Baaghi TV

Tag: دفاعی بجٹ

  • پاکستان کا خوف:بھارت نے دفاعی بجٹ میں بڑا اضافہ کر دیا

    پاکستان کا خوف:بھارت نے دفاعی بجٹ میں بڑا اضافہ کر دیا

    نئی دہلی: بھارت نے پاکستان کے ساتھ مئی میں ہونے والی فوجی کشیدگی کے بعد اپنے دفاعی بجٹ میں 15 فیصد اضافہ کر دیا ہے۔

    بھارتی وزیرِ خزانہ نرملا سیتا رمن نے مالی سال 2026-27 کے لیے مرکزی بجٹ پیش کرتے ہوئے دفاع کے لیے 85 ارب 40 کروڑ ڈالر مختص کیے ہیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔

    لوک سبھا میں پیش کیے گئے بجٹ کے مطابق دفاعی اخراجات میں اضافے کا مقصد جدید ٹیکنالوجی کا حصول، ہتھیاروں اور عسکری سازوسامان کی خریداری، اور دفاعی نظام کو مزید مؤثر بنانا ہے۔ بھارتی وزارتِ دفاع کے مطابق اس بجٹ کے ذریعے خریداری کے عمل کو آسان بنانے اور وسائل کے بہتر استعمال پر بھی توجہ دی جائے گی۔

    بجٹ دستاویزات کے مطابق ہتھیاروں اور دفاعی آلات کی خریداری کے لیے مختص رقم میں 21.84 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ دفاعی سروسز کے روزمرہ اخراجات، ایندھن، مرمت اور تنخواہوں کی مد میں بھی اضافی فنڈز رکھے گئے ہیں۔

    بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے دفاعی بجٹ میں اضافے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے بھارت کی دفاعی صلاحیتوں میں مزید بہتری آئے گی تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مہنگائی اور روپے کی قدر میں کمی کے باعث 15 فیصد اضافہ عملی طور پر محدود اثر رکھتا ہے۔

    یہ اضافہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب گزشتہ سال مئی میں بھارت اور پاکستان کے درمیان فوجی تنازع سامنے آیا تھا یہ کشیدگی اس وقت بڑھی جب بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں حملے کے بعد پاکستان میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، جسے اس نے ’آپریشن سندور‘ کا نام دیا۔

  • پاکستان کا خوف :بھارت کے دفاعی بجٹ میں 20 فیصد اضافے کا مطالبہ

    پاکستان کا خوف :بھارت کے دفاعی بجٹ میں 20 فیصد اضافے کا مطالبہ

    بھارتی دفاعی وزارت نے پاک بھارت حالیہ مختصر لیکن مہلک تنازع کے بعد فوجی اخراجات میں 20 فیصد اضافے کی درخواست کی ہے اور دفاعی شعبے میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے قواعد آسان کرنے کا کہا ہے۔

    بھارت آج اپنا سالانہ بجٹ پیش کرے گا، جس میں مالی سال 2026-27 کے لیے حکومتی منصوبے سامنے آئیں گے۔ معاشی ماہرین توقع کرتے ہیں کہ حکومت مالی خسارہ 4.2 فیصد جی ڈی پی تک محدود رکھے گی اور قرض 49-51 فیصد تک لانے کی کوشش کرے گی، جبکہ مجموعی قرض 16–16.8 ٹریلین روپے تک بڑھ سکتا ہے۔

    روئٹرز کے مطابق دفاعی وزارت نے پاک بھارت حالیہ مختصر لیکن مہلک تنازع کے بعد فوجی اخراجات میں 20 فیصد اضافے کی درخواست کی ہے اور دفاعی شعبے میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے قواعد آسان کرنے کا کہا ہے انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری جی ڈی پی کے 3.1 فیصد پر برقرار رہنے کی توقع ہے، جبکہ ٹیکس اور درآمدی محصولات میں ممکنہ اصلاحات برآمدات کو فروغ دینے کے لیے کی جا سکتی ہیں۔

    عمران خان میں آنکھوں کی سنگین بیماری کی تشخیص

    فیڈریشن آف انڈین چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FICCI) نے دفاعی صنعتی کارڈورز، برآمدی پروموشن کونسل اور معاہداتی مینوفیکچرنگ کے لیے ٹیکس قوانین میں ترامیم کی تجویز دی ہے۔

    بزنس ریکارڈ کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارت غیر ملکی کمپنیوں کے لیے دفاعی صنعت میں سرمایہ کاری کو کہیں زیادہ آسان بنانے کی تیاری کر رہا ہے، اور اس حوالے سے حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اقدام گزشتہ سال پاکستان کے ساتھ ہونے والے مختصر مگر شدید تصادم کے بعد دفاعی پیداوار کو فروغ دینے کی قومی کوششوں کا حصہ ہے۔

    پاکستان ورلڈ کپ کھیلے گا یا نہیں، فیصلہ آج ہونے کا امکان ، پلان بی بھی تیار

    ذرائع کے مطابق بھارتی حکومت دفاعی کمپنیوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی حد کو موجودہ لائسنس رکھنے والی کمپنیوں کے لیے آٹومیٹک روٹ کے تحت 49 فیصد سے بڑھا کر 74 فیصد کرنے جارہی ہے آٹومیٹک روٹ کے تحت سرمایہ کاری کے لیے حکومتی منظوری درکار نہیں ہوتی۔

    فی الحال دفاعی سرمایہ کاری میں 74 فیصد تک حصہ داری صرف اس وقت ممکن ہے جب سرمایہ کار نئی لائسنس یافتہ کمپنیوں میں سرمایہ کاری کریں۔ حکومت اس شرط کو بھی ختم کرنے پر غور کر رہی ہے کہ 74 فیصد سے زائد سرمایہ کاری صرف اسی صورت میں ہوسکتی ہے جب وہ جدید ٹیکنالوجی تک رسائی کا باعث بنے۔ ماہرین کے مطابق اس شرط کی تشریح مبہم رہی ہے۔

    انڈر 19ورلڈ کپ: بھارت کی پاکستان کیخلاف بیٹنگ جاری

    یہ ترامیم غیر ملکی دفاعی پارٹنر ممالک کی کمپنیوں کو بھارتی منصوبوں میں اکثریتی شیئر حاصل کرنے میں مدد دیں گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پالیسی میں تبدیلی آئندہ چند ماہ میں لاگو ہوسکتی ہے۔ دفاعی اور تجارتی وزارتوں نے اس پیشرفت پر کوئی تبصرہ نہیں کیا حکومت ایک اور شرط ختم کرنے والی ہے جس کے مطابق برآمداتی کمپنیوں کے لیے بھارت کے اندر مرمت اور سروس سپورٹ یونٹ قائم کرنا لازمی تھا سابق دفاعی افسر امیت کوشی کا کہنا ہے کہ اس شق کے خاتمے سے غیر ملکی سرمایہ کاری مزید کشش اختیار کر لے گی۔

    اگرچہ بھارت میں لاک ہیڈ مارٹن، رافیل، اور ایئربس سمیت کئی بڑی کمپنیاں شراکت داری کے ذریعے پہلے سے موجود ہیں، مگر گزشتہ 25 برسوں میں دفاعی شعبے میں کل غیر ملکی سرمایہ کاری محض 26.5 ملین ڈالر رہی ہے۔

    ترکیہ، پاک سعودی کسی بھی مشترکہ دفاعی معاہدے میں شامل نہیں ہوگا، اے ایف پی

    گزشتہ سال پاکستان کے ساتھ جھڑپ کے بعد بھارت نے دفاعی بجٹ میں اضافے کی کوشش تیز کردی ہے اور 2026-27 کے لیے بجٹ میں 20 فیصد اضافہ طلب کیا ہے حکومت کا ہدف دفاعی پیداوار کو تقریباً دگنا کرکے 33.25 ارب ڈالر تک پہنچانا اور 2029 تک برآمدات کو 5.5 ارب ڈالر تک بڑھانا ہے۔ 2024-25 میں دفاعی برآمدات 12 فیصد اضافے کے ساتھ 2.6 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئیں۔

  • ملک کو اب 28ویں ترمیم کی جانب بڑھنا ہوگا،خواجہ آصف

    ملک کو اب 28ویں ترمیم کی جانب بڑھنا ہوگا،خواجہ آصف

    پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم ملک کے قانونی و آئینی ڈھانچےکے لیے دور رس اہمیت رکھتی ہے، اور اب وقت آگیا ہے کہ 28ویں ترمیم پر بھی پیش رفت کی جائے۔

    نجی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ 27ویں ترمیم کے اثرات فوری طور پر ظاہر نہیں ہوتے بلکہ وقت کے ساتھ ان کے نتائج سامنے آتے ہیں۔وزیر دفاع کے مطابق 27ویں ترمیم کے اصل مسودے میں کئی اہم نکات شامل تھے جو بعد میں نکال دیے گئے، جن میں ایک اہم تجویز یہ بھی تھی کہ دفاعی بجٹ میں صوبے بھی اپنا حصہ شامل کریں، کیونکہ دفاع پورے ملک کا مشترکہ معاملہ ہے، صرف مرکز کا نہیں۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت جہاں صوبوں کو قرض فراہم کرتی ہے، وہاں قرضوں کی واپسی کی ذمہ داری بھی صوبوں کو بانٹنی چاہیے۔

    خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان میں مضبوط لوکل گورنمنٹ سسٹم کی سخت ضرورت ہے۔ ان کے مطابق 18ویں ترمیم کے بعد بلدیاتی اختیارات صوبوں کو تو منتقل ہوئے، لیکن وہ نچلی سطح یعنی ڈسٹرکٹ، تحصیل اور محلہ تک نہیں پہنچ سکے۔انہوں نے کہا کہ اختیارات بڑے شہروں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں، جبکہ انہیں عوامی سطح تک منتقل ہونا چاہیے۔خواجہ آصف کے مطابق فوجی ادوار میں بلدیاتی نظام مضبوط رہا، جبکہ سیاسی حکومتوں میں یہ نظام کمزور ہوتا رہا۔

    ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ صوبے اپنے حصے میں سے وفاق کو حصہ دینے پر تیار نہیں ہوتے، جبکہ وفاق محدود وسائل کے باوجود صوبوں کو ان کا تمام حصہ فراہم کرتا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ قومی وسائل اور این ایف سی کے معاملے پر وسیع سطح پر اتفاقِ رائے وقت کی ضرورت ہے۔

    پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر 19.74 ارب ڈالر تک پہنچ گئے

    28ویں آئینی ترمیم پر ابتدائی مشاورت شروع، ٹائم لائن دینے سے گریز

    کوپ 30 پویلین میں آگ لگنے کا واقعہ، تمام سرگرمیاں منسوخ

    ضمنی انتخابات،شفافیت کے لیےالیکشن کمیشن کی سخت ہدایات

  • وفاقی بجٹ ،سود کی ادائیگی کے لیے 8207 ارب، دفاع کے لیے 2550 ارب مختص

    وفاقی بجٹ ،سود کی ادائیگی کے لیے 8207 ارب، دفاع کے لیے 2550 ارب مختص

    آئندہ مالی سال 26-2025ء کے وفاقی بجٹ کے اہم نکات سامنے آ گئے ہیں، جس کے مطابق قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے 8207 ارب روپے مختص کیے جانے کی تجویز دی گئی ہے۔

    ذرائع کے مطابق دفاعی بجٹ کے لیے 2550 ارب روپے جبکہ حکومتی نظام چلانے کے اخراجات کے لیے 971 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پنشنز کی مد میں 1055 ارب روپے، سبسڈیز کے لیے 1186 ارب روپے اور گرانٹس کے لیے 1928 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے۔

    مزید برآں، ترقیاتی بجٹ کے لیے صرف ایک ہزار روپے مختص کیے جانے کی تجویز سامنے آئی ہے، جو ایک علامتی رقم کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔ذرائع کا بتانا ہے کہ ایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں کا ہدف 14131 ارب روپے رکھا گیا ہے جبکہ نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 5167 ارب روپے تجویز کیا گیا ہے۔

    وفاقی گراس ریونیو کا مجموعی ہدف 19298 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے، جبکہ صوبوں کو محاصل کی مد میں 8206 ارب روپے کی منتقلی کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جس کے بعد نیٹ فیڈرل ریونیو 11072 ارب روپے رہنے کا امکان ہے۔وفاقی بجٹ آج قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا، جہاں اس کی تفصیلات پر بحث کی جائے گی۔

    بااثر افراد کی مزدور کی بیوی سے اجتماعی زیادتی، 3 ملزمان گرفتار

    چین اور امریکا کے درمیان لندن میں تجارتی مذاکرات کا نیا دور شروع

    عیدالاضحیٰ پر 69 لاکھ 77 ہزار جانور قربان، فروخت اور قیمتوں میں کمی

    بلاول بھٹو زرداری کا سندھ طاس معاہدے کی بحالی اور پاک بھارت جامع مذاکرات پر زور

  • دفاعی بجٹ کا پوچھنے والوں کو بنیان مرصوص کی کامیابی میں جواب مل گیا  ، فیصل کریم کنڈی

    دفاعی بجٹ کا پوچھنے والوں کو بنیان مرصوص کی کامیابی میں جواب مل گیا ، فیصل کریم کنڈی

    پشاور: گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ دفاعی بجٹ کا پوچھنے والوں کو بنیان مرصوص کی کامیابی میں جواب مل گیا صوبے میں 13 سال سے فنڈ کہاں جا رہا ہے ؟ اس کا جواب کون دے گا؟

    گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ معرکہ حق میں 78 گھنٹوں کے دوران بھارت کو سبق سکھایا، اور سبق سکھانے والے شہدا کو سلام پیش کرتے ہیں، آرمی چیف نے کہا اگر عوام سپورٹ کریں تو 3 ماہ میں دہشت گردی ختم ہو جائے، اورجو فوج بھارت کو سبق سکھا سکتی ہے اس کے لیے دہشت گرد کیا چیز ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ صرف اجتماعی نقصان سے بچنے کے لیے احتیاط کی جا رہی ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صوبے کو ملنے والے 700 ارب کہاں گئے ؟ صوبائی وزراء نے اسپتالوں کو لوٹا اور گندم کی لوٹ مار کی۔ ایک ضلع سے 50 ارب لوٹے گئے۔ اور لوٹی ہوئی رقم دھڑا دھڑ فرانس جا رہی ہےعلی بابا چالیس چور دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں، کی منظوری میں مخصوص لابی سے ڈیل کی جاتی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ 26 مئی کو پشاور میں ہمارے احتجاج پر لاٹھی چارج کیا گیا یہ جرات کریں اور اسلام آباد میں مارچ کر کے دکھائیں جبکہ ان کے خانہ بدوش خیبر پختونخوا ہاؤس میں چھپے ہوئے ہیں ان خانہ بدوش کا بتائیں کس تاریخ کو میدان میں نکل رہے ہیں اسلام آباد میں ان کے سہولت کار واپسی کا روٹ دیتے تھے۔

    گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ اسلام آباد میں ان کے سہولتکار الگ ہوں گے تو لگ پتہ جائے گا جبکہ کوہستان میں چوری صوبائی حکومت کے افسران نے کی اس لیے وزیر اعظم صوبائی حکومت کے بجائے براہ راست ضم اضلاع کو فنڈز دیں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا میں ایک میگا پراجیکٹ کا بتا دیں۔

    انہوں نے کہا کہ صوبہ میں کرپشن کے ریکارڈ توڑے گئے ہیں ڈی آئی خان انٹرنیشنل ائیرپورٹ کا جلد افتتاح ہو گا جبکہ صوبائی حکومت ڈی آئی خان ائیر پورٹ کی راہ میں روڑے اٹکا رہی ہے کیا وزیر اعلیٰ نے کبھی امن و امان کی بات پر ایکشن لیا، اور امید ہے کہ سپہ سالار جلد ہی امن یقینی بنائیں گے بانی پی ٹی آئی پہلے اپنے کرتوتوں کی سزا بھگتیں جبکہ دفاعی بجٹ کا پوچھنے والوں کو بنیان مرصوص کی کامیابی میں جواب مل گیا صوبے میں 13 سال سے فنڈ کہاں جا رہا ہے ؟ اس کا جواب کون دے گا؟ خیبر پختونخوا میں اپوزیشن کو فنڈز نہیں مل رہے جبکہ صوبے میں کمیشن دینے والے ممبران کو فنڈز ملتے ہیں، صدر مملکت سے خیبرپختونخوا کے مالیاتی اسکینڈل پر بات ہوئی۔

  • چین کا دفاعی بجٹ میں 7.2 فیصد اضافے کا اعلان

    چین کا دفاعی بجٹ میں 7.2 فیصد اضافے کا اعلان

    چین نے رواں سال کے لیے معاشی ترقی کا ہدف تقریباً 5 فیصد مقرر کیا ہے۔

    باغی ٹی وی: خبر ایجنسی کے مطابق چین نے اتوار کے روز آئندہ سال کے لیے اپنے دفاعی بجٹ میں 7.2 فیصد اضافے کا اعلان کیا، جو گزشتہ سال کے 7.1 فیصد اضافے کی شرح سے تھوڑا زیادہ ہے معاشی ترقی کے ہدف کا اعلان چینی وزیراعظم نے سالانہ نیشنل پیپلز کانگریس کے موقع پرکیا۔

    وزیر اعظم شہبازشریف آج قطر کا 2 روزہ دورے پر قطر روانہ ہوں گے

    یہ مسلسل آٹھویں سال سنگل ہندسوں کے فیصد پوائنٹ میں اضافہ ہے جو اب دنیا کا دوسرا سب سے بڑا فوجی بجٹ ہے۔ 2023 کا اعداد و شمار 1.55 ٹریلین یوآن ($ 224 بلین) کے طور پر دیا گیا تھا، جو 2013 سے تقریباً دوگنا ہے۔

    تقریباً 5 فیصد معاشی ترقی کا ہدف گزشتہ دہائیوں کا کم ترین ہدف ہے چین نے دفاعی بجٹ 7.2 فیصد بڑھانےکا اعلان کیا ہے جو 225 ارب ڈالر بنتا ہے۔

    چین کا اس سال تقریباً 12 ملین نئی ملازمتیں پیدا کرکے شہری بے روزگاری کی شرح کو 5.5 فیصد تک لے جانے کا ارادہ ہے۔

    بلوچستان: اعلیٰ افسران سمیت 68 پولیس اہلکار معطل

    دنیا کی سب سے بڑی فوج کے ساتھ ساتھ، چین کے پاس دنیا کی سب سے بڑی بحریہ ہے اور اس نے حال ہی میں اپنا تیسرا طیارہ بردار بحری جہاز لانچ کیا ہے۔ امریکہ کے مطابق، اس کے پاس انڈو پیسیفک میں سب سے بڑی ایوی ایشن فورس بھی ہے، اس کے نصف سے زیادہ لڑاکا طیارے چوتھی یا پانچویں نسل کے ماڈلز پر مشتمل ہیں۔

    چین میزائلوں کے بڑے ذخیرے کے ساتھ ساتھ اسٹیلتھ ہوائی جہاز، جوہری ہتھیار پہنچانے کی صلاحیت رکھنے والے بمبار، جدید سطح کے جہاز اور جوہری طاقت سے چلنے والی آبدوزوں کی بھی فخر کرتا ہے۔

    20 لاکھ رکنی پیپلز لبریشن آرمی حکمران کمیونسٹ پارٹی کا عسکری ونگ ہے، جس کی قیادت صدر اور پارٹی رہنما شی جن پنگ کی قیادت میں پارٹی کمیشن کرتا ہے۔

    موٹر سائیکلوں کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

  • چین سے خطرہ: بھارت کے دفاعی بجٹ میں 72 ارب ڈالر کا اضافہ

    چین سے خطرہ: بھارت کے دفاعی بجٹ میں 72 ارب ڈالر کا اضافہ

    بھارت نے چین کے ساتھ سرحد پر تنازعات اور جھڑپوں سے نمٹنے اور اپنی فوج کو جدید اسلحے اور ہتھیاروں سے لیس کرنے کے لیے سالانہ دفاعی بجٹ میں 13 فیصد کا اضافہ کردیا ہے۔

    باغی ٹی وی: روئٹرز کے مطابق بھارت کی وزیر خزانہ نرملا سیتھارمن نے 550ارب ڈالر کے بجٹ کا اعلان کیا جس میں 73ارب ڈالر دفاع کی مد میں رکھے گئے ہیں۔

    بلڈ شوگر کاعلاج کچن میں موجود عام سی سبزی سے ممکن

    بزنس انسائیڈر کے مطابق نئی دہلی اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق پہلے سے ہی دنیا کا تیسرا سب سے بڑا فوجی خرچ کرنے والا – اپنے اخراجات کو 73 بلین ڈالر تک بڑھا دے گا، جو کہ 13 فیصد اضافہ ہے، وزیر خزانہ نرملا سیتارامن نے اپنے بجٹ کے اعلان میں پارلیمنٹ کو بتایا۔

    دنیا کے دو سب سے زیادہ آبادی والے ممالک کے درمیان تعلقات سرحدی، تجارت اور ٹیکنالوجی کے تنازعات پر کشیدہ ہیں، اور بھارت نے 2020 میں لداخ میں ایک مہلک سرحدی فوجی جھڑپ کے بعد سے چینی سپلائی چین سے خود کو الگ کرنے کی کوشش کی ہے۔

    بھارت 2024 کے ووٹ سے پہلے آخری مکمل بجٹ میں اخراجات میں اضافہ کرے گا، خسارے کو کم کرے گا۔

    50 ہزار سال بعد پہلی بار زمین کے قریب سے گزرنے والا سبز دم دار ستارہ آج آسمان پر…

    وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت اپنی جوہری طاقت سے چلنے والی آبدوز کے ساتھ سرحدی دفاع اور اسلحہ سازی کی صنعت سمیت اپنی فوج تیار کر رہی ہے، اور پچھلے سال اپنے پہلے مقامی طور پر تیار کردہ طیارہ بردار بحری جہاز کی نقاب کشائی بھی کر رہی ہے بیجنگ نے برسوں پہلے جو سنگ میل عبور کیے تھے۔

    ہندوستان اب بھی اپنے ہتھیاروں کی زیادہ تر درآمدات کے لیے دیرینہ پارٹنر روس پر انحصار کرتا ہے دوسرے سپلائرز میں امریکہ، فرانس اور اسرائیل شامل ہیں – اور سیتا رمن نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ حکومت فوجی سازوسامان میں خود انحصاری کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ گھریلو خریداری 10 فیصد پوائنٹس سے بڑھ کر 68 فیصد ہو جائے گی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے ٹویٹ کیا کہ دفاع کے لیے مختص کل سرکاری بجٹ کا 13 فیصد سے زیادہ ہے۔

    امریکا کا یوکرین کوطویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل بھیجنے کا فیصلہ

  • امریکی سینیٹ میں تاریخ کا سب سے بڑادفاعی بجٹ منظور

    امریکی سینیٹ میں تاریخ کا سب سے بڑادفاعی بجٹ منظور

    واشنگٹن: امریکی سینیٹ نے تاریخ کا سب سے بڑا 858 ارب ڈالر کادفاعی بجٹ منظور کرتے ہوئے اس کی سمری صدر بائیڈن کو بھجوا دی ہے۔

    باغی ٹی وی : برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینٹ نے 858 ارب ڈالر کا امریکی تاریخ کا اب تک کا سب سے بڑا دفاعی بجٹ منظور کرلیا ہے یہ رقم صدر بائیڈن کے تجویز کردہ دفاعی بجٹ کی رقم سے 45 ارب ڈالر زیادہ ہے جبکہ اس میں فوج کے لیے لازمی کووڈ ویکسین کے مینڈیٹ کو بھی منسوخ کر دیا گیا ہے۔

    جمعرات کو پیش کئے جانے والے اس بل یا نیشنل ڈیفنس آتھرائزیشن ایکٹ کی حمایت میں 83 جبکہ مخالفت میں 11ارکان نے ووٹ ڈالا جبکہ اس بجٹ میں فوج کے لیے لازمی کووڈ ویکسین کے مینڈیٹ کو بھی منسوخ کر دیا گیا ہے۔

    گزشتہ ہفتے امریکی ایوان نمائندگان اور اب سینیٹ سے منظوری کے بعد اس بل کو وائٹ ہاؤس میں پیش کیا جائے گا جہاں صدر بائیڈن اس بل پر دستخط کریں گے۔

    مذکورہ بل میں مالی سال 2023 کے فوجی اخراجات کے لیے 858 ارب ڈالر کی منظوری دی گئی ہے جن میں فوجیوں کی تنخواہوں میں 4.6 فیصد اضافے سمیت ہتھیاروں، بحری جہازوں اور جنگی طیاروں کی خریداری کے لیے بھی رقم رکھی گئی ہے جب کہ چین اور روس کے خطرات کا سامنا کرتے تائیوان اور یوکرین کی مالی مدد کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ امریکہ کی دفاعی پالیسیوں کے لیے سالانہ بنیادوں پر دفاعی بجٹ کا پاس کیا جانا ضروری ہے امریکی کانگریس 1961 سے ہر سال یہ بل پاس کرتی ہے جو صدر کے دستخط سے قانون کی حیثیت اختیار کر لیتا ہے۔

    برطانیہ کی 106 سالہ تاریخ میں پہلی بار نرسیں بھی ہڑتال کرکے سڑکوں پر آ گئیں

    واضح رہے کہ اس بل کے تحت سال2023 میں یوکرین کو کم از کم 800 ملین ڈالر کی اضافی سکیورٹی امداد فراہم کی جائے گی جبکہ چین کے خلاف تائیوان کو مضبوط کرنے کے لیے تائیوان کو بھی اربوں ڈالر کی سکیورٹی معاونت فراہم کی جائے گی۔

    اس بل کے تحت اگلے سال یوکرین کو کم از کم 800ملین ڈالر کی اضافی سکیورٹی امداد فراہم کی جائے گی اور اس میں چین کے ساتھ تناؤ کے درمیان تائیوان کو مضبوط کرنے کے لیے کئی دفعات شامل ہیں، جن کے تحت تائیوان کو بھی اربوں ڈالر کی سکیورٹی معاونت فراہم کی جائے گی۔

    اس بل میں ہائپرسونک ہتھیاروں کو تیار کرنے، ہوائی میں ریڈ ہل بلک فیول سٹوریج کی سہولت کو بند کرنے اور لاک ہیڈ مارٹن کارپوریشن کے ایف 35لڑاکا طیاروں اور جنرل ڈائنامکس کےتیار کردہ بحری جہازوں سمیت ہتھیاروں کے نظام کی خریداری کے لیے مزید فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔ امریکا کی دفاعی پالیسیوں کے لیے سالانہ بنیادوں پر دفاعی بجٹ کا پاس کیا جانا ضروری ہے۔

    برطانیہ کے بیشتر حصوں میں برف جمنے کی وارننگ جاری

    رپبلکن ارکان جنہوں نے اس بات پر زور دیا تھا کہ کووڈ 19سے بچاؤ کے مختلف اقدامات شخصی آزادیوں کی خلاف ورزی کرتے ہیں، نے اس مینڈیٹ کو نہ ہٹانے پر بل کی مخالفت کرنے کی دھمکی دی تھی۔

    اس بل کی مخالفت میں ووٹ ڈالنے والوں میں وہ لبرل ارکان شامل تھے، جنہیں ہر سال بڑھتے ہوئے دفاعی بجٹ پر اعتراض ہے جبکہ وہ معاشی قدامت پسند بھی اس بل کی مخالفت کرتے ہیں جو اخراجات میں کمی لانے کے حامی ہیں۔ کوئی ووٹ ان لبرلز کے اختلاط سے نہیں ملے جو مسلسل بڑھتے ہوئے فوجی بجٹ اور مالیاتی قدامت پسندوں پر اعتراض کرتے ہیں جو اخراجات پر سخت کنٹرول چاہتے ہیں۔

  • کم آمدنی کے وسائل اور ناقابل تسخیر دفاع ،تحریر: کنول زہرا

    کم آمدنی کے وسائل اور ناقابل تسخیر دفاع ،تحریر: کنول زہرا

    ملک کو بہترین دفاعی قوت بنانا ہر ریاست کی اولین ترجیحات میں شامل ہوتا ہے, خطے کی صورتحال دیکھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ پاکستان کو اندرونی اور بیرونی بہت سے خطرات ہیں, جس سے نمٹنے کے لئے ریاست کو بجٹ کی کیثیر رقم مختص کرنی پڑتی ہے, جس کے متعلق بہت سی قیاس آرائیاں ہیں, کچھ لوگ کہتے ہیں کہ مسلح افواج کا کل بجٹ ستر فیصد ہے جبکہ کچھ اس اعداد و شمار کو 80 فیصد بتاتے ہیں, تاہم حقائق اس کے بر عکس ہیں, موجود حکومت کے  1400 سو ارب روپے دفاعی بجٹ کے حوالے سے مختص کرنے کا اعلان کیا ہے, جو کہ بجٹ کا 16  حصہ بنتا ہے, اس سولہ فیصد میں سے پاک فوج کو594 بلین روپے یا 44 فیصد ملتے ہیں۔ درحقیقت، پاکستانی فوج کو کل بجٹ کے وسائل کا 7 فیصد حصہ ملتا ہے
    یہ اعداد جی ڈی پی کے لحاظ سے 1.1 فیصد بنتے ہیں, جس سے ان عناصر کی یکسر نفی ہوتی ہے جو  بے بنیاد جھوٹ پھیلاتے ہیں.

    پاکستان کے پاس وسائل کم اور سیکورٹی چیلنجز زیادہ ہیں, الله کے فضل سے اس کے باوجود  پاک فوج نے پیشہ ورانہ مہارت کے ذریعے اپنے آپ کو اہم دفاعی قوت ثابت کیا.قومی سلامتی, ملک کے وقار, ریاست کے استحکام کی خاطر عظیم ملک کے پر عزم بیٹوں نے جانوں کے نذرانے پیش کیے, پاک فوج نے ملک و قوم کی تعمیر و ترقی میں وہ لازوال اقدامات کیے اور کر رہے ہیں جو کم وسائل میں ممکن تو نہیں ہیں تاہم ملک کے دفاع کے لئے بے حد ضروری ہیں غلط فہمیاں پھیلانے والے عناصر کبھی بھی عوام کو یہ نہیں بتائیں گے کہ گزشتہ پچاس سالوں کے دوران، پاکستان کا دفاعی بجٹ جی ڈی پی کے فیصد کے لحاظ سے پبہت کم ہو گیا ہے. 1970 کی دہائی میں ہمارا جی ڈی پی کے 6.50 فیصد جبکہ  2021 میں 2.54 فیصد پر آ گیا ہے۔ غلط فہمیاں پھیلانے والے عناصر عوام کو کبھی یہ بھی نہیں بتائیں گے کہ پاک فوج نے سال 2019 میں ملکی معیشت کو سہارا دینے کے لیے اپنے بجٹ میں مختص 100 ارب روپے بھی ترک کیے تھے۔

    ملٹری ایکسپینڈیچر ڈیٹا بیس اور انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار سٹریٹیجک اسٹڈیز کے ملٹری بیلنس کے مطابق پاکستان (2.54 جی ڈی پی) کے مقابلے دفاع پر زیادہ خرچ کرنے والے ممالک میں عمان (جی ڈی پی کا 12 فیصد) لبنان (10.5 فیصد)، سعودی عرب (10.5 فیصد) شامل ہیں۔ 8 فیصد، کویت (7.1 فیصد)، الجزائر (6.7 فیصد)، عراق (5.8 فیصد)، متحدہ عرب امارات (5.6 فیصد)، آذربائیجان (4 فیصد)، مراکش (5.3 فیصد)، اسرائیل (5.2 فیصد)، اردن (4.9 فیصد) )، آرمینیا (4.8 فیصد)، مالی (4.5 فیصد)، قطر 4.4 فیصد، روس 3.9 فیصد، امریکی 3.4 فیصد اور ہندوستان (3.1 فیصد) ہے, ان اعداد و شمار کی روشنی میں  پاکستان کا دفاعی بجٹ دنیا میں سب سے کم ہے۔ پاکستان فی کس کی بنیاد پر 40 ڈالر خرچ کرتا ہے جبکہ اسرائیل 2200 ڈالر فی کس کی بنیاد پر خرچ کرتا ہے۔ الله کی زرہ نوازی ہے کہ گلوبل فائر پاور انڈیکس کے مطابق، دنیا میں سب سے کم دفاعی بجٹ رکھنے کے بعد بھی، پاکستان کی مسلح افواج "دنیا کی 9ویں طاقتور ترین فوج  ہے

    اگرچہ پاکستان کے پاس دنیا کی ساتویں بڑی فوج ہے لیکن اس کے اخراجات سب سے کم ہیں انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار سٹریٹیجک اسٹڈیز کی ریسرچ کے مطابق امریکہ 392000 ڈالر فی فوجی خرچ کرتا ہے، سعودی عرب 371000 ڈالر خرچ کرتا ہے، بھارت 42000 ڈالر خرچ کرتا ہے، ایران 23000 ڈالر خرچ کرتا ہے جبکہ پاکستان 12500 ڈالر سالانہ فی فوجی خرچ کرتا ہے۔ ہندوستان کے 76.6 بلین ڈالر کے فوجی اخراجات دنیا میں تیسرے نمبر پر ہیں۔ اس میں 2020 سے 0.9 فیصد اور 2012 سے 33 فیصد اضافہ کیا گیا۔ ہندوستانی دفاعی بجٹ پاکستان کے دفاعی بجٹ سے 8 گنا زیادہ ہے۔ دفاعی بجٹ کو کم سے کم تک محدود کرنے کے علاوہ، پاک فوج نے سال 2019 میں دفاعی بجٹ کی مختص رقم کو منجمد کرنے کا ایک بے مثال اقدام بھی کیا۔ لیکن اس کے باوجود دفاع کو مضبوط بنانے کے لئے نئے روایتی ہتھیاروں کو نظام کو بھی شامل کر نے عمل میں کوئی تعطل نہیں آیا, اس دوران بھی بہترین سائبر وارفیئر کی صلاحیتیں، میزائل اور جوہری ٹیکنالوجی میں تازہ ترین پیش رفت رہیں, اس کے علاہ کم دفاعی وسائل کے باوجود پاکستان آرمی دنیا کی واحد فوج ہے جس نے دہشت گردی کی لعنت کو کامیابی سے شکست دی ہے اور اپنے پیشہ ورانہ معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہونے دیا۔

    بھارت کا دِفاعی بجٹ پاکستان کی نسبت 6سے7گُنا زیادہ ہے،بھارت صرف نئے اسلحہ کی خریداری کے لیے سالانہ لگ بھگ18سے19بلین ڈالر لگاتا ہے جو کہ پاکستان کے بجٹ سے دوگُنی رقم ہے 2018ء کے بعدکولیشن سپورٹ فنڈ کی بندش کے باوجود دِفاعی اور سیکورٹی کی ضروریات کو ملکی وسائل سے ہی پورا کیا گیا ،ردّالفساد کے اہداف اور دائرہ کار اور دیگر سیکورٹی اُمور میں کوئی کمی نہیں آنے دی گئی۔ ٹِڈی دَل اور کرونا کی وَبا کے خلاف قومی مہم میں پاک فوج نے بھرپور کردار ادا کیا مگر سول انتظامیہ کی معاونت میں ان فرائض کی انجام دہی کے دوران کوئی الاونس نہیں لیا گیا،کرونا وَبا کے خلاف قومی جنگ میں دِفاعی بجٹ سے ہی 2.56ارب روپے صَرف کئے گئے۔لیکن اضافی ڈیمانڈ نہیں کی گئی۔ ٹِڈی دَل کے خلاف مہم میں بھی دِفاعی بجٹ سے ہی297ملین روپے خرچ ہوئے،چیف آف آرمی سٹاف کی ہدایت پر گذشتہ سالوں میں دِفاعی آلات و مصنوعات کی مقامی تیاری (indigenisation)پر خصوصی توجہ دی گئی تاکہ ملکی زرِ مبادلہ میں کمی واقع نہ ہو،پاک افواج نے بالواسطہ اور بلاواسطہ ٹیکس کی مَد میں سال2019-20 میں 190 ارب روپے سے زائد رقم قومی خزانے میں جمع کرائی،25.8ارب روپے انکم ٹیکس، کسٹم سرچارج اور سیلز ٹیکس کی مَد میں جمع ہوئے،پاک افواج کے رِفاعی اداروں نے 164.239ارب روپے ٹیکس اور ڈیوٹیز کی مَد میں ادا کئے،ان اداروں میں آرمی ویلفئیر ٹرسٹ، فوجی فاونڈیشن، نیشنل لاجسٹکس سیل اور فرنٹئیر ورکس آرگنائزیشن شامل ہیں۔ قومی خزانے پر سب سے بڑا بوجھ دفاع کا نہیں بلکہ غیر ملکی قرضوں  دیگر حکومتی اخراجات کا ہے,  غلط معاشی پالیسیوں کے باعث ملک کو سگنین صورتحال سے نبرد آزما ہونا پڑ رہا ہے, الله پاکستان کو اپنی امان میں رکھے, الہی آمین