Baaghi TV

Tag: دریائے سندھ

  • دریائے سندھ میں سونے کے وسیع ذخائردریافت ، کیا  اس سے ملک کی تقدیر بدل سکتی ہے؟

    دریائے سندھ میں سونے کے وسیع ذخائردریافت ، کیا اس سے ملک کی تقدیر بدل سکتی ہے؟

    پاکستان کا دریائے سندھ، جو خطے کی تاریخ اور تہذیب میں مرکزی کردار ادا کرتا رہا ہے، میں اربوں روپے مالیت کے سونے کے وسیع ذخائر دریافت ہوئے ہیں۔

    دریائے سندھ، جو ہمالیہ سے شروع ہوکر بھارت سے گزرتا ہوا پاکستان میں داخل ہوتا ہے، دنیا کے طویل ترین دریاؤں میں سے ایک ہے اور 3200 کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ یہ نہ صرف لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کے لیے پانی کا بنیادی ذریعہ ہے بلکہ اس کے بطن میں قیمتی خزانے، سونا اور دیگر معدنیات بھی چھپے ہوئے ہیں۔یہ سونے کے ذخائر پنجاب کے ضلع اٹک کے قریب دریائے سندھ میں دریافت ہوئے ہیں۔ پاکستان کے جیالوجیکل سروے کی ایک رپورٹ کے مطابق، یہ ذخائر 600 ارب پاکستانی روپے کی ممکنہ آمدنی پیدا کر سکتے ہیں۔ یہ ذخائر، جو دریائی تلچھٹ میں پائے گئے ہیں، خاص طور پر ان علاقوں میں جمع ہوتے ہیں جہاں سردیوں کے موسم میں پانی کا بہاؤ کم ہو جاتا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ سونا ہمالیہ کے شمالی علاقوں سے دریائے سندھ کے تیز بہاؤ کے ذریعے صدیوں میں نیچے پہنچا ہے۔

    دریائے سندھ نے ہمالیہ سے قیمتی معدنیات، بشمول سونے کے ذرات، کو میدانوں تک پہنچانے میں صدیوں سے کردار ادا کیا ہے۔ سرد موسم میں جب پانی کی سطح کم ہو جاتی ہے تو مقامی لوگ دریائی تہہ سے سونے کے ذرات نکالنے کی کوشش کرتے ہیں، تاہم یہ غیر قانونی سرگرمی حالیہ برسوں میں بہت بڑھ گئی ہے، جس کے باعث حکومت کو کارروائی کرنا پڑی۔2024 میں، پنجاب حکومت نے دریائے سندھ سے سونے کی غیر قانونی کان کنی پر پابندی عائد کر دی۔ سونے کی بڑھتی ہوئی طلب کی وجہ سے وسیع پیمانے پر غیر قانونی کان کنی ہو رہی تھی، جسے روکنے کے لیے دفعہ 144 نافذ کی گئی۔ حکام بھاری مشینری کے استعمال پر خاص توجہ دے رہے ہیں تاکہ اس کی روک تھام کی جا سکے۔ پنجاب کے وزیر برائے کان کنی، ابراہیم حسن مراد نے انکشاف کیا کہ اٹک کے علاقے میں 32 کلومیٹر پر پھیلے سونے کے ذخائر کا وزن 32.6 میٹرک ٹن تک ہو سکتا ہے۔اس دریافت نے مقامی اور صوبائی حکام میں خوشی اور تشویش دونوں پیدا کر دی ہیں۔ اس حوالے سے اختلافات بھی سامنے آئے ہیں کہ ان ذخائر کا انتظام کیسے کیا جائے۔ تنازع اس وقت مزید گہرا ہو گیا جب یہ انکشاف ہوا کہ پنجاب کے ایک اعلیٰ افسر نے وزیر اعلیٰ مریم نواز کے حکم کو نظرانداز کیا، جس کے باعث سونے کی ممکنہ کان کنی پر تنازع پیدا ہو گیا۔

    خیبرپختونخوا حکومت نے بھی دریائے سندھ کے حوالے سے ایک سروے کیا ہے، جس میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ ہمالیہ سے سونے کے ذرات دریائے کابل کے ذریعے پشاور اور مردان کے علاقوں تک پہنچ رہے ہیں۔

    یہ وسیع ذخائر پاکستان کے لیے اقتصادی ترقی کے امکانات لاتے ہیں، لیکن ماحولیاتی تحفظ اور وسائل کے انتظام کے چیلنجز بھی پیدا کرتے ہیں۔ حکومت سونے کے ان قیمتی ذخائر کو بروئے کار لانے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ پائیدار ترقی کے اصولوں پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ ان ذخائر کا استعمال یا دیگر معدنیات جیسے زنک اور پتھر پر توجہ مرکوز کرنے کا فیصلہ خطے کی کان کنی کی صنعت کے مستقبل کے لیے اہم ہوگا۔ دریائے سندھ کے اس چھپے ہوئے خزانے کی تقدیر تاحال غیر یقینی ہے۔

    ہَش منی کیس: ڈونلڈ ٹرمپ سزا سے بچ گئے ، جرم برقرار
    وزیراعظم سے مسلم ورلڈ لیگ کے سیکرٹری جنرل کی ملاقات
    چیمپئنز ٹرافی سے قبل بڑے کھلاڑی انجریز کا شکار

  • متنازع منصوبوں کی بجائے تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیں،بلاول

    متنازع منصوبوں کی بجائے تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیں،بلاول

    چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نےدریائے سندھ پر مزید کینالوں کے وفاقی منصوبے کے حوالے سے ویڈیو بیان جاری کیا ہے

    بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ اگر سندھ و بلوچستان کے اعتراضات نہیں سنیں گے تو اس پورے منصوبے کو متنازعہ بنائیں گے۔ متنازع منصوبوں کو شروع کرنے کے بجائے تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیں، اپنی رائے کے زبردستی نفاذ سے منفی اثر ہوگا۔ زراعت ہماری معیشت میں ریڈھ کی ہڈی ہے۔ کوشش ہے کہ وفاقی حکومت کو سمجھائیں کہ ایسے منصوبے نہ بنائیں جو کالا باغ ڈیم کی طرح متنازعہ ہوں ،صوبوں کے درمیان اتفاق رائے بنائیں ہم گرین پاکستان منصوبے کو کامیاب بنا سکتے ہیں۔ زبردستی رائے مسلط کرنے سے سیاسی عدم استحکام و معیشت پر منفی اثر ہوگا

    پانی ہے تو زندگی ہے،چولستان نہر کی تعمیر،افواہیں اور حقائق

    سندھ کا پانی کسی صورت چوری کرنے نہیں دیں گے، پیر پگارا

  • وزارت آبی وسائل کی دریا ئےسندھ پر پانچ ڈیم وہائیڈروپاور بنانے کی تیاری مکمل

    وزارت آبی وسائل کی دریا ئےسندھ پر پانچ ڈیم وہائیڈروپاور بنانے کی تیاری مکمل

    اسلام آباد (محمداویس)وزارت آبی وسائل نے دریا ئےسندھ پر پانچ ڈیم وہائیڈروپاور بنانے کی تیاری مکمل کرلی ڈیم میں کالا باغ ڈیم3600میگاواٹ ،ہائیڈروپاور میں داسو ایچ پی پی2160میگاواٹ ،پاٹن ایچ پی پی 2400میگاواٹ ،تاکوٹ ون ٹو تری 4714 میگاواٹ اور بنجی ایچ پی پی 7100میگاواٹ شامل ہیں ۔ وفاقی سیکرٹری نے کمیٹی کو بتایا کہ ڈیڈھ کروڑ آبادی سیلاب کے علاقے میں رہتی ہے،سینیٹرز نے کہاہے کہ کالاباغ ڈیم دفن ہوگیا ہے اس پر مزید بات نہیں ہوگی ۔

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل کا اجلاس چیئرمین شہادت اعوان کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا اجلاس میں فیصل سلیم رحمان، ہمایوں مہمند اور پنجو بیل نے شرکت کی ۔سیکرٹری آبی وسائل نے کمیٹی کو بتایا کہ وزارت آبی وسائل میں کل ویکنسی 135ہیں جن میں سے 102پر ملازمین کام کررہے ہیں افسران کی 38 میں سے 20 فل ہیں جبکہ 18 خالی ہیں ملازمین کی 97آسامیوں میں سے 82 کام کررہے ہیں باقی خالی ہیں ۔نیشنل واٹر پالیسی سی سی آئی نے منظور کی ہوئی ہے دیامر بھاشا ڈیم 15.72فیصد،مہمند ڈیم 33.53فیصد، گریٹر کراچی بلک واٹر (کے فور)47.07 فیصد ،کچی کنال 95.76فیصد نئی کج ڈیم 44.18 داسو ہائیڈرو پر 21.86فیصد کام مکمل ہوگیا ہے ،دیامر بھاشا ڈیم 650ارب کی لاگت ہےجبکہ 4500میگاواٹ بجلی پیدا ہوگی اور فروری 2029 میں مکمل ہوگا ،مہمند ڈیم کی لاگت 309ارب ہے جبکہ اس سے 800میگاواٹ بجلی پیدا ہوگی اور دسمبر 2025 میں مکمل ہوگا ، گریٹر کراچی بلک واٹر (کے فور)کی لاگت 23ارب ،کچی کنال کی لاگت 23ارب نئی کج ڈیم کی لاگت 46.98ارب اوراس سے 4.2میگاواٹ بجلی پیدا ہوگی اور جون 2026 کو مکمل ہوگا ۔داسو ہائیڈرو سے 2160 میگاواٹ بجلی پیدا ہوگی ۔وزارت آبی وسائل نے مالی سال 2023-24میں 18 منصوبے مکمل کئے جن کی لاگت 603ارب روپے سے زائد تھی پانی کے 15منصوبے پر 54 ارب روپے خرچ ہوئے ہائیڈرو پاور کے 3 منصوبون پر 549ارب روپے خرچ ہوئے پانی کی سٹوریج کیپسٹی 74144ایکڑ فٹ کا اضافہ ہوا پانی ذخیرہ کرنے کے علاقے میں 11735ایکڑ اضافہ ہوا جبکہ 2379میگاواٹ بجلی کا اضافہ ہوا ہے ۔

    ہمایوں مہمند نے کہاکہ کالا باغ ڈیم پر آخری بار کب بات ہوئی ہے سائنسی بنیادوں پر ہونےوالی ریسرچ کیا کہتی ہے ۔.سینیٹرپنجو بیل نے کہاکہ ایجنٍڈے میں کالا باغ ڈیم کا ذکر نہیں ہے اس پر بات نہیں ہونی چاہیے ہم اس پر حساس ہیں ۔ سکردو میں کالا باغ ڈیم بنا لیں ۔پیپلزپارٹی کے سینیٹر کی مخالفت پر کالا باغ ڈیم پر سیکرٹری نے جواب نہیں دیا ۔ سینیٹر فیصل سلیم رحمان نے کہاکہ ڈیم ہم بنارہے ہیں اس کے ساتھ بجلی کے پلانٹ لگارہے ہیں کیا ہمیں اتنے بجلی کی ضرورت ہے اس سے خرچہ زیادہ آتاہے ۔ سیکرٹری نے کہاکہ بجلی کی ڈیمانڈ کم ہے مگر جو یہ شروع ہوئے تھے اس وقت بجلی کی ڈیمانڈ زیادہ تھی اس لیے یہ منصوبے مکمل کرنے ہیں درمیان میں روک نہیں سکتے ہیں ۔حکام نے بتایا کہ ہائیڈرل بجلی سستی پڑتی ہے ۔ وفاقی سیکرٹری نے کہاکہ پانی جتنا پہلے آتا تھا اب بھی اتنی ہی آرہاہے آبادی بڑھنے کی وجہ سے فی کس پانی کم ہوجاتا ہے ۔

    پنجو بیل نے کہاکہ کچے میں سندھ کا پانی چوری ہورہاہے اس کو روکیں حکام نے بتایاکہ سندھ میں بارشوں کی وجہ سے سیلاب آیا ہے دریا میں زیادہ پانی آنے سے ایسا سیلاب نہیں آیا ہے ۔ عمرکوٹ کے پانی کا مسئلہ حل ہو گیا ہے نکاسی اب سب سے بڑا مسئلہ ہے اس پر کام کرنا پڑے گا ۔ حکام نے بتایا کہ عطاآباد جھیل سے 54 میگاواٹ بجلی بنانے کے لیے بجلی گھر بنانے کا منصوبہ ہے منصوبے پر 21ارب 24کروڑ روپے سے زائد کی لاگت آئی گی ۔ عطاآباد جھیل کے آگے ایمرجنسی کا نظام لگادیا گیا ہے ۔سیکرٹری نے بتایا کہ پاکستان کی ڈیڑھ کروڑ آبادی سیلاب کے علاقوں میں رہتی ہے دستیاب دستاویزات کے مطابق وزارت آبی وسائل نے دریا سندھ پر پانچ ڈیم و ہائیڈروپاور بنانے کی تیاری مکمل کرلی ڈیم میں کالا باغ ڈیم3600میگاواٹ ،ہائیڈروپاور میں داسو ایچ پی پی2160میگاواٹ ،پاٹن ایچ پی پی 2400میگاواٹ ،تاکوٹ ون ٹو تری 4714 میگاواٹ اور بنجی ایچ پی پی 7100میگاواٹ شامل ہیں۔سینیٹر حاجی ہدایت اللہ نے کہا کہ کالا باغ ڈیم کا معاملہ دفن ہوچکا ہے اس پر بات نہیں ہونی چاہیے تین صوبوں نے اس کے خلاف قراردادیں منظور کی ہے ۔

    ایک نمبر کا بدمعاش اور تلنگا ڈاکٹر ریاض،دہشتگردوں سے تعلق،ایجنسیوں پر الزام

    پی آئی اے کا جنازہ ہے،ذرا دھوم سے نکلے،مرحوم کیلیے بہت دعائیں

    ثابت ہو گیا حسنہ واجد بھارت کی "کٹھ پتلی” تھی.مبشر لقمان

    190 ملین پاؤنڈ کیس،عمران کے گلے کا پھندہ،واضح ثبوت،بچنا ناممکن

    فیض حمید جیو نیوز کو بند کرنا چاہتے تھے،پی ٹی آئی ٹوٹ پھوٹ کا شکار،اگلا چیئرمین کون

    ماہ رنگ بلوچ کون،دو نمبر انقلاب اور بھیانک چہرہ

    پاکستان کی بدترین شکست،ڈریسنگ روم میں لڑائی،محسن نقوی ناکام ترین چیئرمین

    جنرل عاصم منیرنے ڈنڈا اٹھا لیا، فیض حمید گواہ،اب باری خان کی

  • دریائےسندھ  پر پکنک مناتےہوئے باپ دو بچوں سمیت ڈوب گیا

    دریائےسندھ پر پکنک مناتےہوئے باپ دو بچوں سمیت ڈوب گیا

    دریائےسندھ باغ نیلاب کےمقام پرپکنک مناتےہوئے باپ دو بچوں سمیت ڈوب گیا۔

    باغی ٹی وی : دریائے سندھ باغ نیلاب کے مقام پرپکنگ مناتے ہوئے باپ دو بچوں سمیت ڈوب گیا ریسکیو حکام کے مطابق مقامی لوگوں نےباپ خرم شہزاد کو بچالیا ریسکیواہلکاروں کے مطابق 17 سالہ شہیر کی لاش نکال کر اسپتال منتقل کر دی جبکہ 11 سالہ بیٹی کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہےریسکیو حکام کا کہنا ہے اندھیرے کی وجہ سے ریسکیو آپریشن میں مشکلات کا سامنا ہے۔

    دوسری جانب ضلع پیشین کے علاقے میں لمڑان زرک میں پکنک منانے کے لئے آنے والی فیملی کی دو لڑکیاں ڈیم کے کنارے بیٹھی تھی کہ اچانک ڈیم میں گر کر ڈوب گئیں واقعہ کی اطلاع ملتے ہی لیویز فورس اور پی ڈی ایم اے کا عملہ موقع پر پہنچ گئے اور ریسکیو آپریشن کرتے ہوئے کئی گھنٹوں کی جدوجہد کے بعد دونوں لاشیں ڈیم سے نکال کر قانونی کاروائی کے لئے اسپتال منتقل کر دیں جہاں ضروری کارروائی کے لاشیں ورثا کے حوالے کر دی گئیں، لڑکیوں کی عمریں 16 سے 17 سال کے درمیان تھیں اور وہ عید کی خوشیاں منانے کے لئے ڈیم میں پکنک منانے کے لئے آئے تھے۔

    ادھر رحیم یار خان کے علاقے فیض آباد پر شادب نہر میں 2 بچے میں ڈوب کر جاں بحق ہو گئے۔ ذرائع ریسکیو کا کہنا ہے کہ دونوں بچے بہن بھائی تھے اور نہر کے کنارے کھیل رہے تھے کہ اچانک نہر میں گر کر ڈوب گئے۔

    دوسری جانب لیہ میں بھی افسوسناک واقعہ رونما ہوا ہے، جہاں 3 بچے ڈوب کر جاں بحق ہو گئے ہیں لیہ کے جکھڑ جمن شاہ کے علاقے میں 3 بچے دریائے سندھ میں ڈوب گئے تھے، جبکہ دو بچوں کی لاش نکال لی گئی ہے تاہم ریسکیو ذرائع کے مطابق تیسرے بچے کی تلاش کے لیے آپریشن جاری ہے۔

    علاوہ ازیں کراچی کی ساحلی پٹی پر دفعہ 144 کا نفاذ کر دی گئی ہے، ہاکس بے جانے والی سڑک کو بھی شہریوں کے لئے بند کر دیا گیاماڑی پولیس پولیس نے سمندر میں نہانے والے 5 افراد کو گرفتار بھی کرلیا ہے۔

  • واپڈا نے دریائے سندھ کا رخ موڑ دیا

    واپڈا نے دریائے سندھ کا رخ موڑ دیا

    دیامر بھاشاڈیم منصوبہ تکمیل کی جانب گامزن ہے، واپڈا نے صدیوں سے بہتے دریائے سندھ کا رخ ٹنل کی جانب موڑ دیا۔

    باغی ٹی وی : ڈیم کی تعمیر میں مصروف عمل واپڈا نے اہم سنگ میل عبور کرتے ہوئے صدیوں سے بہتے قومی دریا ”انڈس ریور“ کا رخ موڑ دیا اب دریائے سندھ ایک کلومیٹر سرنگ اور 800 میٹر لمبی نہر سے ہوتا ہوا دوبارہ اپنے اصل روٹ میں شامل ہوگا۔

    نگران وزیر اعظم اس اہم پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے اگلے چند روز میں دیامر بھاشا ڈیم سائیٹ کا دورہ بھی کریں گے،ڈیم پر جاری کاموں کا جائزہ لینے اور وزیر اعظم کے دورے کے پیش نظر چئیرمین واپڈا انجینئیر لیفٹنٹ جنرل ریٹائرڈ سجاد غنی نے دیا مر بھاشا ڈیم پراجیکٹ کا دورہ کیا ہے چیئرمین واپڈا نے ڈائی ورشن سسٹم کے ٹیسٹ رن کا جائزہ لیا-
    https://x.com/wapda_pr/status/1733805945959174528?s=20
    چیئرمین واپڈا نے دیامر بھاشا ڈیم پراجیکٹ کی مختلف سائٹس پر تعمیراتی کام کا بھی جائزہ لیا پراجیکٹ حکام نے چیئرمین واپڈا کوبریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ ہفتے دریا کا رُخ جزوی طور پر موڑا جا چکا ہے ڈائی ورشن سسٹم موثر طور پر کام کر رہاہے،دیامر بھاشا ڈیم پراجیکٹ پر آئندہ ہفتے دریا کا رُخ مکمل طور پر موڑ دیا جائے گا،ڈائی ورشن سسٹم سے گزر کر دریا دوبارہ قدرتی راستے سے جا ملے گا،ڈائی ورشن ٹنل اور ڈائی ورشن کینال موثر طور پر کام کر رہے ہیں۔

    دیامر بھاشا ڈیم کی مجموعی طور پر 13 سائٹس پر بیک وقت تعمیراتی کام جاری ہے،دیا مر بھاشا ڈیم پراجیکٹ چلاس شہر سے 40کلو میٹر زیریں جانب دریائے سندھ پر تعمیر کیا جارہا ہےدیامر بھاشا ڈیم منصوبہ کی تکمیل 2028 میں شیڈول ہے،دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر مکمل ہونے سے 8.1 ملین ایکڑ سیلابی پانی ذخیرہ ہونے کے ساتھ 4500 میگاواٹ سستی اور ماحول دوست بجلی بھی حاصل ہوگی، جبکہ ایک ملین ایکڑ سے زائد اراضی بھی سیراب ہوگی،دیا مر بھاشا ڈیم پراجیکٹ واپڈا کے 8زیر تعمیر بڑے منصوبوں میں سے ایک ہے، یہ 8 منصوبے 2024 سے 2028-29 تک مرحلہ وار مکمل ہوں گے۔

  • دریائےسندھ  میں خورہ خیل کے مقام پر 4 سگے بہن بھائی ڈوب گئے

    دریائےسندھ میں خورہ خیل کے مقام پر 4 سگے بہن بھائی ڈوب گئے

    دریائےسندھ خورہ خیل کے مقام پر ایک ہی گھر کے 4 افراد ڈوب گئے، جن کی تلاش کے لئے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

    باغی ٹی وی: اٹک میں دریائے سندھ خورہ خیل کے مقام پرنہاتے ہوئے ڈوبنے والوں میں 3 سگی بہنیں اورایک بھائی شامل ہے اطلاع ملنے پر ریسکیو 1122 کی ٹیمیں اور پولیس موقع پر پہنچ گئیں،سرچ آپریشن کے دوران ریسکیو غوطہ خور ٹیم نے مسلسل 3 گھنٹے آپریشن جاری رکھا، لیکن اندھیرا چھا جانے کے باعث ریسکیو آپریشن بند کر دیا گیا۔

    ریسکیوحکام نے بتایا کہ ڈوبنے والوں میں 22 سالہ، 20 سالہ اور 18 سالہ دختر شہزادہ خان اور 15 سالہ عامر خان شامل ہے، چاروں سگے بہن بھائی ہیں، جو دریا پر سیر و تفریح کے لیے گئے تھےپانی گہرا ہونے کی وجہ سے آپریشن میں مشکلات ہورہی ہیں، تاہم آج صبح دوبارہ ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا-

    سیلفی بناتےہوئے3 دوست سیلاب میں بہہ گئے

    قبل ازیں قبل ہفتے کو بہاولنگر مومیکا کے قریب دریائے ستلج کے کنارے سیلفی لیتے ہوئے تین دوست سیلاب میں ڈوب گئے تھے تینوں نوجوان سرکلر روڑ بہاولنگر کے رہائشی تھے جو دریائے ستلج میں آنے والے سیلاب میں سیلفیاں بنانے گئے تھے ریسکیو ٹیم نے آپریشن کرتے ہوئے دو نوجوانوں کو زندہ نکال لیا تھا۔

    دریائے ستلج میں نچلے درجے کا سیلاب،متعدد آبادیاں زیر آب،مزید بارشوں کی پیشگوئی

    دوسری جانب دریائے ستلج میں نچلے درجے کا سیلاب آنے سے متعدد آبادیاں زیرآب آ گئیں دریائے ستلج میں نچلے درجے کا سیلاب آنے سے متعدد آبادیاں زیرآب آ گئیں جس سے مقامی آبادی کو شدید مشکلات کا سامنا ہے علاوہ ازیں بارشوں کے باعث دریائے راوی میں ہیڈ بلوکی سے مسلسل پانی چھوڑا جانے لگا، جس کے باعث کمالیہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے،دریا کنارے کی بستیوں میں پانی داخل ہو گیا، مقامی افراد اپنی مدد آپ کے تحت اپنے مویشیوں کو نکال کر محفوظ مقام پر منتقل کر رہے ہیں۔

    سعودی عرب کی باجوڑ خودکش دھماکے کی شدید مذمت

    اس کے علاوہ سندھ کے بیراجوں پر بھی پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہوگیا ہے، پنجاب سے آنے والے سیلابی ریلے سندھ کے بیراجوں سےگزرنےلگے ہیں ادھر بلوچستان کےعلاقے ڈیرہ مرادجمالی سمیت مختلف علاقوں میں ایک بار پھرہونے والے بارشوں سے نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہو گیا ڈیرہ بگٹی میں ایف سی کی جانب سے بارش متاثرین میں امدادی سامان تقسیم کیا گیا۔

    8 یا 9 اگست کو اسمبلی ٹوٹ جائے گی. رہنما پیپلزپارٹی کا دعویٰ

  • دریائے سندھ میں تین بھائی نہاتے ہوئے ڈوب گئے

    دریائے سندھ میں تین بھائی نہاتے ہوئے ڈوب گئے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق دریائے سندھ میں تین بھائی نہاتے ہوئے ڈوب گئے،

    واقعہ حیدر آباد میں پیش آیا، مہران پل کے قریب تینوں بھائی ڈوبے، پولیس ،ریسکیو ادارے موقع پر پہنچ گئے، تین میں سے ایک بھائی کو بچا لیا گیا، دو کی تلاش جاری ہے،اہلخانہ بھی دریا کے کنارے پہنچ چکے ہیں،ریسکیو ٹیموں کا آپریشن جاری ہے، ڈوبنے والے 3 بھائیوں میں سے 1 کو بچالیا گیا، دو کی تلاش ابھی تک جاری ہے

    واضح رہے کہ دریائے سندھ میں شہریوں کے ڈوبنے کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، رواں برس ماہ اپریل میں بھی تین نوجوان ڈوب کر جاں بحق ہو گئے تھے،دریائے سندھ میں سوجھنڈا کے مقام پر دریا کنارے پکنک منانے گئے ہوئے تھے، ایک نوجوان وضو کرنے گیا لیکن پاؤں پھسلنے سے پانی میں جا گرا،

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    10جولائی تک فیصلہ کرنا ہے،آپ کو 7 اور 8 جولائی کے دو دن دیئے جا رہے ہیں 

  • گرمی کی لہر: شمالی علاقوں میں گلیشیئرز پھٹنے کا خدشہ،دریائے سندھ میں پانی کا بہا ؤغیرمعمولی

    گرمی کی لہر: شمالی علاقوں میں گلیشیئرز پھٹنے کا خدشہ،دریائے سندھ میں پانی کا بہا ؤغیرمعمولی

    شمالی علاقوں میں گرمی کی شدید لہرسے گلیشیئرز پھٹنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے-

    باغی ٹی وی : ذرائع وزارت آبی وسائل کے مطابق درجہ حرارت بڑھنے سے گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں گلیشیئر سے نکلنے والے ندی نالوں میں طغیانی کی کیفیت ہے، دریائے سندھ میں پانی کا بہا ؤغیر معمولی ہو رہا ہےشمشال ویلی، گانچھے، پسو اور سکردو سے ملحقہ علاقوں میں ندی نالوں میں بھی طغیانی ہے جبکہ دریائے سندھ میں پانی کا بہاؤ 2لاکھ کیوسک سے بڑھ چکا ہے گرمی کی شدت میں اضافے یا برقرار رہنے سے دریائے سندھ کا بہاؤ ساڑھے 3لاکھ کیوسک تک جا سکتا ہے، گرمی کی شدت اور حبس سے بھی گلیشیئر پگھلنے کا خدشہ ہے۔

    پری مون سون بارشوں سےسیلاب اور پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ

    ادھر محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ ملک میں آج بارش برسانے والا سسٹم داخل ہو چکا ہے جس کے باعث 30 جون تک پنجاب کے مختلف شہروں میں بارشوں کا امکان ہے موسلا دھار بارشوں سے لاہور، اسلام آباد، راولپنڈی اور گوجرانوالا میں اربن فلڈنگ جبکہ مری میں لینڈ سلائیڈنگ کا بھی خدشہ ہے۔

    واضح رہے کہ ملک کے مختلف حصے شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں اور متعدد شہروں میں گرمی کی شدت حقیقی درجہ حرارت سے کئی ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ محسوس کی جا رہی ہےسبی، لاڑکانہ اور دادو میں پارا 42 ڈگری تک گیا تاہم گرمی کی شدت 50 ڈگری تک محسوس کی گئی جبکہ خیرپور، ملتان اور پشاورمیں درجہ حرارت 40 ڈگری اور لاہورمیں 39 کی گرمی کی شدت 52 ڈگری سینٹی گریڈ تک محسوس کی گئی اسلام آباد میں 38 ڈگری کی گرمی 48 ڈگری تک محسوس کی جا رہی ہے جبکہ کوئٹہ میں 37 ڈگری اور کراچی میں درجہ حرارت 36 گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔

    ٹائٹن کے زیر سمندر پھٹنے کی تحقیقات شروع

    دوسری جانب ملک کے بیشتر شہروں میں گرمی کے بڑھتے ہی بجلی کی لوڈ شیڈنگ شروع ہو گگئی ، شہری علاقوں میں 8 گھنٹے اور مضافاتی علاقوں میں 16 گھنٹے تک بجلی غائب رہنے لگی پاور ڈویژن کے مطابق ملک بھر میں بجلی کا شارٹ فال 6 ہزار 765 میگاواٹ تک پہنچ گيا ہے۔

    کئی گھنٹے کی لوڈشیڈنگ پر پشاور میں شہریوں کی جانب سے احتجاج کیا گیا اور لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا کراچی میں بھی لوڈشیڈنگ 4 سے 14 گھنٹے تک ہو گئی، کے الیکٹرک کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ لوڈشیڈنگ علاقے میں بجلی چوری اور نقصانات کی شرح پر منحصر ہے۔

    اسٹیٹ بینک کا عیدلاضحیٰ کی چھٹیوں میں بینکس کھولنے کا اعلان

  • دیامر بھاشا ڈیم کے لیے دریائے سندھ کا رُخ موڑنے کا فیصلہ

    دیامر بھاشا ڈیم کے لیے دریائے سندھ کا رُخ موڑنے کا فیصلہ

    دیامر بھاشا ڈیم کیلئے دریائے سندھ کا رخ نومبر میں موڑ دیا جائے گا۔

    باغی ٹی وی : چیئرمین واپڈا سجاد غنی کو دیامربھاشا ڈیم پروجیکٹ کے دورے پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ڈیم کیلئے دریائے سندھ کا رخ نومبر میں موڑ دیا جائے گا اور دریائے سندھ کا رُخ موڑنا اہم ترین اہداف میں سے ایک ہے جس کے بعد دریائے سندھ ڈائی ورژن کے بعد اپنے قدرتی راستے سے جاملے گا دیامر بھاشا ڈیم پروجیکٹ کی 13 سائٹس پر تعمیراتی کام جاری ہے۔

    پشاورمیں پہلی باربچوں کابھی بغیرسینہ چاک کیےدل کا کامیاب آپریشن

    پراجیکٹ حکام کا کہنا تھا کہ دیا مر بھاشا ڈیم میں 8.1 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ ہوگا، ڈیم سے 4 ہزار 500 میگاواٹ سستی بجلی پیدا ہوگی جب کہ 4 ہزار 320 میگا واٹ کا داسو پروجیکٹ 2 مراحل میں مکمل کیا جائے گا –


    دیا مر بھاشا خیبر پختونخواہ کے ضلع کوہستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے گلگت بلتستان کے ضلع دیامر کے درمیان دریائے سندھ پر ہےاس کا سنگ بنیاد اس وقت کے وزیر اعظم پاکستان نے 1998 میں رکھا تھااس کا کچھ حصہ خیبر پختوںخوا کے علاقے کوہستان میں جبکہ کچھ حصہ گلگت بلتستان کے ضلع دیامیر میں آتا ہے اور اسی وجہ سے اسے دیامربھاشا ڈیم کا نام دیا گیا ہے۔

    یہ ڈیم دریائے سندھ پر تعمیر کیا جائے گا۔ یہ تعمیر تربیلا ڈیم سے 315 کلومیٹر کی بلندی پر جبکہ گلگت بلتستان کے دارالحکومت گلگت سے 165 کلومیٹر اور چلاس سے 40 کلومیٹر دور دریائے سندھ کے نچلی طرف ہو گی۔

    محکمہ صحت اور اسپتالوں کی انتظامیہ ڈاکٹروں کو کام پر لانے میں ناکام،ہڑتال 8ویں روز …

    واپڈا کے مطابق ڈیم کی بلندی 272 میٹر ہو گی۔ اس کے 14 سپل وے گیٹ تعمیر کیے جائیں گے۔ اس میں مجموعی طور پر پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش 8.10 ملین ایکٹر فٹ ہو گی جبکہ اس میں ہمہ وقت 6.40 ملین ایکٹر فٹ پانی موجود رہے گا۔

    اس پانی کو زراعت کے لیے بھی استعمال کیا جائے گا۔ واپڈا کے مطابق اس منصوبے سے نہ صرف صوبہ خیبر پختوںخوا کے علاقے ڈیرہ اسماعیل خان کا چھ لاکھ ایکڑ کا رقبہ قابل کاشت ہو جائے گا بلکہ مجموعی طور پر تین ملین ایکڑ زرعی رقبہ سیراب ہو سکے گا۔

    اس ڈیم سے بجلی پیدا کرنے کے لیے 12 ٹربائن لگائی جائیں گیں اور ہر ایک ٹربائن سے متوقع طور پر 375 میگا واٹ بجلی جبکہ مجموعی طور پر 4500 میگا واٹ بجلی حاصل ہو گی۔

    اے این ایف کی ملک بھر میں کارروائیاں، بھاری مقدار میں منشیات برآمد

    ڈیم دریائے سندھ کے پانی کا قدرتی بہاؤ استعمال کرتے ہوئے اس پانی کا 15 فیصد استعمال کرے گا جبکہ اس مقام پر دریائے سندھ کا سالانہ اخراج پانچ کروڑ ایکڑ فیٹ ہے۔ ڈیم مجموعی طور پر 110 مربع کلومیٹررقبےپرپھیلا ہوگاجبکہ 100 کلومیٹر مزید رقبے پر ڈیم کے انفراسٹر کچر کی تعمیر ہو گئی۔

    واپڈا کی رپورٹ کے مطابق ڈیم کی تعمیر سے 30 دیہات اور مجموعی طور پر 2200 گھرانے جن کی آبادی کا تخمینہ 22 ہزار لگایا گیا ہے متاثر ہوں گے جبکہ 500 ایکڑ زرعی زمین اور شاہراہ قراقرم کا سو کلومیٹر کا علاقہ زیرِ آب آئے گا ان نقصانات کی تلافی اور متاثرہ آبادی کی آباد کاری کے لیے نو مختلف منصوبے شروع کیے جائیں گے۔

  • دریائے سندھ میں پانی کی سطح میں کمی،منچھر جھیل پر مزید تین کٹ لگا دیئے گئے

    دریائے سندھ میں پانی کی سطح میں کمی،منچھر جھیل پر مزید تین کٹ لگا دیئے گئے

    منچھر جھیل کے پانی کو دریائے سندھ میں چھوڑنے کیلئے لاڑکانہ سیہون بند پر تین کٹ لگا دیئے گئے جس پر میہڑ رنگ بند پر پانی کی سطح میں دو انچ کی کمی آگئی ہے۔

    باغی ٹی وی : محکمہ آبپاشی کے مطابق ڈپٹی کمشنر جامشورو اور دیگر کی موجودگی میں دریائے سندھ میں پانی کی سطح کم ہونے پر ایل ایس بند کو کٹ لگائے گئے کٹ لگنے کے بعد قمبر شہداد کوٹ کی تحصیل وارہ،سجاول اور دادو کی تحصیلیں خیرپور ناتھن شاہ، میہڑ اور جوہی میں پانی کی سطح کم ہو جائے گی۔

    ای سی سی اجلاس،سیلاب متاثرین کیلئے3ارب روپےکے فنڈز کی منظوری

    آبپاشی حکام کا خیال ہے کہ کٹ لگنے سے تین چار روز میں شہداد کوٹ اور دادو کے علاقوں میں موجود پانی بذریعہ منچھر جھیل دریائے سندھ میں چلا جائے گابھان سعید آباد کے انڈس لنک کینال کے بند پر پانی کے شدید دباؤ کے باعث دو شگاف پڑگئے، جس سے 29 دیہات زیر آب آ گئے۔

    دوسری جانب دادو شہر کو سیلاب سے بچانے کیلئے رنگ بند کی اونچائی کا کام جاری ہے، جوہی کے رنگ بند کو 12 فٹ اونچا کر دیا گیا ہے کویتی ہلال احمرکی جانب سے جوہی میں سیلاب کی صورتحال اور تباہ کاریوں کا جائزہ لیا گیا اور متاثرین سیلاب میں ضروری امدادی سامان تقسیم کیا گیا۔

    ایکسین محکمہ آبپاشی سہیون کے مطابق سیہون کے مقام پر دریائے سندھ کی سطح میں معمولی کمی کے بعد منچھر کے پانی کو دریائے سندھ میں لے جانے والی دانستر واہ کے گیٹ کھول دیئے گئے جبکہ منچھر جھیل میں پانی کی سطح بھی کم ہوئی ہے لیکن ابھی منچھر جھیل سے دریا میں پانی کا اخراج بہت کم ہے۔

    مہیش کمار کے مطابق کل دوپہر تک دریا کی سطح میں کمی کا امکان ہے جس کے بعد جھیل سے پانی کا اخراج تیز ہو جائے گا منچھر جھیل میں پانی کی سطح 123 اشاریہ 3 سے کم ہو کر 122 اشاریہ 2 ہو گئی ہے۔

    ادھر سیلابی پانی نے سندھ کے شہر خیرپور ناتھن شاہ میں بھی زندگی مفلوج کردی ہےڈیڑھ لاکھ آبادی والے شہر میں گھر، دکانیں، عمارتیں اور اسپتال کئی فٹ پانی میں ڈوب گئے ہیں 14 روز سے پانی میں گھرے شہریوں کے لیے زندگی کا پہیا رُک سا گیا ہے، چھتوں اور دیواروں پر بیٹھے متاثرین مدد کے منتظر ہیں-

    سیلاب سے جانی ومالی نقصان پربہت دُکھی ہیں :سیلاب متاثرین کی فی الفور مدد کی…