Baaghi TV

Tag: زلزلہ

  • نیپال میں تباہ کن زلزلہ:پاکستان آج 80 ٹن سے زائد کا امدادی سامان روانہ کرے گا

    نیپال میں تباہ کن زلزلہ:پاکستان آج 80 ٹن سے زائد کا امدادی سامان روانہ کرے گا

    پاکستان سیلاب سے متاثرہ برادر ملک نیپال کے لیے آج 80 ٹن سے زائد کا امدادی سامان روانہ کرے گا،امداد کی پہلی کھیپ آج شام 4 بجے تک روانہ کی جا رہی ہے، اس امدادی سامان میں خیمے، ادویات، کمبل اور دیگر ضروری اشیائے ضرورت شامل ہیں۔

    ذرائع کے مطابق پاکستان نے سیلاب کی تباہ کاریوں کا شکار برادر ملک نیپال کی مدد کے لیے ہنگامی بنیادوں پر امدادی کارروائیاں شروع کر دی ہیں، اس سلسلے میں پاکستان کی جانب سے 80 ٹن وزنی انسانی بنیادوں پر دی جانے والی امداد کی پہلی کھیپ آج شام 4 بجے تک نیپال کے لیے روانہ کر دی جا ئے گی۔

    ذرائع نے بتایا ہے کہ اس پہلی امدادی کھیپ میں سیلاب متاثرین کے لیے خیمے، ضروری ادویات، کمبل اور دیگر انتہائی اہم اور بنیادی ضرورت کی اشیاء شامل کی گئی ہیں تا کہ متاثرہ علاقوں میں امدادی کاموں میں تیز رفتاری لائی جا سکے،پاکستان کی جانب سے یہ اقدام نیپال میں حالیہ سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصان کے بعد بحالی اور ریلیف کی کوششوں میں حصہ ڈالنے اور مشکل کی اس گھڑی میں نیپالی عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے طور پر اٹھایا جا رہا ہے۔

    واضح رہے کہ نیپال اور تبت کی سرحدی پٹی میں سیلاب کے بعد ریسکیو آپریشن چھٹے روز بھی جاری ہے، جبکہ نیپال میں 794 اور تبت میں 16 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوچکی ہے،نیپال میں 2,500 سے زائد افراد لاپتا ہیں، جن میں سینکڑوں ہائیڈرو پاور منصوبوں کے کارکن بھی شامل ہیں۔

    نیپال میں حکام نے سیلاب کے باعث ہائیڈرو پاور منصوبوں کی سرنگوں میں پھنسے سینکڑوں افراد کو نکالنے کے لیے امدادی کارروائیاں تیز کردی ہیں۔ ریسکیو ٹیموں میں چین اور بھارت کے ماہرین بھی شامل ہیں، جو سرنگوں کے اندر موجود افراد سے رابطے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم اب تک اندر سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

    حکام کے مطابق تریشولی-3 اے ہائیڈرو پاور منصوبے میں امدادی کارکنوں نے سرنگ میں داخل ہونے کے لیے ایک سوراخ بنانے میں کامیابی حاصل کرلی ہے اور زندہ بچ جانے والوں کی تلاش شروع کردی ہے۔ نیپال میں لاپتا ہونے والے 2,500 سے زائد افراد میں سینکڑوں کے بارے میں خیال ہے کہ وہ ملک کے مختلف پن بجلی منصوبوں میں کام کرتے تھے۔ لاپتا افراد میں مختلف ممالک کے غیرملکی شہری بھی شامل ہیں۔

    دوسری جانب چین کے زیر انتظام تبت کے علاقے میں سرکاری طور پر 16 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ 546 افراد لاپتا ہیں، ان میں سے تقریباً نصف غیرملکی شہری بتائے جاتے ہیں، شگاتسے میں امدادی ٹیموں کو اب تک کسی شخص کو زندہ تلاش کرنے میں کامیابی نہیں مل سکی، جس سے متاثرہ علاقوں میں انسانی المیے کی شدت کا اندازہ ہوتا ہے۔

    سیلاب سے نیپال کے 3 سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع میں کم از کم 19 اسکول بھی متاثر ہوئے ہیں، وزارتِ تعلیم کے مطابق 9 اسکول مکمل طور پر تباہ جبکہ 7 کو جزوی نقصان پہنچا ہے، مختلف تعلیمی اداروں سے اساتذہ اور طلبہ کے لاپتا ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں، تازہ جائزے کے مطابق 200 سے زائد طلبہ لاپتا جبکہ تقریباً 20 سیلابی ریلے میں بہہ گئے، راسووا اور نواکوٹ اضلاع کے متعدد اسکول، جہاں 2,425 طلبہ زیرتعلیم تھے، سیلابی پانی میں ڈوب گئے یا ملبے تلے دب گئے، ایک اسکول کی انتظامیہ نے بتایا کہ سیلاب اس کی ایک طالب علم کو لے جانے والی بس بھی بہا لے گیا۔

  • مالاکنڈ وگردونواح میں زلزلے کے جھٹکے

    مالاکنڈ وگردونواح میں زلزلے کے جھٹکے

    مالاکنڈاور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے۔

    مالاکنڈ، بٹ خیلہ شہر اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے،زلزلے کے باعث شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور بعض افراد گھروں اور عمارتوں سے باہر نکل آئے،زلزلہ پیما مرکز اسلام آباد کے مطابق زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 4.3 ریکارڈ کی گئی جبکہ اس کی گہرائی 185 کلومیٹر تھی زلزلے کا مرکز افغانستان کا کوہ ہندوکش ریجن بتایا گیا ہے-

    ابتدائی اطلاعات کے مطابق زلزلے کے باعث کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ متعلقہ اداروں کی جانب سے صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہےزلزلے کے جھٹکے محسوس ہونے کے بعد شہریوں میں خوف و ہراس پایا گیا تاہم حکام نے شہریوں کو محتاط رہنے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں حفاظتی اقدامات اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔

    واضح رہے زمین کی تہہ تین بڑی پلیٹوں سے بنی ہے، پہلی تہہ کا نام یوریشین، دوسری انڈین اور تیسری اریبئین ہے،زیر زمین حرارت جمع ہوتی ہے تو یہ پلیٹس سرکتی ہیں، زمین ہلتی ہے اور یہی کیفیت زلزلہ کہلاتی ہے۔

  • ژوب اور چمن میں زلزلے کے جھٹکے

    ژوب اور چمن میں زلزلے کے جھٹکے

    بلوچستان کے اضلاع ژوب اور چمن میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے-

    زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت 4.8 اور گہرائی 15 کلو میٹر ریکارڈ کی گئی۔ زلزلے کا مرکز ژوب سے 122 کلومیٹر شمال مشرق میں تھا،زلزلے کے باعث شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور وہ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے،زلزلے سے فی الحال کسی قسم کے جانی و مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ملی۔

    دو روز قبل بھی پاکستان کے ساحل کے قریب سمندر میں زلزلے کے جھٹکے ریکارڈ کیے گئے تھے ، پاکستان میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ کے مطابق کیٹی بندر کے قریب زلزلہ صبح 8 بج کر 31 منٹ پر ریکارڈ کیا گیاجس کی شدت 4.5 اور گہرائی 40 کلو میٹر تھی،جبکہ مرکز کیٹی بندر سے 156 کلو میٹر جنوب مغرب میں تھا،اس سے قبل بھی لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے تھے، ریکٹر سکیل پر زلزلے کی شدت 4.5 ریکارڈ کی گئی۔

  • کولمبیا زلزلے میں ہلاکتیں 132 ہوگئیں، سیکڑوں افراد زخمی

    کولمبیا زلزلے میں ہلاکتیں 132 ہوگئیں، سیکڑوں افراد زخمی

    کولمبیا میں 7.4 شدت کے طاقتور زلزلے سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے، کم از کم 132 افراد ہلاک اور تقریباً 570 زخمی ہوگئے۔

    زلزلے کے بعد کئی علاقوں میں عمارتوں کے ملبے تلے لوگوں کے دبے ہونے کی اطلاعات ہیں، جس کے باعث ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے امدادی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں ملبہ ہٹا کر زندہ بچ جانے والوں کو تلاش کیا جارہا ہے، تاہم متعدد علاقوں تک رسائی مشکل ہونے کی وجہ سے مکمل نقصان کا اندازہ لگانے میں وقت لگ سکتا ہے۔

    کولمبیا کے صدر ابیلاردو ڈی لا ایسپریلا کے مطابق زلزلے سے کم از کم 1،575 مکانات، 18 طبی مراکز اور 52 اسکول متاثر ہوئے ہیں، جبکہ 61 عمارتیں مکمل طور پر تباہ ہوگئی ہیں زلزلے کے بعد کم از کم 21 آفٹر شاکس بھی ریکارڈ کیے گئے۔ حکومت کی جانب سے وہاں ہنگامی حالت نافذ ہے تاکہ متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں اور بحالی کے لیے فوری طور پر فنڈز فراہم کیے جا سکیں۔

    زلزلے کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں مختلف شہروں میں عمارتوں کو اچانک منہدم ہوتے دیکھا گیا۔ پیریرا شہر میں ایک چار منزلہ عمارت زلزلے کے دوران زمین بوس ہوگئی، جبکہ مانیسالس میں شہر کے معروف نو گوتھک طرز تعمیر والے گرجا گھر کے ایک جانب موجود ٹاور کا حصہ بھی گر گیا ملبہ قریبی سڑکوں پر جا گرا، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

    کولمبیا کی جیولوجیکل سروس کے مطابق یہ زلزلہ 21ویں صدی میں ملک میں ریکارڈ کیا جانے والا سب سے طاقتور زلزلہ ہ۔ ادارے نے خبردار کیا ہے کہ مزید آفٹر شاکس بھی آسکتے ہیں، اس لیے متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    زلزلے کا مرکز کولمبیا کا مغربی حصہ ہے جو بحرالکاہل کے قریب واقع علاقے میں تھا، جو دنیا کے اس خطے کا حصہ ہے جسے ’’رنگ آف فائر‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا وسیع علاقہ ہے جہاں زمین کی بڑی ٹیکٹونک پلیٹوں کی حرکت کے باعث زلزلے اور آتش فشانی سرگرمیاں نسبتاً زیادہ ہوتی ہیں۔

    زلزلے سے متاثرہ بحرالکاہل کا خطہ، خصوصاً چوکو، کولمبیا کے غریب ترین علاقوں میں شمار ہوتا ہے یہ علاقہ گھنے جنگلات پر مشتمل ہے اور اس کے کئی حصوں تک زمینی راستے سے پہنچنا مشکل ہے۔ بعض مقامات تک صرف کشتی یا طیارے کے ذریعے رسائی ممکن ہےس یہی وجہ ہے کہ حکام کے لیے متاثرہ علاقوں میں پہنچ کر نقصانات اور جانی نقصان کی مکمل تفصیلات جمع کرنا ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔

    امریکا کی نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی سے وابستہ ماہرِ زلزلہ سوزان وین ڈر لی کے مطابق زلزلے کی شدید طاقت، اس کا زمین کے اندر واقع ہونا اور زمین کی پلیٹوں کی افقی حرکت نے بعض گنجان آباد وادیوں میں جھٹکوں اور نقصانات کو بڑھایا ہو سکتا ہے۔

    ماہرین کے مطابق اگرچہ زلزلے کی گہرائی زیادہ تھی اور عام طور پر ایسی صورت میں سطح زمین پر جھٹکوں کی شدت نسبتاً کم ہوسکتی ہے، لیکن اس زلزلے کی طاقت اتنی زیادہ تھی کہ اس کے باوجود کئی علاقوں میں شدید لرزش محسوس ہوئی۔

    کولمبیا میں ریسکیو اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں جبکہ حکام متاثرہ علاقوں میں نقصان کا مکمل جائزہ لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دور دراز اور دشوار گزار علاقوں سے مزید معلومات سامنے آنے کے بعد ہلاکتوں اور نقصانات کی تعداد میں مزید اضافے کا امکان موجود ہے۔

  • کولمبیا میں زلزلہ: وزیراعظم کا جانی و مالی تباہی  پر اظہارِ افسوس

    کولمبیا میں زلزلہ: وزیراعظم کا جانی و مالی تباہی پر اظہارِ افسوس

    وزیراعظم شہبا زشریف،نے کولمبیا میں آنے والے شدید زلزلے کے نتیجے میں ہونے والی جانی و مالی تباہی پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

    وزیراعظم،شہبا زشریف نے کہا کہ پاکستان کی حکومت اور عوام اس المناک سانحے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر کولمبیا کے عوام اور متاثرہ خاندانوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں،انہوں نے کولمبیا کے صدر ایبلارڈو ڈی لا ایسپریئلا، وہاں کے عوام اور ان تمام خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کیا جنہوں نے زلزلے کی تباہ کاری کے باعث اپنے پیاروں کو کھو دیا وزیراعظم نے متاثرہ خاندانوں کے لیے صبر اور حوصلے کی دعا بھی کی۔

    وزیراعظم نے زلزلے کے نتیجے میں زخمی ہونے والے افراد اور اس قدرتی آفت سے متاثر ہونے والے تمام لوگوں کے لیے بھی ہمدردی کا اظہار کیا، کہا کہ پاکستان کی دعائیں اور نیک خواہشات اس مشکل وقت میں زخمیوں اور متاثرین کے ساتھ ہیں،پاکستان اس مشکل گھڑی میں کولمبیا کے عوام کے ساتھ کھڑا ہے، قدرتی آفت سے پیدا ہونے والی اس صورتحال میں پاکستانی عوام اور حکومت کولمبیا کے متاثرین کے دکھ کو محسوس کرتے ہیں اور ان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔

  • مصر میں 5.6 شدت کا زلزلہ

    مصر میں 5.6 شدت کا زلزلہ

    مصر کے دارالحکومت قاہرہ اور اس کے گرد و نواح میں آج علی الصبح 5.6 شدت کا زلزلہ آیا-

    مصری قومی ادارہ برائے فلکیاتی و جیو فزیکل تحقیق کے مطابق زلزلہ مقامی وقت کے مطابق صبح 3 بج کر ایک منٹ پر آیا، جبکہ اس کا مرکز سوئز شہر سے تقریباً 38 کلومیٹر دور واقع تھا۔ ادارے نے بتایا کہ زلزلے کے بعد صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور متعلقہ ادارے الرٹ ہیں،زلزلے کے اثرات فلسطین، اردن، لبنان اور قبرص تک محسوس کیے گئے۔

    یورپی بحیرہ روم زلزلہ نگرانی مرکز (ای ایم ایس سی) کے مطابق تقریباً 6 کروڑ 60 لاکھ افراد ایسے علاقوں میں موجود تھے جہاں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، تاہم ابتدائی اطلاعات کے مطابق کسی جانی یا بڑے مالی نقصان کی اطلاع سامنے نہیں آئی،جبکہ آئندہ چند گھنٹوں یا دنوں کے دوران آفٹر شاکس آ سکتے ہیں، اس لیے شہری احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔

    دوسری جانب جرمن سینٹر فار جیو سائنسز نے زلزلے کی شدت 5.4 ریکارڈ کی اور بتایا کہ اس کی گہرائی 10 کلومیٹر تھی، ماہرین کے مطابق مختلف سائنسی اداروں کی جانب سے شدت میں معمولی فرق سامنے آنا معمول کی بات ہے کیونکہ ہر ادارہ اپنے الگ مشاہداتی نظام اور تجزیاتی طریقہ کار کے مطابق اعداد و شمار جاری کرتا ہے۔

    مرکز طقس القدس نے بھی تصدیق کی کہ تقریباً 5.5 شدت کا زلزلہ مصر اور جنوبی فلسطین میں محسوس کیا گیا، جس کا مرکز سوئز کا علاقہ تھا ادارے نے مزید آفٹر شاکس کے امکان سے بھی خبردار کیا ہے،مصری ہلال احمر نے ان تمام شہروں میں ہنگامی منصوبہ فعال کر دیا ہے جہاں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے امدادی ادارے نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ پرانی، کمزور یا دراڑوں والی عمارتوں سے دور رہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں متعلقہ اداروں سے فوری رابطہ کریں۔

  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں زلزلہ، شدت 4 ریکارڈ

    بلوچستان کے مختلف علاقوں میں زلزلہ، شدت 4 ریکارڈ

    کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے-

    زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 4.0 ریکارڈ کی گئی، جبکہ اس کا مرکز بلوچستان کے علاقے رکھنی سے تقریباً 5 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع تھا زلزلے کی گہرائی 37 کلومیٹر زیرِ زمین ریکارڈ کی گئی، جس کے باعث اس کے جھٹکے قریبی علاقوں میں بھی محسوس کیے گئے،زلزلے کے جھٹکے کوئٹہ کے علاوہ بلوچستان کے مختلف اضلاع میں بھی محسوس کیے گئے، شہری خوفزدہ ہو گئے لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں اور دکانوں سے باہر نکل آئے اور کھلے مقامات پر جمع ہوگئے۔

    زلزلہ درمیانی شدت کا تھا، تاہم اس کی گہرائی نسبتاً زیادہ ہونے کے باعث بڑے پیمانے پر تباہی کی اطلاعات سامنے نہیں آئیں متعلقہ ادارے صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضلعی انتظامیہ کو بھی الرٹ رکھا گیا ہے۔

    ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ زلزلے کے فوراً بعد مختلف اضلاع میں ٹیموں کو متحرک کیا گیا تاکہ کسی بھی ممکنہ نقصان کی صورت میں فوری امدادی کارروائیاں شروع کی جاسکیں، ابتدائی سروے کے دوران کسی عمارت کے گرنے یا بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچنے کی اطلاع سامنے نہیں آئی۔

    حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ زلزلے سے متعلق غیر مصدقہ اطلاعات پر یقین نہ کریں اور صرف سرکاری اداروں اور مستند ذرائع سے جاری ہونے والی معلومات پر انحصار کریں صورتحال معمول کے مطابق ہے اور متعلقہ ادارے کسی بھی غیر معمولی پیش رفت پر عوام کو بروقت آگاہ کریں گے،زلزلے کی صورت میں گھبرانے کے بجائے احتیاطی تدابیر اختیار کریں، غیر ضروری طور پر لفٹ کا استعمال نہ کریں، بجلی اور گیس کے کنکشن چیک کریں اور محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں۔

  • ترکیہ میں 5.0 شدت کا زلزلہ

    ترکیہ میں 5.0 شدت کا زلزلہ

    ترکیہ کے مشرقی صوبے ملاتیا میں ہفتے کی صبح 5.0 شدت کا زلزلہ آیا، جس کے جھٹکے کئی قریبی صوبوں میں بھی محسوس کیے گئے۔

    ترکیہ کے ڈیزاسٹر اینڈ ایمرجنسی مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق زلزلہ مقامی وقت کے مطابق صبح 6 بج کر 20 منٹ پر آیا، جس کا مرکز صوبہ ملاتیا کے ضلع بطلغاز ی میں تھا، جبکہ اس کی گہرائی 15.59 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی،زلزلے کے جھٹکے ملاتیا کے علاوہ الازیغ، آدی یامان، تونج ایلی اور شانلی عرفہ سمیت قریبی صوبو ں میں بھی محسوس کیے گئے، جس کے باعث شہری گھروں سے باہر نکل آئے۔

    ابتدائی جائزے کے مطابق زلزلے سے کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی، تاہم متعلقہ ادارے صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں،ترکیہ کے وزیر ماحولیات، شہری ترقی اور موسمیاتی تبدیلی مراد کورم نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ بطلغازی میں آنے والے زلزلے کے بعد اب تک کسی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع نہیں ملی، تاہم تمام موصول ہونے والی اطلاعات کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔

  • وینزویلا میں تباہ کن زلزلے:ہلاکتوں کی تعداد 1700 سے تجاوز،68 ہزار افراد لاپتہ،اقوام متحدہ

    وینزویلا میں تباہ کن زلزلے:ہلاکتوں کی تعداد 1700 سے تجاوز،68 ہزار افراد لاپتہ،اقوام متحدہ

    وینزویلا کے ساحلی علاقے میں 24 جون کو آنے والے 2 طاقتور زلزلوں کے بعد تباہی کی شدت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے حکام کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 1700 سے تجاوز کر چکی ہے-

    وینزویلا کے حکام نے 24 جون کو آنے والے 7.2 اور 7.5 شدت کے 2 طاقتور زلزلوں کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 1700 سے زائد ہونے کی تصدیق کر دی ہے جاری کی گئی سر کاری رپورٹ کے مطابق قدرتی آفت میں کم از کم 5 ہزار 34 افراد زخمی ہوئے، 15 ہزار 866 بے گھر ہیں، جبکہ 22 ہزار 619 متاثرین مختلف طبی مراکز میں زیرِ علاج ہیں۔

    اقوام متحدہ کے مطابق صورتحال اس سے بھی زیادہ تشویشناک ہو سکتی ہے، کیونکہ ابتدائی اندازوں کے مطابق 68 ہزار تک افراد لاپتا ہیں، جن کی تلاش کے لیے وسیع پیمانے پر امدا دی کارروائیاں جاری ہیں ریاست لا گوائیرا، جو زلزلوں کا مرکز تھی، سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان کے بعد حکومت نے علاقے کو آفت زدہ قرار دیتے ہوئے فوج کے کنٹرول میں دے دیا ہے۔

    زلزلے کے 5 روز بعد بھی ملبہ ہٹانے اور متاثرین کی تلاش کا عمل جاری ہے بھاری مشینری کے ساتھ مختلف ممالک سے آنے والی امدادی ٹیمیں بھی کارروائیوں میں شریک ہیں، تاہم ملبے تلے زندہ افراد کے ملنے کی امیدیں وقت کے ساتھ کم ہوتی جا رہی ہیں24 جون کو آنے والے دونوں زلزلوں کے مراکز شمالی وینزویلا میں سان فیلیپے اور یومارے کے درمیان واقع تھے پہلا زلزلہ مقامی وقت کے مطابق شام 6 بج کر 4 منٹ پر آیا، جس کی شدت 7.2 ریکارڈ کی گئی، جبکہ صرف 39 سیکنڈ بعد 7.5 شدت کا دوسرا زلزلہ آیا، جس کا مرکز جنوب مشرق کی جانب تھا، مجموعی طور پر زمین تقریباً 3 منٹ تک لرزتی رہی، آفت زدہ علاقوں میں آفٹر شاکس کا سلسلہ بھی جاری ہے لا گوائیرا میں حالیہ دنوں 4.6 شدت کا ایک اور زلزلہ ریکارڈ کیا گیا، جس سے متاثرین میں خوف و ہراس مزید بڑھ گیا۔

    دوسری جانب بین الاقوامی برادری بھی امدادی سرگرمیوں میں شریک ہو گئی ہے امریکا نے ریسکیو آپریشنز کے لیے طیارے، بحری جہاز اور ہیلی کاپٹر روانہ کیے ہیں، جبکہ لاطینی امریکا اور کیریبین کے ترقیاتی بینک (CAF) نے وینزویلا کی بحالی اور تعمیرِ نو کے لیے 20 کروڑ ڈالر تک کے کثیر عطیہ فنڈ کے قیام کا اعلان کیا ہے۔

    قومی اسمبلی کے سربراہ جارج روڈریگیز نے اپنے خطاب میں بتایا کہ سب سے زیادہ متاثرہ ریاست لا گوائیرا میں 90 فیصد علاقوں میں بجلی بحال کر دی گئی ہے ان کے مطابق خطرناک قرار دی گئی عمارتوں کا جائزہ تیزی سے لیا جا رہا ہے، جبکہ متاثرین کے لیے 15 عارضی پناہ گاہیں بھی قائم کر دی گئی ہیں جبکہ وینزویلا کی اپوزیشن رہنما اور 2025 کا نوبیل امن انعام حاصل کرنے والی ماریا کورینا ماچاڈو نے اعلان کیا ہے کہ وہ جلد وطن واپس آ کر متاثرہ افراد کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کریں گی۔

  • پاکستان میں زلزلے کے جھٹکوں کی وجہ وینزویلا میں زلزلے سے پیدا ہونے والی زیر زمین توانائی ہے،ماہرین

    پاکستان میں زلزلے کے جھٹکوں کی وجہ وینزویلا میں زلزلے سے پیدا ہونے والی زیر زمین توانائی ہے،ماہرین

    پاکستان کے مختلف علاقوں میں گزشتہ روز سے اب تک درمیانے درجے کے 6 زلزلے ریکارڈ کیے جا چکے ہیں، جن کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ ان زلزلوں کا تعلق حال ہی میں وینزویلا میں آنے والے زلزلے سے پیدا ہونے والی زیر زمین توانائی کی لہروں سے ہے۔

    چیف میٹرولوجسٹ محکمہ موسمیات کے مطابق ​بلوچستان میں گزشتہ روز سے زلزلوں کا سلسلہ جاری ہے اور اب تک مجموعی طور پر درمیانے درجےکے پانچ زلزلے ریکارڈ کیے جا چکے ہیں ،​سائنسی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو بلوچستان اور خیبر پختونخوا "یوریشین ٹیکٹونک پلیٹ” پر واقع ہیں اور یہ تمام حالیہ زلزلے اسی پلیٹ کی اوپری سطح پر آ رہے ہیں۔​

    ماہرین ارضیات کا کہنا ہےکہ یہ زلزلے دراصل عالمی سطح پر آنے والے زلزلوں کا اثر ہے حال ہی میں وینزویلا میں آنے والے تباہ کن زلزلے کے بعد زمین کے اندر توانائی کی لہریں پیدا ہوئیں، جو اب اس سے منسلک دوسری ٹیکٹونک پلیٹوں پر منتقل ہو کر زلزلوں کا سبب بن رہی ہیں سال 2000 سے 2011 کے دوران بھی ایسا ہی ایک بڑا تسلسل د یکھا گیا تھا، جب انڈونیشیا میں آنے والے بڑے زلزلےکی زیرِ زمین توانائی کے باعث ہی 2005 میں کشمیر کا تباہ کن زلزلہ آیا تھا۔

    ​ماہرین نے خبردار کیا ہےکہ جب تک زمین کے اندر پیدا ہونے والی توانائی کی یہ لہریں مکمل طور پر ختم نہیں ہوتیں، یوریشین پلیٹ پر مزید معتدل زلزلے آنےکا امکان برقرار رہےگا تاہم سائنسی طور پر زلزلے کے درست وقت اور شدت کی پیشگوئی کرنا ناممکن ہے۔

    واضح رہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، پنجاب اور خیبر پختونخوا سمیت گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں زلزلےکے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلےکی شدت 5.8 اور زلزلےکی گہرائی 178 کلو میٹر ریکارڈ کی گئی، زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلےکا مرکز ہندوکش ریجن افغانستان تھا، زلزلےکے جھٹکے شام 6 بج کر 35 منٹ پر محسوس کیے گئے۔

    اس سے قبل آج صبح بلوچستان کے علاقےکوہلو میں ایک بار پھر زلزلےکے جھٹکے محسوس کیے گئےمحکمہ موسمیات کے مطابق آج صبح ریکارڈ کےگئے زلزلے کی شدت 5.2 تھی، جب کہ اس کا مرکز بلوچستان کا علاقہ بارکھان تھا ،اس کے علاوہ آج صبح ملتان اور اس کے نواحی علاقوں میں بھی زلزلےکے شدید جھٹکے محسوس کیےگئے، زلزلےکا دورانیہ چند سیکنڈ رہا۔

    خیال رہے کہ وینزویلا میں بدھ کے روز دو شدید زلزلے ریکارڈ کیے گئے جن کی شدت 7.2 اور 7.5 تھی، زلزلوں کی وجہ سے انفرا اسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا ہے اور ہلاکتوں کی تعداد 920 ہوگئی ہے جب کہ 3 ہزار 360 افراد زخمی ہوچکے ہیں اور سیکڑوں افرادکے ملبے تلے دبے ہونےکا خدشہ ہے۔