Baaghi TV

Tag: رانا ثنااللہ

  • پی ٹی آئی نے نوجوانوں کو نفرت اور شرپسندی کی طرف راغب کیا،رانا ثنا اللہ

    پی ٹی آئی نے نوجوانوں کو نفرت اور شرپسندی کی طرف راغب کیا،رانا ثنا اللہ

    اسلام آباد: وزیر اعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی نے نوجوانوں کو نفرت اور تقسیم کا شکار کیا،ہم اپنے اثاثے کو جھوٹے اور فریبیوں کے ہاتھوں یرغمال نہیں ہونےدیں گے۔

    باغی ٹی وی: رانا ثنا اللہ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی نے نوجوانوں کے لیے کوئی منصوبہ شروع نہیں کیا اور پی ٹی آئی نے نوجوانوں کو نفرت اور تقسیم کا شکار کیا ہمارے جوانوں میں بہت ٹیلنٹ موجود ہےکھیلوں کے میدان آباد کرنے کے بجائے نوجوانوں کو حکومت کے خلاف جنگ کے لیے استعمال کیا گیا اور نوجوانوں کو پرتشدد کارروائیوں کی جانب راغب کرنے کی کوشش کی گئی پی ٹی آئی نے نوجوانوں کو نفرت اور شرپسندی کی طرف راغب کیا تاہم نوجوان نسل ملک دشمن عناصر کے عزائم سے آگاہ ہوچکی ہے۔

    انہوں نےکہا کہ حکومت کھیلوں کےفروغ کے لیے اقدامات کر رہی ہے اور کھلاڑیوں کو سہولتوں کی فراہمی حکومت کی ترجیح ہے ما ضی میں کھیل کے شعبے پر کوئی توجہ نہیں دی گئی نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آئی پرفارمنس اکیڈمی میں آپ کو تمام سہولیات ملیں گی آپ یہاں ٹریننگ کریں اور دنیا میں پورے ملک کا نام روشن کریں۔

    وزیر اعظم کے مشیر نے کہا کہ پچھلی حکومت نے ڈیپارٹمنٹل اسپورٹس کو ختم کیا تھا لیکن اب حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ڈیپارٹمنٹل اسپورٹس کو دوبارہ شروع کیا جائے گاکھلاڑیوں کے لیے مختلف محکموں میں کوٹہ مختص کریں گے اور نقد انعامات بڑھا کر 5 سے 10 لاکھ روپے کر دیا گیا ہےمحکموں کے درمیان دوبارہ کھیلوں کے مقابلے شروع کیے جائیں گے اور نوجوانوں کی ترقی کے لیے متعدد پروگرامز جاری کیے ہیں۔

  • رانا ثناءاللہ کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کا حکم معطل

    رانا ثناءاللہ کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کا حکم معطل

    گوجرانوالہ: ایڈیشنل سیشن جج نے جوڈیشل مجسٹریٹ کا رانا ثناءاللہ کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کا حکم معطل کر دیا۔

    باغی ٹی وی: وارنٹ گرفتاری جوڈیشل مجسٹریٹ سدرہ نواز گل نے جاری کئے تھے، عدالت نے رانا ثناء اللہ کو گرفتار کر کے 12 دسمبر کو پیش کرنے کا حکم دیا تھا،رانا ثناءاللہ نے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کے حکم کو ایڈیشنل سیشن جج سہیل انجم کی عدالت میں چیلنج کیا تھا، سیشن عدالت نے رانا ثناءاللہ کی درخواست منظور کرتے ہوئے وارنٹ گرفتاری معطل کئے اور مقدمہ کا ریکارڈ 21 دسمبر کو طلب کر لیا۔

    رانا ثناءاللہ کے خلاف کار سرکار میں مداخلت اور پولیس اہلکاروں پر گاڑی چڑھانے کا مقدمہ درج ہے، مقدمہ اکتوبر 2020 میں تھانہ سیٹلائٹ ٹاو¿ن میں درج کیا گیا تھا، مقدمہ میں خرم دستگیر سمیت تین ملزمان پہلے ہی بری ہو چکے ہیں۔

  • یقین دلاتا ہوں  عمران خان کی پوری حفاظت ہوگی، رانا ثنا اللہ

    یقین دلاتا ہوں عمران خان کی پوری حفاظت ہوگی، رانا ثنا اللہ

    اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی میں ٹوٹ پھوٹ ہو رہی ہے، بانی پی ٹی آئی کی زندگی کو کوئی خطرہ نہیں-

    باغی ٹی وی: رانا ثنا اللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی میں ٹوٹ پھوٹ ہو رہی ہے، بانی پی ٹی آئی کی زندگی کو کوئی خطرہ نہیں،حکومت کی جانب سے یقین دلاتا ہوں ان کی پوری حفاظت ہوگی، کھانے اور سہولیات کی فراہمی کی بھی یقین دہانی کراتے ہیں، پی ٹی آئی والوں کو گرفتار کرنا ہماری ترجیح نہیں تھی، آنسو گیس شیل فائر ہوتے ہی لیڈرشپ نکل گئی، قیادت کے فرار ہونے سے ہمارے لیے آسانی پیدا ہو گئی۔

    انہوں نے کہا کہ اسلام آباد سے فرار پی ٹی آئی قیادت کی بزدلی ہے، ان کا فیصلہ ہی غلط تھا، یہ پروپیگنڈا پارٹی ہے، انہوں نے آج تک اسکے علاوہ کیا کیا ہے؟اپنی حکومت کو رائے دوں گا کہ کے پی میں گورنرراج نہ لگائیں، یہ آئینی اور کسی اور صورت میں اچھا فیصلہ نہیں ہوگا، گورنر راج لگانا صوبے کی صورتحال کو مزید خراب کرنا ہے، علی امین بڑھکیں مارتے رہیں گے، بشری بی بی اور گنڈا پور کے فرار ہونے پر تنقید ہورہی ہے، جذباتی بیانات سے گنڈا پور اپنی پوزیشن بحال کرنے کی کوشش کررہے ہیں، اسلام آباد کی کوشش تو ہَنُوز دِلّی دُوراَست ہے۔

    واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما اور سابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری نے الزام عائد کیا ہے کہ عمران خان کو کوئی ایسی چیز دی گئی ہے، جس سے ان کا ذہنی توازن بگڑنے کا خطرہ ہے اور ان کی جان کو بھی ’شدید خطرات‘ لا حق ہیں، ہمارا مطالبہ ہے کہ ڈاکٹر عاصم یوسف کی نگرانی میں عمران خان کا شفاف طبی معائنہ کرواکر ان کی صحت کے حوالے سے آگاہ کیا جائے۔

    انہوں نے کہا کہ عمران خان کا اس وقت اپنے خاندان سے رابطہ مکمل منقطع ہے، انہیں ضروری طبی سہولتیں بھی فراہم نہیں کی جارہیں، ان کی خیریت سے متعلق ٹھوس اور قابل اعتماد ثبوت بھی نہیں ہے، عمران خان کی ’تنہائی‘ کے باعث انسانی حقوق کے حوالے سے سنجیدہ تحفظات جنم لیتے دکھائی دیتے ہیں۔

  • پیپلز پارٹی کے گلے شکوے دور ہوگئے ہیں،رانا ثنااللہ

    پیپلز پارٹی کے گلے شکوے دور ہوگئے ہیں،رانا ثنااللہ

    اسلام آباد: مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثنااللہ کا کہنا ہے کہ محمد زبیر کبھی نواز شریف کے قریبی نہیں رہے-

    نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ وزارت داخلہ کافی چیلنجنگ ہے اس کو وقت دینا پڑتا ہے پیپلز پارٹی کے گلے شکوے دور ہوگئے ہیں، ہر کسی کی کوشش ہوتی ہے کہ اپنے حلقے کے لیے زیادہ فنڈز لے، پیپلز پارٹی کے جائز مطالبات تھے، مذاکرات بلامشروط ہوتے ہیں، پہلے سے شرائط نہیں رکھی جاتیں، ہمارے ارکان بھی حلقے کے لیے فنڈز کا مطالبات کرتے ہیں ان کا غصہ اور گلہ بھی ہوتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ہماری خواہش تھی کہ شاہد خاقان عباسی ن لیگ میں رہتے، میرے خیال میں اس وقت پاکستان میں نئی پارٹی کی گنجائش نہیں، پہلے ہی پونے دو سو پارٹیاں پاکستان میں ہیں،محمد زبیر کبھی نواز شریف کے قریبی نہیں رہے، محمد زبیر کی باتیں صرف اندازے ہیں، نواز شریف نے کبھی جنرل باجوہ کو توسیع کی پیش کش نہیں کی۔

    12 سالہ گھریلو ملازمہ پر تشدد میں ملوث مرکزی ملزم گرفتار

    پنجاب حکومت کا ملاوٹ، ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری کے خلاف اتھارٹی بنانے کا …

    ثناءاللہ مستی خیل کی اسمبلی رکنیت معطل

  • رانا ثنااللہ کا سپریم اور ہائیکورٹ ججز کی ریٹائرمنٹ کے حوالے سے اہم مطالبہ

    رانا ثنااللہ کا سپریم اور ہائیکورٹ ججز کی ریٹائرمنٹ کے حوالے سے اہم مطالبہ

    اسلام آباد: وفاقی مشیرسیاسی امور راناثنااللہ کو پنجاب میں اہم رول دینے پر غور شروع کردیا گیا تاہم نواز شریف معاملے پر فیصلہ کریں گے۔

    باغی ٹی وی : ذرائع کے مطابق سابق وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کو کو پنجاب حکومت میں بھی اہم ذمہ داری دینے پر غور کیا جارہا ہے جبکہ نوازشریف کوچند پارٹی رہنماؤں نے وفاقی مشیرکے پنجاب میں رول کی تجویزدی، امن وامان سمیت چندسرکاری کمیٹیوں میں راناثنا کو شامل کرنے کی تجویز دی گئی جبکہ ن لیگ سے باہراہم شخصیت کی جانب سے پنجاب کے معاملات میں مداخلت پر تجویزدی گئی، پارٹی قائد نوازشریف معاملے پرمزیدمشاورت کے بعد فیصلہ کریں گے، چند روز قبل صدر مملکت آصف علی زرداری نے رانا ثنااللہ خان کی وزیرِ اعظم کے مشیر برائے سیاسی و عوامی امور تعیناتی کی منظوری دی تھی، رانا ثنااللہ خان کو وفاقی وزیر کا درجہ بھی حاصل ہے۔

    پی سی بی کی پی ایس ایل کے چار پلے آف نیوٹرل وینیو …

    دوسری جانب رانا ثنا اللہ نے ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کے ججز کی ریٹائرمنٹ کی عمر ایک کرنے کا مطالبہ کردیا نجی ٹی وکے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں کہا کہ چیف جسٹس کی مدت بھی فکس ہونی چاہیے، یہاں تو یہ بھی ہوا ہے کہ 14، 14 دن کے چیف جسٹس بھی بنے ہیں، کوئی بھی ادارہ ایسا نہیں، جس کے سربراہ کی مدت فکس نہ ہو، دونوں معاملات ڈسکس ہورہے ہیں اور سب سے زیادہ عدلیہ اور بار میں یہ بات ہوتی ہے۔

    سعودی معروف شاعر، ادیب اور مصنف شہزادہ بدربن عبد المحسن انتقال کر گئے

  • رانا ثنا اللہ کی ضمانت منسوخی کی نیب درخواست خارج

    رانا ثنا اللہ کی ضمانت منسوخی کی نیب درخواست خارج

    اسلام آباد: اسابق وزیر داخلہ اور لیگی رہنما رانا ثنا اللہ کی ضمانت منسوخی کی نیب درخواست خارج کردی گئی۔

    باغی ٹی وی : سابق وزیرداخلہ رانا ثناءاللہ کی آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں ضمانت منسوخی کی درخواست کی سماعت سپریم کورٹ میں ہوئی چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے درخواست پر سماعت کی، اس دوران نیب کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ لاہور ہائی کورٹ رانا ثنا اللہ کے خلاف انکوائری کالعدم قرار دے چکی ہے عدالت نے درخواست غیر مؤثر ہونے پر رانا ثنا اللہ کی نیب مقدمہ میں ضمانت منسوخی کیلئے دائر نیب اپیل نمٹا دی۔

    دوسری جانب احد چیمہ کی ضمانت منسوخی کا ایک پرانا کیس بھی سماعت کیلئے مقرر ہے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں قائم دو رکنی بنچ 25 اگست کو سماعت کرے گا۔

    نوعمرسگریٹ نوشی کرنے والوں کی دماغی ساخت تبدیل ہوتی ہے،تحقیق

    واضح رہے کہ جمعہ 18 اگست کو سپریم کورٹ نے پاناما والیم ٹین کھولنے، مریم نواز اور رانا ثنا اللہ کی ضمانتیں منسوخ کرنے اور پی ٹی آئی کے استعفوں کی منظوری سے متعلق درخواستیں سماعت کے لیے مقرر کی تھیں مریم نواز، احد چیمہ، رانا ثناء اللہ کی ضمانت منسوخی کی درخواستوں سمیت اہم مقدمات سماعت کے لیے مقرر کئے تھے-

    آئی سی سی نے ون ڈے رینکنگ جاری کردی

  • نوازشریف اس دن آئے گا جس دن انصاف کی توقع ہو گی،خواجہ آصف

    نوازشریف اس دن آئے گا جس دن انصاف کی توقع ہو گی،خواجہ آصف

    مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ شہباز شریف نے تمام سیاسی جماعتوں کے قافلے کو اپنی منزل تک پہنچایا-

    باغی ٹی وی:سیالکوٹ میں جشن آزادی کے حوالے سے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا آج اگر ن لیگ متحرک ہوتی ہے تو وہ گزشتہ پانچ سال ثابت قدمی کا نتجہ ہے, آج سوا سال کی حکومت کے بعد پاکستان کی عوام کی عدالت میں پیش ہوئے، اس حکومت کے وزیراعظم شہباز شریف رہے،پاکستان کی تاریخ میں اتنی مشکل وزارت عظمیٰ شاید کسی نے گزاری ہو، جس طرح شہبازشریف نے گزاری تمام پارٹیوں کو لے کر قافلے کو اپنی منزل تک پہنچایا،ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ چار سال کا سارا گند صاف کیا لیکن ہم نے ملک کو ڈیفالٹ ہونے سے بچایا،جو ڈالر آج تین سو کا ہے پانچ سو کا ہونا تھا، جو تباہی عمران کی کابینہ کر کے گئی شاید ہی پاکستان سلامت رہتا، ہم نے اسکی بچھائی گئی بارودی سرنگوں سے ملک کو نکال کر سواسال مکمل کیا، آپ کو اسکے چار سال کے اتنے اسکینڈلز ملیں گے کہ انہوں نے گھٹیا سے گھٹیا حرکات دیکھنے کو ملیں گی، اس نے قانون کا ہاتھ اپنے گریبان تک آنے سے روکے رکھا، عدلیہ انکی آخری پناہ گاہ ہے، انشاللہ انصاف کا بول بالا ہوگا، جب نوازشریف واپس آئینگے گے تو اسکو ایسی عدلیہ کا سامنا کرنا پڑے جو اسے انصاف دے، آج عمران کے پاس ہائی کوٹ اور سپریم کورٹ کا دروازہ کھلا ہے، لیکن نواز شریف کے پاس کوئی دروازہ نہیں کھلا، پاکستان کی تاریخ میں بیٹی باپ کو جیل ملنے آئی تو اسے جیل سے گرفتار کیا گیا،

    خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ جب لوگوں نے مجھے گرفتار کروایا اس سے قبل بھی ان لوگوں کے والد نے مجھے گرفتار کروایا تھا،خواجہ آصف تو کہیں نہیں بھاگا، کہاں ہے آج پی ٹی آئی کی قیادت،اپنے گھروں کو لاوارث چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں،اور کچھ ایسے ہیں جنہوں نے چوتھی چوتھی پارٹی بدلی کوئی شرم کوئی حیا ہوتی ہےنو مئی کو کیا ہوا تھا یہاں سے جلوس لے کر کینٹ گئے تھے اور کہتے تھے خواجہ آصف کے گھر پر بھی حملہ کرنا ہے، عمران کے بہت چاہنے والے ہوں گے لیکن اسکے ساتھ کون کھڑا ہے بتا دیں، ایک دو چھاپہ کیا پڑا غائب ہوگئے ،ایک خاتون ہے ہمارے ضلع کی اسکو خود بھی یاد نہیں کہ اسنے کتنی پارٹیاں بدلیں، لیکن نواز شریف کیساتھ تمام لوگ کھڑے رہے نواز کی ثابت قدمی تھی کہ آج اسکا ورکر اسکے ساتھ کھڑا ہے، حمزہ سوا دو سال قید رہاپورا خاندان قید ہوگیا تھا،انکو تو ابھی دس دن ہوئے ہیں شکایت کرتا ہے کہ وہاں مچھر ہے کیا ننہال گئے ہو؟، آج 76 واں یوم آزادی ہے اللہ نے آج بھی ملک کو قائم رکھا ہے، نو مئی ایسا سانحہ ہے جو سوچا سمجھا منصوبہ تھا، جو ہندوستان 75 سالوں میں نہ کر سکا وہ عمران خان نے کر دیا، اسکے وارے میں نہیں تھا اگر اسکی مرضی کا چیف نئیں آتا تو منصوبہ بنایا کہ ملک بھی نہیں رہے گا آج تک اس نے نو مئی کے واقع کی مزمت نہیں کی، اسکے ساتھی یا مفرور ہیں یا لوٹے ہوگئے ہیں، مجھے فخر ہے کہ میں ایسے قائد کا ورکر ہوں جو پہاڑ کی طرح ظلم کے سامنے کھڑا رہا،
    لوگ پوچھتے ہیں کہ نواز کب واپس آئے گا،آپ بتائیں کہ نواز واپس آئے تو اس موجودہ عدلیہ سے انصاف کی توقع ہو سکتی ہے، نوازشریف اس دن آئے گا جس دن انصاف کی توقع ہو گی،ہم یہ نہیں کہتے کہ عدلیہ ہماری حمایت کرےعدلیہ انصاف کی ہمایت کرے، خواتین کے کہنے پر ہم پہ سیاست نہیں کریں گے، پارلیمان قانون کی ماں ہے،

    76 واں یوم آزادی،مزار قائد اورعلامہ اقبال پرگارڈز کی تبدیلی کی پروقار تقریب

    دوسری جانب سابق وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللّٰہ نے کہا ہے کہ 9 مئی کو چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے جو کچھ کیا اس کے بعد اس کے نتائج کی ذمے داری بھی چیئرمین پی ٹی آئی پر ہے۔

    نگراں وزیراعظم کا نام کہیں اور سے سامنے آنے میں کوئی حقیقت نہیں۔ خواجہ آصف

    قبل ازیں سابق وزیر دفاع اور مسلم لیگ ن کے رہنماء خواجہ آصف نے کہا ہے کہ نگراں وزیر اعظم انوارالحق کاکڑ کا نام کہیں اور سے سامنے آنے میں کوئی حقیقت نہیں ہے جبکہ خواجہ آصف نے میڈیا کو بتایا کہ ضرورت تھی کہ چھوٹے صوبوں کو حکمرانی میں حصہ دیا جائے اور نگران وزیراعظم کیلئے انوارالحق کا نام سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر دیا گیا ہے جبکہ انوار الحق کا نگران وزیراعظم بننا بہت ہی اچھی بات ہے کیونکہ انوارالحق کانام نگران وزیراعظم کیلئے سرفہرست تھا۔

    سابق وزیر دفاع خواجہ آصف دعویٰ کیا کہ مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف اگلے مہینے ستمبر میں پاکستان آجائیں گے اور نوازشریف کو اختر مینگل کے تحفظات کو دورکرنا چاہئے کیونکہ ہمیں بلوچستان کےمسائل کا قومی حل تلاش کرنا چاہئے جبکہ ہمیں بلوچستان کے ناراض لوگوں کو بھی قومی دھارے میں لانا چاہئے اور اسی میں بہتری ہے۔

    76 واں یوم آزادی،مزار قائد اورعلامہ اقبال پرگارڈز کی تبدیلی کی پروقار تقریب

  • سائفردستاویز: بظاہر یہ کام بہت شرانگیز ہے، یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہیے،رانا ثنااللہ

    سائفردستاویز: بظاہر یہ کام بہت شرانگیز ہے، یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہیے،رانا ثنااللہ

    اسلام آباد: سابق وزیر داخلہ رانا ثنا اللّٰہ نے بین الاقوامی میڈیا پر سامنے آنے والی دستاویز سے متعلق کہا ہےکہ اس اطلاع کی تصدیق کے لیے تحقیقات ہونی چاہیے۔

    باغی ٹی وی: ایک بیان میں رانا ثنا اللّٰہ نےکہا کہ بظاہر یہ کام بہت شرانگیز ہے، یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ سائفر کی کاپی چیئرمین پی ٹی آئی کے پاس تھی جو انہوں نے واپس بھی نہیں کی،چیئرمین پی ٹی آئی یہ بات بھی ریکارڈ پر کہہ چکے ہیں کہ ان سے وہ سائفر کاپی گم ہوگئی ہے، اگر چیئرمین پی ٹی آئی اس سلسلےمیں قصوروار ثابت ہوتے ہیں تو ان کے خلاف آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت مقدمہ چلایا جانا چاہیے۔

    واضح رہے کہ امریکی ویب سائٹ نے سائفر لیک کر دیا ویب سائٹ دی انٹرسیپٹ دعوی کیا ہے کہ ان کو موصول ہونے والی خفیہ دستاویز کے مطابق امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے 7 مارچ 2022 کو ہونے والے ایک اجلاس میں عمران خان کو یوکرین پر روسی حملے پر غیر جانبداری پر وزیر اعظم کے عہدے سے ہٹانے کے لیے پاکستانی حکومت کی حوصلہ افزائی کی-

    امریکی ویب سائٹ نے سائفر لیک کردیا؟

    امریکہ میں پاکستانی سفیر اور اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے دو عہدیداروں کے درمیان ہونے والی ملاقات گزشتہ ڈیڑھ سال سے پاکستان میں شدید چھان بین، تنازعات اور قیاس آرائیوں کا موضوع بنی ہوئی ہے، کیونکہ عمران خان اور ان کےمخالفین اقتدار کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ سیاسی کشمکش 5 اگست کو اس وقت شدت اختیار کر گئی جب عمران خان کو بدعنوانی کے الزام میں تین سال قید کی سزا سنائی گئی اور ان کی برطرفی کے بعد دوسری بار حراست میں لیا گیا۔ عمران خان کے حمایتی ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کرتے ہیں۔

    ویب سائٹ کے مطابق لیک ہونے والی دستاویز میں امریکی حکام کے ساتھ ملاقات کے ایک ماہ بعد پارلیمنٹ میں عدم اعتماد کا ووٹ لیا گیا، جس کے نتیجے میں عمران خان کو اقتدار سے ہٹادیا گیا۔ خان کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے امریکہ کی درخواست پر اقتدار سے ہٹانے کی منصوبہ بندی کی تھی۔ پاکستانی کیبل کا متن، جو سفیر کی جانب سے اس ملاقات سے تیار کیا گیا تھا اور پاکستان منتقل کیا گیا تھا، اس سے قبل شائع نہیں کیا گیا تھا۔ اندرونی طور پر ‘سائفر’ کے نام سے جانی جانے والی اس کیبل میں ان گاجروں اور لاٹھیوں کو ظاہر کیا گیا ہے جو اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے عمران خان کے خلاف دباؤ ڈالنے کے لیے تعینات کی تھیں، جس میں وعدہ کیا گیا تھا کہ اگر عمران خان کو ہٹایا گیا تو تعلقات بہتر ہوں گے اور اگر ایسا نہ ہوا تو مشکل کا سامنا کرنا پڑے گا-

    اوورسیز پاکستانیوں کی ملک کے لیے بہت خدمات ہیں. وزیراعظم

    دوسری جانب ترجمان امریکی محکمہ خارجہ میتھیو ملر کا کہنا ہے کہ سفارتی سائفر کے مبینہ متن سے ثابت ہوگیا کہ کوئی سازش نہیں ہوئی تھی،سائفر کی بنیاد بننے والی پاکستانی سفیر سے امریکی وزارتِ خارجہ کے افسر کی گفتگو میں امریکی اہلکار کی باتوں کو سیاق و سباق سے ہٹ کر سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔

    واضح رہے کہ عمران خان نے 2022 میں صحافیوں کو بتایا تھا کہ سائفر میں امریکی معاون وزیر برائے جنوبی ایشیا ڈونلڈ لو اور پاکستانی سفیر اسد مجید کے درمیان ملاقات کی تفصیلات موجود ہیں اور ڈونلڈ لو نے سفیر کو متنبہ کیا تھا کہ اگر عمران خان اقتدار میں رہے تو اس کے نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    سائفر کیا ہوتا ہے؟
    سائفر کسی بھی اہم اور حساس نوعیت کی بات یا پیغام کو لکھنے کا وہ خفیہ طریقہ کار ہے جس میں عام زبان کے بجائے کوڈز پر مشتمل زبان کا استعمال کیا جاتا ہےکسی عام سفارتی مراسلے یا خط کے برعکس سائفر کوڈ کی زبان میں لکھا جاتا ہے۔ سائفر کو کوڈ زبان میں لکھنا اور اِن کوڈزکو ڈی کوڈکرنا کسی عام انسان نہیں بلکہ متعلقہ شعبےکے ماہرین کا کام ہوتا ہے۔ اور اس مقصد کے لیے پاکستان کے دفترخارجہ میں ایسے افسران ہیں ، جنھیں سائفر اسسٹنٹ کہا جاتا ہے۔ یہ سائفر اسسٹنٹ پاکستان کے بیرون ملک سفارتخانوں میں بھی تعینات ہوتے ہیں۔

    پاکستان تحریک انصاف کا آج یومِ تشکّر و نجات منا نے کا اعلان

  • جلاؤ گھیراؤ کے ماسٹرمائنڈ عمران خان کیخلاف ملٹری کورٹ میں مقدمہ چلے گا،رانا ثنااللہ

    جلاؤ گھیراؤ کے ماسٹرمائنڈ عمران خان کیخلاف ملٹری کورٹ میں مقدمہ چلے گا،رانا ثنااللہ

    اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے اعلان کیا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان پر ملٹری کورٹ میں مقدمہ چلے گا-

    باغی ٹی وی: نجی ٹی وی کو انٹرویو میں رانا ثنا اللہ کا کہنا تھاکہ عمران خان نے جو فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا پروگرام بنایا اوراس پر عمل کروایا، میری سمجھ کے مطابق یہ بالکل ملٹری کورٹ کا کیس بنتا ہےعمران خان ہی سارے جلاؤ گھیراؤ کے ماسٹر مائنڈ ہیں، وہ گرفتاری سے پہلے سب کچھ طے کرکے گئے تھے، یہ توجیہہ بنتی ہی نہیں کہ عمران خان تو جیل میں تھے۔

    جس طرح مجھے گرفتار کیا گیا ،ردِعمل فوجی نشان والی عمارتوں کےسامنےنہ آتا تو اور …

    رانا ثنااللہ نے کہا کہ ساری منصوبہ بندی اور تیاری عمران خان کی گرفتاری سے پہلے کی تھی اور اس سب کے آرکیٹکٹ عمران خان ہیں، کارکنان و رہنماؤں کو ہدایت کرچکے تھے کہ گرفتاری کی صورت میں ان ان مقامات پر جلاؤ گھیراؤ کرنا ہے اور اس کے ثبوت بھی موجود ہیں-

    دوسری جانب وزیر اعظم کے معاون خصوصی اور پیپلزپارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے کہا کہ عمران خان کیخلاف آرمی ایکٹ کے تحت کارروائی کی کوئی وجہ نہیں، جیل میں موجود پی ٹی آئی اراکین کو بلاکر مذاکرات کیے جاسکتے ہیں۔

    جبکہ گزشتہ روز وزیر دفاع خواجہ آصف بھی کہہ چکے ہیں کہ عمران خان کے خلاف آرمی ایکٹ کے تحت کارروائی خارج از امکان نہیں۔

    بھارت میں مسلمانوں کو برا اورغلط سمجھنا فیشن بن چکا ہے،نصیر الدین شاہ

    واضح رہے کہ اپنے ویڈیو لنک خطاب میں چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان نے ایک بار پھر فوجی تنصیبات پر پارٹی کارکنوں کے حملے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’جس طرح فوج نے مجھے کمانڈو ایکشن کر کے گرفتار کیا، اس پر ردِعمل اگر فوجی نشان والی عمارتوں کے سامنے نہ آتا تو اور کہاں آتا؟‘

    عمران خان کا کہنا تھا کہ ہمارے لوگوں نے دیکھا کہ مجھے غیرقانونی طریقے سے اغواء کرکے لیکر جارہی ہے رینجرز جو پاکستانی فوج ہے اور لوگوں کو ڈنڈے مارے مجھے مارا۔ جس طرح مجھے لے کر جارہے تھے کیا ان کا حق نہیں تھا کہ وہ پُرامن احتجاج کریں تو انھوں نے کہاں احتجاج کرنا تھا جی ایچ کیو کے سامنے یا جہاں آرمی ہوگی وہاں ہی احتجاج کرنا تھا کنٹونمنٹ بورڈ پر کرنا تھا اور کہاں جا کر احتجاج کرتے پرُامن احتجاج کرنا ان کا حق تھا۔ جنھوں نے جلایا توڑ پھوڑ کی ان کے خلاف سخت ایکشن لینا چاہیے-

    پی آئی اے نے رواں سال کی پہلی سہ ماہی کے مالی نتائج جاری …

  • آج رات 12 بجے کے بعد عمران خان کی گرفتاری ممکن ہے،رانا ثنااللہ

    آج رات 12 بجے کے بعد عمران خان کی گرفتاری ممکن ہے،رانا ثنااللہ

    اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ آج رات 12 بجے کے بعد پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کو گرفتار کیا جا سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : نجی خبررساں ادارے سےگفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ عدالتی ریلیف کے ہوتےہوئے عمران خان کو گرفتار نہیں کیا جانا چاہئے عمران خان کو دیا گیا یہ عدالتی ریلیف زیادہ دیر تک نہیں رہ سکتا، 17 تاریخ کوعدالت کو اس تاریخی ریلیف کوختم کرنا ہوگا، لہٰذا عمران خان کی گرفتاری تو ہونی ہی ہے عمران خان کے خلاف ہر چیز ثابت ہے، انہیں خوف نہیں ہونا چاہئے کیونکہ جیل میں کچھ نہیں ہوتا، اپنے دور میں تو یہ دوسرے لوگوں کی دوائیوں اور ان کے سونے جاگنے پر نظر رکھتے تھے، البتہ آج رات 12 بجے کے بعد عمران خان کی گرفتاری ممکن ہے۔

    آرمی ایکٹ کے تحت ملوث افراد کےخلاف کارروائی ہوگی،نگران وزیراعلٰی پنجاب

    رانا ثنا اللہ نے کہا کہ دفاعی تنصیبات، جی ایچ کیو راولپنڈی اور جناح ہاؤس لاہور پر حملہ عمران خان کی ایما پر ہوا ابھی تک جو پکڑے گئےوہ ورکرز اور ٹائیگرفورس کےلوگ ہیں جنہیں یاسمین راشد، ملیکہ بخاری اور عالیہ حمزہ نے اکسایا جبکہ بعض ورکرز معافی مانگنے کو تیار ہیں۔

    وزیر داخلہ نے کہا کہ آرمی ایکٹ کا فیصلہ آرمی کی قیادت کرے گی، شہداء کے گھروں تک بات جاپہنچی ہے، لہٰذا اگر ابھی بھی آرمی ایکٹ کا استعمال نہ ہوا تو اسے کس لیے رکھا ہوا ہے،آرمی ایکٹ کا استعمال فوج کی زیر نگرانی جگہوں پر کیا جائے گا جب کہ ریڈیو پاکستان اور دیگر مقامات پر جلاؤ گیراؤ عام قانون کے تحت محاصبہ کیا جائے گا۔

    میری اگلی گرفتاری سے قبل شاید یہ میری آخری ٹوئٹ ہو،عمران خان

    انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف پر پابندی لگ سکتی ہے، میری رائے تھی کہ اس فتنہ کو ووٹ کی طاقت سے مائنس کرنا چاہئے لیکن اس فتنے نے اپنی پارٹی کو ہی دوچار کردیا، اللہ کی طرف سے بہتری ہوئی اور اس فتنے کی شناخت ہوگئی عمران خان میں کوئی سیاستدانوں والی بات نہیں، کوئی سیاستدان مخالفین سے بات کرنے سے انکار نہیں کر سکتا، عمران کا سیاست سے مائنس ہونا ہی حل ہے، میں نے کہا تھا کہ یہ یا خود نہیں رہے گا یا دوسروں کو نہیں رہنے دے گا۔

    لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین سیاسی لوگ ہیں، وہ سیاست جانتے ہیں لیکن عمران خان سیاستدان نہیں، قوم کی بدقسمتی ہےیہ سیاست میں آئے اور کچھ لوگوں نے غلطی کرکے انہیں پروان چڑھایا، 8 اکتوبر کو الیکشن کا انعقاد موجودہ حالات پر منحصر ہے اور حالات ایسے ہی رہے تو آئین میں ایمرجنسی کا حل موجود ہے۔

    علی زیدی کے گھر کو سب جیل قرار دینے کے احکامات واپس،جیکب اباد جیل منتقل …