Baaghi TV

Tag: سائفر کیس

  • کسی ایک ملزم کی حد تک جیل ٹرائل کا آرڈر ہونا کافی نہیں؟عدالت

    کسی ایک ملزم کی حد تک جیل ٹرائل کا آرڈر ہونا کافی نہیں؟عدالت

    اسلام آبادہائیکورٹ میں سائفر کیس میں جیل ٹرائل کے خلاف تحریک انصا ف کے رہنما شاہ محمود قریشی کی درخواست پر سماعت ہوئی،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے سماعت کی ، شاہ محمود قریشی کی جانب سے علی بخاری ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ ایک سے زیادہ ملزم ہوں تو کسی ایک ملزم کی حد تک جیل ٹرائل کا آرڈر ہونا کافی نہیں؟ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہاکہ ایک نیا نوٹیفکیشن بھی ہو گیا ہے 13اکتوبر کو جیل ٹرائل کا،وہ پراسیکیوٹر نے دائر کرنا تھا مگر وہ ابھی ٹرائل کیلئے گئے ہیں،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے علی بخاری سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے 13اکتوبر والا نوٹیفکیشن دیکھا ہے؟

    علی بخاری نے عدالت میں کہاکہ شاہ محمود قریشی کیخلاف3سے 13تاریخ تک کی تمام عدالتی کارروائی غیرقانونی ہے، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ فرض کریں نیا نوٹیفکیشن نہیں ہواجس میں چیئرمین پی ٹی آئی اور دیگر لکھا گیا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا اس صورت میں دوملزمان کے دوالگ ٹرائل ہوں گے؟

    قبل ازیں عمران خان نے بھی ایسی ہی ایک درخواست دائر کی تھی کہ انکا ٹرائل جیل کی بجائے عدالت میں کیا جائے تا ہم تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو سائفر کیس میں جیل سماعت کے خلاف درخواست میں اسلام آباد ہائیکورٹ سے ریلیف نا مل سکا ،اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کی درخواست مسترد کر دی، عدالت نے محفوظ فیصلہ سنا دیا،سائفر کیس کی سماعت کل جیل میں ہی ہو گی عدالت نے فیصلے میں کہا کہ جیل ٹرائل سکیورٹی کے مدنظر چیئرمین پی ٹی آئی کے حق میں ہے ، بظاہر جیل ٹرائل کے معاملے پر کوئی بد نیتی نظر نہیں آئی ، عمران خان خود اپنی سکیورٹی کے حوالے ماضی متعدد بار خدشات کا اظہار کرچکے ، عمران خان کو جیل ٹرائل پر تحفظات ہوں تو ٹرائل کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • عمران خان کی جیل میں بیٹوں سے بات کروا دی گئی

    عمران خان کی جیل میں بیٹوں سے بات کروا دی گئی

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی اڈیالہ جیل سے بیٹوں کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو کروا دی گئی

    عمران خان کی بیٹوں سے بات واٹس ایپ پر کروائی گئی،عمران خان نے تین منٹ تک بیٹوں سے بات کی،سلیمان اور قاسم جیل میں قید والد سے گفتگو کرتے جذباتی ہوگئے،عمران خان نے مسکراتے اپنے بیٹوں کو تسلی دی،عمران خان کو بیٹوں سے بات کرنے کا حکم عدالت نے دیا تھا

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

    عمران خان کو بیٹوں سے بات کرنے کی عدالت نے دی اجازت
    چیئرمین پی ٹی آئی کی بیٹوں کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو کرنے کی درخواست پر دوبارہ سماعت ہوئی، جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ سپرٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو ہدایت جاری کرتاہوں کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو بیٹوں سے بات کرنے کی اجازت دی جائے،سپرٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو بیٹوں سے بات کروانے کی اجازت ہے، میں آپ کے حق میں کہہ رہاہوں، میں ٹیلیفونک گفتگو کی اجازت دےدیتاہوں،

    واضح رہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سائفر کیس میں اس وقت اڈیالہ جیل میں قید ہیں، اور خصوصی عدالت نے شاہ محمود قریشی اور عمران خان پر فرد جرم عائد کرنے کی تاریخ بھی مقرر کردی ہے۔

  • سائفر معاملہ؛ اعظم خان کے بعد فارن سیکرٹری بھی عمران خان کیخلاف گواہ بن گئے

    سائفر معاملہ؛ اعظم خان کے بعد فارن سیکرٹری بھی عمران خان کیخلاف گواہ بن گئے

    سابق سیکرٹری خارجہ اسد مجید سابق وزیر اعظم عمران خان کیخلاف گواہ بن گئے ہیں اور 161 کا بیان سامنے آگیا ہے جبکہ ،اسد مجید کا بیان میں کہنا ہے عمران خان کے سائفر معاملے نے پاکستان کے کمیونیکیشن سسٹم کو نقصان پہنچایا ہے اور انہیں ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا جیسا انہوں نے کہا ہے.


    جبکہ تحریک انصاف کے سابق کارکن فرحان ورک نے کہا کہ ” تحریک انصاف والے تو اسد مجید کو دن رات سلیوٹ پیش کرتے تھے؟ لیکن اب اسد مجید تو انکے خلاف سب سے مضبوط گواہ بن کر سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے مزید لکھا کہ؛ وہ اعظم خان جس کے پیچھے عمران خان نے اپنی پارٹی تباہ کی، اب وہ بھی کھل کر ان پر فوج کی ہائی کمان پر پلاننگ کا الزام لگا رہا ہے۔


    سائفر کیس میں مرکزی گواہ اعظم خان کا تحریری بیان سامنے آگیا ہے اور سائفر کیس میں مرکزی گواہ اعظم خان نے اپنے تحریری بیان میں کہا ہے کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے فوج کے خلاف ٹارگٹڈ پلان بنایا تھا اور عمران خان نے سیاسی مقاصد کے لیے پلان بنایا جبکہ سائفر سے متعلق اسپیکر نے رولنگ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی ہدایت پر دی تھی.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پاکستانیوں کا بائیکاٹ میکڈونلڈ ویران
    ورلڈ کپ 2023: 256 رنز کے تعاقب میں جنوبی افریقہ کے 8 کھلاڑی آؤٹ
    سولہ سالہ لڑکی سے مبینہ زیادتی اور زہریلی اشیاء کھلانے کے واقعہ میں اہم ہیشرفت
    کورکمانڈر کانفرنس: دشمن عناصر کیخلاف پوری قوت سے نمٹنے کا عزم
    نگران وزیراعظم کی چین کے صدر کی جانب سے دیئے گئے عشائیے میں شرکت
    واضح رہے کہ سابق پرسنل سیکرٹری عمران خان، اعظم خان نے کہا ہے اکہ سائفر جس چینل سے آتا ہے اسی چینل سے واپس بھیجا جاتا ہے اور 8 مارچ کو سائفر سے متعلق فارن سیکرٹری کا ٹیلی فون آیا، ٹیلی فون پر سائفر کی کاپی وزیراعظم آفس بھجوانے کا بتایا گیا، فارن سیکرٹری نے کہا سائفر کی کاپی وزیراعظم کے حوالے کریں علاوہ ازیں مرکزی گواہ نے مزید کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے 9 مارچ کو سائفر پر رائے دی،شاہ محمود قریشی سائفر کا عمران خان کو آگاہ کرچکے تھے، سابق وزیراعظم نے سائفر پر اداروں کے خلاف بیانیہ بنانے کو کہا۔

  • سائفر کیس،عمران خان اور شاہ محمود قریشی پر فرد جرم کی کارروائی موخر

    سائفر کیس،عمران خان اور شاہ محمود قریشی پر فرد جرم کی کارروائی موخر

    سائفر کیس، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے کیس کی سماعت ہوئی
    چئیرمین پی ٹی اآئی کی لیگل ٹیم اڈیالہ جیل پہنچ گئی ،بریسٹر سلمان صفدر، شیر افضل مروت، راجہ یاسر، عمیر نیازی، نعیم حیدر پنجوتھہ نیاز اللہ نیازی لیگل ٹیم میں شامل ہیں

    عمران خان اور شاہ محمود قریشی پر فرد جرم کی کارروائی موخر کر دی گئی،چیرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کو چالان کی نقول تقسیم کر دی گئی،آج فرد جرم عائد نہ ہو سکی،جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے سماعت ایک ہفتے تک ملتوی کر دی گئی

    شیر افضل مروت نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج جج ابوالحسنات کی صدارت میں سماعت ہوئی ،چیرمین پی ٹی آئی کی جانب سے میں اور سلمان صفدر پیش ہوئے ،جج صاحب کو بتایا کہ چالان کی نقول کے بغیر فرد جرم عائد نہیں ہو سکتی،چیرمین پی ٹی آئی کو پنجرہ نما کمرے میں رکھا گیا ہے ،جج صاحب کو بتایا گیا کہ چیرمین پی ٹی آئی کے حوالے سے حقوق کی خلاف ورزی ہے ،چیرمین پی ٹی آئی کو 9 مئی کھ واقعات میں پھنسانے کی کوشش کی جارہی ہے .22 افراد کے ذریعے بیان حلفی لیئے گئے، چیرمین پی ٹی آئی کےملٹری کورٹس ٹرائل کی کوشش کی جارہی ہے ،آج تفصیلی پریس کانفرنس کروں اور حقائق سے آگاہ کروں گا ،چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ میرا ٹرائل جہاں بھی ہو ورکرز اطمینان رکھیں ،چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ورکرز خیبر پختونخوا میں کنونشن کا انعقاد کریں ،جیل میں ہونے والی سماعت کو ہم دوبارہ عدالت میں چیلنج کرنے جارہے ہیں

    بیرسٹر سلمان صفدر سماعت کے فورا بعد شیر افضل مروت کی میڈیا ٹاک پر برہم ہوگئے، میڈیا ٹاک کرتے ہوئے کہا کہ شیر افضل مروت کو باقی وکلاء کا انتظار کرنا چاہئیے تھا،جیل ٹرائل سے متعلق بریفنگ میں خود دیتا ہوں آئندہ ایسا ہوا تو سخت ایکشن لونگا،سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے جیل ٹرائل کے خلاف درخواست مسترد کر دی ہے ،آج کی سماعت بغیر کاروائی کے ملتوی ہوئی ہے، نقول کی کاپیاں تقسیم کر دی گئی،ہمیں 7 روز کا وقت دیا جانا چاہئے تھا،ہمیں وقت نہیں دیا گیا،ایسا لگ رہا ہے کہ اس کیس کے حوالے سے بہت جلدی فیصلہ کیا جائے گا،سائفر کی اصلی حقیقت کوئی بھی نہیں،چیرمین پی ٹی آئی پر سائفر تبدیلی کا الزام ہے،جیل ٹرائل جلد بازی میں کیا جارہا ہے،رہائی کے بعد جیل ٹرائل ختم ہو جاتا ہے،چیرمین پی ٹی آئی بار بار کہتے رہے کہ عدالتوں میں فئیر ٹرائل کیا جائے،چیرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری کے حوالے سے رشتہ داروں اور وکلاء سے لاعلم رکھا گیا،جیل ٹرائل میں میڈیا کا داخلہ نہیں ہے، سلمان اکرم راجہ اس کو عدالت میں چیلنج کریں گے،جیل ٹرائل کی بجائے اوپن ٹرائل ہونا چاہئے، میڈیا کو بھی اجازت ہونی چاہئے،

    قبل ازیں اسپیشل پراسیکیوٹر ایف آئی اے شاہ خاور اڈیالہ جیل پہنچ گئے،اسپیل پراسیکیوٹر ایف آئی اے شاہ خاورنے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج فرد جرم عائد کرنے کیلئے سماعت مقرر ہے، گزشتہ سماعت پر ملزمان نے چالان کی نقول وصول کرنے سے انکار کیا تھا، عدالت کا حکم ہے کہ آج فرد جرم عائد ہوگی اب دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے، فرد جرم عائد ہونے کے بعد استغاثہ کی شہادتیں ریکارڈ اور مقدمہ کا ٹرائل شروع ہوتا ہے، گواہان کی شہادتیں مکمل ہونے کے بعد ملزم کا بیان ہوتا ہے، اگر ملزمان کی شہادت صفائی ہوتی ہے تو انکو دفاع کا پورا موقع دیا جائے گا،زیادہ سے زیادہ سزا کیپیٹل سینٹینس، چودہ سال یا کم سے کم جرم میں دو سال سزا ہوتی ہے،

    چئیرمین پی ٹی آئی کے ترجمان عمیر نیازی نےاڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج کی سماعت میں نقول ہی تقسیم ہونی چاہئیے گزشتہ سماعت پر نقول تقسیم نہیں ہوئی،پراسیکیوشن کی سیکشن چودہ کی درخواست عدالت نے منظور نہیں کی، جیل میں سماعت ان کیمرہ نہیں میڈیا کو رسائی ہونی چاہئیے اس پر آج بات کرینگے، یہ چاہ رہے ہیں توشہ خانہ کی طرح اس مقدمے کا فیصلہ بھی سنایا جائے،

    جو کام حکومتیں نہ کر سکیں،آرمی چیف کی ایک ملاقات نے کر دیا

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • اسلام آباد ہائیکورٹ،سائفر کیس عمران خان کی ضمانت پر فیصلہ محفوظ

    اسلام آباد ہائیکورٹ،سائفر کیس عمران خان کی ضمانت پر فیصلہ محفوظ

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ میں عمران خان کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی
    ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر رضوان عباسی عدالت پیش ہوئے، عمران خان کے وکیل کے دلائل مکمل ہو چکے ہیں،
    سائفر کیس میں اسپیشل پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ” قابل دست اندازی جرم پر ایف آئی آر کا اندراج بنتا ہے وفاقی حکومت نے سیکرٹری داخلہ کو کمپلینٹ داخل کرنے کی منظوری دی ، آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت درج مقدمہ میں دس سال سے کم سزا والی دفعہ میں ضمانت ہو سکتی ہے دس سال سے زائد سزا والی سیکشن لگی ہو تو وہ ناقابل ضمانت ہے مقدمہ اخراج کی درخواست میں کھوسہ صاحب نے تسلیم کیا ہے لیکن ان کا کہنا ہے جرم نہیں بنتا ،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ سائفر آرہے ہوں گے روٹ آف پریکٹس ہوں گے وہ سمجھا دیجئے گا ، یقینا وزارت خارجہ نے ایس او پیز بنائے ہوں گے وہ بتا دیجئے گا ، سائفر کے ذریعے جو بھی معلومات آرہی ہے کیا وہ آگے کمیونیکٹ نہیں کی جا سکتیں ؟ وکیل رضوان عباسی نے کہا کہ ” ایک کیٹگری میں آپ معلومات شئیر کر سکتے ہیں دوسری کیٹگری میں آپ نہیں کر سکتے یہ سائفر ٹاپ سیکرٹ تھا اس کو شئیر نہیں کیا جا سکتا تھا ، جس چینل سے سائفر آیا تھا اسی چینل نے واپس جانا تھا ، سائفر کی کاپی کو آخرکار ضائع ہونا تھا صرف اوریجنل کاپی نے رہنا تھا ، پٹیشنر کے وکیل نے آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی سیکشن فائیو کی درست تعریف یا تشریح نہیں کی، عمران خان نے سائفر کی معلومات پبلک تک پہنچائیں جس کے وہ مجاز نہ تھے ” سیکرٹ ڈاکومنٹ پبلک کرنے پر بطور وزیر اعظم عمران خان کو آئین کے آرٹیکل 248 کے تحت استثنا حاصل نہیں ،

    سائفر کیس میں عمران خان کو عمر قید یا سزائے موت سنائی جا سکتی ہے،ایف آئی اے سپشیل پراسیکیوٹر رضوان عباسی
    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سائفر آنے کے رولز آف پریکٹس ہوں گے، کچھ ایس او پیز بنائے ہوں گے، پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے کہاکہ سائفر کی دو کیٹگریز ہوتی ہیں جن میں سے ایک کی کمیونی کیشن کی جا سکتی ہے مگر دوسری کیٹگری کی نہیں،یہ سائفر دوسری کیٹگری کا سیکرٹ ڈاکومنٹ تھا جس کی معلومات پبلک نہیں کی جا سکتی تھیں، اس جرم کی سزا چودہ سال قید یا سزائے موت بنتی ہے ،سائفر کیس میں عمران خان کو عمر قید یا سزائے موت سنائی جا سکتی ہے،نعمان سائفر اسسٹنٹ کے پاس سائفر آیا ، ڈپٹی ڈائریکٹر عمران ساجد ، حسیب بن عزیز ، سابقہ سیکرٹری خارجہ سہیل محمود کا 161 بیان ہے ، شاموں قیصر وزیر اعظم ہاؤس میں سائفر آفیسر ، ڈی ایس پی ایم آفس حسیب گوہر کا 161 کابیان ہے ،ساجد محمود ڈی ایس وزیر اعظم آفس اور اعظم خان کا 161 کا بیان ہے ،اعظم خان کبھی بھی اس کیس میں ملزم نہیں تھے بلکہ وہ گواہ ہیں ان کے ایک اعتراض کی وضاحت کر دوں ، ان کے لاپتہ ہونے کی ایف آئی آر تھانہ کوہسار میں درج ہوئی تھی کچھ دنوں بعد انہوں نے اس کیس کے تفتیشی افسر سے رابطہ کیا کہا پیس آف مائنڈ کے لیے کچھ عرصہ کے لیے وہ کہیں چلے گئے تھے پھر انہوں نے 164 کا بیان مجسٹریٹ کے سامنے ریکارڈ کرایا

    عدالت نے استفسار کیا کہ آپ کا بنیادی گواہ کون ہے ؟اسپیشل پراسیکیوٹر نے عدالت میں کہا کہ اعظم خان ، اسد مجید ، سہیل محمود بنیادی گواہ ہیں ،سائفر اسسٹنٹ نعمان کا 161 کا بیان اسپیشل پراسیکیوٹر نے عدالت میں پڑھا سائفر کیس میں ایف آئی اے نے تین ایکسپرٹس کی رائے بھی شامل کی ہے کہ اس ایکٹ کے عالمی سطح پر کیا اثرات ہو سکتے ہیں تین ایکسپرٹس میں اسد مجید خان ، سابق سیکرٹری خارجہ سہیل محمود اور وزارت خارجہ کے سابق ڈی جی USA فیصل نیاز ترمزی کا بیان بھی شامل ہے ،سائفر کو پبلک میں لہرانا سیاسی تھا یہ آفیشل فنگشن آرٹیکل 248 کے استثنی میں نہیں آتا

    اسپیشل پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی تقریر میں پڑھنا چاہوں گا ، میں اعظم خان کا بیان بھی پڑھنا چاہوں گا ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا ضرورت ہے پڑھنے کی ؟ آپ ریکارڈ دے دیجیے گا میں دیکھ لوں گا ،سائفر کیس میں عمران خان کی درخواست ضمانت میں دلائل کے دوران اسپیشل پراسیکیوٹر راجہ رضوان عباسی نے بھارتی عدالت کا فیصلہ پڑھا.عدالت نے استفسار کیا کہ بھارت کا آفیشل سیکریٹ ایکٹ ہے آپ کے پاس ؟ اسپیشل پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے کہا کہ 90 فیصد بھی ایکٹ ہمارا اور بھارت کا ایک جیسا ہے ،عدالت نے کہا کہ ہم نے بھی انہوں نے بھی کچھ ترامیم کیں ہیں ،اسپیشل پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے کہا کہ جن کیسز کے حوالے دیے ان میں زیادہ تر کلاسایفائیڈ ڈاکومنٹس کی معلومات لیک کرنے کے خدشات پر تھے،ان کیسز میں معلومات لیک کرنے کے ثبوت نہیں تھے مگر پھر بھی معلومات لیک ہونے پر سزائیں ہوئیں،
    اس کیس میں تو اعتراف جرم موجود ہے کہ سیکرٹ ڈاکومنٹ کی معلومات کو پبلک کیا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ چالان جمع ہو چکا آپ نے گرفتار رکھ کر کیا کرنا ہے ؟ اسپیشل پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے کہا کہ ایسی ججمنٹ دینا چاہتا ہوں چالان جمع ہو چکا تھا ضمانت خارج ہوئی، رولز آف بزنس 1973 عدالت کے سامنے پڑھا گیا،اسپیشل پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے کہا کہ اگر عدالت تھوڑا وقت دے تو میں عدالتی معاونت کر دوں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آج ہی ختم کرنا ہے روزانہ اس کو لیکر نہیں بیٹھ سکتے، اسپیشل پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے کہا کہ سائفر سیکورٹی کے حوالے سے الگ سے رولز آف بزنس میں باب ہے،اگر کسی بیان سے پاکستان کے سپر پاور امریکا سے تعلقات متاثر ہوں تو یقینا اس کا کسی کو فائدہ بھی ہو گا،آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی وہ کر رہا ہے جو انتہائی ذمہ دار شخص ہونا چاہئے،اس متعلق معلومات تو وہ اپنی فیملی کے ساتھ بھی شیئر نہیں کر سکتا، یہ کیس بھی نہیں کہ اپنے فرینڈز کے درمیان بیٹھ کر معلومات شیئر کیں،وزارت خارجہ کے امریکہ میں افسر فیصل ترمذی کا بیان ریکارڈ کا حصہ ہے ، جس میں فیصل ترمذی کے بیان میں موجود ہے کیسے ایک ملک سائفر پبلک کرنے سے متاثر ہوا ، کیسے انہوں نے اس ایکٹ کو لیا ، کیسے دوسرے ملک کے تعلقات پر اثر ہوا پاکستان میں 23 مارچ کی او آئی سی کی میٹنگ میں امریکی وفد بطور ابزور بھی آیا ہوا تھا،انہوں نے سیاسی فائدے کے لئے سائفر کو استعمال کیا،سردار لطیف کھوسہ نے کہہ دیا اور تسلیم بھی کر لیا ہے اس وقت کے وزیر اعظم نے یہ سب کیا تھا،

    سائفر کیس میں ایف آئی اے اسپیشل پراسیکیوٹر نے اپنے دلائل مکمل کر لیے عمران خان کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے جوابی دلائل شروع کر دیے، عمران خان کے وکیل کے دلائل مکمل ہوئے تو عدالت نے سائفر کیس میں عمران خان کی ضمانت کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا

    خیال رہے کہ عمران خان نے بیرسٹر سلمان صفدر ایڈووکیٹ کی وساطت سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں سائفر گمشدگی کیس میں درخواست ضمانت دائر کی، جس میں چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے استدعا کی گئی کہ انہیں ضمانت پر اٹک جیل سے رہا کیا جائے درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ استغاثہ نے بدنیتی پر مبنی مقدمہ درج کیا14 ستمبر کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت نے درخواست ضمانت مسترد کی خصوصی عدالت کی جانب سے بے ضابطگیوں اور استغاثہ کے متعدد تضادات کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا۔

    سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی ضمانتیں مسترد ہونے کا 7 صفحات کا تفصیلی فیصلہ جاری کیا گیا تھا،تفصیلی فیصلے میں عدالت نے کہا کہ ” عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے خلاف ناقابل تردید شواہد ہیں جو ان کا کیس سے لنک ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں ریکارڈ کے مطابق ملزمان آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی سیکشن 5 اور 9 اور ناقابل ضمانت دفعات کے جرم کے مرتکب ٹھہرے ، ضمانتیں خارج کرنے کے لیے مواد کافی ہے ہمیں یہ مدنظر رکھنا چاہیے یہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کا ٹاپ سیکرٹ کیس ہے آئندہ سماعت پر غیر متعلقہ افراد پر دوران سماعت پابندی ہو گی عدالتی ہداہت کے باوجود پٹشنرز کی جانب سے سرٹیفکیٹ نہیں دیا گیا میرٹ اور سرٹیفکیٹ دینے کے عدالتی آرڈر پر عمل نا کرنے کی وجہ سے ضمانت خارج کی جاتی ہے

    عدالت نے اپنے آرڈر میں ایف آئی اے پراسیکیوٹرز کے دلائل لکھتے ہوئے کہا ہے کہ ” پراسیکیوشن کے مطابق 161 کے بیانات کے مطابق عمران خان کی جانب سے سائفر کو غیر قانونی طور پر اپنے پاس رکھنا ثابت ہے اور انہوں نے غیر متعلقہ افراد کے سامنے سائفر معلومات گھما پھیرا کر شئیر کیں، جس نے بیرونی طاقتوں کو فائدہ پہنچایا اور پاکستان کی سیکیورٹی کو متاثر کیا ،

    جو کام حکومتیں نہ کر سکیں،آرمی چیف کی ایک ملاقات نے کر دیا

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • سائفر کیس،شاہ محمود قریشی کی بھی جیل ٹرائل کیخلاف درخواست

    سائفر کیس،شاہ محمود قریشی کی بھی جیل ٹرائل کیخلاف درخواست

    سائفر کیس: شاہ محمود قریشی نے بھی جیل ٹرائل کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی

    شاہ محمود قریشی کی جانب سے عدالت میں دائر درخواست میں عدالت سے 9 اکتوبر کے ٹرائل کورٹ کے حکم کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی، درخواست میں کہا گیا کہ عدالت ٹرائل کورٹ کو فرد جرم عائد کرنے سے روکے ، بغیر کسی نوٹیفکیشن کے میرا جیل ٹرائل جاری ہے ، عدالت جیل ٹرائل سے روک کر اوپن ٹرائل کی ہدایت کرے ، شاہ محمود قریشی نے آج کی درخواست پر سماعت کی استدعا کر دی، شاہ محمود قریشی نے بیرسٹر تیمور ملک اور فائزہ اسد کے ذریعے درخواست دائر کی

    قبل ازیں عمران خان نے بھی ایسی ہی ایک درخواست دائر کی تھی کہ انکا ٹرائل جیل کی بجائے عدالت میں کیا جائے تا ہم تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو سائفر کیس میں جیل سماعت کے خلاف درخواست میں اسلام آباد ہائیکورٹ سے ریلیف نا مل سکا ،اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کی درخواست مسترد کر دی، عدالت نے محفوظ فیصلہ سنا دیا،سائفر کیس کی سماعت کل جیل میں ہی ہو گی عدالت نے فیصلے میں کہا کہ جیل ٹرائل سکیورٹی کے مدنظر چیئرمین پی ٹی آئی کے حق میں ہے ، بظاہر جیل ٹرائل کے معاملے پر کوئی بد نیتی نظر نہیں آئی ، عمران خان خود اپنی سکیورٹی کے حوالے ماضی متعدد بار خدشات کا اظہار کرچکے ، عمران خان کو جیل ٹرائل پر تحفظات ہوں تو ٹرائل کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • سائفر کیس،عمران خان کی درخواست مسترد،سماعت جیل میں ہی ہوگی

    سائفر کیس،عمران خان کی درخواست مسترد،سماعت جیل میں ہی ہوگی

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو سائفر کیس میں جیل سماعت کے خلاف درخواست میں اسلام آباد ہائیکورٹ سے ریلیف نا مل سکا ،

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کی درخواست مسترد کر دی، عدالت نے محفوظ فیصلہ سنا دیا،سائفر کیس کی سماعت کل جیل میں ہی ہو گی عدالت نے فیصلے میں کہا کہ جیل ٹرائل سکیورٹی کے مدنظر چیئرمین پی ٹی آئی کے حق میں ہے ، بظاہر جیل ٹرائل کے معاملے پر کوئی بد نیتی نظر نہیں آئی ، عمران خان خود اپنی سکیورٹی کے حوالے ماضی متعدد بار خدشات کا اظہار کرچکے ، عمران خان کو جیل ٹرائل پر تحفظات ہوں تو ٹرائل کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں

    عمران خان سائفر کیس میں جوڈیشل ریمانڈ پر ہیں ، سائفر کیس کا ٹرائل جیل میں ہو رہا ہے، ابتدائی سماعتیں اٹک جیل میں ہوئی بعد میں عمران خان کو اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا، عمران خان نے جیل کی بجائے عدالت میں سماعت کی استدعا کر رکھی ہے جس پر چند روز قبل چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ محفوظ کیا تھا

    جو کام حکومتیں نہ کر سکیں،آرمی چیف کی ایک ملاقات نے کر دیا

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی ضمانتیں مسترد ہونے کا 7 صفحات کا تفصیلی فیصلہ جاری کیا گیا تھا،تفصیلی فیصلے میں عدالت نے کہا کہ ” عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے خلاف ناقابل تردید شواہد ہیں جو ان کا کیس سے لنک ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں ریکارڈ کے مطابق ملزمان آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی سیکشن 5 اور 9 اور ناقابل ضمانت دفعات کے جرم کے مرتکب ٹھہرے ، ضمانتیں خارج کرنے کے لیے مواد کافی ہے ہمیں یہ مدنظر رکھنا چاہیے یہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کا ٹاپ سیکرٹ کیس ہے آئندہ سماعت پر غیر متعلقہ افراد پر دوران سماعت پابندی ہو گی عدالتی ہداہت کے باوجود پٹشنرز کی جانب سے سرٹیفکیٹ نہیں دیا گیا میرٹ اور سرٹیفکیٹ دینے کے عدالتی آرڈر پر عمل نا کرنے کی وجہ سے ضمانت خارج کی جاتی ہے

    عدالت نے اپنے آرڈر میں ایف آئی اے پراسیکیوٹرز کے دلائل لکھتے ہوئے کہا ہے کہ ” پراسیکیوشن کے مطابق 161 کے بیانات کے مطابق عمران خان کی جانب سے سائفر کو غیر قانونی طور پر اپنے پاس رکھنا ثابت ہے اور انہوں نے غیر متعلقہ افراد کے سامنے سائفر معلومات گھما پھیرا کر شئیر کیں، جس نے بیرونی طاقتوں کو فائدہ پہنچایا اور پاکستان کی سیکیورٹی کو متاثر کیا ،

  • سائفر کیس،جیل میں ٹرائل ہو گا یا عدالت میں؟ فیصلہ کل

    سائفر کیس،جیل میں ٹرائل ہو گا یا عدالت میں؟ فیصلہ کل

    سائفر کیس کے جیل ٹرائل کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست پر فیصلہ کل پیر کو سنایا جائے گا

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے رجسٹرار آفس کی جانب سے جاری کاز لسٹ جاری کی گئی ہے جس کے مطابق مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی جیل ٹرائل کے خلاف درخواست پر محفوظ فیصلہ سنائیں گے،

    عمران خان سائفر کیس میں جوڈیشل ریمانڈ پر ہیں ، سائفر کیس کا ٹرائل جیل میں ہو رہا ہے، ابتدائی سماعتیں اٹک جیل میں ہوئی بعد میں عمران خان کو اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا، عمران خان نے جیل کی بجائے عدالت میں سماعت کی استدعا کر رکھی ہے جس پر چند روز قبل چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ محفوظ کیا تھا جو اب کل سنایا جائے گا

    جو کام حکومتیں نہ کر سکیں،آرمی چیف کی ایک ملاقات نے کر دیا

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی ضمانتیں مسترد ہونے کا 7 صفحات کا تفصیلی فیصلہ جاری کیا گیا تھا،تفصیلی فیصلے میں عدالت نے کہا کہ ” عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے خلاف ناقابل تردید شواہد ہیں جو ان کا کیس سے لنک ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں ریکارڈ کے مطابق ملزمان آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی سیکشن 5 اور 9 اور ناقابل ضمانت دفعات کے جرم کے مرتکب ٹھہرے ، ضمانتیں خارج کرنے کے لیے مواد کافی ہے ہمیں یہ مدنظر رکھنا چاہیے یہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کا ٹاپ سیکرٹ کیس ہے آئندہ سماعت پر غیر متعلقہ افراد پر دوران سماعت پابندی ہو گی عدالتی ہداہت کے باوجود پٹشنرز کی جانب سے سرٹیفکیٹ نہیں دیا گیا میرٹ اور سرٹیفکیٹ دینے کے عدالتی آرڈر پر عمل نا کرنے کی وجہ سے ضمانت خارج کی جاتی ہے

    عدالت نے اپنے آرڈر میں ایف آئی اے پراسیکیوٹرز کے دلائل لکھتے ہوئے کہا ہے کہ ” پراسیکیوشن کے مطابق 161 کے بیانات کے مطابق عمران خان کی جانب سے سائفر کو غیر قانونی طور پر اپنے پاس رکھنا ثابت ہے اور انہوں نے غیر متعلقہ افراد کے سامنے سائفر معلومات گھما پھیرا کر شئیر کیں، جس نے بیرونی طاقتوں کو فائدہ پہنچایا اور پاکستان کی سیکیورٹی کو متاثر کیا ،

  • جیل میں عمران خان کا ہاضمہ خراب ہو گیا

    جیل میں عمران خان کا ہاضمہ خراب ہو گیا

    تحریک انصاف کے چیئرمین ،سابق وزیراعظم عمران خان کو توشہ خان کیس میں عدالت نے سزا سنائی تو انہیں زمان پارک سے گرفتار کر کے اٹک جیل منتقل کیا گیا، توشہ خانہ کیس کی سزا اسلام آباد ہائیکورٹ نے معطل کی تو انہیں سائفر کیس میں گرفتار کر لیا گیا، اٹک جیل سے عمران خان کو اڈیالہ جیل میں منتقل کر دیا گیا ہے،عمران خان سے جیل میں انکی اہلیہ بشریٰ بی بی، اور وکلاء کی ملاقاتیں ہوتی رہتی ہیں، عمران خان سے انکی بہنوں کی بھی ملاقات ہوئی ہے، آج بھی عمران خان کے وکیل اور ذاتی معالج جیل میں عمران خان کو ملنے گئے

    عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کے بعد ڈاکٹر عثمان یوسف نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہ عمران خان بالکل صحت مند ہیں، انکو صرف ہاضمے کا مسئلہ ہے،وہ پہلے بھی ہوتا ہے،جیل اتھارٹی کو ایک ٹیسٹ کا کہا ہے اسکے لئے دوا بتائی ہے، انکی خوراک سادہ رہی ہے، انکی ضروریات پوری کی جا رہی ہیں، میں نے آج انکا تفصیلی معائنہ کیا، مجھے خوشی ہوئی انکی صحت اچھی لگی،جب سے انکو گولی لگی پچھلے برس سے تب سے وہ ورزش کم کر رہے تھے تو انکا وزن کم ہو گیا تھا،عمرا ن خان کی فزیکل اور مینٹل صحت کے حوالہ سے مطمئن ہوں، ماشاء اللہ وہ صحت یاب ہیں،

    عمران خان کے وکیل لطیف کھوسہ نے ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام بیوقوف ہیں،انکو کسی بھی طرح گمراہ کیا جا سکتا ہے ایسی افواہیں اڑائی جاتی ہیں کہ سب یقین کر لیتے ہیں،عمران خا ن کےوکیل بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ عمران خان کل کے سپریم کورٹ کے فیصلے سے مطمئن ہیں،عمران خان نے پیغام دیا ہے کہ ملک معاشی بحران کا شکار ہے اور اسوقت ملک کو مقبول رہنما کی ضرورت ہے، مقبول لیڈر ہی معیشت کو ٹھیک کر سکتا ہے،عمران خان کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن نے الیکشن نہیں کروائے، اب سب کی نظریں سپریم کورٹ پر ہیں، اپیل کے حق کا فیصلہ درست فیصلہ ہے،

    عمران خان جیل میں ہیں لیکن انکا ٹویٹر اکاؤنٹ ایکٹو ہے اور مسلسل چل رہا ہے، آج عمران خان کے ٹویٹر اکاؤنٹ سے ایک ٹویٹ کی گئی ہے جس کا عنوان ہے،جیل سے عمران خان کا اپنے خاندانی ذرائع سے عوام کیلئے پیغام:

    عمران خان کے ٹویٹر اکاؤنٹ پر کہا گیا ہے کہ جب پانچ اگست کو مجھے اٹک جیل میں قید کیا گیا تھا تو پہلے چند روز میرے لئے خاصے مشکل تھے۔ سونے کیلئے میرے پاس بستر نہیں تھا اور مجھے فرش پہ لیٹنا پڑتا تھا جہاں دن کے وقت کیڑے مکوڑے اور رات کو مچھر ہوتے تھے۔ لیکن اب میں اس میں ایڈجسٹ ہوگیا ہوں۔

    آج کے عمران خان میں اور اُس عمران خان میں جسے پانچ اگست کے روز قید کیا گیا تھا، زمین آسمان کا فرق ہے۔ میں آج روحانی، ذہنی اور جسمانی طور پر پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط اور طاقتور ہوں کیونکہ جیل کی تنہائی میں مجھے قرآنِ پاک کا بغور مطالعہ کرنے کا موقع ملا جس نے میرے ایمان کو مزید مستحکم کیا۔ اور قرانِ پاک کے ساتھ ساتھ میں دیگر کتب کا مطالعہ بھی کررہا ہوں اور اپنی سیاسی زندگی کے گذشتہ چند سالوں کے واقعات پہ غور بھی کررہا ہوں۔

    یہ لوگ مجھے جس جیل میں بھی رکھیں، جیسے حالات میں بھی رکھیں آپ نے گھبرانا نہیں ہے اور نہ ہی میرے متعلق پھیلائی جانے والی افواہوں سے پریشان ہونا ہے۔ میں عوام کے حقِ حاکمیت اور آئینِ پاکستان کی بنیادی ترین شرط، صاف شفاف الیکشن، کے مطالبے سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹوں گا۔ جو لوگ مجھے کہ رہے ہیں کہ آپ ملک چھوڑ کر چلے جائیں انکو میراایک ہی جواب ہے کہ میرا جینا مرنا پاکستان کیساتھ ہے اور میں اپنی دھرتی کو چھوڑ کر کہیں نہیں جاؤں گا۔

    جہاں تک سائفر مقدمے کا تعلق ہے، یہ مقدمہ سابق آرمی چیف جرنیل باجوہ، ڈونلڈ لو کو بچانے کیلئے گھڑا گیا ہے۔ ملک کا منتخب وزیراعظم تو میں تھا، جنرل باجوہ کے ساتھ مل کر غداری تو میرے ساتھ کی گئی اور آج مجھ پہ مقدمہ اسلئے قائم کیا گیا کہ میں نے پاکستانی عوام کو، جو کہ اس ملک کے اصل حاکم ہیں، اس غداری کی خبر دی۔

    مجھے اگر کسی چیز کی تکلیف ہے تو اُن کارکنان، خصوصاً خواتین کارکنان، کی اسیری کی تکلیف ہے جنہیں طاقت کے گھمنڈ میں مبتلا چند افراد نے اپنی انا کی تسکین کیلئے کئی ماہ سے قید کیا ہوا ہے۔ میری عدلیہ سے اپیل ہے کہ ہمارے کارکنان کو رہائی دلائی جائے ۔

    آخر میں, آپ نے ہمت نہیں ہارنی۔ آپ ثابت قدمی سے ڈٹے رہیں۔ یہ آزمائش کا وقت ختم ہو کر رہے گا کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے کہ "ہر مشکل کیساتھ آسانی ہے”۔ آپ ہر فورم پہ اس غیر منتخب حکمران ٹولے اور انکے سہولتکاروں کیخلاف آواز اُٹھاتے رہیں اور ملک میں صاف شفاف الیکشن کا مطالبہ کرتے رہیں۔

    میں پیشنگوئی کررہا ہوں کہ جس دن بھی الیکشن ہوا، انشاءاللہ پاکستانی عوام کروڑوں کی تعداد میں نکلیں گے اور تحریکِ انصاف کو ووٹ ڈال کر لندن پلان والوں کو شکست دیں گے۔ یہ لوگ جتنی مرضی دھاندلی کرلیں، انکا مقدر صرف اور صرف شکست ہے۔

    پاکستان زندہ باد

    جو کام حکومتیں نہ کر سکیں،آرمی چیف کی ایک ملاقات نے کر دیا

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • سائفرکیس، ضمانت کا کیس الگ ہے اس کو الگ ہی سنا جانا ہے،چیف جسٹس

    سائفرکیس، ضمانت کا کیس الگ ہے اس کو الگ ہی سنا جانا ہے،چیف جسٹس

    سائفر کیس میں چیرمین پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس عامر فاروق نے کیس کی سماعت کی،چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دیر سے آنے پر معذرت کرتا ہوں ،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ میرے 60 فیصد دلائل مکمل ہو گئے ہیں ،تینوں اسپیشل پراسیکیوٹرز عدالت میں پیش ہوئے،اسپیشل پراسکییوٹر راجہ رضوان عباسی، شاہ خاور اور ذوالفقار نقوی بھی روسٹرم پر موجود تھے،اسپیشل پراسکییوٹر رضوان عباسی نے جیل میں ٹرائل کے دوران نقول کی فراہمی کا معاملہ اٹھا دیا

    اسپیشل پراسیکیوٹر راجہ رضوان عباسی نے کہا کہ جیل ٹرائل کے دوران چیئرمین پی ٹی آئی کے وکلاء نے نقول وصول کیں لیکن دستخط نہیں کیے،9 اکتوبر کو نقول ملزمان کو دیں گئیں،ملزمان کے وکلا نے کہا ہے کہ جیل سماعت کیلئے ان کی درخواست زیر التوا ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جیل سماعت کیخلاف درخواست پر فیصلہ کل یا پیر کو آ جائے گا،اسپیشل پراسیکیوٹر نے کہا کہ عدالت ان کیسز کو اکٹھا کرکے ہی سن لے، چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ضمانت کا کیس الگ ہے اس کو الگ ہی سنا جانا ہے،ٹرائل کے حوالے سے کوئی اسٹے آرڈر موجود نہیں، ٹرائل کورٹ نے ٹرائل اپنے لحاظ سے چلانا ہے، اسپیشل پراسیکیوٹر نے کہا کہ یہ ٹرائل کو چلنے نہیں دے رہے،

    چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے اپنے دلائل کا آغاز کردیا ،وکیل سلمان صفدر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت یہ مقدمہ بنتا ہی نہیں ہے، سیکشن فائیو کا اطلاق مسلح افواج کے معاملے پر ہوتا ہے ، اس کیس میں کوئی نقشے کوئی تصویر اور قومی سلامتی کا مواد لیک نہیں کیا گیا ، آج سے پہلے کسی وزیر اعظم اور وزیر خارجہ کے خلاف سیکریٹ ایکٹ کے تحت کارروائی نہیں ہوئی، یہ بہت بدنامی کی بات ہے، یہ قانون صرف فوجیوں کے لیے ہے، میں نے یہ سوال اٹھایا یہ کیس وزارت خارجہ نے کیوں نہیں کیا، وزارت داخلہ اس کیس میں فریق کیسے ہو سکتا ہے ؟ مارچ میں چیئرمین پی ٹی آئی نے ایک جلسے میں صفحہ لہرایا ، ایف آئی آر میں اسکا بھی ذکر نہیں ،
    اس کیس میں کہیں یہ ثابت نہیں کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے کوئی ملکی راز دشمن کیساتھ شیئر کیا ، یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ سائفر کی لینگویج پر ایک غیر ملکی سفیر کو ڈیمارش کیا گیا ، چیئرمین پی ٹی آئی سیاسی قیدی ہیں،ایف آئی آر میں لکھا ہے کہ سائفر کو ریکور کرنا ہے۔ان کے الزامات ہیں کہ سائفر کو اپنے پاس رکھا اور ٹوئسٹ کیا۔انہوں نے سائفر کو ریکور ہی نہیں کیا تو یہ کیسے پتہ چلا کہ اس کو ٹوئسٹ کیا۔ایف آئی آر میں نہیں بتایا گیا کہ یہ معاملہ کابینہ اجلاس اور نیشنل سکیورٹی کمیٹی میں رکھا گیا، سائفر والا معاملہ سپریم کورٹ میں بھی لے جایا گیا، میں حیران ہوں یہ اس معاملے کو کریمنل ڈومین کو کیسے لے آئے،

    وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ یہ معاملہ چار فورمز پر رکھا گیا اور بعد میں ایف آئی آر درج کر لی گئی ، کابینہ اجلاس، نیشنل سیکورٹی کمیٹی میٹنگ اور سپریم کورٹ میں بھی معاملہ ڈسکس ہوا،یہ معاملہ دو مرتبہ نیشنل سیکورٹی کمیٹی کے پاس گیا،
    اس کے متن کے اوپر فارن ڈپلومیٹ کو بلا کر احتجاج کیا گیا، پراسیکیوشن کے سائفر کیس میں بہت سے لنکس مسنگ ہیں۔ سوموٹو کیس میں سائفر کا سارا معاملہ ڈسکس ہوا ، سپریم کورٹ میں اس کو کہیں نہیں کہا گیا کرمنل ایکٹ ہوا ہے۔
    نیشنل سیکورٹی کمیٹی کے پاس گیا کابینہ کے پاس گیا انہوں نے نہیں بتایا ،سائفر کی جو لینگوئیج ہے وہ قابل مذمت ہے نیشنل سیکورٹی کمیٹی میٹنگ کا لب لباب تھا ،سائفر کی زبان کے استعمال پر احتجاج کیا گیا ،سات مارچ 2022 کو سائفر وصول ہوا ،عدالت نے استفسار کیا کہ سائفر امریکہ سے وصول ہوا ؟ اسپیشل پراسیکیوٹرنے کہا کہ پاکستان ہائی کمیشن امریکہ سے وصول ہوا ،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ 27 مارچ کا یہ کہتے ہیں بتایا نہیں لہرایا ایف آئی آر میں نہیں ہے، نیشنل سکیورٹی کمیٹی میٹنگ میں اس کے سامنے رکھا گیا ،9 اپریل 2022 کو کابینہ کی میٹنگ میں ڈی کلاسیفائیڈ کیا گیا ، چیف جسٹس ، اسپیکر ، صدر کے پاس بھیجا گیا ،

    وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ پراسیکیوشن کا کیس ہے کہ سائفر سات مارچ 2022 کو آیا اور گیارہ مارچ تک پٹیشنر کے پاس رہا، گیارہ اپریل کو شہباز شریف نے بطور وزیر اعظم حلف لیا، وزیراعظم کی سربراہی میں 24 اپریل کو نیشنل سیکورٹی کمیٹی کی میٹنگ ہوئی،پانچ ماہ بعد کابینہ ایف آئی اے کو آگاہ کرتی ہے کہ سائفر وزیراعظم ہاؤس سے غائب ہے،ایف آئی اے چھ دن بعد اس معاملے پر انکوائری سٹارٹ کر دیتی ہے،اگر سائفر وزیراعظم ہاؤس میں تھا تو کیا شہباز شریف اس کیس میں ملزم ہیں؟ انہیں شامل تفتیش کر کے بیان لیا گیا؟ نیشنل سیکورٹی کمیٹی کی میٹنگ سائفر کے بغیر کیوں کی گئی تھی؟ ایف آئی اے کا کیس ہے 33 دن سائفر عمران خان کے پاس رہا جبکہ یہی سائفر سابق وزیراعظم شہباز شریف کے پاس 169 دن رہا کیا شہباز شریف اس کیس میں ملزم ہیں ؟ کیا شہباز شریف کا بیان ریکارڈ کیا گیا ؟

    وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ ریکارڈ مینٹین کرنا اس کے آفس کی ذمہ داری ہوتی ہے ،اگر یہ کرمنل ایکٹ اعظم خان کو معلوم تھا تو وہ مدعی کیوں نہیں ؟اعظم خان 15 اگست کو ملزم ٹھہرتے ہیں ، پھر اعظم خان لاپتہ ہوتے ہیں پریشر دھمکی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ، یہ ڈاکومنٹری ثبوتوں کا کیس ہے کہاں ہیں وہ دستاویزات ؟ فزیکل ریمانڈ تو ان کو ملا نہیں ،نیشنل سکیورٹی کمیٹی میٹنگ کی پریس ریلیز عدالت کے سامنے پڑھی گئی ،وکیل نے کہا کہ میں صرف ضمانت کے کیس پر دلائل دے رھا ہوں کہ یہ مزید انکوائری کا کیس ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ
    کیا کابینہ کے میٹنگ منٹس سپریم کورٹ کے سامنے تھے ؟ اسپیشل پراسیکیوٹر نے کہا کہ کابینہ کے میٹنگ منٹس بھی کلاسیفائیڈ ہوتے ہیں ،سپریم کورٹ کے سامنے بھی پریس ریلیز ہی تھیں وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ جب پراسیکیوشن کے پاس کچھ نا ہو تو پھر شریک ملزمان کے بیانات کا سہارا لیا جاتا ہے ،اعظم خان کا بیان انہوں نے شامل کیا ہے حالانکہ وہ ایف آئی آر میں نامزد ہے ،عدالت اس معاملے سے آگاہ ہے کہ اعظم خان کے لاپتہ ہونے پر ایف آئی آر درج ہوئی تھی ،بیرسٹر سلمان صفدر نے اعظم کی گمشدگی کی ایف آئی آر عدالت میں پیش کردی اور کہا کہ قانون کے مطابق ایسے بیان کی کوئی حیثیت نہیں جو غیر قانونی حراست کے دوران دیا گیا ہو، ریکارڈ کی دیکھ بھال پرنسپل سیکرٹری کی ذمہ داری ہوتی ہے ، الزام ہے کہ سابق وزیر اعظم سائفر کو اپنے ساتھ لے گئے ،ایسی صورتحال میں تو اس مقدمے کا مدعی اعظم خان کو ہونا چاہئیے تھا ،

    سائفر کیس عمران خان کی درخواست ضمانت پر سماعت ، سلمان صفدر کے دلائل مکمل ہو گئے، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ عدالت پلیز آج ضمانت پر فیصلہ کر دے ، پیر کے روز ٹرائل کورٹ فرد جرم عائد کرنے لگے ہیں ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں نے پہلے بھی کہا تھا جب دلائل مکمل ہو جائیں گے دو تین دن فیصلے میں لگیں گے جتنا وقت آپ کو دیا ہے اتنا وقت پراسیکیوشن کو بھی دوں گا

    اسپیشل پراسیکیوٹر راجہ رضوان عباسی نے دلائل کا آغاز کر دیا ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ شروع کریں سوا چار بجے تک ، پھر آئندہ دلائل ہوں گے ،اسپیشل پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے کہا کہ ” قانون کے پرانے ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ اس کا عمل نہیں ہو گا 1960 میں آفیشل سیکریٹ ایکٹ کو آرمی ایکٹ کا حصہ بنا دیا گیا اگر وہ چاہییں تو فوجی عدالتوں میں بھی ٹرائل ہو سکتا ہے لیکن یہ ضروری نہیں "، عدالت نے استفسار کیا کہ کوئی وزیر اعظم ، صدر ، گورنر آتے ہیں کیا پوری زندگی وہ آفیشل سیکرٹ کو ظاہر نہیں کر سکتے؟اسپیشل پراسیکیوٹر نے کہا کہ بالکل پوری زندگی وہ ڈسکلوز نہیں کر سکتے،یہ ایسا ڈاکومنٹ ہے جس کو آپ اپنے پاس نہیں رکھ سکتے وہ واپس جانا ہے، یہ سیکریٹ ڈاکومنٹ تھا ڈی کلاسیفائیڈ بھی نہیں ہوا اور ہو بھی نہیں سکتا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چالان کے ساتھ جو ڈاکومنٹ ہیں کیا سائفر کی کاپی اس کے ساتھ منسلک ہے، اسپیشل پراسیکیوٹر نے کہا کہ چالان کے ساتھ سائفر کی کاپی نہیں لگ سکتی ،گواہوں کے بیانات بھی ہیں وزارت خارجہ سے متعلق بھی گواہ ہیں،عدالت نے استفسار کیا کہ نا کوڈڈ نا ہی ڈی کوڈڈ سائفر چالان کا حصہ ہے؟ اسپیشل پراسیکیوٹر نے کہا کہ سیکریٹ ہونے کی وجہ سے اس کو چالان ہے ساتھ منسلک کر نہیں سکتے،

    سائفر کیس کی سماعت پیر تک ملتوی کر دی گئی، اسپیشل پراسیکیوٹر دلائل جاری رکھیں گے

    خیال رہے کہ عمران خان نے بیرسٹر سلمان صفدر ایڈووکیٹ کی وساطت سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں سائفر گمشدگی کیس میں درخواست ضمانت دائر کی، جس میں چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے استدعا کی گئی کہ انہیں ضمانت پر اٹک جیل سے رہا کیا جائے درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ استغاثہ نے بدنیتی پر مبنی مقدمہ درج کیا14 ستمبر کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت نے درخواست ضمانت مسترد کی خصوصی عدالت کی جانب سے بے ضابطگیوں اور استغاثہ کے متعدد تضادات کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا۔

    سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی ضمانتیں مسترد ہونے کا 7 صفحات کا تفصیلی فیصلہ جاری کیا گیا تھا،تفصیلی فیصلے میں عدالت نے کہا کہ ” عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے خلاف ناقابل تردید شواہد ہیں جو ان کا کیس سے لنک ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں ریکارڈ کے مطابق ملزمان آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی سیکشن 5 اور 9 اور ناقابل ضمانت دفعات کے جرم کے مرتکب ٹھہرے ، ضمانتیں خارج کرنے کے لیے مواد کافی ہے ہمیں یہ مدنظر رکھنا چاہیے یہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کا ٹاپ سیکرٹ کیس ہے آئندہ سماعت پر غیر متعلقہ افراد پر دوران سماعت پابندی ہو گی عدالتی ہداہت کے باوجود پٹشنرز کی جانب سے سرٹیفکیٹ نہیں دیا گیا میرٹ اور سرٹیفکیٹ دینے کے عدالتی آرڈر پر عمل نا کرنے کی وجہ سے ضمانت خارج کی جاتی ہے

    عدالت نے اپنے آرڈر میں ایف آئی اے پراسیکیوٹرز کے دلائل لکھتے ہوئے کہا ہے کہ ” پراسیکیوشن کے مطابق 161 کے بیانات کے مطابق عمران خان کی جانب سے سائفر کو غیر قانونی طور پر اپنے پاس رکھنا ثابت ہے اور انہوں نے غیر متعلقہ افراد کے سامنے سائفر معلومات گھما پھیرا کر شئیر کیں، جس نے بیرونی طاقتوں کو فائدہ پہنچایا اور پاکستان کی سیکیورٹی کو متاثر کیا ،

    جو کام حکومتیں نہ کر سکیں،آرمی چیف کی ایک ملاقات نے کر دیا

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو