Baaghi TV

Tag: دریائے سندھ

  • دریائےسندھ میں چاچڑاں شریف کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ،وزیر خارجہ بلاول کی سیلاب متاثرین کیلئے اقدامات کی اپیل

    دریائےسندھ میں چاچڑاں شریف کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ،وزیر خارجہ بلاول کی سیلاب متاثرین کیلئے اقدامات کی اپیل

    رحیم یارخان :دریائےسندھ میں چاچڑاں شریف کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے 100 سے زائد دیہات زیر آب آ گئے-

    باغی ٹی وی : ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس وقت 7 لاکھ 25 ہزار کیوسک کا سیلابی ریلا گزر رہا ہے مطابق سیلاب کے باعث 100 سے زائد دیہات اور فصلیں زیرآب آگئیں جبکہ کئی مکانات گر گئے، سیلابی صورتحال کے باعث حفاظتی بندوں کی مرمت کا کام جاری ہے۔

    دریائے سندھ میں تونسہ کے مقام پر اونچے درجے کاسیلاب،الرٹ جاری

    ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سیلاب سے مزید دیہات متاثر ہوسکتے ہیں اس لیے بستیاں اور دیہات خالی کرانے کے لیے اعلانات کیے جا رہے ہیں۔

    دوسری جانب دریائے سندھ میں پانی کی سطح بلند ہو رہی ہے جس کے بعد دریا سے منسلک اضلاع کو الرٹ کردیا گیا ہے۔

    ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق دریائے سندھ میں تونسہ، چشمہ، گڈو اور سکھر کے مقام پر پانی کی سطح بلند ہے، دریائے سندھ سے منسلک تمام اضلاع کو الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

    ادھر وزیر خا رجہ بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ پاکستان میں سیلاب سے 1500 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے۔


    سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹوئٹر پر بیان جاری کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان میں سیلاب کے باعث 3 کروڑ 30 لاکھ افراد متاثرہوئے ہیں،چاروں صوبوں میں سیلاب لوگوں کا سب کچھ بہا کرلے گیا-

    انہوں نے اپیل کی کہ ہر پاکستانی کو سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے اقدامات کرنے چا ہییں۔

    ملک ریاض نے سیلاب ذدگان کی بحالی کیلئے غیر مشروط تعاون کی پیشکش کر دی


    انہوں نےکہا کہ سابق وزیراعظم عمران خان نےہمارے قومی اقتصادی مفادات کو سبوتاژ کرنےکےلیے کے پی اور پنجاب میں اپنی حکومتوں کا استحصال کرنے کے لیے اس لمحے کا انتخاب کیا! یہ ہمارے ملک اور ہمارےعوام کے ساتھ غداری ہےپہلے اس نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کیا، پھر اس نے اپنی وزیراعظم شپ بچانے کے لیے ملک کو تقریباً ڈیفالٹ کی طرف دھکیل دیا۔


    شوکت ترین اور دیگر وزرا کی آڈیو کال پر بلاول نے رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ اب وہ آئی ایم ایف کے معاشی مدد کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کررہا ہے جو اس نے پیدا کیا ہے! کے پی کے وزیر خزانہ ’بلیک میلنگ ہتھکنڈے‘ کے طور پر کہتے ہیں۔ ان کے پنجاب کے وزیر خزانہ نے کہا کہ اس سے ریاست کو نقصان پہنچے گا۔ یہ ہدایات اس کی طرف سے دی گئیں جس نے ہمیں تباہی کے دہانے پر دھکیل دیا۔

    جاپان کا پاکستان کے سیلاب زدگان کے لیے امداد کا اعلان


    وزیر خارجہ نے کہا کہ عمران اپنے ذاتی اور سیاسی مقاصد کے لیے خیراتی عطیات کا غلط استعمال کرتے ہوئے پکڑا گیا ہے۔ غیر ملکی فنڈنگ ​​کیس میں بے نقاب ہونے سے بچنے کے لیے وہ ہر ادارے کے خلاف مسلسل مہم چلا رہا ہے۔ کہ مجھے توقع نہیں تھی کہ وہ اب اتنا نیچے گر جائے گا-

  • سیہون میں سیلاب متاثرین کی کشتی الٹنے سے 11 افراد جاں بحق

    سیہون میں سیلاب متاثرین کی کشتی الٹنے سے 11 افراد جاں بحق

    سیہون شریف ، بلاولپو کے علاقے میں سیلاب متاثرین کی کشتی الٹ گئی ہے جس کے نتیجے میں اب تک 11 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں۔حکام کی طرف سے دریائے سندھ میں کشتی کے ذریعے سفر پر احتیاط برتنے کی درخواست کردی ہے

    اس حوالے سے ڈپٹی کمشنر جامشورو فرید الدین مصطفیٰ نے بتایا کہ دریا سے اب تک 10 لاشیں نکالی جا چکی ہیں جنہیں عبداللہ شاہ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز منتقل کر دیا گیا ہے۔

    کشتی میں 20 مسافر سوار تھے جب یہ کشتی دریائے سندھ میں سیلابی پانی میں ڈوبی

    حادثے میں جاں بحق ہونے والوں میں وکیلا کھوکھر، ریحان کھوکھر، ریشماں کھوکھر، ثمینہ کھوکھر، منظور کھوکھر، فاروق کھوکھر، اقرا عمرانی، شبانہ راہپوٹو، شہزور چنا اور زبیدہ چنا شامل ہیں۔

    خیال رہے کہ پاک نیوی کی جانب سے ریسکیو عمل میں شرکت ہیلی کاپٹر کے ذریعے ڈوبنے والوں کی تلاش جاری ہے۔یاد رہے کہ متاثرین کشتی کے ذریعے سیلاب زدہ علاقوں سے شہر کی طرف نقل مقانی کر رہے تھے کہ حادثہ پیش ہوا۔

    دریائے سندھ میں پانی کے اضافے کے بعد سیہون کے متعدد دیہی علاقے زیرآب تھے جبکہ متاثرہ علاقوں کا کافی دنوں سے شہر سے زمینی رابطہ منقطع تھا۔

  • دریائے سندھ میں اونچے درجے کے سیلاب  کی وارننگ جاری

    دریائے سندھ میں اونچے درجے کے سیلاب کی وارننگ جاری

    فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن نے وارننگ جاری کی ہے کہ آج تونسہ اور چشمہ کے مقام پر دریائے سندھ میں اونچے درجے کا سیلاب گزرنے کا خدشہ ہے-

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق ملک بھر میں دریاؤں اور ڈیموں میں پانی کی صورتحال انتہائی خطرناک ہے، دریائے کابل میں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب گزر رہا ہے فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن نے شہریوں کو محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہونے کی ہدایات جاری کردی۔

    جبکہ انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) نے تونسہ بیراج اور سکھر بیراج کے مقام پر دریائے سندھ میں اونچے درجے کے سیلاب کی وارننگ جاری کردی ہے۔

    ارسا کے مطابق تونسہ بیراج پر پانی کی آمد 5 لاکھ 15 ہزار کیوسک ہے جب کہ سکھر بیراج سے 5 لاکھ 62 ہزار کیوسک کا ریلا گزار رہا ہے چشمہ کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے جہاں پانی کا بہاؤ 4 لاکھ 61 ہزار کیوسک ہے جب کہ نوشہرہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 3 لاکھ 5 ہزار کیوسک ہے۔

    دریائے سندھ میں تربیلا کے مقام پر پانی کی آمد 3 لاکھ 11 ہزار، جہلم میں منگلا ڈیم کے مقام پر پانی کی آمد 53 ہزار اور کالا باغ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 4 لاکھ 25 ہزار کیوسک ہے دریائے چناب مین مرالہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 66 ہزار کیوسک، گدو بیراج پر پانی کا بہاؤ 4 لاکھ 85 ہزار کیوسک جب کہ کوٹری بیراج میں پانی کی آمد 3 لاکھ 34 ہزار کیوسک ہے۔

    ارسا کا مزید کہنا ہے کہ یکم اپریل سے اب تک ایک کروڑ 38 لاکھ ایکڑ فٹ پانی سمندر برد ہوچکا ہے کیوںکہ ڈیموں میں پانی کا مجموعی ذخیرہ 92 لاکھ ایکڑ فٹ ہے۔

    ملک بھر میں بارش اور سیلاب سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 1 ہزارسے زائد ہو گئی

    ادھر بلوچستان سے آنے والے سیلابی ریلے کا سندھ کے شہر میہڑ کے حفاظتی بند پر دباؤ بڑھ گیا، میہڑ شہر کو Ring بند سے بچانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    ٹنڈو آدم میں مسلح افراد نے مبینہ طور پر اپنی فصلیں بچانے کے لیے سیلابی ریلے کا رخ شہر کی طرف کردیا ہے دریائے سندھ میں سیلابی صورتحال کے باعث ٹھٹھہ میں کچے کے علاقے خالی کرانے کی ہدایت کی گئی ہے خیرپور کے کئی مقامات پر 10 سے 12 فٹ پانی جمع ہونے سے متاثرین محصور ہوکر رہ گئے ہیں۔

    دوسری جانب سوات اور نوشہرہ میں تباہی پھیلانے کے بعد سیلابی ریلے پنجاب میں داخل ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے میانوالی میں سیلاب کا خدشہ ہے حکام نے شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی ہدایت کردی ہے۔

    دریائے سندھ پر بنے جناح بیراج کے مقام پر آج 7 لاکھ کیوسک کا ریلا گزرنے کا امکان ہے، سیلاب سے 47 موضع جات متاثر ہوسکتے ہیں۔

    لوئر کوہستان: سیلابی ریلے سےشاہراہ قراقرم پر قائم کیہال پل کو خطرہ

  • دریائے سندھ میں کشتی ڈوبنے سے جاںبحق 26 افراد کی نماز جنازہ ادا،27افراد کی تلاش جاری

    دریائے سندھ میں کشتی ڈوبنے سے جاںبحق 26 افراد کی نماز جنازہ ادا،27افراد کی تلاش جاری

    دریائے سندھ میں کشتی ڈوبنے کے المناک سانحے میں جاں بحق 26 افراد کو سندھ میں مچھکے کے قریب آبائی گاؤں حسین بخش سولنگی میں سپرد خاک کر دیا گیا-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق نماز جنازہ میں قبیلے کے سربراہ سردار عباس خان سولنگی نے شرکت کی انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ کم از کم 26 افراد کی نماز جنازہ آبائی قبرستان میں ادا کی گئی ہے، جن افراد کی نماز جنازہ ادا کی گئی ان میں 2 بچے اور ایک خاتون بھی شامل تھی۔

    سردار عباس خان سولنگی نے سندھ اور پنجاب کی حکومتوں سے معاوضے کا مطالبہ کیا، انہوں نے دونوں صوبائی حکومتوں کو علاقے میں پلوں کی تعمیر میں ناکامی کا ذمہ دار قراردیا جس کی وجہ سے لوگ پار کرنے کے لیے لکڑی کی خستہ حال کشتیوں کا استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔

    کشتی ڈوبنے کے واقعے کے ایک دن گزر جانے کے باوجود 27 افراد لاپتا ہیں رحیم یار خان کے ڈپٹی کمشنر کے مطابق منگلا سے پاک فوج کے 18 غوطہ خوروں کی ایک ٹیم بھی امدادی کارروائی میں حصہ لینے کے لیے رحیم یار خان پہنچ گئی ہے۔

    واضح رہے کہ یہ حادثہ پیر کے روز پیش آیا تھا شادی کی تقریب میں شرکت کےبعد لوگ 2 کشتیوں میں سوار ہو کر اپنے گاؤں ماچکے واپس آرہے تھے کہ ایک کشتی اوور لوڈ ہو گئی تھی الٹنے والی کشتی میں 40 سے 45 مسافروں کی گنجائش تھی جب کہ حادثے کے وقت اس میں 95 مسافر سوار تھے-

    جس کے باعث ایک تختہ ٹوٹنے کے بعد کشتی الٹ گئی ڈوبنے والوں میں ایک ہی خاندان کے 8 افراد بھی شامل تھے جب کہ ڈوبنے والے تمام لوگوں کا تعلق سولنگی قبیلے سے تھا 45 افراد کو ابتدائی کوششوں میں بچا لیا گیا تھا، ریسکیو اہلکاروں نے 22 افراد کی لاشیں نکال لی ہیں جب کہ 27 افراد آخری خبریں آنے تک لاپتا تھے۔

    ریسکیو 1122 کے ترجمان کے مطابق علاقے میں حالیہ بارشوں کے باعث جائے حادثہ تک پہنچنے کا راستہ کافی خراب تھا اور گاڑیوں کو وہاں تک لے جانے کے لیے ٹریکٹر کا استعمال کرنا پڑا جس کے باعث امدادی کارروائیوں میں تاخیر ہوئی۔

  • دریائے سندھ میں کشتی الٹنے سے 7 افراد جاںبحق مزید 8 کی تلاش جاری

    دریائے سندھ میں کشتی الٹنے سے 7 افراد جاںبحق مزید 8 کی تلاش جاری

    رحیم یار خان: دریائے سندھ میں باراتیوں سے بھری کشتی الٹنے سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 7 ہو گئی-

    باغی ٹی وی : اسسٹنٹ کمشنر کے مطابق کشتی الٹنے کے واقعے کے بعد دریا سے مزید 4 افراد کی لاشیں نکال لی گئیں جس کے بعد جاں بحق افراد کی تعداد 7 ہوگئی جب کہ ڈوبنے والے مزید 8 افراد کی تلاش جاری ہے۔

    خیال رہے کہ ماچھکا کے مقام پر باراتیوں سے بھری کشتی ڈوب گئی تھی جس میں 50 افراد سوار تھے جب کہ ریسکیو کارروائیوں میں فوری طور پر 35 افراد کو بچالیا گیا تھا۔

    پشاورائیرپورٹ پرشارجہ جانے والے مسافر سے 640 گرام ہیروئن برآمد

    قبل ازیں آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد کے قریب ایک بارات میں پیش آنے والے المناک حادثے کے نتیجے میں دلہا، دلہن اور ایک شیر خوار بچی سمیت کم سے کم چھ افراد جاں بحق اور چار زخمی ہو گئے تھے-

    یہ المناک واقعہ اتوار کو اس وقت پیش آیا تھا جب بارات وادی نیلم کے گاؤں باٹا سے دلہن کو لے کر مظفرآباد جا رہی تھی۔ مظفر آباد سے شمال مشرق میں چالیس کلو میٹر دور نوسیری کے مقام پر بارات میں شامل بدقسمت کار ڈیم میں جا گری کار میں دلہا اویس مغل اور دلہن سفینہ سمیت خاندان کے نو افراد سوار تھے۔

    میکسیکومیں نیوی کا ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، 14 اہلکار ہلاک،امریکا کو انتہائی مطلوب…

    دُلہن اور تین دیگر افراد موقعے پر دم توڑ گئے تھے جب کہ دلہا کو شدید زخمی حالت میں سی ایم ایچ مظفر آباد منتقل کیا گیا جہاں کچھ دیر بعد زخموں کی تاب لاتے وہ بھی دم توڑ گیا۔ جاں بحق ہونے والی ایک بچی کی لاش تا حال نہیں مل سکی۔

    زیارت سے اغوا سیاحوں کی تلاش کیلئے آپریشن جاری

  • سندھ: پانی کی قلت،آموں کے باغات سمیت دیگر سبزیوں کی فصلوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ

    سندھ: پانی کی قلت،آموں کے باغات سمیت دیگر سبزیوں کی فصلوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ

    سندھ کے بیراجوں میں پانی کی قلت اب بھی برقرارہے، پانی کی قلت کے باعث دریائے سندھ بعض مقامات پر خشک ہو گیا اور فصلیں سوکھ گئیں۔

    باغی ٹی وی : سکھر بیراج سے نکلنے والی دادو اور رائس کینال کو اب تک کھولا نہ جاسکا ہے پانی کی قلت کے باعث میرپورخاص ڈویژن میں چاول کی فصل کاشت کرنے پر پابندی عائد کردی گئی ہے جبکہ صوبے میں کپاس کیلئے 6 لاکھ 40 ہزار ہیکٹر میں سے صرف دو لاکھ 30 ہزارہیکٹر پربوائی کی جاسکی ہے آموں کے باغات سمیت دیگر سبزیوں کی 50 فیصد فصلوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

    کراچی: بولٹن مارکیٹ کے قریب دھماکا،1 خاتون جاں بحق 12 افراد زخمی

    دوسری جانب 24 گھنٹے میں گڈو بیراج پر1200 کیوسک اورسکھر بیراج پر600 کیوسک پانی بڑھا ہے جبکہ چشمہ بیراج سے مزید 30 ہزارکیوسک پانی چھوڑا گیا۔

    پانی کی قلت کے باعث دریائے سندھ بعض مقامات پر بالکل خشک ہو گیا-

    ادھر چولستان میں تالاب خشک اورکنوؤں کا پانی بھی کڑوا ہوگیا ہے، دور افتادہ علاقے مصری والا میں خواتین اور چھوٹے بچے ٹینکروں کے ذریعے پینےکا پانی آنےکے منتظر ہیں پانی کی قلت سے مویشیوں کی ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے، چولستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی حکام کے مطابق پائپ لائنوں اور ٹینکرز کے ذریعے متاثرہ علاقوں میں پانی فراہم کیا جارہا ہے۔

    کاروبار کے لئے سازگار ماحول مہیاء کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے،وفاقی وزیر اطلاعات

    ترجمان چولستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے مطابق چولستان کے علاقے شدید خشک سالی اور ہیٹ ویوکی زد میں ہیں، اب تک 71 بھیڑوں کی ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے، مویشی مالکان کو معاوضہ دینےکے لیے رپورٹ حکومت پنجاب کو بھیج دی ہے۔

    دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے چولستان میں بستیوں اور جانوروں کے لیے پانی کی فوری فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے وزیراعظم کا کہنا ہےکہ ضلعی انتظامیہ اورمتعلقہ ادارےچولستان میں گرمی میں فوری امدادی سرگرمیاں یقینی بنائیں۔

    چولستان کی پکار ازقلم :غنی محمود قصوری

  • دریائےسندھ میں پانی کی60 فیصد کمی خطرناک حد تک پہنچ گئی:شیری رحمان

    دریائےسندھ میں پانی کی60 فیصد کمی خطرناک حد تک پہنچ گئی:شیری رحمان

    کراچی:دریائےسندھ میں پانی کی60 فیصد کمی خطرناک حد تک پہنچ گئی،اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ دریائے سندھ میں پانی کی 60 فیصد کمی انتہائی خطرناک ہے۔

    سینیٹر شیری رحمان نے سندھ میں پانی کے بحران پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کے بیراجوں اور نہروں میں پانی کی 52 سے 62 فیصد کمی کی وجہ سے آبادی، زراعت اور مویشیوں کو شدید نقصان کا سامنا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ دریائے سندھ میں پانی کی قلت کی وجہ سے سندھ کے کئی شہروں کو پانی نہیں مل رہا، اس وقت کوٹری ڈاؤن اسٹریم 15 ہزار کیوسک پانی ہونا چاہیے تھا لیکن 2 ہزار کیوسک سے بھی کم چھوڑا جا رہا ہے۔

    وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ پانی کی اس شدید قلت کی وجہ سے سندھ میں کپاس، چاول اور دیگر فصلیں تباہ ہو رہی ہیں، ہیٹ ویو اور شدید گرمی کی اس موسم میں سندھ اور جنوبی پنجاب کے علاقوں میں پانی کی قلت تشویشناک ہے۔

    شیری رحمان نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کے مطابق 2025 تک پاکستان خشک سالی کا شکار ہو جائے گا، پانی کی 1991 کے پانی معاہدے کے مطابق منصفانہ تقسیم ضروری ہے، ہمیں واٹر کنزرویشن اور صوبوں کے بیچ منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانا ہوگا۔

     

    ادھرسندھ حکومت نے سندھ کے تقریباً تمام پانی کے کینالوں پر پانی کی منصفانہ تقسیم کے لئے رینجرز کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔سندھ حکومت کی ہدایات پر سندھ کے محکمہ داخلہ نے ڈی جی رینجرز سندھ سے سندھ کے مختلف پانی کینالز پر رینجرز کی تعیناتی کے لئے خط لکھ دیا۔

     

     

    خط میں بتایا گیا ہے کہ صوبے اور ملک بھر میں پانی کی شدید کمی کے سبب صوبے بھر میں پانی کی منصفانہ تقسیم کے لئے اریگیشن ایکٹ 1979 کی شق 27 سی کے تحت بندوبست کیا گیا۔روٹیشن پالیسی پر عمل درآمد کی کوشش کے دوران صوبے کے مختلف کینالز پر محکمہ آبپاشی کے عملے، ضلعی انتظامیہ اور پولیس پر پانی چوروں کی جانب سے حملے کئے گئے ہیں۔

     

     

    صورتحال سے نمٹنے کے لئے ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ آبپاشی حکام نے رینجرز کی تعیناتی کی گزارش کی ہے، تاکہ پانی کی منصفانہ تقسیم میں رکاوٹ نہ آ سکے۔