بھارتی دفاعی وزارت نے پاک بھارت حالیہ مختصر لیکن مہلک تنازع کے بعد فوجی اخراجات میں 20 فیصد اضافے کی درخواست کی ہے اور دفاعی شعبے میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے قواعد آسان کرنے کا کہا ہے۔
بھارت آج اپنا سالانہ بجٹ پیش کرے گا، جس میں مالی سال 2026-27 کے لیے حکومتی منصوبے سامنے آئیں گے۔ معاشی ماہرین توقع کرتے ہیں کہ حکومت مالی خسارہ 4.2 فیصد جی ڈی پی تک محدود رکھے گی اور قرض 49-51 فیصد تک لانے کی کوشش کرے گی، جبکہ مجموعی قرض 16–16.8 ٹریلین روپے تک بڑھ سکتا ہے۔
روئٹرز کے مطابق دفاعی وزارت نے پاک بھارت حالیہ مختصر لیکن مہلک تنازع کے بعد فوجی اخراجات میں 20 فیصد اضافے کی درخواست کی ہے اور دفاعی شعبے میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے قواعد آسان کرنے کا کہا ہے انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری جی ڈی پی کے 3.1 فیصد پر برقرار رہنے کی توقع ہے، جبکہ ٹیکس اور درآمدی محصولات میں ممکنہ اصلاحات برآمدات کو فروغ دینے کے لیے کی جا سکتی ہیں۔
عمران خان میں آنکھوں کی سنگین بیماری کی تشخیص
فیڈریشن آف انڈین چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FICCI) نے دفاعی صنعتی کارڈورز، برآمدی پروموشن کونسل اور معاہداتی مینوفیکچرنگ کے لیے ٹیکس قوانین میں ترامیم کی تجویز دی ہے۔
بزنس ریکارڈ کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارت غیر ملکی کمپنیوں کے لیے دفاعی صنعت میں سرمایہ کاری کو کہیں زیادہ آسان بنانے کی تیاری کر رہا ہے، اور اس حوالے سے حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اقدام گزشتہ سال پاکستان کے ساتھ ہونے والے مختصر مگر شدید تصادم کے بعد دفاعی پیداوار کو فروغ دینے کی قومی کوششوں کا حصہ ہے۔
پاکستان ورلڈ کپ کھیلے گا یا نہیں، فیصلہ آج ہونے کا امکان ، پلان بی بھی تیار
ذرائع کے مطابق بھارتی حکومت دفاعی کمپنیوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی حد کو موجودہ لائسنس رکھنے والی کمپنیوں کے لیے آٹومیٹک روٹ کے تحت 49 فیصد سے بڑھا کر 74 فیصد کرنے جارہی ہے آٹومیٹک روٹ کے تحت سرمایہ کاری کے لیے حکومتی منظوری درکار نہیں ہوتی۔
فی الحال دفاعی سرمایہ کاری میں 74 فیصد تک حصہ داری صرف اس وقت ممکن ہے جب سرمایہ کار نئی لائسنس یافتہ کمپنیوں میں سرمایہ کاری کریں۔ حکومت اس شرط کو بھی ختم کرنے پر غور کر رہی ہے کہ 74 فیصد سے زائد سرمایہ کاری صرف اسی صورت میں ہوسکتی ہے جب وہ جدید ٹیکنالوجی تک رسائی کا باعث بنے۔ ماہرین کے مطابق اس شرط کی تشریح مبہم رہی ہے۔
انڈر 19ورلڈ کپ: بھارت کی پاکستان کیخلاف بیٹنگ جاری
یہ ترامیم غیر ملکی دفاعی پارٹنر ممالک کی کمپنیوں کو بھارتی منصوبوں میں اکثریتی شیئر حاصل کرنے میں مدد دیں گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پالیسی میں تبدیلی آئندہ چند ماہ میں لاگو ہوسکتی ہے۔ دفاعی اور تجارتی وزارتوں نے اس پیشرفت پر کوئی تبصرہ نہیں کیا حکومت ایک اور شرط ختم کرنے والی ہے جس کے مطابق برآمداتی کمپنیوں کے لیے بھارت کے اندر مرمت اور سروس سپورٹ یونٹ قائم کرنا لازمی تھا سابق دفاعی افسر امیت کوشی کا کہنا ہے کہ اس شق کے خاتمے سے غیر ملکی سرمایہ کاری مزید کشش اختیار کر لے گی۔
اگرچہ بھارت میں لاک ہیڈ مارٹن، رافیل، اور ایئربس سمیت کئی بڑی کمپنیاں شراکت داری کے ذریعے پہلے سے موجود ہیں، مگر گزشتہ 25 برسوں میں دفاعی شعبے میں کل غیر ملکی سرمایہ کاری محض 26.5 ملین ڈالر رہی ہے۔
ترکیہ، پاک سعودی کسی بھی مشترکہ دفاعی معاہدے میں شامل نہیں ہوگا، اے ایف پی
گزشتہ سال پاکستان کے ساتھ جھڑپ کے بعد بھارت نے دفاعی بجٹ میں اضافے کی کوشش تیز کردی ہے اور 2026-27 کے لیے بجٹ میں 20 فیصد اضافہ طلب کیا ہے حکومت کا ہدف دفاعی پیداوار کو تقریباً دگنا کرکے 33.25 ارب ڈالر تک پہنچانا اور 2029 تک برآمدات کو 5.5 ارب ڈالر تک بڑھانا ہے۔ 2024-25 میں دفاعی برآمدات 12 فیصد اضافے کے ساتھ 2.6 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئیں۔