑنے پہ مجبور، حراست میں لئے گئے چور کی اطلاع
    ریسکیو 15 پہ دینے کے باوجود پولیس 3 گھنٹے بعد آئی

    تفصیلات کے مطابق قصور میں لوگ چوروں ڈاکوؤں کو اپنی مدد آپ کے تحت پکڑنے پہ مجبور ہیں
    محمد ریحان ولد قاری عبدالجبار سکنہ کوٹ اندرون موری گیٹ قصور نے تھانہ صدر قصور میں درخواست دی کہ قادر آباد سٹی قصور میں وہ ایک نیا مکان تعمیر کر رہا ہے جس میں چند دن قبل چوری کی واردات ہوئی اور جس کی پولیس کو تحریری درخواست دی گئی تاہم کوئی شنوائی نا ہوئی اسی دوران مورخہ 27/9/23 کو میں اپنے زیر تعمیر مکان سکنہ قادر آباد میں صبح کے وقت چکر لگانے گیا تو دو نامعلوم ملزمان سامان چوری کر رہے تھے جن میں سے ایک کو میں نے موقع پہ رنگے ہاتھوں پکڑ لیا اور پولیس کو بذریعہ ریسکیو 15 اطلاع کی کہ میں نے نامعلوم چور کو پکڑا ہے تاہم اطلاع کے تین گھنٹوں بعد پولیس آئی اور ملزم کو حراست میں لے کر چلی گئی
    مدعی نے ڈی پی او قصور سے درخواست کی ہے کہ میری پہلی درخواست پہ ابھی تک کوئی عمل درآمد نہیں ہوا اور میں نے خود چور کو پکڑ کر حوالہ پولیس کیا ہے لہذہ میری موجودہ درخواست پہ مقدمہ درج کرکے کاروائی کا آغاز کیا جائے اور مجھے میرا قیمتی سامان واپس دلوایا جائے

  • لاہورہائیکورٹ کی ججزکوبلا سود قرضےکی منظوری کیخلاف درخواست سماعت کیلئےمقرر

    لاہورہائیکورٹ کی ججزکوبلا سود قرضےکی منظوری کیخلاف درخواست سماعت کیلئےمقرر

    لاہور ہائیکورٹ میں 11 ججزکو بلا سود قرضے کی منظوری کیخلاف درخواست سماعت کے لیے مقرر کردی گئی۔

    باغی ٹی وی: جسٹس شمس محمود مرزا شہری مشکور حسین کی دائر کردہ درخواست پر کچھ دیر بعد سماعت کریں گے،شہری مشکور حسین نے درخواست میں چیف سیکرٹری ،سیکرٹری فنانس سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا-

    درخواست گزارنے موقف اختیار کیا ہے کہ ججز کو بلاسود قرضہ فراہم کرنا غیر قانونی اقدام ہے، وہ پہلے ہی بے شمار مراعات حاصل کررہے ہیں نگراں حکومت عوام کے ٹیکس کے پیسے کا بےدریغ استعمال نہیں کر سکتی،درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت نگران حکومت کی جانب سے ججز کو قرضے دینے کی منظوری کالعدم قرار دے، درخواست کے حتمی فیصلہ تک ججز کو قرضہ دینے کا اقدام معطل کیا جائے۔

    پرویزالٰہی کی درخواست ضمانت پر سماعت کل تک ملتوی

    رجسٹرار آفس نے درخواست پر اعتراض عائد کردیا جس کے مطابق درخواست گزار نے مصدقہ دستاویزات ساتھ نہیں لگائیں جسٹس شمس محمود مرزا بطور اعتراضی درخواست پر سماعت کریں گے۔

    واضح رہے کہ نگراں پنجاب حکومت نے لاہور ہائی کورٹ کے 11 ججز کو 36 کروڑ روپے سے زائد قرضوں کی منظوری دی تھی لاہور ہائی کورٹ کے 11 ججز 12 سال کی مدت میں بغیر ایک روپیہ سود ادا کیے یہ قرض واپس کریں گے۔

    سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس:سندھ ہائیکورٹ کا ملزمان کی پھانسی کی سزا برقرار رکھنے کا حکم

  • کمبوڈیا میں ملازمت کی خواہش،نوجوان کے 40 لاکھ لٹ گئے

    کمبوڈیا میں ملازمت کی خواہش،نوجوان کے 40 لاکھ لٹ گئے

    چکوال کا انسانی سمگلر 40 لاکھ بٹور کا رفو چکر ہو گیا، متاثرین ایف ائی اے میں رلنے لگے

    ایم ایسانٹرنیشنل اوورسیز ایمپلائمنٹ بیورو المصطفی پلازہ سکس روڈراولپنڈی بے روزگار نوجوانوں کو کمبوڈیا کا ویزہ دینے کے چکر میں لوٹ مار کا اڈہ بن چکا ہے اخبار اشتہار میں دیے گئے دونوں فون نمبرز بھی بند ہو چکے ہیں مبین علی نعیم احمد سفیان الظہور عثمان نواز وغیرہ 10 افراد نے ڈائریکٹر ایف ائی اے اسلام اباد زون رانا جبار کو تحریری درخواست دی ہے کہ مذکورہ بالاکمپنی نے اخبار میں اشتہار دیا کہ کمبوڈیا میں پیکنگ کے لیے بندے درکار ہیں جس پر مذکورہ بالا نوجوانوں نے اپنے پاسپورٹس اور فی کس چار لاکھ روپے کمپنی کے ایجنٹ محمد ارسلان ولد محمد احسان ساکن تھنیل کمال تحصیل و ضلع چکوال کو دے دیے جس نے پیسوں کی وصولی کے حوالے سے ایک اسٹام بھی لکھ کر دیا اور پھر کراچی سے کمبوڈیا کے ٹکٹس بھی سائلین کو ای میل کیے لیکن دو دن بعد ٹکٹ کینسل ہونے کی اطلاع دے دی

    درخواست میں کہا گیا کہ اس کے بعد اس ایجنٹ کے نمبرز بند ہو گئے جبکہ کمپنی سے رابطہ کرنے پر انہوں نے اپنے ایجنٹ کو شناخت کرنے سے بھی انکار کر دیا حالانکہ تمام لین دین سکس روڈ پر اس کمپنی کے افس جو کہ المصطفی ٹاور میں ہے ہوتا رہا اب اس کمپنی کے اخبار اشتہار میں دیے گئے دونوں ٹیلی فون نمبر زبند ہو چکے ہیں جب کہ ایف ائی اے کے اسداد انسانی سمگلنگ سیل کے متعلقہ تفتیشی نے بھی اس پر ابھی تک کوئی کاروائی کرنے کی ضرورت گوارا نہیں کی متاثرین نے ڈی جی ایف ائی اے محسن بٹ سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے

    کشتی حادثہ پر مریم نواز کا ردعمل

    کشتی ڈوبنے کے حادثے پرنسل پرستانہ تبصرہ،یونانی رکن پارلیمنٹ کی پارٹی رکنیت معطل

    انسانی اسمگلنگ میں ملوث گینگ کے خلاف کریک ڈاؤن

    لیبیا کشتی حادثہ میں ملوث انسانی سمگلر کو گرفتار 

    حادثے کے مرکزی ملزم ممتاز آرائیں کو وہاڑی سے گرفتار کیا گیا

    انٹر ایجنسی ٹاسک فورس کا ساتوں اجلاس ایف آئی اے ہیڈ کواٹر میں منعقد ہوا

    شہری ڈوب چکے، کئی کی لاشیں ملیں تو کئی ابھی تک لاپتہ ہیں،

  • افسران کیلئے لگژری گاڑیاں، حکومت پنجاب سے دس روز میں تفصیلی رپورٹ طلب

    افسران کیلئے لگژری گاڑیاں، حکومت پنجاب سے دس روز میں تفصیلی رپورٹ طلب

    لاہور: عدالت نےافسران کو گاڑیاں دینے کے خلاف درخواست پر حکومت پنجاب سے دس روز میں تفصیلی رپورٹ طلب کرلی-

    باغی ٹی وی: واضح رہے کہ حکومتِ پنجاب نے اسسٹنٹ کمشنرز، ایڈیشنل کمشنرز اور کمشنرز کے لیے نئی لگژری گاڑیوں کی خریداری کے لیے 2 ارب 33کروڑ روپے کے فنڈز جاری کئے تھے نگران وزیراعلیٰ کی منظوری کے بعد چیف سیکرٹری پنجاب نے تمام ڈویژنل کمشنرز کے لیے 1600 سی سی کاریں، تمام ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز (جنرل) کے لیے 1300 سی سی اور تمام اسسٹنٹ کمشنرز کے لیے ڈبل کیبن فور بائے فور کی خریداری کے لیے 2 ارب 33 کروڑ روپے مختص کیے ہیں۔

    سوال پوچھنے پرچئیرمین پی ٹی آئی کے گارڈ نے صحافی پر حملہ کر دیا

    کہا گیا تھا کہ تمام ڈبل کیبن گاڑیاں جو فی الحال اسسٹنٹ کمشنرز کے زیرِاستعمال ہیں بازیافت کی جائیں گی اور فیلڈ میں بہتر کارکردگی کے عوض تحصیلداروں کو الاٹ کی جائیں گی، تقریباً تمام نئی ڈبل کیبن گاڑیاں مالی سال 18-2017 میں پنجاب میں شہباز شریف کی حکومت کے آخری دور میں خریدی گئی تھیں حکام کا کہنا تھاکہ تحصیلداروں کو نئی گاڑیاں فراہم کرنا ضروری ہے کیونکہ وہ 1990 کی دہائی کی جیپیں استعمال کر رہے ہیں یا نجی گاڑیوں پر فیلڈ وزٹ کر رہے ہیں۔

    جس کے بعد عدالت میں درخواست دائر کی گئی تھی درخواست میں چیف سیکرٹری، سیکرٹری ایکسائز سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے، درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ حال ہی میں آئی ایم ایف سے سخت شرائط پر حکومت نے قرض لیا،‏سخت شرائط پر قرض کے بعد غریب عوام پر بھاری ٹیکسز عائد کردیے گئے،غریب عوام مہنگائی اور بھوک سے خود کشیاں کر رہی ہے،پنجاب حکومت نے غریب عوام کو ریلیف دینے کی بجائے افسران کیلئے نئی گاڑیاں خریدنے کا فیصلہ کیا-

    اپوزیشن لیڈر کے لیے رعنا انصارکا نام فائنل، 24 گھنٹوں میں نوٹیفکیشن جاری ہونے کا …

    درخواست میں مزید کہا گیا کہ پنجاب حکومت نے دو ارب 33 کروڑ روپے سے زائد اسسٹنٹ کمشنرز اور افسران کی گاڑیوں کیلئے فنڈز جاری کر دیئے،صوبے بھر کے اسسٹنٹ کمشنرز، افسران اور محکموں کے پاس پہلے ہی بڑی تعداد میں گاڑیاں موجود ہیں،نگران حکومت نے اختیارات نہ ہونے کے باوجود اربوں روپے گاڑیوں کی خریداری کیلئے جاری کئے-

    درخواست میں استدعا کی کی گئی کہ عدالت اسسٹنٹ کمشنرز اور افسران کو گاڑیاں دینے کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دے،عدالت تمام محکموں اور افسران کے زیر استعمال گاڑیوں کی تفصیلات طلب کرے-

    جسٹس رسال حسن سید نے فرحت منظور چانڈیو ایڈووکیٹ کی درخواست پر سماعت کی، عدالت نے درخواست پر حکومت پنجاب سے دس روز میں تفصیلی رپورٹ طلب کرلی عدالت نے ریمارکس دیئے کہ بتایا جائے کہ صوبے بھر میں کتنی گاڑیاں محکموں اور افسران کے پاس ہیں،اگر عدالت جواب سے مطمئن نہ ہوئی تو متعلقہ افسران کو طلب کریں گے،عدالتی اطمینان کے بعد مناسب حکم جاری کیا جائے گا-

    سائفرمعمولی نوعیت کانہیں تھا،اس کی حیثیت، نوعیت پرقومی سلامتی کےدو اجلاس بلائےگئے،شاہ محمود

    سرکاری وکیل کی طرف سے درخواست کی مخالفت کی کہا کہ درخواست قابل سماعت نہیں ہے-