Baaghi TV

Tag: سائفر کیس

  • سائفر کیس کا ٹرائل روکنے اور اخراج مقدمہ کی درخواستیں یکجا

    سائفر کیس کا ٹرائل روکنے اور اخراج مقدمہ کی درخواستیں یکجا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سائفر کیس کا ٹرائل روکنے اور اخراج مقدمہ کی درخواستیں یکجا کر دیں۔

    باغی ٹی وی: چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے سائفر ختم کرنے اور ٹرائل روکنے سے متعلق درخواستوں پر سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کی،وکیل چیئرمین پی ٹی آئی سردار لطیف کھوسہ نے دلائل دئیے ہوئے کہا کہ معاملہ ہائیکورٹ میں چل رہا ہے اور فیصلہ محفوظ ہے، لاہور ہائیکورٹ نے بھی ایف آئی اے کے کیس میں حکم امتناع جاری کیا ہوا ہے، سائفر کیس ٹرائل کورٹ میں کارروائی روکنے، فرد جرم عائد کرنے کے فیصلے کے خلاف درخواست ہے۔

    وکیل سردار لطیف کھوسہ کا کہنا تھا ہم نے بار بار کہا کہ جلدی نہ کی جائے معاملہ ہائیکورٹ میں چل رہا ہے، ہمیں آفیشل سیکریٹ ایکٹ سے متعلق کافی خدشات ہیں، کون سی سکیورٹی کا خطرہ ہے یا سیکریسی لیک ہو رہی ہے؟بھٹو صاحب نے بھی راجہ بازار میں تقریر میں ایسے ہی بتایا تھا تو کیا ہوا، میرے مؤکل قومی ہیرو ہیں اور دنیا جانتی مانتی ہے اب وہ بے گناہ جیل میں ہیں۔

    سندھی زبان کے مشہور افسانہ نگار، نثرنگار، شاعر اور صحافی،مدد علی سندھی

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کا کہنا تھا آج صرف متفرق درخواست لگی ہے، آپ کہیں تو میں مین کیس کے ساتھ لگا لوں، جس پر سردار لطیف کھوسہ کا کہنا ہے کہ بالکل آپ سائفر کیس اخراج کی درخواست کے ساتھ لگا دیں لیکن 17 تاریخ سے پہلے لگائیں۔

    جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا اُس روز یعنی 17 اکتوبر کو کیا ہونا ہے؟ جس پر وکیل چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا 17 اکتوبر کو بڑی بدمزگی ہونی ہے، ٹرائل چل رہا ہے، فرد جرم عائد ہونی ہےچیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا میں دیکھ لیتا ہوں اور اس پر آرڈر بھی کردوں گا، 17 اکتوبر سے پہلےکیس لگادوں گا۔

    سائفر کیس میں ملزمان پر فرد جرم عائد کرنے کا تحریری فیصلہ جاری

    بعد ازاں عدالت نے ٹرائل روکنے کی درخواست سائفر کیس اخراج مقدمہ کی درخواست کے ساتھ یکجا کرنے کے احکامات جاری کر دیئے-

  • سائفر کیس میں ملزمان پر فرد جرم عائد کرنے کا تحریری فیصلہ جاری

    سائفر کیس میں ملزمان پر فرد جرم عائد کرنے کا تحریری فیصلہ جاری

    اسلام آباد کی خصوصی عدالت نے سائفر کیس میں ملزمان پر فرد جرم عائد کرنے کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا-

    باغی ٹی وی: اسلام آباد کی خصوصی عدالت نے سائفر کیس میں ملزمان پر فرد جرم عائد کرنے کا 9 اکتوبر کا فیصلہ جاری کردیا ہے، اڈیالہ جیل کی سماعت کا تحریری فیصلہ جج ابوالحسنات نے جاری کیا ہے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ 9 اکتوبر کو چالان کے نقول فراہم کرنے کیلئےسماعت مقرر کی تھی، چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کو کمرہ عدالت میں لانے کی ہدایت کی گئی۔

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کے وکلا سماعت روکنے کیلئے کوئی عدالتی حکم سامنے نہیں لاسکے، اور انہوں نے معمول کے مطابق دلائل دینے کی استدعا کی، تاہم پی ٹی آئی وکلا کے مطابق ٹرائل ان کیمرہ نہیں ہونا چاہیے، ان کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواستِ ضمانت زیرالتوا ہے شاہ محمود قریشی کے وکلا نے اوپن کورٹ میں سماعت سننے کی نئی درخواست دائر کی ہے۔

    تیز رفتار مسافر بس الٹ جانے سے متعدد افراد زخمی

    تحریری فیصلے کے مطابق عدالت نے ملزمان کو چالان کے نقول فراہم کیے، دستخط کرنے بھی کی ہدایت کی، چالان کے نقول قانون کے مطابق فراہم کردیئے گئے، اور ملزمان کو آئندہ سماعت پر دستخط کرنے کا حکم دیا جاتا ہے، ملزمان نے اگر نقول پر دستخط نہ بھی کیے تو دستخط غیر مؤثرسمجھے جائیں گے کیونکہ چالان وصول ہوچکا ہے آئندہ سماعت پر سختی سے قانون کے مطابق فردجرم عائد کی کاروائی کا آغاز کیا جائے گا۔

    نواز شریف کا سعودی عرب میں والہانہ استقبال

    فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وکلا نے چیئرمین پی ٹی آئی، شاہ محمود قریشی کے سیل کا مسلہ اُٹھایا، جس پر جج نے مسائل کو حل کرنے کیلئے اڈیالہ جیل میں سیل کا دورہ کیا، اور عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کے سیل کے سامنے قائم دیوار کو توڑنے کا حکم دیا 17 اکتوبر کو چیئرمین پی ٹی آئی اورشاہ محمود قریشی پر فرد جرم عائد کیا جائے گا۔

    سندھی زبان کے مشہور افسانہ نگار، نثرنگار، شاعر اور صحافی،مدد علی سندھی

  • سائفر کیس میں فرد جرم عائد کرنے کا حکم چیلنج

    سائفر کیس میں فرد جرم عائد کرنے کا حکم چیلنج

    اسلام آباد ہائیکورٹ: سائفر کیس میں فرد جرم عائد کرنے کا حکم چیئرمین پی ٹی آئی نے چیلنج کر دیا

    چیئرمین پی ٹی آئی نے 9 اکتوبر کے ٹرائل کورٹ حکم کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کر دی،چیئرمین پی ٹی آئی نے وکیل شیر افضل مروت کے زریعے درخواست دائر کی ، دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ ٹرائل کورٹ نے لکھا کیس کی نقول وصول کر لیں حالانکہ نقول وصول نہیں کیں ، جیل سماعت کے خلاف ہائیکورٹ کے فیصلے کا بھی ٹرائل کورٹ نے انتظار نہیں کیا ، 9 اکتوبر کے آفیشل سیکرٹ ایکٹ خصوصی عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے ،

    دوسری جانب توشہ خانہ نیب تحقیقات اور القادر ٹرسٹ کیسز میں بھی عمران خان نے گرفتاری سے بچنے کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ میں متفرق درخواست دائر کردی ، عمران خان نے عدم حاضری پر ضمانت کی درخواستیں خارج کرنے کا احتساب عدالت کا فیصلہ پہلے ہی چیلنج کررکھا ہے سردار لطیف کھوسہ کے ذریعے دائر متفرق درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ” دس اگست کے احتساب عدالت کے فیصلے پر عملدرآمد روکا جائے اپیل پر حتمی فیصلے تک عمران خان کی گرفتاری سے بھی روکنے کے احکامات جاری کئے جائیں ”

    واضح رہے کہ خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے سائفر کیس میں چئیرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی پر فرد جرم عائد کرنے کیلئے 17 اکتوبر کی تاریخ مقرر کردی۔

    جو کام حکومتیں نہ کر سکیں،آرمی چیف کی ایک ملاقات نے کر دیا

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • سائفر کیس،عمران خان کی درخواست ضمانت پر سماعت جمعرات تک ملتوی

    سائفر کیس،عمران خان کی درخواست ضمانت پر سماعت جمعرات تک ملتوی

    اسلام آباد ہائیکورٹ: سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی،
    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے سماعت کی،چیئرمین پی ٹی آئی کی اہلیہ بشری بی بی کمرہ عدالت پہنچ گئیں ،چیئرمین پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان بھی کمرہ عدالت پہنچ گئی ،چیئرمین پی ٹی آئی کی لیگل ٹیم کمرہ عدالت پہنچ گئی،پٹیشنر چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر عدالت میں پیش ہوئے،سپیشل پراسیکیوٹرز راجہ رضوان عباسی، ذوالفقار عباس نقوی اور شاہ خاور بھی عدالت میں پیش ہوئے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے،

    چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر نے دلائل کا آغاز کردیا،وکیل سلمان صفدر نےسائفر کیس کی ایف آئی آر پڑھ کر سنا ئی.چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صرف 2 لوگ روسٹرم پر رہیں باقی بیٹھ جائیں ،عمران خان کی درخواست ضمانت پر اوپن کورٹ میں سماعت کا آرڈر دیا ہے، اگر کوئی ایسی چیز آتی ہے جو حساس ہو تو پھر دونوں وکلا کی مشاورت سے ان کیمرہ دلائل سنیں گے،شاہ خاور ایڈووکیٹ نے کہا کہ ہم کورٹ کی معاونت کرتے ہوئے بتا دیا کریں گے کہ فلاں بیان کا یہ حصہ کورٹ صرف خود پڑھ لے، ‘

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے دلائل کا آغاز کر دیا ،وکیل نے کہا کہ اس ایف آئی آر کا ہر کالم اہم ہے، سیکرٹری داخلہ یوسف نسیم کھوکھر کمپلیننٹ ہیں، آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت یہ مقدمہ درج کیا گیا،اب میں ایف آئی آر کے متن پر آتا ہوں، چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کو اس ایف آئی آر میں ملزم نامزد کیا گیا، الزام ہے کہ ذاتی مقاصد کے حصول کے لیے کلاسیفائیڈ ڈاکومنٹ کے حقائق کو ٹوئسٹ کیا گیا،ایف آئی آر کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی نے سیکرٹری اعظم خان کو میٹنگ منٹس تیار کرنے کا کہا ،سائفر کو غیر قانونی طور پر پاس رکھنے اور غلط استعمال کرنے کا الزام عائد کیا گیا،کہا گیا کہ اسد عمر اور محمد اعظم خان کے کردار کو تفتیش کے دوران دیکھا جائے گا،ایف آئی اے نے سیکرٹری داخلہ کے ذریعے آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا،عدالت نے استفسار کیا کہ مقدمہ کے چالان میں کتنے افراد کو ملزم بنایا گیا ہے؟ بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ چالان میں سابق وزیراعظم اور سابق وزیر خارجہ کو ملزم بنایا گیا ہے، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ سائفر کوڈڈ فارم میں آتا ہے، دہلی اور واشنگٹن سے آ رہے ہوں گے، انہیں ڈی کوڈ کرنے کا کیا طریقہ ہوتا ہے؟بیرسٹر سلمان صفدر نے عدالت میں کہا کہ ہر ایمبیسی میں ایسے تربیت یافتہ افراد ہوتے ہیں جو سیکرٹ کوڈز سے واقفیت رکھتے ہیں، سائفر فارن آفس میں آتا ہے، ڈی کوڈ ہونے کے بعد اس کی کاپیز بنتی ہیں،سائفر کی کاپیز پھر آرمی چیف سمیت چار آفسز میں تقسیم ہوتی ہیں،یہ سیکرٹ ڈاکومنٹ کی سیکرٹ کمیونی کیشن ہوتی ہے،

    آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے سیکشن پانچ اے کی سزا 14 سال اور سزا ئےموت ہے ،وکیل چیئرمین پی ٹی آئی

    سپیشل پراسیکیوٹر ذوالفقار عباس نقوی نے کہا کہ فارن سیکرٹری کی ڈومین ہوتی ہے کہ سائفر کس کس کو بھجوانا ہے، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کوئی سٹینڈرڈ پریکٹس نہیں کہ کس کس آفس کو لازمی جاتا ہے؟سپیشل پراسیکیوٹر شاہ خاور نے کہا کہ جی، یہ اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ سائفر کا پیغام کس نوعیت کا ہے، آخر میں اوریجنل سائفر رہ جاتا ہے، ڈی کوڈڈ ٹیکسٹ نہیں، بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ آفیشل سکریٹ ایکٹ 1923 کا سو سال پرانا قانون ہے، اس ایکٹ کے اندر کسی جگہ سائفر کا ذکر نہیں ،کہوٹہ پلانٹ کی تصاویر لے کر دشمن ملک کو دے دوں، اس پر لگتا ہے آفیشل سیکرٹ ایکٹ، آفیشل سیکرٹ ایکٹ میں چودہ سال قید یا موت کی سزا ہے،کسی دشمن ملک سے سائفر شیئر نہیں کیا، قومی سلامتی کے حوالے سے ایسا کچھ نہیں کیا، چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ دشمن ملک کس کو کہیں گے؟ عموما جنگ کے موقع پر ہوتا ہے کہ یہ فلاں دشمن ملک ہے. وکیل نے کہا کہ یہاں کلبھوشن جادھو، ابھی نندن یا کہوٹہ پلانٹس کے نقشے بنانے کا واقعہ نہیں ہے، پہلے یہ قانون پڑھا اور پھر کہانی لکھ کر تمام وہی الفاظ شامل کر دیے گئے، اس قانون کو بہتر کرنے کی کبھی ضرورت پیش نہیں آئی، اب اس میں ترمیم کر کے سائفر کو شامل کیا گیا، کوشش کی گئی کہ تبدیلی لے آئیں مگر اس کا اطلاق اس ایف آئی آر پر نہیں ہو سکتا،بدنیتی کی بنا پر قانون میں نئی ترمیم کی گئی،آفیشل سیکریٹ ایکٹ میں ترامیم چیلنج بھی کی جا چکی ہیں، سو سال میں اس قانون میں ترمیم نہیں کی گئی، ایف آئی آر درج ہونے کے بعد اس قانون میں ترمیم کی گئی،مجھے نئے قانون میں کوئی چیز ایسی لگی جو غلط ہو، جو تبدیلی قانون میں آئی وہ اس ایف آئی آر میں دیکھ بھی نہیں سکتے، سابق وزیراعظم اور وزیر خارجہ جو باہر سے پڑھے ہوں انکو نہیں پتا ہو گا کیا کرنا ہے، چیف جسٹس عامرفاروق نے استفسار کیا کہ دنیا میں ایسا کوئی سائفر کے حوالے سے کیس ہوا ہے، سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر شائد کوئی کیس چل رہا ہے اس متعلق ؟
    سلمان صفدر کی جانب سے سکریٹ ایکٹ سے متعلق مختلف فیصلوں کے حوالے دیئے گئے،اور کہا گیا کہ ماضی میں کبھی بھی صرف آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت ٹرائل نہیں ہوا، ہمیشہ آرمی ایکٹ، نیوی یا ایئر فورس کے قوانین کے ساتھ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کا اطلاق کیا گیا، یہ کیسز آرمی افسران کے خلاف ڈیفنس معاملات میں چلائے گئے

    چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل کی جانب سے سات مختلف کیسز کے حوالہ جات پیش کیے گئے،وکیل نے کہا کہ اس کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری کو دو ماہ ہو گئے ہیں،چیئرمین پی ٹی آئی کو سائفر کیس میں پندرہ اگست کو گرفتار کیا گیا تھا،
    پٹیشنر ایک سیاسی قیدی ہے، بیس سے زائد مقدمات میں ضمانت ملی کیونکہ وہ کیسز بدنیتی کی بنیاد پر بنائے گئے تھے، چیئرمین پی ٹی آئی کی عمر 71 سال ہے، بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں، سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، سیاسی مخالفین کی ایما پر مقدمات درج کیے گئے،چالیس کیسز صرف اسلام آباد اور دو سو کے قریب ملک بھر میں مقدمات درج کیے گئے،جس مقدمے میں ٹرائل کورٹ ایک دن کا بھی فزیکل ریمانڈ نا دے تو یہ بھی ضمانت کا گروانڈ ہے ،پراسیکیوشن نے ٹرائل کے فزیکل ریمانڈ نا دینے کے فیصلے کو چیلنج نہیں کیا ،میرے سے کسی قسم کی کوئی ریکوری نہیں ہوئی ،فزیکل ریمانڈ نا دینے کا ٹرائل کورٹ کا فیصلہ حتمی شکل اختیار کر چکا ہے ،16 اگست کو دئیے جانے والے ریمانڈ کے وقت نا ہماری حاضری ہے نا ہمیں پتہ چلا ،16 اگست کا ریمانڈ ہمیں 30 اگست کو پتہ چلا ،چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت پر سماعت جمعرات تک ملتوی کر دی گئی

    خیال رہے کہ عمران خان نے بیرسٹر سلمان صفدر ایڈووکیٹ کی وساطت سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں سائفر گمشدگی کیس میں درخواست ضمانت دائر کی، جس میں چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے استدعا کی گئی کہ انہیں ضمانت پر اٹک جیل سے رہا کیا جائے درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ استغاثہ نے بدنیتی پر مبنی مقدمہ درج کیا14 ستمبر کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت نے درخواست ضمانت مسترد کی خصوصی عدالت کی جانب سے بے ضابطگیوں اور استغاثہ کے متعدد تضادات کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا۔

    سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی ضمانتیں مسترد ہونے کا 7 صفحات کا تفصیلی فیصلہ جاری کیا گیا تھا،تفصیلی فیصلے میں عدالت نے کہا کہ ” عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے خلاف ناقابل تردید شواہد ہیں جو ان کا کیس سے لنک ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں ریکارڈ کے مطابق ملزمان آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی سیکشن 5 اور 9 اور ناقابل ضمانت دفعات کے جرم کے مرتکب ٹھہرے ، ضمانتیں خارج کرنے کے لیے مواد کافی ہے ہمیں یہ مدنظر رکھنا چاہیے یہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کا ٹاپ سیکرٹ کیس ہے آئندہ سماعت پر غیر متعلقہ افراد پر دوران سماعت پابندی ہو گی عدالتی ہداہت کے باوجود پٹشنرز کی جانب سے سرٹیفکیٹ نہیں دیا گیا میرٹ اور سرٹیفکیٹ دینے کے عدالتی آرڈر پر عمل نا کرنے کی وجہ سے ضمانت خارج کی جاتی ہے

    عدالت نے اپنے آرڈر میں ایف آئی اے پراسیکیوٹرز کے دلائل لکھتے ہوئے کہا ہے کہ ” پراسیکیوشن کے مطابق 161 کے بیانات کے مطابق عمران خان کی جانب سے سائفر کو غیر قانونی طور پر اپنے پاس رکھنا ثابت ہے اور انہوں نے غیر متعلقہ افراد کے سامنے سائفر معلومات گھما پھیرا کر شئیر کیں، جس نے بیرونی طاقتوں کو فائدہ پہنچایا اور پاکستان کی سیکیورٹی کو متاثر کیا ،

    جو کام حکومتیں نہ کر سکیں،آرمی چیف کی ایک ملاقات نے کر دیا

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • سائفرکیس :عمران خان اور شاہ محمود قریشی پر فرد جرم عائد کرنےکی تاریخ مقرر

    سائفرکیس :عمران خان اور شاہ محمود قریشی پر فرد جرم عائد کرنےکی تاریخ مقرر

    راولپنڈی: خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے سائفر کیس میں چئیرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی پر فرد جرم عائد کرنے کیلئے 17 اکتوبر کی تاریخ مقرر کردی۔-

    باغی ٹی وی :آفیشل سیکریٹ ایکٹ سائفر کیس کی سماعت سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر اڈیالہ جیل میں ہورہی ہے، خصوصی عدالت کےجج ابو الحسنات ذوالقرنین، ایف آئی اے کی تفتیشی ٹیم، شاہ محمود قریشی کی بیٹی اور بیٹا زین، پراسیکیوٹر ذوالفقار عباس نقوی اور چئیرمین پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر بھی اڈیالہ جیل اڈیالہ جیل پہنچ گئے ہیں۔

    کیس کی سماعت شروع ہوئی تو پی ٹی آئی کے وکلاء نے عدالت سے سماعت سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ آنےتک سماعت نہ کرنے کی استدعا کردی،دوران سماعت چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی میں چلان کی نقول تقسیم کی گئیں۔ جس کے بعد خصوصی عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود پر فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کیا، اور فرد جرم عائد کرنے کیلئے 17 اکتوبر کی تاریخ مقرر کردی عدالت نے ریمارکس دیئے کہ 17 اکتوبر فرد جرم کے ساتھ تمام سرکاری گواہان کی طلبی ہوگی۔

    دہشتگردوں سے برا سلوک کیا جا رہا ہے،پنجرے میں بند کیا گیا ہے،عمران خان
    راولپنڈی: شیر افضل مروتنے اڈیالہ جیل سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج کی کارروائی میں جج صاحب نے چیئرمین پی ٹی آئی سے تلخ باتیں کرنے کی کوشش کی،جو انکا حق نہیں تھا ،آج فاضل جج نےاپنے آرڈر پر عملدرآمد کرانے کے لئے بہت دلائل دیئے ،آج ہم نے فرد جرم پر دستخط نہیں کئے ،چیئرمین نے کہا کہ دہشتگردوں سے برا سلوک کیا جا رہا ہے،پنجرے میں بند کر رکھا ہے،واک کی جگہ بھی نہیں ہے ،آج کارروائی ملتوی ہو گئی ہے،پیر کو سماعت ہو گی ،جج چیئرمین کو لیکر جیل کے اندر لےگئے ہیں،آرڈر لکھوایا ہے کہ انکو واک کی مناسب سہولت دی جائے مآج جو آرڈر ہوا ہے اسے چیلنج کر رہے ہیں ،آج چیئرمین میرا خیال ہے تھوڑا غصہ میں تھے، انکو ورکنگ سپیس اور ایکسرسائز مشین تک نہیں دے رہے

    عمران خان کے وکیل نعیم حیدر نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ آج جیل کے اندر خان صاحب سے ملاقات ہوئی،ٹرائل کو جیل میں کیا جا رہا ہے،اسی طرح سے ان کیمرہ سماعت کی جاری ہے ،ہماری طرف سے بڑا واضح کہا گیا کہ جیل کے اندر سماعت کر کے کیسے فیئر ٹرائل کیا جا سکتا ہے ،ایسے بند کمرے میں جیل میں دیے گئے فیصلہ کو نہ ہم مانیں گے نہ قوم مانے گی.ہائی کورٹ میں اوپن ٹرائل اور جیل کے اندر عدالت لگانے کے نوٹیفیکشن کو ہم نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہواہے اس کا فیصلہ آنے دیا جاۓ جو کہ کئی ہفتوں سے محفوظ ہے.اور دوسرا آج ہائی کورٹ میں ضمانت پر سماعت کا معاملہ 2 بجے فکس ہے.لہذا سماعت ملتوی ہو گئی.

    ایک اور ٹویٹ میں وکیل کا کہنا تھا کہ آج پھر خان صاحب کو جہاں پر عدالت لگی ہوئی تھی وہاں نہیں لایا جا رہا تھا بلکہ کمرہ کے ساتھ پنجرہ نما سیل تھا جس میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو لایا گیا اور عدالت نے کہا کہ کمرہ میں لے آئیں،آخری تاریخ پر بھی یہ ہی کیا گیا ،عدالت کو ہم نے بتایا کہ جب ہائی کورٹ نے حکم دیا ہوا ہے کہ جیل مینول کے مطابق ان کو حق دیا جاۓ تو نہ ہائی کورٹ کا حکم مانا جا رہا نہ آپ کا،اور اب کیوں کہ خان صاحب آپ کی کسٹڈی ہیں اور آپ اپنا حکم یقینی بنائیں ،2:30 مہینے ہو گئے ہیں خان صاحب سے ان کے بچوں کی فون پر بات نہیں کروائی جا رہی ،حالانکہ یہ اجازت آپ کی کورٹ نے دی ہوئی ہے لیکن کوئی حکم کی تعمیل نہیں کر رہا،خان صاحب کی سیفٹی اور ان کے حقوق کی آپ نے پروٹیکشن کرنی ہے،

    ایک اور ٹویٹ میں وکیل کا کہنا تھا کہ عمران خان ببر شیر ہے وہ ڈٹا ہوا صرف ہماری آزادی کے لیے،عمران خان کا قصور صرف یہ ہے کہ اس نے غلامی سے انکار کیا اور ابسلوٹلی ناٹ کہا،مجھے فخر ہے ان پر جس دلیری سے وہ جھوٹے مقدمے میں جیل کاٹ رہے ہیں،عمران خان صاحب نے پھر مطالبہ کیا ہے 9 مئی کے حوالے سے آزاد اور غیر جانبدار اعلی سطح پر تحقیقات کی جائیں،

    واضح رہے کہ 30 ستمبر کو وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے کیس سے متعلق چالان آفیشل سیکرٹ ایکٹ خصوصی عدالت میں جمع کرایا جس میں چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی قصوروار قرار دیا گیا ہے ایف آئی اے نے عدالت میں جمع کرائے گئے چالان میں عمران خان اور شاہ محمود کو ٹرائل کر کے سزا دینے کی استدعا کی ہے۔

  • سائفر کیس: عمران خان کی درخواست ضمانت پر ان کیمرا کارروائی کی درخواست نمٹادی

    سائفر کیس: عمران خان کی درخواست ضمانت پر ان کیمرا کارروائی کی درخواست نمٹادی

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کی سائفر کیس میں درخواست ضمانت پر ان کیمرا کارروائی کی درخواست نمٹادی۔

    باغی ٹی وی: اسلام آبادہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ایف آئی اےکی درخواست پر فیصلہ سنایا جس میں عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی سائفر کیس میں درخواست ضمانت پر ان کیمرا کارروائی کی درخوست نمٹادی،اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلے میں کہا کہ سائفرکیس میں درخواست ضمانت کی سماعت 9 اکتوبرکو اوپن کورٹ میں ہوگی وکلاجن معلومات یا دستاویزات کے حساس ہونےکی نشاندہی کریں گے اس پردلائل ان کیمراسنے جائیں گے۔

    وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ چونکہ سائفر کیس ٹرائل کورٹ میں ان کیمرا چل رہا ہے اس لیے ہائیکورٹ میں ضمانت کی درخواست پر بھی ان کیمرا کارروائی کی جائے کیونکہ اس حوالے سے حساس معلومات ہیں اور عدالت کے سامنے ایسی معلومات، دستاویزات رکھنی ہیں جنہیں پبلک نہیں کیا جاسکتا ہے-

    بنوں میں ایک اور بچے میں پولیو وائرس کی تصدیق

    اینٹی کرپشن مقدمے میں خاور مانیکا کو جیل بھجوا دیا گیا

    بھارت: کلاؤڈ برسٹ کے بعد پیدا ہونے والی سیلابی صورتحال نے تباہی مچادی

  • سائفر کیس،سماعت اڈیالہ جیل میں ہو گی

    سائفر کیس،سماعت اڈیالہ جیل میں ہو گی

    سائفر کیس کی سماعت کل اڈیالہ جیل میں ہو گی، ہمیں جیل ٹرائل پر کوئی اعتراض نہیں، وزارت قانون نے این او سی جاری کر دیا۔

    آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کے جج ابو الحسنات محمد ذولقرنین نے وزارت قانون کو خط لکھا تھا جس کا جواب دے دیا گیا ہے، اب سائفر کیس کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہو گی،سائفر کیس کی سماعت خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین کریں گے، اس سے قبل سماعت اٹک جیل میں ہوئی تھی،

    آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کے جج ابو الحسنات محمد ذولقرنین نے وزارت قانون کو خط لکھا تھا،جج نے وزارت قانون کو خط میں کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو عدالت لانے کیلئے کوئی سکیورٹی کا کوئی خدشہ تو نہیں ۔ چیئرمین پی ٹی آئی ایم شخصیت اور سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں ۔ چیئرمین پی ٹی آئی کی سکیورٹی بھی عدالت کے مدنظر ہے ،عدالت نے خط کے ذریعے وزارت قانون سے قانون سے رائے طلب کر لی ،جج نے لکھا کہ اگر سکیورٹی خدشات نہیں ہیں تو کیس کی سماعت آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت میں ہی ہوگی ۔

    واضح رہے کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت میں چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کے خلاف سائفرکیس میں اہم پیشرفت ہوئی ہے- سائفر کیس کا چالان جمع ہونے کے بعد جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے نوٹس جاری کردیے-جج ابوالحسنات نے ریمارکس دیئے کہ گواہان کے بیانات ملزمان کو نوٹس جاری کرنے کے لیے کافی ہیں، چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی اڈیالہ جیل میں قید ہیں، چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی عدالت پیشی کے حوالے سے سپرٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو نوٹس جاری کیاجاتاہے، سپرنڈنٹ اڈیالہ جیل 4 اکتوبر کو چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کو عدالت پیش کرے-

     سائفر کیس،چیئرمین پی ٹی آئی نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست ضمانت دائر کردی

    سائفر کیس میں سابق وفاقی وزیر اسد عمر کی درخواست ضمانت قبل ازگرفتاری پر سماعت

    سائفر کیس کی اٹک جیل میں سماعت کیخلاف درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت

    سلمان رشدی کا وکیل، عمران خان کا وکیل بن گیا

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    امریکی سائفر کے بیانیہ پر سیاست کرنے والا خود امریکیوں سے رحم کی بھیک مانگنے پر مجبور،

    ایف آئی اے نے چالان آفیشل سیکرٹ ایکٹ خصوصی عدالت میں جمع کرا دیا ،چالان میں چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی قصوروار قرار دیئے گئے،ایف آئی اے نے چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کو ٹرائل کرکے سزا دینے کی استدعا کر دی،اسد عمر ملزمان کی لسٹ میں شامل نہیں ،سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان ایف آئی اے کے مضبوط گواہ بن گئے ،اعظم خان کا 161 اور 164 کا بیان چالان کے ساتھ منسلک ہے،

  • شاہ محمود قریشی کی درخواست پر ایف آئی اے کو نوٹس جاری

    شاہ محمود قریشی کی درخواست پر ایف آئی اے کو نوٹس جاری

    انسداد دہشتگردی عدالت ،شاہ محمود قریشی کی بینک جوائنٹ اکاؤنٹ کھلوانے کے لیے بائیو میٹرک کی اجازت کی درخواست پر سماعت ہوئی،

    کیس کی سماعت جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے کی ، آفیشل سیکرٹ ایکٹ خصوصی عدالت نے ایف آئی اے کو نوٹس جاری کرکے آج ہی جواب طلب کر لیا، وکیل علی بخاری نے کہا کہ شاہ محمود قریشی ایک ہی اکاؤنٹ ہولڈ کرتے ہیں ،شاہ محمود قریشی جیل میں ہیں اور روز مرہ امور چلانے کے لیے جوائنٹ اکاؤنٹ کھلوانا چاہتے ہیں ،بائیو میٹرک کے لیے بینک اسٹاف کو جیل جانے کی اجازت دی جائے ،شاہ محمود قریشی کا ایک بیٹا ہے وہ واحد خود کفیل ہیں ملازمین کو تنخواہیں بھی دینی ہے ، عدالت نے ایف آئی اے کو نوٹس جاری کرکے سماعت میں وقفہ کردیا

    شاہ محمود قریشی کو سائفر کیس میں گرفتار کیا گیا ہے، وہ اڈیالہ جیل میں قید ہیں، ایف آئی اے نے چالان میں شاہ محمود قریشی کو قصور وار قرار دیا ہے، سائفر کیس میں شاہ محمود قریشی کو چار اکتوبر کو عدالت نے پیش کرنے کی ہدایت کر رکھی ہے،

     سائفر کیس،چیئرمین پی ٹی آئی نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست ضمانت دائر کردی

    سائفر کیس میں سابق وفاقی وزیر اسد عمر کی درخواست ضمانت قبل ازگرفتاری پر سماعت

    سائفر کیس کی اٹک جیل میں سماعت کیخلاف درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت

    سلمان رشدی کا وکیل، عمران خان کا وکیل بن گیا

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    امریکی سائفر کے بیانیہ پر سیاست کرنے والا خود امریکیوں سے رحم کی بھیک مانگنے پر مجبور،

    ایف آئی اے نے چالان آفیشل سیکرٹ ایکٹ خصوصی عدالت میں جمع کرا دیا ،چالان میں چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی قصوروار قرار دیئے گئے،ایف آئی اے نے چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کو ٹرائل کرکے سزا دینے کی استدعا کر دی،اسد عمر ملزمان کی لسٹ میں شامل نہیں ،سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان ایف آئی اے کے مضبوط گواہ بن گئے ،اعظم خان کا 161 اور 164 کا بیان چالان کے ساتھ منسلک ہے،

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے سائفر اپنے پاس رکھا اور اسٹیٹ سیکرٹ کا غلط استعمال کیا ، شاہ محمود قریشی نے 27 مارچ کی تقریر کی پھر چیئرمین پی ٹی آئی کی معاونت کی ، چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی 27 مارچ کی تقریر کا ٹرانسکرپٹ سی ڈی منسلک ہے،ایف آئی اے نے 28 گواہوں کی لسٹ چالان کے ساتھ عدالت میں جمع کرا دی ،سیکرٹری خارجہ اسد مجید اور سابقہ سیکرٹری خارجہ سہیل محمود بھی گواہوں میں شامل ہیں،ایڈیشنل سیکرٹری خارجہ فیصل نیاز ترمزی بھی ایف آئی اے کے گواہوں میں شامل ہیں، سائفر وزارت خارجہ سے لیکر وزیراعظم تک پہنچنے تک تمام چین گواہوں میں شامل ہیں

  • عمران خان سائفر کیس:ایف آئی اے کی سماعت اِن کیمرہ کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    عمران خان سائفر کیس:ایف آئی اے کی سماعت اِن کیمرہ کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    ‏اسلام آباد ہائیکورٹ: چیئرمین پی ٹی آئی کی سائفر کیس میں درخواست ضمانت پر سماعت پر چیف جسٹس ہائیکورٹ نے ریمارکس دیئے کہ لائیو سٹریمنگ ہو گی ضرور ہو گی،ہم نے یہ معاملہ فُل کورٹ کے سامنے رکھا ہے-

    باغی ٹی وی: ضمانت کی درخواست پر اِن کیمرہ سماعت کی ایف آئی اے کی درخواست پر بھی سماعت جاری ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق درخواست پر سماعت کر رہے ہیں،چیف جسٹس نے استفسارکیا کہ کیا آپ نے ایف آئی اے کی اِن کیمرہ سماعت کی درخواست دیکھ لی ہے،وکیل چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ میں عدالت کے سامنے کچھ گزارشات رکھنا چاہتا ہوں، چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ پراسیکیوشن نے درخواست دی ہے پہلے انہیں دلائل دینے دیں، ٹرائل کا معاملہ الگ ہے، کیا ضمانت کی سماعت بھی اِن کیمرہ ہو سکتی ہے؟

    چیف جسٹس نے وکلاء سے مکالم مجھے اس حوالے سے تو نہیں معلوم، آپ بھی دیکھ لیجئے گا، پراسکیوٹر نے کہا کہ درخواست ضمانت کی سماعت کے دوران کچھ اہم دستاویزات اور بیانات عدالت کے روبرو رکھنے ہیں ، سپیشل پراسیکیوٹر نے کہا کہ کچھ ملکوں کے بیانات بھی ریکارڈ پر لانے ہیں ، پراسیکیوٹر نے کہا کہ یہ کارروائی پبلک ہوگی تو کچھ ممالک کیساتھ تعلقات متاثر ہوسکتے ہیں ،

    شاہ خاور ایڈووکیٹ نے کہا کہ سائفر ایک سیکرٹ دستاویزات ہے، اس دستاویز کو ڈی کوڈ کون کرے گا؟ چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ سائفر سے متعلق کوئی کوڈ آف کنڈکٹ یا ایس او پی ہے تو بتا دیں ، میں نے آج تک ان کیمرہ کی درخواست منظور نہیں کی لیکن آپ دلائل دیں سائفر کا کوڈ آف کنڈکٹ بتادیں ، معمول کے مطابق ہم بھی باہر بھجواتے ہوں گے ،جو یہاں سفارتکار ہیں وہ بھی سائفر بھجواتے ہونگے اس دستاویز کو ڈی کوڈ کون کرے گا؟

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل عدالت میں پیش ہوئے ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے سائفر کے کوڈ آف کنڈکٹ سے متعلق آگاہ کیاسائفر سے متعلق کوڈ آف کنڈکٹ عدالت میں پڑھا جارہا ہے-

    منور دگل ایڈووکیٹ نے کہا کی کوڈڈ پیغام ہر ملک کا الگ ہے،شاہ خاور ایڈووکیٹ نے کہا کہ سائفر ایک خفیہ دستاویزات ہے جسے ہر صورت خفیہ رکھا جاتا ہے،سائفر وزارت خارجہ آتا ہے، عدالت نے کہا کہ سائفر کا اصل گھر وزارت خارجہ ہے، سائفر آتے کیسے ہیں؟-

    پراسیکیوٹر شاہ خاور ایڈووکیٹ نے کہا کہ ای میل یا فیکس کے زریعے کوڈڈ فارم میں آتا ہے،سائفر کو ڈی کوڈ کیا جاتا ہے، بیرون ممالک پاکستان کے سفارت خانوں سے کوڈڈ سائفر بھیجے جاتے ہیں، دفتر خارجہ میں سائفر کو ڈی کوڈ کیا جاتا ہے، چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کہ کیا یہ تمام کوڈز یونیورسل ہوتے ہیں؟

    پراسیکیوٹر نے کہا کہ صدر، وزیراعظم، آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کو سائفر کاپی بھیجی جاتی ہے، سائفر نے تمام جگہوں سے ہو کر واپس دفتر خارجہ آنا ہوتا ہے، دفتر خارجہ میں پہنچنے پر ڈی کوڈ کئے گئے سائفر کو ختم کر دیا جاتا ہے، صرف اصل سائفر دفتر خارجہ میں موجود رہتا ہے-

    سلمان صفدر ایڈووکیٹ نے کہا کہ گزشتہ سماعت پر کہا گیا کہ ہم ایک درخواست دینا چاہتے ہیں، ہم نے کہا تھا جس کو کمرہ عدالت سے باہر نکالنا ضروری ہے نکال دیں ، وکیل چیئرمین پی ٹی آئی سلمان صفدر نے ان کیمرہ سماعت کی درخواست پر دلائل کا آغاز کردیا کہا کہ
    گزشتہ سماعت پر کہا گیا کہ ہم ایک درخواست دینا چاہتے ہیں، ہم نے کہا تھا جس کو کمرہ عدالت سے باہر نکالنا ضروری ہے نکال دیں ، چیئرمین پی ٹی آئی پر سائفر کو پبلک کرنے کا مقدمہ درج کیا گیا، پراسیکیوشن کی سماعت اِن کیمرہ کرنے کی درخواست ہی اُس سے متضاد ہے، ایف آئی اے کی درخواست ہے کہ سماعت اِن کیمرہ کریں کیونکہ کچھ پبلک نہ ہو اگر سائفر پہلے پبلک ہو چکا تو پراسیکیوشن اب کس چیز کو پبلک نہیں ہونے دینا چاہتی-

    چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ میں نے 9 سالوں میں کسی کیس کی اِن کیمرہ سماعت کی نہیں، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی پر سائفر کو پبلک کرنے کا مقدمہ درج کیا گیا، پراسیکیوشن کی سماعت اِن کیمرہ کرنے کی درخواست ہی اُس سے متضاد ہے، آج سرکاری وکلا نے مجھے بہت زبردست گراؤنڈ دیا ہے ، بسرکاری وکلا کہہ رہے ہیں کہ پبلک کو کچھ پتہ نہ چلے ، ایف آئی اے کی درخواست ہے کہ سماعت اِن کیمرہ کریں کیونکہ کچھ پبلک نہ ہو، اگر سائفر پہلے پبلک ہو چکا تو پراسیکیوشن اب کس چیز کو پبلک نہیں ہونے دینا چاہتی-

    بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ ہمارے تو سارے لوگ آج تیار ہوکر آئے تھے کہ آج عدالتی کارروائی براہ راست دیکھائی جائے گی، یہاں سرکاری وکلا کہہ رہے ہیں کہ سماعت کو ان کیمرہ کردیں،عوام کو کچھ پتہ نہ چلے –

    چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ کورٹ کی کارروائی براہ راست بھی ہوگی،ابھی اس پر کمیٹی کام کررہی ہے ،

    بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ ہمارے تو سارے لوگ آج تیار ہوکر آئے تھے کہ آج عدالتی کارروائی براہ راست دیکھائی جائے گی، یہاں سرکاری وکلا کہہ رہے ہیں کہ سماعت کو ان کیمرہ کردیں،عوام کو کچھ پتہ نہ چلے –

    چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ کورٹ کی کارروائی براہ راست بھی ہوگی،ابھی اس پر کمیٹی کام کررہی ہے ،چیف جسٹس نے اسلام آباد ہائیکورٹ کی عدالتی کارروائی براہ راست دکھانے کا عندیہ دیدیا-

    بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ پراسیکیوشن درخواست ضمانت پر اِن کیمرہ سماعت کی استدعا کر رہی ہے، ہم تو آج تیار ہو کر آئے تھے کہ سماعت کی لائیو سٹریمنگ ہو گی، چیف جسٹس عامر فاروق کے ریمارکس دیئے کہ لائیو سٹریمنگ ہو گی ضرور ہو گی،ہم نے یہ معاملہ فُل کورٹ کے سامنے رکھا ہے-

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایف آئی اے کی سماعت اِن کیمرہ کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا، چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ یہ فیصلہ کرنا ہے کہ سماعت اِن کیمرہ ہو گی یا اوپن کورٹ میں،کیس دوبارہ سماعت کیلئے مقرر کرنے کی تاریخ دینگے،، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ استدعا ہے کہ آئندہ سماعت ایک دو دن میں ہی رکھ لی جائے،چیف جسٹس نے کہا کہ آفس کیس سماعت کیلئے مقرر کر دے گا-

  • سائفر کیس میں چالان جمع ہوگیا ہے لیکن ہمیں اس کا ریکارڈ نہیں ملا،شعیب شاہین

    سائفر کیس میں چالان جمع ہوگیا ہے لیکن ہمیں اس کا ریکارڈ نہیں ملا،شعیب شاہین

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کی قانونی ٹیم کے رکن شعیب شاہین نے کہا کہ اطلاع ملی ہے کہ سائفر کیس میں چالان جمع ہوگیا ہے لیکن ہمیں اس کا ریکارڈ نہیں ملا۔

    باغی ٹی وی: اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو کئی خطرات لاحق ہیں، اڈیالا جیل میں بھی ان کے خلاف کوئی منصوبہ بنائے جانے کا پتا چلا ہے، اس معاملے پر ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ سے رجوع کیا جائے گا چیئرمین پی ٹی آئی کو اڈیالہ جیل میں بی کلاس دینے کے حوالے سے جھوٹ بولا جا رہا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ انہیں ایک چھوٹے سے سیل میں بند رکھا گیا ہے جہاں ان کی جان کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

    شعیب شاہین نے کہا کہ ایک شخص کی دشمنی میں پورے ملک کو داؤ پر لگا دیا گیا ہے انہوں نے مطالبہ کیا کہ سپریم کورٹ کے جج کی سربراہی میں ہائی پاور جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے جو معاملے کی انکوائری کرےشعیب شاہین نے گزشتہ دنوں ٹی وی ٹاک شو کے دوران پی ٹی آئی کے وکیل شیر افضل مروت اور ن لیگ کے ڈاکٹر افنان اللہ کے درمیاں ہونے والے واقعے پر کہا کہ ٹی وی شو میں غلط روایت قائم کی گئی اس کی حمایت نہیں کرتے، اس حوالے سے پارٹی قیادت کوئی فیصلہ کرے گی۔

    بھارتی حکومت کا عدم تعاون، افغانستان نے نئی

    وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود کے خلاف چالان عدالت میں جمع کرادیا۔ ایف آئی اے نے سائفر کیس کا چالان آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی عدالت میں جمع کرایا، جس میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان اور وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کو قصور وار قرار دیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ ایف آئی اے نے چالان میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو ٹرائل کرکے سزا دینے کی استدعا کی ہے۔

    ہائی وے اور موٹروے پر قانون کی خلاف ورزی پر