اسلام آباد میں ہونے والے خودکش دھماکے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ملک بھر میں وسیع کارروائیاں شروع کر دی ہیں –
رپورٹس کے مطابق، خودکش بمبار یاسر ولد بہادر خان کے اہلِ خانہ اور معاونین کی اہم گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں، بمبار کے بہنوئی کو کراچی سے گرفتار کیا گیا جبکہ اس کے بھائی کو پشاور سے حراست میں لیا گیا،ایک اہم سہولت کار کو نوشہرہ میں ہلاک کر دیا گیا، جب کہ سب سے اہم گرفتاری بمبار کی والدہ کو اسلام آباد کے پوش سیکٹر کے گھر سے گرفتار کر کے تفتیش کے لیے منتقل کیا گیایہ کارروائیاں دہشت گردی کے ممکنہ خطرات کو ختم کرنے اور دیگر ملوث افراد کی گرفتاری کے لیے کی جا رہی ہیں۔ تحقیقات جاری ہیں اور مزید تفصیلات آئندہ سامنے آئیں گی۔
دوسری جانب امام بارگاہ پر خودکش دھماکے میں شہید ہونے والے 15 شہدا کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی،13 شہداء کی نماز جنازہ جی نائن امام بارگاہ میں ادا کی گئی جس میں وفاقی وزراء طارق فضل چودھری، سردار محمد یوسف، راجہ خرم نواز، آئی جی اسلام آباد سمیت بڑی تعداد میں شہریوں اور تمام مکاتب فکر کے جید علمائے کرام نے شرکت کی۔
جنازہ گاہ کے اطراف سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے، شہداء کے نماز جنازہ سیکرٹری جنرل نفاذ فقہ جعفریہ، امام جامعہ مسجد خدیجۃ الکبری علامہ بشارت نے پڑھائی۔ نمازہ جنازہ کی ادائیگی کے بعد شہداء کے جسد خاکی آبائی علاقوں کو تدفین کیلئے روانہ کردیے گئے دو شہدا کی نماز جنازہ امام بارگاہ جامع صادق میں ادا کی گئی جس میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے بھی شرکت کی۔، آغا شیخ محمد شفا نجفی نے نماز جنازہ پڑھائی۔ نماز جنازہ کے موقع پر پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی۔
گزشتہ روز اسلام آباد کے علاقے ترلائی کلاں کی امام بارگاہ و مسجد جامعہ خدیجۃ الکبری میں نماز جمعہ کے دوران ہونے والے خودکش بم دھماکے میں 32 افراد شہید اور 162 زخمی ہوگئے تھے جن مین سے 29 کی حالت اب بھی تشویشناک ہے۔
اسلام آباد بم دھماکے کا ایک اور زخمی دم توڑ گیا، شہداء کی تعداد 33 ہوگئی
ترلائی میں امام بارگاہ و مسجد خدیجۃ الکبریٰ پر ہونے والے خودکش حملے میں زخمی ہونے والا ایک اور شخص اسپتال میں دم توڑ گیا جس کے بعد شہادتوں کی تعداد 33 ہو گئی،اسپتال ذرائع نے بتایا کہ پمز اسپتال میں دھماکے کے بعد کل 149 افراد لائے گئے تھے جن میں 121 زخمی اور 28 لاشیں شامل تھیں۔
رات بھر طبی امداد کے بعد زخمیوں کی تعداد 64 رہ گئی ہے جن میں سے 20 کی حالت تشویشناک اور 9 افراد آئی سی یو میں ہیں،زخمیوں کا علاج سرجیکل وارڈ 1 اور سرجیکل وارڈ 4 میں جاری ہے، جبکہ پولی کلینک اسپتال میں 13 زخمی زیر علاج ہیں۔