Baaghi TV

Tag: رانا ثنااللہ

  • ملک کے 5  بڑوں کے درمیان اعتماد بڑھانے کیلئے رابطہ ہوا تو صورتحال بہتر سمت میں آگے بڑھ سکتی ہے، رانا ثنا

    ملک کے 5 بڑوں کے درمیان اعتماد بڑھانے کیلئے رابطہ ہوا تو صورتحال بہتر سمت میں آگے بڑھ سکتی ہے، رانا ثنا

    اسلام آباد:وزیراعظم کے مشیر سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ ملک کے 5 بڑوں کے درمیان اعتماد سازی کے لیے اقدامات اور رابطے ہوئے تو سیاسی طور پر بہتر سمت بڑھ سکتے ہیں-

    نجی ٹی وی کو انٹرویو میں وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنااللہ نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو اکاؤنٹس سے افواج پاکستان اور ان کے سربراہان کے خلاف ہونے والی انتہائی غلیظ مہم جوئی فوری طور پر بند کی جانی چاہیے۔

    انہوں نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی کی قیادت یہ کہہ کر جان چھڑانا چاہے کہ ہمارا ان پر کوئی کنٹرول نہیں اور ہمیں نہیں پتا یہ کون ہیں تو ایسا نہیں ہے بلکہ ان کا کنٹرول ہے، اگر براہ راست عمران خان یا ان کی طرف سے جو پیغام جاتا ہے اور اس کے مطابق ٹوئٹ ہوتا ہے اور باقی چیزیں ہوتی ہیں تو پی ٹی آئی کو ان اکاؤنٹس سے پوری طرح لاتعلقی کرنی چاہیے اور اس سلسلے کو بند ہونا چاہیے۔

    پاکستان نے بنگلادیش کی ایئرلائن کو براہ راست پروازوں کی اجازت دے دی

    وزیراعظم کے مشیر سیاسی امور نے کہا کہ اگر انہوں نے گالیاں نکالنی ہیں اور اس قسم کا پروپیگنڈا کرنا ہے تو یہ سیاسی جماعتوں اور سیا ستدانوں کے خلاف کرتے رہیں لیکن افواج اور ان کے سربراہان کے خلاف نہیں، ایک یہ بات بھی کی جاتی ہے کہ ہم افواج پاکستان کے خلاف تو بات نہیں کرتے، ہم تو کسی فرد سے متعلق بات کرتے ہیں تو نہیں ایسا نہیں ہے، اگر آپ ایسا کریں گے تو وہ خدشات اور اثرات ویسے ہوں گے۔

    رانا ثنااللہ نے کہا کہ انہوں نے 8 فروری کی کال دی ہے میں وثوق سے کہتا ہوں کہ یہ ناکامی ہوگی، یہ جو پہیہ جام کرنا چاہتے ہیں یہ نہیں کرسکیں گے اور اس کے پھر مزید نقصانات ہوں گےاس دن اگر اکادکا کہیں پہیہ جام کرنے کی کوشش کی تو وہ لوگ پھر ایسے دھر لیے جائیں گے کہ بعد میں پھر گلہ ہوگا کہ 9 مئی کی طرح سزا ہوگئی یہ ہوگیا وہ ہوگیا لہٰذا یہ کال واپس لیں۔

    کوہاٹ میں تیل اورگیس کے نئے ذخائردریافت

    راناثنااللہ نے کہا کہ اس وقت ملک کے 5 بڑے ہیں، ان کے درمیان اعتماد سازی کے لیے اقدامات ہونے چاہئیں اور ان کے درمیان رابطہ ہونا چاہیے تو پھر سیاسی طور پر بہتر سمت بڑھ سکتے ہیں۔،ان بڑوں میں وزیراعظم شہباز شریف، نواز شریف، صدر مملکت آ صف علی زرداری، عمران خان اور پانچویں کا سب کو پتا ہے، ان کے درمیان جب تک اعتماد سازی نہیں ہوگی یا آپس میں کوئی رابطہ نہیں ہوگا، ایک دوسرے پر یقین نہیں ہوگا تو میرے اور عامر ڈوگر کی سطح پر ہم کوشش کرتے رہیں گے لیکن اس سے بریک تھرو نہیں ہوگا۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کا آئندہ ہفتے کا روسٹر جاری

    پی ٹی آئی رہنما عامر ڈوگر نے کہا کہ احتجاج کرنا آئین اور قانون کے اندر ہر سیاسی جماعت کا حق ہے، کیا آج سے پہلے اس ملک میں پہیہ جام ہڑتالیں نہیں ہوئی، کیا احتجاج نہیں ہوئے، 75 برسوں سے اس ملک میں سیکڑوں پہیہ جام ہڑتالیں ہوئی ہیں، احتجاج ہوئے ہیں اگر ان احتجاج کو سامنے رکھ کر ہمیں دوباہ 9 مئی یاد دلوائی جائے تو یہ مناسب بات نہیں ہے کیونکہ یہ ہمارا آئینی اور قانونی حق ہے لیکن اگر ہم کسی سرکاری املاک کو نقصان پہنچائیں یا آئین اور قانون کو توڑیں یا اس کے خلاف کوئی اقدام کریں تو جو قانون کے مطابق سزا ہے ہمیں ضرور ملنی چاہیے۔

  • پی ٹی آئی کا جیسا ایکشن ہوگا، ری ایکشن اس کے مطابق ہوگا ،رانا ثنااللہ

    پی ٹی آئی کا جیسا ایکشن ہوگا، ری ایکشن اس کے مطابق ہوگا ،رانا ثنااللہ

    وزیراعظم پاکستان کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی اسٹریٹ موومنٹ کی پوری کوشش کررہی ہے، لیکن سہیل آفریدی کو اسلام آباد تک کوئی نہیں پہنچنے دے گا، پی ٹی آئی کا جیسا ایکشن ہوگا، ری ایکشن اس کے مطابق ہوگا-

    نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہاکہ پی ٹی آئی سب کچھ کرنا چاہتی ہے لیکن کر نہیں پا رہی، ان کے پاس صلاحیت ہی نہیں ہے، پی ٹی آئی تھوڑی بہت صلاحیت بروئے کار لائے گی تو سختی سے روکا جائےگا، شاید وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا پشاور سے چلنا ہی مشکل ہو جائے، حکومت اور ایجنسیاں غافل نہیں بیٹھی ۔

    رانا ثنااللہ نے کہاکہ موجودہ صورت حال میں حکومت کا ہوم ورک مکمل ہے جبکہ پی ٹی آئی اپنا ہوم ورک کررہی ہے، پی ٹی آئی کا جیسا ایکشن ہوگا، ری ایکشن اس کے مطابق ہوگا سیاست ٹیبل پر بیٹھ کر ہوتی ہے، احتجاج کرنے کو سیاست نہیں کہا جا سکتاعمران خان ہم سے ہاتھ ملانا گوارہ نہیں کرتے تھے، وہ آج بھی اسٹریٹ موومنٹ میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

    مرکزی مسلم لیگ کا یوم تاسیس،لاہور،کراچی ،پشاور،کوئٹہ سمیت اضلاع کی سطح پر پروگرام

    ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ جو لوگ عمران خان سے ملاقات کے لیے جائیں گے انہیں اجازت نہیں ملنی،اپوزیشن لیڈر کی تقرری سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں رانا ثنااللہ نے کہا کہ اس معاملے پر اسپیکر سے بات ہوئی تھی، جس پر انہوں نے کہا تھا کہ معاملہ عدالت میں ہے، اب سنا ہے کوئی فیصلہ ہوگیا ہے، فیصلے کی کاپی جیسے ہی اسپیکر کو ملے گی وہ اس پر فیصلہ کر دیں گے۔

    فری لانسنگ میں پاکستان دنیا میں تیسرے نمبرپر ہے، وزیر خزانہ

  • شہر میں ترقیاتی منصوبوں کا تعطل سابق حکومت کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے، رانا ثنااللہ

    شہر میں ترقیاتی منصوبوں کا تعطل سابق حکومت کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے، رانا ثنااللہ

    رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ ملک میں نئے صوبے بنانے کا شور تو ہے لیکن عملی کام نہیں ہورہا، نئے صوبوں بنانے کے لیے ایک آئینی طریقہ کار ہے۔

    فیصل آباد میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ تمام پارلیمنٹرین شہر فیصل آباد کے مسائل کے حل کے لیے بھرپور کوششیں کر رہے ہیں، موجودہ حکومت صنعتکاروں کو درپیش تمام مسائل کو حل کرنے میں سنجیدہ ہے تاکہ معیشت کا پہیہ رواں رہے،رانا ثنااللہ نے دعویٰ کیا کہ شہر میں ترقیاتی منصوبوں کا تعطل سابق حکومت کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے 2018 کے بعد ملک کے ساتھ جو کچھ ہوا، اس کے نتیجے میں پاکستان ڈیفالٹ کے دہانے تک پہنچ گیا۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کے پاس جانے کا فیصلہ سابق حکومت کے دور میں ہوا، لیکن اگر یہ فیصلہ کرنا ہی تھا تو وقت پر کیوں نہ کیا گیا؟ موجودہ حکومت رواں برس عوام کو ریلیف اور سبسڈی دینا چاہتی تھی، مگر آئی ایم ایف کی شرائط کی وجہ سے ایسا ممکن نہ ہو سکا، ہم نے دشمن ملک کے مقابلے میں 6 ایٹمی دھماکے کیے اور معرکہ حق میں بھارت کو منہ توڑ جواب دیا، پاکستان اب بھی امن کا خواہاں ہے اور حملہ نہیں کرے گا، تاہم دفاع ضرور کرے گا،ہمارے سپہ سالار نے بھی دوٹوک الفاظ میں کہا کہ پاکستان کا جواب پوری دنیا دیکھے گی اور اس موقع پر سیاسی اور عسکری قیادت ایک صفحے پر متحد تھی، جو دشمن کے مقابلے میں ملک کے دفاع کے لیے ایک مضبوط پیغام ہے۔

    تنگوانی:دو قبائل میں فائرنگ، ایک شخص قتل، دوسرا زخمی

    سیلاب متاثرہ علاقوں میں پانی کی سطح میں نمایاں کمی واقع ہوگئی، پی ڈی ایم اے

    ایشیا کپ، پاک بھارت میچ کے ٹکٹس بلیک میں فروخت ہونے لگے

  • 9 مئی واقعات کے بعد پی ٹی آئی معاملات بہتر کرسکتی تھی،رانا ثنااللہ

    9 مئی واقعات کے بعد پی ٹی آئی معاملات بہتر کرسکتی تھی،رانا ثنااللہ

    وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ ملک میں سیاسی استحکام کی بات ہونی چاہیے پاکستان ہے تو سیاست ہے، عوام کو امن اور ترقی چاہیے۔

    وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ جمہوریت ڈائیلاگ سے آگے بڑھتی ہے ڈیڈلاک سے آگے نہیں بڑھتی ملک اب دھرنوں اور جلاؤ گھیراؤ کی سیاست کا متحمل نہیں ہوسکتا ملک میں سیاسی استحکام کی بات ہونی چاہیے پاکستان ہے تو سیاست ہےعوام کو امن اور ترقی چاہیے، 9 مئی واقعات کے بعد پی ٹی آئی معاملات بہتر کرسکتی تھی، تحریک انصاف والے جس عدالت سے بری ہوتے ہیں، وہاں کی تعریف کرتے ہیں فیصلہ آپ کے خلاف آئے تب بھی عدالتوں کا احترام کریں عدالتوں کا اختیار ہے انہیں اپیل کرنے کا حق حاصل ہے۔

    انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے نوجوانوں کے ذہنوں میں نفرت کے بیج بوئے۔ جن لوگوں نے نوجوانوں کی ذہن سازی کی، موٹیویشن دی، ترغیب دی کہ آپ نکلو اور جلاؤ گھیراؤ کرو، اب وہ کہتے ہیں کہ ہمیں اس کا پتہ ہی نہیں تھا ہمارا کوئی قصور ہی نہیں ہے، پی ٹی آئی کی پہلی صف اور دوسری صف کی لیڈرشپ، سب کے سب یہ بات کہہ رہے تھے کہ خان ہے تو پاکستان ہے خان کو گرفتار کیا تو یہ ہماری ریڈ لائن ہوگی، یہ بیانیہ کئی ماہ تک چلتا رہا ہے۔

    یمنی حوثیوں کا اسرائیل پر میزائلوں سے حملہ، تل ابیب میں بھگدڑ،کئی افراد زخمی

    رانا ثنااللہ نے کہا کہ لوگوں کو ترغیب دی جاتی رہی ہے کہ اگر خان کو گرفتار کیا گیا تو آپ نے فلاں جگہ پر احتجاج کرنا ہےاور پھر وہی ہوا گھروں کو آگ لگائی گئی ہے، حملے ہوئے ہیں، ایئر بیس پر حملہ ہوا ہے شہدا کی یادگاروں پر ڈنڈے اور جوتے برسائے گئے ہیں سب لوگوں کی ویڈیوز موجود ہیں اور وہ وہاں نظر آرہے ہیں اب یہ کیسے کہہ رہے ہیں کہ پتہ نہیں یہ سب کچھ کون کرگیا ہے سب کے سب پی ٹی آئی کے ورکرز تھے۔

    رانا ثنااللہ،نے کہا کہ پی ٹی آئی کے لیڈرز کو چاہیے تھا کہ اگر ایسے واقعات رونما ہوگئے تھے تو ایک سیاسی جماعت کے طور پر اس کی ذمہ داری قبول کرتے اور ندامت اور معذرت کا اظہار کرتے۔ پھر معاملات خرابی کے بجائے بہتری کی طرف جاتے لیکن جب آپ کام کرکے انکار کریں گے، کسی کے گھر کو آگ لگا کر کہیں گے کہ انہوں نے خود لگائی ہے تو پھر اس کے نتائج نکلیں گے یہ نتائج 2 سال بعد آ رہے ہیں 2 سال کا وقت بہت زیادہ تھا، اس میں معاملات بہتر کیے جاسکتے تھے۔

    سندھ کابینہ کے 3 وزرا جامعات کے پرو چانسلر مقرر

    رانا ثنااللہ خاں نے کہا کہ موجودہ حکومت یا پاکستان مسلم لیگ ن کسی کو بائی پاس کرے گی نہ ہی کسی کو بائی پاس کرنے کی اجازت دے گی جو بات ہوگی، برسرعام ہوگی میڈیا اور لوگوں کے سامنے ہوگی جس روز وزیراعظم نے میثاق استحکام پاکستان کی بات کی ہے، سارے لوگ وہاں بیٹھے ہوئے تھے ساری عسکری قیادت بھی وہاں موجود تھی۔

  • سب کو بنیادی امور پر ’چارٹر آف اکانومی‘ پر متفق ہونا چاہیے،رانا ثنااللہ

    سب کو بنیادی امور پر ’چارٹر آف اکانومی‘ پر متفق ہونا چاہیے،رانا ثنااللہ

    وزیراعظم کے سیاسی امور کے مشیر رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے احتجاج کا مقصد ملک کو غیر مستحکم کرنا ہے اور وہ سیاستدانوں کے بجائے اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کی خواہاں ہے، اپوزیشن اور حکومت دونوں کے لیے، اور سب کو بنیادی امور پر ’چارٹر آف اکانومی‘ پر متفق ہونا چاہیے-

    رانا ثنااللہ نےپی ٹی آئی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ سیاستدانوں کے بجائے اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کی خواہاں ہے، ان کے احتجاج کا مقصد ملک کو غیر مستحکم کرنا ہے ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، علی امین گنڈا پور کے الفاظ سے واضح ہے کہ پی ٹی آئی کا مقصد ’معرکہ حق کے فوراً بعد‘ جس سے پاکستان کو استحکام کا موقع ملا کو غیر مستحکم کرنا ہے اس کے علاوہ ان کا اور کیا ایجنڈا ہے، یہ معلوم نہیں ہے،اگر یہ پُرامن رہیں تو ٹھیک ہے، احتجاج ان کا جمہوری حق ہے، لیکن اگر انہوں نے قانون کو ہاتھ میں لیا اور ملک کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کی تو پھر قانون اپنا راستہ لے گا ملک کو غیر مستحکم کرنا ’شروع سے ہی پی ٹی آئی کا ایجنڈا رہی ہے‘، انہوں نے آئی ایم ایف کے دفتر کے باہر بھی مظاہرہ کیا تھا، تاکہ پاکستان کو دیے گئے ہنگامی قرضے کی مخالفت کی جا سکے۔

    ایف سی میں عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق نئے ونگز بنائے جائیں گے، طلال چودھری

    انہوں نے یہ تاثر مسترد کیا کہ حکومت، جو اب نسبتاً مستحکم ہے، عمران خان کی رہائی کے لیے مذاکرات میں زیادہ نرمی برتے گی پی ٹی آئی نے خود پہلے مذاکرات میں یہ مؤقف اپنایا تھا کہ عمران خان کی رہائی پر بات نہیں ہو گی، کیونکہ عمران خان نے خود کہا تھا کہ وہ اپنے کیس میں میرٹ پر بری ہونا چاہتے ہیں حکومت پی ٹی آئی سے دیگر معاملات پر مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن پارٹی کی حالیہ اپیلوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ’حکومت سے نہیں بلکہ اسٹیبلشمنٹ سے بات کرنا چاہتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ وہ سیاسی جماعتوں یا سیاستدانوں کے ساتھ بیٹھنے کو تیار نہیں، وہ اب بھی اپنے ایجنڈے پر قائم ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے دوبارہ اقتدار میں آئیں،ہماری صرف ایک خواہش اور کوشش پاکستان کی معیشت کی بحالی اور کامیابی ہےتاکہ ہر شہری کی فلاح کو یقینی بنایا جا سکےاور پاکستان کو ایک فلاحی ریاست کے طور پر عالمی نقشے پر مقام ملے اگر پی ٹی آئی اور دیگر جماعتیں اس مقصد کے لیے تعاون پر تیار ہوں تو حکومت مذاکرات کے لیے بیٹھنے کو تیار ہے، یہ سب کے باہمی مفاد میں ہے، اپوزیشن اور حکومت دونوں کے لیے، اور سب کو بنیادی امور پر ’چارٹر آف اکانومی‘ پر متفق ہونا چاہیے، جب کہ اس حوالے سے ہم ہر مفاہمت یا معاہدے کے لیے تیار ہیں۔

    پی آئی اے کی نجکاری کیلیے چار پارٹیاں شارٹ لسٹ

    واضح رہے کہ علی امین گنڈا پور اور پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت نے عمران خان کی رہائی کے لیے تحریک کا باضابطہ آغاز کرنے کے لیے لاہور کا دورہ کیا تھا جس کا مقصد ملک گیر احتجاج کی حکمت عملی ترتیب دینا تھا اور اس کا آغاز 5 اگست سے ہوگا، جس دن سابق وزیراعظم کو جیل میں 2 سال مکمل ہوں گے، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے ایک روز قبل ریاستی اداروں سے پی ٹی آئی سے مذاکرات کرنے کی اپیل کی تھی، تاہم ساتھ ہی انہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ وہ خود کو جوابدہ بھی ٹھہرائیں-

  • ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو ہیرو نہیں کہا جاسکتا،رانا ثنا اللہ

    وزیراعظم شہباز شریف کے سیاسی مشیر اور وفاقی وزیر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا بطور سائنسدان جتنا کریڈٹ بنتا ہے ، وہ ان کو دیا جاتا ہے لیکن وہ لیڈر نہیں ہیں۔

    نجی نیوز چینل کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو ہیرو نہیں کہا جاسکتا، ہیرو وہ ہے جس نے ایٹمی دھما کے کر کے پاکستان کو ایٹمی قوت بنایا اور اس کا اغاز سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے کیا اے کیو خان کا بطور سائنسدان جتنا کریڈٹ بنتا ہے، وہ ان کو دیا جاتا ہے لیکن وہ لیڈر نہیں ہیں۔

    رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ایٹم بم تو کئی ممالک نے بنا لیے لیکن ایٹمی دھماکے کرنے والے کم ہیں اور یہاں صرف حسد اوربغض میں کہا جاتا ہے کہ نواز شریف تو کرنا نہیں چاہتے تھے، او بھائی وزیر اعظم نواز شریف ہی تھے اور یہ دھماکے انہوں نے ہی کیے تھے۔

    بھارت کی آبی جارحیت جاری، دریائے چناب میں پانی کی آمد میں کمی

    انہوں نے کہا کہ اسٹیبلمشنٹ کا مؤقف واضح ہے اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر بہت واضح سوچ سمجھ رکھتے ہیں کہ سیاسی مذاکرات سیاسی جماعتوں کے درمیان ہی ہونے چاہییں اور وہ اس میں رکاوٹ بھی نہیں بلکہ انہوں نے کہا کہ ان کو ایسے مذاکرات پر خوشی ہوگی۔

    رانا ثنااللہ نے کہا کہ عمران خان اسٹیبلشمنٹ سے بات کرنےکی خواہش کے بجائے نوازشریف اور صدر آصف زرداری صاحب کو مذاکر ات کا پیغام دیں عمران خان ہر چیز کا ذمہ دار بھی ہمیں ٹھہراتے ہیں اور ساتھ یہ بھی کہتے ہیں آپ کے پاس اختیار نہیں، اختیار تو حکو مت ہی کا ہے اور سابق وزیر اعظم کو حکومت ہی سے بات کرنا ہوگی۔

    پاک ایران باہمی تجارت 3 ارب ڈالر سے بڑھ گئی

    رانا ثنا اللہ نے کہا کہ عمران خان کا فلسفہ سیاست یہ ہے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر دوبارہ حکومت میں آئیں اور پھر سے وہی کہنا شروع کردیں کہ میں چھوڑوں گا نہیں عمران خان اب اپنے اس فلسفےکی وجہ سے کامیابی سے بہت دور جاچکے ہیں۔

  • متنازعہ کینالز  منصوبہ  رانا ثنااللہ اور شرجیل میمن کا رابطہ، بات چیت پر اتفاق

    متنازعہ کینالز منصوبہ رانا ثنااللہ اور شرجیل میمن کا رابطہ، بات چیت پر اتفاق

    وزیراعظم کے مشیر برائے بین الصوبائی رابطہ رانا ثنا اللہ نے سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن سے ٹیلیفونک رابطہ کیا، جس میں دونوں رہنماؤں نے متنازعہ کینالز کےمعاملے کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر اتفاق کیا۔

    باغی ٹی وی : ٹیلیفونک رابطے میں رانا ثنا اللہ نے واضح کیا کہ وفاقی حکومت سندھ کے تحفظات دور کرنے کے لیے مکمل طور پر سنجیدہ ہےوزیراعظم شہباز شریف اور قائد مسلم لیگ ن نواز شریف نے ہدایت دی ہے کہ سندھ کے تمام تحفظات، خصوصاً کینالز کے حوا لے سے، افہام و تفہیم سے حل کیے جائیں۔

    شرجیل انعام میمن نے اس رابطے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت کینالز کے معاملے پر ہر فورم پر اپنا مؤقف پیش کر چکی ہے، اور ہمیں پیپلز پارٹی اور سندھ کے عوام کی طرف سے اس پر شدید تحفظات ہیں پیپلز پارٹی 1991 کے معاہدے کے تحت پانی کی منصفانہ تقسیم کی خواہاں ہے، اور وفاق سے مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

    اسلام آباد سمیت کئی شہروں میں بارش اور ژالہ باری کا امکان

    گزشتہ روز رانا ثنا اللہ نے بیان دیا تھا کہ وفاق پانی سمیت تمام وسائل کی منصفانہ تقسیم پر مکمل یقین رکھتا ہے اور قائدین نے ہدایت دی ہے کہ پیپلز پارٹی سے بات چیت کر کے مسائل حل کیے جائیں، جواب میں شرجیل میمن نے بھی مذاکرات کی پیشکش کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر رانا ثنا للہ بات چیت کرنا چاہتے ہیں تو ہم ویلکم کرتے ہیں، ہم تیار ہیں۔

    شرجیل انعام میمن نے کہا کہ میں نے رانا ثنا اللہ کا بیان دیکھا ہے اس میں وہ دو چیزیں ہیں، ایک تو وہ جو ٹیکنیکل بات کر رہے ہیں اس میں پیپلز پارٹی کا مؤقف بالکل واضح ہے کہ ان کینال سے نہ صرف پیپلز پارٹی کو بلکہ سندھ کی حکومت اور عوام کو سنگین خدشات ہیں۔

    اسلام آباد سمیت کئی شہروں میں بارش اور ژالہ باری کا امکان

    شرجیل انعام میمن نے یہ بھی کہا کہ ہم نے ان سے رابطہ کرنے کی بہت کوشش کی، وزیراعلٰی سندھ نے بھی کوشش کی اور وفاق کو خطوط لکھے ہیں، چیئرمین پیپلز پارٹی واضح پالیسی دے چکے ہیں اور کل بھی انھوں نے حیدر آباد جلسے سے خطاب میں کہا تھا۔

    واضح رہے کہ وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے اپنے بیان میں کہا کہ پانی کی بچت کرنا اور غیرآباد علاقوں کو آباد کرنا حکومت یا کسی ادارے کی نہیں، 25 کروڑوعوام کی ضرورت ہے نہروں کے معاملے کا اختتام وہ نہیں ہوگا جیسی دائیں بائیں سے کوششیں ہو رہی ہیں، یہ معاملہ احسن طریقے سے حل ہوجائے گا جو شور کر رہا ہے اسے پتہ ہی نہیں کون سی نہر کہاں سے نکل رہی ہے۔

    صدر مملکت کی ایسٹر کے موقع پرمسیحی برادری کو دلی مبارکباد دی

  • سوشل میڈیا پر لوگوں کی لائف کو تباہ کرنے والوں کا حل پیکا ایکٹ ہی ہے،رانا ثنااللہ

    سوشل میڈیا پر لوگوں کی لائف کو تباہ کرنے والوں کا حل پیکا ایکٹ ہی ہے،رانا ثنااللہ

    اسلام آباد: وزیر اعظم کے مشیر اور مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما رانا ثنا اللہ خان نے کہا ہے کہ دہشتگردی کا حل صرف فوجی آپریشن ہی ہوتا ہے-

    باغی ٹی وی : فیصل آباد میں رانا ثنااللہ خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شہدا کی قربانیوں کی وجہ سے ہم عید کی خوشیاں منارہے ہیں، شہدا اور ان کی فیملیاں ہماری محسن ہیں، ان قربانیوں سے ملک کا وجود ہےقوم کا دوٹوک فیصلہ ہے اب دہشت گردی برداشت نہیں ہوگی، بے گناہ شہریوں کو قتل کرنا کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔

    رانا ثنا اللہ نے کہا کہ دہشت گردوں کے ہمدرد بھی برداشت نہیں ہوں گے، دنیا جان چکی کہ ہم معاشی بحران سے باہر آچکے ہیں، تمام بڑے ادارے ملک کی اچھی معاشی سرگرمیوں کی رپورٹ دے رہے ہیں مہنگائی کم ہوئی عام آدمی کےحالات بہتر ہوں گے، پنجاب حکومت نے عام آدمی کی مشکلات کو مدنظر رکھتے پلان بنایا، ہر ریلیف کا مقصد عام شہری کو سہولت دینا ہے، ن لیگ کی خدمت کی سیاست ہے، جن لوگوں نے نفرت کو سیاست بنایا وہ انجام کو پہنچیں گے۔

    کراچی: مختلف علاقوں میں زلزلے کے شدید جھٹکے

    وزیر اعظم کے مشیر نے کہا کہ دہشتگردی کا حل صرف فوجی آپریشن ہی ہوتا ہے، افغانستان میں موجود قوتیں ،را اور ہندوستان کے ایجنٹ ہیں دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کارروائی جاری ہے اور جاری ہی رہے گی، جو ملکی آئین کو مانتے ہیں، ان سے مذاکرات کرنے، ان کے ناز نخرے اٹھانے کو تیار ہیں مگر ان کے عمل سے دہشت گردوں کی حمایت کی جھلک نہ آئے۔

    وزیر اعظم کا بنگلہ دیشی چیف ایڈوائزر اور ملائیشین ہم منصب سے رابطہ

    رانا ثنااللہ نے کہا کہ ماہ رنگ بلوچ کو ہم دہشت گرد نہیں کہتے مگر وہ دہشتگرد وں کی مذمت کریں، ان کے سفاکانہ فعل کی مذمت کریں، آل پارٹیز کانفرنس کے معاملہ پر اتحادیوں سے بات کریں گے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں پی ٹی آئی نہیں آئی، جو میڈیا حق سچ کی آواز ہے ان کے ساتھ بیٹھنے کو تیار ہیں، قانون میں ترمیم کی جاسکتی ہے،سوشل میڈیا پر لوگوں کی لائف کو تباہ کرنے والوں کا حل پیکا ایکٹ ہی ہے، صحافتی تنظیموں کے ساتھ بیٹھنے کو تیار ہیں، بلدیاتی الیکشن اس سال ہوسکتے ہیں-

    ایل پی جی کی قیمت میں اضافہ،نوٹیفکیشن جاری

  • پی ٹی آئی کا چارٹرڈ آف ڈیمانڈ جھوٹ کے سوا کچھ نہیں، رانا ثنا اللہ

    پی ٹی آئی کا چارٹرڈ آف ڈیمانڈ جھوٹ کے سوا کچھ نہیں، رانا ثنا اللہ

    اسلام آباد: وزیراعظم کے سیاسی امور کے مشیر رانا ثنا اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اپوزیشن نے کمیشن کے قیام کا مطالبہ کیا ہے اور وہ مینڈیٹ واپسی کے مطالبے سے دستبردار ہوگئی ہے۔

    اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے مذاکرات کرنے والی حکومتی کمیٹی کے رکن رانا ثنااللہ نے سینیٹر عرفان صدیقی کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کہا کہ آج ملاقات میں اپوزیشن نے چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا اپوزیشن کے تحریری مطالبات کا جواب دینے کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی، حکومتی کمیٹی پی ٹی آئی کے مطالبات کا جائزہ لے کرجواب دے گی، کمیٹی میں تمام اتحادی اور پیپلزپارٹی کے اراکین بھی شامل ہیں، حکومتی کمیٹی مطالبات پر جو جواب دے گی وہ حتمی ہوگا۔

    رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اپوزیشن کے 2 بنیادی مطالبات ہیں جن کا وہ پچھلے 10، 11 ماہ سے ذکر کرتے آرہے ہیں، ایک تو یہ کہ ہمارا مینڈ یٹ واپس کیا جائے جس پر ہم انہیں کہتے ہیں کہ اس کے لیے قانونی طریقہ کار اختیار کیا جائے، آج اس سے وہ دستبردار ہوگئے ہیں اور آج کی ملاقات میں انہوں نے الیکشن کے حوالے سے کوئی مطالبہ نہیں کیا اپوزیشن کا دوسرا مطالبہ یہ تھا کہ تمام مقدمات سیاسی طور پر بنائے گئے ہیں جس پر ہم نے انہیں کہا تھا کہ آپ ہمیں ایف آئی آر کے نمبرز فراہم کریں کہ کن سیاسی ورکز کے خلاف ایسے مقدما ت بنائے گئے ہیں لیکن انہوں نے اس حوالے سے کسی قسم کی تفصیلات فراہم نہیں کی۔

    ہر خاتون اور لڑکی کو عزت اور تکریم کی نظر سے دیکھنا، مریم نواز کا جوانوں کو درس

    رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اپوزیشن نے اپنے چارٹر آف ڈیمانڈ میں کہا ’وفاقی حکومت 2 کمیشن قائم کرے اور ان کمیشن کی سربراہی یا چیف جسٹس آف پاکستان کریں یا پھر سپریم کورٹ کے 3 سینئر ترین ججز میں کسی کو سربراہی دی جائے، یہ کمیشن انکوائری ایکٹ 2017 کے تحت بنائے جائیں، تحریری مطالبات میں 9 مئی کو عمران خان کی گرفتاری کی بات کی گئی تو یہ معاملہ تو پہلے سے سپریم کورٹ میں ہے اور اس پر پہلے سے ہی جوڈیشل ریویو ہوچکا ہے تو اس میں دوبارہ چیف جسٹس کس چیز کی انکوائری کریں گے۔

    : پنجاب یونیورسٹی کی اراضی پر 50 سال سے کیا گیا قبضہ ختم،مکانات مسمار

    انہوں نے کہا کہ اسی طرح اسلام آباد ہائیکورٹ کی حدود میں رینجرز کی جانب سے عمران خان کی گرفتاری کی قانونی حیثیت اور ذمہ داران کے خلاف تحقیقات کا کہا گیا، یہ معاملے پر بھی پہلے ہی جوڈیشل ایکشن ہوچکا ہے، اس پر تو اسی وقت ہی اسلام آباد ہائیکورٹ نے نوٹس لے لیا تھا اپوزیشن نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ کمیشن 9 مئی کو عمران خان کی گرفتاری کے وقت کے حالات کی تحقیقات کرے کہ کن حالات میں گروہوں یا افراد کو اعلیٰ سیکیورٹی مقامات تک رسائی ملی، پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ تمام کیسز انسداد دہشت گردی کی عدا لت میں چل رہے ہیں جب کہ کچھ کے ملٹری کورٹس میں فیصلے ہوچکے ہیں۔

    : پنجاب یونیورسٹی کی اراضی پر 50 سال سے کیا گیا قبضہ ختم،مکانات مسمار

    انہوں نے کہا کہ یہ تمام کیسز تو پہلے ہی عدالتوں میں ہیں تو اب ان کا نئے سرے سے کمیشن بنانے کا تو مینڈیٹ بھی نہیں ہے کہ کیسز عدالتوں میں کسی بھی سطح پر چل رہے ہوں تو اس میں کمیشن کیا کرسکتا ہے پی ٹی آئی نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ کمیشن یہ بھی دیکھے کہ لوگوں کو کس حالات میں گرفتار کیا گیا، اس پر جتنے بھی کیسز چل رہے ہیں وہاں سب کچھ بتایا گیا ہے کہ کون کہاں سے اور کیسے حراست میں لیا گیا۔

    سلمان خان کے خاندان میں افسوس کا سماں

    رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کے مطالبات پروپیگنڈے کے علاوہ کچھ نہیں، پی ٹی آئی نے چارٹر آف ڈیمانڈ جھوٹ کے سوا اور کچھ نہیں ان مطالبات کا تو کوئی جواب نہیں بنتا، پی ٹی آئی نے مطالبات کے ساتھ کسی قسم کی تفصیلات اور ڈیٹا فراہم نہیں کیا لہذا اس پر 2017 کے ایکٹ کے تحت جوڈیشل کمیشن کا قیام کا جواز نہیں بنتا۔

  • پی ٹی آئی نے نوجوانوں کو نفرت اور شرپسندی کی طرف راغب کیا،رانا ثنا اللہ

    پی ٹی آئی نے نوجوانوں کو نفرت اور شرپسندی کی طرف راغب کیا،رانا ثنا اللہ

    اسلام آباد: وزیر اعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی نے نوجوانوں کو نفرت اور تقسیم کا شکار کیا،ہم اپنے اثاثے کو جھوٹے اور فریبیوں کے ہاتھوں یرغمال نہیں ہونےدیں گے۔

    باغی ٹی وی: رانا ثنا اللہ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی نے نوجوانوں کے لیے کوئی منصوبہ شروع نہیں کیا اور پی ٹی آئی نے نوجوانوں کو نفرت اور تقسیم کا شکار کیا ہمارے جوانوں میں بہت ٹیلنٹ موجود ہےکھیلوں کے میدان آباد کرنے کے بجائے نوجوانوں کو حکومت کے خلاف جنگ کے لیے استعمال کیا گیا اور نوجوانوں کو پرتشدد کارروائیوں کی جانب راغب کرنے کی کوشش کی گئی پی ٹی آئی نے نوجوانوں کو نفرت اور شرپسندی کی طرف راغب کیا تاہم نوجوان نسل ملک دشمن عناصر کے عزائم سے آگاہ ہوچکی ہے۔

    انہوں نےکہا کہ حکومت کھیلوں کےفروغ کے لیے اقدامات کر رہی ہے اور کھلاڑیوں کو سہولتوں کی فراہمی حکومت کی ترجیح ہے ما ضی میں کھیل کے شعبے پر کوئی توجہ نہیں دی گئی نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آئی پرفارمنس اکیڈمی میں آپ کو تمام سہولیات ملیں گی آپ یہاں ٹریننگ کریں اور دنیا میں پورے ملک کا نام روشن کریں۔

    وزیر اعظم کے مشیر نے کہا کہ پچھلی حکومت نے ڈیپارٹمنٹل اسپورٹس کو ختم کیا تھا لیکن اب حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ڈیپارٹمنٹل اسپورٹس کو دوبارہ شروع کیا جائے گاکھلاڑیوں کے لیے مختلف محکموں میں کوٹہ مختص کریں گے اور نقد انعامات بڑھا کر 5 سے 10 لاکھ روپے کر دیا گیا ہےمحکموں کے درمیان دوبارہ کھیلوں کے مقابلے شروع کیے جائیں گے اور نوجوانوں کی ترقی کے لیے متعدد پروگرامز جاری کیے ہیں۔