Baaghi TV

Tag: سائفر کیس

  • عمران خان نے شاید سائفر کو سیاسی رائفل سمجھ کر اپنے پاس رکھا تھا، فردوس عاشق اعوان

    عمران خان نے شاید سائفر کو سیاسی رائفل سمجھ کر اپنے پاس رکھا تھا، فردوس عاشق اعوان

    استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) کی ترجمان فردوس عاشق اعوان نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان پر اسٹیٹ سیکریٹ کے غلط استعمال کا الزام لگادیا۔

    باغی ٹی وی: سائفر کیس کا چالان جمع کرائے جانے پر رد عمل دیتے ہوئے فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے سائفر اپنے پاس رکھا اور اسٹیٹ سیکریٹ کا غلط استعمال کیا،جہاں کی اینٹ وہیں پر ٹھیک‘ ایف آئی اے کی جانب سے سائفر کیس کا چالان جمع کرانے کا خلاصہ ہے، عمران خان نے شاید سائفر کو سیاسی رائفل سمجھ کر اپنے پاس رکھا تھا۔

    فردوس عاشق اعوان کاعمران خان کو اناڑی قرار دیتے ہوئے کہنا تھا کہ یہ سائفر نما رائفل اناڑی نے اپنے آپ پر ہی چلالی ہے، اب اس رائفل کے دیے گئے زخموں سے خون رسنا شروع ہو چکا ہے،قومی راز قومی وقار اور تشخص کے حامل ہوتے ہیں، ان کو افشا کرنا سنگین جرم ہے، چئیرمین پی ٹی آئی اینڈ کمپنی سے یہ سنگین گناہ سرزد ہوا ہے، آفیشل سیکرٹ ایکٹ کورٹ معاملے کو اس کے منطقی انجام تک پہنچائے گی۔

    کراچی جناح انٹرنیشنل ائیر پورٹ پر چوہوں نے ایف

    واضح رہے کہ عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو قصوروار قرار دیا گیا ہے، چالان میں چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی قصوروار قرار دیئے گئے،ایف آئی اے نے چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کو ٹرائل کرکے سزا دینے کی استدعا کر دی،اسد عمر ملزمان کی لسٹ میں شامل نہیں ،سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان ایف آئی اے کے مضبوط گواہ بن گئے ،اعظم خان کا 161 اور 164 کا بیان چالان کے ساتھ منسلک ہے-

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے سائفر اپنے پاس رکھا اور اسٹیٹ سیکرٹ کا غلط استعمال کیا ، شاہ محمود قریشی نے 27 مارچ کی تقریر کی پھر چیئرمین پی ٹی آئی کی معاونت کی ، چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی 27 مارچ کی تقریر کا ٹرانسکرپٹ سی ڈی منسلک ہے-

    ن لیگ کا انتقامی سیاست اور اسٹیبلشمنٹ سے

    ایف آئی اے نے 28 گواہوں کی لسٹ چالان کےساتھ عدالت میں جمع کرا دی ،سیکرٹری خارجہ اسد مجید اور سابقہ سیکرٹری خارجہ سہیل محمود بھی گواہوں میں شامل ہیں،ایڈیشنل سیکرٹری خارجہ فیصل نیاز ترمزی بھی ایف آئی اے کےگواہوں میں شامل ہیں،سائفر وزا ر ت خارجہ سے لیکر وزیراعظم تک پہنچنے تک تمام چین گواہوں میں شامل ہیں-

  • سائفر کیس:چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت پر ایف آئی اے کو نوٹس جاری

    سائفر کیس:چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت پر ایف آئی اے کو نوٹس جاری

    اسلام آباد: ہائیکورٹ نے سائفر کیس میں گرفتار چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت بعد از گرفتاری پر ایف آئی اے کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔

    باغی ٹی وی : چیف جسٹس عامر فاروق نے چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت پر سماعت کی چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے بیرسٹر سلمان صفدر پیش ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی کے وکلا کی جلد سماعت کی بار بار استدعا پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ طریقہ کار موجود ہے، اسی کے مطابق آئندہ پیر تک درخواست ضمانت مقرر ہو جائے گی۔

    عدالت نے درخواست پر فیڈرل انویسٹیگیشن ایجنسی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت تک جواب طلب کرلیا آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت مسترد کر دی تھی جس کے بعد انہوں نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کر رکھا ہے۔

    چیف جسٹس قاضی فائزعیسی نے گارڈ آف آنرلینے سے انکار کردیا

    بالی ووڈ اداکارہ زرین خان کے وارنٹ گرفتاری جاری

    ملک میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان

    چیئرمین پی ٹی آئی 26 ستمبر تک جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہیں، خصوصی عدالت نے ایف آئی اے سے کیس کا چالان طلب کر رکھا ہے۔

  • سائفرگمشد گی کیس:چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت سماعت کیلئے مقرر

    سائفرگمشد گی کیس:چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت سماعت کیلئے مقرر

    اسلام آباد: سائفرگمشد گی کیس میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی درخواست ضمانت اسلام آبادہائیکورٹ میں سماعت کے لیے مقرر کردی گئی-

    باغی ٹی وی : اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت سماعت کے لیے مقرر کرتے ہوئے بینچ تشکیل دے دیا رجسٹرار آفس کی جاری کردہ کاز لسٹ کے مطابق چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس عامر فاروق پیر کو چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت کریں گے۔

    خیال رہے کہ عمران خان نے بیرسٹر سلمان صفدر ایڈووکیٹ کی وساطت سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں سائفر گمشدگی کیس میں درخواست ضمانت دائر کی، جس میں چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے استدعا کی گئی کہ انہیں ضمانت پر اٹک جیل سے رہا کیا جائے درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ استغاثہ نے بدنیتی پر مبنی مقدمہ درج کیا14 ستمبر کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت نے درخواست ضمانت مسترد کی خصوصی عدالت کی جانب سے بے ضابطگیوں اور استغاثہ کے متعدد تضادات کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا۔

    سائفر کیس،عمران خان نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست ضمانت دائر کردی

    واضح رہے کہ گزشتہ روز آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت قائم کی گئی خصوصی عدالت نے عمران خان کی درخواست ضمانت مسترد کردی تھی خصوصی عدالت کا تحریری فیصلے میں کہنا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی، شاہ محمود قریشی مقدمے میں ایک کردار کے تحت نامزد ہیں، عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے خلاف ناقابل تردید شواہد ان کا کیس سےلنک ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں ریکارڈ کے مطابق ملزمان آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی سیکشن 5 اور 9 اور ناقابل ضمانت دفعات کے جرم کے مرتکب ٹھہرے ہیں، ضمانتیں خارج کرنے کے لیے کافی مجرمانہ مواد ہے۔

    کوئٹہ میں ایرانی پٹرول کی مانگ میں اضافہ

    عدالت نے اپنے آرڈر میں ایف آئی اے پراسیکیوٹرز کے دلائل لکھتے ہوئے کہا ہے کہ ” پراسیکیوشن کے مطابق 161 کے بیانات کے مطابق عمران خان کی جانب سے سائفر کو غیر قانونی طور پر اپنے پاس رکھنا ثابت ہے اور انہوں نے غیر متعلقہ افراد کے سامنے سائفر معلومات گھما پھیرا کر شئیر کیں، جس نے بیرونی طاقتوں کو فائدہ پہنچایا اور پاکستان کی سیکیورٹی کو متاثر کیا –

    انضمام الحق نے چیف سلیکٹر کے عہدے سے استعفے کی دھمکی دے دی

  • سائفر کیس،عمران خان نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست ضمانت دائر کردی

    سائفر کیس،عمران خان نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست ضمانت دائر کردی

    اسلام آباد ہائیکورٹ ، سائفر کیس،چیئرمین پی ٹی آئی نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست ضمانت دائر کردی

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں عمران خان نے عدالت سے ضمانت پر رہا کرنے کی استدعا کی، عمران خان کی جانب سے انکے وکیل بیرسٹر سلمان صفدرنے درخواست ضمانت دائر کی ،اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ استغاثہ نے بدنیتی پر مبنی مقدمہ درج کیا ، چودہ ستمبر کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت نے درخواست ضمانت مسترد کی، خصوصی عدالت نے بے ضابطگیوں اور استغاثہ کے متعدد تضادات کو مکمل طور پر نظر انداز کیا، چیئرمین پی ٹی آئی کو بدنیتی سے اس من گھڑت مقدمے میں نامزد کیا گیا،آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت نے درخواست ضمانت مسترد کردی تھی

    سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی ضمانتیں مسترد ہونے کا 7 صفحات کا تفصیلی فیصلہ جاری کیا گیا تھا،تفصیلی فیصلے میں عدالت نے کہا کہ ” عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے خلاف ناقابل تردید شواہد ہیں جو ان کا کیس سے لنک ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں ریکارڈ کے مطابق ملزمان آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی سیکشن 5 اور 9 اور ناقابل ضمانت دفعات کے جرم کے مرتکب ٹھہرے ، ضمانتیں خارج کرنے کے لیے مواد کافی ہے ہمیں یہ مدنظر رکھنا چاہیے یہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کا ٹاپ سیکرٹ کیس ہے آئندہ سماعت پر غیر متعلقہ افراد پر دوران سماعت پابندی ہو گی عدالتی ہداہت کے باوجود پٹشنرز کی جانب سے سرٹیفکیٹ نہیں دیا گیا میرٹ اور سرٹیفکیٹ دینے کے عدالتی آرڈر پر عمل نا کرنے کی وجہ سے ضمانت خارج کی جاتی ہے

    عدالت نے اپنے آرڈر میں ایف آئی اے پراسیکیوٹرز کے دلائل لکھتے ہوئے کہا ہے کہ ” پراسیکیوشن کے مطابق 161 کے بیانات کے مطابق عمران خان کی جانب سے سائفر کو غیر قانونی طور پر اپنے پاس رکھنا ثابت ہے اور انہوں نے غیر متعلقہ افراد کے سامنے سائفر معلومات گھما پھیرا کر شئیر کیں، جس نے بیرونی طاقتوں کو فائدہ پہنچایا اور پاکستان کی سیکیورٹی کو متاثر کیا ،

    جو کام حکومتیں نہ کر سکیں،آرمی چیف کی ایک ملاقات نے کر دیا

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    سائفر کیس، ضمانتیں خارج کرنے کے لیے مواد کافی ہے،تحریری فیصلہ جاری

    سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی ضمانتیں مسترد ہونے کا 7 صفحات کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا گیا

    تفصیلی فیصلے میں عدالت نے کہا کہ ” عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے خلاف ناقابل تردید شواہد ہیں جو ان کا کیس سے لنک ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں ریکارڈ کے مطابق ملزمان آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی سیکشن 5 اور 9 اور ناقابل ضمانت دفعات کے جرم کے مرتکب ٹھہرے ، ضمانتیں خارج کرنے کے لیے مواد کافی ہے ہمیں یہ مدنظر رکھنا چاہیے یہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کا ٹاپ سیکرٹ کیس ہے آئندہ سماعت پر غیر متعلقہ افراد پر دوران سماعت پابندی ہو گی عدالتی ہداہت کے باوجود پٹشنرز کی جانب سے سرٹیفکیٹ نہیں دیا گیا میرٹ اور سرٹیفکیٹ دینے کے عدالتی آرڈر پر عمل نا کرنے کی وجہ سے ضمانت خارج کی جاتی ہے

    عدالت نے اپنے آرڈر میں ایف آئی اے پراسیکیوٹرز کے دلائل لکھتے ہوئے کہا ہے کہ ” پراسیکیوشن کے مطابق 161 کے بیانات کے مطابق عمران خان کی جانب سے سائفر کو غیر قانونی طور پر اپنے پاس رکھنا ثابت ہے اور انہوں نے غیر متعلقہ افراد کے سامنے سائفر معلومات گھما پھیرا کر شئیر کیں، جس نے بیرونی طاقتوں کو فائدہ پہنچایا اور پاکستان کی سیکیورٹی کو متاثر کیا ،

    خصوصی عدلت کے جج ابوالحسنات نے کہا کہ ایف آئی اے نے آج اگردلائل نہ بھی دیئےتو ریکارڈ دیکھ کرفیصلہ کردوں گا-اسلام آباد کی خصوصی عدالت میں سائفر کیس میں نامزد چیئرمین پی ٹی آئی، شاہ محمود قریشی اور اسدعمر کی ضمانت کی درخواستوں پرسماعت ہوئی،اسپیشل پراسیکیوٹرذوالفقارنقوی خصوصی عدالت کےسامن پیش ہوئے دوران سماعت ایف آئی اے پرو سیکیوٹرز نے سماعت ملتوی کرنےکی استدعا کردی، اور مؤقف پیش کیا کہ ہم نے سپریم کورٹ جانا ہے، سماعت میں وقفہ کیا جائے۔

    پی ٹی آئی کے وکیل نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ جب یہ لوگ مصروف ہوتے ہیں تو ہم عدالت میں موجود ہوتے ہیں، اور جب یہ فری ہوں گے تو اس وقت ہم ہائیکورٹ میں مصروف ہوں گے۔

    پراسیکیوٹر نے کہا کہ پراسیکویشن فری ہوگی تو جوڈیشل کمپلیکس پہنچ جائےگی عدالت نے پراسیکیوٹر ذوالفقار کی سماعت میں وقفے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے پی ٹی آئی وکلا کو درخواست ضمانت پر دلائل دینےکی ہدایت جاری کردی جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے ریمارکس دیئے کہ ایف آئی اے نے آج اگر دلائل نہ بھی دیئے تو ریکارڈ دیکھ کر فیصلہ کردوں گا، آج ہر صورت اس کیس کا فیصلہ کرنا ہے۔

    قطر سے اسلام آباد کی پرواز میں ہنگامی صورتحال،دوحہ ائیر پورٹ پرلینڈنگ

    پراسیکوشن ذوالفقار نقوی نے عدالت سے کہا کہ ملزم شامل تفتیش ہوتے ہیں، تفتیشی کسی کے پیچھے نہیں جاتے، یہ ابھی تک شامل تفتیش نہیں ہوئے، اگر یہ شامل تفتیش ہوتے تو ہوسکتا ہے یہ گناہ گار قرار دئیے جاتےعدالت نے پراسیکوشن سے استفسار کیا کہ آپ کے پاس موقع تھا تو آپ نے یہ کیوں نہیں کیا؟ایف آئی آر میں تو ان کا نام بھی واضح نہیں ہے، اسدعمر کی ضمانت کو الگ اور باقی 2 کا الگ فیصلہ کرنا ہے۔

    پی ٹی آئی کے وکیل بابراعوان نے پرا سیکوشن سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ مجھے بلائے تو میں آجاؤں گا۔

    چیرمین پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت پر وکیل سلمان صفدر کے دلائل دوبارہ شروع ہو گئے، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ سائفرکیس کا مدعی وزارت داخلہ کا افسر ہے، وزارت داخلہ نے سائفرکیس ہائی جیک کیا،سائفر واشنگٹن سے بھیجا گیا جس کی وصولی وزارتِ خارجہ نے کی،چیرمین پی ٹی آئی پر سائفرکیس میں ذاتی مفادات حاصل کرنے کا الزام ہے ،چیرمین پی ٹی آئی پر سائفرکیس میں قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے کا بھی الزام ہے،اعظم خان کا ذکر مقدمے میں ہے، کیا اعظم خان عدالت ہیں؟ کیا اعظم خان کی ضمانت منظور ہوئی؟ پراسیکیوشن نے ثابت کرنا ہے کہ سائفر کا اصلی اور نقلی ورژن کیا تھا، پراسیکیوشن نے ثابت کرنا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی سےقومی سلامتی کو کیا نقصان ہوا،الزام لگایا گیاکہ چیئرمین پی ٹی آئی نے جان بوجھ کر سائفر کو اپنی تحویل میں رکھا،کیس ہے کہ سائفر غلط رکھا اور غلط استعمال کیا، ثابت کرنا پراسیکیوشن کا کام ہے ،قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے کے لیے چیرمین پی ٹی آئی نے کوئی ایسا کام نہیں کیا،سایفر ہےکیا؟ بےشک کوڈڈ دستاویز ہوتا جس میں کمیونیکیشن ہوتی،

    آفیشل سیکرٹ ایکٹ1923 تو لگتا ہی نہیں ہے چیرمین پی ٹی آئی کوئی جاسوس نہیں، سابق وزیراعظم ہیں،وکیل
    جج ابوالحسنات نے کہا کہ سائفر ہے کیا؟ اس پر ضروربات کرنی ہے، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ سائفر ٹریننگ شدہ افراد کے پاس آتا ہے، عام انسان نہیں پڑھ سکتا،جج ابوالحسنات نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وزارتِ خارجہ سائفر کی وصولی کرتاہے، سائفر آیا اور کہاں گیا؟ سائفرکیس یہ ہے ،سائفر کے 4 نقول آتے جن میں آرمی چیف، وزیراعظم شامل ہوتے،آج کسی کلبھوشن یادیو یا ابھینندن کا کیس نہیں سنا جارہا، سائفرکیس بہت خطرناک کیس بنایا گیا ہے، آفیشل سیکرٹ ایکٹ1923 تو لگتا ہی نہیں ہے چیرمین پی ٹی آئی کوئی جاسوس نہیں، سابق وزیراعظم ہیں،دورانِ ٹرائل معلوم ہوگا کہ سائفر پر بیان سے ملک کو بچایا گیا یا ملک دشمن قوتوں کی سہولت کاری کی،جرم دشمن ملک سے حساس معلومات شئیر کرنا ہے، سیکرٹ ایکٹ تو لاگو ہی نہیں ہوتا،ایف آئی اے سے تو کوئی امید نہیں، امید صرف عدالت سے ہے،

    جج ابوالحسنات نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دو کیٹیگریز کی لسٹ ہے، بہت اہم بات کرنے لگا ہوں، سیکشن 5، سیکشن 3 کیا لاگو ہوتا ہے یا نہیں ؟ سائفرکیس سب اس پر ہے! اگر جرم ثابت ہوتا تو سیکشن 3 اے لاگو ہوتی ہے،سائفر وزارتِ خارجہ سے وزیراعظم کو ملا، لیکن سائفر ہے کہاں؟ وزیراعظم، ڈی جی آئی ایس آئی، آرمی چیف، وزارت خارجہ کا سائفر ڈاکیومنٹ الگ الگ ہے،

    سلمان صفدر نے عدالت سے استدعا کی کہ سر میں پانی پیوں؟ جج نے کہا کہ میرا تو 70 روپے کا نقصان ہوا ہے، چائے ہی نہیں پی، آپ پانی پئیے تاکہ frustration نہ ہو ، جج نے سلمان صفدر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ دلائل کو جاری رکھے، ہائی کورٹ کسی کو بھیج کر ٹائم لیں، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ سائفرکیس میں ملک دشمن عناصر سے کچھ بھی شئیر نہیں کیا گیا،قومی سلامتی کا معاملہ ہے، اگر رات گئے بھی بیٹھنا پڑے تو کوئی نہیں گھبرائے گا،اب معلوم کرناہے سائفر کیس سیکشن 3 اے کا ہے یا سیکشن 3 بی کا،پراسیکیوشن بتائےکہ بیرون ملک کس کو چیرمین پی ٹی آئی کے سائفرپر بیان سے فائدہ ہوا،ایف آئی اے نے قانون کو توڑ مڑوڑ کر سائفر کیس بنایا جو قابل ضمانت ہے سائفر کیس تو بنایا ہی بیرون ملک طاقتور کے ساتھ معلومات شئیر کرنے پر ہے، ایسا تو کچھ بھی نہیں،سائفر کبھی منظر عام پر نہیں لیا گیا، وزیر داخلہ خود کہہ رہے ہیں کہ سائفر دفتر خارجہ میں موجود ہیں،مجھے نہیں علم تھا کہ عمران خان سائفر کیس میں گرفتار ہوگئے ہیں،عطا تارڑ کو یہ علم تھا کہ وہ گرفتار ہو گئے ہیں اور جوڈیشل ریمانڈ پر بھیج دیا گیا ہے،

    عمران خان کے وکیل سلمان صفدر کے دلائل ” ایف آئی آر میں ایف آئی اے نے جو سائفر کیس بنانے کی کوشش کی اس کا اہم لنک تو مسنگ ہے اعظم خان کہاں ہے ؟ ان کی تو ضمانت بھی نہیں ہوئی ؟ وہ عدالت میں بھی موجود نہیں ؟

    سائفر کیس کے مقدمے میں سب کے نام جلد بازی میں نامزد کئے گئے ،سائفر کیس کا مدعی وزارت داخلہ کا افسر ہے،وکیل عمران خان
    وکیل چیئرمین پی ٹی آئی سلمان صفدر نے تحریری دلائل لکھوائے سلمان صفدر نے کہا کہ تاریخ میں کسی کو سیاسی انتقام کا اتنا نشانہ نہیں بنایا جتنا چیئرمین پی ٹی آئی کو بنایا گیا،چیئرمین پی ٹی آئی محب وطن پاکستانی ہیں،بطور وزیراعظم انہوں نے ملکی خود مختاری کا سوچا،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف 180 سے زائد کیسز درج کئے گئے ،140سے زائد کیسز چیئرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری سے قبل درج ہوئے،ایف آئی اے نے مذموم مقاصد، غلط اتھارٹی استعمال کرتے سائفر مقدمہ درج کیا، سائفر کیس کے مقدمے میں سب کے نام جلد بازی میں نامزد کئے گئے ،سائفر کیس کا مدعی وزارت داخلہ کا افسر ہے وزارت داخلہ نے سائفر کیس ہائی جیک کیا سائفر واشنگٹن سے بھیجا گیا جس کی وصولی وزارت خارجہ نے کی ،عمران خان پر سائفر کیس میں ذاتی مفادات لینے کا الزام ہے چیئرمین پی ٹی آئی پر سائفر کیس میں قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے کا بھی الزام ہے ، اگر کوئی ڈاکومنٹ اس عدالت سے یا وزیراعظم آفس سے گم ہو بھی جائے تو اس کا اسٹاف سے پوچھا جائے گا اس نے خیال کرنا ہوتا ہے وہی زمہ دار ہوتا ہے سپریم کورٹ نے رولنگ کیس میں سائفر کو اپنے فیصلے میں مکمل ڈسکس کیا لیکن کہیں نہیں کہا ایکشن لیں ایف آئی آر کا اندراج کیا جائے

    وکیل سلمان صفدر کے دلائل مکمل ہوئے تو بابر اعوان نے دلائل دیئے، بابر اعوان نے کہا کہ شاہ محمود قریشی کی رہائش گاہ پر چھاپا ماراگیا لیکن کچھ برآمد نہ ہوا، 7 وزراء اعظم کے ساتھ پولیس کیٹ واک کرتی عدالت آتی تھی ،شاہ محمود قریشی کو کل ہتھکڑی لگائی گئی، ایک زمہ دار شخص ہیں، کیا وہ بھاگ جاتے؟ شاہ محمود قریشی کو ہتھکڑی لگا کر عدالت پیش کرنے کا نوٹس لیا جائے،شاہ محمود قریشی سے دورانِ جسمانی ریمانڈ کچھ برآمد نہیں ہوا، شاہ محمود قریشی کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں رکھنا درست نہیں،شاہ محمود قریشی کے خلاف مقدمے میں کسی ثبوت کا زکر نہیں،کہیں نہیں لکھا گیاکہ شاہ محمود قریشی نے اپنی اتھارٹی کا ناجائز فائدہ اٹھایا،ریاستی ادارے متفقہ طور پر سائفر کا معاملہ قومی سلامتی کونسل میں زیر بحث لائے،قومی سلامتی کمیٹی نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ سائفر ایک حقیقت ہے،تفتیشی افسر نے سائفر کا ڈائری نمبر لکھا بھی ہوا ہے،اسدعمر پر ایک مقدمہ ہوا کہ لاہور میں صبح سویرے کھڑے ہو کر عوام کو اکسایا، صبح سویرے اٹھنے والا الزام تو اسدعمر کے گھر والوں نے ان پر کبھی نہیں لگایا،سائفر چوری کا الزام لگایا، کیا چوری شدہ سائفر ملا کسی کو؟ جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ سے سائفر وزارت خارجہ کو موصول ہوا، اعظم خان نے وصول کیا،وکیل بابراعوان نے کہا کہ تو اعظم خان ہے کہاں؟ اعظم خان کی غیر موجودگی ثبوت ہے کہ تحقیقات مکمل نہیں،

    سائفر کیس میں وکیل علی بخاری نے شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت پر دلائل دیتے ہوئے کہا کہ کہ اگر کوئی عدالت سے دستاویز گم ہو جائے تو صرف جج کی انکوائری نہیں ہوتی، سائفر آیا، وزیر خارجہ نے مجھے بتایا تو ذمے داری ہے کہ کابینہ کو بتایا جائے،جج ابوالحسنات نے استفسار کیا جب سائفر موصول ہوا تو پھر کدھر گیا؟علی بخاری نے کہا کہ 12 دن کا شاہ محمود قریشی کا ریمانڈ دیا گیا، آج بھی جیل میں ہیں،شاہ محمود قریشی کو ہتھکڑیاں لگا کر یہاں لایا گیا تاکہ ذلیل کیا جا سکےمقدمے میں الزام ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے سائفر کو اپنے پاس رکھا،سیکرٹ ایکٹ قانون 1923کے تحت سائفر اپنے پاس رکھنا جرم نہیں سیکرٹ ایکٹ 2023 میں سائفر اپنی تحویل میں رکھنا جرم ہے لیکن یہ قانون ابھی نافذ نہیں ہوا

    وزیراعظم آفس میں آئی دستاویزات سنبھالنا وزیراعظم کا نہیں پرنسپل سیکرٹری کا کام ہے،وکیل
    وکیل شعیب شاہین نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سائفر کیس سے متعلق پراسیکیوشن کوئی دستاویزات تو پیش کرے شاہ محمود قریشی کی کوئی تقریر بھی نہیں دی، بس نام لے لیا، شاہ محمو د قریشی نے صرف پریس کانفرنس نہیں کی جس پر مقدمے میں نامزد کردیا،اگر حقائق کو تبدیل کردیا گیا تو سیکریسی کہاں گئی؟جج ابوالحسنات نے کہا کہ دو باتیں واضح کریں، سائفر وزارت خارجہ سے گیا تو کہاں ہے؟ سائفر کی کاپی وزارت خارجہ، آرمی چیف اور وزیراعظم آفس کی الگ الگ ہے،وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ اگر کوئی دستاویز ملے تو اس کو سنبھالنا عملے کی ذمے داری ہے، وزیراعظم کے پاس ہزاروں فائلیں آتی ہیں، دستاویزات سنبھالنا ان کا کام نہیں ،جج ابوالحسنات نے کہا کہ سائفر وزارت خارجہ سے وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری کے پاس گیا، سننے میں آ رہا ہے سائفر گم ہو گیا، سائفر کہاں گیا؟ وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ ڈاکیو منٹ وزارت خارجہ میں ہے،سائفر کی ذمے داری وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری کی ہے، جج ابوالحسنات نے کہا کہ میرے سٹاف کے پا س بھی آتا ہے تو مجھے دیکھنا تو ہے ناں، شعیب شاہین نے کہا کہ وزیراعظم آفس میں آئی دستاویزات سنبھالنا وزیراعظم کا نہیں پرنسپل سیکرٹری کا کام ہے، چیئرمین پی ٹی آئی پر الزام لگایا کہ بیرون ملک فائدہ پہنچایا؟ کونسا ملک ہے جس فائدہ پہنچا؟اپنے ملک کا دفاع کسی ملک کو فائدہ دینا ہے یا اپنے ملک کو بچانا؟

    سائفر کیس کی بقیہ سماعت ان کیمرہ ڈیکلیئرکر دی گئی، عدالت نےغیر متعلقہ وکلا اور صحافیوں کو کمرہ عدالت سے باہر جانے کی ہدایت کردی، ایف آئی اے پراسیکیوٹرز کی استدعا پر عدالت نے سماعت ان کیمرہ ڈیکلیئر کی

    چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ ، فیصلہ آج ہی سنائے جانے کا امکان ہے

    راولا کوٹ:مسافر وین پُل سے ٹکرا گئی، 3 مسافر جاں بحق

    خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کردیں،اسلام آباد کی خصوصی عدالت میں سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور سابق وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت پر محفوظ فیصلہ سنا دیا اور خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت بعد از گرفتاری مسترد کردی۔

    گزشتہ روز 13 ستمبر کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کے جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین نے چیئرمین پی ٹی آئی کا 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ ختم ہونے پر کیس کی سماعت کی،اس دوران ایف آئی اے کی خصوصی ٹیم بھی اسلام آباد سےاٹک جیل پہنچی عمران خان کو جوڈیشل ریمانڈ ختم ہونے پر عدالت میں پیش کیا گیا جب کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی لیگل ٹیم کے 9 وکلاء بھی سماعت میں موجود تھےعدالت نے عمران خان کے جوڈیشل ریمانڈ میں مزید 14 روز کی توسیع کردی۔

    بجلی چوروں کے خلاف جاری کریک ڈاؤن،درجنوں گرفتاریاں، ٹرانسفارمرزبھی اُتارلیے گئے

  • میں نے غداری کی ہے تو پھانسی دے دیں، شاہ محمود قریشی

    میں نے غداری کی ہے تو پھانسی دے دیں، شاہ محمود قریشی

    آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت میں سائفر کیس، تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی کو عدالت پہنچا دیا گیا

    شاہ محمود قریشی کو ہتھکڑی لگا کر عدالت میں پیش کیا گیا،جج اٹک جیل گئے ہوئے تھے،شاہ محمود قریشی اور عدالتی عملہ کے درمیان مکالمہ ہوا، تو عدالتی عملہ نے شاہ محمود قریشی کو آگاہ کیا کہ جج صاحب جیل سماعت کے لیے گئے ہیں ،جج صاحب سے پوچھ لیتے ہیں اگر وہ کہتے ہیں تو آپ کو حاضری لگا کر واپس بھیج دیں گے ، شاہ محمود قریشی نے پوچھا کہ جیل میں آج کیا ہے ؟ میری ضمانت کی کیس کا کیا ہوا ؟ عدالتی عملہ نے کہا کہ جیل میں آج چیئرمین پی ٹی آئی کے کیس کی سماعت ہے ، آپ کی ضمانت کی درخواست پر کل سماعت ہے ، شاہ محمود قریشی نے عدالتی عملہ سے استدعا کی کہ پلیز مجھے ٹھنڈا صاف پانی دے دیں ،

    عدالت پیشی کے موقع پر شاہ محمود قریشی نے میڈیا سے مختصر بات کرتے ہوئے کہا کہ میں بے قصور ہوں، میں سیاسی قیدی ہوں، دعا کیجئے اللہ مجھے صبر سے جبر برداشت کرنے کی ہمت دے، جج صاحب سے ایک ہی گزارش ہے کہ انصاف میں دیر ہو سکتی ہے اندھیر نہیں ہونی چاہیئے، میں نے اس ملک سے غداری نہیں کی، موت برحق ہے، جہاں میں قید ہوں اڈیالہ میں اس سے کچھ قدم کے فاصلے پر پھانسی گھاٹ ہے ، اگر میں نے اس ملک سے غداری کی ہے تو اُس پھانسی گھاٹ پر لے جا کر مجھے لٹکا دیں میں قبول کر لوں گا،

    شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے چیئرمین ایک ہی تھے اور ہیں اس میں کوئی ابہام نہیں، میں نے پاکستان کے مفادات کو اولیت دی ملک معاشی اور آئینی بحران کا شکار ہے جس کا حل شفاف انتخابات ہیں ملک مشکل میں ہے اپنے رویوں پر سب کو نظرثانی کرنی ہوگی

    واضح رہے کہ شاہ محمود قریشی کو 19 اگست کو ایف آئی اے نے سائفر کیس میں اسلام آباد سے گرفتار کیا تھا، اور انہیں گرفتاری کے بعد ایف آئی اے ہیڈکوارٹر منتقل کیا گیا تھا،

    خیال رہے کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت ملک بھر کے لیے اسلام آباد میں خصوصی عدالت قائم کر دی گئی ہے، آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کا اضافی چارج انسداد دہشتگردی عدالت کے جج کو سونپ دیا گیا ہے،قانون کے مطابق آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت درج مقدمات کی سماعت ان کیمرا ہو گی۔

     عمران خان کو سائفرگمشدگی کیس میں بھی گرفتار کرلیا گیا۔

    گدی نشینی کا تنازعہ شدت اختیار کر گیا

    ضمانت ملی تو ملک کے بعد مذہب بھی بدل لیا،

    سیما کو واپس نہ بھیجا تو ممبئی طرز کے حملے ہونگے،کال کے بعد ہائی الرٹ

     سیما حیدر کے بھارت میں گرفتاری کے ایک بار امکانات

    پب جی پارٹنر ، سیما اور سچن ایک بار پھر جدا ہوا گئے

    صدر مملکت نے چیف الیکشن کمشنر کو ملاقات کی دعوت دے دی ،

  • سائفر کیس: عمران خان کے جوڈیشل ریمانڈ میں مزید 14 روز کی توسیع

    سائفر کیس: عمران خان کے جوڈیشل ریمانڈ میں مزید 14 روز کی توسیع

    آفیشل سیکرٹ ایکٹ خصوصی عدالت کا جیل سماعت کا تحریری حکم نامہ

    دوران سماعت عدالت کی جانب سے جیل حکام کے کنڈکٹ کے حوالے سے پوچھنے پر عمران خان نے جیل حکام کے کنڈکٹ کو تسلی بخش قرار دیا اور کہا جیل میں خود کو محفوظ محسوس کرتا ہوں عمران خان نے جیل سہولیات کے حوالے سے کوئی شکایت نہیں کی ایک استدعا کی کہ جیل میں تنہائی میں بشری بی بی سے ملاقات کا وقت بڑھایا جائے عدالت نے جیل سپریڈنٹ کو ہدایت کی وہ جیل مینوئل کے مطابق عمران خان کو مزید سہولیات دے سکتے ہیں تو دیں ایف آئی اے کی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کیخلاف چالان جمع کروانے کے مہلت کی استدعا منظور کرتے ہوئے عدالت نے ایف آئی اے کو 26 ستمبر تک چالان جمع کرانے کا حکم دیا ہے

    چیئرمین پی ٹی آئی کےخلاف سائفرکیس کی اٹک جیل میں ہوئی جس میں عمران خان کے جوڈیشل ریمانڈ میں مزید 14 روز کی توسیع کردی گئی جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے چیئرمین پی ٹی آئی کا 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ ختم ہونے پر کیس کی سماعت کی،

    اس دوران ایف آئی اے کی خصوصی ٹیم بھی اسلام آباد سے اٹک جیل پہنچی عمران خان کو جوڈیشل ریمانڈ ختم ہونے پر عدالت میں پیش کیا گیا جب کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی لیگل ٹیم کے 9 وکلاء بھی سماعت میں موجود تھے۔عدالت نے ایف آئی اے کو 26 ستمبر تک چالان جمع کرانے کا حکم دے دیا، چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے جیل حالات کو تسلی بخش قرار دیا،آج عمران خان نے جیل سماعت میں عدالت کے سامنے جیل میں مشکلات کے حوالہ سے کوئی بات نہیں کی،

    گزشتہ روز عمران خان کے خلاف سائفر کیس کی سماعت کا نوٹیفکیشن وزارت قانون نے جاری کیا تھا،خصوصی عدالت کے جج کی درخواست پر عمران خان کے خلاف سائفر کیس کی سماعت اٹک جیل میں ہوئی،عدالت نے سکیورٹی وجوہات پر سماعت جیل میں کرنے کی درخواست کی تھی حکام کا کہنا ہے کہ وزارت قانون کو سماعت اٹک جیل میں ہونے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔

    مصر میں سمندر کے پانی کا رنگ اچانک تبدیل

    واضح رہے کہ 7 ستمبر کو سفارتی سائفر گشمدگی کیس میں سابق وزیراعظم عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی درخواست پر سماعت بغیر کارروائی کے ملتوی کردی گئی تھی آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت قائم کی گئی خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین کی رخصت پر ہونے کے باعث سماعت ملتوی کی گئی تھی۔

    گزشتہ روز اسلام آباد ہائیکورٹ نے سائفر کیس سماعت کی اٹک جیل منتقلی کیخلاف عمران خان کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کیا تھاچیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس عامرفاروق نے عمران خان کے وکیل اورایف آئی اے پراسیکیوٹرکے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کیاتھا۔

    وزارت قانون کا نوٹیفکیشن عدالت کے سامنے پڑھنے والے عمران خان کے وکیل شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ ٹرائل کی دوسرے صوبے منتقلی قانونی طورصرف سپریم کورٹ کرسکتی ہے۔چیف کمشنریا سیکرٹری داخلہ کا اختیارنہیں کہ وہ ٹرائل دوسرے صوبےمنتقل کریں۔

    طیارہ کے ہائیڈرولک سسٹم میں خرابی، کھیتوں میں ہنگامی لینڈنگ

  • سائفر کیس میں عدالت کی مقام تبدیلی صرف ایک بار کیلئے تھی،ایڈیشنل اٹارنی جنرل

    سائفر کیس میں عدالت کی مقام تبدیلی صرف ایک بار کیلئے تھی،ایڈیشنل اٹارنی جنرل

    چیئرمین پی ٹی آئی کو اٹک جیل سے اڈیالہ جیل منتقل کرنے،سائفر کیس کی اٹک جیل میں سماعت کیخلاف درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی

    چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل شیر افضل مروت نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سزا معطل ہونے کے بعد چیئرمین پی ٹی آئی کو اٹک جیل میں نہیں رکھا جا سکتا، بدنیتی سے سائفر کیس کی سماعت کا مقام تبدیل کیا گیا،سماعت کا مقام تبدیلی کے نوٹیفکیشن کا مقصد چیئرمین پی ٹی آئی کو اٹک جیل میں رکھنا تھا،ابھی تک یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ نوٹیفکیشن کس قانون کے تحت جاری کیا گیا، آفیشل سیکرٹ کے تحت سویلینز کا ٹرائل اسپیشل کورٹ میں ہوتا ہے،سماعت کا مقام تبدیل کرنے کے پیچھے بدنیتی ہے ،آفیشل سیکرٹ کے تحت سویلین کا ٹرائل اسپیشل کورٹ میں ہوتا ہے ،اسلام آباد سے کسی دوسرے صوبے میں ٹرائل منتقل کرنے کا اختیار صرف سپریم کورٹ کا ہے ، اسلام آباد الگ سے خود مختار علاقہ ہے ،کسی صوبے کی حدود میں نہیں آتا ، کسی بھی عدالت کی سماعت کا مقام تبدیل کرنے کا طریقہ کار قانون میں واضح ہے ،سماعت کا مقام تبدیل کرنے کیلئے متعلقہ عدالت کے جج کی رضا مندی بھی ضروری ہوتی ہے، توشہ خانہ کیس میں سزا معطلی کے بعد چیئرمین پی ٹی آئی کو اٹک جیل میں نہیں رکھا جاسکتا تھا ،اگر ٹرائل تبدیلی کرنی تھی تو ان کو ٹرائل جج سے پوچھنا تھا لیکن نہیں پوچھا گیا چیئرمین پی ٹی آئی کو اٹک جیل میں رکھنے کی کوئی وجہ نہیں ،چیئرمین پی ٹی آئی کی توشہ خانہ کیس میں ضمانت ہو چکی ،چیئرمین پی ٹی آئی اس وقت جوڈیشل حراست میں ہیں ،

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ سائفر کیس میں عدالت کی مقام تبدیلی صرف ایک بار کیلئے تھی،عدالت نے وزارت قانون کے نوٹیفکیشن کی وضاحت طلب کر رکھی تھی ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے معلومات لے کر عدالت کو آگاہ کر دیا،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ 30 اگست کو سائفر کیس کی سماعت کیلئے عدالت اٹک جیل منتقل کی گئی تھی، یہ نوٹیفکیشن وزارت قانون نے کیا اور اسی کا ہی اختیار تھا، وزارت قانون نے این او سی جاری کیا کہ وینیو تبدیلی پر کوئی اعتراض نہیں،

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جیل ٹرائل کوئی ایسی چیز نہیں جو نہ ہوتی ہو، جیل ٹرائل کا طریقہ کار کیا ہو گا اس سے متعلق بتائیں ،پراسیکیوٹر ذوالفقار عباس نقوی نے کہا کہ سائفر کیس کا ابھی ٹرائل نہیں ہو رہا وزارتِ قانون نے قانون کے مطابق عدالت کی منتقلی کا نوٹیفکیشن جاری کیا ،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اس سے پہلے 2 ججز اسی بنیاد پر تعینات ہوتے رہے ہیں ایڈیشنل سیشن جج فیضان حیدر گیلانی اور جج راجہ جواد عباس کی تعیناتی بھی اسی طرح ہی ہوئی ہے

    چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل شیر افضل مروت نے اعتراض کیا کہ یہ کہا گیا کہ نوٹیفکیشن غیر مؤثر ہو گیا یہ نہیں کہہ سکتے غیر مؤثر کی حد تک یہ ہے کہ اگر کل دوبارہ آپ کر دیں پھر کیا ہو گا؟ یہ طے تو ہونا ہے کہ نوٹیفکیشن کس اختیار کے تحت کر سکتے ہیں؟ عدالت نے دیکھنا ہے کہ ملزم پر تشدد تو نہیں کیا جا رہا اسی لیے کہا جاتا ہے کہ ریمانڈ میں ملزم عدالتی تحویل میں ہوتا ہے وزارتِ قانون کا نوٹیفکیشن بد نیتی کی بنیاد پر جاری کیا گیا تھا، درخواست غیر مؤثر نہیں ہوئی عدالت نے طے کرنا ہے کہ نوٹیفکیشن درست تھا یا نہیں کسی کے پاس جواب ہے کہ سزا معطل ہونے کے بعد چیئرمین پی ٹی آئی کیوں قید ہیں ٹرائل کورٹ کے جج این او سی پر اٹک جیل کیوں چلے گئے؟ فاضل جج نے اپنا دماغ استعمال ہی نہیں کیا اور چلے گئے کل لانڈھی جیل کا این او سی آ جائے تو جج صاحب لانڈھی چلے جائیں گے؟

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامر فاروق نے سائفر کیس کی سماعت اٹک جیل میں کرنے کے وزارتِ قانون کے نوٹیفکیشن کے خلاف فیصلہ دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا،عمران خان کے وکیل نے کہا کہ ہماری ایک اور درخواست پر فیصلہ محفوظ ہے ہماری استدعا ہے کہ محفوظ فیصلہ سنایا جائے فیصلوں میں تاخیر کی وجہ سے ہم مشکلات کا شکار ہو رہے ہیں ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے جواب دیا کہ میں اس پر بھی آرڈر پاس کروں گا،

    واضح رہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے وزارت قانون کے عدالت اٹک جیل منتقل کرنے کا نوٹیفکیشن چیلنج کردیا ، اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت اٹک جیل میں منتقل کرنے کا نوٹیفکیشن غیر قانونی ہے کلعدم قرار دیا جائے، انسداد دہشتگری عدالت نمبر ون کے جج کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت درج مقدمات کا اختیار سماعت بھی چیلنج کر دیا گیا

    چیئرمین پی ٹی آئی نے وکیل شیر افضل مروت کے ذریعے درخواست دائر کی ، درخواست میں سیکرٹری قانون ، سیکرٹری داخلہ ، چیف کمشنر ، آئی جی ، ڈی جی ایف آئی اے کو فریق بنایا گیا ہے، سپرنٹینڈنٹ اڈیالہ جیل اور سپرٹنڈنٹ اٹک جیل کو بھی درخواست میں فریق بنایا گیا ہے، چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے درخواست میں کہا کہ انسداد دہشتگری عدالت ون کے جج اس معاملے میں مطلوبہ اہلیت کے بنیادی معیار پر بھی پورا نہیں اترتے ،

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

  • سائفر کیس کی اٹک جیل میں سماعت،ایف آئی اے نے جواب کیلئے مہلت مانگ لی

    سائفر کیس کی اٹک جیل میں سماعت،ایف آئی اے نے جواب کیلئے مہلت مانگ لی

    چیئرمین پی ٹی آئی کو اٹک جیل سے اڈیالہ جیل منتقل کرنے،سائفر کیس کی اٹک جیل میں سماعت کیخلاف درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے سماعت کی ،وکیل شیرافضل نے کہا کہ اٹک جیل میں بی کلاس ہی نہیں ہے، یہ صرف تکلیف دینے کیلئے کیا جا رہا ہے، حکام کہتے ہیں کہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر اٹک جیل میں رکھا گیا ہے،اڈیالہ جیل زیادہ محفوظ ہے یا اٹک جیل، یہ سب کو معلوم ہے، سردار لطیف کھوسہ نے چیئرمین پی ٹی آئی سے ملاقات کیلطیف کھوسہ نے کہا کہ اٹک جیل بے شمار نامعلوم قیدی ہیں، چیئرمین پی ٹی آئی کو جہاں رکھا گیا وہاں چھت نہیں، پانی گرتا ہے، چیئرمین پی ٹی آئی کو رات کو نیند نہیں آتی، وہاں مکھیاں ہیں، سپریٹنڈنٹ جیل نے میرے خلاف ایف آئی آر کرائی کہ میں نے اسے مارا ہے،
    اس سپریٹنڈنٹ نے بھی اللہ کو جان دینی ہے میں تو اس سے ملا بھی نہیں تھا،

    اٹک جیل کی طرف سے اسسٹنٹ سپرٹینڈنٹ حسرت عدالت میں پیش ہوئے، وکیل شیر افضل مروت نے کہا کہ کہا جاتا ہے کہ جگہ نہ ہونے کے باعث اٹک جیل منتقل کیا گیا ، صرف اور صرف زیادہ تکلیف دینے کیلئے چیئرمین پی ٹی آئی کو اٹک جیل منتقل کیا گیا ، اڈیالہ جیل میں سکیورٹی انتظامات بہتر ہیں ،بی کلاس بھی موجود ہے ، ہمارا حق ہے ہمیں اڈیالہ جیل منتقل کرکے بی کلاس فراہم کی جائے ، بشری بی بی جیل میں ملنے گئیں تو ان پر بھی مقدمہ بنانے کی کوشش کی گئی ،الزام لگایا گیا کہ بشری بی بی نے جیل اہلکار کو 20ہزار روپے رشوت دینے کی کوشش کی ، اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت میں کہا کہ جیل میں اے اور بی کلاس ختم کر دی گئی ہے،جیل میں اب عام اور بیٹر کلاسز موجود ہیںچیئرمین پی ٹی آئی کو جیل میں بیٹر کلاس دی گئی ہے، چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر بیٹر کلاس کا یہ حال ہے تو عام کا کیا ہو گا؟ اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو جیل میں جو مسائل تھے وہ دور کر دیے گئے ہیں، باتھ روم کا مسئلہ تھا اسکی دیواریں اونچی کر کے سفیدی کروا دی گئی، چیئرمین پی ٹی آئی کو بیڈ، کرسی، 21 انچ ٹی وی اور پانچ اخبار فراہم کئے گئے ہیں، چیئرمین پی ٹی آئی کو کھانا بھی انکی مرضی سے دیا جاتا ہے، چیئرمین پی ٹی آئی کیلئے پانچ ڈاکٹر تعینات کیے گئے ہیں، اانہیں دو دن چکن اور مٹن دیسی گھی میں بنا کر دیا جاتا ہے، چیئرمین پی ٹی آئی کو بیڈ، کرسی، 21 انچ ٹی وی اور پانچ اخبار فراہم کئے گئے ہیں

    ایف آئی اے وکلا نے جواب جمع کرانے کیلئے ایک ہفتے کا وقت مانگ لیا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے یہ ساری باتیں بتائیں لیکن درخواست گزار کا بنیادی اعتراض کچھ اور ہے، ٹرائل کورٹ نے اڈیالہ جیل میں رکھنے کا کہا تو اٹک جیل منتقل کیوں کیا گیا؟ کیا اڈیالہ جیل سپریٹنڈنٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی کو اٹک جیل میں رکھنے کی درخواست کی؟ اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ آئی جی کے پاس کسی بھی قیدی کو ایک سے دوسری جیل میں منتقل کرنے کا اختیار ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کی اپنی کوئی جیل نہیں تو قیدیوں کو اڈیالہ جیل میں رکھا جاتا ہے، وکیل شیرافضل نے کہا کہ جب یہ درخواست دائر کی گئی تب چیئرمین پی ٹی آئی کو سزا ہوئی تھی، چیئرمین پی ٹی آئی کی سزا اب معطل ہو چکی اور ضمانت مل چکی ہے،چیئرمین پی ٹی آئی کا دوران حراست سٹیٹس اب تبدیل ہو چکا ہے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ بات درست ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی اس وقت سزا نہیں کاٹ رہے، چیئرمین پی ٹی آئی ایک اور انڈر ٹرائل کیس میں حراست میں ہیں، اسلام آباد کے اندر ٹرائل قیدیوں کو اڈیالہ جیل میں ہی رکھا جاتا ہے، اگر اٹک سے اٹھا کر کوٹ لکھپت لے جاتے ہیں تو کیا ہر پیشی پر لایا جا سکتا ہے؟ کوٹ لکھپت سے تو پانچ چھ گھنٹے کا سفر ہے، اٹک جیل سے اسلام آباد کا سفر کتنا ہے؟ اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت میں کہا کہ اٹک سے اسلام آباد کا ڈیڑھ گھنٹے کا سفر ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جس گاڑی میں یہ لاتے ہیں اس میں دس پندرہ منٹ زیادہ ہی لگتے ہونگے، کیا سزا معطل ہونے کے بعد چیئرمین پی ٹی آئی کو اٹک جیل رکھنے کا کوئی فیصلہ ہوا؟ اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ میں اس حوالے سے ہدایات لے کر آگاہ کر سکتا ہوں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ شیر افضل صاحب کو ملاقات کرنے دیں اور یقینی بنائیں کہ کوئی ناخوشگوار واقعہ نہ ہو،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ سائفر کیس کی آئندہ تاریخ کیا ہے؟ وکیل شیرافضل نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ کیا 13 ستمبر کو کوئی نیا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا، پراسیکیوٹر ذوالفقار عباس نقوی نے کہا کہ اس حوالے سے ہم ہدایات لے کر عدالت کو آگاہ کر دینگے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم کیس اُس سماعت سے پہلے رکھ لیتے ہیں، عدالت کو آگاہ کیا جائے، چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست پر عدالت ایف ایٹ کچہری سے جوڈیشل کمپلیکس منتقل کی گئی، وزارت داخلہ متعلقہ وزارت بنتی ہے، وزارت قانون نے یہ نوٹیفکیشن کیسے کیا؟ پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے کہا کہ ٹرائل کورٹ میں بھی اسی نوعیت کی درخواست زیرسماعت ہے،تو ٹرائل کورٹ اس درخواست پر فیصلہ کرے ہائیکورٹ نے تو نہیں روکا ،ٹرائل کورٹ فیصلہ کر دے تو ہائیکورٹ میں درخواست غیرموثر ہو جائے گی ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ٹرائل کورٹ فیصلہ کرے جو متاثرہ فریق ہوا وہ اپیل کر لے گا، عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست پر سماعت 12 ستمبر تک ملتوی کر دی،چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جزوی دلائل سماعت شد، بارہ ستمبر کو دلائل مکمل ہوگئے تو اسی دن فیصلہ کردیں گے،

    واضح رہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے وزارت قانون کے عدالت اٹک جیل منتقل کرنے کا نوٹیفکیشن چیلنج کردیا ، اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت اٹک جیل میں منتقل کرنے کا نوٹیفکیشن غیر قانونی ہے کلعدم قرار دیا جائے، انسداد دہشتگری عدالت نمبر ون کے جج کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت درج مقدمات کا اختیار سماعت بھی چیلنج کر دیا گیا

    چیئرمین پی ٹی آئی نے وکیل شیر افضل مروت کے ذریعے درخواست دائر کی ، درخواست میں سیکرٹری قانون ، سیکرٹری داخلہ ، چیف کمشنر ، آئی جی ، ڈی جی ایف آئی اے کو فریق بنایا گیا ہے، سپرنٹینڈنٹ اڈیالہ جیل اور سپرٹنڈنٹ اٹک جیل کو بھی درخواست میں فریق بنایا گیا ہے، چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے درخواست میں کہا کہ انسداد دہشتگری عدالت ون کے جج اس معاملے میں مطلوبہ اہلیت کے بنیادی معیار پر بھی پورا نہیں اترتے ،

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

  • سائفر کیس،عمران خان ، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت پر سماعت ملتوی

    سائفر کیس،عمران خان ، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت پر سماعت ملتوی

    آفیشل سیکرٹ ایکٹ خصوصی عدالت،چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی

    آفیشل سیکرٹ ایکٹ خصوصی عدالت کے جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین نے سماعت کی،ایف آئی اے نے درخواست ضمانت پر سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کر دی، ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے اس عدالت سے متعلق درخواست دائر کی ہے ،عدالت میں ان کیمرہ سماعت ہوئی،

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی ضمانت کی درخواست پر کوئی پیش رفت نہ ہوسکی ،عدالت نے ہائیکورٹ میں جیل منتقلی اور عدالتی دائرہ اختیار زیر سماعت ہونے کے باعث درخواست ضمانت پر سماعت پیر تک ملتوی کر دی، دوران سماعت آفیشل سیکرٹ ایکٹ خصوصی عدالت کے جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جیل سماعت میں چیئرمین پی ٹی آئی کو کہا میرٹ پر جاؤں گا، آئی ایم ناٹ دلاور، آئی ایم دلیر،

    گزشتہ سماعت اٹک جیل میں ہوئی تھی تو عمران خان کی لیگل ٹیم نے درخواست ضمانت دائر کی تھی،لیگل ٹیم نے تین درخواستیں دائر کیں ،چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت دائر کی گئی،وزارت قانون کا جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن غیر قانونی قرار دیکر کالعدم قرار دینے کی درخواست دائر کی گئی،چیئرمین پی ٹی آئی کا اوپن کورٹ میں ٹرائل کرنےکی درخواست بھی دائر کی گئی

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

    واضح رہے کہ عمران خان کی توشہ خانہ کیس میں سزا اسلام آباد ہائیکورٹ نے معطل کر دی ہے جس کے بعد عمران خان کو سائفر کیس میں اٹک جیل میں رکھا گیا ہے، عمران خان چودہ روزہ جوڈیشیل ریمانڈ پر ہیں، گزشتہ روزعمران خان نے بیٹوں سے بات کے لئے عدالت میں درخواست دائر کی، عمران خان نے اپنے وکیل عمیر اور شیراز احمد کی وساطت سے درخواست دائر کی جس میں کہا گیا کہ وہ اپنے بیٹوں قاسم خان اور سلیمان خان سے ٹیلی فون یا وٹس ایپ پر بات کرنا چاہتے ہیں ،

    جج خصوصی عدالت ابوالحسنات ذوالقرنین نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست منظور کرتے ہوئے سپرنٹنڈنٹ اٹک جیل کو بیٹوں سے والد کی ورچوئل ملاقات کرانے کی ہدایت کردی

    سلمان رشدی کا وکیل، عمران خان کا وکیل بن گیا

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    امریکی سائفر کے بیانیہ پر سیاست کرنے والا خود امریکیوں سے رحم کی بھیک مانگنے پر مجبور،