خیبر میں بارودی سرنگ کے دھماکے میں تین سیکیورٹی اہلکار شہید ہوگئے۔
اطلاعات کے مطابق، خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر کے علاقے برقمبر خیل میں ان کی گاڑی کے قریب بارودی سرنگ کے دھماکے سے تین سیکیورٹی اہلکار شہید اور تین زخمی ہوگئے۔

خیبر میں بارودی سرنگ کے دھماکے میں تین سیکیورٹی اہلکار شہید ہوگئے۔
اطلاعات کے مطابق، خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر کے علاقے برقمبر خیل میں ان کی گاڑی کے قریب بارودی سرنگ کے دھماکے سے تین سیکیورٹی اہلکار شہید اور تین زخمی ہوگئے۔

کوئٹہ: بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں خودکش بمبار نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔
باغی ٹی وی : کوئٹہ میں لک پاس کے مقام پر دھماکا ہوا ہے، پولیس کے مطابق خودکش بمبار نے خود کو دھماکے سے اڑایا بم دھماکے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، خودکش بمبار ہدف تک پہنچنے سے قبل ہی پھٹ گیا دھماکے کے وقت لک پاس کے قریب بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کا دھرنا جاری تھا واقعہ کے حوالے سے مزید تحقیقات جاری ہیں۔
واضح رہے کہ کوئٹہ میں گذشتہ روز بھی بڑیچ مارکیٹ کے قریب دھماکا ہوا تھا، جس کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق، جبکہ 4 پولیس اہلکاروں سمیت21 افراد زخمی ہوگئے تھے۔
کراچی: کورنگی کریک میں زیر زمین گیس ذخیرے میں آتشزدگی، تحقیقات جاری
پولیس کے مطابق دھماکا سڑک کنارے اس وقت ہوا جب سیکیورٹی فورسز کی گاڑی گزر رہی تھی، دھماکے کے فوراً بعد ریسکیو اور امدادی ٹیمیں جائے وقوع پر پہنچیں اور زخمیوں اور لاشوں کو اسپتال منتقل کیا،دھماکے سے جائے وقوع پر کھڑی موٹر سائیکل میں آگ لگ گئی، دھماکے سے قریب کھڑی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔
تنگوانی: ایس ایچ او کی گاڑی پر ڈاکوؤں کا حملہ، دو گارڈ شدید زخمی

کوئٹہ: بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں پولیس وین کے قریب دھماکا ہوا، جس میں اہلکاروں سمیت 10 افراد زخمی ہو گئے۔
باغی ٹی وی : پولیس کے مطابق دھماکا کوئٹہ کے علاقے ڈبل روڈ پر ہوا، جس کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور ریسکیو ٹیمیں جائے وقوع پر پہنچیں ابتدائی معلومات کے مطابق دھماکا پولیس وین کے قریب ہوا، جس میں 4 اہلکار زخمی ہو گئے،دھماکے سے پولیس وین کو بھی نقصان پہنچا جب کہ قریب کھڑی دوسری گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کو بھی نقصان ہوا،ریسکیو ٹیموں نے دھماکے میں زخمی ہونے والوں کو اسپتال منتقل کیا۔
لاہور: خواتین کو ہراساں کرنے والے 3 برقعہ پوش اوباش گرفتار
ترجمان بلوچستان حکومت کا کہنا ہے کہ ڈبل روڑ پر پولیس موبائل کے قریب دھماکا ہوا ہے، جس کی اطلاع ملتے ہی سکیورٹی فورسز جائے وقوع پر پہنچ چکی ہیں زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا جا رہا ہے ابتدائی اطلاعات تک کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، تاہم زخمیوں کی تعداد 10 بتائی جاتی ہے۔

جنوبی وزیرستان کے علاقے رستم بازار وانا میں کڑیکوٹ روڈ پر سڑک کنارے نصب بارودی مواد کے دھماکے میں3 افراد زخمی ہوگئے۔
باغی ٹی وی : پولیس ذرائع کے مطابق دھماکہ نور نامی شخص کی گاڑی کے قریب ہوا، جس کے نتیجے میں گاڑی کو نقصان پہنچا، زخمیوں کو فوری طور پر ڈی ایچ کیو اسپتال وانا منتقل کر دیا گیا، جہاں ایم ایس ڈاکٹر جان محمد نے بتایا کہ زخمیوں میں سے ایک کی حالت تشویش ناک ہے،واقعے کے بعد پولیس نے تحقیقات شروع کر دی ہیں اور علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
شامی صدر کی روسی ہم منصب سے بشارالاسد کی واپسی کی درخواست
ضرورت پڑی تو حکومت کہیں بھی دہشتگردی کے خاتمے کیلئے آپریشن کر سکتی ہے،عرفان صدیقی

کوئٹہ: بلوچستان کے علاقے تربت میں ایف سی کی بس پر بم حملہ ہوا ہے,حملے کی ذمے داری دہشت گردی میں ملوث کالعدم بی ایل اے نے قبول کرلی ہے۔
باغی ٹی وی : اطلاعات کے مطابق بلوچستان کے شہر تربت کے علاقے ڈھنگ میں دھماکا ہوا جس میں بس کنڈکٹر سمیت 4 افراد جاں بحق جبکہ 35 افراد زخمی ہوگئے ہیں، پولیس کے مطابق زخمیوں میں سے 8 کی حالت تشویشناک ہے، دھماکے کے زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا ہے-
دھماکے کے بعد پولیس اور سکیورٹی فورسز کی بڑی تعداد جائے وقوعہ پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا،پولیس کا کہنا ہےکہ دھماکےکے حوالے سے مزید تحقیقات کی جارہی ہیں۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دھماکے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرا افسوس اور دکھ ہوا، معصوم افراد کو نشانہ بنانے والے انسان کہلانے کے بھی لائق نہیں، دکھ کی اس گھڑی میں سوگوار خاندان کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گرد تنظیم بی ایل اے نے تربت میں معصوم شہریوں کو حملے کا نشانہ بنایا اور اس حملے کی ذمے داری قبول کی ہے، جاں بحق افراد کا تعلق بلوچستان کے مختلف علاقوں سے ہے، حملے سے ثابت ہوتا ہے کہ کالعدم تنظیم مذموم مقاصد کےلیے شہریوں کو نشانہ بناتی ہے، جو عوام دشمنی میں بیرونی قوتوں کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کالعدم بی ایل اے نے 1 سال میں 100 سے زائد معصوم بلوچ شہریوں کی جان لی ہے۔

ماسکو کے ریازان اسکو پروسپیکٹ پر ایک دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں دو افراد کی ہلاکت کی اطلاع ملی ہے۔ روسی ٹیلی گرام چینلز کے مطابق یہ واقعہ صبح 6:11 بجے پیش آیا۔
گواہوں کے مطابق، دھماکے سے کچھ گھنٹے پہلے ایک نامعلوم شخص نے ایک الیکٹرک سکوٹر عمارت کے داخلی دروازے کے قریب پارک کیا تھا جس کے ہینڈل پر ایک نامعلوم مواد سے بنا ہینڈ میڈ بم (آئی ای ڈی) موجود تھا۔ دھماکے کے نتیجے میں دو افراد ہلاک ہو گئے، جن میں روسی فوج کے ریڈی ایشن، کیمیکل اور بایولوجیکل ڈیفنس فورسز کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایگور کرئیلوف بھی شامل ہیں۔ دوسری ہلاکت ان کے معاون کی ہو سکتی ہے۔مقامی ٹیلی گرام چینلز کے مطابق، دھماکے نے عمارت کے داخلی دروازوں کو اڑایا اور کھڑکیاں ٹوٹ گئیں۔ جنرل کی سرکاری گاڑی بھی اس دھماکے میں تباہ ہو گئی۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق، یہ دھماکہ دور سے ریموٹ کنٹرول کے ذریعے کیا گیا تھا۔ یہ بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بمبار یا ان کے معاونین دھماکے کے مقام سے دور تھے اور شاید انہوں نے عمارت کے داخلی کیمرے تک رسائی حاصل کی، جو بہت سے رہائشیوں کے لیے دستیاب ہیں۔روس کے ٹیلی گرام چینل "ماش” کی رپورٹ کے مطابق، دھماکے میں مارے جانے والے دوسرے شخص کی شناخت لیفٹیننٹ جنرل کے ڈرائیور کے طور پر کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، وہ صبح 6 بجے جنرل کو لینے آیا تھا تاکہ انہیں کام پر لے جا سکے۔
رشوت لینے کے الزم میں پولیس کانسٹیبل گرفتار
فی الحال، بم ڈسپوزل ماہرین ریازان اسکو پروسپیکٹ پر واقع عمارت کے ارد گرد کی علاقے کا معائنہ کر رہے ہیں۔ سکوٹر، جس پر آئی ای ڈی منسلک تھا، کو فرانزک معائنہ کے لیے بھیجا جائے گا۔اس واقعے نے ماسکو میں سیکیورٹی خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے اور اس دھماکے کی نوعیت پر سوالات اٹھا دیے ہیں کہ آیا یہ حملہ کسی مخصوص مقصد کے تحت کیا گیا تھا یا یہ ایک وسیع تر دہشت گردانہ کارروائی کا حصہ تھا۔
شانگلہ: چکیسر میں پولیس چوکی پر دہشتگردوں کا حملہ، 2 اہلکار شہید

ورسک: جنوبی وزیرستان کے علاقے اعظم ورسک میں شہزادہ مسجد کے قریب دھماکا ہوا ہے، جس میں 6 افراد زخمی ہوگئے۔
باغی ٹی وی: پولیس ذرائع کے مطابق تخریب کاری کی اس کارروائی میں مولانا شہزادہ کو نشانہ بنایا گیا، اعظم ورسک بازار میں مولانا شہزادہ وزیر پر اپنی مسجد کے قریب آئی ای ڈی دھماکا ہوا جس میں مسجد کے مہتمم شدید زخمی ہوئے ہیں،واقعے کے بعد پولیس کی بھاری نفری اور امدادی کارکن جائے وقوعہ پہنچے جہاں سے زخمیوں کو ڈی ایچ کیو اسپتال وانا منتقل کیا گیا۔
جبکہ دھماکے کی نوعیت کے بارے میں معلومات اکٹھی کی جارہی ہیں،پولیس کی ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی کہ نامعلوم افراد نے آئی ڈی بم نصب کر رکھا تھا۔

آئی جی خیبرپختونخوا اور ڈی آئی جی سی ٹی ڈی سمیت سی سی پی او نے مشترکہ پریس کانفرنس کی ہے
پریس کانفرنس میں پولیس حکام کا کہنا تھا کہ پولیس لائنز دھماکے میں خود کش حملہ آور کا سہولت کار گرفتار کر لیا گیا ہے،سہولت کار کوئی اور نہیں پولیس کانسٹیبل محمد ولی نکلا،سی ٹی ڈی نے سہولت کار پولیس اہلکار کو رنگ روڈ سے گرفتار کیا،سہولت کار دہشت گردسے دو خود کش جیکٹس برآمد ہوئی ہیں،گرفتار سہولت کار دہشت گرد کا تعلق کالعدم تنظیم جماعت الاحرار سے ہے، دہشت گرد افغانسان سے خودکش جیکٹس، حملہ آوروں اور دھماکہ خیز مواد کی براراست ترسیل میں ملوث ہے، گرفتار دہشت گرد محمد ولی دہشت گرد تنظم کے ساتھ پولیس فورس کا ملازم ہے،پولیس لائن خود کش حملے میں سہولت کار نے حملہ اور کو پولیس لائن پہنچانے میں مدد فراہم کی،
محمد ولی نامی اہلکار نے دہشتگردوں کو 2 لاکھ کے عوض نقشہ اور دیگر سہولیات دیں۔ملزم اہلکار لاہور سمیت دیگر دہشت گردی کی کارروائیوں میں میں بھی ملوث رہا۔۔لاہور میں پولیس اہلکاروں کے قاتل فیضان بٹ کو اسلحہ بھی ملزم نے فراہم کیا۔ ولی فیس بک سے جماعت الاحرار میں شامل ہوا تین سال بعد پکڑا گیا

دوسری جانب پشاور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے پولیس لائنز دھماکے کے سہولت کار ملزم کو 14 روز کے جسمانی ریمانڈ پر سی ٹی ڈی کے حوالے کر دیا،پولیس لائنز دھماکے کے سہولت کار ملزم کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا گیا،پراسیکیوشن نے کہا کہ ملزم پولیس اہلکار پر خودکش حملہ آور کی سہولت کاری کا الزام ہے،پولیس نے ملزم کو بی آر ٹی اسٹیشن سے گرفتار کیا تھا
واضح رہے کہ پولیس لائنز مسجد پشاور میں 30 جنوری 2023ء کو خودکش دھماکا ہوا تھا جس میں امام مسجد اور پولیس اہلکاروں سمیت 72 نمازی شہید اور 157 زخمی ہوئے تھے۔
گرفتار کانسٹیبل محمد ولی پشاور کا رہائشی ہے،محمد ولی پولیس کی پاک وردی میں چھپی ہوئی کالی بھیڑ نکلی، کانسٹیبل محمد ولی 2019 میں پولیس میں بھرتی ہوا،دہشت گرد محمد ولی کا کہنا تھا کہ 2021 میں فیس بک پر جنید نامی آئی ڈی سے رابطہ ہوا ،جنید جماعت الاحرار کا ریکروٹمنٹ ایجنٹ تھا،وہ افغانستان میں بیٹھ کر سوشل میڈیا پر ریکروٹمنٹ کرتا تھا،جنید نے مجھے افغانستان آ کر ملنے کے لیے کہا ،2021 میں ہفتہ چھٹی لے کر چمن بارڈر سے افغانستان گیا ،جلال آباد افغانستان میں میری ملاقات جنید سے ہوئی ،جنید مجھے شونکڑے اور چکناور مرکز کنہڑ لے کر گیا ،کنہڑ میں میری ملاقات دہشت گرد کمانڈر صلاح الدین اور دہشت گرد کمانڈر مکرم خراسانی سے ہوئی ،ملاقات کے بعد میں نے جماعت الاحرار میں شمولیت اختیار کر لی،دہشت گرد کمانڈر ملا یوسف کے ہاتھ پر بیعت کی ،جماعت الاحرار میں شامل ہونے پر مجھے بیس ہزار روپے ملے ،واپسی پر افغان فورسز نے گرفتار کیا لیکن جماعت الاحرار کی مداخلت پر رہا کر دیا ،2023 میں میری ڈیوٹی پولیس لائن پشاور میں تھی ،جنید نے مجھے کہا کہ کمانڈر خالد خراسانی کی "شہادت” کا بڑا بدلہ لینا ہے ،جنوری 2023 میں پولیس لائن کی تصویریں اور نقشہ ٹیلی گرام پر جنید کو دیا ،20 جنوری 2023 کو خودکش حملہ آور کو چرسیاں مسجد، خیبر سے لے کر آیا ،خودکش حملہ آور کو پولیس لائن مسجد کی ریکی کروائی ،خودکش حملہ اور کا نام قاری اور قومیت افغان تھی ،سانحہ پولیس لائن والی صبح 11 بجے خودکش حملہ آور کو چرسیاں مسجد باڑا سے لینے گیا ،چرسیاں مسجد میں خودکش حملہ آور خود کُش جیکٹ اور پولیس وردی سمیت موجود تھا ،خود کش حملہ اور کو چرسیاں مسجد سے موٹر سائیکل پر رحمان بابا قبرستان لے کر آیا ،رحمان بابا قبرستان میں خودکش بمبار کو پولیس کی وردی اور خود کُش جیکٹ پہنائی،خودکش بمبار کو موٹر سائیکل پر بٹھا کر پولیس لائن کے پاس چھوڑا ، خودکش حملہ آور مسجد چلا گیا، میں گھر واپس آ گیا ،دھماکہ ہو گیا تو جنید کو ٹیلی گرام پر پیغام بھیجا کہ حملہ کامیاب ہو گیا ہے،پولیس لائن خودکش حملہ کروانے پر مجھے دو لاکھ روپیہ معاوضہ ملا،معاوضہ میں نے ہنڈی حوالہ کے ذریعے موصول کیا ،پولیس لائن حملے کے علاوہ بھی بہت سی دہشت گرد کاروائیاں کیں ،جنوری 2022 میں عیسائی پادری کو پشاور میں قتل کیا ،2023 اور 2024 میں وارسک روڈ پشاور پر متعدد آئی ای ڈیز حملے کروائے ،دسمبر 2023 میں گیلانی مارکیٹ میں ہینڈ گریڈ حملہ کیا،فروری 2024 میں لاہور میں موجود جماعت الاحرار کے دہشت گرد سے رابطہ کیا ،لاہور میں موجود جماعت الاحرار کے دہشت گرد کا نام سیف اللہ تھا ،میں نے سیف اللہ کو پستول پہنچایا جس سے اس نے ایک قادیانی شخص کو قتل کیا ،مارچ 2024 میں لاہور کے فیضان بٹ نامی دہشت گرد سے رابطہ ہوا ،دہشت گرد فیضان بٹ کو پستول دیا جس سے اس نے دو پولیس اہلکار شہید کیے ،مئی 2024 میں پشاور کے مختلف مقامات پر دھماکہ خیز مواد دہشت گردی کے لیے فراہم کیا ،جون 2024 میں دہشت گرد لقمان کو خودکش حملے کے لئے جیکٹ دے کر بس پر لاہور روانہ کیا ،خودکش بمبار لقمان پھٹنے سے پہلے ہی پکڑا گیا ،جون 2024 میں ایک اور خود کش جیکٹ باڑہ خیبر سے رحمان بابا قبرستان پہنچائی ،جون 2024 میں ایک اور خودکش جیکٹ موٹروے چوک پشاور میں چھپائی ،ایک اور خود کش جیکٹ چمکنی پشاور میں چھپائی اور ویڈیو ثبوت جنید کو فراہم کیے
ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک
نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام
اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب
اکرم چوہدری نجی ٹی وی کا عثمان بزدار ثابت،دیہاڑیاں،ہراسانی کے بھی واقعات
اکرم چوہدری کا نجی ٹی وی کے نام پر دورہ یوکے،ذاتی فائدے،ادارے کو نقصان
سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے
سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں
انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی

کوئٹہ: بلوچستان کے شہر کوئٹہ میں ریلوے اسٹیشن پر دھماکے کے بعد کوئٹہ سے پشاور کے لیے چلنے والی جعفر ایکسپریس اور کراچی کے لیے چلنے والی بولان میل کو 4 روز کے لیے بند کرنے فیصلہ کرلیا گیا۔
باغی ٹی وی : میڈیا رپورٹس کے مطابق جعفر ایکسپریس اور بولان میل کو 11 نومبر سے 4 روز کے لیے بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا، یہ فیصلہ بلوچستان میں امن وامان کی صورتحال کے پیش نظر کیا گیا۔
واضح رہے گزشتہ روز کوئٹہ میں ریلوے اسٹیشن پر خودکش دھماکے میں 27 افراد جاں بحق اور 50 سے زائد افراد زخمی ہو گئے تھے جعفر ایکسپریس نے 9 بجے پشاور کے لیے روانہ ہونا تھا، ٹرین ابھی تک پلیٹ فارم پر نہیں لگی تھی کہ دھماکا ہو گیا، دھماکا ریلوے اسٹیشن پر ٹکٹ گھر کے قریب ہوا جبکہ دھماکے کا مقدمہ نامعلوم افراد کےخلاف سی ٹی ڈی تھانے میں درج کرلیا گیا، آٹھ دس کلو بارودی مواد کا بیگ اٹھائے خودکش حملہ آور نے جعفر ایکسپریس کا انتظار کرتے مسافروں کے درمیان پہنچ کر خود کو دھماکے سے اُڑالیا تھا۔

خیبر پختونخواہ کے صوبائی دارالحکومت پشاور میں دھماکا ہوا ہے
دھماکہ پشاور کے علاقے ارمڑ میں ہوا ہے، دھماکے میں پولیس گاڑی کو نشانہ بنایا گیا، دھماکا سڑک کے کنارے نصب بارودی مواد پھٹنے سے ہوا، پولیس اور بم ڈسپوزل یونٹ کے اہل کار دھماکے کی جگہ پہنچ گئے اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ، پولیس نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے لیا اور قریبی علاقوں میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے،دھماکے میں ابتدائی طور پر کسی جانی ،مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی،
آئی جی خیبر پختونخوا نے پولیس گاڑی کے قریب دھماکے کے واقعہ کا نوٹس لیا ہےاور فوری رپورٹ طلب کر لی ہے
پنجاب کالج مبینہ زیادتی کیس،کالج انتظامیہ کی طلبا سے کلاسوں میں جانے کی اپیل
لاہور کے کالج میں طالبہ سے زیادتی ،مبینہ من گھڑت ویڈیو کے خلاف مقدمہ درج
لاہور میں طالبہ کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی: پنجاب حکومت کی ہائی پاور کمیٹی کی ابتدائی رپورٹ
پنجاب کالج مبینہ زیادتی، پولیس واقعہ سے انکاری،طلبا کا آج پھر احتجاج
پنجاب کالج مبینہ زیادتی بارے من گھڑت افواہ پھیلانے والا گرفتار