Baaghi TV

ترکیہ، پاک سعودی کسی بھی مشترکہ دفاعی معاہدے میں شامل نہیں ہوگا، اے ایف پی

difayi muahda

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان کسی بھی مشترکہ دفاعی معاہدے کا حصہ نہیں ہوگا۔

سعودی فوج سے وابستہ ایک ذریعے نے اے ایف پی کو بتایا کہ ترکیہ پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدے میں شامل نہیں ہوگا۔‘‘سعودی عہدیدار نے اس حوالے سے کسی بھی قسم کے سہ فریقی مذاکرات کی اطلاعات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ معاہدہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دوطرفہ نو عیت کا ہے اور دوطرفہ ہی رہے گا۔

ایک خلیجی عہدیدار نے بھی سعودی مؤقف کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے ساتھ ہمارا دفاعی تعلق مکمل طور پر دوطرفہ ہے ترکیہ کے ساتھ ہمارے الگ دفاعی معاہدے موجود ہیں، تاہم پاکستان کے ساتھ ہونے والا معاہدہ کسی تیسرے ملک کو شامل نہیں کرتا۔

پاکستان میں دہشت گردی: عالمی برادری کی خاموشی اور خطے کو لاحق خطرات،تجزیہ شہزاد قریشی

یہ وضاحت ان خبروں کے بعد سامنے آئی ہے جن میں رواں ماہ کے آغاز پر ایک ترک عہدیدار کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ ترکیہ اس ممکنہ دفاعی اتحاد میں شمولیت کے لیے مذاکرات کر رہا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدے کا اعلان گزشتہ برس کیا گیا تھا، جس کے بعد بین الاقوامی سطح پر مختلف سوالات اٹھا ئے گئے، خصوصاً اس معاہدے کے ممکنہ جوہری پہلو کے حوالے سے، کیونکہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہےتاہم سعودی حکام کی حالیہ وضاحت کے بعد اس تاثر کو رد کر دیا گیا ہے کہ اس دفاعی تعاون میں ترکیہ یا کوئی اور ملک شامل ہوگا، اور اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ یہ معاہدہ صرف پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہی محدود رہے گا۔

دہشتگردی پاکستانی قوم کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتی،سہیل آفریدی

More posts