Baaghi TV

Tag: سائفر کیس

  • سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی بریت سپریم کورٹ میں چیلنج

    سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی بریت سپریم کورٹ میں چیلنج

    حکومت نے سائفر کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی بریت کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو سائفر کیس میں بری کردیا تھا،آج حکومت نے سائفر کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر دی ہے،ایف آئی اے نے سپریم کورٹ میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی ہے،درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ ہائیکورٹ کو سائفر کیس میں اپیل سننے کا اختیار ہی نہیں،یہ اصول طے شدہ ہے کہ جب پارلیمنٹ قانون میں کوئی بات نہ لکھے تو عدالتی فیصلے کے ذریعے اس میں اضافہ نہیں کیا جا سکتا، بانی پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کا سائفر ٹرائل کے دوران عدم تعاون کا رویہ رہا،ریکارڈ سے ثابت ہے کہ دونوں ملزمان نے ٹرائل کے دوران 65 متفرق درخواستیں دائر کیں،متعدد بار ملزمان کی استدعا پر سماعتیں ملتوی ہوتی رہیں، سائفر کیس میں گواہان پیش ہوئے لیکن ملزمان کے وکلاء نے ان پر جرح نہیں کی،ملزمان کے وکلاء کو سرکاری خرچ پر وکیل مہیا کیا گیا ، یہ اصول طے شدہ ہے کہ کسی ٹرائل میں قانونی تقاضے پورے نا ہوں تو معاملہ دوبارہ ٹرائل کے لیے بھیجا جاتا ہے، سائفر کیس میں استغاثہ نے ٹھوس شواہد پیش کیے، استغاثہ نے سائفر کیس میں دستاویزی اور فارنزک ثبوت پیش کیے،جنہیں ٹرائل کے جھٹلایا نہیں گیا، اسلام ہائیکورٹ نے سائفر کیس میں پیش کیے گئے ٹھوس شواہد کو مدنظر نہیں رکھا ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے 3 جون کے سائفر کیس میں بریت کے فیصلے کے خلاف اپیلیں سماعت کے لیے مقرر کی جائیں،

    ایف آئی اے نے اسلام آباد ہائیکورٹ کا تفصیلی فیصلہ آنے سے قبل ہی سائفر کیس کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے نیب ترمیم کیس میں عمران خان کو ویڈیو لنک کے ذریعے سائفر کیس کی سپریم کورٹ میں اپیل سے متعلق عندیہ دے رکھا تھا۔

    واضح رہے کہ 3 جون کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو سائفر کیس میں بری کر دیا تھا.اسلام آباد ہائیکورٹ نے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو سائفر کیس میں رہا کرنے کا حکم دیا تھا،

    سائفر سیکیورٹی کا مقصد یہی ہے کہ سائفر کو کسی غیر متعلقہ شخص کے پاس جانے سے روکا جائے،

    سائفر کیس،اعظم خان نے مقدس کتاب ہاتھ میں رکھ کر بیان دیا تھا،ایف آئی اے پراسیکیوٹر

    اعظم خان نے اعتراف کیا سائفر کی کاپی وزیراعظم نے واپس نہیں کی، ایف آئی اے پراسیکیوٹر

    سائفر کیس،ڈاکومنٹ کی کاپی عدالتی ریکارڈ میں پیش نہیں کی گئی،عدالت

    ثابت کریں کہ جو پبلک ریلی میں لہرایا گیا وہ سائفر تھا ،عدالت کا پراسیکیوٹر سے مکالمہ

    سائفر کیس، عمران خان، قریشی کو سزا سنانے والے جج بارے اہم فیصلہ

    سائفر کی کاپی کی ساری ذمہ داری پرنسپل سیکرٹری اعظم خان پر تھی،وکیل عمران خان

    سائفر کیس:اسد مجید اسٹار گواہ ہو سکتے تھے ابھی اسد مجید نے تو کچھ نہیں کہا کہ وہ اسٹار گواہ بن سکتا

    پاکستان کے بعد امریکی ایوان میں بھی سائفر بیانیہ کو جھوٹ کا پلندا کہ دیا،شیری رحمان

    انتخابات سے قبل تشدد کے واقعات پر خصوصاً تشویش رہی، ڈونلڈ لو

    ڈونلڈ لو کی کانگریس میں طلبی پر امریکی دفتر خارجہ کا ردعمل

    سائفر کیس،یہ آخری بات ہو گی کہ میں کہو ں ٹرائل جج کو ایک اور موقع دے دیں،وکیل عمران خان

    سائفر کیس،عمران خان کی اپیل پر سماعت ایک روز کے لئے ملتوی

    سائفر کیس،یہ کہتے تھے ضمانت کا حق نہیں ، سپریم کورٹ نے ضمانت بھی دی،سلمان صفدر

    سائفر کیس،عمران خان کی سزا کیخلاف اپیل پر سماعت،التوا کی درخواست مسترد

    سائفر کیس،عمران خان کی سزا کیخلاف اپیل قابل سماعت ہی نہیں، پراسیکیوٹر

    سائفر کیس،عمران خان، شاہ محمود قریشی کو ٹرائل کورٹ نے کتنی سزا سنائی تھی؟
    جج ابوالحسنات ذوالقرنین کو خصوصی عدالت کا جج تعینات کیا گیا تھا، اڈیالہ جیل میں کیس کی سماعت ہوئی تھی اور سائفر کس میں جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے عمران خان اور شاہ محمو د قریشی کو سزا سنائی تھی، سائفر کیس کی خصوصی عدالت نے کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو 10،10 سال قید با مشقت کی سزا سنادی،سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ 1923 کے تحت سزا سنائی گئی تھی، بانی پی ٹی آئی پر مقدمہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ 1923 کے سیکشن 5 اور9 کی دفعات کے تحت درج تھا جب کہ سائفرکیس میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 34 بھی لگائی گئی تھی،سیکرٹ ایکٹ 1923 سیکشن 5 حساس معلومات کو جھوٹ بول کر آگے پہنچانے سے متعلق ہے، سیکرٹ ایکٹ 1923 کا سیکشن 9 جرم کرنےکی کوشش کرنے یاحوصلہ افزائی سے متعلق ہے۔کسی کے پاس حساس دستاویز، پاسورڈ یا خاکہ ہو اوراس کا غلط استعمال ہو تو سیکشن 5 لگتی ہے، حساس دستاویزات رکھنے کے حوالے سے قانونی تقاضے پورے نہ کرنے پربھی سیکشن 5 لاگو ہوتا ہے پاکستان پینل کوڈ سیکشن 34 کے تحت شریک ملزمان کا کردار بھی مرکزی ملزم کے برابر ہوگا، سیکرٹ ایکٹ 1923 سیکشن 5 سب سیکشن 3 اے کے تحت سزائے موت بھی ہوسکتی ہے جب کہ سیکرٹ ایکٹ 1923 سیکشن 5 سب سیکشن 3 اے کے تحت زیادہ سے زیادہ14 سال قیدکی سزا ہوسکتی ہے۔

    سائفر کا معاملہ کیا ہے؟
    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے امریکا میں پاکستانی سفیر کے مراسلے یا سائفرکو بنیاد بنا کر ہی اپنی حکومت کے خلاف سازش کا بیانیہ بنایا تھا جس میں عمران خان نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی حکومت کے خاتمے میں امریکا کا ہاتھ ہے تاہم قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں سائفر کو لے کر پی ٹی آئی حکومت کے مؤقف کی تردید کی جاچکی ہے۔ سائفر سے متعلق عمران خان اور ان کے سابق سیکرٹری اعظم خان کی ایک آڈیو لیک سامنے آئی تھی جس میں عمران خان کو کہتے سنا گیا تھا کہ ’اب ہم نے صرف کھیلنا ہے، امریکا کا نام نہیں لینا، بس صرف یہ کھیلنا ہے کہ اس کے اوپر کہ یہ ڈیٹ پہلے سے تھی جس پر اعظم خان نے جواب دیا کہ میں یہ سوچ رہا تھا کہ اس سائفر کے اوپر ایک میٹنگ کر لیتے ہیں‘۔اس کے بعد وفاقی کابینہ نے اس معاملے کی تحقیقات ایف آئی اے کے سپرد کیا تھا اعظم خان پی ٹی آئی کے دوران حکومت میں اس وقت کے وزیراعظم عمران خان کے پرنسپل سیکرٹری تھے اور وہ وزیراعظم کے انتہائی قریب سمجھے جاتے تھے۔سائفر کے حوالے سے سابق ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار نے کہا تھا سائفر پر ڈرامائی انداز میں بیانیہ دینے کی کوشش کی گئی اور افواہیں اور جھوٹی خبریں پھیلائی گئیں جس کا مقصد سیاسی فائدہ اٹھانا تھا۔

  • اسلام آباد ہائیکورٹ، سائفر کیس ،ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم ،عمران خان، قریشی بری

    اسلام آباد ہائیکورٹ، سائفر کیس ،ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم ،عمران خان، قریشی بری

    اسلام آباد ہائیکورٹ ،سائفر کیس میں سزا کے خلاف عمران خان اور شاہ محمود کی اپیلوں پر سماعت ہوئی

    عدالت نے فیصلہ محفوظ کیا تھا جو اب سنا دیا گیا ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو سائفر کیس میں بری کر دیا.اسلام آباد ہائیکورٹ نے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔محفوظ فیصلہ اسلام ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن نے سنایا،عدالت نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو سائفر کیس میں رہا کرنے کا حکم دے دیا،

    سائفر کیس فیصلہ سے قبل ، کمرہ عدالت میں پولیس اہلکاروں نے روسٹرم کے سامنے حصار بنا لیا تھا ، تحریک انصاف کے رہنما علی محمد خان، شعیب شاہین و دیگر کمرہ عدالت میں موجود تھے، اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے. عامر ڈوگر نے عدالت میں موجود رہنمائوں و کارکنان کو ہدایت کی کہ سائفر کیس کے فیصلے کے وقت عدالت میں کوئی نعرے بازی نہیں کرنی ،

    عدالتی فیصلے کے بعد بھی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی رہائی ممکن نہیں، عمران خان کو دوران عدت نکاح کیس میں بھی سزا ہو چکی ہے جبکہ شاہ محمود قریشی کو نو مئی کے مقدمات میں بھی گرفتار کیا گیا ہے، لاہور پولیس نے شاہ محمود قریشی کی گرفتاری 25 مئی کو اڈیالہ جیل میں ڈالی تھی،بعد ازاں عدالت نے شاہ محمود قریشی کا ریمانڈ دیا تھا، لاہور کی جے آئی ٹی کی پانچ رکنی تفتیشی ٹیم 26 مئی کو اڈیالہ جیل آئی تھی،عمران خان پر بھی نومئی کے مقدمے ہیں

    بانی پی ٹی آئی، شاہ محمود قریشی کی سائفر کیس میں بریت کا مختصر فیصلہ جاری کر دیا گیا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے مختصر فیصلہ جاری کیا،جس میں کہا گیا کہ بانی پی ٹی آئی، شاہ محمود قریشی کی سزا کیخلاف اپیلیں منظور کی جاتی ہیں، سائفر کیس میں ٹرائل کورٹ کا 30 جنوری کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جاتا ہے، بانی پی ٹی آئی، شاہ محمود قریشی کو مقدمے سے بری قرار دیا جاتا ہے،اگر کسی دوسرے کیس میں قید نہیں تو بانی پی ٹی آئی، شاہ محمود قریشی کو فوری رہا کیا جائے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سماعت کی،پراسیکیوٹر ذوالفقار عباس نقوی اور حامد علی شاہ عدالت میں پیش نہ ہوئے،معاون پراسیکیوشن نے کہا کہ حامد علی شاہ راستے میں ہیں،20منٹ دے دیں وہ آجائیں گے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ایسا نہیں ہو سکتا ہم آپ کے لئیے یہاں پر بیٹھے ہوئے ہیں،میں نے آج ریگولر ڈی بی اسی لئیے کینسل کر دی ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق برہم ہو گئے، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ حامد علی شاہ صاحب کہاں ہیں؟معاون پراسیکیوٹر نے کہا کہ شاہ صاحب معروف اسپتال میں ہیں میری ابھی ان سے بات کوئی ہے،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے اسٹیٹ کونسل عبد الرحمان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سے پہلے آپ نے کوئی ایسا ٹرائل کنڈکٹ کیا ہے،آج آرام سے تیار کر کے ہمیں دے دیں،آپ نے ابھی تک کونسا کرمنل کیس کا ٹرائل کیا ہے ،ان کیسز کی لسٹ دے دیجیے گا ،کیس ٹائٹل کس کورٹ میں تھا تاکہ ہم اسکو ویرفائی کر سکیں،

    اعظم خان نے سائفر سابق چیئرمین پی ٹی آئی کو دیا، اس سے متعلق کوئی دستاویز موجود نہیں،وکیل
    سابق چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پراسیکیوٹر کی جانب سے کہا گیا کہ ہم نے 342 میں گناہ تسلیم کیا ہے، سیکریٹریٹ رولز کے مطابق اعظم خان جوابدہ ہیں ان سے پوچھا جانا چاہیے ،سکریٹریٹ رولز کا ذکر حامد علی شاہ نے یہاں نہیں کیا، سلمان صفدر کی جانب سے سپریم کورٹ کی مختلف عدالتی نظریوں کا حوالہ دیا گیا، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ اعظم خان نے سائفر سابق چیئرمین پی ٹی آئی کو دیا، اس سے متعلق کوئی دستاویز موجود نہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ سائفر وصولی سے متعلق تو آپ کےموکل کا اپنا اعتراف بھی موجود ہے،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ یہ تو پراسیکیوشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ یہ بات ثابت کریں، قانون بڑا واضح اور اس حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے موجود ہیں ،پراسیکیوشن نے کیس ثابت کرنے کی ذمہ داری پوری کرنی ہے،اگر 342 کا بیان لینا ہے تو مکمل بیان کو لیا جائے گا ،ٹکڑوں میں بیان نہیں لے سکتے ،رات 12 بجے تک سماعت ہو ئی، صبح8 بجے سابق پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کا بیان ریکارڈ کیا جاتا ہے ،جب 342 کا بیان ریکارڈ ہو ا،اس دن فیصلہ بھی سنا دیا گیا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا بیان ریکارڈ کرنے کے بعد دلائل دیے گئے،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ 2کونسلز جنہوں نے ٹرائل کورٹ میں جرح کی انہوں نے کبھی کرمنل کیس لڑا ہے، اگر انہوں نے کیسز لڑے ہیں تو تمام کیسز کی لسٹ تیار کر کے عدالت میں جمع کروا دیں،

    سائفر کی 9کاپیاں واپس نہیں آئی تھیں،تو پہلے انکوائری شروع کیوں نہیں کی گئی،وکیل
    وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ ملزم نے سائفریا دشمن ملک کو دے دیا،اپنے پاس رکھا یا اسکو رٹین کر دیا پراسیکیوشن کوئی ایک بات کرے،اگر برآمدگی نہیں ہوئی تو پھر یہ چارج کیسے لگ گیا،عمران خان کی حد تک یہ جرم اپلائی بھی نہیں کرتا،جب سائفرشفٹ کیا گیا اسکا کوئی ثبوت عدالت میں لیکر نہیں آئے،9کاپیاں واپس نہیں آئی تھیں،تو پہلے انکوائری شروع کیوں نہیں کی گئی،ہمیں کسی ایک کے بارے میں انکوائری دکھا دیں،جو 8 کاپیاں لیٹ آئیں انکے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی گئی،جب ثبوت کو ضائع کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو 201 لگتی ہے سائفر تو انکے پاس موجود ہے، سلمان صفدریہ صرف سیاسی انتقام ہے،سائفر تو ان لوگوں کے پاس موجود ہے تو پھر کیوں نہیں لائے,تین چیزوں کو میں عدالت میں بیان کرنا چاہتا ہوں ،تین چیزیں عدالت میں پیش نہیں کی گئی سائفر ڈاکومنٹ نہیں آیا ، سائفر کا کانٹینٹ اور سائفر بک لیٹ ٹرائل کورٹ میں پیش کی گئی، سائفر سے متعلق بک لیٹ راجہ رضوان عباسی نے ٹرائل کورٹ میں پیش نہیں کی اور شاہ صاحب ہائیکورٹ میں لے آئے ،

    ایف آئی اے پرسکیوٹر ذالفقار علی نقوی کمرہ عدالت پہنچ گئے

    عدالت میں کسی مخصوص ملک کا نہیں بتایا گیا جس کے ساتھ تعلقات خراب ہوئے،وکیل
    وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ حامد علی شاہ گزشتہ تین سماعت پر موجود نہیں تھے،مزید ثبوت جمع کروانے کے متفرق درخواست بھی مسترد کی گئی ، حامد علی شاہ نے ڈیڑھ ماہ عدالت میں دلائل دیتے رہے ہیں ، ثبوت بعد میں لائے گئے اس کا مطلب کے ہم کیس ثابت نہیں کر سکے،عدالت نے کئی سوالات پوچھے شاہ صاحب نے کہا اس کا جواب بعد میں دوں گا اب شاہ صاحب عدالت میں ہی نہیں ،اعظم خان خود کہتے ہیں کہ سائفر گم ہو گیا ہے،دفتر خارجہ کو آگاہ کر دیا ہے،اعظم خان نے اپنے بیان میں بتایا ملٹری سکریٹری، اے ڈی سی اور دفتر کا سٹاف ڈھونڈتا رہا،دفتر خارجہ کو آگاہ کرنے کے بعد آئی بی نے انکوئری کرنی تھی جو نہیں کی گئی،میری استدعا ہے کے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو تمام چارجز سے ڈسچارج کیا جائے۔جس سورس سے آیڈیوز،ویڈیوز آتی ہیں اسکی آئی پی ایڈریس ٹریس نہیں ہوئی،عدالت میں کسی مخصوص ملک کا نہیں بتایا گیا جس کے ساتھ تعلقات خراب ہوئے،جب ہم ضمانت پر ائے تو انہوں نے کہا ضمانت کا حق حاصل نہیں ،پھر ہم اپیل میں گئے وہاں بھی کہا گیا اپیل کا حق بھی نہیں مل سکتا،نقوی صاحب نے کہا ان کو کھانسی آتی تھی درخواست دیتے تھے، یہ بات درست ہے ہم نے 55 درخواستیں دیں،جج صاحب نے کام ہی ایسا کیا کیا کرتے،آخر میں آ کر کہتے ہیں کہ ٹرائل کورٹ کیس واپس بھیجا جائے تا کہ غلطیاں ختم کی جائیں، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ آپ اس بات کو چھوڑیں ہم جانیں پراسیکیوشن جانے،ٹرائل کورٹ میں جو پہلے دو راؤنڈ تھے اس میں جرح آپ نے کی تھی ناں،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ جی جی بلکل ایسا ہی ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ گزشتہ سماعت پر پراسیکیوشن کی جانب سے کہا گیا تھا کہ کیس کو ٹرائل کورٹ واپس بھیج دیں اس میں خامیاں ہیں،سلمان صفدر صاحب! آپ اس پر کیا کہنا چاہتے ہیں وہ بتا دیں،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ آج ہمیں اس کیس میں 3 ماہ ہو گئے ہیں، ہر کیس کہ ایک اسٹیج ہوتی ہے ہم اس سے بہت آگے بڑھ چکے ہیں ، 2 بار کیس ریمانڈ بیک ہوچکا تیسری بار کیس ریمانڈ بیک کرنے کی کوئی وجہ نہیں بنتی ، عدالت نے کہا کہ ایف آئی اے پراسکیوٹر ذولفقار علی نقوی صاحب کی جانب سے کہا گیا کیس کو میرٹ پر نہیں سنا جا سکتا،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ ہم آپ سے قانونی طور پر معاونت چاہتے ہیں ،

    دس سال کے لئے کسی کو جیل میں رکھنا صرف اس پر ہو سکتا ہے کہ تعلقات "خراب ہو سکتے تھے،عدالت
    سلمان صفدر کے دلائل مکمل ہونے پر ایف آئی سے پراسیکیوٹر ذولفقار عباس نقوی نے دلائل کا آغاز کر دیا۔دلائل کے آغاز میں ہی چیف جسٹس عامر فاروق ایف آئی اے پراسیکیوٹر ذولفقار عباس نقوی پر شدید برہم ہو گئے،عدالت نے کہا کہ آپ خالی یہ کہہ رہے ہیں "تعلقات خراب ہو سکتے تھے” قانون کی منشا یہ نہیں ، آپ نے کسی کو سزائے موت دینی ہے ،دس سال کے لئے کسی کو جیل میں رکھنا صرف اس پر کیا ہو سکتا ہے کہ تعلقات "خراب ہو سکتے تھے” ،عدالت نے اسپیشل پراسکیوٹر کو ہدایت کی کہ فائیو ون سی پڑھیں آپ کا کیس یہ ہے ، جان بوجھ کر سائفر عمران خان نے اپنے پاس رکھی اس سے متعلق بتائیں ، اسپیشل پراسیکیوٹر نے کہا کہ بانی چیئرمین پی ٹی آئی سائفر عوام کے سامنے لایا، سائفر ایک کلاسیفائیڈ دستاویز ہے، سابق وزیراعظم نے سائفر کا کنٹینٹ بھی پبلک کیا جس سے مختلف ممالک سے تعلقات خراب ہوئے ، گواہ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کو بار بار کہا گیا سائفر کاپی کے ساتھ یہ نا کریں ، 342 کے بیان میں بانی پی ٹی آئی مان رہے ہیں ، عدالت نے کہا کہ اگر وہ کہہ رہے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں جان بوجھ کر کر رہے ہیں ، آپ نے ثابت کرنا ہے ، عدالت نےاسپیشل پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ یہ کہنا کہ "یہ نا کرو” یہ الگ چیز ہے آپ نے رولز دیکھنے ہیں،کس نے سائفر کیس میں بانی پی ٹی آئی کو رولز کے مطابق ڈائریکشن دی ؟ اسپیشل پراسکیوٹر نے کہا کہ قانون یہ کہتا ہے کہ وہ سائفر کاپی اپنے پاس نہیں رکھ سکتے تھے ، عدالت نے کہا کہ یہ تو رولز ہیں کوئی الگ سے قانون تو نہیں ، سپریم کورٹ کا قانون واضع ہے جہاں ملزم تسلیم بھی کر لے تو پراسیکوشن نے ثابت کرنا ہے ،اگر آپ کاپی ٹرائل کورٹ کو دیکھا دیتے تو پھر پراسیکوشن کا کیس بن سکتا تھا ، پتہ تو چلتا جو افسانہ ہے وہ افسانہ ہے کیا ؟کورٹ کے اندر کلاسیفائیڈ نہیں ہوتا ، کورٹ میں قانون کے طریقہ کار بتا دیا ہے کلاسیفائیڈ کو ڈیل کیسے کرنا ہے ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بانی چیئرمین پی ٹی آئی نے مانا ہے یا نہیں آپ اس کو چھوڑیں آپ نے اسکو ثابت کرنا ہے،کیا وزیراعظم کو بتایا گیا تھا اس ڈاکومنٹ کو واپس کرنا ہے، سائفر کو جو کنٹینٹ ہے وہ عدالت کو بتانا چاہیے تھا ناں، کورٹ میں کوئی دستاویز کلاسیفائیڈ نہیں ہوتی، جس چیز کا ہمیں پتہ ہی نہیں ہم نے دیکھا ہی نہیں اس پر ہم کیا کریں ،پراسیکیوٹر نے کہا کہ ہمارا چارج ہے اس میں انفارمیشن لیک کی گئی ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ کونسی انفارمیشن لیک کی گئی ، شاہ صاحب دنیا گول ہے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ایف آئی اے پرسکیوٹر سے استفسار کیا کہ تیس جنوری کو سزا سنائی گئی، آپ نے کتنی دیر دلائل دیے تھے،پراسکیوٹر نے کہا کہ تھوڑی دیر دلائل دیے ،عدالت نے کہا کہ تھوڑی دیر کیا مطلب چار گھنٹے 15 منٹس؟ پراسکیوٹر نے کہا کہ ایک گھنٹہ میرے خیال سے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ 11:30 پر 342 کا بیان ریکارڈ ہوا 2 بجے فیصلہ آ گیا ،342 بیان ریکارڈ کرنے کے ایک ڈیڑھ گھنٹے کے اندر 70 صفحات پر مشتمل فیصلہ آ گیا،ہم اپنے فیصلے میں لکھیں گے کہ بہت اچھا ٹرائل ہوا ہے، پراسیکیوٹر نے کہا کہ اگر ٹرائل ٹھیک نہیں ہوا تو ریمانڈ بیک کر دیں ، عدالت نے کہا کہ تین مہینے آپ کو اور سلمان صفدر کو سنا اب ہم واپس کیسے بھیج سکتے ہیں کوئی دلائل ہے آپ کے پاس، آپ بھی پراسیکیوشن تھے عدالت کو بتانا چاہیے تھا ٹیک اٹ ایزی ،فائیو ون سی کا تقاضا پورا کیا یا نہیں ؟ وہ بتائیں ،مجھے جو سمجھ آتی ہے آپ نے تقاضا پورا نہیں کیا ،پراسیکوشن نے کہاں ثابت کیا ہوا ہے کہ بانی پی ٹی آئی اپنے پاس نہیں رکھ سکتے تھے ؟آپ نے ایک پری written ججمنٹ لکھی ہوئی ہے یہ کوئی طریقہ نہیں ،ایک اسٹیج پر حامد علی شاہ صاحب نے کہا تھا ہم ٹرائل کا دفاع کریں گے ، ہم لکھیں گے یہ آئیڈیل ٹرائل تھا اس سے بہتر ٹرائل ہو ہی نہیں سکتا تھا ،ساڑھے تین ماہ سن سن کر اب تو میرے اسٹاف کو بھی یاد ہو گیا ہو گا ،

    بنچ اٹھ کر چیمبر چلا گیا ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ہم دس پندرہ منٹ میں واپس آرہے ہیں ، کیا دنیا میں کوئی justify کر سکتا ہے کہ دوپہر کو 342 کا بیان مکمل ہوتا ہے اور 77 صفحے کا فیصلہ آجاتا ہے ، آپ بھی کہہ سکتے تھے آپ نے بھی غیر معمولی جلدی تیزی دیکھائی ،

    سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی اپیلوں پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیاتھا جو اب سنا دیا گیا ہے.

    سائفر سیکیورٹی کا مقصد یہی ہے کہ سائفر کو کسی غیر متعلقہ شخص کے پاس جانے سے روکا جائے،

    سائفر کیس،اعظم خان نے مقدس کتاب ہاتھ میں رکھ کر بیان دیا تھا،ایف آئی اے پراسیکیوٹر

    اعظم خان نے اعتراف کیا سائفر کی کاپی وزیراعظم نے واپس نہیں کی، ایف آئی اے پراسیکیوٹر

    سائفر کیس،ڈاکومنٹ کی کاپی عدالتی ریکارڈ میں پیش نہیں کی گئی،عدالت

    ثابت کریں کہ جو پبلک ریلی میں لہرایا گیا وہ سائفر تھا ،عدالت کا پراسیکیوٹر سے مکالمہ

    سائفر کیس، عمران خان، قریشی کو سزا سنانے والے جج بارے اہم فیصلہ

    سائفر کی کاپی کی ساری ذمہ داری پرنسپل سیکرٹری اعظم خان پر تھی،وکیل عمران خان

    سائفر کیس:اسد مجید اسٹار گواہ ہو سکتے تھے ابھی اسد مجید نے تو کچھ نہیں کہا کہ وہ اسٹار گواہ بن سکتا

    پاکستان کے بعد امریکی ایوان میں بھی سائفر بیانیہ کو جھوٹ کا پلندا کہ دیا،شیری رحمان

    انتخابات سے قبل تشدد کے واقعات پر خصوصاً تشویش رہی، ڈونلڈ لو

    ڈونلڈ لو کی کانگریس میں طلبی پر امریکی دفتر خارجہ کا ردعمل

    سائفر کیس،یہ آخری بات ہو گی کہ میں کہو ں ٹرائل جج کو ایک اور موقع دے دیں،وکیل عمران خان

    سائفر کیس،عمران خان کی اپیل پر سماعت ایک روز کے لئے ملتوی

    سائفر کیس،یہ کہتے تھے ضمانت کا حق نہیں ، سپریم کورٹ نے ضمانت بھی دی،سلمان صفدر

    سائفر کیس،عمران خان کی سزا کیخلاف اپیل پر سماعت،التوا کی درخواست مسترد

    سائفر کیس،عمران خان کی سزا کیخلاف اپیل قابل سماعت ہی نہیں، پراسیکیوٹر

    سائفر کیس،عمران خان، شاہ محمود قریشی کو ٹرائل کورٹ نے کتنی سزا سنائی تھی؟
    جج ابوالحسنات ذوالقرنین کو خصوصی عدالت کا جج تعینات کیا گیا تھا، اڈیالہ جیل میں کیس کی سماعت ہوئی تھی اور سائفر کس میں جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے عمران خان اور شاہ محمو د قریشی کو سزا سنائی تھی، سائفر کیس کی خصوصی عدالت نے کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو 10،10 سال قید با مشقت کی سزا سنادی،سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ 1923 کے تحت سزا سنائی گئی تھی، بانی پی ٹی آئی پر مقدمہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ 1923 کے سیکشن 5 اور9 کی دفعات کے تحت درج تھا جب کہ سائفرکیس میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 34 بھی لگائی گئی تھی،سیکرٹ ایکٹ 1923 سیکشن 5 حساس معلومات کو جھوٹ بول کر آگے پہنچانے سے متعلق ہے، سیکرٹ ایکٹ 1923 کا سیکشن 9 جرم کرنےکی کوشش کرنے یاحوصلہ افزائی سے متعلق ہے۔کسی کے پاس حساس دستاویز، پاسورڈ یا خاکہ ہو اوراس کا غلط استعمال ہو تو سیکشن 5 لگتی ہے، حساس دستاویزات رکھنے کے حوالے سے قانونی تقاضے پورے نہ کرنے پربھی سیکشن 5 لاگو ہوتا ہے پاکستان پینل کوڈ سیکشن 34 کے تحت شریک ملزمان کا کردار بھی مرکزی ملزم کے برابر ہوگا، سیکرٹ ایکٹ 1923 سیکشن 5 سب سیکشن 3 اے کے تحت سزائے موت بھی ہوسکتی ہے جب کہ سیکرٹ ایکٹ 1923 سیکشن 5 سب سیکشن 3 اے کے تحت زیادہ سے زیادہ14 سال قیدکی سزا ہوسکتی ہے۔

    سائفر کا معاملہ کیا ہے؟
    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے امریکا میں پاکستانی سفیر کے مراسلے یا سائفرکو بنیاد بنا کر ہی اپنی حکومت کے خلاف سازش کا بیانیہ بنایا تھا جس میں عمران خان نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی حکومت کے خاتمے میں امریکا کا ہاتھ ہے تاہم قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں سائفر کو لے کر پی ٹی آئی حکومت کے مؤقف کی تردید کی جاچکی ہے۔ سائفر سے متعلق عمران خان اور ان کے سابق سیکرٹری اعظم خان کی ایک آڈیو لیک سامنے آئی تھی جس میں عمران خان کو کہتے سنا گیا تھا کہ ’اب ہم نے صرف کھیلنا ہے، امریکا کا نام نہیں لینا، بس صرف یہ کھیلنا ہے کہ اس کے اوپر کہ یہ ڈیٹ پہلے سے تھی جس پر اعظم خان نے جواب دیا کہ میں یہ سوچ رہا تھا کہ اس سائفر کے اوپر ایک میٹنگ کر لیتے ہیں‘۔اس کے بعد وفاقی کابینہ نے اس معاملے کی تحقیقات ایف آئی اے کے سپرد کیا تھا اعظم خان پی ٹی آئی کے دوران حکومت میں اس وقت کے وزیراعظم عمران خان کے پرنسپل سیکرٹری تھے اور وہ وزیراعظم کے انتہائی قریب سمجھے جاتے تھے۔سائفر کے حوالے سے سابق ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار نے کہا تھا سائفر پر ڈرامائی انداز میں بیانیہ دینے کی کوشش کی گئی اور افواہیں اور جھوٹی خبریں پھیلائی گئیں جس کا مقصد سیاسی فائدہ اٹھانا تھا۔

  • ثابت کریں کہ جو پبلک ریلی میں لہرایا گیا وہ سائفر تھا ،عدالت کا پراسیکیوٹر سے مکالمہ

    ثابت کریں کہ جو پبلک ریلی میں لہرایا گیا وہ سائفر تھا ،عدالت کا پراسیکیوٹر سے مکالمہ

    عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی سائفر سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سماعت کی، ایف آئی اے پراسیکیوٹر حامد علی شاہ نے کہا کہ میں آج اپنے دلائل مکمل کرنے کی کوشش کروں گا،اس کیس میں آڈیو اور ویڈیو شواہد ایکسپرٹس نے پیش کیے ہیں، ایکسپرٹس نے ٹیپس پیش کرتے وقت کہا کہ انہیں ہم نے ریکارڈ کیا ہے، ایکسپرٹس کے بیانات کے بعد اُن پر جرح بھی کی گئی، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ کیا عدالت نے فیصلے میں اِن شواہد پر انحصار کیا ہے؟ ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے ایکسپرٹس کی شہادت کو اپنے فیصلے میں ڈسکس کیا ہے، عدالت نے سوال کیا تھا کہ وہ دستاویز سائفر کیسے ہے، اس متعلق بتاؤں گا،عدالت نے سوال اٹھایا تھا کہ سائفر کا متن کہاں ہے،بانی پی ٹی آئی عمران خان پر عائد کی گئی فردِ جرم سائفر سے متعلق تھی،بانی پی ٹی آئی عمران خان کو بطور وزیراعظم سائفر دستاویز فراہم کیا گیا،بانی پی ٹی آئی عمران خان اِس بات کو خود تسلیم کر چکے ہیں، بانی پی ٹی آئی عمران خان نے سائفر کو پبلک کیا،

    عمران خان نے سائفر کے متن میں ذاتی فائدے کیلئے ہیرا پھیری کی،پراسیکیوٹر
    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا محض معلومات دینا بھی جرم بنتا ہے؟ ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا کہ جی، وہ بھی جرم بنتا ہے،بانی پی ٹی آئی عمران خان کے اس عمل سے قومی سلامتی کو نقصان پہنچا، بانی پی ٹی آئی عمران خان کے دانستہ یا نادانستہ اقدام سے دیگر ممالک نے فائدہ اٹھایا، سائفر کی معلومات صرف 9 لوگوں سے شیئر کی جاتی ہے،عمران خان کو 9 مارچ کو سائفر کاپی ملی اور انہوں نے 27 مارچ کو پبلک کر دی، عمران خان نے سائفر کے متن میں ذاتی فائدے کیلئے ہیرا پھیری کی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ ہمارے پاس دستاویز ہی نہیں تو پھر کیسے کمپیر کریں، ایف آئی اےپراسیکیوٹر نے کہا کہ ایک آدمی تسلیم کر رہا ہے کہ یہ سائفر ہے اور یہ میں کر رہا ہوں،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ سائفر کا متن کیا تھا وہ ہی بتا دیں،

    عمران خان کو نہ ہٹایا تو نتائج ہونگے، سائفر کا متن ایف آئی اے پراسیکیوٹرنے عدالت میں تسلیم کر لیا
    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ سائفر میں کیا تھا جس معلومات سے ہیرا پھیری کی گئی؟ عمران خان نے کہا کہ سائفر میں کہا گیا اگر اسے نہ ہٹایا تو نتائج بھگتنے ہونگے، کیا یہی سائفر کا متن تھا کہ عمران خان کو نہ ہٹایا تو نتائج ہونگے، کیا وہ درست کہہ رہے تھے، سچ بول رہے تھے؟ ایف آئی اے پراسیکیوٹر حامد علی شاہ نے کہا کہ بالکل یہی میسج تھا، عمران خان خود تسلیم کر رہے ہیں، عمران خان نے خود سائفر کے متن کو تسلیم کیا،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفار کیا کہ آپ اس کو چھوڑ دیں آپ خود بتائیں کہ کیا تھا جسے تبدیل کیا گیا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ "شاہ صاحب ایسے نہیں ہے، آپ سول معاملے کی بات کر رہے ہیں یہ کرمنل کیس ہے، کرمنل کیس میں پراسیکیوشن نے اپنا کیس ثابت کرنا ہے، اگر ملزم خود تسلیم بھی کر لے تو پراسیکیوشن نے کیس ثابت کرنا ہے، ایڈمیشن کا یہ مطلب نہیں کہ پراسیکیوشن ڈسچارج ہو گئی، پوچھ پوچھ کر تھک گئے ہیں اَس بند لفافے میں تھا کیا”،

    امریکہ کے ساتھ تعلقات خراب ہونے کا ثبوت موجود ہے؟چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ
    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ اگر عدالت میں کوئی ڈاکومنٹ آجاتا تو ہمیں یقین آتا،پراسیکیوٹر نے کہا عمران خان نے ایڈمٹ کیا ہے ایک پبلک ریلی میں ،جسٹس میاں گل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسکو چھوڑیں آپ ثابت کریں کہ جو پبلک ریلی میں لہرایا گیا وہ سائفر تھا ،عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ پراسیکیوٹر حامد علی شاہ نے کہا تھا میں عدالت میں یہ ثابت کروں گا کہ لہرایا گیا سائفر تھا میرے خیال میں وقت آگیا ہے کہ پراسیکیوٹر ثابت کریں.ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا کہ عمران خان خود تین جگہ کہہ رہا ہے یہ سائفر ہے،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ وہ ایک ملزم ہے اسے چھوڑ دیں آپ ثابت کریں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ عمران خان کے تین سے چارجگہ سائفر کا ذکر کرنے پر اثر کیا پڑا ہے،کس نے کہا ہے کہ بیرون ملک کے تعلقات خراب ہو چکے ہیں؟ پراسیکیوٹر نے کہا کہ اپیل دائر کرنے والے نے کہا ہے کہ تعلقات خراب ہوئے ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا کسی ملک سے کوئی نمائندہ آیا ہے جس نے کہا ہے کہ تعلقات خراب ہو چکے ہیں، ہمیں بتائیں عمران خان کے سائفر لہرانے پر کس ملک کے ساتھ تعلقات خراب ہوئے،پراسیکیوٹر نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ ہمارے تعلقات خراب ہوئے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے ساتھ تعلقات خراب ہونے کا ثبوت موجود ہے؟

    سائفر سیکیورٹی کا مقصد یہی ہے کہ سائفر کو کسی غیر متعلقہ شخص کے پاس جانے سے روکا جائے،

    سائفر کیس،اعظم خان نے مقدس کتاب ہاتھ میں رکھ کر بیان دیا تھا،ایف آئی اے پراسیکیوٹر

    اعظم خان نے اعتراف کیا سائفر کی کاپی وزیراعظم نے واپس نہیں کی، ایف آئی اے پراسیکیوٹر

    سائفر کیس،ڈاکومنٹ کی کاپی عدالتی ریکارڈ میں پیش نہیں کی گئی،عدالت

    سائفر کیس، عمران خان، قریشی کو سزا سنانے والے جج بارے اہم فیصلہ

    سائفر کی کاپی کی ساری ذمہ داری پرنسپل سیکرٹری اعظم خان پر تھی،وکیل عمران خان

    سائفر کیس:اسد مجید اسٹار گواہ ہو سکتے تھے ابھی اسد مجید نے تو کچھ نہیں کہا کہ وہ اسٹار گواہ بن سکتا

    پاکستان کے بعد امریکی ایوان میں بھی سائفر بیانیہ کو جھوٹ کا پلندا کہ دیا،شیری رحمان

    انتخابات سے قبل تشدد کے واقعات پر خصوصاً تشویش رہی، ڈونلڈ لو

    ڈونلڈ لو کی کانگریس میں طلبی پر امریکی دفتر خارجہ کا ردعمل

    سائفر کیس،یہ آخری بات ہو گی کہ میں کہو ں ٹرائل جج کو ایک اور موقع دے دیں،وکیل عمران خان

    سائفر کیس،عمران خان کی اپیل پر سماعت ایک روز کے لئے ملتوی

    سائفر کیس،یہ کہتے تھے ضمانت کا حق نہیں ، سپریم کورٹ نے ضمانت بھی دی،سلمان صفدر

    سائفر کیس،عمران خان کی سزا کیخلاف اپیل پر سماعت،التوا کی درخواست مسترد

    سائفر کیس،عمران خان کی سزا کیخلاف اپیل قابل سماعت ہی نہیں، پراسیکیوٹر

  • سائفر کیس،سزا کیخلاف اپیل پر سماعت بدھ تک ملتوی

    سائفر کیس،سزا کیخلاف اپیل پر سماعت بدھ تک ملتوی

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی سائفر کیس میں سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سماعت کی، دوران سماعت عمران خان کے وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہماری 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں ضمانت کی درخواست پر سماعت نہیں ہوسکی جس پر چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ وہ پرسوں سماعت کےلیے مقرر کردیں گے، میری طبیعت ٹھیک نہیں تھی اس لیے ریگولر بینچ کی کازلسٹ منسوخ کی گئی، میں اس کیس کےلیے یہاں بیٹھا ہوں ورنہ بہتر محسوس نہیں کر رہا ہوں۔

    ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے اپیلوں پر دلائل کا آغاز کیا تو پی ٹی آئی وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ یہ کیس بہت طویل ہوگیا ہے، پراسیکیوٹر صاحب اب دلائل مکمل کرلیں اس پر پراسیکیوٹر حامد علی شاہ نے کہا کہ میرا ارادہ قطعی طور پر دلائل کو طوالت دینا نہیں ہے، سلمان صفدر نے رمضان کے مہینے میں بہت لمبے دلائل دیے، میں نے ان کے دلائل کا جواب تو دینا ہے، میرا تاخیر کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے،ایف آئی اے پراسیکیوٹر حامد علی شاہ نے اپنے دلائل شروع کرتے ہوئے کہا کہ سائفر ٹیلی گرام کو 6 مہینے کے بعد ضائع کردیا جاتا ہے، سائفر کی ہر کاپی پر کلاسیفائیڈ ہونے کی مہر لگی ہوتی ہے، ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے سائفر گائیڈ لائن کتابچہ عدالت کے سامنے پڑھا،

    ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا کہ سائفر دستاویز اگر ڈی کلاسیفائی بھی ہوجائے تو اس پر وہی طریقہ کار استعمال ہوگا، ڈی کلاسیفائی ہونے کے باوجود بھی دستاویز کو اسی طرح ضائع کیا جائے گا، 31 مارچ کی قومی سلامتی کمیٹی میٹنگ میں ڈی مارش کا فیصلہ کیا گیا، ڈی مارش کا ایکشن لینے کے فیصلے کے بعد موجودہ سائفر کا عمل مکمل ہوگیا، اس کے بعد اس سائفر کو دفتر خارجہ واپس بھیجنے کے علاوہ کوئی عمل باقی نہیں رہاعمران خان کے علاوہ تمام سائفر کاپیز دفتر خارجہ کو واپس بھجوا دی گئیں، دفتر خارجہ نے واپس آنے والی تمام کاپیز کو تلف کردیا، چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامر فاروق نے استفسار کیا کہ عدالت نے سوال کیا تھا کہ کیا ملزم کا دفاع وکیل کی عدم موجودگی میں ہوسکتا ہے؟وکیل کی عدم موجودگی میں ملزم کے بیان کی اہمیت کم تو نہیں ہوجائے گی؟ جس پر ایف آئی اے پراسیکیوٹر 342 کے دفاع کے بیان میں وکیل کی موجودگی کی کوئی ضرورت نہیں۔

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامر فاروق نے استفسار کیا کہ سائفر دستاویز دانستہ اور لاپرواہی سے گم کرنے کے دونوں الزامات پر سزا سنائی گئی، کیا یہ دونوں الزامات بیک وقت ہوسکتے ہیں؟ ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ مختلف اوقات کے اقدامات پر دونوں الزامات بیک وقت لگیں گے،سائفر سیکیورٹی کا مقصد یہی ہے کہ سائفر کو کسی غیر متعلقہ شخص کے پاس جانے سے روکا جائے، چند حالات کے علاوہ سائفر کو کمرے سے کہیں باہر نہیں لے جایا جاسکتا، سائفر کو کنٹینر میں رکھ کر غیر معمولی سیکیورٹی انتظامات کرنے ہوتے ہیں،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ کیا اعظم خان نے سائفر دستاویز موصول کرنے پر ریسیونگ دی تھی؟ جس پر ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا کہ اعظم خان نے خود نہیں بلکہ اسٹاف نے سائفر دستاویز موصول کی، اعظم خان نے بیان دیا کہ انہیں سائفر کاپی دی گئی اور وہ انہوں نے وزیراعظم کو دے دی، اس ڈاکومنٹ کو سابق وزیراعظم نے اپنے پاس رکھا جو وہ نہیں رکھ سکتے تھے، سابق وزیراعظم نے سائفر کی کاپی اپنے پاس رکھی اور وہ اس کی قانون کے مطابق حفاظت نہیں کرسکے

    اسپیشل پراسیکیوٹر حامد علی شاہ نے کہا کہ دلائل اس ہفتے میں مکمل کر لوں گا ،عدالت نے کہا کہ اگر ایک میں بریت ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں سب میں بریت ہے ، اگر ایک میں سزا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں سب میں سزا ہے ، سائفر کیس کی سماعت بدھ 8 مئی تک ملتوی کر دی گئی،

    سائفر کیس:اسد مجید اسٹار گواہ ہو سکتے تھے ابھی اسد مجید نے تو کچھ نہیں کہا کہ وہ اسٹار گواہ بن سکتا

    پاکستان کے بعد امریکی ایوان میں بھی سائفر بیانیہ کو جھوٹ کا پلندا کہ دیا،شیری رحمان

    انتخابات سے قبل تشدد کے واقعات پر خصوصاً تشویش رہی، ڈونلڈ لو

    ڈونلڈ لو کی کانگریس میں طلبی پر امریکی دفتر خارجہ کا ردعمل

    سائفر کیس،یہ آخری بات ہو گی کہ میں کہو ں ٹرائل جج کو ایک اور موقع دے دیں،وکیل عمران خان

    سائفر کیس،عمران خان کی اپیل پر سماعت ایک روز کے لئے ملتوی

    سائفر کیس،یہ کہتے تھے ضمانت کا حق نہیں ، سپریم کورٹ نے ضمانت بھی دی،سلمان صفدر

    سائفر کیس،عمران خان کی سزا کیخلاف اپیل پر سماعت،التوا کی درخواست مسترد

    سائفر کیس،عمران خان کی سزا کیخلاف اپیل قابل سماعت ہی نہیں، پراسیکیوٹر

    پی ٹی آئی کا خط، سائفر کے بعد ملک دشمنی کا ایک اور ثبوت ہے،شہباز شریف

  • سائفر کیس،اعظم خان نے مقدس کتاب ہاتھ میں رکھ کر بیان دیا تھا،ایف آئی اے پراسیکیوٹر

    سائفر کیس،اعظم خان نے مقدس کتاب ہاتھ میں رکھ کر بیان دیا تھا،ایف آئی اے پراسیکیوٹر

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی سزا کیخلاف اپیلوں پر سماعت ہوئی،

    عمران خان کے وکلا بیرسٹر سلمان صفدر، عثمان ریاض گل ،ایف آئی اے سپیشل پراسیکیوٹر حامد علی شاہ اور ذوالفقار عباس نقوی عدالت پیش ہوئے، عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان، پی ٹی آئی رہنما عامر مغل اور دیگر بھی اسلام آباد ہائیکورٹ میں موجود تھے،ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد ایاز شوکت بھی عدالت پیش ہوئے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل ڈویژن بنچ نے سماعت کی۔

    سلمان صفدر نے کہاکہ تجسس ہے حامد علی شاہ کب اپنے دلائل مکمل کریں گے،ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہاکہ دلائل کیلئے ایک دن لگے گا، پراسیکیوٹر حامد علی شاہ نے کہا کہ بیرسٹر سلمان صفدر نے خود 14 روز وقت لیا ہے،بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ حکومت جتنا وقت لے رہی ہے اتنا کیس کو سنبھالنا پڑ رہاہے۔ ایف آئی اے پراسیکیوٹر حامد علی شاہ نے عمران خان کا 342 کا بیان پڑھتے ہوئے کہاکہ ٹرائل کورٹ نے عمران خان سے پوچھا کہ آپ کیخلاف کیس کیوں بنا، عمران خان نے اس سوال کا جواب دیا،عدالت نے استفسار کیا کہ کیا عمران خان کا دفاع کا بیان وکیل کی عدم موجودگی میں ہوا؟کیا وکیل کی عدم موجودگی میں 342کے بیان کے کوئی اثرات ہوتے ہیں؟ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ اس نکتے پر تیاری کرکے آئیں اور عدالت کی معاونت کریں، کیا وکیل کی عدم موجودگی میں ملزم کے دفاع کے بیان کی اہمیت کم ہو جائے گی؟

    ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا کہ اعظم خان نے مقدس کتاب ہاتھ میں رکھ کر عدالت میں بیان دیا،اسلام آباد ہائیکورٹ کےچیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا وہ مقدس کتاب قرآن پاک ہی تھی؟ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہاکہ قرآن پاک ہاتھ میں رکھ کر دیئے گئے بیان کو ہلکا نہیں لیا جاسکتا،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ‏آفیشل سیکریٹ ایکٹ میں دستاویز گم جانے کی جو سزا ہے وہ کس دستاویز کی بات ہے یا کچھ نہیں لکھا ہوا ، ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا کہ دستاویز گم ہونے کو قابل احتساب ہونے کے ساتھ پڑھا جائے گا ،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ ‏کیا قابل احتساب دستاویز کو ہم کوڈ کہہ سکتے ہیں؟ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا کہ یہ تسلیم شدہ ہے عمران خان کے پاس سائفر تھا،دستاویزات کی چار اقسام ہیں،دستاویز گم ہونے کی صورت میں مقدمہ درج ہوگا، عدالت نے کہا کہ ان چاروں اقسام میں سے کوئی بھی دستاویز گم ہو جائے تو کیا جرم ہوگا؟ ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا کہ عمران خان نے اپنے ٹی وی انٹرویو میں خود مانا کہ سائفر ان سے گم ہو گیا، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ دفاع (342) کے بیان میں جو کہا وہی اصل ہے. انٹرویو میں کیا کہا اہمیت نہیں رکھتا،ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا کہ تسلیم شدہ ہے عمران خان کے پاس سائفر تھا،دستاویزات کی 4اقسام ہیں،عدالت نےاستفسار کیا کہ چاروں اقسام میں سے کوئی بھی دستاویزگم ہو جائے تو کیا جرم ہوگا؟ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہاکہ دستاویز گم ہونے کی صورت میں مقدمہ درج ہوگا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا بیرون ممالک سے آنیوالی تمام دستاویزات کانفیڈینشل ہوتی ہیں؟کوئی دستاویز قابل احتساب نہیں وہ گم جائے پھر تاخیر ہے؟وزیراعظم آفس میں تو روزانہ ایک ہزار چٹھیاں آتی ہوں گی،دانستہ نہیں لیکن ان میں سے کوئی ایک آدھ گم بھی ہو جاتی ہوگی، کیا ہم نے سائفر گائیڈ لائنز کا کتابچہ واپس کردیا ہے؟ایف آئی اےپراسیکیوٹر نے کہاکہ جی ہاں، آپ نےواپس کر دیا ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ یہ نہ ہو پھر ہمارے خلاف بھی ایف آئی آر ہو جائے،جو گائیڈ لائنز ہیں ان کو ہم کیا کہیں گے؟پراسیکیوٹر نے کہاکہ اس کو سکیورٹی آف سائفر گائیڈ لائنز کہتے ہیں جوکابینہ ڈویژن نے تیار کی ہیں،عدالت نے پراسیکیوٹر کو ہدایت کی کہ سائفر گائیڈ لائنز کا کتابچہ سلمان صفدر کو دےدیں۔

    پراسیکیوٹر نے کہاکہ قانون کہتا ہے سائفر گم یا چوری ہونے پروزارت خارجہ اور آئی بی کو آگاہ کرنا ہوتا ہے،سائفر کی 9کاپیوں میں سے ایک کاپی وزیراعظم ہاؤس سے واپس نہیں آئی،باقی 8 کاپیوں کو ضائع کردیا گیا،ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے وزارت خارجہ رپورٹ عدالت میں پیش کردی،سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی اپیلوں پر سماعت 6مئی تک ملتوی کردی گئی

    سائفر کیس:اسد مجید اسٹار گواہ ہو سکتے تھے ابھی اسد مجید نے تو کچھ نہیں کہا کہ وہ اسٹار گواہ بن سکتا

    پاکستان کے بعد امریکی ایوان میں بھی سائفر بیانیہ کو جھوٹ کا پلندا کہ دیا،شیری رحمان

    انتخابات سے قبل تشدد کے واقعات پر خصوصاً تشویش رہی، ڈونلڈ لو

    ڈونلڈ لو کی کانگریس میں طلبی پر امریکی دفتر خارجہ کا ردعمل

    سائفر کیس،یہ آخری بات ہو گی کہ میں کہو ں ٹرائل جج کو ایک اور موقع دے دیں،وکیل عمران خان

    سائفر کیس،عمران خان کی اپیل پر سماعت ایک روز کے لئے ملتوی

    سائفر کیس،یہ کہتے تھے ضمانت کا حق نہیں ، سپریم کورٹ نے ضمانت بھی دی،سلمان صفدر

    سائفر کیس،عمران خان کی سزا کیخلاف اپیل پر سماعت،التوا کی درخواست مسترد

    سائفر کیس،عمران خان کی سزا کیخلاف اپیل قابل سماعت ہی نہیں، پراسیکیوٹر

    پی ٹی آئی کا خط، سائفر کے بعد ملک دشمنی کا ایک اور ثبوت ہے،شہباز شریف

  • اعظم خان نے اعتراف کیا  سائفر کی کاپی وزیراعظم نے واپس نہیں کی، ایف آئی اے پراسیکیوٹر

    اعظم خان نے اعتراف کیا سائفر کی کاپی وزیراعظم نے واپس نہیں کی، ایف آئی اے پراسیکیوٹر

    اسلام آباد ہائیکورٹ: بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کا سائفر کیس میں اپیلوں پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے اپیلوں پر سماعت کی،ایف آئی اے پراسیکیوٹر حامد علی شاہ نے اپنے دلائل کا آغاز کردیا،ایف آئی اے پراسیکیوٹر حامد علی شاہ نےبانی پی ٹی آئی پر چارج فریم عدالت کے سامنے پڑھے اور کہا کہ ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا کہ میں عدالت کو آگاہ کرنے کی کوشش کررہا ہوں کہ سائفر کاپی کیسے اور کس کس جگہ گیا اور کس کس آدمی نے کیا کہا،میں نے عدالت کے سامنے تمام گواہان کے بیانات نہیں پڑھنے .میں آج یہ بتاؤں گا کہ سائفر کی کاپی بانی پی ٹی آئی تک کیسے پہنچا ، بانی پی ٹی آئی نے سائفر کی کاپی وزرات خارجہ کو واپس نہیں کی،بانی پی ٹی آئی نے سائفر کی کاپی اپنے پاس رکھ لی جو ان کو واپس کرنی تھی ، محمد نعمان نے سائفر ٹیلی گرام 8 مارچ کی صبح وصول کیا تھا

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ایف آئی اے پراسیکیوٹر سے کہا ہے کہ آپ سائفر موومنٹ سے متعلق جو کچھ آپ بتا رہے ہیں وہ ہمیں لکھنی پڑ رہی ہیں، آپ لیپ ٹاپ سے پڑھ رہے ہیں لیکن ہمیں لکھنی پڑ رہی ہیں، آپ یہ چیزیں تحریری طور پر ہمیں دیدیں، ہم سے لکھنے میں کچھ رہ نہ جائے،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ تمام چیزیں میں پہلے عدالت میں بیان کر چکا ہوں،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ایف آئی اے پراسیکیوٹر حامد علی شاہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اب آئیں نا ذرا ہمیں یہ بتائیں کہ سائفر دستاویز اعظم خان تک کیسے پہنچا؟ ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا کہ اعظم خان نے اعتراف کیا کہ اُن کے سٹاف نے انہیں وزیراعظم کی کاپی دی اور وزیراعظم نے سائفر کاپی اپنے پاس رکھ لی اور واپس نہیں کی،اعظم خان نے بیان میں کہا کہ عمران خان نے جب سائفر کاپی پڑھی تو پُرجوش ہو گئے، وزیراعظم نے سائفر کاپی پڑھنے کیلئے اپنے پاس رکھ لی، کچھ دن بعد واپس مانگنے پر انہوں نے کہا کہ سائفر کاپی گم ہو گئی، سٹاف اور ملٹری سیکرٹری کو ڈھونڈنے کا کہا ہے،

    دوران سماعت جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ اسکو سائفر کہہ رہے ہیں، ہمارے لیے سپریم کورٹ نے معاملہ آسان کردیا ہے کہ یہ سائفر تھا ہی نہیں جسکو آپ معمہ بنا رہے ہیں، سائفر تو کوڈڈ لینگویج میں ہوتا ہے ، یہ تو ٹرانسلیشن ہے جس کی کاپی عمران خان کو دی گئی تھی.

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سائفر کاپی اعظم خان تک آ گئی تو وزیراعظم کو بھی دی گئی ہوگی، عمران خان نے کبھی سائفر کاپی موصول کرنے سے انکار نہیں کیا، کیا سائفر کاپی اعظم خان سے وزیراعظم کو جانے کی بھی کوئی شہادت موجود ہے؟ ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا کہ نہیں، اعظم خان کا بیان ہے، اُسکی کوئی شہادت نہیں ہوتی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ اعظم خان نے سائفر دستاویز وزیراعظم کو دیا ہو گا اگر دستاویز دیا گیا ہے تو ہی ڈی مارش کا فیصلہ کیا گیا، وزیراعظم کے سیکرٹری نے تو ڈی مارش کا فیصلہ نہیں کیا ہو گا، ہمیں کیسے معلوم ہو کہ وزیراعظم نے سائفر واپس نہیں کیا ہو گا؟

    سائفر کیس:اسد مجید اسٹار گواہ ہو سکتے تھے ابھی اسد مجید نے تو کچھ نہیں کہا کہ وہ اسٹار گواہ بن سکتا

    پاکستان کے بعد امریکی ایوان میں بھی سائفر بیانیہ کو جھوٹ کا پلندا کہ دیا،شیری رحمان

    انتخابات سے قبل تشدد کے واقعات پر خصوصاً تشویش رہی، ڈونلڈ لو

    ڈونلڈ لو کی کانگریس میں طلبی پر امریکی دفتر خارجہ کا ردعمل

    سائفر کیس،یہ آخری بات ہو گی کہ میں کہو ں ٹرائل جج کو ایک اور موقع دے دیں،وکیل عمران خان

    سائفر کیس،عمران خان کی اپیل پر سماعت ایک روز کے لئے ملتوی

    سائفر کیس،یہ کہتے تھے ضمانت کا حق نہیں ، سپریم کورٹ نے ضمانت بھی دی،سلمان صفدر

    سائفر کیس،عمران خان کی سزا کیخلاف اپیل پر سماعت،التوا کی درخواست مسترد

    سائفر کیس،عمران خان کی سزا کیخلاف اپیل قابل سماعت ہی نہیں، پراسیکیوٹر

    پی ٹی آئی کا خط، سائفر کے بعد ملک دشمنی کا ایک اور ثبوت ہے،شہباز شریف

  • سائفر کیس،ڈاکومنٹ کی کاپی عدالتی ریکارڈ میں پیش نہیں کی گئی،عدالت

    سائفر کیس،ڈاکومنٹ کی کاپی عدالتی ریکارڈ میں پیش نہیں کی گئی،عدالت

    اسلام آباد ہائیکورٹ، سائفر کیس میں عمران خان کی سزا کیخلاف اپیل پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں بینچ نے سماعت کی،دوران سماعت جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں وہ یہ کہہ رہا ہے یہ وہ کہہ رہا ہے اُسے مان لیں لیکن ڈاکومنٹ تو ریکارڈ پر ہی نہیں،یہ تو ایسے ہی ہو گیا کہ قتل ہو گیا، سینے میں کلہاڑی مار دی، گولی مار دی،ڈیڈ باڈی سامنے پڑی ہے لیکن وہ نہیں دکھانی، یہ کہنا ہے کہ فلاں کہہ رہا ہے فلاں کہہ رہا ہے،آپ کہہ رہے ہیں کہ عمران خان نے یہ پبلک کر دیا وہ کر دیا کیا پبلک کیا ہے؟

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ڈاکومنٹ کی کاپی عدالتی ریکارڈ میں پیش نہیں کی گئی، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نےکہا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ دستاویز سے متعلق اِس گواہ نے یہ کہہ دیا اُس گواہ نے وہ کہہ دیا، اسپیشل پراسیکیوٹر ایف آئی اے نے کہا کہ میں ابھی آگے چل کر اس متعلق دلائل دوں گا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اس ڈاکومنٹ کو ہم تو نہیں جانتے نہ ہی عدالتی ریکارڈ پر ہے، ایف آئی اے پراسیکیوٹر حامد علی شاہ کیا مواد پبلک ہوا میں اس متعلق دلائل نہیں دے رہا بعد میں دوں گا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ قابلِ احتساب دستاویز کا کیا مطلب ہے؟سائفر گائیڈلائنز کا کتابچہ کب کا ہے؟ پراسیکیوٹر ایف آئی اے نےکہا کہ 2003 میں اس کتابچے میں ترمیم کی گئی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا یہ گائیڈلائنز کتابچہ 1947 سے پہلے کا ہے یا بعد کا؟ پراسیکیوٹر نے کہا کہ گائیڈلائنز بُک کی اکثر شقیں تقسیم سے پہلے کی ہیں، 1964 اور 2003 میں ترامیم ہوئیں،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تو یہ باآسانی کہا جا سکتا ہے کہ گائیڈلائنز پاکستان بننے سے پہلے کی ہیں،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ سائفر پاکستانی سفیر اسد مجید نے وزرات خارجہ کو بھیجا تھا ، اس کیس میں چار چیزوں کو عدالت نے دیکھنا ہے، سائفر کی کاپی ملزمان کے پاس پہنچی تھی یا نہیں ؟ ڈاکومنٹ ملزمان کے پاس فزیکل فارم میں موصول ہوا تھا یا نہیں ؟آپ نے ابھی کہا سائفر کا متن پبلک کر دیا گیا وہ ڈاکومنٹ کہاں ہے جو پبلک ہوا ؟ ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا کہ میں آگے چل کر عدالت کو اس سے متعلق بتاؤں گا ،

    سائفر کیس:اسد مجید اسٹار گواہ ہو سکتے تھے ابھی اسد مجید نے تو کچھ نہیں کہا کہ وہ اسٹار گواہ بن سکتا

    پاکستان کے بعد امریکی ایوان میں بھی سائفر بیانیہ کو جھوٹ کا پلندا کہ دیا،شیری رحمان

    انتخابات سے قبل تشدد کے واقعات پر خصوصاً تشویش رہی، ڈونلڈ لو

    ڈونلڈ لو کی کانگریس میں طلبی پر امریکی دفتر خارجہ کا ردعمل

    سائفر کیس،یہ آخری بات ہو گی کہ میں کہو ں ٹرائل جج کو ایک اور موقع دے دیں،وکیل عمران خان

    سائفر کیس،عمران خان کی اپیل پر سماعت ایک روز کے لئے ملتوی

    سائفر کیس،یہ کہتے تھے ضمانت کا حق نہیں ، سپریم کورٹ نے ضمانت بھی دی،سلمان صفدر

    سائفر کیس،عمران خان کی سزا کیخلاف اپیل پر سماعت،التوا کی درخواست مسترد

    سائفر کیس،عمران خان کی سزا کیخلاف اپیل قابل سماعت ہی نہیں، پراسیکیوٹر

    پی ٹی آئی کا خط، سائفر کے بعد ملک دشمنی کا ایک اور ثبوت ہے،شہباز شریف

  • سائفر کیس، عمران خان، قریشی کو سزا سنانے والے جج بارے اہم فیصلہ

    سائفر کیس، عمران خان، قریشی کو سزا سنانے والے جج بارے اہم فیصلہ

    سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو سزا سنانے والے خصوصی عدالت کے جج بارے اہم فیصلہ کر لیا گیا ہے

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے جج ابوالحسنات ذوالقرنین کو اپنے متعلقہ ڈیپارٹمنٹ میں واپس بھیجنےکا فیصلہ کیا ہے،میڈیا رپورٹس کے مطابق ذرائع کا کہنا ہےکہ خصوصی عدالتوں کے انسپکشن جج جسٹس محسن اختر کیانی نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کو اس ضمن میں سفارش کردی ہے،انسپکشن جج جسٹس محسن اختر کیانی نے سفارش کی ہے کہ جج ابوالحسنات ذوالقرنین کی خدمات لاہور ہائی کورٹ کو واپس کی جائیں

    جج ابوالحسنات ذوالقرنین کو خصوصی عدالت کا جج تعینات کیا گیا تھا، اڈیالہ جیل میں کیس کی سماعت ہوئی تھی اور سائفر کس میں جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے عمران خان اور شاہ محمو د قریشی کو سزا سنائی تھی، سائفر کیس میں سزا کیخلاف اپیل اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا کسی بھی مداخلت پر ادارہ جاتی رسپانس دینے کا فیصلہ
    دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ نے کسی بھی مداخلت پر ادارہ جاتی رسپانس دینے کا فیصلہ کیا ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں اسلام آباد ہائیکورٹ کا فل کورٹ اجلاس ہوا جس میں جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس طارق جہانگیری، جسٹس بابر ستار، جسٹس اعجاز اسحاق، جسٹس ارباب طاہر اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز شریک تھے،اجلاس میں خط پر دستخط نہ کرنے والے جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب بھی شریک ہوئے ،عدلیہ میں حساس ادارے کی مداخلت روکنے کے حوالے سے تجاویز پر غور کیا گیا، اسلام آباد ہائیکورٹ کا فل کورٹ اجلاس خوشگوار ماحول میں ہوا،تاہم اب 6 ججز کے خط کے معاملے پراسلام آباد ہائیکورٹ کے فل کورٹ اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آئی ہے، میڈیا رپورٹس کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ نے کسی بھی مداخلت پر ادارہ جاتی رسپانس دینے کا فیصلہ کرلیا اور تمام ججز نے عدالتی امور میں مداخلت پر ردعمل دینے کا متفقہ فیصلہ کیا، فل کورٹ اجلاس میں سامنے آنے والی تجاویز کو ڈرافٹ کی شکل دی جائے گی اور اسلام آباد ہائیکورٹ متفقہ تجاویز سپریم کورٹ کو بھیجے گی،ل کورٹ اجلاس میں تجاویز پر کوئی اختلاف سامنے نہیں آیا، تجاویز کا ڈرافٹ تیار کرکے مقررہ تاریخ سے پہلے سپریم کورٹ کو بھجوایا جائے گا،

    8 ججز کو پاؤڈر والے دھمکی آمیز خط،شیر افضل مروت نے الزام ن لیگ پر لگا دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کو دھمکی آمیز خطوط بھیجنے کا مقدمہ درج

    اسلام آباد ہائیکورٹ ججز کے خط کے بعد نئی صورت حال سامنے آگئی

    عمران خان کو رہا، عوامی مینڈیٹ کی قدر کی جائے،عارف علوی کا وکلا کنونشن سے خطاب

    جماعت اسلامی نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کے لیے بنائے گئے انکوائری کمیشن کو مسترد کر دیا۔

    ججز خط کی انکوائری، سپریم کورٹ بار کا تصدق جیلانی کو کمیشن کا سربراہ مقرر کرنے کا اقدام خوش آئند قرار

    ججز کا خط، سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی انکوائری کمیشن کے سربراہ مقرر

    ہائیکورٹ کے 6 ججز نے جو بہادری دکھائی ہیں یہ قوم کے ہیرو ہیں،اسد قیصر

    لاہور ہائیکورٹ کے ججز کو بھی مشکوک خط موصول

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے 6 ججوں نے عدالتی کیسز میں خفیہ ایجنسیوں کی مداخلت پر سپریم جوڈیشل کونسل کو خط لکھ دیا ہے جس میں عدالتی معاملات میں انتظامیہ اور خفیہ اداروں کی مداخلت پر مدد مانگی گئی ہے۔ہائی کورٹ کے ججوں کی جانب سے لکھے گئے خط کی کاپی سپریم کورٹ کے تمام ججوں کو بھی بھجوائی گئی ہے۔ خط میں عدالتی امور میں ایگزیکٹو اور ایجنسیوں کی مداخلت کا ذکر کیا گیا ہے۔ہائی کورٹ کے ججوں نے سپریم جوڈیشل کونسل کو لکھے گئے خط میں مطالبہ کیا ہے کہ عدلیہ میں خفیہ اداروں کی مداخلت اور ججز پر اثرانداز ہونے کے معاملے پر جوڈیشل کنونشن بلایا جائے۔سپریم جوڈیشل کونسل کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6 ججوں نے خط ارسال کیا ہے۔ خط لکھنے والوں میں جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس طارق محمود جہانگیری، جسٹس بابر ستار، جسٹس سردار اعجاز اسحاق، جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز شامل ہیں۔خط کے متن کے مطابق ’عدالتی امور میں مداخلت پر ایک عدلیہ کا کنونشن طلب کیا جائے جس سے دیگر عدالتوں میں ایجنسیوں کی مداخلت کے بارے میں بھی معلومات سامنے آئیں گی۔ خط میں کہا گیا ہے کہ عدلیہ کے کنونشن سے عدلیہ کی آزادی کے بارے میں مزید معاونت حاصل ہو گی۔

  • سائفر کی کاپی کی ساری ذمہ داری پرنسپل سیکرٹری اعظم خان پر تھی،وکیل عمران خان

    سائفر کی کاپی کی ساری ذمہ داری پرنسپل سیکرٹری اعظم خان پر تھی،وکیل عمران خان

    اسلام آباد ہائیکورٹ: سائفر کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی اپیلوں پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے اپیلوں پر سماعت کی،بانی پی ٹی آئی کی جانب سے بیرسٹر سلمان صفدر و دیگر عدالت پیش ہوئے،بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی فیملی اور پارٹی قیادت کمرہ عدالت موجود تھی.بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ سائفر اعظم خان کی کسٹڈی میں تھا ، اعظم خان نے سائفر وصول کیا ، کہا گیا ہے پرنسپل سیکرٹری کو جاری کی گئی سائفر کاپی واپس نہیں آئی ،سائفر کی کاپی کی ساری ذمہ داری پرنسپل سیکرٹری اعظم خان پر تھی،اعظم کی خان کی بنیادی ڈیوٹی تھی کہ وہ کاپی کی حفاظت کرتے ،ریکارڈ پر ایسا کچھ نہیں سائفر کاپی اس وقت کے وزیراعظم کے حوالے کی گئی بلکہ کاپی اعظم خان کے حوالے کی گئی تھی ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ آفیشل موؤمنٹ میں اعظم خان کو ملی چیز، وزیر اعظم کی ذمہ داری سمجھی جائے گی یا نہیں ، سلمان صفدر نے کہا کہ اعظم خان نے اگر وصول کی تھی تو واپس کرنے کی ذمہ داری بھی اسی کی تھی ، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا اعظم خان نے کاپی آپ کو دی ؟ آپ کی پوزیشن کیا ہے ؟ سلمان صفدر نے کہا کہ سائفر دیا گیا یا نہیں ؟ وزیر اعظم نے لیا یا نہیں ؟ یہ پراسیکوشن کے ثبوت میں نہیں آیا ، میرے پوزیشن یہ ہے کہ سائفر کاپی وزیر اعظم آفس سے گم ہو گئی یہی بات اعظم خان نے کی ،جب سائفر کاپی نہیں ملتی تو وزرات خارجہ کو آگاہ کیا جاتا ہے ، سرکار کے اپنے 4 گواہ ہیں جو کہتے ہیں کہ سائفر کی کاپی اعظم خان کو دی گئی،جب سائفر کاپی وزیراعظم کو سپرد ہوئی ہی نہیں تو جس کے سُپرد ہوئی اس کو آپ نے گواہ بنا دیا تو آپ بھگتیں،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ وزیراعظم یا اس طرح کی پوزیشن پر کوئی ڈاکومنٹ سیکرٹری کی پوزیشن میں ہو تو کیا ہو گا ؟اعظم خان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے کاپی وزیراعظم کو دے دی تھی واپس نہیں آئی ، اسپیشل پراسیکیوٹر حامد علی شاہ نے کہا کہ 9 مارچ کو سائفر کاپی وزیر اعظم کو ڈیلیور ہوئی ،بیرسٹر سلمان صفدر نے دلائل میں کہا کہ آج تک یہی پوزیشن رہی ہے یہ کہتے رہے ہیں آپ یہ کتاب نہیں دیکھ سکتے ، میکانزم کے مطابق اگر سائفر گم ہو جائے وزارتِ خارجہ کو رپورٹ کرنا ضروری ہے جو 28 مارچ کو ہوا ، میکانزم کے مطابق محکمانہ انکوائری وزارت خارجہ کے اعلی افسران نے کرنی ہے جو نہیں ہوئی ، وزارت خارجہ کی جانب سے کوئی ریمائنڈر نہیں آیا جو آنا چاہیے تھا،28 مارچ کو وزارت خارجہ کو وزیراعظم آفس نے بتا دیا تھا ، وزارت خارجہ نے فوری آئی بی کو مطلع کرنا تھا جو نہیں کیا گیا۔

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ عمران خان کا کیس کیا ہے کہ اعظم خان نے سائفر دیا نہیں یا انہوں نے اپنے پاس نہیں رکھا؟ ہم سمجھنا چاہتے ہیں کہ آپکی اس معاملے پر پوزیشن کیا ہے،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ عمران خان نے سائفر لے کر پڑھا لیکن واپس یا گُم کرنے سے متعلق شہادت میں کچھ نہیں آیا، عدالت نے استفسار کیا کہ ہم یہ جاننا چاہ رہے ہیں کہ اس متعلق آپکا موقف کیا ہے، اعظم خان تو اپنے بیان میں کہتا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے سائفر کاپی گُم ہوئی،وکیل عمران خان نے کہا کہ ہمارا موقف یہ ہے کہ سائفر کاپی وزیراعظم آفس کی جانب سے گُم ہوئی اور اس متعلق وزارتِ خارجہ کو آگاہ کر دیا گیا، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ عمران خان پر سائفر کاپی جان بوجھ کر اور کوتاہی سے گُم کرنے کے دونوں چارج ایک وقت میں نہیں ہو سکتے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ہاں، اِن دونوں میں سے ایک ہی چارج ہونا چاہیے تھا، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ سائفر کیس کے چارج کو دیکھا جائے تو اعظم خان کو کیوں ملزم نہیں بنایا ، سلمان صفدر نے کہا کہ یہی تو میرا کیس ہے یہاں ملزم کو ہی گواہ بنا دیا گیا ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئےکہا کہ اگر سائفر کی دستاویزات گم ہوجائے تو اس کے لیے دفتر خارجہ کا میکنزم موجود ہے کہ وہ آئی بی وغیرہ سے انکوائری کروائیں ،لیکن اگر دستاویزات گم بھی ہو جائے تو یہ ایک مجرمانہ غفلت نہیں

    سائفر کیس، سزا کیخلاف اپیل پر سماعت کل تک ملتوی،پراسیکیوشن کو تین چار دینے کی استدعا مسترد
    سائفر کیس،عمران خان کے وکیل کے دلائل مکمل ہو گئے،پراسیکیویشن نے تیاری کے لیے تین چار دن مانگ لیے ،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ ہم سزا معطل کر دیتے ہیں ،پھر آپ ایک ماہ لے لیں،تین چار دن دینے کی استدعا مسترد کر دی گئی، عدالت نے کل سے دلائل دینے کا حکم دے دیا،سائفر کیس کی سماعت کل دوبارہ ہو گی،

    سائفر کیس:اسد مجید اسٹار گواہ ہو سکتے تھے ابھی اسد مجید نے تو کچھ نہیں کہا کہ وہ اسٹار گواہ بن سکتا

    پاکستان کے بعد امریکی ایوان میں بھی سائفر بیانیہ کو جھوٹ کا پلندا کہ دیا،شیری رحمان

    انتخابات سے قبل تشدد کے واقعات پر خصوصاً تشویش رہی، ڈونلڈ لو

    ڈونلڈ لو کی کانگریس میں طلبی پر امریکی دفتر خارجہ کا ردعمل

    سائفر کیس،یہ آخری بات ہو گی کہ میں کہو ں ٹرائل جج کو ایک اور موقع دے دیں،وکیل عمران خان

    سائفر کیس،عمران خان کی اپیل پر سماعت ایک روز کے لئے ملتوی

    سائفر کیس،یہ کہتے تھے ضمانت کا حق نہیں ، سپریم کورٹ نے ضمانت بھی دی،سلمان صفدر

    سائفر کیس،عمران خان کی سزا کیخلاف اپیل پر سماعت،التوا کی درخواست مسترد

    سائفر کیس،عمران خان کی سزا کیخلاف اپیل قابل سماعت ہی نہیں، پراسیکیوٹر

    پی ٹی آئی کا خط، سائفر کے بعد ملک دشمنی کا ایک اور ثبوت ہے،شہباز شریف

  • سائفر کیس،عید سے پہلے سزا معطلی کی استدعا،عدالت نے بھی فیصلہ سنا دیا

    سائفر کیس،عید سے پہلے سزا معطلی کی استدعا،عدالت نے بھی فیصلہ سنا دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ،عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی سائفر کیس میں سزا کالعدم قرار دے کر بری کرنے کی اپیلوں پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کےچیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سماعت کی،عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے دلائل کا آغاز کر دیا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ سلمان صفدر صاحب، ایک مختصر کا حصہ رہ گیا ہے جس پر آپ نے اپنے دلائل دینے ہیں، ہم نے گزشتہ روز چارجز سے متعلق آپ سے کچھ چیزوں پر معاونت طلب کی تھی،سلمان صفدر نے کہا کہ میری بحثیت وکیل زمہ داری ہوگی کہ ہر اینگل آپ کے سامنے رکھ سکوں، ویسے تو ایک وکیل جب ہاتھی نکال لیتا ہے تو ججز کہتے ہیں دم کی پرواہ نہ کرو، ہم وکلاء نے رمضان میں اتنی محنت سے دلائل دیے ہیں تو کسی ایک فریق کو عید سے پہلے عیدی مل جانی چاہیے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے قانونی تقاضے پورے کرنے ہیں، پراسیکیوشن کو بھی سننا ہے، عید ہونے یا نہ ہونے کا اس میں کوئی معاملہ نہیں ہے،بیرسٹر سلمان صفدر نے سائفر کیس میں سزا معطلی کی استدعا کی جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ابھی سزا معطل کرکے کیا کرنا، ابھی مرکزی اپیلوں پر فیصلہ کریں گے،سلمان صفدر نے کہا کہ عمومی طور پر جب کوئی وکیل ہاتھی نکال دے تو دم نکالنے کی ضرورت نہیں ہوتی ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ لیکن آپ پر یہ سیکشنز لگی ہوئیں ہیں آپ نے اس حوالے سے عدالت کی معاونت کرنی ہے ، سلمان صفدر نے کہا کہ رمضان میں جب آپ کام کرتے ہیں تو عید سے پہلے عیدی ملنے کا تقاضا ہوتا ہے ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ حامد علی شاہ صاحب دلائل کے لیے جتنا وقت چاہییں گے ہم انہیں دیں گے ،عید ہونے نا ہونے کا اس میں کوئی معاملہ نہیں ہم نے قانونی تقاضے پورے کرنے ہیں،

    سلمان صفدر نے کہا کہ آج میں اپنے تمام دلائل قسط وار تقریبآ پندرہ منٹ میں مکمل کرونگا، ایک دستاویز کے حوالے بات ہورہی مگر وہ دستاویز فائل میں ہی موجود نہیں،ایک میرے پاس الزام آیا کہ سائفر کو ٹویسٹ کیا اور واپس بھی نہیں کیا، ایک اور الزام ہے کہ آفیشل سیکریٹ ایکٹ کو پبلک کیا،الزام یہ بھی ہے کہ سائفر پبلک کرنے سے سیکورٹی سسٹم نقصان پہنچایا گیا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ آپ کے کہنے کا مطلب ہے کہ سیکشن فائیو ون اے یا بی میں کسی ایک میں سزا ہونی تھی ، سلمان صفدر نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ کونسے شواہد کا سہارا لیکر سزا سنائی گئی؟ وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ عمران خان کو سائفر کاپی لاپرواہی اور جان بوجھ کر گم کرنے دونوں شقوں کے تحت سزا سنا دی گئی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دونوں میں تو بیک وقت سزا ہو ہی نہیں سکتی، لاپرواہی یا جان بوجھ کر دونوں میں سے کسی ایک میں ہی ہو گی، اگر سائفر کاپی گم کرنے کا الزام ثابت بھی ہو جاتا ہے پھر بھی دو سال زیادہ سزا ہے، اس الزام پر تو زیادہ سے زیادہ دو سال سزا ہو سکتی ہے،عدالت نے استفسار کیا کہ سائفر ڈی کوڈ ہوا، کاپیاں آٹھ لوگوں کو گئی، مگر مقدمہ دو افراد کے خلاف بنایا گیا؟ کہا گیا کہ اس وقت کے وزیراعظم نے سائفر کاپی گما دی؟ ایک چیز بتا دیں، اعظم خان کے بیان کی کیا اہمیت ہے، جب سیکرٹری کے پاس جو چیز آجاتی ہے تو آگے جو موومنٹ ہوتی ہے وہ آفیشل ہوتی ہے ؟ سلمان صفدر نے کہا کہ جج صاحب نے کہا یہ اوپن اینڈ شٹ کیس ہے، اعظم خان نے بیان دیا کہ سائفر ٹیلی گرام کو ٹویسٹ کیا،میں پانچ صفحات دکھاؤں گا جہاں پراسکیوشن کے چار گواہ ہیں ، یہ گواہ کہتے ہیں کہ سائفر کی کاپی اعظم خان کے پاس آئی ،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اس سے آگے چلیں یہ تو اعظم خان خود مانتے ہیں کہ انہیں کاپی آئی اور وہ انہوں نے آگے وزیر اعظم کو دی،سائفر ڈی کوڈ ہوا، آٹھ کاپیاں تیار ہو کر مختلف لوگوں کو گئیں، وزیراعظم کا سیکرٹری کہتا ہے کہ میں نے وہ بانی پی ٹی آئی کو دے دی تھی،سیکرٹری کہتا ہے کہ بعد میں جب وہ کاپی دوبارہ مانگی تو گم ہو چکی تھی،

    وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ جب عمران خان کی سائفر کاپی واپس نہیں آئی تو سات ماہ کے بعد ہی نوٹس کیوں دے دیا گیا؟ عمومی طور پر تو سائفر ایک سال تک کے عرصہ میں واپس آتا ہے، مگر یہاں سائفر کاپی واپس کرنے کے لیے ایک سال کی مدت پوری ہونے سے قبل ہی کریمنل کیس بنا دیا گیا،ہم ایک ایک لفظ سے کیس کو توڑیں گے، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ سائفر کاپی عمران خان کو سپردگی کا واحد گواہ اعظم خان ہے؟،اعظم خان کا بیان نکال دیں تو تو سپردگی کا کوئی گواہ نہیں، کس قانون میں ہے کہ سائفر ایک سال کے اندر واپس کرنا ہوتا ہے؟ سلمان صفدر نے کہا کہ پراسیکیوشن کا یہ کیس ہے، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ اگر یہ ایک سال ہے تو ایک سال خصوصی طور پر لکھا جانا چاہیے،

    وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ سائفر کی ورکنگ سے متعلق بُک موجود ہے، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ وہ بُک کونسی ہے؟سلمان صفدر نے کہا کہ وہ سیکرٹ ہے، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ ہم کہہ رہے ہیں نا، آپ نام بتائیں،سلمان صفدر نےکہا کہ سیکیورٹی آف کلاسیفائیڈ میٹرزاِن گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹ بُک ہے، ایف آئی اے پراسیکیوٹر حامد علی شاہ نے کہا کہ یہ ٹاپ سیکرٹ ہے،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ کیا یہ کاپی جج کے پاس تھی؟ سلمان صفدر نے کہا کہ نہیں، جج کے پاس بھی نہیں تھی اور ہمیں بھی دکھانے نہیں دی گئی، چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اس کے کچھ سیکشنز تو ہم نے ضمانت کے فیصلے میں بھی لکھے ہیں،

    سائفر کیس:اسد مجید اسٹار گواہ ہو سکتے تھے ابھی اسد مجید نے تو کچھ نہیں کہا کہ وہ اسٹار گواہ بن سکتا

    پاکستان کے بعد امریکی ایوان میں بھی سائفر بیانیہ کو جھوٹ کا پلندا کہ دیا،شیری رحمان

    انتخابات سے قبل تشدد کے واقعات پر خصوصاً تشویش رہی، ڈونلڈ لو

    ڈونلڈ لو کی کانگریس میں طلبی پر امریکی دفتر خارجہ کا ردعمل

    سائفر کیس،یہ آخری بات ہو گی کہ میں کہو ں ٹرائل جج کو ایک اور موقع دے دیں،وکیل عمران خان

    سائفر کیس،عمران خان کی اپیل پر سماعت ایک روز کے لئے ملتوی

    سائفر کیس،یہ کہتے تھے ضمانت کا حق نہیں ، سپریم کورٹ نے ضمانت بھی دی،سلمان صفدر

    سائفر کیس،عمران خان کی سزا کیخلاف اپیل پر سماعت،التوا کی درخواست مسترد

    سائفر کیس،عمران خان کی سزا کیخلاف اپیل قابل سماعت ہی نہیں، پراسیکیوٹر

    پی ٹی آئی کا خط، سائفر کے بعد ملک دشمنی کا ایک اور ثبوت ہے،شہباز شریف