Baaghi TV

Tag: سائفر کیس

  • سائفر کیس، وکلا صفائی پیش نہ ہوئے، سماعت ملتوی

    سائفر کیس، وکلا صفائی پیش نہ ہوئے، سماعت ملتوی

    سائفر کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی
    سماعت کے دوران ملزمان کے وکلاء عدالت پیش نہ ہوئے،ملزمان کے وکلا کو عدالت پیشی کے لیے دو مرتبہ مہلت دی گئی،ملزمان کے سینیئر وکلا کے معاون قمر عنایت راجہ اور خالد یوسف عدالت پیش ہوئے، عدالت نے استفسار کیا کہ ملزمان کے سینیئر وکلاء کدھر ہیں،پراسیکیوٹر ذوالفقار عباس نقوی نے کہا کہ اگر وکلا صفائی روز نہیں آئیں گے روز التوا لیں گے تو ہمیں کس بات کی سزا ہے کہ روزانہ صبح صبح آجائیں،بعض گواہان جرا کے لیے دبئی سے آ کر پاکستان بیٹھے ہوئے ہیں روزانہ عدالت پیش ہوتے ہیں،آج بھی التوا کی درخواست دائر کر رہے ہیں پتہ نہیں سینیئر کونسل کب ائیں گے، وکلاء صفائی جرح کرنے سے کتراتے اور تاخیری حربے استعمال کرتے ہیں،

    معاون وکیل نے کہا کہ سکندر ذوالقرنین کے دانت کی سرجری ہے،ایسا معاملہ نہیں کہ ہم جان بوجھ کر التوا مانگ رہے ہیں،عدالت نے کہا کہ آپ تین مرتبہ پہلے بھی التوا لے چکے کوئی ایک وکیل تو آج حاضر ہوتا ،یہ سارے سرکاری ملازمین ہیں کچھ بیرون ملک سے جرح کے لیے آئے بیٹھے ہیں ،میں بطور جج صبح نو بجے کا آیا بیٹھا ہوں اب بہت ہو گیا ملزمان خود بھی جرح کر سکتے ہیں ،ملزمان نے فیملی سے ملاقات اور وکلا سے مشاورت کے لیے وقت مانگا عدالت نے دیا ،وکلا صفائی نے جرح کے لیے التوا مانگا عدالت نے وہ بھی دیا،اب اپ ایک لمبی تاریخ لینا چاہتے ہیں کس بنیاد پر دیں ،صبح میڈیا پبلک اور پراسیکیوشن آ جاتی ہے آپ دیر سے آتے ہیں سب اپ کا انتظار کرتے رہتے ہیں،

    پراسیکیوٹر ذلفقار عباس نقوی نے کہا کہ عدالت اپنے ارڈر میں پہلے بھی تحریر کرا چکی کہ وکلا صفائی جرح سے گریز کر رہے ہیں ،ملزمان کے بیان پر 16 جنوری سے جرح شروع ہونی تھی،یو اے ای سے سفیر جرح کے لیے آے بیٹھے ہیں وکلاء صفائی لاہور اور اسلام اباد سےنہیں آئے،وکلاء صفائی کا ملزمان سے جرح کا حق ختم کیا جائے

    فاضل جج نے وکیل صفائی کے معاونین کو ہدایت کی کہ آپ ساڑھے 12 بجے تک وکلا کو بلائیں نہیں تو قانون کے مطابق کاروائی کو آگے بڑھائیں گے آپ عدالت کا آخری فیصلہ بھی پڑھ لیں،پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے کہا کہ وہ کلاسفائی جان بوجھ کر معاملہ لٹکا رہے ہیں اپ قانون کے مطابق فیصلہ کریں گواہ روزانہ یہاں موجود ہوتے ہیں،معاون وکیل خالد یوسف نے کہا کہ عدالت میں سابق وزیراعظم اور وزیر خارجہ کا ٹرائل جاری ہے اور ہمیں ابھی تک جرح کی کاپیاں فراہم نہیں کی گئی،پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے کہا کہ ساتھی وکیل جس جوش سے بات کر رہے ہیں اسی جوش کے ساتھ گواہان پر جرح بھی کر لیں، عدالت نے وکلا صفائی کو پیش ہونے کے لیے دو مرتبہ کی مہلت ختم ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا.

    سائفر کیس کی سماعت کل تک کیلئے ملتوی 

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    عمران خان اور جیل سپرنٹنڈنٹ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

  • سائفر کیس،دوران سماعت شاہ محمودقریشی اور پراسیکیوٹر رضوان عباسی میں تلخ جملوں کا تبادلہ

    سائفر کیس،دوران سماعت شاہ محمودقریشی اور پراسیکیوٹر رضوان عباسی میں تلخ جملوں کا تبادلہ

    اڈیالہ جیل میں سائفر کیس کی سماعت ہوئی

    سائفر کیس کی سماعت دوران شاہ محمود قریشی پراسیکیوٹر پر برہم ہوگئے اور دونوں کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا،دوران سماعت تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی روسٹرم پر آئے اور کہا کہ جج صاحب کی گارنٹی پر میرے ساتھ ہاتھ ہوا ہے تصدیق نہ ہونے کے باعث این اے 150، این اے 151 اور پی پی 218 سے کاغذات نامزدگی مسترد ہوئے،میں نے کاغذات نامزدگی کی تصدیق کا کہا تو جج صاحب نے کہا میرا حکم نامہ ساتھ لگا دو، جج صاحب کے حکم نامے کے باوجود میرے کاغذات نامزدگی مسترد ہوگئے،جسٹس ابو الحسنات محمد ذوالقرنین نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ شاہ صاحب ہم نے قانونی طریقہ کار پورا کردیا تھا.

    اس دوران پراسیکیوٹر بولے تو شاہ محمود قریشی غصے میں آگئے، شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میں اپنے بنیادی حقوق کی بات کر رہا ہوں، یہ بیچ میں کیوں بول رہے ہیں؟ جس کے بعد شاہ محمود قریشی اور پراسیکیوٹر راجہ رضوان عباسی میں تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔شاہ محمود قریشی نے پراسیکیوٹر کو کہا کہ تم اوپر سے آئے ہو، کون ہو تم، تمہاری کیا اوقات ہے؟ پراسیکیوٹر راجہ رضوان عباسی نے شاہ محمود قریشی کو جواباً کہا کہ تمہاری کیا اوقات ہے؟ جج شاہ محمود قریشی کو پرامن رہنے کی تلقین کرتے رہے۔ شاہ محمود قریشی نے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف درخواست جمع کرائی، جس پر جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین نے کہا کہ یہ آپ کا حق ہے، ہم اس درخواست کو دیکھ لیتے ہیں، آپ کے جو حقوق ہیں وہ آپ کو ملیں گے،

    آج دوران سماعت سائفر کیس میں استغاثہ کے مزید 6 گواہوں کے بیان قلم بند کیے گئے، مجموعی طور پر 25 گواہوں کے بیان قلم بند کر لیے گئے ہیں،عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے وکلاء کل سے گواہوں پر جرح کا آغاز کریں گے،عدالت نے سائفر کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی۔

    امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر اسد مجید کا سائفر کیس میں بیان قلمبند کر لیا گیا، اسد مجید نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن پاکستان ہاؤس میں ہونے والی ملاقات اور بات چیت کو سائفر کے ذریعے سیکرٹری خارجہ کو بھجوائی گئی، دونوں سائیڈز کو معلوم تھا کہ میٹنگ کے منٹس لیے جا رہے ہیں، خفیہ سائفر ٹیلی گرام میں "خطرہ” یا "سازش” کے الفاظ کا کوئی حوالہ نہیں تھا، مجھے نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کی میٹنگ میں بھی بلایا گیا، نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کی میٹنگ میں ڈی مارش ایشو کرنے کا فیصلہ ہوا، میں نے ڈی مارش ایشو کرنے کی تجویز دی تھی، سائفر معاملہ پاکستان امریکہ تعلقات کیلئے دھچکا ثابت ہوا.

    سائفر کیس کی سماعت کل تک کیلئے ملتوی 

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

    عمران خان اور جیل سپرنٹنڈنٹ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

  • سائفر کیس،جیل میں سماعت،صحافیوں کو کمرہ عدالت سے نکال دیا گیا

    سائفر کیس،جیل میں سماعت،صحافیوں کو کمرہ عدالت سے نکال دیا گیا

    آفیشل سیکریٹ ایکٹ سے متعلق سائفر کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی

    سائفر کیس کے مزید 4 گواہان کے بیانات قلمبند کروائے گئے،بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے ،بانی پی ٹی آئی کی جانب سے علی ظفر اور خالد یوسف چوہدری عدالت پیش ہوئے ،شاہ محمود قریشی کی جانب سے علی بخاری عدالت پیش ہوئے ،ایف آئی اے کے اسپیشل پراسیکیوٹر ذوالفقار عباس نقوی ٹیم کے ہمراہ عدالت پیش ہوئے ،کیس کی سماعت خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کی

    سائفر کیس میں اہم گواہ سابق سیکرٹری خارجہ سہیل محمود کا بیان اڈیالہ جیل سماعت کے دوران قلمبند
    سائفر کیس میں آج دو اہم گواہوں موجودہ سیکرٹری خارجہ سہیل محمود اور سائفر کیس کے مقدمہ کے مدعی سابق سیکرٹری داخلہ یوسف نسیم کھوکھر نے اپنے بیانات ریکارڈ کروائے،سائفر کیس میں سابق سیکرٹری خارجہ سہیل محمود کا بیان قلمبند کر لیا گیا،سابق سیکرٹری خارجہ نے کہا کہ ستمبر 2022 کو میری ریٹائرمنٹ ہوئی، ریٹائرمنٹ تک سائفر کی کاپی وزارتِ خارجہ کو واپس نہیں ملی تھی، سہیل محمود کے بیان کے دوران پراسیکیوٹر رضوان عباسی کی مداخلت پر شاہ محمود قریشی نے اعتراض کیا اور کہا کہ سامنے لکھا ہوا بیان ان کے سامنے ہے ،گواہ کو معلوم ہے کہ کیا بیان دینا ہے،سابق سیکرٹری خارجہ دیانتدار آدمی ہیں، ان کا احترام کرتا ہوں ،شاہ محمود قریشی نے پراسیکیوٹر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ میں جانتا ہوں آپ کیا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اگر آپ نے ایسا ہی کرنا ہے تو لکھا ہوا فیصلہ لے آئیں اور سنا دیں ،پراسیکیوشن کو گواہ کے بیان کے دوران بولنے کا کوئی حق نہیں ، پراسیکیوٹر گواہ کو لقمے دینے سے گریز کریں، رضوان عباسی نے کہا کہ کیا میں نے کوئی گمراہ کن سوال کیا ہے،شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پراسیکیوشن متوازن انداز سے چل رہی ہوتی تو کیا 2 بار ہائیکورٹ کاروائی کالعدم قرار دیتی؟ شاہ محمود قریشی کے اعتراض پر عدالت نے پراسیکیوٹر کو مداخلت سے روک دیا

    بانی پی ٹی آئی عمران خان اور جیل سپرنٹنڈنٹ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا، سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل اسد جاوید وڑائچ نے بانی پی ٹی آئی کو صحافیوں سے بات کرنے سے روک دیا ،سپرنٹنڈنٹ جیل نے کہا کہ آپ جیل ٹرائل پر ہیں یہاں بات نہیں کر سکتے، عمران خان نے کہا کہ مجھے عدالت نے صحافیوں سے بات کرنے کی اجازت دی ہے، سپرنٹنڈنٹ جیل نے کہا کہ ہمیں عدالت کی جانب سے ایسا کوئی حکم نہیں ملا،آپ دوبارہ فاضل جج سے رجوع کریں،عمران خان نے کہا کہ میں آپ کی کوئی بات نہیں سنوں گا، مجھے بات کرنے دیں، جیل انتظامیہ نے صحافیوں کو کمرہ عدالت سے باہر نکال دیا

    سائفر کیس کی سماعت کل تک کیلئے ملتوی 

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

  • سائفر کیس،جیل ٹرائل کالعدم قرار دینے کا فیصلہ،سپریم کورٹ میں چیلنج

    سائفر کیس،جیل ٹرائل کالعدم قرار دینے کا فیصلہ،سپریم کورٹ میں چیلنج

    سپریم کورٹ ،بانی پی ٹی آئی عمران خان کیخلاف جیل میں سائفر ٹرائل کالعدم قرار دینے کا معاملہ ،وفاقی حکومت نے اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا

    وفاقی حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا 21 نومبر 2023 کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے،اسلام آباد ہائیکورٹ نے حقائق کا جائزہ نہیں لیا،اسلام آباد ہائیکورٹ نے سائفر ٹرائل کیلئے قائم خصوصی عدالت کو کالعدم قرار دیا،ہائیکورٹ کے پاس خصوصی عدالت کی حیثیت ختم کرنے کا اختیار نہیں ہے،درخواست وکیل راجہ رضوان عباسی کے توسط سے دائر کی گئی ہے،درخواست میں بانی پی ٹی آئی اور جج ابو الحسنات کو فریق بنایا گیا ہے ،ڈی جی ایف آئی اے،آئی جی،ڈی سی اور چیف کمشنر اسلام آباد سمیت دیگر کو بھی فریق بنایا گیا ہے

    سائفر کیس کی سماعت کل تک کیلئے ملتوی 

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان

  • سائفر کیس، اڈیالہ جیل میں سماعت،گواہ اعظم خان کا بیان ریکارڈ

    سائفر کیس، اڈیالہ جیل میں سماعت،گواہ اعظم خان کا بیان ریکارڈ

    آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت،بانی پی ٹی آ ئی اور شاہ محمود قریشی کے خلاف سائفر کیس کی سماعت ہوئی

    اعظم خان سمیت پانچ گواہان کے بیانات قلمبندکر لئے گئے،جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے اڈیالہ جیل میں سماعت کی، سپیشل پراسیکیوٹرذوالفقار عباسی نقوی اور دیگر عدالت پیش ہوئے،وکلاء صفائی علی بخاری، عثمان گل،عمیر نیازی، شیراز رانجھا اور دیگر عدالت پیش ہوئے،عدالت نے گواہان اعظم خان، انیس الرحمن، جاوید اقبال، ہدایت اللہ اور محمد اشفاق کا بیان قلمبند کرلیے ،اب تک استغاثہ کے15 گواہان کے بیانات قلمبند ہوچکے ہیں،عدالت نے سماعت22 جنوری تک ملتوی کردی

    سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے،اعظم خان کا بیان
    سائفر کیس کے اہم ترین گواہ اعظم خان کا بیان قلمبند ہوا تو عمران خان نے کہا کہ اعظم خان کا بیان قرآن پر حلف لیکر ریکارڈ کیا جائے، یہاں بڑے بڑے جھوٹ بولے جارہے ہیں، سپیشل پراسیکیوٹر ذوالفقار نقوی نے کہا کہ گواہ حلف پر بیان دینے کو تیار ہے،جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ کوئی تشنگی نہیں رہنی چاہیئے،ہم مسلمان ہیں، قرآن پاک پڑھتے اور اس پر عمل کرنے والے ہیں،آپ کو درخواست دینے کی ضرورت نہیں، ہم نے قرآن پاک منگوا لیا ہے۔ اعظم خان نے قرآن کو چوما اور ہاتھ رکھ کر حلف لیا پھر بیان ریکارڈ کرایا اعظم خان نے کہا کہ مارچ میں میرے سٹاف نے مجھے سائفر کی کاپی دی، میں اگلے روز سائفر کی کاپی وزیراعظم کے پاس لے کر گیا، وزیراعظم نے سائفر کی کاپی اپنے پاس رکھ لی،بعد میں وزیراعظم نے کہا کہ سائفر کی کاپی گم ہو گئی ہے، سائفر کی ماسٹر کاپی وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے، سائفر کے حوالے سے بنی گالہ میں میٹنگ ہوئی،بنی گالہ میں ہونے والی میٹنگ میں وزیر خارجہ اور سیکرٹری خارجہ بھی موجود تھے، میرے چارج چھوڑنے تک سائفر کی کاپی واپس نہیں بھجوائی گئی، سائفر کی کاپی واپس نہ بھجوانے پر پی ایم، ایم ایس اور سٹاف کومتعدد بارآگاہ کیا،

    سائفر کیس کی سماعت کل تک کیلئے ملتوی 

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

  • توشہ خانہ کیس، سائفر کیس کی سماعت ملتوی، گواہان دوبارہ طلب

    توشہ خانہ کیس، سائفر کیس کی سماعت ملتوی، گواہان دوبارہ طلب

    بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشری بی بی کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس کیس کی سماعت احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے اڈیالہ جیل میں کی

    ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب سردار مظفر عباسی، امجد پرویز، سہیل عارف اور عرفان بھولا عدالت پیش ہوئے۔وکیل صفائی سردار لطیف کھوسہ عدالت پیش نہ ہوئے،وکلاء صفائی نے استدعا کی کہ لطیف کھوسہ آج دستیاب نہیں،سماعت ملتوی کی جائے،نیب گواہان کے بیانات بھی قلمبند نہ ہوسکے،عدالت نے سماعت کل 13 دسمبر تک کیلئے ملتوی کردی

    دوسری جانب سائفر کیس کی سماعت بغیر کارروائی کے 15 جنوری تک ملتوی کردی گئی،سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے سرٹیفائیڈ کاپی موصول نہ ہونے کے باعث ملتوی کی گئی،سماعت خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کی،بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کے خلاف سائفر کیس میں گواہان دوبارہ طلب کر لئے گئے،آفیشل سیکرٹ ایکٹ خصوصی عدالت نے سماعت 15 جنوری تک کیلئے ملتوی کردی،وکلاء صفائی علی بخاری، بیرسٹر تیمورملک اور دیگر عدالت پیش ہوئے،عدالت نے شاہ محمود قریشی کے بہنوئی پیر احمد قریشی کی وفات پر فاتحہ خوانی کرائی،وکلاء صفائی کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ فیصلہ کی کاپی عدالت میں پیش کی گئی،عدالت نے پانچ گواہان کو دوبارہ طلب کرلیاگیا،طلب کیے جانے والے گواہان میں اقراء اشرف، عمران ساجد، شمعون قیصر، فرخ عباس اور حسیب بن عزیز شامل ہیں

    سائفر کیس کی سماعت کل تک کیلئے ملتوی 

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

  • اسلام آباد ہائیکورٹ، سائفر کیس میں حکم امتناع ختم

    اسلام آباد ہائیکورٹ، سائفر کیس میں حکم امتناع ختم

    اسلام آباد ہائی کورٹ،سائفر کیس میں جیل ٹرائل روکنے، نقول فراہمی اور ان کیمرہ سماعت کے خلاف اپیلوں پر سماعت ہوئی

    سابق چیئرمین پی ٹی آئی کی اپیلوں پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سماعت کی،عدالتی حکم پر اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان عدالت کے سامنے پیش ہوئے،بانی پی ٹی آئی کی جانب سے سلمان اکرم راجہ، سکندر ذولقرنین و دیگر عدالت پیش ہوئے،سائفر کیس میں ایف آئی اے نے جسٹس ریٹائرڈ حامد علی شاہ کی خدمات حاصل کرلی،اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہم کیس سے متعلق تمام آفیشل دستاویزات عدالت کو جمع کریں گے، ٹرائل کورٹ نے کچھ گواہوں کے لیے سماعت ان کیمرہ کرائی تھی، گواہوں کے بیانات کی سرٹیفائیڈ کاپیاں درخواست گزار وکلاء کے پاس موجود ہیں، اس عدالت کے ڈویژن بینچ کے فیصلے پر مکمل عمل درآمد کرایا گیا تھا، 14 دسمبر کا ٹرائل کا فیصلہ ٹھیک نہیں تھا تو دوبارہ گواہان کا بیان قلمبند کرتے ہیں، اگر اس معاملے پر میرا کولیگ سلمان اکرم راجہ متفق ہے تو درخواست کو نمٹا دیں،

    سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ٹرائل کورٹ کے جج نے دو دفعہ غلط فیصلہ کیا، عدالت نے کہا کہ ہم سب سے غلطیاں ہوتی رہتی ہیں، چلیں نئے سرے سے اس کیس کو شروع کریں،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نےاسفندیار ولی کیس کا حوالہ دیا، سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ٹرائل دوبارہ وہاں جانا چاہیے جہاں سے غیر قانونی فیصلہ کیا گیا تھا، عدالت نے کہا کہ اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا تھا کہ چار گواہوں کے بیانات ان کیمرہ قلمبند کرائے گئے تھے، سول لاء، کریمنل لاء سے بہت مختلف ہیں، عدالت نے سلمان اکرم راجہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ دوسرے سائڈ کے ترجیحات یا مجبوریاں بھی دیکھ لیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہم تمام 13 گواہان کے بیانات قلمبند کرانے کو دوبارہ تیار ہیں، ایف آئی اے پراسیکیوشن نے کہا کہ اس کیس میں 25 گواہان ہیں جن میں 12 کے بیانات ابھی رہتے ہیں،

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے سائفر کیس میں حکم امتناعی ختم کردیا ،عدالت نے اٹارنی جنرل کی یقین دہانی پر فیصلہ محفوظ کرلیا،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ 14 دسمبر کے آرڈر کے بعد کی کاروائی کالعدم قرار دی جائے ، انہوں نے تسلیم کر لیا ہے کہ 14 دسمبر کا آرڈر درست نہیں تھا،اٹارنی جنرل نے 14 دسمبر کے بعد کی کاروائی از سر نو کرنے کی یقین دھانی کروا دی

    سائفر کیس کی سماعت کل تک کیلئے ملتوی 

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

  • سائفر کیس، سماعت بغیر کاروائی تین جنوری تک ملتوی

    سائفر کیس، سماعت بغیر کاروائی تین جنوری تک ملتوی

    سائفر کیس کی سماعت بغیر کسی کارروائی کے 3 جنوری تک ملتوی کردی گئی

    سماعت جج ابوالحسنات ذوالقرنین کی طبیعت خرابی کے باعث ملتوی کردی گئی،عدالتی عملہ اڈیالہ جیل میں سائفر کیس کی سماعت 3 تاریخ ڈال کر روانہ ہوگیا،شاہ محمود قریشی اور بانی پی ٹی آئی کو ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی،عمران خان کی بہن علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر کھڑی رہیں تاہم انہیں جیل کے اندر جانے کی اجازت نہ ملی

    عمران خان کے وکیل عمیر نیازی ایڈووکیٹ نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا ٹاک کرتے ہوئے کہا کہ سائفر کیس کے لئے حاضر ہوئے تھے،22دسمبر کی طرح آج بھی جج صاحب نہیں آئے، اطلاع دی گئی ہے کہ 3جنوری سے ٹرائل ہو گا، جس عجلت سے یہ ٹرائل چلایا جاتا رہا،25گواہ ایک ہی دن میں ریکارڈ کئے گئے، ایسا تاثر دیا گیا کہ کیس میں عدالت نے اپنا ذہن بنا رکھا ہے، اگر بروقت اسلام آباد ہائیکورٹ مداخلت نہ کرتی تو توشہ خانہ پارٹ 2 ہونے جا رہا تھا، جن لوگوں نے پریس کانفرنسسز کیں،ہماری مخالفین کی صف میں شامل ہو گئے، سب پر دباو ہے،شیخ رشید ہمارے اتحادی رہے ہیں، اتحادکے حوالے سے کچھ جماعتیں رابطہ میں ہیں،جن میں جے یو آئی(س) اور مجلس وحدت المسلمین شامل ہیں،الیکشن کے حوالے سے چیئرمین پی ٹی آئی کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات میں امیدواروں کا فیصلہ ہو جائے گا،30جنوری کو 1ہزار سے زائد میدواروں کو ڈس کوالیفائی کر دیا جائے گا،

    واضح رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد ہائیکورٹ نے سائفر کیس میں حکم امتناع جاری کر دیا تھا،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سائفر کیس کا ٹرائل 11 جنوری تک روکنے کا حکم جاری کر دیا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست پر سماعت کی اور کہا کہ یہاں پر مجھے دو سوالات کے جوابات چاہئیں، اس عدالت نے کہا تھا کہ اوپن ٹرائل ہوناچاہیے تو ان کیمرہ سماعت کیوں شروع ہوئی؟ سیکیورٹی عدالتی دائرہ اختیار نہیں تو اس میں ہم مداخلت نہیں کریں گے،عدالت نے کہا کہ سائفر کیس کا ٹرائل عارضی طور پر روکا جاتا ہے اور پہلے وفاقی حکومت اور ایف آئی اے کو نوٹس کیا جائے گا تاکہ ان کا جواب آ سکے

    سائفر کیس کی سماعت کل تک کیلئے ملتوی 

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر معاملہ؛ اعظم خان کے بعد فارن سیکرٹری بھی عمران خان کیخلاف گواہ بن گئے

    سائفر کیس، عمران خان کو بیٹوں سے بات کروانے کی اجازت

  • اسلام آباد ہائیکورٹ نے سائفر کیس کا ٹرائل 11 جنوری تک روک دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے سائفر کیس کا ٹرائل 11 جنوری تک روک دیا

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سائفر کیس کا ٹرائل 11 جنوری تک روکنے کا حکم جاری کر دیا، عدالت نے سائفر کیس میں حکم امتناع دے دیا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست پر سماعت کی اور کہا کہ یہاں پر مجھے دو سوالات کے جوابات چاہئیں، اس عدالت نے کہا تھا کہ اوپن ٹرائل ہوناچاہیے تو ان کیمرہ سماعت کیوں شروع ہوئی؟ سیکیورٹی عدالتی دائرہ اختیار نہیں تو اس میں ہم مداخلت نہیں کریں گے،عدالت نے کہا کہ سائفر کیس کا ٹرائل عارضی طور پر روکا جاتا ہے اور پہلے وفاقی حکومت اور ایف آئی اے کو نوٹس کیا جائے گا تاکہ ان کا جواب آ سکے

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے سائفر کیس ٹرائل میں 12 دسمبر کے حکم کیخلاف عمران خان کی درخواست پر وفاق کو نوٹس جاری کر دیئے. جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کیس کی سماعت کی،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ پہلے ایک درخواست میں بھی سامنے آیا تھا ،پراسکیوشن کے مطابق کابینہ کی منظوری کے بعد کیس فائل کیا گیا ،عمران خان کے وکیل نے عدالتی فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے موقف اپنایا کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت کیس درج کرانے کیلئے قانونی طریقہ نہیں اپنایا گیا.

    سماعت کے آغاز پر جسٹس میاں گل حسن نے استفسار کیا کہ آپ کا نکتہ کیا ہے؟ اس پر وکیل عثمان گل نے کہا کہ نکتہ یہ ہے کہ فرد جرم سے پہلے قانونی طریقہ کار مکمل نہیں کیا گیا، جج نے جس نوٹیفکیشن کا حوالہ دیا وہ یکم دسمبر کا ہے اور سائفر ٹرائل روزانہ کی بنیاد پر چل رہا ہے،عدالت نے استفسار کیا کہ اب تک کتنے گواہان کے بیانات مکمل ہو چکے ہیں؟ وکیل نے بتایا کہ کُل 27 گواہان میں سے 25 کے بیانات اور تین کی جرح مکمل ہوئی ہے،

    دوران سماعت بانی تحریک انصاف عمران خان کے وکیل نے سائفر ٹرائل پر حکم امتناع کی استدعا کی جسے عدالت نے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پہلے نوٹس ہوں گے،عدالت نے سائفر کیس میں فرد جرم عائد کرنے کے خلاف درخواست پر وفاق کو نوٹس جاری کردیا اور عمران خان کے وکیل کو ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پر سائفر ٹرائل سے متعلق تمام ضروری دستاویزات جمع کرائیں،

    سائفر کیس ،ان کیمرہ کاروائی کیخلا ف درخواست پر سماعت ملتوی
    دوسری جانب سائفر کیس کی ان کیمرہ کارروائی کے خلاف درخواست پر سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کی، بیرسٹر سلمان اکرم راجا ویڈیو لنک کے ذریعے پیش ہوئے،بانی پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے وکلاء سکندر ذولقرنین، عثمان ریاض گل، انتظار پنجوتا و دیگر عدالت پیش ہوئے ،عدالتی حکم پر اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان، ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل عدالت پیش ہوئے، ایف آئی اے اسپیشل پراسیکوشن ٹیم بھی عدالت کے سامنے پیش ہوئی،سماعت کے آغاز پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مجھے کچھ تشویش ہے جس طرح کارروائی آگے بڑھ رہی ہے، بند دروازوں کے پیچھے ہونے والے ٹرائل سے متعلق اٹھنے والے سوالات کا جائزہ لینا ہے، ایک دو لوگوں یا خاندان کے افراد کی موجودگی سے بھی یہ کلوزڈ ڈور ٹرائل ہی رہے گا، اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ پراسکیوشن کے 25 گواہان کا بیان ریکارڈ کیا جاچکا ہے، 21 دسمبر کے بعد 12 گواہان کے بیانات میڈیا کی موجودگی میں ریکارڈ کیے گئے،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سماعت کے مطابق ٹرائل جیل میں ہو گا تو اوپن ہو گا ، اب صورتحال تبدیل ہوئی ہے کہ جیل ٹرائل ان کیمرہ ٹرائل ڈکلیئر کر دیا گیا ، ان کیمرہ کا سیکشن 14 کا آرڈر فیلڈ میں ہے اس کی موجودگی میں کیا ہوا ، ہم نے اس ججمنٹ میں اوپن ٹرائل کو سمجھنے کی کوشش کی ہے کیوں نہیں سمجھتے،سائفر ٹرائل کو جلد بازی میں کیا جا رہا ہے، اوپن سماعت کی اہمیت خصوصی عدالت کے جج پر واضح ہے نہ ہی پراسیکیوٹرز پر،سائفر ٹرائل اپنی نوعیت کا پہلا ٹرائل ہے،دیکھنا ہو گا کہ اس طرح کے کیسز میں آرٹیکل 10 اے کے تحت فئیر ٹرائل کا حق ملا یا نہیں؟ 1923 میں انسانی حقوق بنیادی حقوق دنیا کو معلوم نہیں تھے، یہ میرے سامنے فرسٹ ایمپریشن کا کیس ہے ، اسٹیٹ کی سیفٹی کمپرومائز نہیں ہونی چاہیے ،سپریم کورٹ کا فیصلہ دیکھیں وہ کہہ رہے ہے میٹریل ناکافی ہے،

    اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ اسٹیٹ کا موقف ہے کہ 3 ایسے گواہ تھے جن کا بیان نشر نہیں کیا جانا چاہیے تھا،ان گواہان کے بیانات 15 دسمبر کو ریکارڈ کیے گئے ہیں،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 12 دیگر گواہان کے بیانات بھی تو کلوزڈ ڈور ٹرائل میں ہوئے ہیں ناں، آپ سمجھتے کیوں نہیں ہیں ، ہم نے آپ کو سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ اوپن ٹرائل کیا ہوگا ، ان کیمرہ کرنے کی جج کی وجوہات دیکھ لیں اس میں 3 لائنیں لکھی ہوئی ہیں ، اوپن ٹرائل کیا ہے یہ واضح کر چکے ہیں، تم آ جاؤ اور تم آ جاؤ، یہ اوپن ٹرائل نہیں ہوتا، اوپن ٹرائل میں جو چاہے آ سکتا ہے، میڈیا کو اجازت ہے کہ جو چاہے آ سکتا ہے، ایسے نہیں ہوتا، اس بارے باقاعدہ آرڈر ہونا چاہیے، کیا جرح میڈیا کی موجودگی میں کی گئی؟اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ جن 3 افراد کی جرح ہوئی وہ سائفر کی کوڈ، ڈی کوڈ سے متعلق تھے، سائفر سے متعلق سیکرٹری خارجہ کا بیان بھی ان کیمرہ ہو گا،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پراسیکیوشن کو کہنا چاہیے تھا کہ جج صاحب 3 گواہان کے لیے ان کیمرہ ٹرائل کا حکم دیں تا کہ ٹرائل پر سوالات نہ اٹھیں، کبھی کبھی اچھا بھلا کیس ہوتا ہے لیکن جس طریقے سے چلایا جاتا ہے،خراب ہو جاتا ہے،پراسیکیوٹر راجا رضوان عباسی نے عدالت میں کہا کہ سائفر ان کیمرہ ٹرائل کے خلاف درخواست قابل سماعت نہیں ہے،اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ سائفر ٹرائل کے لیے 14 دسمبر کو حکم ہوا اور 15 دسمبر کو ٹرائل شروع ہوااگر عدالت چاہتی ہے کہ جرح اوپن ہو تو ہو جائے گی،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ عدالت نہیں کہہ رہی یہ ضرورت ہے کہ ٹرائل اوپن ہو اور یہ پوری دنیا میں ہوتا ہے،

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ یقین دہانی کراتا ہوں کہ ان کیمرہ جرح صرف ان 4 گواہان کی ہو گی جو دفتر خارجہ کے سائفر سکیورٹی سے جڑے ہیں،عدالت نے استفسار کیا کہ یہ چاروں گواہان دفتر خارجہ کے ملازمین ہیں؟اٹارنی جنرل نے کہا کہ چاروں گواہان دفتر خارجہ کے ملازمین ہیں۔چاروں گواہان سائفر ٹرانسکرپٹ کرنے اور سائفر سکیورٹی سسٹم سے جڑے ہیں۔ان ملازمین کا کام پوری دنیا سے سائفر ڈی کوڈ کرنا ہے، سائفر سسٹم کیسے کام کرتا ہے یہ تفصیلات پبلک کے سامنے نہیں لائی جا سکتی۔ 13 میں سے جو باقی 9 گواہان ہیں ان کی جرح دوبارہ کر لیں گےاگر عدالت 13 میں سے 9 گواہان کے بیانات کالعدم قرار دیتی ہے تو دوبارہ ہوں گے،

    عدالت نے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ اٹارنی جنرل کی اس پیشکش پر کیا کہیں گے کہ گواہان کے بیانات دوبارہ ریکارڈ کرلیے جائیں؟ وکیل سلمان اکرم راجا نے کہا کہ ہماری استدعا ہے کہ عدالت پہلے ٹرائل کورٹ کے ان کیمرہ پروسیڈنگ کے آرڈر کو دیکھے، میرے پاس پہلے 3 گواہان کے بیانات کے عدالتی آرڈر کی کاپی ہے،ہ سرٹیفائیڈ کاپی تو پبلک دستاویز ہوتی ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ میری استدعا ہوگی کہ اسے پبلک نہ کیا جائے،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں یہ دستاویزات دیکھنا چاہتا ہوں، آپ یہ مجھے فوری طور پر فراہم کریں، اس معاملے میں اہم آئینی ایشوز سامنے آئے ہیں عدالت ان کو دیکھے گی، سپریم کورٹ نے اس کیس میں اپنے فیصلے میں بھی مواد کو ناکافی قرار دیا تھا، میرا مائنڈ آج آپ نے بہت کلئیر کردیا ، عدالت نے کیس کی سماعت 11 جنوری تک کے لیے ملتوی کردی.

    سائفر کیس کی سماعت کل تک کیلئے ملتوی 

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کا جیل ٹرائل کالعدم قرار

    سائفر کیس،لگی دفعات میں سزا،عمر قید،سزائے موت ہے،ضمانت کیس کا فیصلہ

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر معاملہ؛ اعظم خان کے بعد فارن سیکرٹری بھی عمران خان کیخلاف گواہ بن گئے

    سائفر کیس، عمران خان کو بیٹوں سے بات کروانے کی اجازت

  • عدالتوں کا احترام  مگر سپریم کورٹ کے فیصلے پر تشویش ہے،ملک احمد خان

    عدالتوں کا احترام مگر سپریم کورٹ کے فیصلے پر تشویش ہے،ملک احمد خان

    سابق وفاقی وزیر، ن لیگی رہنما ملک احمد خان نے کہا ہے کہ میاں محمد شہباز شریف حلقہ این اے 132 قصور سے الیکشن لڑیں گے ،یہ حلقہ ملک رشید احمد خان کا ہے

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے ملک احمد خان کا کہنا تھا کہ عدالتوں کا احترام ہے مگر سپریم کورٹ کے فیصلے پر تشویش ہے،گزشتہ روز سپریم کورٹ نے سائفر کیس کا فیصلہ دیا،عدالتی فیصلہ صرف ضمانت تک رہتا ہے تب بھی سوال اٹھتا ہے،بطور سیاسی کارکن فیصلے کے بعد میرے کچھ سوالات ہیں،جب سائفر کیس پر ججمنٹ سنی تو چند سوالات ذہن میں آئے،کل مجھے تشویش ہوئی جس کا اظہار کرنا چاہتا ہوں،قاسم سوری نے ڈپٹی اسپیکر کی کرسی پر بیٹھ کر سربمہر لفافہ لہرایا، سربمہر لفافہ لہرانے کے بعد کہا یہ چیف جسٹس کے پاس بھیج رہا ہوں، سائفر کو بنیاد بناکر پی ٹی آئی حکومت نے سیاست کی،پی ٹی آئی کو بند لفافوں کے ساتھ بڑی رغبت ہے، پی ٹی آئی بند لفافوں میں کرپشن کرتی آئی ہے، بندلفافے میں چاہے 190 ملین پاؤنڈ ہو یا بند لفافے سے اسمبلی توڑ دیں،

    ملک احمد خان کا کہنا تھا کہ جس کے حق میں فیصلہ ہو وہی لاڈلہ ہوتا ہے،اعظم خان پر ایک آڈیو لیک پر کیس چل رہا ہے، سائفر پر کابینہ کی ایک مختصر میٹنگ کی گئی تھی،پی ٹی آئی دور میں صدر نے فوری طور پر اسمبلی تحلیل کردی، عدالت نے کہا معاملے پر آفیشل سیکرٹ ایکٹ کا اطلاق نہیں ہوتا، ملک میں آئین صرف آمر نہیں توڑتے،سائفر کا معاملہ اٹھا کر جلسوں میں تقاریر کی گئیں، جب سیاسی جماعت کالعدم ہوگی تو الیکشن کمیشن اسے کیسے نشان دے گا؟اگر ایک شخص نے جرم کیا ہے اور اس جرم کی تفصیلات ابھی تفتیش طلب ہیں اور اس میں شواہد ریکارڈ کرنے کیلیے اس شخص کی ضرورت پڑسکتی ہے تو پھر قانون پہ عملدرآمد کو یقینی بنانا سب سے ضروری ہے۔سانحہ 9 مئی بھی ایک منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا , 9 مئی سے چند روز پہلے لاہور , پنڈی , پشاور میں عمران نیازی اپنے ایکٹیوسٹ کے ساتھ حمایت چیف جسٹس ریلی نکالتے ہیں۔کینٹ میں حمایت چیف جسٹس ریلی کا کیا تعلق بنتا ہے؟ آج اگر میاں نوازشریف کے خلاف بنائے مقدمات جو یکسر جھوٹے اور بنیاد ہیں وہ ختم ہورہے ییں تو شور ہوتا ہے۔6 سال گزر جانے کے بعد اگر کوئی شواہد پیش نہیں کیے جاتے تو ایک دن انہیں ختم تو ہونا ہی ہے

    لطیف کھوسہ، چیئرمین سینیٹ بھی لڑیں گے الیکشن، کاغذات نامزدگی جمع کروانے کا سلسلہ جاری

    عام انتخابات،سیاسی رہنمامیدان میں آ گئے،مولانا،نواز،بلاول،شہباز کہاں سے لڑینگے الیکشن؟

     الیکشن کمیشن کو تمام شکایات پر فوری ایکشن لیکر حل کرنے کا حکم

    کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے وقت میں 2 دن کا اضافہ 

    ن لیگ کے محسن رانجھا نے پی ٹی آئی والوں پر پرچہ کٹوا دیا .

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں