Baaghi TV

Tag: سائفر کیس

  • توشہ خانہ کیس،عمران خان کی سزا کیخلاف اپیل پر نیب کو نوٹس جاری

    توشہ خانہ کیس،عمران خان کی سزا کیخلاف اپیل پر نیب کو نوٹس جاری

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کی توشہ خانہ کیس میں سزا کے خلاف اپیل پر نیب کو نوٹسز جاری کر دیئے ہیں

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن نے سماعت کی،عمران خان کے وکیل علی ظفر عدالت میں پیش ہوئے، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ٹرائل میں عجیب و غریب باتیں ہوئی ہیں،چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامر فاروق نے کہا کہ جب آپ دلائل دیں تو اس وقت یہ چیزیں پوائنٹ آؤٹ کیجئے گا،عدالت نے توشہ خانہ کیس میں بشریٰ بی بی کی سزا کے خلاف اپیل پر بھی نیب کو نوٹس جاری کر دیا،عمران خان کے دونوں کیسز میں سزا معطلی کی درخواستوں پر بھی جمعرات کے لیے نوٹس کیا گیا ہے

    واضح رہے کہ عمران خان نے توشہ خانہ اور سائفر کیس میں سزاؤں کے اپیلیں اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کررکھی ہیں بیرسٹر سلمان صفدر اور بیرسٹر علی ظفر کی جانب سے دائر اپیلوں میں سزاؤں کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے، اپیلوں کے حتمی فیصلے تک عمران خان نے سزا معطل کرکے ضمانت پر رہائی کی بھی استدعا کی گئی ہے،

    قبل ازیں بشریٰ بی بی نے نیب توشہ خانہ ریفرنس میں سزا کیخلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا،بشریٰ بی بی نے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر، ظہیر عباس اور عثمان گل کے ذریعے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائرکی، بشریٰ بی بی کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ احتساب عدالت کی جانب سے توشہ خانہ ریفرنس میں سنائی گئی سزا کو کالعدم قرار دیا جائے،

    سائفر کیس کا فیصلہ 30 جنوری ، توشہ خانہ نیب کیس کا فیصلہ 31 جنوری کو سنایا گیا تھا ،3 فروری کو دوران عدت نکاح کیس کا فیصلہ سیشن عدالت نے سنایا تھا ،دو ہفتے گزرنے کے بعد بانی پی ٹی آئی کی سزا کے خلاف اپیلیں دائر کی گئی ہیں،دوران عدت نکاح کیس میں عمران خان اور ان کی اہلیہ کو عدت میں نکاح کیس میں سزا سنا دی گئی،عمران خان اور بشری بی بی کا نکاح غیر شرعی قرار دے دیا گیا،عمران خان اور بشری بی بی کو 7،7 سال قید اور 5 لاکھ جرمانہ کی سزا سنا دی گئی،

    واضح رہے کہ ‏توشہ خانہ کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 14، 14 سال کی سزا سنا دی گئی.احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا سنائی،توشہ خانہ کیس میں عدالت نے عمران خان اور بشری بی بی کو 787 ملین جرمانہ بھی کیا،عدالت نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو عوامی عہدے کیلئے10 سال کیلئے نااہل کردیا.عدالت نے بشری بی بی کو گرفتار کرنے کا حکم جاری کر دیا.جس وقت فیصلہ سنایا گیا بشریٰ بی بی عدالت میں موجود نہیں تھی،

    قبل ازیں سائفر کیس کی خصوصی عدالت نے کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو 10،10 سال قید با مشقت کی سزا سنادی،خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو سزا سنائی۔

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    عمران خان اور جیل سپرنٹنڈنٹ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

  • عمران خان،شاہ محمودقریشی،بشریٰ کی سزا کیخلاف اپیلیں سماعت کیلئے مقرر

    عمران خان،شاہ محمودقریشی،بشریٰ کی سزا کیخلاف اپیلیں سماعت کیلئے مقرر

    سائفر اور توشہ خانہ کیسز میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کی دونوں اپیلوں پر خصوصی بینچ تشکیل دے دیا ہے

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے رجسٹرار ہائیکورٹ نے پیر کو دونوں کیسز سے متعلق اپیلیں سماعت کے لیے مقرر کر دی ہیں ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کیس کی سماعت کریں گے ،سائفر کیس میں شاہ محمود قریشی کی اپیلیں بھی پیر کو سماعت کے لیے مقرر کر دی گئی ہیں،علاوہ ازیں بشریٰ بی بی کی توشہ خانہ کی اپیل بھی سماعت کے لیے مقرر کر دی گئی ہے۔عمران خان ، شاہ محمود قریشی اوربشریٰ بی بی کی اپیلوں پرخصوصی بنچ سماعت کرے گا،

    واضح رہے کہ عمران خان نے توشہ خانہ اور سائفر کیس میں سزاؤں کے اپیلیں اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کررکھی ہیں بیرسٹر سلمان صفدر اور بیرسٹر علی ظفر کی جانب سے دائر اپیلوں میں سزاؤں کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے، اپیلوں کے حتمی فیصلے تک عمران خان نے سزا معطل کرکے ضمانت پر رہائی کی بھی استدعا کی گئی ہے،

    قبل ازیں بشریٰ بی بی نے نیب توشہ خانہ ریفرنس میں سزا کیخلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا،بشریٰ بی بی نے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر، ظہیر عباس اور عثمان گل کے ذریعے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائرکی، بشریٰ بی بی کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ احتساب عدالت کی جانب سے توشہ خانہ ریفرنس میں سنائی گئی سزا کو کالعدم قرار دیا جائے،

    سائفر کیس کا فیصلہ 30 جنوری ، توشہ خانہ نیب کیس کا فیصلہ 31 جنوری کو سنایا گیا تھا ،3 فروری کو دوران عدت نکاح کیس کا فیصلہ سیشن عدالت نے سنایا تھا ،دو ہفتے گزرنے کے بعد بانی پی ٹی آئی کی سزا کے خلاف اپیلیں دائر کی گئی ہیں،دوران عدت نکاح کیس میں عمران خان اور ان کی اہلیہ کو عدت میں نکاح کیس میں سزا سنا دی گئی،عمران خان اور بشری بی بی کا نکاح غیر شرعی قرار دے دیا گیا،عمران خان اور بشری بی بی کو 7،7 سال قید اور 5 لاکھ جرمانہ کی سزا سنا دی گئی،

    واضح رہے کہ ‏توشہ خانہ کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 14، 14 سال کی سزا سنا دی گئی.احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا سنائی،توشہ خانہ کیس میں عدالت نے عمران خان اور بشری بی بی کو 787 ملین جرمانہ بھی کیا،عدالت نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو عوامی عہدے کیلئے10 سال کیلئے نااہل کردیا.عدالت نے بشری بی بی کو گرفتار کرنے کا حکم جاری کر دیا.جس وقت فیصلہ سنایا گیا بشریٰ بی بی عدالت میں موجود نہیں تھی،

    قبل ازیں سائفر کیس کی خصوصی عدالت نے کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو 10،10 سال قید با مشقت کی سزا سنادی،خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو سزا سنائی۔

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    عمران خان اور جیل سپرنٹنڈنٹ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

  • سائفر اور توشہ خانہ کیس میں سزاؤں کیخلاف عمران خان اور بشریٰ بی بی کی اپیلوں پر اعتراضات

    سائفر اور توشہ خانہ کیس میں سزاؤں کیخلاف عمران خان اور بشریٰ بی بی کی اپیلوں پر اعتراضات

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے سائفر اور توشہ خانہ کیس میں سزاؤں کے خلاف عمران خان اور بشریٰ بی بی کی اپیلوں پر اعتراض دائر کردیا۔

    باغی ٹی وی: اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے اپیلوں پر اعتراض دائر کیے جانے کے بعد عمران خان اور بشریٰ بی بی کے وکلا نے اعتراضات دورکرنے کے لیے اپیلیں واپس لیں، پی ٹی آئی وکلا کے مطابق اعتراضات دورکرکے آج ہی دوبارہ اپیلیں دائر کردیں گے، اسلام آباد ہائیکورٹ میں سزا کےخلاف گزشتہ ہفتے اپیلیں دائر کی گئی تھیں اور ذرائع کا بتانا ہے کہ اپیلوں پر ریکارڈ مکمل نہ ہونے اورکاپیاں مدھم ہونے کے اعتراضات عائد کئے گئے۔

    دوسری جانب 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کیس میں بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف فرد جرم کی کارروائی ملتوی کردی گئی،ریفرنس کی سماعت اسلام آباد میں احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کی جگہ لینے والے نئے جج نے کرنی تھی تاہم احتساب عدالت کےنئےتعینات جج ناصرجاویدرانانےتاحال چارج نہیں سنبھالا، ریفرنس کی سماعت بغیر کسی کارروائی کے 23 فروری تک ملتوی کردی گئی۔

    ایکس کی سروس تاحال متاثر

    گزشتہ سماعتوں پربھی جج محمدبشیرکی عدم دستیابی کے باعث سماعت بغیرکارروائی ملتوی ہوگئی تھی،واضح رہے کہ جج محمد بشیر کی ریٹائرمنٹ تک رخصت کے باعث گزشتہ روز احتساب عدالت میں سیشن جج ناصرجاوید رانا نئے جج کی تعیناتی کی گئی تھی، جج ناصرجاوید رانا نے حال ہی میں سارہ انعام قتل کیس کا فیصلہ سنایا تھا۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے شیر افضل مروت کیخلاف کارروائی سے روک دیا

    پی ٹی آئی پی خواتین کی مخصوص نشستوں سے دستبردار، تمام نامزد خواتین مستعفی

  • عمران خان کی سزاؤں کے خلاف اپیلیں دائر

    عمران خان کی سزاؤں کے خلاف اپیلیں دائر

    لطیف کھوسہ نہیں ،عمران خان کی اپیل میں اور سلمان صفدر دائر کریں گے، بیرسٹر علی ظفر
    اسلام آباد ہائیکورٹ،عمران خان کی لیگل ٹیم میں روابط کا فقدان سامنے آگیا۔عمران خان نے سزاؤں کیخلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا ہے، لطیف کھوسہ کا میڈیا کو بیان، بیرسٹر علی ظفر نے لطیف کھوسہ کی ہی تردید کردی کہا اپیلیں وکیل سلمان صفدر دائر کریں گے، لطیف کھوسہ بانی پی ٹی آئی کے وکیل نہیں ہیں۔

    بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ کھوسہ صاحب اس کیس میں وکیل نہیں ہیں، سائفر کیس اور توشہ خانہ کیس کی اپیلیں میں دائر کر رہا ہوں، سلمان صفدر میرے ساتھ ہیں، ہم لوگ فائل کر رہے ہیں میں اسی کے لئے آیا ہوں، اپیل جب فائل ہو جائے گی کاپیاں دے دوں گا کوشش ہو گی کہ منگل تک کیس لگ جائے، اپیل ابھی تک دائر نہیں ہوئے، لطیف کھوسہ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے،

    بعد ازاں عمران خان نے توشہ خانہ اور سائفر کیس میں سزاؤں کے اپیلیں اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کر دیں بیرسٹر سلمان صفدر اور بیرسٹر علی ظفر کی جانب سے دائر اپیلوں میں سزاؤں کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی، اپیلوں کے حتمی فیصلے تک عمران خان نے سزا معطل کرکے ضمانت پر رہائی کی بھی استدعا کی گئی

    قبل ازیں سائفرکیس، توشہ خانہ کیس میں سزا کیخلاف بانی تحریک انصاف نے عدالت سے رجوع کر لیا،تحریک انصاف کے رہنما ،لطیف کھوسہ کا کہنا ہے کہ ہم نے بانی پی ٹی آئی کی سزا کے خلاف اپیلیں دائر کردی ہیں ، سائفر کیس اور توشہ خانہ کیس میں سزا کے خلاف اپیلیں دائر کی ہیں ، عدت کیس کی اپیل سیشن کورٹ میں دائر کی ہے،تینوں کیسز میں اپیل دائر کر دی ہیں،

    سائفر کیس کا فیصلہ 30 جنوری ، توشہ خانہ نیب کیس کا فیصلہ 31 جنوری کو سنایا گیا تھا ،3 فروری کو دوران عدت نکاح کیس کا فیصلہ سیشن عدالت نے سنایا تھا ،دو ہفتے گزرنے کے بعد بانی پی ٹی آئی کی سزا کے خلاف اپیلیں دائر کی گئی ہیں،دوران عدت نکاح کیس میں عمران خان اور ان کی اہلیہ کو عدت میں نکاح کیس میں سزا سنا دی گئی،عمران خان اور بشری بی بی کا نکاح غیر شرعی قرار دے دیا گیا،عمران خان اور بشری بی بی کو 7،7 سال قید اور 5 لاکھ جرمانہ کی سزا سنا دی گئی،

    واضح رہے کہ ‏توشہ خانہ کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 14، 14 سال کی سزا سنا دی گئی.احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا سنائی،توشہ خانہ کیس میں عدالت نے عمران خان اور بشری بی بی کو 787 ملین جرمانہ بھی کیا،عدالت نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو عوامی عہدے کیلئے10 سال کیلئے نااہل کردیا.عدالت نے بشری بی بی کو گرفتار کرنے کا حکم جاری کر دیا.جس وقت فیصلہ سنایا گیا بشریٰ بی بی عدالت میں موجود نہیں تھی،

    قبل ازیں سائفر کیس کی خصوصی عدالت نے کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو 10،10 سال قید با مشقت کی سزا سنادی،خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو سزا سنائی۔

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    عمران خان اور جیل سپرنٹنڈنٹ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

  • مجرمان نے خود ساختہ پریشانیاں بنائیں،سائفر کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

    مجرمان نے خود ساختہ پریشانیاں بنائیں،سائفر کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

    آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی عدالت نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے خلاف سائفر کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے

    سائفر کیس کا تفصیلی فیصلہ 77 صفحات پر مشتمل ہے جو خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے جاری کیا ہے، سائفر کیس کے تفصیلی فیصلے میں 20 فائڈنگز پر مشتمل ہے، فائنڈنگز میں سائفر، چمش دید گواہ اور سیکرٹ دستاویزات کی اہمیت شامل ہیں، تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عمران خان اور شاہ محمود قریشی کا نامناسب طریقہ کار سے فئیر ٹرائل کی استدعا کی گئی، دونوں مجرمان کا دوران ٹرائل عدالت کے سامنے رویہ مدِنظر رکھا گیا، دونوں مجرمان نے خود ساختہ پریشانیاں بنائیں، ہمدردیاں لینے کے لیے بے یار و مددگار بننے کی کوشش کی،

    آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت نے تفصیلی فیصلے میں کہا کہ فائنڈنگز میں کہا گیا کہ فیئر ٹرائل کا حق چالاک ملزم کے لیے نہیں، سائفر کو اپنے لیے استعمال کیا گیا جس کا اثر پڑا، بطور وزیرِ اعظم اور وزیر خارجہ اپنے عہد کی خلاف وزری کی، پاکستان اور امریکا کے تعلق کو نقصان پہنچایا،سائفر کے معاملے سے دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات پر اثر پڑا، جس سے دشمنوں کو فائدہ ہوا، عمران خان نے سائفر وزارت خارجہ کو واپس نہیں بھیجا،17 ماہ کی تحقیقات سے ثابت ہوا، سائفر کیس تاخیر سے دائر نہیں کیا، سائفر کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا،

    عمران خان کو سائفر کیس میں مجموعی طور پر 24 سال قید کی سزا
    سائفر کیس میں عمران خان کو 5 مختلف شقوں کے تحت مجموعی طور پر 5 دفعہ سزا سنائی گئی ہے،تفصیلی فیصلہ میں کہا گیا کہ سابق چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت مجرم ثابت ہوئے ہیں، دونوں کو 10،10 سال قید بامشقت کی سزا سنائی جاتی ہے،جو ثبوت عدالت میں پیش کئے گئے وہ ناقابل تردید ہیں،عدالت عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی دفعہ 5 تھری اے، 5 ون سی، 5 ون ڈی، 9 کے تحت قصور وار قرار دیتی ہے، اور عمران خان کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی دفعہ 5 تھری اے کے تحت 10 سال قید بامشقت کی سزا اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی دفعہ 5 ون سی کے جرم میں دو سال قید بامشقت، 10 لاکھ جرمانے کی سزا سناتی ہے،عمران خان کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی دفعہ 5 ون ڈی کے جرم میں بھی دو سال قید بامشقت، 10 لاکھ جرمانے کی سزا سناتی ہے، عدالت دونوں ملزمان کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی دفعہ 5 تھری اے اور تعزیرات پاکستان کی دفعہ 34 کے تحت مجرم قرار دیتی ہے،عدالت شاہ محمود قریشی کو بھی 10 سال قید بامشقت کی سزا سناتی ہے، تمام دفعات کے تحت دی گئی سزاؤں کی مدت فوری اور ایک ساتھ تصور ہوگی،

    عمران خان کو سائفر کیس میں مجموعی طور پر 24 سال قید کی سزا سنائی گئی، ان کو چار دفعات کے تحت الگ 10، 2، 2، اور 10 سال قید کی سزائیں سنائی گئیں،تاہم عمران خان کی چاروں سزائیں ایک ساتھ شروع ہوں گی،

    واضح رہے کہ ‏توشہ خانہ کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 14، 14 سال کی سزا سنا دی گئی.احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا سنائی،توشہ خانہ کیس میں عدالت نے عمران خان اور بشری بی بی کو 787 ملین جرمانہ بھی کیا،عدالت نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو عوامی عہدے کیلئے10 سال کیلئے نااہل کردیا.عدالت نے بشری بی بی کو گرفتار کرنے کا حکم جاری کر دیا.جس وقت فیصلہ سنایا گیا بشریٰ بی بی عدالت میں موجود نہیں تھی،

    قبل ازیں گزشتہ روز سائفر کیس کی خصوصی عدالت نے کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو 10،10 سال قید با مشقت کی سزا سنادی،خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو سزا سنائی۔

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    عمران خان اور جیل سپرنٹنڈنٹ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

    عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ 

     بنی گالہ میں سارے سودے ہوتے تھے کہا گیا میرا تحفہ میری مرضی

  • سائفر کیس میں عمران خان کو سزا،امریکا کا ردعمل بھی آ گیا

    سائفر کیس میں عمران خان کو سزا،امریکا کا ردعمل بھی آ گیا

    سائفر کیس میں عمران خان کو سزا پر امریکہ کا ردعمل بھی سامنے آ گیا
    امریکی حکام نے عمران خا ن کو سائفر کیس میں سزا ملنے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے،ترجمان امریکی محکمہ خارجہ میتھیو ملر کا کہنا ہے کہ وہ سابق وزیراعظم و بانی پی ٹی آئی کے خلاف کیسز کو دیکھ رہے ہیں، عدالت کی سنائی گئی سزا پر کوئی تبصرہ نہیں کریں گے،عمران خان کو 10 سال کی سزا قانونی معاملہ ہے،ہم اس معاملہ پر تبصرہ نہیں کرسکتے، ہم دنیا کے دیگر حصوں کی طرح پاکستان میں بھی قانون کی حکمرانی ، انسانی حقوق اور جمہوری اصولوں کی پاسداری پر زور دیتے ہیں، پاکستان کے اندرونی معاملات، عہدے کے امیدواروں کے حوالے سے کوئی پوزیشن نہیں لیتے۔

    دوسری جانب امریکی محکمۂ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں میڈیا پر پابندیوں اور صحافیوں کی گرفتاریوں پر تشویش ہے،پاکستان میں صحافیوں کو ایف آئی اے نوٹسز کے اجراء پر امریکی محکمہ خارجہ نے اپنے ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک اصول کے تحت ہم جاری قانونی معاملے پر تبصرہ نہیں کرتے، آزاد میڈیا اور باعلم شہری ہی کسی قوم اور اس کے جمہوری مستقبل کے لیے اہم ہوتے ہیں صحافیوں پر حملہ کرنے والوں کے عدم احتساب پر بھی تشویش ہے۔صحافیوں پر پابندیاں آزادی اظہار اور جمہوری عمل کے خلاف ہیں، پاکستان سمیت دنیا بھرمیں آزادیٔ اظہار سے متعلق تشویش ہے

    واضح رہے کہ سائفر کیس کی خصوصی عدالت نے کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو 10،10 سال قید با مشقت کی سزا سنادی،خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو سزا سنائی۔

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    عمران خان اور جیل سپرنٹنڈنٹ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

  • سائفر کیس:بانی پی ٹی آئی  اور شاہ محمود قریشی کو 10،10 سال قید کی سزا سنادی گئی

    سائفر کیس:بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کو 10،10 سال قید کی سزا سنادی گئی

    راولپنڈی : سائفر کیس کی خصوصی عدالت نے کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو 10،10 سال قید با مشقت کی سزا سنادی،خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو سزا سنائی۔

    باغی ٹی وی : اس حوالے سے پاکستان تحریک انصاف کے سابق رہنما فیاض الحسن چوہان کا کہنا ہے کہ اسپیشل کورٹ کے جج نے بڑا مناسب اور بہترین فیصلہ کیا ہے، بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان جب باہر آتی تھیں تو کہتی تھیں کہ میرے بھائی کو سزائے موت سنائی جائےگی،وہ پوری قوم کا ذہن بنا رہی تھیں میری دعا تھی انہیں سزائےموت نہ ہو،شکر ہےایسی کوئی سزا نہیں آئی جج صاحب نے بڑا اچھا فیصلہ دیا ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ بانی پی ٹی آئی کیا رویہ اپناتے ہیں۔

    پاکستان تحریک انصاف کے وکیل حامد خان نے دعویٰ کیا ہے کہ سائفر کیس میں سماعت کے دوران ہمارے وکیلوں کو خوفزدہ کرنے کیلئے ایک چھوٹے کمرے میں لے جاکر ان پر بندوقیں تانیں گئیں۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حامد خان نے کہا کہ آج تک وکیلوں کو کبھی عدالت سے نہیں نکالا گیا، پہلی دفعہ ڈیفینس لائرز کو عدالتوں سے نکالا گیا جہاں انہوں نے جرح کرنی تھی، اور جرح اپنے من پسند وکیل سے کرائی گئی، جو کہ جرح نہیں کہلا سکتی،پہلی دفعہ وکیلوں پر بندوقیں تانی گئیں، جو واقعات سامنے آئے ہیں کہ انہیں ایک چھوٹے کمرے میں لے جا کر ان کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور ان پر بندوقیں تانی گئی ہیں، جو کہ بدترین مثال ہے ملک میں انصاف کے نظام کو کنورٹ کرنے کی، لہٰذا اس کو ہم ٹرائل نہیں مانتے-

    بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان نے کہا ہے کہ ہم ہائیکورٹ آئے ہیں تاکہ جج ذوالقرنین کو ہٹایا جائے۔

    علیمہ خان نے کہا کہ انہوں نے گواہان کے بیانات کروائے لیکن جرح کے وقت فیصلہ دے دیا، گزشتہ روز ہمارے ساتھ بدتمیزی کی گئی، ہمارے ساتھ جو فراڈ کیا وہ سب کے سامنے ہے، مجھے بھی جیل میں ڈال دیں، میں اسے فراڈ کہوں گی ،عدلیہ کا کام انصاف دینا ہے، انہیں تنخواہ ملتی ہے۔

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے کہا کہ عمران خان مان لیں جو وہ کرتے آرہے تھے وہ غلط تھا، ایسا نہ ہو کہ وہی خان صاحب جیل سے باہر نکلیں۔

    یوٹیوب پر ڈیجیٹل چینل کو انٹرویو دیتے میں بلاول بھٹو زراداری نے کہا کہ میں نے سیاست کے ذریعے ہی ٹوٹی پھوٹی اردو سیکھی میرے خیال میں دونوں ایک دوسرے سے کافی جڑے ہوئے ہیں۔

    بانی پی ٹی آئی عمران خان سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ انہیں مشورہ دونگا کہ پرانی سیاست چھوڑ دیں، آئیں جمہوری سیاست کریں۔ مان لیں کہ آپ غلط تھے، جو آپ کرتے آرہے تھے وہ غلط تھا عمران خان اُن لوگوں سے معافی مانگیں جنہیں انہوں نے چور کہا اور زندہ لاشیں کہا مجھے امید ہے کہ عمران خان جو وقت جیل میں گزار رہے ہیں، اس سے ان میں بہتری آئے، ایسا نہ ہو کہ وہی خان صاحب جیل سے باہر نکلیں۔

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثنا اللہ نے کہا کہ سائفر کیس میں سابق چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کو سزا سنائے جانے پر کہا ہے کہ عمران نیازی اور شاہ محمودقریشی کا جرم بڑا ہے۔

    رانا ثناء اللہ نے کہا کہ سائفر جیسے کلاسیفائیڈ ڈاکومنٹ کو پبلک کرنا جرم ہے جس سے ریاست کا نقصان ہوا،عدالتی فیصلے پر ہمیں مکمل بھروسہ ہے ریاست پرحملہ کرنے والوں کے ساتھ یہی سلوک ہوناچاہیے، انہوں نے مزید کہا کہ نوازشریف کو سزا ہی سپریم کورٹ سے ہوئی تھی جس میں وہ اپیل تک نہیں کرسکتے تھے۔

    اس فیصلے پر قانون ماہرین کا کہنا تھا کہ استغاثہ کی کامیابی ہے کہ عمران نیازی اور شاہ محمود مجرم ثابت ہوگئے،قانونی ماہرین نے مزید کہا کہ عمران نیازی اور شاہ محمود کے وکلا ان کا دفاع کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

    سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر کا کہنا ہے کہ بانی چیئرمین تحریک انصاف عمران خان اور وائس چیئرمین شاہ محمود کو سائفر کیس میں 10 سال غیر قانونی سزا دلوا کر جج ابوالحسنات نے قانون کو اپنے پاؤں تلے روند ڈالا۔

    بانی پی ٹی آئی کو سزا کے بعد وڈیو پیغام میں اسد قیصر نے کہا کہ اس فیصلے کے خلاف ہم ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ جائیں گے اور یہ فیصلہ جلد کالعدم ہوجائے گا انہوں نے ورکرز سے اپیل کی کہ اپنا پورا زور 8 فروری کے الیکشن پر مرکوز کریں اور عمران خان کو جتوا کر اس نظام کو شکست دیں۔عمران خان اور شاہ محمود کی سزا کا فیصلہ جلد کالعدم ہوجائے گا

    تحریک انصاف کے رہنما اور بیرسٹر علی ظفر نے کہاہے کہ یہ کیس کی سماعت نہیں تھی، عدالتی نظام سے ایک فراڈ تھا۔

    بیرسٹر علی ظفر نے کہاکہ بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کے وکیل کو ہٹا دیاگیاتھا،وکیل کو نکال کر جن کو رکھا گیا اجازت کے بغیر رکھا گیا، اگر فیصلے کی کاپی مل جاتی ہے تو کل ہی اس کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کردی جائے گی،اس کیس میں انصاف کے تقاضوں کی دھجیاں اڑائی گئی ہیں،وکلا کو ایک روز پہلے کیس فائل دی گئی، انہوں نے چھوٹی سی جرح کی۔

    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل فائل کی تھی کہ خدشہ ہے سزا آج سنا دی جائے گی اسے روکا جائے جتنے بھی دستاویزات تھے اس سے ظاہر ہورہا تھا کہ یہ ٹرائل نہیں تھا، انصاف نظام کے ساتھ مذاق تھا، انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوئے بلکہ ان کی دھجیاں اڑادی گئی ہیں، کیس ٹھیک چل رہا تھا، اوپن ٹرائل نہیں ہورہا تھا، چار پانچ دنوں میں انصاف اور قانون کے تقاضوں کو رد کیا گیا، یہ مس ٹرائل ہے، آرٹیکل 10 اے کی خلاف ورزی ہے، سزاتب ہوتی ہے جب جرم ثابت ہو، یہاں تو ٹرائل ہی نہیں ہوا، سزا کم تب ہوتی ہے جب اعتراف ہو کہ جرم کیا ہے سزا کم کی جائے۔

    سائفر کے معاملے پر بانی پی ٹی آئی عمران خان اور اعظم خان کی مبینہ آڈیو لیک ہوگئی۔

    مبینہ آڈیو میں بانی پی ٹی آئی کو کہتے سنا جاسکتا ہے کہ اچھا اب ہم نے صرف کھیلنا ہے، نام نہیں لینا امریکا کا، بس صرف کھیلنا ہے اس کے اوپر کہ یہ ڈیٹ پہلے سے تھی، نئی جو چیز آئی ہے نا کہ وہ جو لیٹر‘، جس پر اعظم خان کہتے ہیں کہ ’سر میں یہ سوچ رہا تھا کہ یہ جو سائفر نا، میرا خیال ہے کہ ایک میٹنگ کر لیتے ہیں اس کے اوپر، دیکھیں اگر آپ کو یاد ہو تو آخر میں سفیر نے لکھا ہوا تھا کہ ڈیمارچ کریں، اگر ڈیمارچ نہیں بھی دینا تو انٹرنل میٹنگ، کیونکہ رات میں نے بڑا سوچا ہے اس کے اوپر شاید‘۔

    اعظم خان نے مزید کہا کہ آپ نے کہا کہ شاید اُنہوں نے اُٹھایا لیکن نہیں پھر میں نے سوچا کہ How to cover all this? ایک میٹنگ کریں شاہ محمود قریشی اور فارن سیکرٹری کی، شاہ محمود قریشی یہ کریں گے کہ وہ لیٹر پڑھ کر سُنائیں گے، تو جو بھی سُنائیں گے تو اُس کو کاپی میں بدل دیں گے، وہ میں منٹس میں کر دوں گا کہ فارن سیکرٹری نے یہ چیز بنا دی ہے، بس اس کا یہ کام ہوگا، مگر یہ کہ اس کا Analysis ادھر ہی ہو گا، پھر Analysis اپنی مرضی کے منٹس میں کر دیں گے تاکہ منٹس آفس کے ریکارڈ میں ہو، ’Analysis یہ ہوگا کہ یہIndirect Threat ہے۔ Diplomatic Language میں اسے تھریٹ کہتے ہیں، دیکھیں منٹس تو پھر میرے ہاتھ میں ہیں نا، وہ اپنی مرضی سے ڈرافٹ کر لیں گے‘۔

    جس پر عمران خان نے کہا کہ ’تو پھر کس کس کو بُلائیں اس میں؟ شاہ محمود، آپ، میں اور سہیل‘، اعظم خان نے کہا کہ ’بس‘، بانی پی ٹی آئی نے کہا ’ ٹھیک ہے کل ہی کرتے ہیں’۔

    اعظم خان نے کہا کہ ’تاکہ وہ چیزیں ریکارڈ میں آجائیں آپ یہ دیکھیں کہ وہ Consulate for State ہیں۔ وہ پڑھ کر سنائے گا تو میں کاپی کر لوں گا آرام سے، تو آن ریکارڈ آ جائے گی کہ یہ چیز ہوئی ہے، آپ فارن سیکرٹری سے سنوائیں تاکہ Political نہ رہے اور Bureaucratic Level پر یہ چیز آئے‘۔

    بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ ’نہیں تو اُس نے ہی لکھا ہے Ambassador نے‘، اعظم خان نے کہا کہ ’ہمارے پاس تو کاپی نہیں ہے نا یہ کس طرح انہوں نے نکال دیا؟‘بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ یہ یہاں سے اٹھی ہے، اس نے اٹھائی ہے، لیکنany how ہے تو فارن سازش‘۔

    مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال کاکہنا ہے کہ میرے خیال میں عدالت نے نرم فیصلہ دیا ہے-

    نجی ٹی وی سے گفتگو میں احسن اقبال نے کہا کہ ان کے رویے سے پاکستان کے سفارتی تعلقات متاثر ہوئے،بانی پی ٹی آئی نے اپنے خلاف ایف آئی آر خود اپنی حرکتوں سے کٹوائی، بانی پی ٹی آئی نے لاپروائی اورسلامتی کے معاملات پر ظلم کیا ہے، پی ٹی آئی سے جڑے لوگوں کو اپنے آنکھیں اپنے کھول لینی چاہئے،وہ کون ہو سکتا ہے جو شہدا کی یادگاروں کو نقصان پہنچائے، بانی پی ٹی آئی نے اپنی ذات کو ریاست سے بڑا سمجھا،بانی پی ٹی آئی کے منظور نظر لوگ سب ان کو چھوڑ کرجا چکے ہیں،ہر روز پی ٹی آئی کے لوگوں کی بڑی تعداد ن لیگ میں شامل ہو رہی ہے۔

    سابق اٹارنی جنرل اشتراوصاف نے کہاہے کہ میرا خیال ہے سائفر کیس میں جو سزا سنائی گئی وہ قانونی ہے۔

    اس حوالے سے اپنے بیان میں اشتراوصاف نے کہاکہ نیشنل سکیورٹی کے معاملات میں کوتاہی نہیں برتی جا سکتی،ملکی سالمیت کے معاملات کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا گیا،ان کاکہناتھا کہ میرا خیال ہے سائفر کیس میں جو سزا سنائی گئی وہ قانونی ہے ۔

    سائفر کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو سزا پر بیرسٹر گوہر نے کہاہے کہ کارکنان اور پی ٹی آئی سے لگاؤ رکھنے والے تحمل کا مظاہرہ کریں۔
    https://x.com/PTIofficial/status/1752224508075774414?s=20
    اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر خان نے کہاکہ بنیادی حق سے محروم کیا جائے تو فیصلہ کیا آنا ہے دنیا کو معلوم ہے،جج صاحب سائفر کیس آئین و قانون سے ہٹ کر چلا رہے ہیں، ہمیں سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ پر اعتماد ہے،ہمیں عدالتوں سے انصاف ملے گا، کارکنان اور پی ٹی آئی سے لگاؤ رکھنے والے تحمل کا مظاہرہ کریں، یہ اشتعال دلائیں گے،مشتعل نہیں ہونا- فوکس الیکشن پر کریں، عدلیہ پر اعتماد ہے، ریلیف ملے گا سزا بھی کالعدم ہو جائیگی،،کوئی قانون ہاتھ میں نہ لیں، ہماری توجہ الیکشن سے ہٹانے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن 8 فروری کو سب کا محاسبہ ہوگا۔

    خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین اڈیالہ جیل میں آفیشل سیکریٹ ایکٹ سے متعلق سائفر کیس کی سماعت کر رہے ہیں، جبکہ بانی پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی بھی کمرہ عدالت میں موجود ہیں، بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی نے بیانات کی کاپییاں حاصل کرلی ہیں، شاہ محمود قریشی بھی خود جوابات لکھوا رہے

    سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ 1923 کے تحت سزا سنائی گئی، بانی پی ٹی آئی پر مقدمہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ 1923 کے سیکشن 5 اور9 کی دفعات کے تحت درج تھا جب کہ سائفرکیس میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 34 بھی لگائی گئی تھی،سیکرٹ ایکٹ 1923 سیکشن 5 حساس معلومات کو جھوٹ بول کر آگے پہنچانے سے متعلق ہے، سیکرٹ ایکٹ 1923 کا سیکشن 9 جرم کرنےکی کوشش کرنے یاحوصلہ افزائی سے متعلق ہے۔

    کسی کے پاس حساس دستاویز، پاسورڈ یا خاکہ ہو اوراس کا غلط استعمال ہو تو سیکشن 5 لگتی ہے، حساس دستاویزات رکھنے کے حوالے سے قانونی تقاضے پورے نہ کرنے پربھی سیکشن 5 لاگو ہوتا ہے پاکستان پینل کوڈ سیکشن 34 کے تحت شریک ملزمان کا کردار بھی مرکزی ملزم کے برابر ہوگا، سیکرٹ ایکٹ 1923 سیکشن 5 سب سیکشن 3 اے کے تحت سزائے موت بھی ہوسکتی ہے جب کہ سیکرٹ ایکٹ 1923 سیکشن 5 سب سیکشن 3 اے کے تحت زیادہ سے زیادہ14 سال قیدکی سزا ہوسکتی ہے۔

    سماعت کے دوران جج نے کہا کہ آپ کے وکلا حاضر نہیں ہورہے ،آپ کو اسٹیٹ ڈیفنس کونسل فراہم کی گئی، اس پر وکلا صفائی نے کہا کہ ہم جرح کرلیتے ہیں،جج نے وکلا صفائی سے کہا کہ آپ نے مجھ پر عدم اعتماد کیا ہے۔

    عدالت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کا 342 کا بیان ریکارڈ کیا جس میں عمران خان نے کہا کہ سائفر میرے آفس آیا تھا لیکن اس کی سکیورٹی کی ذمہ داری ملٹری سیکرٹری کی تھی، اس حوالے سے ملٹری سیکرٹری کو انکوائری کا کہا تھا، انہوں نے بتایا کہ سائفر کے بارے میں کوئی کلیو نہیں ملا۔

    بانی پی ٹی آئی عمران خان نے سائفرکیس میں سرکاری وکلا صفائی کی تقرری کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کردیابانی پی ٹی آئی عمران خان کی وساطت سے ان کے وکلا نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی ہے جس میں سائفر کیس میں عدالت کا 26جنوری کا حکم کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے،سرکاری وکلا کی تقرری کے بعد کی گئی کارروائی بھی کالعدم قرار دی جائے۔

    واضح رہے کہ آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت قائم خصوصی عدالت نے سائفر کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے وکلا کے نہ آنے پر اسٹیٹ ڈیفنس کونسل کو بطور وکلا صفائی مقرر کیا تھا۔

    عدالتی حکم میں کہا گیا تھا کہ ملک عبدالرحمان بانی پی ٹی آئی کیلئے ڈیفنس کونسل ہوں گے جبکہ یونس شاہ محمود قریشی کیلئے ڈیفنس کونسل ہوں گے، دونوں سرکاری وکلا ملزمان کی جانب سے بطور وکیل صفائی پیش ہوں گے۔

    سرکاری وکلا صفائی مقرر ہونے پر عمران خان نے جج سے مکالمہ کیا تھا کہ جن وکلا پر ہمیں اعتماد ہی نہیں وہ کیا ہماری نمائندگی کریں گے، جج صاحب یہ کیا مذاق چل رہا ہے ؟ میں تین ماہ سےکہہ رہا ہوں کہ سماعت سے پہلے مجھے وکلا سے ملنے کی اجازت دی جائے، بارہا درخواست کے باوجود وکلا سے مشاورت نہیں کرنے دی جاتی، مشاورت نہیں کرنے دی جائے گی تو کیس کیسے چلے گا۔

    علاوہ ازیں گزشتہ سماعت پر بانی پی ٹی آئی کے وکلا نے جج کے خلاف عدم اعتماد کی درخواست جمع کروائی تھی، عدم اعتماد کی درخواست دائر ہونے کے بعد فاضل جج نے کمرہ عدالت تبدیل کر دیا تھا بانی پی ٹی آئی کے 342 کے ریکارڈ کی کاپیاں آج ملزمان کو فراہم کی گئی ہیں۔

    بیلٹ پیپرز کی ڈیلوری کا کام چاروں صوبوں میں شروع ہو چکا ہے،الیکشن کمیشن

    گزشتہ روز اسٹیٹ ڈیفینس کونسل نے مزید 12 گواہان پر جرح مکمل کی تھی اب تک 4 گواہوں پر وکلا صفائی جبکہ 21 پر اسٹیٹ ڈیفینس کونسل جرح مکمل کر چکے ہیں عدالت نے عدم اعتماد کی درخواست کے بعد اسٹیٹ ڈیفینس کونسل کو جرح مکمل کرنے کا حکم دیا تھا۔

    عمران خا ن کا سائفر کیس کی کارروائی کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ

    بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کے خلاف سائفر کیس حتمی مرحلے میں داخل ہو چکا ہے گزشتہ روز کیس میں مزید 11 گواہان کے بیانات پر جرح مکمل کرلی گئی، سائفر کیس میں مجموعی طور پر تمام 25 گواہان پر جرح کا عمل مکمل ہوگی، گواہان پر جرح کے بعد ملزمان کے 342 کے بیانات ریکارڈ کرنے کیلئے سوالنامے تیار کرلیے گئے،عدالت نے دلائل سننے کے بعد سائفر کیس نہ سننے کی درخواست کو ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔

    پی ٹی آئی نے امریکا میں لابنگ فرم کی خدمات حاصل کرلیں

    سائفر کا معاملہ کیا ہے؟

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے امریکا میں پاکستانی سفیر کے مراسلے یا سائفرکو بنیاد بنا کر ہی اپنی حکومت کے خلاف سازش کا بیانیہ بنایا تھا جس میں عمران خان نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی حکومت کے خاتمے میں امریکا کا ہاتھ ہے تاہم قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں سائفر کو لے کر پی ٹی آئی حکومت کے مؤقف کی تردید کی جاچکی ہے۔

    اس کے علاوہ سائفر سے متعلق عمران خان اور ان کے سابق سیکرٹری اعظم خان کی ایک آڈیو لیک سامنے آئی تھی جس میں عمران خان کو کہتے سنا گیا تھا کہ ’اب ہم نے صرف کھیلنا ہے، امریکا کا نام نہیں لینا، بس صرف یہ کھیلنا ہے کہ اس کے اوپر کہ یہ ڈیٹ پہلے سے تھی جس پر اعظم خان نے جواب دیا کہ میں یہ سوچ رہا تھا کہ اس سائفر کے اوپر ایک میٹنگ کر لیتے ہیں‘۔

    اس کے بعد وفاقی کابینہ نے اس معاملے کی تحقیقات ایف آئی اے کے سپرد کیا تھا اعظم خان پی ٹی آئی کے دوران حکومت میں اس وقت کے وزیراعظم عمران خان کے پرنسپل سیکرٹری تھے اور وہ وزیراعظم کے انتہائی قریب سمجھے جاتے تھے۔

    سائفر کے حوالے سے سابق ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار نے کہا تھا سائفر پر ڈرامائی انداز میں بیانیہ دینے کی کوشش کی گئی اور افواہیں اور جھوٹی خبریں پھیلائی گئیں جس کا مقصد سیاسی فائدہ اٹھانا تھا۔

    سائفر آخر ہوتا کیا ہے؟

    بی بی سی کے مطابق سائفر دراصل کسی بھی اہم اور حساس نوعیت کی بات یا پیغام کو لکھنے کا وہ خفیہ طریقہ کار ہے جس میں عام زبان کے بجائے کوڈز پر مشتمل زبان کا استعمال کیا جاتا ہے،سائفر کسی عام سفارتی مراسلے یا خط کے برعکس کوڈڈ زبان میں لکھا جاتا ہے،سائفر کو کوڈڈ زبان میں لکھنا اور اِن کوڈز کو ڈی کوڈ کرنا کسی عام انسان نہیں بلکہ متعلقہ شعبے کے ماہرین کا کام ہوتا ہے،اس مقصد کے لیے پاکستان کے دفترخارجہ میں گریڈ 16 کے 100 سے زائد اہلکار موجود ہیں، جنہیں ”سائفر اسسٹنٹ“ کہا جاتا ہے، یہ سائفر اسسٹنٹ پاکستان کے بیرون ملک سفارت خانوں میں بھی تعینات ہوتے ہیں۔

    عمران خان کا 342 کا بیان کیا ہے؟

    ماہر قانون وقاص ابریز کا کہنا ہے کہ 342 کا بیان دراصل ملزم کا بیان ہے، جس میں ملزم اگر اپنی صفائی میں کچھ کہنا چاہتا ہے تو کہ سکتا ہے ملزم کا بیان زیر دفعہ 342 ض ف قلمبند کرتے ہوئے عدالت خود ملزم سے سوالات کرتی ہے اور ملزم خود ان سوالات کا جواب دیتا ہےاس حوالے سے پراسیکوٹر یا کونسل مستغیث کا سوالنامہ تیار کر کے دے دینا اور کونسل ملزم کا ان کے جوابات تیار کر کے دے دینا دفعہ 342 ض ف کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔

    بانی پی ٹی آئی کا 342 کا بیان کمرہ عدالت میں ریکارڈ کیا گیا جج ابوالحسنات نےکہا کہ بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی روسٹرم پر آجائیں جس پر بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ میں آرہا ہوں جلدی تو آپ کو ہے، ہم نے تو جیل میں ہی رہنا ہےجج نے بانی پی ٹی آئی سے استفسار کیا کہ 342 کے بیان پر دستخط کریں گے؟ جس پر عمران خان نے کہا کہ مجھے پہلے بتائیں یہ ہوتا کیا ہے۔

    جج ابو الحسنات نے کہا کہ قانون کو مدنظر رکھتے ہوئے آپ کو سوالوں کے جواب دینے کا موقع دے رہا ہوں بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ میں اپنا جواب خود لکھوانا چاہتا ہوں جس پر جج نے کہا کہ اچھی بات ہے آپ اپنا جواب خود لکھوائیں۔

    جب عدالت نے عمران خان سے کہا کہ اگر وہ عدالت کو کچھ بتانا چاہتے ہیں تو عدالت کو بتا دیں جس پر عمران خان نے کہا کہ میں عدالت کو کچھ بتانا چاہتا ہوں،عمران خان کا بیان مکمل ہونے کے بعد عدالت نے استفسار کیا، ’خان صاحب، آپ سے آسان سا سوال ہے، سائفر کہاں ہے؟، جس پر عمران خان نے جواب دیا کہ ’میں نے وہی بیان میں کہا ہے کہ مجھے نہیں معلوم، سائفر میرے دفتر میں تھا‘۔

    عدالت نے عمران خان سے پوچھا کہ کیا سائفر آپ کے پاس ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ سائفر میرے پاس نہیں بلکہ میرے دفتر میں تھا اور وہاں کی سکیورٹی کی ذمہ داری میری نہیں ہے بلکہ وہاں پر ملٹری سیکرٹری اور پرنسپل سیکرٹری بھی ہوتے ہیں۔

  • عمران خا ن کا سائفر کیس کی کارروائی کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ

    عمران خا ن کا سائفر کیس کی کارروائی کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ

    اسلام آباد: بانی پی ٹی آئی عمران خان نے سائفر کیس کی کارروائی کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

    باغی ٹی وی : بانی پی ٹی آئی کی جانب سے سائفر کیس کی کارروائی آج عدالت میں چیلنج کی جائے گی چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ آج ہائیکورٹ میں کارروائی چیلنج کریں گے اور چیف جسٹس سے جلد سماعت کی استدعا کریں گے،علاوہ ازیں توشہ خانہ نیب کیس کی کارروائی بھی ہائیکورٹ میں چیلنج کیے جانے کا امکان ہے۔

    واضح رہے کہ سائفر کیس کی سماعت راولپنڈی اڈیالہ جیل میں ہوتی ہے،بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کے خلاف سائفر کیس حتمی مرحلے میں داخل ہو چکا ہے گزشتہ روز آفیشل سیکریٹ ایکٹ عدالت کے جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین نے کیس کی سماعت اڈیالہ جیل میں کی، کیس میں مزید 11 گواہان کے بیانات پر جرح مکمل کرلی گئی، سائفر کیس میں مجموعی طور پر تمام 25 گواہان پر جرح کا عمل مکمل ہوگی، گواہان پر جرح کے بعد ملزمان کے 342 کے بیانات ریکارڈ کرنے کیلئے سوالنامے تیار کرلیے گئے۔

    برٹش ایشین ٹرسٹ نے راحت فتح علی خان سے وابستگی ختم کر لی

    سابق سیکرٹری خارجہ سہیل محمود، سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان، سابق سیکرٹری داخلہ یوسف نسیم کھوکھر، سیکرٹری داخلہ آفتاب اکبر درانی، امریکہ میں سابق سفیر اسد مجید اور دیگر گواہوں کے بیانات پر جرح اسٹیٹ ڈیفنس کونسل نے کی۔

    سوڈان میں پاکستانی امن دستے پر حملہ ،ایک سپاہی شہید

    جرح کے دوران شاہ محمود قریشی نے اسٹیٹ ڈیفینس کونسلز پر اعتراض کیا، جس پر جج کا کہنا تھا کہ آپ خاموشی سے بیٹھ جائیں ورنہ آپ کو کمرہ عدالت سے باہر نکال دیا جائے گا، بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی نے آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کے جج پر عدم اعتماد کا اظہار بھی کیا، عدالت نے دلائل سننے کے بعد سائفر کیس نہ سننے کی درخواست کو ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔

    بھارتی اسٹینڈ اپ کامیڈین منور فاروقی نےبگ باس 17 کا ٹائٹل جیت لیا

  • سائفر کیس، عمران خان، شاہ محمود قریشی کا عدالت میں پھر شورشرابا

    سائفر کیس، عمران خان، شاہ محمود قریشی کا عدالت میں پھر شورشرابا

    اڈیالہ جیل میں سائفر کیس کی سماعت ہوئی

    خصوصی عدالت کے جج ابو الحسنات نے کیس کی سماعت کی۔ سابق سیکریٹری اعظم خان سے جرح کے دوران عدالت کا ماحول ناساز ہوگیا،دوران سماعت عمران خان اور شاہ محمود قریشی غصہ میں آگئے، شور شرابہ شروع کر دیا جس کے بعد عدالت نے کاروائی کو کچھ دیر کے لئے ملتوی کر دی

    گزشتہ سماعت پر عدالت کے احکامات پر عمران خان اور شاہ محمود کو سرکار کی طرف سے دیئے گئے وکلا عدالت میں پیش ہوئے جس پر دونوں نے سرکار کی طرف سے دیے گئے وکلا صفائی پر عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا،دوران سماعت شاہ محمود قریشی نے سرکاری وکیل کی فائل دیوار پر دے ماری تھی.

    سائفر کیس کی سماعت کل تک کیلئے ملتوی 

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    عمران خان اور جیل سپرنٹنڈنٹ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

    سائفر کیس کی سماعت ایسے لگ رہا ہے کہ آٹھ فروری الیکشن سے قبل مکمل ہو جائے گی اور خصوصی عدالت فیصلہ سنا د ے گی، سائفر کیس میں عمران خان کو کیا سزا ہو گی، اس پر مختلف رائے ہیں، سائفر کیس کے پراسیکیوٹر رضوان عباسی کا کہنا ہے کہ عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو زیادہ سے زیادہ سز ا دلوانے کی کوشش کریں گے،سائفر کیس میں عمران کو 14 سال قید یا سزائے موت دلوانے کی کوشش کریں گے، تاہم دیکھتے ہیں کہ عدالت کیا فیصلہ کرتی ہے.

    سائفر کیس کے حوالہ سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست ضمانت پر عدالت نے فیصلے میں لکھا تھا کہ اکسانے ، سازش یا معاونت کو مرکزی جرم کرنے کی طرح ہی دیکھا جائے گا، چیئرمین پی ٹی آئی پر لگی دفعات میں سزا عمر قید ،سزائے موت ہے، شاہ محمود قریشی کو اسی تناظر میں دیکھا جائے گا ، عمر قید سزائے موت کے ملزمان کو عدالتیں ضمانت دیتے احتیاط سے کام لیتی ہیں، اس قسم کے کیسز میں جب تک معقول وجہ موجود نا ہو ضمانت نہیں دی جا سکتی،248کا استثنیٰ صرف آفیشل ڈیوٹی کیلئے ہے شاہ محمود قریشی پر جلسے میں تقریر کا الزام ہے، شاہ محمود قریشی پر 27 مارچ کی جو جلسہ تقریر کا الزام ہے وہ آفیشلی ڈیوٹی میں نہیں آتا،

    دوسری جانب سپریم کورٹ میں بھی اس کیس کی سماعت ہوئی تو عمران خان،شاہ محمود قریشی کی ضمانت منظور کر لی گئی تھی،دوران سماعت جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس پر آپ نے پورا سال ہی لگا دیا ہے،کچھ دفعات میں سزا دو سال ہے،کچھ میں سزائے موت اور عمر قید ہے.

    سائفر کیس میں ایف آئی اے نے چالان آفیشل سیکرٹ ایکٹ خصوصی عدالت میں جمع کرا دیا ،چالان میں چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی قصوروار قرار دیئے گئے،ایف آئی اے نے چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کو ٹرائل کرکے سزا دینے کی استدعا کر دی،اسد عمر ملزمان کی لسٹ میں شامل نہیں ،سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان ایف آئی اے کے مضبوط گواہ بن گئے ،اعظم خان کا 161 اور 164 کا بیان چالان کے ساتھ منسلک ہے،

  • سائفر کیس،عمران خان کی جج سے بدتمیزی،شاہ محمود قریشی نے فائل دیوار پر دے ماری

    سائفر کیس،عمران خان کی جج سے بدتمیزی،شاہ محمود قریشی نے فائل دیوار پر دے ماری

    سائفر کیس میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے وکلا کے پیش نہ ہونے پر عدالت نے اسٹیٹ ڈیفنس کونسل کو بطور وکلا صفائی مقرر کر دیا ہے

    سائفر کیس کی سماعت اڈیالہ جیل راولپنڈی میں سیکریٹ عدالت کے جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے کی،عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے وکلا آج بھی عدالتی حکم کے باوجود پیش نہ ہوئے جس پر عدالت نے اسٹیٹ ڈیفنس کونسل مقرر کرنے کا حکم جاری کر دیا،ملک عبدالرحمان عمران خان کیلئے ڈیفنس کونسل ہوں گے جبکہ یونس شاہ محمود قریشی کیلئے ڈیفنس کونسل ہوں گے، دونوں سرکاری وکلا ملزمان کی جانب سے بطور وکیل صفائی پیش ہوں گے، خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اسٹیٹ کونسل ملزمان کی نمائندگی کرتے ہوئے گواہان پر جرح کریں گے

    عدالتی فیصلے پر اڈیالہ جیل میں گرفتار تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی غصے میں آ گئے اور انہوں نے جیل کے کمرہ عدالت میں اسٹیٹ ڈیفنس کونسل یونس شاہ سے فائل چھین کر دیوار پر دے ماری جج نے شاہ محمود قریشی کو بدتمیزی پر وارننگ دی، عمران خان نے بھی خصوصی عدالت کے جج سے آج بھی سماعت کے دوران بدتمیزی کی

    سائفر کیس،عمران خان کی جج سے تلخ کلامی،شاہ محمود قریشی کا غصہ، پراسیکیوٹر کی ضمانت خارج کرنے کی استدعا مسترد
    سائفر کیس کی اڈیالہ جیل میں سماعت ہوئی،آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کے جج ابوالحسنات ذولقرنین نے کیس کی سماعت کی ،بانی تحریک انصاف کے وکلا کی عدم موجودگی کے باعث سائفر کیس میں گواہوں کے بیانات پر جرح شروع نہ ہوسکی ،عدالت کے احکامات پر سرکار کی طرف سے مقرر کردہ سرکاری وکلا بھی پیش ہوئے،سرکاری وکیل ایڈووکیٹ عبد الرحمن بانی تحریک انصاف کی طرف سے اور حضرت یونس شاہ محمود قریشی کی طرف سے پیش ہوئے ،

    بانی تحریک انصاف اور شاہ محمود قریشی نےسرکاری وکلا صفائی پر اظہار عدم اعتمادکر دیا،جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین اور بانی تحریک انصاف کے درمیان شدید تلخ کلامی ہوئی،شاہ محمود قریشی نے سرکاری وکیل صفائی کی دی گئی کیس کی فائل ہوا میں اچھال دی ،عمران خان نے کہا کہ جن وکلا پر ہمیں اعتماد ہی نہیں وہ کیا ہماری نمائندگی کریں گے ۔ جج صاحب یہ کیا مذاق چل رہا ہے ؟ میں تین ماہ سے کہہ رہا ہوں کہ سماعت سے پہلے مجھے وکلا سے ملنے کی اجازت دی جائے، بارہا درخواست کے باوجود وکلا سے مشاورت نہیں کرنے دی جاتی ، مشاورت نہیں کرنے نہیں دی جائے گی تو کیس کیسے چلے گا ، جج نے کہا کہ جتنا آپ کو ریلیف دیا جا سکتا تھا میں نے دیا،سائیکل فراہمی کی بات ہو یا پھر وکلا سے ملاقات میں نے آپ کی درخواست منظور کی، میرے ریکارڈ پر 75 درخواستیں ہیں جو ملاقاتوں سے متعلق ہیں،عمران خان نے کہا کہ آپ نے تو ملاقات کا آرڈر کیا لیکن ملاقات کرائی نہیں گئی،

    شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ادھر بھی سرکار ادھر بھی سرکار یہ مذاق ہو رہا ہے، ہمیں اتنا حق نہیں کہ اپنے وکلا کے ذریعے کیس لڑ سکیں،عمران خان نے عدالت سے استدعا کی کہ کیس کی کاروائی اردو میں ہونی چاہیے،سرکار کی طرف سے تعینات کردہ وکیل صفائی جو انگریزی بول رہے ہیں وہ ہمیں سمجھ ہی نہیں آتی،جو کچھ ہو رہا ہے یہ شفاف ٹرائل کے تقاضوں سے متصادم ہے،پاکستان کی تاریخ میں ایسا ٹرائل نہیں ہوا جو اب ہو رہا ہے،شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آپ نے فیصلہ سنانا ہے تو ایسے ہی سنا دیں، انصاف کا گلا گھونٹا جا رہا ہے ۔نہ اللہ کا ڈر ہے کسی کو نہ ہی آئین و قانون کا۔

    مان نہ مان میں تیرا مہمان، عمران خان کا سرکاری وکلا پر طنز
    عمران خان نے جج سے استدعا کی کہ ان گھس بیٹھیوں کو تو باہر بھیجیں۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سرکاری وکیلوں کو یہاں طوطا مینا کی کہانی کے لیے بٹھا دیا گیا ہے۔ ہمارے وکلا کو جیل کے اندر نہیں آنے دیا جا رہا ۔اوپن ٹرائل میں کسی کو جیل آنے سے کیسے روکا جا سکتا ہے۔ جج نے کہا کہ شاہ محمود قریشی صاحب اگر آپ خود جرح کرنا چاہتے ہیں تو آپ خود بھی کر سکتے ہیں۔ تین مرتبہ تاریخ دی مگر آپ کے وکلا نے آنے کی زحمت نہیں کی۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ یہ سرکاری ڈرامہ نہیں چلے گا اس طرح سے ٹرائل کی کیا ویلیو رہ جائے گی ۔جج نے کہا کہ” میرے لیے آسان تھا کہ میں ڈیفنس کا حق ختم کر دیتا ۔ لیکن میں نے پھر بھی سٹیٹ ڈیفنس کا حق دیا۔ اس کسٹڈی کی وجہ سے مجھے یہاں جیل آنا پڑ رہا ہے۔ وہ بھی تو کسی ماں کے بچے ہیں جن کے کیس جوڈیشل کمپلیکس میں چھوڑ کر آیا ہوں۔میں آرڈر کر کر کے تھک گیا ہوں مگر آپ کے وکیل نہیں آتے۔ سپریم کورٹ نے اپنے حکم نامے میں کہا تھا کہ اگر ٹرائل میں رکاوٹیں آتی ہیں تو عدالت ضمانت کینسل کر سکتی ہے”۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سپریم کورٹ کے ضمانت کے فیصلے کا بھی مذاق اڑایا گیا۔جیل سے باہر نکلتے ہی ایک اور کیس میں اُٹھا لیا گیا۔ جج نے کہا کہ شاہ صاحب اس کیس کو لٹکانے کا کیا فائدہ ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جج صاحب جیل میں کوئی خوشی سے نہیں رہتا۔میں اپنا وکیل پیش کرنا چاہتا ہوں سرکاری وکیلوں پر اعتبار نہیں۔ جج نے کہا کہ آپ اپنے وکیل کو بلا لیں۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پراسیکیوشن کے نامزد کردہ وکیلوں سے ڈیفنس کروایا جا رہا ہے۔ اس سے تو ثابت ہوتا ہے کہ فیصلہ ہمارے خلاف ہو چکا۔عثمان گل نے کہا کہ نجم سیٹھی نے اپنے پروگرام میں کہا کہ سائفر کیس کا فیصلہ پانچ فروری تک ہو جائے گا۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ نجم سیٹھی کو عدالت بلایا جائے اور پوچھا جائے کہ کہاں سے یہ انفارمیشن ملی۔ جج نے کہا کہ آپ کو نجم سیٹھی کی باتوں پر اعتبار ہے یا عدالت پر اعتبار۔ پراسکیوٹر رضوان عباسی نے کہا کہ سپریم کورٹ کے آرڈر کی روشنی میں ملزمان کی سائفر کیس میں ضمانت خارج کی جائے، جج نے کہا کہ ضمانت کا معاملہ خود دیکھوں گا یہ میرا معاملہ ہے۔ پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے کہا کہ فیئر ٹرائل وہ نہیں جو وکلا صفائی مانگ رہے ہیں، فیئر ٹرائل وہی ہے جو قانون میں دیا ہوا ہے ۔عدالت نے جیل حکام کو بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی ان کے وکلا سے فون پر بات کروانے کی ہدایت کی ،وکلاء سے مشاورت کیلئے سماعت میں وقفہ کر دیا گیا

    شاہ محمود قریشی اور عمران خان کی اپنے وکیلوں سے بات کروانے کا حکم
    وقفہ کے دوران میڈیا نمائندوں کو جیل سے باہر بھجوا دیا گیا،معزز عدلیہ نے سائفر کی سماعت 15 منٹ کیلئے روک دی، وکلاء کی جانب سے گواہوں کے ساتھ سوال و جواب کا سلسلہ روک دیا گیا،ایڈووکیٹ عثمان ریاض نے عدالت سے 15 منٹ کا وقت مانگا تھا ،15منٹ کے وقفے کے بعد معزز جج صاحبان دوبارہ کمرہ عدالت پہنچ گئے،شاہ محمود قریشی کے ڈیفینس کونسل بھی کمرہ عدالت پہنچ گئے،شاہ محمود قریشی نے اپنے ڈیفینس کونسل کے ساتھ بدتمیزی کی اور فائل چھین کر دیوار پر دے ماری ، شاہ محمود قریشی نے فرمائش کی کہ میری بات بیرسٹر گوہر سے کرائی جائے،عدالت نے شاہ محمود قریشی کو بیرسٹر گوہر سے بات کرنے کی اجازت دے دی،عمران خان نے بھی اپنے ڈیفینس وکیل سکندرذوالقرنین سے بات کرنے کی اپیل کی،معزز جج نے پولیس کو بانی پی ٹی آئی کی اُن کے ڈیفینس کونسل سے بات کرانے کا حکم دیا

    سائفر کیس کی سماعت کل تک کیلئے ملتوی 

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    عمران خان اور جیل سپرنٹنڈنٹ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

    سائفر کیس کی سماعت ایسے لگ رہا ہے کہ آٹھ فروری الیکشن سے قبل مکمل ہو جائے گی اور خصوصی عدالت فیصلہ سنا د ے گی، سائفر کیس میں عمران خان کو کیا سزا ہو گی، اس پر مختلف رائے ہیں، سائفر کیس کے پراسیکیوٹر رضوان عباسی کا کہنا ہے کہ عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو زیادہ سے زیادہ سز ا دلوانے کی کوشش کریں گے،سائفر کیس میں عمران کو 14 سال قید یا سزائے موت دلوانے کی کوشش کریں گے، تاہم دیکھتے ہیں کہ عدالت کیا فیصلہ کرتی ہے.

    سائفر کیس کے حوالہ سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست ضمانت پر عدالت نے فیصلے میں لکھا تھا کہ اکسانے ، سازش یا معاونت کو مرکزی جرم کرنے کی طرح ہی دیکھا جائے گا، چیئرمین پی ٹی آئی پر لگی دفعات میں سزا عمر قید ،سزائے موت ہے، شاہ محمود قریشی کو اسی تناظر میں دیکھا جائے گا ، عمر قید سزائے موت کے ملزمان کو عدالتیں ضمانت دیتے احتیاط سے کام لیتی ہیں، اس قسم کے کیسز میں جب تک معقول وجہ موجود نا ہو ضمانت نہیں دی جا سکتی،248کا استثنیٰ صرف آفیشل ڈیوٹی کیلئے ہے شاہ محمود قریشی پر جلسے میں تقریر کا الزام ہے، شاہ محمود قریشی پر 27 مارچ کی جو جلسہ تقریر کا الزام ہے وہ آفیشلی ڈیوٹی میں نہیں آتا،

    دوسری جانب سپریم کورٹ میں بھی اس کیس کی سماعت ہوئی تو عمران خان،شاہ محمود قریشی کی ضمانت منظور کر لی گئی تھی،دوران سماعت جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس پر آپ نے پورا سال ہی لگا دیا ہے،کچھ دفعات میں سزا دو سال ہے،کچھ میں سزائے موت اور عمر قید ہے.

    سائفر کیس میں ایف آئی اے نے چالان آفیشل سیکرٹ ایکٹ خصوصی عدالت میں جمع کرا دیا ،چالان میں چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی قصوروار قرار دیئے گئے،ایف آئی اے نے چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کو ٹرائل کرکے سزا دینے کی استدعا کر دی،اسد عمر ملزمان کی لسٹ میں شامل نہیں ،سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان ایف آئی اے کے مضبوط گواہ بن گئے ،اعظم خان کا 161 اور 164 کا بیان چالان کے ساتھ منسلک ہے،