Baaghi TV

Tag: زمان پارک

  • زلمی خلیل زاد کوعمران خان اتنا عزیز ہے تو پاس بلا لیں،حافظ حمداللہ

    زلمی خلیل زاد کوعمران خان اتنا عزیز ہے تو پاس بلا لیں،حافظ حمداللہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جے یو آئی کے رہنما، پی ڈی ایم کے ترجمان حافظ حمداللہ نے کہا ہے کہ امریکی سی آئی اے کا زرخرید غلام زلمی خلیل زاد دوسرے غلام عمران خان کے حق میں بول پڑا جس سے ثابت ہوا کہ عمران خان پاکستان کا نہیں امریکہ کا ایجنٹ ہے

    حافظ حمداللہ کا کہنا تھا کہ اگر زلمی خلیل زاد کو عمران خان اتنا عزیز ہے تو پاس بلائیں ہالی ووڈ میں رکھتے ہیں یا اولڈ ہوم سنٹر میں غلام بھی آپ کا مرضی بھی آپ کا ،کیا زلمی خلیل زاد پاکستان الیکشن کمیشن کے چیف ہے جو الیکشن کا تاریخ دے رہا ہے ؟ وزارت خارجہ زلمی خلیل زاد کو ” شٹ آپ ” کال دیں کہ پاکستان کے داخلہ امور میں مداخلت نہ کریں

    حافظ حمداللہ کا مزید کہنا تھا کہ پولیس گاڑیوں کو آگ لگانا درجنوں پولیس کو خون میں لت پت کر کے زخمی کرنا پٹرول بموں غلیل اور ڈنڈوں سے ریاست فورس پر حملے کرنا کیا یہ دہشت گردی نہیں کیا یہ ریاست پر حملہ نہیں کیا یہ عدالتی حکم سےبغاوت نہیں؟ پھر بھی اس سیاسی دہشت گرد کو رعایت اور بار بار ریلیف دینا کہاں کا انصاف ہے؟ ریلی کی قیادت کرتے ہوئے جان کو خطرہ نہیں مگر عدالت میں پیش ہونے میں خطرہ کیا عدالت عمران خان کی اس منافقت کو سمجھنے سے قاصرہے؟کیا یہ دھوکہ فراڈ اور عدالت سے مذاق نہیں ہے؟ یہ فراڈیا دھوکہ باز اور مکار کسی قسم کی رعایت کا مستحق نہیں ہے

    یاسمین راشد اور اعجاز شاہ کی کال لیک ہوئی ہے

    ،قانون کو کوئی بھی ہاتھ میں لے گا تو کاروائی ہوگی ،ڈی آئی جی آپریشنز اسلام آباد

     کل شام سے گرفتاری کے لئے شروع ہونے والا آپریشن تاحال مکمل نہ ہو سکا،

    اسلام آبادم پنڈی، کراچی، صادق آباد و دیگر شہروں میں مقدمے درج 

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے 

  • زمان پارک جانیوالے راستے ایک بار پھر بند

    زمان پارک جانیوالے راستے ایک بار پھر بند

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق زمان پارک جانے والے راستے ایک بار پھر بند کردیئے گئے ہیں

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان زمان پارک میں ہیں اور توشہ خانہ کیس میں عمران خان کے وارنٹ گرفتاری جاری ہو چکے ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کے وارنٹ گرفتاری معطل نہیں کئے بلکہ درخواست نمٹا دی تھی،اب زمان پارک میں تحریک انصاف کے کارکنان کی بڑی تعداد موجود ہے تو دوسری جانب پولیس نے زمان پارک کی جانب جانے والے راستے بند کرنا شروع کر دیئے ہیں، زمان پارک میں دیگر شہروں سے آئے کارکنان بھی موجود ہیں، تحریک انصاف کے کارکنوں نے ڈنڈے، پتھر غلیلوں پر مشتمل سامان بڑی تعداد میں جمع کر رکھا ہے وہیں مبینہ طور پر اینٹوں کو توڑ کر پتھروں کے ڈھیرسڑک کے مختلف مقامات پر اکٹھے کر لئے ہیں تا کہ پولیس زمان پارک کی جانب آتی ہے تو پولیس پر پتھراؤ کیا جا سکے ،تحریک انصاف کے کارکنان نے عمران خان کی رہائش گاہ کے باہر ایک بار پھر کنٹینر لگا دیئے جس کا مقصد پولیس کی آمد پر مزاحمت پیدا کرنا ہے کارکنان کا کہنا ہے کہ عمران خان کو کسی صورت گرفتار نہیں کرنے دیں گے۔

    علاوہ ازیں آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کا کہنا ہے کہ قانون کے مطابق بات کی جائے گی ان کے اعتراضات بھی دیکھیں گے ،تمام لوگ ملک کا یونیفارم پہنے ہوئے ہیں کسی کے تابع نہیں، ایسی قطع صورتحال نہیں ہے کہ ایک فورس دوسری فورس سے لڑ رہی ہے ہر گز نہ سمجھا جائے کہ پولیس پولیس کے سامنے ہے

    دوسری جانب لاہور پولیس نے زمان پارک میں جھڑپوں کے دوران پی ٹی آئی کے 24 کارکنوں کو گرفتار کر لیا، ملزمان پر جلاؤ، گھیراؤ، مار کٹائی اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانےکا الزام ہے گرفتارکارکنوں میں 12 کا تعلق شیخوپورہ اور 7 کا لاہور سے ہے، اپر دیر، لوئر دیر اور آزادکشمیر کے کارکن بھی شامل ہیں۔

    یاسمین راشد اور اعجاز شاہ کی کال لیک ہوئی ہے

    ،قانون کو کوئی بھی ہاتھ میں لے گا تو کاروائی ہوگی ،ڈی آئی جی آپریشنز اسلام آباد

     کل شام سے گرفتاری کے لئے شروع ہونے والا آپریشن تاحال مکمل نہ ہو سکا،

    اسلام آبادم پنڈی، کراچی، صادق آباد و دیگر شہروں میں مقدمے درج 

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے 

  • عدالتی احکامات کی تعمیل کے لئے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہینگے،اسلام آباد پولیس

    عدالتی احکامات کی تعمیل کے لئے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہینگے،اسلام آباد پولیس

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق توشہ خانہ کیس میں عمران خان کے وارنٹ جاری ہوئے تو اسلام آباد پولیس گرفتار کرنے زمان پارک پہنچ گئی

    20 گھنٹے تک زمان پارک میں گرفتاری کے لئے آپریشن جاری رہا مگر گرفتاری نہ ہو سکی، اس دوران تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے پتھراؤ کیا گیا، غلیل کے ذریعے بھی پولیس پر پتھراؤ کیا گیا جس کے نتیجے میں متعدد پولیس اہلکار زخمی ہوئے، اب ترجمان اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کیپیٹل پولیس کے 9 افسران زخمی ہوئے جن میں سے ایک افسر تاحال ہسپتال میں زیر علاج ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے ترجمان اسلام آباد پولیس کا کہنا تھا کہ غیرمسلح پولیس افسران پر تشدد کیا گیا اور راستے روکے گئے۔ پولیس عدالتی احکامات کی تعمیل کے لئے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتی ہے۔ اسلام آباد کیپیٹل پولیس اپنی ذمہ داری پیشہ ورانہ انداز سے ادا کرتی رہی ہے اور کرتی رہے گی۔ گزارش ہے کہ قانون کی عملداری میں اسلام پولیس سے تعاون کریں اور شائستگی کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں،

    دوسری جانب لاہور پولیس نے زمان پارک میں جھڑپوں کے دوران پی ٹی آئی کے 24 کارکنوں کو گرفتار کر لیا، ملزمان پر جلاؤ، گھیراؤ، مار کٹائی اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانےکا الزام ہے گرفتارکارکنوں میں 12 کا تعلق شیخوپورہ اور 7 کا لاہور سے ہے، اپر دیر، لوئر دیر اور آزادکشمیر کے کارکن بھی شامل ہیں۔

    علاوہ ازیں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے لئے گزشتہ روز عدالت کی جانب سے دی جانے والی مہلت ختم ہو گئی ہے، پولیس کی جانب سے عمران خان کو بھی گرفتار کئے جانے کا امکان ہے، پولیس زمان پارک جائے گی ، تحریک انصاف نے بھی ایک بار پھر کارکنان کو زمان پارک پہنچنے کی کال دے دی،

    عمران خان مکمل ٹریپ میں،وہ ہو گا کہ لوگ الطاف حسین کو بھول جائینگے

    یاسمین راشد اور اعجاز شاہ کی کال لیک ہوئی ہے

    ،قانون کو کوئی بھی ہاتھ میں لے گا تو کاروائی ہوگی ،ڈی آئی جی آپریشنز اسلام آباد

     کل شام سے گرفتاری کے لئے شروع ہونے والا آپریشن تاحال مکمل نہ ہو سکا،

    اسلام آبادم پنڈی، کراچی، صادق آباد و دیگر شہروں میں مقدمے درج 

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے 

  • خان صاحب سے ریاست میں ریاست بن کے بڑی غلطی ہو گئی،نجم ولی خان

    خان صاحب سے ریاست میں ریاست بن کے بڑی غلطی ہو گئی،نجم ولی خان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق عمران خان کے توشہ خانہ کیس میں وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے تا ہم پولیس 20 گھنٹے تک کے مسلسل آپریشن کے بعد عمران خان کو گرفتار نہیں کر سکی

    عمران خان کی گرفتاری نہ ہونے پر لاہور سے صحافی و اینکر نجم والی خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کی ہے اور کہا ہے کہ یہ ون ملین ڈالر کوئسچن ہے کہ جب پولیس منگل کی شام سے پہلے عمران خان کے گھر داخل ہو گئی تو اگلے 16 سے 20 گھنٹوں میں اسے گرفتار کیوں نہیں کر سکی؟ صرف اس لئے کہ لاشیں نہ گریں؟ نہیں، جواب یہ ہے کہ پولیس عمران خان کو پکڑنا ہی نہیں چاہتی تھی، ہمیں غلط تاثر دیا گیا۔ اس پر سوال ہے کیوں ؟جواب یہ ملتا ہے کہ عمران خان گرفتار ہو جاتے تب بھی ساتھ ہی ضمانت ہو جاتی۔ جس نے یہ ڈیزائن کیا اس کا مقصد خان صاحب کو وائلنس کا پورا موقع فراہم کرنا تھا تاکہ مقتدر حلقوں کو بتایا جا سکے کہ عمران خان پاگل ہو چکا ہے، وہ ریاست کو بھی خاطر میں لانے کو تیار نہیں، اور وہ کامیاب رہا

    نجم ولی خان کا مزید کہنا تھا کہ مقتدر حلقوں نے الطاف حسین کو معاف نہیں کیا۔ نوازشریف کو ابھی تک معافی نہیں ملی جس کے جرائم عمران خان سے بہت معمولی ہیں تو خان کس کھیت کی مولی ہے۔ خان صاحب سے ریاست میں ریاست بن کے بڑی غلطی ہو گئی۔ انکے نام پر کاٹا زیادہ بڑا اور موٹا ہو گیا اور شائد سرخ مارکر سے بھی، اللہ خیر کرے۔

    دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات، ن لیگی رہنما مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ فارن ایجنٹ گھڑی چور اور جھوٹا ریاست پہ حملہ آور ہے اور ریلیف لے رہا ہے سیاسی لیڈر ریاست پہ حملہ نہیں کرتے اپنی سیاست نہیں ریاست کو بچاتے ہیں .عدالت کے احکامات پہ عمل کروانی والی پولیس کے سر پھاڑ رہا ہے اور عدالت سے ریلیف لے رہا ہے.

    علاوہ ازیں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے لئے گزشتہ روز عدالت کی جانب سے دی جانے والی مہلت ختم ہو گئی ہے، پولیس کی جانب سے عمران خان کو بھی گرفتار کئے جانے کا امکان ہے، پولیس زمان پارک جائے گی ، تحریک انصاف نے بھی ایک بار پھر کارکنان کو زمان پارک پہنچنے کی کال دے دی،

    عمران خان مکمل ٹریپ میں،وہ ہو گا کہ لوگ الطاف حسین کو بھول جائینگے

    یاسمین راشد اور اعجاز شاہ کی کال لیک ہوئی ہے

    ،قانون کو کوئی بھی ہاتھ میں لے گا تو کاروائی ہوگی ،ڈی آئی جی آپریشنز اسلام آباد

     کل شام سے گرفتاری کے لئے شروع ہونے والا آپریشن تاحال مکمل نہ ہو سکا،

    اسلام آبادم پنڈی، کراچی، صادق آباد و دیگر شہروں میں مقدمے درج 

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے 

  • تحریک انصاف اتوار کو مینار پاکستان جلسہ نہیں کرے گی،لاہور ہائیکورٹ کا حکم

    تحریک انصاف اتوار کو مینار پاکستان جلسہ نہیں کرے گی،لاہور ہائیکورٹ کا حکم

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے لئے گزشتہ روز عدالت کی جانب سے دی جانے والی مہلت ختم ہو گئی ہے، پولیس کی جانب سے عمران خان کو بھی گرفتار کئے جانے کا امکان ہے، پولیس زمان پارک جائے گی ، تحریک انصاف نے بھی ایک بار پھر کارکنان کو زمان پارک پہنچنے کی کال دے دی،

    تحریک انصاف نے گزشتہ روز زمان پارک آپریشن رکوانے کے لئے عدالت میں درخواست دائر کی تھی تو لاہور ہائیکورٹ نے آج دس بجے تک آپریشن روکنے کا حکم دیا تھا، آج دس بجے تک پولیس نے کوئی آپریشن نہیں کیا اور زمان پارک سے پیچھے ہٹ گئی تھی، اب عدالتی وقت ختم ہو چکا ہے، زمان پارک کے قریب پانچ اضلاع کی پولیس اور رینجرز کی سات کمپنیاں الرٹ ہیں اور نئی ہدایات کی منتظر ہیں ،حکومت کی جانب سے‌ حکم ملتے ہی پولیس پھر زمان پارک کی طرف جائے گی

    دوسری جانب پولیس کے پیچھے ہٹنے کے بعد تحریک انصاف کے کارکن پہلے سے بڑی تعداد میں جمع ہوگئے ہیں، اب پھر آج صبح کارکنان کو کال دی گئی ہے کہ زمان پارک پہنچیں،آج صبح کارکنان نے ناشتہ کیا اور عمران خان کے حق میں نعرے لگائے،کارکنان نے عمران خان کے گھر کے قریب کھلے میدان میں خیمے لگا لیے گئے، ڈنڈوں، کنچوں اور غلیلوں کا بڑا ذخیرہ بھی جمع کرلیا گیا ہے ، گلگت سے بھی کارکنان کا قافلہ زمان پارک پہنچ چکا ہے،

    علاوہ ازیں زمان پارک میں پولیس آپریشن کے خلاف درخواست پرسماعت لاہور ہائی کورٹ میں شروع ہوگئی ہے ،آئی جی پنجاب اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب عدالت میں پیش ہوئے، جسٹس طارق سلیم شیخ نے استفسار کیا کہ درخواست گزار فواد چوہدری کدھر ہیں، ان کے وکیل نے بتایا کہ وہ راستے میں ہیں، عدالت نے کہا کہ دس بجے کا وقت تھا وہ یہاں کیوں نہیں ہیں، کیا یہ ان کی سنجیدگی ہے کہ وہ 10 بجے یہاں موجود نہیں ہیں،دورانِ سماعت جسٹس طارق سلیم نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مجھے تو اس سارے ایشو میں مسئلہ ہی کوئی نہیں لگتا سب قانون میں ہے دونوں جانب سے کوئی قانون نہیں پڑھتا دوسری باتیں کرتے رہتے ہیں دونوں جانب سے سسٹم کو جام کیا ہوا ہے ایشو وارنٹ کا ہے مگرکبھی آپ لاہور ہائیکورٹ آتے ہیں اور کبھی اسلام آباد ہائیکورٹ جاتے ہیں، آپ کومعلوم ہی نہیں کہ جانا کہاں ہے؟ دوران سماعت درخواست گزار فواد چوہدری جب کمرہ عدالت میں پہنچے تو جج نے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ قانون پر عمل نہیں کر رہے ساری قوم کو مصیبت ڈالا ہوا ہے،فواد چودھری نے کہا کہ اگر خان صاحب 4 کورٹ میں پیش ہوئے تو دوسری میں پیش ہونے سے کیا مسئلہ ہونا تھا عمران خان پر حملے کی معلومات 100 فیصد کنفرم تھیں اس لیے ویڈیولنک سے حاضری کا کہا، عدالت نے کہا کہ سکیورٹی کا ایک طریقہ کار موجود ہے آپ اپنے آپ کو سسٹم کے اندر لائیں ہر ایک چیز کا ایک طریقہ کار ہے ہر ایک کے حقوق ہیں ان میں بیلنس کرنا ہو گا، آپ سب مل کر بیٹھ کر اس کا حل نکالیں، اگرجلسہ کرنا ہے تو 15 دن پہلے پلان کریں، خدا کا واسطہ ہے قوم کی زندگی کو چلنے دیں

    جسٹس طارق سلیم شیخ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لاہورہائیکورٹ اوراسلام آباد ہائیکورٹ نے وارنٹس پرعملدرآمد نہیں روکا، ہم نےعمران خان کے وارنٹ گرفتاری پرعمل درآمد سے نہیں روکا،لاہور ہائیکورٹ نے تحریک انصاف کو اتوار کے روز لاہور میں جلسہ کرنے سے روک دیا، جسٹس طارق سلیم شیخ نے حکم دیا کہ اگر جلسہ کرنا ہے تو پندرہ دن پہلے پلان کریں کوئی شادی بھی کرتا ہے تو پہلے پلان کرکے کرتا ہے، آپ نے جلسہ کرنا ہے تو 15 دن پہلے پلان کریں، خدا کیلئے ملک میں زندگی کو چلنے دیں تحریک انصاف اتوار کو ریلی نہیں نکالے گی یہ عدالت کا حکم ہے

    لاہور ہائیکورٹ نے زمان پارک پر آپریشن کو روکنے کے احکامات پر کل تک توسیع کر دی ہے ، چیف سیکرٹری اور آئی جی کو کہا ہے کہ تحریک انصاف کی قیادت کے ساتھ بیٹھ کر ان معاملات کو باہمی مشاورت سے طے کریں بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت کل صبح 11 بجے تک ملتوی کردی

    عمران خان مکمل ٹریپ میں،وہ ہو گا کہ لوگ الطاف حسین کو بھول جائینگے

    یاسمین راشد اور اعجاز شاہ کی کال لیک ہوئی ہے

    ،قانون کو کوئی بھی ہاتھ میں لے گا تو کاروائی ہوگی ،ڈی آئی جی آپریشنز اسلام آباد

     کل شام سے گرفتاری کے لئے شروع ہونے والا آپریشن تاحال مکمل نہ ہو سکا،

    اسلام آبادم پنڈی، کراچی، صادق آباد و دیگر شہروں میں مقدمے درج 

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے 

  • بہت نقصان اٹھاؤ گے،زمان پارک سے پولیس کو دھمکی

    بہت نقصان اٹھاؤ گے،زمان پارک سے پولیس کو دھمکی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے عدالت نے وارنٹ جاری کئے تو اسلام آباد پولیس اگلے روز گرفتار کرنے پہنچ گئی

    20 گھنٹے تک پولیس اور تحریک انصاف کے کارکنان کے مابین آنکھ مچولی جاری رہی، تاہم عمران خان کو گرفتار نہیں کیا جا سکا، بعد ازاں لاہور ہائیکورٹ نے گرفتاری روک دی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے وارنٹ گرفتاری کا فیصلہ برقرار رکھا، اس دوران تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے پولیس پارٹی پر پتھراو کیا گیا، پٹرول بم پھینکے گئے، جس کی ویڈیو وائرل ہو چکی ہے، تحریک انصاف نے ملک بھر سے کارکنان کو زمان پارک بلایا ہے،

    آج کی تازہ ترین صورتحال پرملیحہ ہاشمی نے ایک ٹویٹ کی ہے جس میں کہا ہے کہ آج عمران خان کی سیکیورٹی ٹیم کی تیاری 200 گنا زیادہ ہے ،خیبر پختونخواہ سےTrained مجاہد پہنچ گئے آج پولیس/رینجرز نے لاقانونیت دکھائی تو بہت نقصان اٹھائیں گے ملک کےمحافظ رہیں گے تو عزت ملےگی۔دہشتگرد بنیں گے تو ویسا ہی جواب ملے گا آج ہیلی کاپٹر کا بھی علاج تیار ہے۔ وہ غلطی مت کرنا

    https://twitter.com/MaleehaHashmey/status/1636207021983711232

    عمران خان جب سے اقتدار سے گئے ہیں، عمران خان اور تحریک انصاف کے کارکنان و رہنماؤں نے اداروں پر تنقید کو وطیرہ بنا لیا ہے، ہر بات کا الزام اداروں پر لگا دیا جاتا ہے اور جب کسی کی بھی گرفتاری ہوتی ہے تو وہ تحریک انصاف کا کارکن نکلتا ہے،اب ملیحہ ہاشمی کی ٹویٹ سے بھی واضح ہو رہا ہے کہ زمان پارک میں انتظامیہ، پولیس کے ساتھ ٹکراؤ کے لئے مکمل بندوبست کر لیا گیا ہے، زمان پارک ریاست کے اندر ریاست بن چکی ہے، پولیس کے پاس وارنٹ ہیں، انصاف کے دعویدار کو قانون کی پاسداری کرنی چاہئے نہ کہ مزاحمت کرنی چاہئے، اگر مزاحمت کا یہی سلسلہ جاری رہا تو تحریک انصاف کی پہچان بطور شدت پسند جماعت کے طور پر سامنے آئے گی

    ملیحہ ہاشمی کی ٹویٹ پر ایک صارف نے لکھا کہ حکومت کے پاس بہت خوبصورت چانس ھے کے عمران پر دہشتگردی دفعات لگائے پنجاب میں ایمرجنسی نافذ کرکے 8 مہنے کیلیے تمام جلسے جلوس پر پابندی لگا دے زمان پارک پر کمانڈو آپریشن کرکے تمام لوگوں کو لیڈرو کو گرفتار کرادے فوجی عدالتوں میں ان پر مقدمات چلا کر ان کو کیفر کردار تک پہنچائے

    https://twitter.com/yousaf72360622/status/1636247909506199552

    دوسری جانب تحریک انصاف کی رہنما مسرت جمشید چیمہ کا کہنا ہے کہ اطلاعات آ رہی ہیں کہ ایک بار پھر زمان پارک آنے والے راستے بند کیے جا رہے ہیں اور پنجاب بھر کی اہم شاہراہوں پر بھی کنٹینر پہنچائے جا رہے ہیں ہم انہیں خبردار کرنا چاہتے ہیں کہ جیسے ہم نے پہلے قوم کے لیڈر کا دفاع کیا اب بھی کریں گے ہم اپنی جان بھی قربان کر دیں گے پر پاکستان کا مستقبل ان چند خاندانوں کے پاس گروی نہیں رکھنے دیں گے عدالت نے کل تک انتظامیہ کو کسی بھی آپریشن سے روکا ہے لیکن اگر اس انتظامیہ نے عدالتی احکامات کی پامالی کی تو ان کا سامنا عوام کے لشکر سے ہوگا الیکشن تو کروانے پڑیں گے چاہے مریم صفدر کو جتنا مرضی غشی کے دورے پڑیں

    عمران خان مکمل ٹریپ میں،وہ ہو گا کہ لوگ الطاف حسین کو بھول جائینگے

    یاسمین راشد اور اعجاز شاہ کی کال لیک ہوئی ہے

    ،قانون کو کوئی بھی ہاتھ میں لے گا تو کاروائی ہوگی ،ڈی آئی جی آپریشنز اسلام آباد

     کل شام سے گرفتاری کے لئے شروع ہونے والا آپریشن تاحال مکمل نہ ہو سکا،

    اسلام آبادم پنڈی، کراچی، صادق آباد و دیگر شہروں میں مقدمے درج 

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے 

  • عمران خان مکمل ٹریپ میں،وہ ہو گا کہ لوگ الطاف حسین کو بھول جائینگے

    عمران خان مکمل ٹریپ میں،وہ ہو گا کہ لوگ الطاف حسین کو بھول جائینگے

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے توشہ خانہ کیس میں عدالت نے وارنٹ جاری کیے تو عمران خان پیش نہ ہوئے، اسلام آباد ہائیکورٹ نے پیش ہونے کا حکم دیا اسکے باوجود عمران خان عدالت نہ گئے ،عمران خان کے وارنٹ دوبارہ بحال ہوئے تو اگلے روز اسلام آباد پولیس عمران خان کو گرفتار کرنے لاہور پہنچ گئی، منگل کی شام تقریبا ساڑھے چار بجے پولیس زمان پارک پہنچی، بکتر بند گاڑی، واٹر کینن، بھاری نفری لیکن تقریبا 20 گھنٹے مسلسل جدوجہد کے باوجود عمران خان کو گرفتار نہیں کر سکی، کیونکہ عمران خان نے گرفتاری سے بچنے کے لئے کارکنان کو ڈھال بنایا ہوا ہے، تحریک انصاف کے درجنوں کارکنان زمان پارک موجود رہتے ہیں، ممکنہ گرفتاری کی خبر پھیلنے کے بعد کارکنان کی آمد کا سلسلہ بھی بڑھ گیا، پولیس نے رات کو بھی کوشش کی لیکن گرفتاری نہ ہو سکی، صبح بھی کوشش کی گئی لیکن پی ٹی آئی کارکنان نے پولیس کو آگے نہ بڑھنے دیا، اس دوران دونوں طرف سے آنکھ مچولی ہوتی رہی، پی ٹی آئی کی جانب سے پتھراؤ کیا گیا تو پولیس نے لاٹھی چارج، آنسو گیس کے شیل اور واٹر کینن کا استعمال کیا، 50 سے زائد پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں جنکو علاج کے لئے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے، دوسری جانب تحریک انصاف کے کارکنان بھی زخمی ہیں لیکن انکی تعداد ابھی تک واضح نہیں ہو سکی، فرح حبیب تو یہ بھی دعویٰ کرتے رہے کہ کارکنوں کی موت بھی ہوئی لیکن ابھی تک کوئی لاش سامنے نہیں لائی جا سکی،

    پولیس جب زمان پارک پہنچی تو سب سے پہلے عمران خان کے قریبی افراد نے جھوٹ بولا کہ عمران خان زمان پارک نہیں ہیں، بعد ازاں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میں جھوٹ نہیں بولوں گا عمران خان زمان پارک میں ہی موجود ہیں، عمران خان نے 20 گھنٹے تقریبا کارکنان کو ڈھال بنائے رکھا اور گرفتاری نہین دی، شاید عمران خان اور تحریک انصاف کی قیادت گرفتاری نہ دینے کو بڑی کامیابی سمجھ رہے ہیں لیکن حقیقت اسکے برعکس ہے، عمران خان کی گرفتاری اگر حکومت نے کرنی ہوتی تو ایک رپورٹ کے مطابق دس منٹ میں عمران خان کو گرفتار کیا جا سکتا تھا، اب ان 20 گھنٹوں میں تحریک انصاف نے لاقانونیت کی انتہا کی ہے، ایک طرف عمران خان کے وارنٹ،اور اس میں رکاوٹیں ڈالی گئیں،پولیس پر پتھراؤ کیا گیا، پولیس کی املاک کو آگ لگائی گئی، پولیس سے جھوٹ بولا گیا، قانون کو ہاتھ میں لیا گیا، پولیس پر پٹرول بم برسائے گئے، اور اس ساری منصوبہ بندی میں مبینہ طور پر عمران خان سمیت تحریک انصاف کی دیگر قیادت بھی شریک تھی، کیونکہ آج ہی یاسمین راشد اور صدر مملکت کی ایک آڈیو لیک ہوئی ہے جس میں یہ ساری باتیں کی گئی ہین کہ زمان پارک میں کیا ہو رہا ہے،پٹرول بم چلانے کا بھی اعتراف اس آڈیو میں ہے، صحافی محسن بلال نے بھی ایک ویڈیو ٹویٹ کی ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ پٹرول سے بھرا ہوا ڈرم۔ زمان پارک سے مال روڈ اشارے پر پہنچایا گیا۔ جس کے بعد پولیس اور کارکنان کے درمیان شدید تصادم ہوا۔ پولیس شیلنگ کرتی رہی اور تحریک انصاف کے کارکنان شیشے کی بوتلوں میں پٹرول بم پھینکتے رہے۔

    صحافی نوید شیخ کہتے ہیں کہ ویڈیو میں واضح دیکھا جا سکتا ہے کہ کیسے کپتان کے گھر کے اندر سے کے پی کے سے آئے دہشتگرد سیکورٹی اہلکاروں پر پیڑول بم مار رہے ہیں جبکہ اہلکاروں کے پاس خالی ڈنڈے ہیں ۔

    پولیس کا زمان پارک میں آپریشن جاری تھا تو تحریک انصاف کے سوشل میڈیا کی جانب سے ہمیشہ کی طرح فیک ویڈیوز اور فیک خبریں وائرل کرنے کی بھی کوشش کی گئی،تاہم سوشل میڈیا پر انکا مسلسل کاؤنٹر کیا جاتا رہا، اسلام آباد پولیس سے لے کر پنجاب حکومت تک سب نے فوری فیک خبروں کو کاؤنٹر کیا اورتحریک انصاف کے پروپگنڈے کو بے نقاب کیا،ان حالات میں جو تحریک انصاف نے ان 20 گھنٹوں میں کیا ایسے میں تحریک انصاف کو سیاسی جماعت کہلوانے کا کوئی حق نہیں رہا، کیونکہ کوئی بھی سیاسی جماعت اس طرح کا تشدد نہیں کرتی اور نہ ہی قانون ہاتھ میں لیتی ہے بلکہ سیاسی رہنما تو قانون پر عمل کر کے دوسروں کے لئے مثال قائم کرتے ہیں، ایسے میں قانون پر عمل کرتے ہوئے تحریک انصاف پر سے سیاسی جماعت کا لیبل ختم ہونا چاہئے اور اسے کالعدم قرار دینا چاہئے، پاکستان بڑی مشکل سے دہشت گردی سے نکلا ایسے میں پاکستان کو کسی بھی مشکل میں مزید نہیں دھکیلا جا سکتا، ضرورت اس امر کی ہے کہ تحریک انصاف کے ساتھ قانون کا ہاتھ قانون کے مطابق ہی رکھا جائے کسی قسم کی مزید رعایت تحریک انصاف کو مزید شدت پسندی کی طرف راغب کرے گی،

    لاہور سے صحافی نجم ولی خان کہتے ہیں کہ عمران خان غداری اور بغاوت کے لئے بچھائے گئے ٹریپ میں مکمل طور پر آ گئے ہیں۔ ان کی صفوں میں ان کے مخالفین کے ایجنٹوں نے انہیں آج "پوائنٹ آف نو ریٹرن” پر پہنچا دیا ہے۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ عمران خان کے ساتھ وہ ہو گا کہ اکبر بگتی، الطاف حسین اور ایم کیو ایم کی مثالیں بھول جائیں گی۔

    نجم ولی خان مزید کہتے ہیں کہ جو عمران خان نیازی اور اس کا گروہ کر رہا ہے وہ اگر گرفتاری کی کوشش پر نوازشریف، اصف زرداری، مولانا فضل الرحمان، فاروق ستار، الطاف حسین، اسفند یار ولی، آفتاب شیر پاو، سراج الحق، سعد رضوی، محمود خان اچکزئی میں سے کوئی کرتا تو ۔۔۔؟ تو کیا ہوتا؟

    ن لیگی رہنما، وفاقی وزیر احسن اقبال کہتے ہیں کہ عمران نیازی اندھے پیروکاروں کے زور پہ پاکستان کا ہٹلر، پی ٹی آئی نازی پارٹی بننے کی کوشش کر رہی ہے۔ہٹلر کی گرم تقریروں نے جرمن قوم کو فریب میں مبتلا کیا، جج، صحافی،دانشور اور عوام اس کے جھانسے میں آئے اسے ووٹ دئیے اور اقتدار میں آ کے اسنے جرمن قوم اور دنیا کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔

    ایک ٹویٹر صارف کرن نازنے لکھا کہ خان صاحب جو کرتوت خود کرتے ہیں،وہی دوسروں پر ڈالتے ہیں۔کیاآپکے احکامات پر فورسز نےلبیک والوں کی گھروں کی دیواریں نہیں پھلانگی تھیں؟کیا آپ نے پولیس اور فورسز سےTLP پر سٹریٹ فائر نہیں کروائے تھے؟آپ اتنے بھولے کیوں ہیں؟فورسز کو عوام کے سامنے آپ نے کھڑا نہیں کیا؟

    https://twitter.com/kiran_Naaz12/status/1635951799822606340

    ایک صارف لکھتے ہیں کہ عمران خان معلوم انسانی تاریخ کے وہ پہلے سرخیل ہیں جنہوں نے محاذ آرائی و جنگ کی صف بندی کی ترتیب ہی الٹ کر رکھ دی ہے،پہلے جنگ میں رہنما سب آگے ہوتا تھا اس کے دائیں بائیں وزراء ہوتے تھے،پھر پیچھے گھڑ سوار سپاہی،یہاں منظر نامہ کچھ یوں ہے کہ پہلی صف سے معذور و بوڑھے لیڈ کر رہے دوسری صف سے خواتین و بچے واویلا کر رہے،تیسری صف میں ہجیڑے کھڑے بدعائیں دے رہے،اور آخری صفوں سے پیچھے اوٹ میں چھپے لیڈر سے احکامات لے کر آگے پہنچاتے وزرا و مشران دکھائی دے رہے.

  • ڈاکٹر یاسمین راشد، صدر مملکت کی مبینہ آڈیو لیک ، منصوبہ بندی آئی سامنے

    ڈاکٹر یاسمین راشد، صدر مملکت کی مبینہ آڈیو لیک ، منصوبہ بندی آئی سامنے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو پولیس تاحال گرفتار نہ کر سکی تا ہم یاسمین راشد کی ایک ہی دن میں دوسری آڈیو لیک ہو گئی ہے

    اب دوسری آڈیو یاسمین راشد کی سامنے آئی ہے جس میں وہ صدر مملکت عارف علوی سے بات کر رہی ہیں، مبینہ آڈیو میں یاسمین راشد نے صدر عارف علوی سے کسی سے خان کیلئے بات کرنے کی درخواست کی،یاسمین راشد نے مبینہ آڈیو میں صدر عارف علوی سے کہا کہ ’سر یہاں پر صورتحال پر بہت خراب ہے پیٹرول بم پھینکنا شروع کردیے ہیں ہمارے ورکرز نے اس سے پہلے کہ خون خرابا ہو، میرا خیال ہے آپ کو کسی سے بات کرنے کی ضرورت ہے

    یاسمین راشد کی بات پر صدر عارف علوی نے کہا کہ ’میں نے بات کرلی ہے‘ یاسمین راشد نے کہا کہ ’ آپ ان سے کہہ دیں کہ میں بات کرلیتا ہوں عمران خان سے‘صدر عارف علوی نے کہا کہ ’میں سمجھا نہیں آپ کیا کہہ رہی ہیں‘ یاسمین راشد نے کہا کہ ’دیکھیں کچھ مر جائیں گے، صورتحال اتنی بری ہو جائے گی کہ الیکشن ملتوی ہوجائیں گے، کچھ پولیس والے مرجائیں گے میرا خیال ہے آپ خان صاحب کو کہیں کہ give in ، باقی آپ کی مرضی،ابھی رینجرز وہاں پر ہے، پیٹرول بم چل رہے ہیں، ان کی واٹر کینن کو آگ لگ گئی ہے، میں تو باہر ہوں ،

    صدرمملکت عارف علوی نے کہا کہ میں اسد عمر سے بات کرتا ہوں ، جس پر یاسمین رشد نے کہا کہ آپ شاہ صاحب سے بھی بات کرلیں وہ خان صاحب کے ساتھ ہیں

    قبل ازیں شاہ محمود قریشی نے بھی ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ تحریک انصاف کے تمام اراکین، ٹکٹ ہولڈرز لاہور پہنچیں اور عمران خان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کریں، واضح رہے کہ زمان پارک میں پولیس اور پی ٹی آئی کارکنان آمنے سامنے ہیں،تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے پولیس پر پتھراو کیا جاتا ہے تو پولیس کی جانب سے آنسو گیس، کے شیل پھینکے جاتے ہیں ،زمان پارک کی جانب آنے والی تمام سڑکوں کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے پولیس اور کارکنوں کے درمیان جھڑپوں میں اب تک دونوں جانب سے 64 افراد زخمی ہو چکے ہیں جن میں 54 پولیس اہلکار اور 10 شہری شامل ہیں 51 پولیس اہلکار سروس ہسپتال اور تین میو ہسپتال میں لایا گیا ہے ۔

    ترجمان پنجاب حکومت کا کہنا ہے کہ شرپسند بدستور نہتے پولیس والوں کو نشانہ بنا رہے ہیں اور درجن سے زائد گاڑیوں اور موٹرسائیکل کو جلا چکے ہیں پولیس پر تشدد کرنے والوں اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے خلاف بھی سخت کاروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے،

    یاسمین راشد اور اعجاز شاہ کی کال لیک ہوئی ہے

    ،قانون کو کوئی بھی ہاتھ میں لے گا تو کاروائی ہوگی ،ڈی آئی جی آپریشنز اسلام آباد

     کل شام سے گرفتاری کے لئے شروع ہونے والا آپریشن تاحال مکمل نہ ہو سکا،

    اسلام آبادم پنڈی، کراچی، صادق آباد و دیگر شہروں میں مقدمے درج 

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے 

  • توشہ خانہ وارنٹ، عمران خان کی درخواست خارج

    توشہ خانہ وارنٹ، عمران خان کی درخواست خارج

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کے وارنٹ منسوخی کی درخواست نمٹا دی،عدالت نے عمران خان کی درخواست خارج کر دی،

    سابق وزیراعظم کے وارنٹ گرفتاری کی منسوخی کی درخواست پراسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے سماعت کی ،عدالت عالیہ نے قرار دیا ہے کہ عمران خان کی انڈر ٹیکنگ ٹرائل کورٹ میں پیش کی جائے، ٹرائل کورٹ انڈر ٹیکنگ پر قانون کے مطابق فیصلہ کرے گی توشہ خانہ کیس میں ٹرائل کورٹ کا عمران خان کے وارنٹ گرفتاری کا حکم برقرار رہے گا

    ‏اسلام آباد ہائیکورٹ میں عمران خان کے وارنٹ گرفتاری منسوخی کی درخواست پر سماعت ہوئی ،عمران خان کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیئے،اور کہا کہ 13 مارچ کو عمران خان عدالت کے سامنے پیش نہیں ہو سکے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ وہ اس دن کہاں تھے؟ خواجہ حارث نے کہا کہ عمران خان اس روز گھر پر تھے،‏میں نے توشہ خانہ کیس کے قابل سماعت نہ ہونے پر دلائل دیے لیکن الیکشن کمیشن کے وکیل نے کیس کے قابل سماعت ہونے پر دلائل دینے کے لیے وقت مانگا ‏میں نے ٹرائل کورٹ سے کہا کہ کیس کے قابل سماعت پر فیصلہ کر دیں ،عمران خان پیش ہو جائیں گے ‏ہم نے ٹرائل کورٹ کو بتایا کہ وارنٹ گرفتاری جاری کرنا بنتا ہی نہیں، فوجداری مقدمات اور ضمانت کی کیسز میں فرق ہیں،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ٹرائل کورٹ کے وارنٹ فیلڈ میں تھے اور ابھی بھی ہیں ،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ ہم نے ٹرائل کورٹ سے کہا تھا کہ وارنٹ گرفتاری جاری نہ کریں جب تک درخواست قابل سماعت نہ ہو، الیکشن کمیشن ایکٹ کے تحت ہی وہ شکایت درج ہی نہیں کرائی گئی،الیکشن ایکٹ کے سیکشن 6 کے تحت الیکشن کمیشن خود ہی شکایت درج کرسکتا ہے،سیکرٹری الیکشن کمیشن کی جانب سے شکایت درج کرائی گئی ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ‏عدالت فرد جرم عائد کرنے سے پہلے آپ کے اعتراضات پر فیصلہ کر سکتی تھی ،لیکن آپ کے کلائنٹ کو پیش ہونا چاہئے تھا ،وکیل نے کہاکہ ‏ٹرائل کورٹ کے جج نے میرے قابل سماعت کے دلائل پر آرڈر میں کچھ نہیں لکھا ،‏جو کچھ لاہور میں ہورہا ہے وہ بدقسمتی ہے ،میں نے عمران خان سے بات کی ہے ،عمران خان نے تحریری یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ 18 مارچ کو پیش ہوں گے ،

    ‏ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد روسٹرم پر طلب کر لئے گئے،خواجہ حارث نے کہا کہ ‏میں ذاتی یقین دہانی کراتا ہوں کہ عمران خان پیش ہوں گے ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو لاہور میں ہورہا ہے وہ ضروری ہے لیکن اس سے ضروری میرے لیے اپنی عدالتوں کا احترام ہے ،قانون سب کے لیے ایک ہونا چاہیے ،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ ‏آج ٹرائل کورٹ کو بتایا ہے کہ کمپلینٹ ہی قابل سماعت نہیں،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وارنٹ دوبارہ جاری ہونے کا ایشو نہیں، عدالت نے کہا تھا تیرہ مارچ کو پیش ہوں ورنہ وارنٹ بحال ہو جائے گا،وکیل نے کہا کہ قانون کے مطابق الیکشن کمیشن کمپلینٹ دائر کر سکتا ہے،الیکشن کمشنر یا کسی افسر کو کمپلینٹ دائر کرنے کی اتھارٹی دی جا سکتی ہے، جب کمپلینٹ دائر کرنے میں قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے،اس صورت میں وارنٹ جاری کرنے کی کارروائی بھی درست نہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی بھی کریمنل کیس میں سمن جاری ہو تو کیا عدالت پیش ہونا ضروری نہیں؟ وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ ‏ٹرائل کورٹ کو ہم نے بتایا کہ پہلے کچھ گذارشات پر ہمیں سنیں، ہماری درخواست مسترد کرتے ہوئے عدالت نے کہا ہم وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیس جو بھی ہو مگر ملزم کا عدالت میں پیش ہونا ضروری ہے ، جو کچھ لاہور میں ہو رہا ہے، ہم دنیا کو قانون کی بے توقیری دکھا رہے ہیں،ہم تو قبائلی علاقوں کا سنتے تھے کہ وہاں گولیاں بھی چلتی ہیں، مارٹر گولے بھی آج یہ سب کچھ لاہور زمان پارک میں ہو رہا ہے،زمان پارک اس وقت میدان جنگ بنا ہوا ہے،عدالت چھوٹی ہو یا بڑی ،ہمیں احترام کرنا چاہئے ،اسلام آباد ہائیکورٹ نے دلائل سننے کے بعد عمران خان کی ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا

    ،قانون کو کوئی بھی ہاتھ میں لے گا تو کاروائی ہوگی ،ڈی آئی جی آپریشنز اسلام آباد

     کل شام سے گرفتاری کے لئے شروع ہونے والا آپریشن تاحال مکمل نہ ہو سکا،

    اسلام آبادم پنڈی، کراچی، صادق آباد و دیگر شہروں میں مقدمے درج 

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

  • لاہور ہائیکورٹ کا زمان پارک میں پولیس کا آپریشن فوری روکنے کا حکم

    لاہور ہائیکورٹ کا زمان پارک میں پولیس کا آپریشن فوری روکنے کا حکم

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہور ہائیکورٹ نے زمان پارک میں پولیس کا آپریشن فوری روکنے کا حکم دے دیا

    عدالت نے حکم دیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے تک آپریشن روک دیا جائے، جسٹس طرق سلیم شیخ نے پولیس اور انتظامیہ کو حکم دیا، عدالت نے حکم دیا کہ زمان پارک میں آپریشن فوری روک دیں، لاہور ہائیکورٹ میں زمان پارک پولیس آپریشن کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی ،آئی جی پنجاب پولیس عدالت میں پیش ہوئے، جسٹس طارق سلیم شیخ نے استفسار کیا اور کہا کہ بتائیں آئی جی صاحب !مسئلے کا کیا حل ہے؟ آئی جی پنجاب نے کہا کہ جب اسلام آباد پولیس نے نفری مانگی اس وقت الیکشن کمیشن کی میٹنگ میں تھا،ڈی آئی جی شہزاد بخاری نے لاہور پولیس سے معاونت کی درخواست کی عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ ہیں اورہم نے گرفتار کرنا ہے، ڈی آئی جی اور15 افسران سمیت 59 پولیس اہلکار زخمی ہیں، یہ طے تھا کہ کسی کے پاس اسلحہ نہیں ہوگا،اس طرح کا واقعہ سانحہ ماڈل ٹاﺅن میں ہو چکا ہے، ہمارے اوپر پٹرول بم پھینکے گئے، واٹرکینن تباہ، کئی پولیس کی گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی، ہم نے رینجرز کو بلایا تو ان پر بھی پٹرول بم پھینکے گئے ،

    عدالت نے استفسار کیا کہ اگر اسلام آباد ہائیکورٹ فیصلے تک آپریشن روک دیں تو کوئی اعتراض ہے؟ آئی جی پنجاب نے عدالت میں کہا کہ ہم عدالت کے ہر حکم پر عملدرآمد کے پابند ہیں،ہم نے مختلف اضلاع سے فورس لگائی ہے، عدالت نے کہا کہ اگر آپ 200 فٹ پیچھے بھی ہو جائیں گے تو کوئی فرق نہیں پڑتا ،عدالت نے سماعت کل صبح 10 بجے تک ملتوی کردی، لاہورہائیکورٹ نےکل صبح 10:00 بجے تک زمان پارک آپریشن روک دیا،عدالت نے حکم دیا کہ پولیس مال روڈ، کینال پل، دھرم پورہ تک محدودرہے گی، ہم نے سیز فائر کروایا ہے،حتمی فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا ہوگا،

    قبل ازیں تحریک انصاف کی جانب سے عمران خان کی رہائشگاہ زمان پارک میں پولیس آپریشن رکوانے کے لئے درخواست لاہور ہائیکورٹ میں دائر کر دی گئی ہے،تحریک انصاف کی درخواست پر جسٹس طارق سلیم شیخ نے سماعت کی،درخواست گزار نے کہا کہ ایک ورانٹ گرفتاری پر عملدرآمد کرانے کے لیے پورے شہر کو سیل کیا ہوا ہے الیکشن کرانے کی بات کریں تو کہتے ہیں فورس نہیں ہے ، اگر وارنٹ گرفتاری پر عمل درآمد نہیں ہوتا تو عدالت کے پاس اشتہاری کی کارروائی کا اختیار ہے عدالت سی سی پی او کو طلب کرے ، جسٹس طارق سلیم شیخ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ اپنی درخواست کی استدعا پڑھیں

    لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس طارق سلیم شیخ نے زمان پارک میں پولیس آپریشن روکنے کی درخواست پر ڈپٹی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو فوری طلب کرلیا،عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل کو ہدایات لے کرپیش ہونے کی ہدایت کردی عدالت نے کیس کی سماعت دو بجے تک کے لئے ملتوی کر دی

    واضح رہے کہ زمان پارک میں پولیس اور پی ٹی آئی کارکنان آمنے سامنے ہیں،تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے پولیس پر پتھراو کیا جاتا ہے تو پولیس کی جانب سے آنسو گیس، کے شیل پھینکے جاتے ہیں ،زمان پارک کی جانب آنے والی تمام سڑکوں کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے پولیس اور کارکنوں کے درمیان جھڑپوں میں اب تک دونوں جانب سے 64 افراد زخمی ہو چکے ہیں جن میں 54 پولیس اہلکار اور 10 شہری شامل ہیں 51 پولیس اہلکار سروس ہسپتال اور تین میو ہسپتال میں لایا گیا ہے ۔عمران خان کے گھر کے باہر وکلا کی ایک بڑی تعداد بھی پہنچ چکی ہے، وکلاء نے فواد چودھری کی موجودگی میں مال روڈ پر پولیس کی گاڑی توڑنے کی کوشش کی، وکلا نے بھی ڈنڈے اٹھائے ہوئے ہیں اور زمان پارک پہنچے ہیں،

    عمران خان بھی زمان پارک میں موجود ہیں، عمران خان آج صبح بھی باہر نکلے اور کارکنان کے ساتھ کچھ وقت گزارا، اب پھر عمران خان کی ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں عمران خان گھر سے باہر آئے ہیں، اور کارکنان کے ہمراہ موجود ہیں، اطلاعات کے مطابق عمران خان ایسے وقت میں گھر سے باہر نکلے جب پولیس زمان پارک کے قریب نہیں تھی بلکہ کارکنان کی بڑی تعداد موجود تھی،عمران خان نے چہرے پر ماسک پہن رکھا تھا

    علاوہ ازیں آئی جی پنجاب پولیس ڈاکٹر عثمان انور کا کہنا ہے کہ کسی نوجوان کیخلاف انسداد دہشتگردی کا مقدمہ درج ہوا تو اس کا مستقبل خراب ہو جائے گا والدین کو چاہئے بچوں کو ان حرکتوں سے باز رکھیں زمان پارک میں آپریشن نہیں، عدالتی حکم کی تعمیل ہو رہی ہے ڈی آئی جی آپریشنز شہزاد بخاری وارنٹ لیکر لاہور پہنچے تھے،لاہور پولیس نے قانون کے مطابق ان کی مدد کی تمام فورسز پر امن اور کسی کو نقصان نہ پہنچانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں ، ڈنڈا بردار موجود ہیں ، رینجرز ، ایلیٹ ، پولیس اور میڈیاکی گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا ،آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے کہا کہ پی ایس ایل انٹرنیشنل ایونٹ ہے ، اسے ڈسٹرب نہیں ہونے دیں گے

    ،قانون کو کوئی بھی ہاتھ میں لے گا تو کاروائی ہوگی ،ڈی آئی جی آپریشنز اسلام آباد

     کل شام سے گرفتاری کے لئے شروع ہونے والا آپریشن تاحال مکمل نہ ہو سکا،

    اسلام آبادم پنڈی، کراچی، صادق آباد و دیگر شہروں میں مقدمے درج 

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے