Baaghi TV

Tag: سائفر کیس

  • ملک سے تعلقات خراب نہ کرنے کیلئے سابق وزیراعظم کو جیل میں ڈال دیا،عدالت

    ملک سے تعلقات خراب نہ کرنے کیلئے سابق وزیراعظم کو جیل میں ڈال دیا،عدالت

    اسلام آباد ہائی کورٹ،عمران خان کی سزا کیخلاف سائفر اپیلوں پر سماعت ہوئی

    عمران خان کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے اپنے دلائل کا آغاز کردیا، سلمان صفدر نے کہا کہ آخری جرح دونوں فریق کرتے ہیں کہ کیس کیا ہے، 342 کا بیان پڑھ کر سنایا گیا تو بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی سے 2,2 سوال پوچھے گئے ،سوال پوچھنے کے فوری بعد سزا سنا دی گئی ،342 کا بیان میں ایک حصہ لکھا ہوا کہ جج سزا سنا کر فوری کورٹ سے روانہ ہوگئے ، بکیسے ہوسکتا ہے کہ 342 کے بیان میں یہ کس طرح لکھا ہوا ہے، 342 کا بیان ایک مکالمہ ہوتا ہے جو ججمنٹ سے پہلے ہوتا ،اسلام آباد ہائیکورٹ کےچیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ آپ نے 342 کے بیان کو کنفرنٹ کردیا اور بیان سامنے بھی آگیا ہے ، اس ججمنٹ میں پراسکیوشن اور ڈیفنس کے دلائل موجود ہیں ، سلمان صفدر نے کہا کہ نہیں ججمنٹ میں دلائل نہیں ہیں ،ججمنٹ میں ایک پیراگراف موجود ہے جس میں دلائل کا ذکر کیا گیا ہے کہ ڈیفنس کونسل دلائل سے ثابت نہیں کرسکے ، ٹرائل کورٹ نے فیصلے میں پراسیکیوشن کے دلائل چار صفحات پر اور وکلا صفائی کا موقف پندرہ سولہ لائنوں میں لکھا، یہ وکلا صفائی بھی سرکار کی جانب سے مقرر کیے گئے تھے، شاہ محمود قریشی کے بطور ملزم بیان سے پہلے ہی فیصلہ سنا دیا گیا، ہم سے ایسی کیا گستاخی ہوئی کہ ہمیں کورٹ سے باہر کر دیا کہ آپ اب عدالت میں نا آئیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ آپ کہنا چاہ رہے ہیں کہ ٹرائل کے دوران فیئر ٹرائل کے تقاضے پورے نہیں کیے گئے، سلمان صفدر نے کہا کہ جب کیس دو مرتبہ ریمانڈ بیک ہو کر جائے تو جج کو احتیاط سے کیس سننا چاہئے، اتنا پیچیدہ کیس اور دو بار ٹرائل کالعدم بھی ہوچکا تھا پھر بھی ٹرائل کورٹ کو اتنی جلدی کیا تھی ؟ ٹرائل کورٹ کے جج کی فائنڈنگ کے مطابق انہوں نے عمران خان کے وکلا سے گلے شکوے کیے ، انہوں نے trick(تنگ) کا لفظ بہت بار استعمال کیا کہ ہم نے انہیں trick (تنگ) کیا ،ججمنٹ میں بھی یہی لکھا کہ وزیر اعظم نے سائفر ٹیلی گرام کو غلط طریقے سے استعمال کیا، بیرسٹر سلمان صفدرنے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو عدالت کے سامنے پڑھا

    جسٹس میاں‌گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ ٹرائل کورٹ جج نے اپنے فیصلے میں یہ فائنڈنگ دی کہ پاکستان امریکہ تعلقات ختم ہو گئے،ٹرائل جج نے کِس بنیاد پر یہ لکھا کہ تعلقات ختم ہو گئے؟ سلمان صفدر نے کہا کہ اسد مجید نے ڈونلڈ لو کے ساتھ لنچ کیا اور اس لنچ پر گفتگو کی، ٹرائل جج نے امریکہ میں پاکستانی سفیر اسد مجید کے بیان کی بنیاد پر لکھا،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسد مجید نے بھی یہ نہیں کہا، بیرسٹر سلمان صفدر نےکورٹ میں شاہ محمود قریشی کی پبلک گیدرنگ میں تقریر دوبارہ پڑھ کر سنائی،اور کہا کہ اس تقریر پر دس سال قید کی سزا سنا دی گئی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ عمران خان کے خلاف الزامات سیکرٹ ڈاکومنٹ ڈسکلوز کرنے اور پھر اسے غائب کرنے کے ہیں، آپ نے بتایا تھا کہ دو چارجز لگا دیے گئے، چارج تو ایک لگنا چاہئے تھا، شاہ محمود قریشی پر ڈسکلوز کرنے کا نہیں، معاونت کا الزام ہے،سلمان صفدر نے کہا کہ جج صاحب فیصلے میں لکھتے ہیں کہ ریاست کے اعتماد کا قتل کیا گیا، ملزمان رعائت کے مستحق نہیں،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ سائفر اگر سائفر کے طور پر نہ آتا اور عمومی طور پر بھیجا جاتا تو پھر کیا ہوتا؟اگر سائفر ڈپلومیٹک بیگ کے طور پر آتا تو کیا پھر وزیراعظم اُسے سامنے لا سکتا تھا؟اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ لیکن پھر مسئلہ وہی ہے کہ سائفر میں تھا کیا، وکیل عمران خان نے کہا کہ سائفر ایک سفید کوا ہے، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ ایک طرف آپ ایک ملک کو ڈی مارش کر رہے ہیں اور دوسری طرف کہہ رہے ہیں کہ اس سے تعلقات خراب نہ ہوں، اس ملک سے تعلقات خراب نہ کرنے کیلئے سابق وزیراعظم کو جیل میں ڈال دیا، ایک دوسرے ملک نے آپکو بہت خوفناک بات کہی ہے اور وہ سائفر میں آئی تو آپ کسی کو بتا نہیں سکتے؟

    سلمان صفدر نے کہا کہ ریاست کے دشمن کیلئے بنے قانون کو سیاسی دشمن کے خلاف استعمال کر لیا گیا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ یہ قانون تو اب غیرضروری ہو چکا ہے لیکن 75 سالوں میں کسی اسمبلی نے اس قانون کو ختم کیا؟ وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ سائفر کبھی بھی عوامی جلسے میں نہیں پڑھا گیا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ سائفر کی جب ڈی کوڈ ہونے کے بعد کاپیاں بن جاتی ہیں تو وہ سائفر ہی رہتا ہے؟ وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ سپریم کورٹ کے ججز نے مجھے سائفر کہنے سے روکا جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ سائفر کی جو کاپیاں بنتی ہیں وہ Transliteration کہلاتی ہیں،

    عدالت نےعمران خان اورقریشی کی اپیلوں پر سماعت کل تک ملتوی کردی،سلمان صفدر نے کہا کہ صرف عمران خان نےنہیں بلکہ سب نے واپس دینا تھا لیکن نہیں دیا، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ سلمان صاحب آپ کل تیاری کےساتھ اس پر دلائل دیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ یہ آپکےفائدے کی بات ہے،ہاتھی آپ نکال چکے دم بھی نکال دیں،

    سائفر کیس:اسد مجید اسٹار گواہ ہو سکتے تھے ابھی اسد مجید نے تو کچھ نہیں کہا کہ وہ اسٹار گواہ بن سکتا

    پاکستان کے بعد امریکی ایوان میں بھی سائفر بیانیہ کو جھوٹ کا پلندا کہ دیا،شیری رحمان

    انتخابات سے قبل تشدد کے واقعات پر خصوصاً تشویش رہی، ڈونلڈ لو

    سائفر کیس،یہ آخری بات ہو گی کہ میں کہو ں ٹرائل جج کو ایک اور موقع دے دیں،وکیل عمران خان

    سائفر کیس،عمران خان کی اپیل پر سماعت ایک روز کے لئے ملتوی

    سائفر کیس،یہ کہتے تھے ضمانت کا حق نہیں ، سپریم کورٹ نے ضمانت بھی دی،سلمان صفدر

    سائفر کیس،عمران خان کی سزا کیخلاف اپیل پر سماعت،التوا کی درخواست مسترد

    سائفر کیس،عمران خان کی سزا کیخلاف اپیل قابل سماعت ہی نہیں، پراسیکیوٹر

    پی ٹی آئی کا خط، سائفر کے بعد ملک دشمنی کا ایک اور ثبوت ہے،شہباز شریف

  • سائفر کیس،کیسے کہہ سکتے ہیں اعظم خان بیان سے منحرف ہو گئے؟عدالت

    سائفر کیس،کیسے کہہ سکتے ہیں اعظم خان بیان سے منحرف ہو گئے؟عدالت

    اسلام آباد ہائی کورٹ،سائفر کیس میں بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی اپیلوں پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے اپیلوں پر سماعت کی،بانی پی ٹی آئی کی جانب سے بیرسٹر سلمان صفدر و دیگر عدالت پیش ہوئے،ایف آئی اے پراسیکوشن ٹیم میں حامد علی شاہ، ذولفقار نقوی و دیگر عدالت پیش ہوئے،بانی پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ دو گواہوں کے بیانات پڑھنا چاہوں گا ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ سائفر کے بارے میں بتائیں کہ وہ ڈاکومنٹس فائل میں کیسے آتا ہے ،سلمان صفدر نے کہا کہ پراسیکیوشن کی جانب سے تین گواہ پر کیس چلا ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اعظم خان کا 154 کا بیان پڑھ دیں،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ بیان کا خاص حصہ پڑھیں جو کیس سے تعلق رکھتا ہے ،

    بیرسٹر سلمان صفدر نے اعظم خان کا 164 کا بیان پڑھا اور کہا کہ اعظم خان نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے سائفر کو پبلک کرنے کا کہا ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ سائفر اعظم خان نے پڑھا تھا ، جسٹس میاں‌گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ اس نے کہا تو اس سے ثابت نہیں ہوتا کہ اعظم خان نے سائفر پڑھا، سلمان صفدر نے کہا کہ اعظم خان نے بانی پی ٹی آئی سے کہا کہ سائفر کی ڈی کوڈ کاپی ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے ایک بیان میں کچھ اور ہے اور دوسرے میں کچھ اور؟ کیا آپ نے اعظم خان کو کنفرنٹ کیا تھا کہ اس وقت آپ نے یہ کہا تھا اور اب آپ نے کچھ اور کہا ہے؟ سلمان صفدر نے کہا کہ اعظم خان پر ہم نے نہیں ڈیفنس کونسلز نے جرح کی تھی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ نیشنل سکیورٹی کمیٹی اجلاس میں جو ہوا یا بتایا وہ تو ریکارڈ کا حصہ ہے؟ سلمان صفدر نے کہا کہ جی نیشنل سکیورٹی کی میٹنگ ہوئی، ڈی مارش ہوا ، گواہوں نے بتایا کہ کاپی ایس پی ایم میں تھی ،انچارج ایس پی ایم نے بتایا کہ اس کے سامنے کاپی گم ہوئی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ بنی گالا میں جو میٹنگ ہوئی وہ آفیشل میٹنگ تھی ، سلمان صفدر نے کہا کہ وہ میٹنگ ریکارڈ کا حصہ نہیں ہے ، سائفر معاملے پر نیشنل سکیورٹی کونسل کا اجلاس ہوا ،اجلاس کے بعد سائفر وفاقی کابینہ کے سامنے رکھا گیا ، اس مقدمے میں کئی ملزمان نکالے گئے اور کئی الزامات واپس لئے گئے، اعظم خان نے بنی گالہ میٹنگ کے منٹس لکھے، 31 مارچ 2022 کو نیشنل سکیورٹی میٹنگ ہوئی،سرکار کیس بنائے تو کیا ہونا نہیں چاہیے کہ تمام کاغذات سامنے رکھے، اعظم خان کے مجسٹریٹ اور عدالت کے سامنے بیان میں فرق ہے،پرانے بیان سے پِھرنا ملزم کے حق میں جاتا ہے،

    جسٹس میاں‌ گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ کیسے کہہ سکتے ہیں اعظم خان بیان سے منحرف ہو گئے؟اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامرفاروق نے استفسار کیا کہ پراسیکیوشن کا کیس ہے کہ سائفر کو ٹوسٹ کیا، گواہ نے اس متعلق ایسا کیا کہا؟ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ اعظم خان کے بیان میں تبدیلی کیا تھی وہ بتائیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامرفاروق نے استفسار کیا کہ اعظم خان نے ایسا کیا کہا کہ جس سے پراسیکیوشن کا کیس خراب ہوا ہو؟ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ اعظم خان کا بیان تو مستقل رہا اور وہ اپنے پچھلے بیان سے نہیں ہٹے، اعظم خان کا بیان ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے سائفر گم ہو گیا،اعظم خان بتا رہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے جلسے میں دستاویز لہرایا، وہ یہ تو نہیں کہہ رہا کہ ڈاکومنٹ کیا تھا جس سے لگے کہ سائفر واپس مل گیا تھا، سلمان صفدر نے کہا کہ اعظم خان نے یہ کبھی نہیں کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے جان بوجھ کو سائفر کاپی گمائی،گواہ کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے اس کے سامنے سائفر کاپی کی تلاش کا کہا، اعظم خان عدالت میں بیان میں کہہ رہا ہے کہ سائفر Misplace ہو گیا، مِس پلیس الگ لفظ ہے اس سے کوئی بدنیتی نظر نہیں آتی،

    سائفر کیس:اسد مجید اسٹار گواہ ہو سکتے تھے ابھی اسد مجید نے تو کچھ نہیں کہا کہ وہ اسٹار گواہ بن سکتا

    پاکستان کے بعد امریکی ایوان میں بھی سائفر بیانیہ کو جھوٹ کا پلندا کہ دیا،شیری رحمان

    انتخابات سے قبل تشدد کے واقعات پر خصوصاً تشویش رہی، ڈونلڈ لو

    ڈونلڈ لو کی کانگریس میں طلبی پر امریکی دفتر خارجہ کا ردعمل

    سائفر کیس،یہ آخری بات ہو گی کہ میں کہو ں ٹرائل جج کو ایک اور موقع دے دیں،وکیل عمران خان

    سائفر کیس،عمران خان کی اپیل پر سماعت ایک روز کے لئے ملتوی

    سائفر کیس،یہ کہتے تھے ضمانت کا حق نہیں ، سپریم کورٹ نے ضمانت بھی دی،سلمان صفدر

    سائفر کیس،عمران خان کی سزا کیخلاف اپیل پر سماعت،التوا کی درخواست مسترد

    سائفر کیس،عمران خان کی سزا کیخلاف اپیل قابل سماعت ہی نہیں، پراسیکیوٹر

    پی ٹی آئی کا خط، سائفر کے بعد ملک دشمنی کا ایک اور ثبوت ہے،شہباز شریف

  • سائفر کیس:اسد مجید اسٹار گواہ ہو سکتے تھے ابھی اسد مجید نے تو کچھ نہیں کہا کہ وہ اسٹار گواہ بن سکتا

    سائفر کیس:اسد مجید اسٹار گواہ ہو سکتے تھے ابھی اسد مجید نے تو کچھ نہیں کہا کہ وہ اسٹار گواہ بن سکتا

    اسلام آباد: سائفر کیس میں سزا کے خلاف عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی اپیل پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے طنزیہ ریمارکس دئیے کہ پاکستان میں اگر کوئی کہے پاک ایران گیس پائپ لائن بنا دوں تو کیا جیل میں ڈال دیں گے؟ ایف آئی آر تو کٹے گی نا؟-

    باغی ٹی وی : سائفر کیس میں سزا کے خلاف عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی اپیل پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی، چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سماعت کی، بانی پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر اور ایف آئی اے کے اسپیشل پراسیکیوٹر حامد علی شاہ عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔

    وکیل سلمان صفدر نے دلائل میں کہا کہ اسد مجید کہتے ہیں میں نے نیشنل سیکیورٹی کمیٹی میٹنگ میں کہا ڈونلڈ لو کی بات پر اسٹرانگ ڈیمارش ہونا چاہیے، نیشنل سکیورٹی کمیٹی کی میٹنگ میں کہا گیا مستقبل میں تعلقات خراب ہوسکتے ہیں، وزیراعظم نے اپنے حلف کی خلاف ورزی نہیں کی، اسد مجید امریکا میں پاکستان کے سفیر تھے انہوں نے سائفر بھیجا، اسد مجید نے بتایا کہ وہ ڈونلڈ لو کے ساتھ کھانے پر بیٹھے تھے، اسد مجید نے اپنے بیان میں یہ نہیں کہا کہ کیا بات تھی جس کی بنیاد پر سائفر بھیجنا پڑا، اسد مجید نے اپنے بیان میں کہا کہ سائفر میں سازش کی کوئی بات نہیں لکھی، پراسیکیوشن کا کیس کسی موقع پر بھی صفحہ مثل پر نہیں آیا، اسد مجید بھی نہیں لائے، ٹرائل جج نے لکھا کہ سائفر episode سے دونوں ممالک کے تعلقات کو بہت نقصان پہنچا۔

    راولپنڈی،اسلام آباد اور خیبر پختونخوا کے مختلف شہروں میں زلزلے کے جھٹکے

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے پوچھا کہ سائفر episode کا کیا مطلب ہے؟ چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ جج کو اس متعلق مزید مخصوص انداز میں لکھنا چاہیے تھا، اسد مجید نے بھی یہ نہیں بتایا کہ اس نے بھیجا کیا ہے؟وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ ٹرائل جج نے لکھا کہ اس سائفر کے معاملے سے مستقبل کے تعلقات خراب ہو سکتے ہیں، بانی پی ٹی آئی نے عوام کو اعتماد میں لے کر اپنے حلف کی خلاف ورزی نہیں کی۔

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ اسد مجید وہ گواہ تھے جو سائفر کے متن سے آگاہ تھے، اس پر وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ جی بالکل وہ آگاہ تھے انہوں نے ہی ڈیمارش کرنے کی سفارش کی، دفتر خارجہ کے لئے یہ ٹرائل بہت مہنگا رہا ہے یو اے ای سے دو تین دفعہ بیان دینے کے لئے آئے، ایڈیشنل سیکرٹری امریکا فیصل نیاز ترمذی یو اے ای سے دو تین دفعہ آئے، امریکی ناظم الامور انجیلا مرکل کو نہ بیان کے لیے لایا گیا اور نہ ان کا واٹس ایپ ریکارڈ پر لایا گیا۔

    ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ

    چیف جسٹس نے کہا کہ ہم یہ ڈسکس کر رہے کیا سفیر کو بلایا جا سکتا ہے؟وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ فیصل نیاز ترمذی نے امریکی ناظم الامور کے میسج کے حوالے سے بتایا کہ کاغذ لہرایا گیا، ڈونلڈ لو اور امریکی ناظم الامور کے کہنے پر سابق وزیر اعظم کو جیل میں ڈال دیا یہ ان کا کیس ہے۔

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے طنزیہ ریمارکس دئیے کہ پاکستان میں اگر کوئی کہے پاک ایران گیس پائپ لائن بنا دوں تو کیا جیل میں ڈال دیں گے؟ ایف آئی آر تو کٹے گی نا؟ وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ فیصل ترمذی کو جو میسج آیا وہ عدالتی ریکارڈ پر تو لایا جاتا لیکن نہیں لایا گیا سابق وزیر خارجہ کی تقریر ایک سیاسی تقریر تھی۔

    وفاقی حکومت نے ججز کے خط پر تحقیقات کرنے کا اعلان کردیا

    عدالت نے کہا کہ آئیڈیلی تو اعظم خان اور اسد مجید اسٹار گواہ ہو سکتے تھے ابھی اسد مجید نے تو کچھ نہیں کہا کہ وہ اسٹار گواہ بن سکتا، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ اعظم خان لاپتا ہوئے اور مقدمہ درج ہوا، واپس آئے تو بیان دیا، اعظم خان کے 164 کے بیان اور کورٹ میں دیے گئے بیان میں بہت زیادہ فرق ہے۔

    جسٹس گل حسن نے کہا کہ 164 کے بیان اور کورٹ کے سامنے اعظم خان کے بیان میں کیا فرق ہے؟ سلمان صفدر نے کہا کہ اعظم خان کہہ رہا ہے یہ ایک پیپر تھا جس کو لہرایا گیا، جسٹس گل حسن نے کہا کہ آپ بتائیں بانی پی ٹی آئی نے جلسے میں کیا لہرایا تھا ؟ اس پر وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ یہ تو پراسیکیوشن نے ثابت کرنا ہے وہ کیا لہرایا گیا؟َ،بعدازاں سائفر کیس کی سماعت 2 اپریل منگل تک ملتوی کردی گئی۔

    وزیر اعظم شہباز شریف کا نیول ہیڈ کوارٹرز کا دورہ

  • عمران خان کیخلاف سائفر کیس میں منگل تک اچھی خبر ملے گی: شیر افضل کا دعویٰ

    عمران خان کیخلاف سائفر کیس میں منگل تک اچھی خبر ملے گی: شیر افضل کا دعویٰ

    ایبٹ آباد: پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شیر افضل مروت نے سائفر کیس میں منگل تک اچھی خبر ملنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی :پی ٹی آئی ایبٹ آباد کے رہنما روح الامین کے گھر افطار ڈنر کے بعد مشتاق احمد غنی کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو میں شیر افضل مروت کا کہنا تھاکہ عمران خان کے خلاف سیاسی کیسز محض انتقامی کاروائیاں تھی، بانی پی ٹی آئی کے خلاف کیسز میں وکلا کو مکمل جرح کا حق نہیں دیا گیا،بانی پی ٹی آئی کے خلاف سائفر کیس میں منگل تک اچھی خبر ملے گی،مینڈیٹ چوری ریکوری کیلئے پلان مرتب کرلیا ہے اور 30 مارچ سے آغاز کریں گے جبکہ مشتاق احمد غنی کی کابینہ میں شمولیت کیلئے بانی پی ٹی آئی سے بات کروں گا۔

    شیر افضل مروت نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی عوام نے تاریخ رقم کرتے ہوئے تیسری مرتبہ پی ٹی آئی پر اعتماد کیا ہے، پی ٹی آئی حکومت اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے خیبرپختونخوا کے عوام کی بھرپور خدمت کرے گی،سابق اسپیکر و ایم پی اے مشتاق احمد غنی کی کابینہ میں شمولیت کیلئے بانی پی ٹی آئی سے بات کروں گا، مشتاق غنی کو کابینہ میں شامل کروا کر عوام کو حق دلواؤں گا۔

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں سابق وزیراعظم عمران خان اور شاہ محمود کی سائفر کیس سزا کے خلاف اپیلیں زیر سماعت ہیں۔

  • سائفر کیس،یہ آخری بات ہو گی کہ میں کہو ں ٹرائل جج کو ایک اور موقع دے دیں،وکیل عمران خان

    سائفر کیس،یہ آخری بات ہو گی کہ میں کہو ں ٹرائل جج کو ایک اور موقع دے دیں،وکیل عمران خان

    اسلام آباد ہائیکورٹ: سائفر کیس میں بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی اپیلوں پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب سماعت کررہے ہیں،بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی جانب سے وکلاء سلمان صفدر، سکندر ذوالقرنین و دیگر عدالت پیش ہوئے،ایف آئی اے پراسیکوشن ٹیم میں اسپیشل پراسیکیوٹرز حامد علی شاہ اور ذوالفقار نقوی عدالت پیش ہوئے،بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کے وکیل سلمان صفدر نے دلائل کا آغاز کردیا،علی محمد خان، بیرسٹر علی ظفر، اور عمران خان کی بہنیں اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچ گئے،عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے خاندانی افراد، منتخب نمائندے، سنیٹرز اور وکلاء قیادت کی بڑی تعداد میں کمرہ عدالت موجود تھے،

    بیرسٹر سلمان صفدر نے12 اکتوبر 2022 کی کمپلینٹ عدالت کے سامنے پڑھی اور کہا کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت اس وقت کے سیکرٹری داخلہ نے کمپلینٹ دائر کی ، پانچ اکتوبر 2022 کو کس نے انکوائری شروع کی اس حوالے سے کوئی دستاویز عدالتی ریکارڈ پر نہیں ،اگر یہ دستاویز ریکارڈ پر نا ہو تو کیس کی بنیاد ہی نہیں تو کیس ختم ہو جائے گا ، تفتیشی نے اپنے بیان میں کہا کہ پانچ اکتوبر کو انکوائری ڈی جی ایف آئی اے کی ہدایت پر شروع کی، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ کیا وزارتِ داخلہ نے ڈی جی ایف آئی اے کو انکوائری شروع کرنے کا کہا؟وفاقی کابینہ نے انکوائری کی منظوری دے کر سیکرٹری داخلہ کو اختیار دیا،کیا سیکرٹری داخلہ نے یہ اختیار ایف آئی اے کو ڈیلیگیٹ کر دیا؟ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ کیا وزارتِ داخلہ نے ایف آئی اے کو کہا کہ انکوائری کریں اور معاملہ دیکھیں؟ وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ اس کیس کی بنیاد ہی ہِل گئی اور ساری عمارت ہی منہدم ہو گئی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ یہ ہارڈ کور کرمنل کیس نہیں، وائٹ کالر کرائم بھی نہیں، اپنی نوعیت کا الگ کیس ہے، یہ ہائبرڈ قسم کا کیس ہے اور اس میں نئی عدالتی نظیر تیار ہو گی، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ جتنے بھی کیسز بانی پی ٹی آئی کے خلاف آئے ہیں وہ آؤٹ دا باکس ہی رہے ہیں ، توشہ خانہ ، سائفر ، عدت میں نکاح کیس کا فیصلہ بھی اسی طرح ہی آیا ہے ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ یہ وائٹ کلر کیس بھی نہیں نا ہی مرڈر کیس کی طرح کہہ سکتے ہیں یہ مکس ہائبرڈ کیس ہے ، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ یہ ریاست کے خلاف جرم کا کیس ہے ، یہ آخری بات ہو گی کہ میں کہو ں کہ ٹرائل جج کو ایک اور موقع دے دیں ،میں میرٹ پر دلائل دوں گا ، عدالت نے کہا کہ حق جرح ختم ہو جائے آپ کی حق تلفی ہوتی ہے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ملزم عدالت کی نظر میں favourite child ہوتا ہے ،شام کے ٹرائل کی کیا حیثیت ہو گی ؟ اس حوالے سے بھی پوچھیں گے ، کیا بے چینی تھی کہ رات کے نو بجے بھی ٹرائل ہو رہا تھا ، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ سیکرٹری داخلہ یوسف نسیم کھوکھر اِس کیس کے مدعی ہیں اور انکی شکایت پر انکوائری کا آغاز کس نے کیا اُسکو گواہ نہیں بنایا گیا بیان قلمبند نہیں کیا گیا، یہ بنیادی نکتہ نہ ہونے کی وجہ سے اِس کیس کی بنیاد ہِل گئی اور عمارت زمین بوس ہو گئی،

    وکیل عمران خان سلمان صفدر نے کہا کہ عمران خان کے وکیل سکندر ذوالقرنین ایک دن دانت میں تکلیف کی وجہ سے جیل سماعت میں پیش نہیں ہو سکے، اگلے ہی روز ٹرائل جج نے سرکاری وکلاء مقرر کر دیے، سوال یہی ہے کہ کیا جلدی تھی،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ تو کیا جلدی تھی، وکیل نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم لیکن شاید جج صاحب نے کوئی ڈیدلائن پوری کرنی تھی

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ یہ دونوں سرکاری وکیل عدالت نے تعینات کیے تھے ،کیا ایڈوکیٹ جنرل نے نام بھیجے تھے ؟ وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ جی ایڈوکیٹ جنرل نے یہ تعینات کئے تھے ، عدالت نے کہا کہ پھر تو ہمیں ایڈوکیٹ جنرل کو نوٹس کرکے سننا پڑے گا ، ان سرکاری وکلا کی اسٹینڈنگ کیا تھی ؟ وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ سائفر کیس کا ٹرائل اسلام آباد کی تاریخ کا متنازعہ ترین ٹرائل تھا اور ٹرائل کورٹ کے جج نے اس ٹرائل کو متنازعہ بنایا، اعلیٰ عدالت کی کسی ڈائریکشن کے بغیر ٹرائل جج نے جلدبازی میں روزانہ کی بنیاد پر ٹرائل چلایا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ کوئی قدغن نہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر ٹرائل نہیں ہو سکتا، روزانہ کی بنیاد پر بھی ٹرائل منطقی طور پر ہونا چاہیے،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ دو مرتبہ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سائفر کا ٹرائل کلعدم کیا سر ہم کتنی بار آپ سے آکر شکایت لگاتے،ہم اڈیالہ جیل میں تھوڑا لیٹ پہنچ تھےتو پتہ چلتا تھا کہ گواہوں کے بیان ریکارڈ کر لئیے گئے ہیں دو تین دن بعد ہمیں کاپیاں فراہم کی جاتی تھیں،

    سائفر کیس کی سماعت کل تک ملتوی، ایڈووکیٹ جنرل کو نوٹس جاری کر دیا گیا،

    عمران خان کو سائفر کیس میں مجموعی طور پر 24 سال قید کی سزا سنائی گئی، ان کو چار دفعات کے تحت الگ 10، 2، 2، اور 10 سال قید کی سزائیں سنائی گئیں،تاہم عمران خان کی چاروں سزائیں ایک ساتھ شروع ہوں گی،

    واضح رہے کہ ‏توشہ خانہ کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 14، 14 سال کی سزا سنا دی گئی.احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا سنائی،توشہ خانہ کیس میں عدالت نے عمران خان اور بشری بی بی کو 787 ملین جرمانہ بھی کیا،عدالت نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو عوامی عہدے کیلئے10 سال کیلئے نااہل کردیا.عدالت نے بشری بی بی کو گرفتار کرنے کا حکم جاری کر دیا.جس وقت فیصلہ سنایا گیا بشریٰ بی بی عدالت میں موجود نہیں تھی،

    قبل ازیں  سائفر کیس کی خصوصی عدالت نے کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو 10،10 سال قید با مشقت کی سزا سنادی،خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو سزا سنائی۔

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    عمران خان اور جیل سپرنٹنڈنٹ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

    عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ 

     بنی گالہ میں سارے سودے ہوتے تھے کہا گیا میرا تحفہ میری مرضی

  • سائفر کیس،عمران خان کی اپیل پر سماعت ایک روز کے لئے ملتوی

    سائفر کیس،عمران خان کی اپیل پر سماعت ایک روز کے لئے ملتوی

    عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی سائفر کیس میں سزا کے خلاف اپیلوں پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری نے سماعت کی،عمران خان کی بہن علیمہ خان اسلام آباد ہائیکورٹ میں موجود تھیں،سماعت شروع ہوئی تو ایف آئی اے پراسیکیوٹر حامد علی شاہ نے کہا کہ ہم اعتراضات سے متعلق آرڈر کا انتظار کر رہے تھے،عدالت نے کہا کہ اپیل کے قابل سماعت ہونے اور میرٹ پر فیصلہ ایک ساتھ کریں گے، آج سے اپیل کے میرٹ پر دلائل سنیں گے،بانی پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے کیس میں عائد تمام الزامات پڑھ کر سنائے،

    وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ الزام ہے سائفر کو ٹوئسٹ کیا اور اپنے ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کیا، الزام ہے بانی پی ٹی آئی نے پرنسپل سیکریٹری اعظم خان کو ہدایات جاری کیں، الزام ہے کہ ہدایات میں میٹنگ منٹس کو ٹوئسٹ کرنے کا کہا گیا، اس الزام میں اعظم خان کا ایک کردار بتایا گیا ہے، الزام لگایا گیا کہ غیرقانونی طور پرسائفر ٹیلی گرام اپنے پاس رکھا، یہ بھی الزام لگایا گیا کہ سائفر سیکیورٹی سسٹم بھی کمپرومائز کیا گیا، الزام ہے کہ سائفر کے متن کو پبلک کرنے کا بھی کہا گیا، الزام ہے 28 مارچ کو بنی گالہ میٹنگ میں سازش تیار کی گئی، اعظم خان لاپتہ رہے اور واپس آکر ایف آئی اے کو بیان ریکارڈ کرایا، اعظم خان نے اسی روز مجسٹریٹ کے سامنے بھی بیان ریکارڈ کرا دیا، وہ غائب رہنے کے بعد واپس آئے تو بغیر ضمانت لیے ایف آئی اے کے پاس گئے اور تفتیش جوائن کی، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ ‏کیا اعظم خان نے بانی پی ٹی آئی کے کہنے پر میٹنگ کے منٹس تیار کیے، چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ "کیا کوئی دستاویز پیش کیا گیا کہ اعظم خان نے بانی پی ٹی آئی کی ہدایات پر عمل کیا،بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ "نہیں۔۔ ایسا کوئی دستاویز نہیں جس میں یہ لکھا ہو، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ "‏اسی لیے لکھا گیا ہے کہ اعظم خان کا کردار بعد میں دیکھا جائے گا”۔وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ "اعظم خان اغواء اور مقدمہ درج ہونے کے اگلے روز منظرِعام پر آ گئے”۔”اعظم خان نے اپنا بیان قلمبند کرانے کیلئے درخواست جمع کرائی”۔”اسی دن اعظم خان کا تفتیشی اور مجسٹریٹ کے سامنے بیانات قلمبند بھی ہو گئے”۔”‏ٹرائل کورٹ سائفر کیس میں 8 دنوں میں 25 گواہوں کے بیان ریکارڈ کر لئیے۔ پراسیکیوشن کی جانب سے استدعا کی گئی کہ ان کیمرہ ٹرائل ہونا چاہئیے”۔‏پہلی بار 23 اکتوبر کو چارج فریم ہوا دوسری دفعہ 13 دسمبر کو چارج فریم ہوا،تیسری دفعہ چارج برقرار رہا کچھ گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرنے کی کاروائی کالعدم ہوئی ، 12 جنوری سے 30 جنوری تک ٹرائل کورٹ نے ٹرائل مکمل کر لیا ، ان 18 دنوں میں جج صاحب کو ہمارا کنڈکٹ ٹھیک نہیں لگا ،سائفر ٹیلی گرام کے متن میں ردوبدل کر کے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا الزام ہے، گرفتاری کے بعد اسپیشل جج اور اسلام آباد ہائی کورٹ نے ضمانت کی درخواست مسترد کی، اسلام آباد ہائی کورٹ نے چارہفتوں میں کیس نمٹانے کی ہدایت کی، سپریم کورٹ نے دونوں ملزمان کی ضمانت کی درخواستیں منظور کیں، ٹرائل کورٹ نے 17 دنوں میں 25 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے، 4 گواہوں پر وکلاء صفائی نے جرح کی، باقی 21 گواہوں پر عدالت کے مقرر کردہ وکیل صفائی نے 2 دنوں میں جرح کی

    سائفر کیس کی سماعت میں بیرسٹر سلمان صفدر نے شاہ محمود قریشی کی 27 مارچ کے جلسے کی تقریر عدالت کے سامنے پڑھی،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مجھے تو اس کا سر پیر ہی سمجھ نہیں آیا،بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ اِسی بیان کی بنیاد پر شاہ محمود قریشی کو دس سال قید کی سزا سنائی گئی،بیرسٹر سلمان صفدر نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی تقریر عدالت میں پڑھ کر سنائی،جس پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ تو سیاسی تقریر تھی،

    1923 کے آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت سزا کے خلاف اپیلوں کی سماعت کے دوران اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کے اہم ریمارکس سامنے آئے ہیں، انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے گورا جو قانون بنا گیا 1947 سے وہی چل رہے ہیں، گورا یہ تو نہیں کہہ کر گیا تھا کہ آپ اس میں تبدیلی نہیں کر سکتے، قوانین تو پارلیمنٹ نے بنانے ہیں نا عدالت نے تو نہیں بنانے، ایک اور المیہ یہ بھی ہے کہ جس قانون کو ہم چھیڑتے ہیں اسکو خراب کر دیتے ہیں،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ اُس سائفر میں کمیونیکیشن کیا ہے؟ واشنگٹن سے ایک شخص نے ایک چیز بھیجی وہ کیا ہے؟ اس شخص نے بتایا تو ہو گا نا کہ کیا چیز بھارت کے ہاتھ لگ گئی تو سیکیورٹی سسٹم متاثر ہو گا،کیا سائفر ٹرائل کورٹ کے جج کو دکھایا گیا؟ وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ نہیں دکھایا،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کے بعد چیف جسٹس عامر فاروق کے بھی اہم سوالات
    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ کم از کم یہ تو بتا دیں کہ سائفر میں کمیونیکیشن تھی کیا؟ اسپیشل پراسیکیوٹر حامد علی شاہ نے کہا کہ جو سائفر بھیجا گیا وہ کلاسیفائیڈ تھا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ایک شخص کو سزا دی گئی یہ معلوم تو ہو کہ دستاویز میں کمیونیکیشن کیا تھی، پتہ تو چلے کہ دستاویز میں لکھا کیا تھا جسے ٹویسٹ کیا گیا،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ نہ اصل نہ ہی ٹویسٹ کیا گیا سائفر سامنے آیا،عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی اپیلوں پر سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی،سماعت کل تک ملتوی کرنے پر عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے چیف جسٹس عامر فاروق کا شکریہ بھی ادا کیا.

    عمران خان کو سائفر کیس میں مجموعی طور پر 24 سال قید کی سزا سنائی گئی، ان کو چار دفعات کے تحت الگ 10، 2، 2، اور 10 سال قید کی سزائیں سنائی گئیں،تاہم عمران خان کی چاروں سزائیں ایک ساتھ شروع ہوں گی،

    واضح رہے کہ ‏توشہ خانہ کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 14، 14 سال کی سزا سنا دی گئی.احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا سنائی،توشہ خانہ کیس میں عدالت نے عمران خان اور بشری بی بی کو 787 ملین جرمانہ بھی کیا،عدالت نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو عوامی عہدے کیلئے10 سال کیلئے نااہل کردیا.عدالت نے بشری بی بی کو گرفتار کرنے کا حکم جاری کر دیا.جس وقت فیصلہ سنایا گیا بشریٰ بی بی عدالت میں موجود نہیں تھی،

    قبل ازیں  سائفر کیس کی خصوصی عدالت نے کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو 10،10 سال قید با مشقت کی سزا سنادی،خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو سزا سنائی۔

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    عمران خان اور جیل سپرنٹنڈنٹ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

    عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ 

     بنی گالہ میں سارے سودے ہوتے تھے کہا گیا میرا تحفہ میری مرضی

  • عمران خان سے ملاقاتوں پر پابندی، محکمہ داخلہ  نوٹیفکیشن کیخلاف درخواست پر نوٹس جاری

    عمران خان سے ملاقاتوں پر پابندی، محکمہ داخلہ نوٹیفکیشن کیخلاف درخواست پر نوٹس جاری

    اسلام آباد ہائی کورٹ،بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں پر پابندی کا محکمہ داخلہ پنجاب کا نوٹیفکیشن چیلنج کرنے کی درخواست پر سماعت ہوئی،

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نےسماعت کی،وکیل شیر افضل مروت عدالت کے روبرو پیش، روسٹرم پر آگئے،جسٹس ارباب محمد طاہر نے کہا کہ آپ نے کیا چیلنج کیا ہے،وکیل شیر افضل مروت کی جانب سے ہوم ڈیپارٹمنٹ پنجاب کا نوٹیفکیشن پڑھ کر سنایا گیا ،وکیل شیر افضل مروت کی جانب سے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے حوالے سے عدالتی فیصلوں کے حوالے دیئے گئے، شیر افضل مروت نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے ڈویژن بینچ نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے لئیے ہفتے میں دو دن مقرر کیے،تین کیٹگریز کو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت تھی،تین مختلف اپیلیں دائر ہوئی اور سب پر فیصلے ہوئے،عدالتی فیصلے لیکر سب کو بانی پی ٹی آئی سے جیل میں ملاقات کرنے کی اجازت تھی،بانی پی ٹی آئی سے جیل میں سیاسی معاملے پر مشاورت ہوتی ہے،سنگل بینچ جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے واضح احکامات جاری کیے ،سنگل بینچ نے جیل ملاقات سے متعلق ایک فیصلہ جاری کیا ،

    جسٹس ارباب محمد طاہر نے استفسار کیا کہ سنگل بینچ نے آرڈر جاری کردیا ہے ،وکیل شیر افضل مروت نے کہاکہ جی بالکل آرڈر جاری کیا اور اس میں واضح طور پر ملاقات کی اجازت دی گئی ،سینٹ کا ضمنی الیکشن کل ہے اور ہم نے مشاورت کرنا تھی ،ہمیں ملاقات پر پابندی لگا کر کہا گیا آپ نہیں مل سکتے ،عدالت نے استفسار کیا کہ کیا صرف بانی پی ٹی آئی سے ملاقات پر ہی پابندی لگی ہے، وکیل شیر افضل مروت نے کہا کہ نہیں پوری اڈیالہ جیل میں ملاقات پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، کوئی قیدی کسی سے کسی قسم کی ملاقات یا مشاورت نہیں کرسکتا ،وکلاء کو ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی ، سینیٹ انتخابات آرہے ہیں،جس حوالے سے بانی پی ٹی آئی سے مشاورت ضروری ہے،

    وکیل شیر افضل مروت سینٹ انتخابات کی تاریخ ہی بھول گئے،کہا کل انتخابات ہیں اس حوالے سے ان سے مشاورت کرنی تھی،قانون اجازت دیتا ہے کہ قیدی وکلا سے مشاورت کرے،عدالت نے استفسار کیا کہ ابھی اڈیالہ جیل میں کونسا جیل ٹرائل چل رہا ہے،وکیل نے کہا کہ ابھی 190 ملین پاؤنڈ کیس زیر سماعت ہے ، عدالت نے کہا کہ آج اسکی سماعت تھی کیا ، کون سی عدالت ہے، وکیل نے کہا کہ آج نیب کیس کی سماعت تھی احتساب عدالت کے جج نے سماعت کی ، ہمارے دو وکیل آج گئے لیکن انھیں خان صاحب سے مشاورت کی اجازت نہیں دی گئی ،عدالت نے کہا کہ ویسے اب تو ضمنی الیکشن کی نامزدگی ہوگی،باقی جو نشستیں ہیں انکی پولنگ تو اپریل میں ہوگی ،وکیل شیر افضل مروت نے کہا کہ سینٹ الیکشن بے شک اپریل میں ہو مشاورت تو ابھی کرنی ہے ہم نے،دوسری جانب بشری بی بی کو بنی گالا سب جیل میں رکھا گیا ہے،ہم نے اس آرڈر کو بھی چیلنج کر رکھا ہے،عدالت نے کہا کہ سب جیل کا آرڈر کہاں چیلنج کیا گیا ہے، وکیل شیر افضل مروت نے کہا کہ بشری بی بی کو سب جیل رکھنے والا آرڈر اسی ہائیکورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے ، بانی پی ٹی آئی کو سیریس تھریٹ ہیں ، اب ملاقات پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ،آرٹیکل ٹین اس سے متعلق واضح ہے، ہمارا قانونی حق ہے ، پنجاب حکومت کے ہوم ڈیپارٹمنٹ کا نوٹیفکیشن خلاف قانون ہے ، کلعدم قرار دیا جائے،آپ اگر کل جیل سپرٹنڈنٹ کو بلا لیں تو بہتر رہے گا ، عدالت نے کہا کہ ہم اپنے طریقے سے کام کرینگے ، آپ نے فریق کس کو بنایا ہے ،ویل نے کہ کہ ہم نے جیل سپرٹنڈنٹ کو فریق بنایا ہے، عدالت نے کہا کہ وہ کل اگر کہیں ہم نے تو آرڈر نہیں کیا ہوم ڈیپارٹمنٹ نے کیا ہے، وکیل نے کہا کہ آپ آرڈر کردیں جیل سپرنٹینڈنٹ کے پاس اختیارات ہوتے ہیں ،اسلام آباد ہائی کورٹ نے فریقین کو کل کے لیے نوٹس جاری کر دیا،کل گیارہ بجے سماعت ہوگی ،

    سائفر کیس،یہ کہتے تھے ضمانت کا حق نہیں ، سپریم کورٹ نے ضمانت بھی دی،سلمان صفدر

    عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ 

     بنی گالہ میں سارے سودے ہوتے تھے کہا گیا میرا تحفہ میری مرضی

    عمران خان جیل میں شاہانہ زندگی گزار رہے ہیں، وفاقی وزیر اطلاعات

    عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر توہین عدالت کی درخواست، نوٹس جاری

    اب بتا رہا ہوں پاکستان میں سری لنکا والا کام ہونے جا رہا ، کوئی ڈیل کی بات نہیں ہو رہی، عمران خان

  • سائفر کیس،یہ کہتے تھے ضمانت کا حق نہیں ، سپریم کورٹ نے ضمانت بھی دی،سلمان صفدر

    سائفر کیس،یہ کہتے تھے ضمانت کا حق نہیں ، سپریم کورٹ نے ضمانت بھی دی،سلمان صفدر

    اسلام آباد ہائیکورٹ،سائفر کیس میں سزا کیخلاف درخواست،بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی اپیلوں پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نےسماعت کی،عمران خان کے وکیل نے اپیل کے حق پر مختلف قوانین کے حوالہ جات پیش کئے، بانی پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے دلائل د یئے اور کہا کہ اس کیس میں یہاں سے کچھ نہیں گیا بلکہ باہر سے آیا ہے، کوئی ابہام نہیں کس قانون کے تحت سائفر کیس کا ٹرائل ریگو لیٹ کرنا تھا،یہ کہہ رہے تھے کہ ضمانت کا حق موجود نہیں ہے، سپریم کورٹ نے ضمانت بھی دی،سائفر کیس میں درخواست گزاروں کے خلاف جن دفعات کے تحت ٹرائل چلایا گیا، دونوں درخواست گزار آرمڈ فورسز کے ممبر نہیں نہ ہی کورٹ مارشل ہوا ہے، باسپیشل لاء اور جنرل لاء دونوں میں سزا ہوئی، بیرسٹر سلمان صفدر نے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کے ایک فیصلے کا حوالہ دیا

    عمران خان کو سائفر کیس میں مجموعی طور پر 24 سال قید کی سزا سنائی گئی، ان کو چار دفعات کے تحت الگ 10، 2، 2، اور 10 سال قید کی سزائیں سنائی گئیں،تاہم عمران خان کی چاروں سزائیں ایک ساتھ شروع ہوں گی،

    واضح رہے کہ ‏توشہ خانہ کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 14، 14 سال کی سزا سنا دی گئی.احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا سنائی،توشہ خانہ کیس میں عدالت نے عمران خان اور بشری بی بی کو 787 ملین جرمانہ بھی کیا،عدالت نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو عوامی عہدے کیلئے10 سال کیلئے نااہل کردیا.عدالت نے بشری بی بی کو گرفتار کرنے کا حکم جاری کر دیا.جس وقت فیصلہ سنایا گیا بشریٰ بی بی عدالت میں موجود نہیں تھی،

    قبل ازیں  سائفر کیس کی خصوصی عدالت نے کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو 10،10 سال قید با مشقت کی سزا سنادی،خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو سزا سنائی۔

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    عمران خان اور جیل سپرنٹنڈنٹ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

    عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ 

     بنی گالہ میں سارے سودے ہوتے تھے کہا گیا میرا تحفہ میری مرضی

  • سائفر کیس،عمران خان کی  سزا کیخلاف اپیل قابل سماعت ہی نہیں، پراسیکیوٹر

    سائفر کیس،عمران خان کی سزا کیخلاف اپیل قابل سماعت ہی نہیں، پراسیکیوٹر

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی سائفر کیس میں سزا کیخلاف اپیل پر سماعت ہوئی،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس گل حسن اورنگزیب نے سماعت کی، ایف آئی اے پراسیکیوٹر جسٹس ریٹائرڈ حامد علی شاہ عدالت میں پیش ہوئے،ایف آئی اے پراسیکیوٹر حامد علی شاہ نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہاکہ یہ اپیل قابل سماعت نہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ قانون کے مطابق بتائیں کہ اپیل قابل سماعت کیسے نہیں؟ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے عدالت میں کہا کہ 1923کے آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت یہ اپیل نہیں ہے، آفیشل سیکرٹ ایکٹ میں اپیل کا کوئی حق موجود ہی نہیں ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا ضابطہ فوجداری کے تحت بھی اپیل نہیں ہو گی؟ جس پر ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہاکہ سی آر پی سی اس حوالے سے خاموش ہے، اس کا اطلاق نہیں ہوتا۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تو آپ کہہ رہے ہیں کہ اپیل قابل سماعت ہی نہیں،ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہاکہ ہمارادوسرا اعتراض یہ ہے کہ اپیل 2رکنی بنچ نہیں سن سکتا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ یہ آپ متبادل اعتراض کررہے ہیں؟پراسیکیوٹر نے کہاکہ پہلی استدعا ہے کہ اپیل قابل سماعت نہیں، دوسرا اعتراض 2رکنی بنچ پر ہے،یہ اپیل ہائیکورٹ کا سنگل بنچ سن سکتا ہے، 2رکنی بنچ نہیں،

    عدالت نے عمران خان کے وکیل سلمان صفدر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ ہمیں ابھی اپیل سے متعلق پروسیجرل طریقہ کار سے بتائیں کہ طریقہ کار کیا ہوگا؟بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ عدالت کے سامنے اسپیشل کورٹس کے ججز کی تعیناتی کے قوانین عدالت کے سامنے رکھ رہا ہوں،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ پروسیجرل لاء تمام سی آر پی سی تو نہیں، ایک شق ہے،سیکشن 10 کو دیکھیں تو اس نے طریقہ کار سے متعلق بتایا ہے،کیا یہ اپیل سیکشن 10 کے تحت ہے یا سی آر پی سی کے تحت دائر ہوئی ہے؟ بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ یہ اپیل سی آر پی سی کے سیکشن 410 کے تحت دائر کی گئی ہے، بیرسٹر سلمان صفدر نےایک بار پھر اسپیشل کورٹس کے ججز کی تعیناتی بارے قوانین کے حوالے دیئے،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ جو سوالات پوچھے گئے انہیں پر دلائل دیں، کچھ قوانین کا استعمال بارڈر کے اس پار بھی استعمال ہورہے ہیں،

    بانی پی ٹی آئی کے وکیل سکندر ذولقرنین نے اسپیشل پراسیکیوٹر کی تعیناتی پر اعتراض کیا اور کہا کہ ایکٹ میں پراسیکیوٹر کا ذکر نہیں ہے تو یہ کونسل کیسے بنے ہوئے ہیں ،ایف آئی اے نے سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی اپیل ناقابل سماعت قرار دیکر مسترد کرنے کی استدعا کردی، عدالت نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی اپیلوں پر پراسیکیوشن کے بنیادی اعتراضات پر دلائل طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 13 مارچ تک ملتوی کر دی۔

    عمران خان کو سائفر کیس میں مجموعی طور پر 24 سال قید کی سزا سنائی گئی، ان کو چار دفعات کے تحت الگ 10، 2، 2، اور 10 سال قید کی سزائیں سنائی گئیں،تاہم عمران خان کی چاروں سزائیں ایک ساتھ شروع ہوں گی،

    واضح رہے کہ ‏توشہ خانہ کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 14، 14 سال کی سزا سنا دی گئی.احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا سنائی،توشہ خانہ کیس میں عدالت نے عمران خان اور بشری بی بی کو 787 ملین جرمانہ بھی کیا،عدالت نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو عوامی عہدے کیلئے10 سال کیلئے نااہل کردیا.عدالت نے بشری بی بی کو گرفتار کرنے کا حکم جاری کر دیا.جس وقت فیصلہ سنایا گیا بشریٰ بی بی عدالت میں موجود نہیں تھی،

    قبل ازیں  سائفر کیس کی خصوصی عدالت نے کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو 10،10 سال قید با مشقت کی سزا سنادی،خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو سزا سنائی۔

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    عمران خان اور جیل سپرنٹنڈنٹ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

    عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ 

     بنی گالہ میں سارے سودے ہوتے تھے کہا گیا میرا تحفہ میری مرضی

  • سائفر کیس،عمران خان کی سزا کیخلاف اپیل پر سماعت،التوا کی درخواست مسترد

    سائفر کیس،عمران خان کی سزا کیخلاف اپیل پر سماعت،التوا کی درخواست مسترد

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے سائفر کیس میں ایف آئی اے پراسیکیوٹر حامد علی شاہ کی التواء کی درخواست مسترد کر دی

    عمران خان کی سائفر کیس میں سزا کے خلاف اپیل پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس گل حسن اورنگزیب نے سماعت کی،سماعت شروع ہوئی تو ایف آئی اے کے اسپیشل پراسیکیوٹر حامد علی شاہ نے کہا کہ مجھے اس کیس میں مقرر کیا گیا ہے، تیاری کے لیے وقت چاہیے،عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ عدالت نے گزشتہ سماعت پر واضح کیا تھا کہ اس میں التواء نہیں ملے گا،ایف آئی اے پراسیکیوٹر حامد علی شاہ نے کہا کہ ابھی اس کیس کی پیپر بُکس بھی تیار نہیں، کیس ایک بار شروع ہو گیا تو غیر ضروری التواء نہیں مانگا جائے گا، مجھے پہلے اس کیس کے تمام ریکارڈ کا جائزہ لینا ہے،جسٹس گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ ابھی تو اپیل کنندہ کے وکیل دلائل کا آغاز کر رہے ہیں، کونسا یہ دلائل ایک دن میں ختم ہو جائیں گے۔

    بیرسٹر سلمان صفدر نے عدالت میں دلائل دیئے،بیرسٹر سلمان صفدر نے بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی پر لگائے گئے الزامات عدالت میں پڑھے،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو مختلف دفعات کے تحت مجموعی طور پر 24 سال سزا سنائی گئی، بانی پی ٹی آئی کو اکتوبر 2022 میں پہلی بار ایف آئی اے نے نوٹس جاری کیا،سائفر کی آمد اور غلط استعمال سے متعلق انکوائری کی گئی، 28 مارچ کو بنی گالہ میٹنگ کو سازش قرار دینے کا الزام عائد کیا گیا، مقدمہ میں لکھا گیا کہ سائفر سکیورٹی سسٹم کو کمپرومائز کیا گیا، سائفر کیس میں 25 گواہان کے بیانات قلمبند کرائے گئے، سابق وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کو بھی گواہ بنایا گیا، اس ایف آئی آر میں چار ملزمان کو نامزد کیا گیا جن میں اعظم خان بھی شامل ہے، اسد عمر اور اعظم خان دونوں نے ضمانت کی درخواست دی اور بعد میں واپس لے لی، اعظم خان جیسے ہی 161 کا بیان دیتا ہے اسی دن مجسٹریٹ کے سامنے 164 کا بیان ریکارڈ کروا لیا جاتا ہے، وعدہ معاف گواہ بھی نہیں کہا جا سکتا،

    ڈیفنس کونسل نے اعظم خان کے مبینہ اغواء سے متعلق کوئی سوال نہیں کیا؟جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب
    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ شریکِ ملزم نے پراسکیوشن کی فیور میں بیان دیا ، اعظم خان کا نام چالان میں ملزم کے طور پر لکھا گیا یا نہیں ، بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ جب ملزم بیان دے دیتا ہے تو اس کو ریلیف دے دیا جاتا ہے ،ایف آئی آر میں چار اور چالان میں صرف دو لوگوں کا نام ہے، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ کیا 164 کے تقاضے پورے کیے گئے؟ وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ میری نظر میں پورے نہیں ہوئے، اسد عمر اور اعظم خان کو خانوں میں بھی نہیں ڈالا گیا، ایف آئی آر کہتی ہے اعظم خان ملزم ہے چالان کہتا ہے وہ گواہ ہے، کسی ملزم کو وعدہ معاف گواہ بنانے کا قانون میں ایک طریقہ کار طے ہے،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ کیا اعظم خان پر جرح ہوئی؟ وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ ہم نے نہیں کی، ڈیفنس کونسل حضرت یونس نے کی، جسٹس میاں‌گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ ڈیفنس کونسل نے اعظم خان کے مبینہ اغواء سے متعلق کوئی سوال نہیں کیا؟ بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ نہیں، یہ سوال نہیں کیا گیا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی کو ڈیفنس کونسل مقرر کیا جاتا ہے تو اس نے اپنی ذمہ داری پوری کرنی ہوتی ہے، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ کیا اسٹیٹ کونسل نے تمام حقائق جانتے ہوئے بھی اس متعلق سوال نہیں کیا؟بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ ڈیفنس کونسل نے 48 گھنٹوں میں 21 گواہوں پر جرح مکمل کی، کرمنل کیسز میں شکایت کنندگان اہم ہوتے ہیں ، جب گواہان پر بحث ہونی تھی تو کم وقت دیا گیا ، ایک دن اسکندر ذوالقرنین عدالت میں پیش نہیں ہوئے ، عدالت نے حق دفاع ختم کردیا ، جب بھی کوئی جرم ہوتا ہے سب سے پہلے اس کی سٹوری آتی ہے ، اس کیس میں آفیشل سیکریٹ ایکٹ دیکھا گیا اور لفظوں کو مدنظر رکھ کر کیس بنایا گیا ، اس قانون کو پڑھ کر اس قانون کے لفظوں کا غلط استعمال کیا گیا ،

    عمران خان کو سائفر کیس میں مجموعی طور پر 24 سال قید کی سزا سنائی گئی، ان کو چار دفعات کے تحت الگ 10، 2، 2، اور 10 سال قید کی سزائیں سنائی گئیں،تاہم عمران خان کی چاروں سزائیں ایک ساتھ شروع ہوں گی،

    واضح رہے کہ ‏توشہ خانہ کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 14، 14 سال کی سزا سنا دی گئی.احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا سنائی،توشہ خانہ کیس میں عدالت نے عمران خان اور بشری بی بی کو 787 ملین جرمانہ بھی کیا،عدالت نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو عوامی عہدے کیلئے10 سال کیلئے نااہل کردیا.عدالت نے بشری بی بی کو گرفتار کرنے کا حکم جاری کر دیا.جس وقت فیصلہ سنایا گیا بشریٰ بی بی عدالت میں موجود نہیں تھی،

    قبل ازیں گزشتہ روز سائفر کیس کی خصوصی عدالت نے کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو 10،10 سال قید با مشقت کی سزا سنادی،خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو سزا سنائی۔

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    عمران خان اور جیل سپرنٹنڈنٹ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

    عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ 

     بنی گالہ میں سارے سودے ہوتے تھے کہا گیا میرا تحفہ میری مرضی