Baaghi TV

Tag: سائفر کیس

  • سائفر کیس،عمران خان،شاہ محمود قریشی کی سپریم کورٹ سے ضمانت منظور

    سائفر کیس،عمران خان،شاہ محمود قریشی کی سپریم کورٹ سے ضمانت منظور

    سپریم کورٹ نے سابق چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی ضمانت منظوری کا فیصلہ جاری کردیا
    سپریم کورٹ کی جانب سے4 صفحات پر مشتمل ضمانت منظوری کا فیصلہ جاری کیا گیا،جسٹس اطہر من اللہ نے فیصلے سے اتفاق کرتے ہوئے 5صفحات پر مشتمل علیحدہ نوٹ بھی لکھا،سابق چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی ضمانت کا فیصلہ جسٹس منصور علی شاہ نے تحریر کیا، تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ سابق چیئرمین پی ٹی آئی نے دوسرے ملک کے فائدے کیلئے سائفر کو پبلک کیا ایسے شواہد نہیں، فیصلے میں دی گئی آبزویشنز ٹرائل کو متاثر نہیں کریں گی،سابق چیئرمین پی ٹی آئی ضمانت کا غلط استعمال کریں تو ٹرائل کورٹ اسے منسوخ کر سکتی ہے ،آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے سیکشن 5(3) بی کے جرم کا ارتکاب ہونے کے شواہد نہیں ،ملزمان کے آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے جرم کے ارتکاب کیلئے مزید انکوائری کے حوالے سے مناسب شواہد ہیں،مزید تحقیقات کا فیصلہ ٹرائل کورٹ شواہد کا جائزہ لینے کے بعد ہی کر سکتی ہے،

    عمران خان کو قید رکھنے کا کوئی مقصد نہیں ، ان کی رہائی عوام کو موثر اور بامعانی حق رائے دہی کا موقع دے گی، آئین توڑنے والے کسی ڈکٹیٹر نے تو ایک دن جیل نہیں کاٹی،کیس میں ایسے حالات نہیں کہ ضمانت کو مسترد کیا جائے،جسٹس اطہرمن اللہ کا اضافی نوٹ
    سائفر کیس کی ضمانت کے مقدمے میں جسٹس اطہر من اللہ نے اضافی نوٹ لکھا اور کہا کہ عمران خان اور شاہ محمود قریشی 8 فروری کو ہونے والے عام انتخابات کے خواہشمند امیدواران ہیں، سوال کیا کہ عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو انتخابات سے قبل گرفتار رکھنا ضروری ہے یا نہیں؟ انتخابات کی پچھلی سات دہائیوں سے تاریخ دیکھنا ضروری ہے، عمران خان ایک بڑی سیاسی جماعت کے بانی اور شاہ محمود قریشی اعلی عہدے پر ہیں، ملک میں حقیقی انتخابات کے لیے تمام امیدواروں کو یکساں مواقع دینا آئینی ضرورت ہے، عمران خان کو قید رکھنے کا کوئی مقصد نہیں ، ان کی رہائی عوام کو موثر اور بامعانی حق رائے دہی کا موقع دے گی، آئین توڑنے والے کسی ڈکٹیٹر نے تو ایک دن جیل نہیں کاٹی،کیس میں ایسے حالات نہیں کہ ضمانت کو مسترد کیا جائے،پورا ٹرائل دستاویزی شواہد پر منحصر ہے،ملزمان کی گرفتاری کا کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا،

    قبل ازیں سائفر کیس میں سابق چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت پر سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی

    سائفر کیس، سپریم کورٹ نے بانی چیئرمین پی ٹی آئی کی ضمانت منظور کر لی،شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت بھی منظور کر لی گئی،عدالت نے دس دس لاکھ ضمانتی مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کی،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ یہ صرف عمران کا نہیں عوامی مفاد کا معاملہ ہے، وہ ابھی سزا یافتہ نہیں صرف ملزم ہیں، کیا آپ 2018 کی تاریخ دہرانا چاہتے ہیں؟عمران خان پر ابھی جرم ثابت نہیں ہوا وہ معصوم ہیں، انتخابات 8 فروری کو ہیں، جو جیل میں ہے وہ ایک بڑی جماعت کی نمائندگی کرتا ہے،کیا حکومت 1970 اور 77 والے حالات چاہتی ہے،عمران کے جیل سے باہر آنے سے کیا نقصان ہوگا؟

    قائمقام چیف جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی، ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا کہ شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت پر نوٹس نہیں ہوا، قائمقام چیف جسٹس نے کہا کہ ابھی نوٹس کر دیتے ہیں آپ کو کیا جلدی ہے، عمران خان کے وکیل نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے جلدبازی میں 13 گواہان کے بیانات ریکارڈ کر لئے ہیں، عدالت نے کہا کہ سپیڈی ٹرائل ہر ملزم کا حق ہوتا ہے، آپ کیوں چاہتے ہیں ٹرائل جلدی مکمل نہ ہو؟ وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ ان کیمرا ٹرائل کیخلاف آج ہائی کورٹ میں بھی سماعت ہے، وکیل حامد خان نے کہا کہ دوسری درخواست فرد جرم کیخلاف ہے،

    قائمقام چیف جسٹس نے کہا کہ جو فرد جرم چیلنج کی تھی وہ ہائی کورٹ ختم کرچکی ہے، نئی فرد جرم پر پرانی کارروائی کا کوئی اثر نہیں ہوگا، وکیل حامد خان نے کہا کہ ٹرائل اب بھی اسی چارج شیٹ پر ہو رہا ہے جو پہلے تھی، قائمقام چیف جسٹس نے کہا کہ پرانی چارج شیٹ کے خلاف درخواست غیرموثر ہوچکی ہے،نئی فرد جرم پر اعتراض ہے تو ہائی کورٹ میں چیلنج کریں،حامد خان نے استدعا کی کہ مناسب ہوگا آج ہائی کورٹ کے فیصلے کا انتظار کیا جائے،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ ایسا نہ ہو آئندہ سماعت تک ٹرائل مکمل ہوجائے،شام چھ بجے تک ٹرائل چلتا ہے، عدالتی اوقات کار کے بعد بھی ٹرائل چل رہا ہوتا ہے، قائمقام چیف جسٹس نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں ہمارے کیس چلتے نہیں، آپ کا چل رہا تو آپکو اعتراض ہے،فرد جرم والی درخواست غیرموثر ہونے پر نمٹا دیتے ہیں،وکیل سلمان صفدر نےکہا کہ حامد خان درخواست میں ترمیم کر چکے ہیں اب اسے نئی درخواست کے طور پر لیا جائے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ترمیم شدہ درخواست بھی ہائیکورٹ سے پہلے ہم کیسے سن سکتے ہیں؟

    بانی پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے سپریم کورٹ میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سائفر کیس میں وزارتِ داخلہ کے سیکریٹری شکایت کنندہ ہیں، لاہور ہائی کورٹ نے سائفر کیس میں طلبی پر 7 ماہ حکمِ امتناع دیے رکھا، 7 ماہ ایف آئی اے خاموش رہا، توشہ خانہ کیس میں ضمانت ہوتے ہی گرفتار کر لیا، عمران خان کو اسلام آباد میں گرفتار کرنے کی 40 مرتبہ کوشش کی گئی، ملک بھر کے دیگر مقدمات اسلام آباد کے 40 کیسز سے الگ ہیں،ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ آڈیو لیک کے بعد وفاقی حکومت کی ہدایت پر ایف آئی اے نے انکوائری شروع کی تھی،سلمان صفدر نے کہا کہ الزام لگایا گیا کہ 28 مارچ 2022ء کو بنی گالہ میں ہوئے اجلاس میں سائفر کے غلط استعمال کی سازش ہوئی، سابق وزیرِ اعظم پر سائفر کی کاپی تحویل میں لے کر واپس نہ کرنے کا بھی الزام ہے، ایک الزام پورے سائفر سسٹم کی سیکیورٹی رسک پر ڈالنے کا بھی ہے، اسد عمر اور اعظم خان کے کردار کا تعین تفتیش میں ہونا تھا، ایف آئی آر میں 4 ملزمان نامزد ہیں لیکن ٹرائل صرف 2 کا ہو رہا ہے، اعظم خان پر میٹنگ منٹس اور اس کے مندرجات توڑ مروڑ کر تحریر کرنے کا الزام ہے، ایف آئی اے کے مطابق تحقیقات کے بعد مقدمہ درج کیا گیا ہے، ایف آئی آر میں کردار کے تعین کے باوجود اعظم خان کو گرفتار کیا گیا نہ اسد عمر کو، اعظم خان ملزم کے بجائے سائفر کیس کے مقدمے کے اندراج کے اگلے دن گواہ بن گئے۔

    جسٹس اطہر من اللّٰہ نے استفسار کیا کہ ایف آئی اے کو کیسے معلوم ہوا کہ بنی گالہ میں میٹنگ ہوئی تھی؟ وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ یہ ایف آئی اے ہی بتا سکتی ہے کیونکہ اب تک پراسیکیوشن نے ذرائع نہیں بتائے، سائفر وزارتِ خارجہ سے آیا، پراسیکیوشن کے مطابق سیکیورٹی سسٹم رسک پر ڈالا گیا، وزارتِ خارجہ نے سائفر سے متعلق کوئی شکایت نہیں کی، سابق وزیرِ اعظم کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، رانا ثناء اللہ نے بطور وزیرِ داخلہ ایف آئی اے کو تحقیقات کرنے کا کہا، آفیشل سیکریٹ ایکٹ کا دائرہ وسیع کر کے سابق وزیرِاعظم پر لاگو کیا گیا، آفیشل سیکریٹ ایکٹ افواجِ پاکستان سےمتعلق ہے جو ملکی دفاع سے جڑا ہے، ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ سائفر کا مقدمہ بنا ہے،سائفر کے خفیہ کوڈز کبھی سابق وزیرِ اعظم کے پاس تھے ہی نہیں،

    جسٹس اطہر من اللّٰہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وزارت خارجہ سائفرکا حکومت کو بتاتی ہےتاکہ خارجہ پالیسی میں مدد مل سکے،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آفیشل سیکریٹ ایکٹ کا مقصد ہی یہی ہے کہ حساس معلومات باہر کسی کو نہ جا سکیں، ڈپلومیٹک معلومات بھی حساس ہوتی ہیں لیکن ان کی نوعیت مختلف ہوتی ہے،وکیل نے کہا کہ امریکا میں پاکستانی سفیر اسد مجید نے سائفر حساس ترین دستاویز کے طور پر بھیجا تھا،جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا کہ اس بات پر تو آپ متفق ہیں کہ حساس معلومات شیئرنہیں ہو سکتیں، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ دیکھنا یہی ہے کہ حساس معلومات شیئر ہوئی بھی ہیں یا نہیں، سابق وزیرِ اعظم کے خلاف سزائے موت یا عمر قید کی دفعات عائد ہی نہیں ہوتیں،قائم مقام چیف جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سائفر کسی سے شیئر نہیں کیا لیکن اسے آن ایئر تو کیا ہی گیا ہے، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ وزارتِ خارجہ سے سائفر اعظم خان کو بطور پرنسپل سیکریٹری موصول ہوا تھا، جس میٹنگ میں سائفر سازش کی منصوبہ بندی کا الزام ہے وہ 28 مارچ 2022ء کو ہوئی، چالان کے مطابق جس جلسے میں سائفر لہرانے کا الزام ہے وہ 27 مارچ 2022ء کو ہوا تھا،جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اصل سائفر تو وزارتِ خارجہ میں ہے، وہ باہر گیا ہے تو یہ دفترِ خارجہ کا جرم ہے، سائفر کو عوام میں زیرِ بحث نہیں لایا جا سکتا،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ شاہ محمود قریشی نے تقریر میں کہا کہ وزیرِ اعظم کو سازش کا بتا دیا ہے، حلف کا پابند ہوں، اس بیان کے بعد شاہ محمود قریشی 125 دن سے جیل میں ہیں، وکیل سلمان صفدر نے پریڈ گراؤنڈ میں 27 مارچ 2022ء کے جلسے میں شاہ محمود قریشی کی تقریر پڑھ دی اور کہا کہ شاہ محمود نے تقریر میں کہا کہ بہت سے راز ہیں لیکن حلف کی وجہ سے سامنے نہیں رکھ سکتا،

    دوران سماعت قائم مقام چیف جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ وزیرِ خارجہ خود سمجھدار تھے، سمجھتے تھے کہ کیا بولنا ہے کیا نہیں،وزیرِ خارجہ نے کہا کہ بتا نہیں سکتا اور عمران خان کو پھنسا دیا، وزیرِ خارجہ نے عمران خان کو پھنسا دیا کہ آپ جانیں اور وہ جانیں، شاہ محمود خود بچ گئے اور عمران خان کو کہا کہ سائفر پڑھ دو، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ عمران خان نے بھی پبلک سے کچھ شیئرنہیں کیا تھا، اگر سائفر پبلک ہو ہی چکا ہے تو پھر سائفر ٹرائل اِن کیمرا کیوں چاہیے پراسیکیوشن کو؟جسٹس اطہر من اللّٰہ نے سوال کیا کہ کس بنیاد پر پراسیکیوشن سمجھتی ہے کہ ملزمان کو زیرِ حراست رکھنا ضروری ہے؟وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ سابق وزیرِ اعظم نے جلسے میں کہا تھا کہ میرے پاس یہ خط سازش کا ثبوت ہے، جلسے میں کہیں نہیں کہا کہ سائفر میں کیا ہے اور کہاں سے آیا ہے۔جسٹس اطہر من اللّٰہ نے سوال کیا کہ سابق وزیرِ اعظم کو جیل میں رکھنے سے معاشرے کو کیا خطرہ ہو گا؟

    قائم مقام چیف جسٹس سردار طارق مسعود نے ہدایت کی کہ اعظم خان کا بیان پڑھ دیں،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ دفعہ 164 کا بیان ملزم کا اعترافی بیان ہوتا ہے، اعظم خان کے اہلِ خانہ نے ان کی گمشدگی کا مقدمہ درج کروایا تھا، اعظم خان 2 ماہ لاپتہ رہے، یہ اغواء برائے بیان کا واقعہ ہے،قائم مقام چیف جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اغواء برائے تاوان تو سنا تھا، اغواء برائے بیان کیا ہوتا ہے؟ وکیل سلمان صفدر نے جواب دیا کہ میرے لیے سب سے آسان الفاظ اغواء برائے بیان کے ہی تھے،قائم مقام چیف جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اغواء برائے بیان ابھی اصطلاح ہے،جسٹس اطہر من اللّٰہ نے استفسار کیا کہ کیا تفتیشی افسر نے اعظم خان کی گمشدگی پر تحقیقات کیں؟ وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ اعظم خان کا بیان دباؤ کا نتیجہ ہے، تفتیشی افسر نے کوئی تحقیقات نہیں کیں، اعظم خان نے واپس آتے ہی سابق وزیرِ اعظم کے خلاف بیان دے دیا،جسٹس اطہر من اللّٰہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حساس معاملہ ہے اور ہم کوئی آبزرویشنز دینا نہیں چاہتے،قائم مقام چیف جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بہتر ہو گا کہ سیاسی دلائل نہ دیں، آپ کو معلوم ہی ہے کہ سیاسی دلائل پر کیسے فیصلے آیا کرتے ہیں

    ایک ماہ اعظم خان خاموش کیوں رہا؟ کیا اعظم خان شمالی علاقہ جات گئے تھے؟ قائمقام چیف جسٹس
    جسٹس سردار طارق مسعود نے استفسار کیا کہ اگر سائفر گم گیا تھا تو سلامتی کونسل کے دو اجلاسوں میں شہباز شریف نے کیوں نہیں بتایا؟ جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا تفتیشی افسر نے حساس دستاویزات پر مبنی ہدایت نامہ پڑھا ہے؟ تفتیشی رپورٹ میں کیا لکھا ہے کہ سائفر کب تک واپس کرنا لازمی ہے؟ نہ پراسیکیوٹر کو سمجھ آ رہی ہے نہ تفتیشی افسر کو تو انکوائری میں کیا سامنے آیا ہے؟ جسٹس سردار طارق مسعود نے استفسار کیا کہ کیا گواہان کے بیانات حلف پر ہیں؟ تفتیشی افسر نے کہا کہ گواہی حلف پر ہوتی ہے،جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق گواہ اعظم خان کا بیان حلف پر نہیں ہے،کیا اعظم خان کی گمشدگی کی تحقیقات کی ہیں؟ تفتیشی افسر نے کہا کہ اعظم خان نے واپس آنے کے ایک ماہ بعد بیان دیا، قائمقام چیف جسٹس نے کہا کہ ایک ماہ اعظم خان خاموش کیوں رہا؟ کیا اعظم خان شمالی علاقہ جات گئے تھے؟ رضوان عباسی نے کہا کہ اعظم خان کے مطابق پی ٹی آئی کا ان پر دبائو تھا، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ عباسی صاحب ایسی بات نہ کریں جو ریکارڈ پر نہ ہو،قائمقام چیف جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ شہباز شریف نے کس دستاویز پر قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس کیا تھا؟ رضوان عباسی نے کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں سائفر پیش ہوا تھا، قائمقام چیف جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ کیا اصل سائفر پیش ہوا تھا؟ یہ کیسے ممکن ہے؟ رضوا ن عباسی نے کہا کہ ڈی کوڈ کرنے کے بعد والی کاپی سلامتی کمیٹی میں پیش ہوئی تھی،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سائفر کیس میں سزائے موت کی دفعات بظاہر مفروضے پر ہیں، آفیشل سیکریٹ ایکٹ کا بنیادی مقصد ملکی سیکیورٹی کا تحفظ ہے، سائفر ڈسکلوز بھی ہوا تو کسی غیرملکی قوت کو کیسے فائدہ پہنچا؟ جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ جو دستاویزات آپ دکھا رہے ہیں اس کے مطابق تو غیرملکی طاقت کا نقصان ہوا ہے، انتخابات 8 فروری کو ہیں اور جو شخص جیل میں ہے وہ ایک بڑی جماعت کی نمائندگی کرتا ہے، کیا حکومت 1970 اور 1977 والے حالات چاہتی ہے؟ نگران حکومت نے آپ کو ضمانت کی مخالفت کرنے کی ہدایت کی ہے؟ ہر دور میں سیاسی رہنمائوں کیساتھ ایسا کیوں ہوتا ہے؟سابق وزیراعظم کے جیل کے باہر آنے سے کیا نقصان ہوگا؟ اس وقت سوال عام انتخابات کا ہے، اس وقت عمران خان نہیں عوام کے حقوق کا معاملہ ہے، عدالت بنیادی حقوق کی محافظ ہے، سابق وزیراعظم پر جرم ثابت نہیں ہوا وہ معصوم ہیں،

    آج سرکار ثابت نہیں کر سکی کہ یہ سزائے موت کا کیس ہے،سائفر کیس سے ہوا نکل گئی،وکیل عمران خان
    سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پی ٹی آئی وکلاء نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگوکی ہے، بیرسٹر سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ میں چار گھنٹے تک سماعت جاری رہی، سپریم کورٹ نے سائفر کیس میں بانی چیئرمین اور شاہ محمود قریشی کی ضمانت منظور کر لی، سائفر کیس میں ایف آئی اے نے بلاجواز گرفتاری کر رکھی ہے، سائفر کیس حقیقی معنوں میں آج صفر ہو چکا ہے، سابق وزیر خارجہ کو بلاوجہ 125 دن تک جیل میں رکھا گیا،شاہ محمود قریشی اس آرڈر کے بعد رہائی کے حقدار ہیں،آج سرکار ثابت نہیں کر سکی کہ یہ سزائے موت کا کیس ہے،سائفر کیس سے ہوا نکل گئی،

    شاہ محمود قریشی کی بیٹی مہر بانو قریشی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک انتقام پر مبنی کیس تھا، سپریم کورٹ نے آج شاہ محمود قریشی کو ضمانت دی ہے، آج ہمیں خوشی ہوئی کہ بانی چیئرمین پی ٹی آئی اور میرے والد کو ضمانت ملی، قید تنہائی میں میرے والد نے چار ماہ گزارے ہیں،

    عمران خان کم سے کم ایک سال جیل میں رہیں گے،سائفر کیس کے فیصلے کے بعد صحافی کا دعویٰ
    سپریم کورٹ سے سائفر کیس میں عمران خان کی ضمانت منظوری کے بعد صحافی حسن ایوب نے سماجی رابطےکی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کم سے کم ایک سال جیل میں ہی رہینگے جبکہ دوسری جانب راوی بھی چین ہی چین لکھتا رہے گا ۔

    سائفر کیس کی سماعت کل تک کیلئے ملتوی 

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کا جیل ٹرائل کالعدم قرار

    سائفر کیس،لگی دفعات میں سزا،عمر قید،سزائے موت ہے،ضمانت کیس کا فیصلہ

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر معاملہ؛ اعظم خان کے بعد فارن سیکرٹری بھی عمران خان کیخلاف گواہ بن گئے

    سائفر کیس، عمران خان کو بیٹوں سے بات کروانے کی اجازت

  • سائفر کیس، ان کیمرہ ٹرائل فوری روکنے کی استدعا مسترد،کل اٹارنی جنرل طلب

    سائفر کیس، ان کیمرہ ٹرائل فوری روکنے کی استدعا مسترد،کل اٹارنی جنرل طلب

    اسلام آباد ہائیکورٹ: بانی پی ٹی آئی کی سائفر کیس میں ان کیمرہ ٹرائل کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے درخواست پر سماعت کی،بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجہ روسٹرم پر آگئے، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ راجہ صاحب آپ کا کیس ایک گھنٹے بعد سنیں گے ،ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو بھی بلا لیتے ہیں پھر تفصیل سے دیکھ لیتے ہیں ، سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ٹرائل کورٹ کا چودہ دسمبر کا فیصلہ ہائیکورٹ کے فیصلے کی صریح خلاف ورزی ہے،کیس کی سماعت میں وقفہ کردیا گیا،

    وقفے کے بعد کیس کی سماعت ہوئی، سلمان اکرم راجہ نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے سائفر کیس کی تمام کارروائی ان کیمرہ کرا دی ہے ،عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ اٹارنی جنرل صاحب ملک میں ہیں ؟ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ جی وہ ملک میں موجود ہیں،سلمان اکرم راجہ نے عدالت میں کہا کہ ایف آئی آر پڑھ دیتا ہوں کہ اصل میں الزام کیا ہے ،پراسیکیوشن کی درخواست پر عدالت نے ٹرائل ان کیمرہ کرنے کا فیصلہ سنایا، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا عدالت نے ان کیمرا پروسیڈنگ کی درخواست پر نوٹس جاری کیا تھا ؟ملزمان پر فرد جرم کب عائد ہوئی ؟عدالت نے پوچھا کہ اس کیس میں مسئلہ ہو رہاہے ، ٹرائل کوئی کر رہاہے اور اپیلیں کوئی دوسرا وکیل ، سلمان اکرم راجہ نے عدالت کہا کہ مسٹر پنجوتھا یہاں ہیں ، یہ ٹرائل کر رہے ہیں، مسٹر پنجوتھا نے بتایا 14 دسمبر کو فرد جرم عائد ہوئی ،13 دسمبر کو ان کیمرا کارروائی کی درخواست پر 14 دسمبر کیلئے نوٹس ہوا تھا ،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہاکہ ان کیمرا کارروائی کی درخواست پر ٹرائل کورٹ نے نوٹس جاری کیا تھا ، سلمان اکرم راجہ نے عدالت میں کہا ملزمان کے اہل خانہ کو ٹرائل میں بیٹھنے کی مشروط اجازت دی گئی ہے اہل خانہ کو پابند بنایا گیا ہے کہ عدالتی کارروائی سے متعلق بات نہیں کر سکتے ،عدالت نے استفسار کیا کہ اگر فرد جرم عائد ہو گئی ہے تو یہ بھی نہیں بتا سکتے کہ فرد جرم عائد ہو گئی ہے ؟وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ بالکل انہیں پابند کیا ہے کہ وہ عدالتی کارروائی نہیں بتا سکتے ، میڈیا ، سوشل میڈیاپر سائفر کیس کی کارروائی پبلش کرنے کی پابندی لگائی گئی ہے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے سائفر کیس میں ان کیمرہ ٹرائل کے خلاف درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایف آئی اے کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت کل تک ملتوی کر دی ، عدالت نےٹرائل روکنے کی درخواست فوری منظور نہیں کی،جسٹس گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ معاملے پر اٹارنی جنرل کو سننا چاہتے ہیں

    واضح رہے کہ عمران خان نے سائفر کیس کی ان کیمرا سماعت کا ٹرائل کورٹ کا حکم چیلنج کردیا۔عمران خان کی طرف سے بیرسٹر سلمان اکرم راجہ نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی جس میں کہا گیا ہے کہ سائفر عدالت کا 14 دسمبرکا حکم نامہ اسلام آبادہائیکورٹ کے 21 نومبر کے فیصلےکی خلاف ورزی ہے، عدالت نے اپنے حکم میں سائفرکیس کی رپورٹنگ پربھی پابندی عائد کردی جو خلاف آئین ہے۔

    درخواست میں مزید کہا گیا ہےکہ بانی پی ٹی آئی نے بطور وزیراعظم اپنی آئینی ذمہ داری پوری کی، انصاف کو صرف ہونا نہیں بلکہ ہوتا دکھائی دینا چاہیے اس لیے انصاف کے تقاضے پورےکرنے کے لیے عوام اور میڈیا کی موجودگی میں اوپن ٹرائل ضروری ہے۔

    درخواست میں استدعا کی گئی ہےکہ ٹرائل کورٹ کا 14دسمبر کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے اور اس درخواست کے فیصلے تک ٹرائل کورٹ کو مزید کارروائی سے روکا جائے۔

    سائفر کیس کی سماعت کل تک کیلئے ملتوی 

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کا جیل ٹرائل کالعدم قرار

    سائفر کیس،لگی دفعات میں سزا،عمر قید،سزائے موت ہے،ضمانت کیس کا فیصلہ

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر معاملہ؛ اعظم خان کے بعد فارن سیکرٹری بھی عمران خان کیخلاف گواہ بن گئے

    سائفر کیس، عمران خان کو بیٹوں سے بات کروانے کی اجازت

  • عمران خان سائفر کیس،درخواستگزار کو رجسٹرار کے اعتراضات ختم کرنے کی ہدایت،سماعت ملتوی

    عمران خان سائفر کیس،درخواستگزار کو رجسٹرار کے اعتراضات ختم کرنے کی ہدایت،سماعت ملتوی

    اسلام آباد: سابق چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان پر سائفر کیس میں فرد جرم عائد ہونے اور نقول تقسیم کرنے کے ٹرائل کورٹ کے آرڈر کے خلاف سماعت ملتوی کر دی-

    باغی ٹی وی: اسلام آباد ہائیکورٹ میں سائفر کیس میں فرد جرم عائد ہونے کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سابق چیئرمین پی ٹی آئی پر سائفر کیس میں فرد جرم عائد ہونے اور نقول تقسیم کرنے کے ٹرائل کورٹ کے آرڈر کے خلاف درخواست پر الگ الگ سماعت کی-

    دوران سماعت عمران خان کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ 12 نومبر کے خصوصی عدالت کے آرڈر کو چیلنج کیا ہے عدالت نے درخواست گزار کو رجسٹرار کے اعتراضات ختم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

    نواز شریف، آصف زرداری کیخلاف توشہ خانہ کیس، نیب سے رپورٹ طلب

    دوسری جانب عمران خان کی نقول تقسیم کرنے کے ٹرائل کورٹ کے آرڈر کے خلاف درخواست پر سماعت کے دوران وکیل نے کہا کہ خصوصی عدالت نے بغیر نوٹیفکیشن کے کارروائی شروع کردی۔

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے نوٹیفکیشن وکیل صفائی کو دینے کی ہدایت کرتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ سب سے پہلے 352 کا آرڈر ہوتا ہے، جب تک وفاقی حکومت پراسس مکمل نہ کرلے کارروائی نہیں ہو سکتی ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے نوٹیفکیشن کی کاپی سابق وزیراعظم عمران خان کے وکیل کو فراہم کی، بعدازاں عدالت نے کیس کی سماعت 28 دسمبرتک ملتوی کردی۔

    عام انتخابات: کاغذات نامزدگی کی وصولی کا آغاز کر دیا گیا

  • عمران خان توشہ خانہ،سائفر کیس کی سماعت آج اڈیالہ جیل میں ہو گی

    عمران خان توشہ خانہ،سائفر کیس کی سماعت آج اڈیالہ جیل میں ہو گی

    راولپنڈی: پی ٹی آئی کے سابق چئیرمین عمران خان کی سائفر کیس، توشہ خانہ اور 190 ملین پاؤنڈ کے مقدمے میں ضمانت بعد از گرفتاری کی سماعت آج اڈیالہ جیل میں ہوگی-

    باغی ٹی وی : سابق وزیر اعظم عمران خان اور بشری بی بی کے خلاف توشہ خانہ اور 190 ملین پاؤنڈ کے مقدمے میں ضمانت بعد از گرفتاری کی سماعت آج اڈیالہ جیل میں ہوگی بشری بی بی بھی اسی مقدمے میں ضمانت قبل از گرفتاری پر ہین جبکہ عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے خلاف سائفر مقدمے کی سماعت بھی آج اڈیالہ جیل میں ہو گی خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے ایف آئی اے کے درخواست پر سائفر مقدمے میں ہونے والی کارروائی کو ان کیمرہ ڈکلیر کیا ہوا ہے پراسیکوشن کیجانب سے آج مزید تین گواہوں کو پیش کیا جائے گا جن میں سےدو کا تعلق وزارت خارجہ سے ہے –

    سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نااہل قرار

    دوسری جانب عمران خان نےسائفر مقدمے کی عدالتی کارروائی کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے، اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب اج سابق وزیر اعظم کی درخواست پر سماعت کریں گےعدالت نے اس ضمن میں ایف آئی اے اور اس مقدمے کے مدعی اور سابق سیکرٹریداخلہ کو نوٹس جاری کر رکھا ہے۔

    بجلی مزید مہنگی کرنے کی تیاری

    دوسری جانب قومی احتساب بیورو نے سابق وزیر اعظم عمران خان اوران کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ تحائف کا ریفرنس دائر کردیا ہے، نیب راولپنڈی کی جانب سے دائر ریفرنس کی احتساب عدالت کے رجسٹرار آفس نے جانچ پڑتال شروع کردی ہے-

    ریفرنس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ وزارت عظمیٰ کے دوران عمران خان اور بشری بی بی کو مختلف سربراہان مملکت کی جانب سے 108 تحائف ملے ، 108 تحائف میں سے 58 تحائف ملزمان نے رکھ لیےجن کی مالیت 14 کروڑ روپے تھی گزشتہ سال یکم اگست کو چیئرمین نیب نےتوشہ خانہ ریفرنس پر تحقیقات شروع کرنے کے احکامات دیئے اور پھر ڈی جی نیب نے گزشتہ سال 5 اگست کو شروع کیں۔

    مغربی ہواؤں کا سلسلہ جمعہ کو ملک کے بالائی علاقوں میں داخل ہو گا،محکمہ موسمیات

    ریفرنس میں لکھا گیا ہے کہ رواں سال 14 جولائی کو توشہ خانہ کی تحقیقات تفتیش میں تبدیل ہوئیں، نیب کے مطابق عمران خان نے سعودی ولی عہد سے موصول ہونے والا جیولری سیٹ 90 لاکھ روپے کے عوض رکھا گیا،بشریٰ بی بی اور بانی پی ٹی آئی نے اتھارٹی کا استعمال کرتے ہوئے جیولری سیٹ کی من پسند قیمت لگوائی بعد ازاں جیولری سیٹ کی اصل قیمت لگانے کے لیے دبئی کے ماہر سے بھی رابطہ کیا گیا۔

  • سائفر کیس، الیکٹرانک، پرنٹ، سوشل میڈیا پر خبر دینے پر پابندی

    سائفر کیس، الیکٹرانک، پرنٹ، سوشل میڈیا پر خبر دینے پر پابندی

    اسلام آباد: ‏عمران خان کے خلاف جاری سائفر کیس کی کارروائی پر الیکرانک اور سوشل میڈیا پر پابندی عائد کردی گئی-

    باغی ٹی وی :آفیشل سیکریٹ ایکٹ خصوصی عدالت نے بڑا حکم جاری کر دیا ، عدالتی کارروائی نشر کرنے پر آفیشل سیکرٹ کا قانون لاگو ہوگا، پیمرا اور پی ٹی اے کو ہدایات جاری کردی گئیں، عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی فیملی کو کاروائی دیکھنے کی مشروط اجازت ہو گی کہ وہ عدالتی کاروائی کی کسی جگہ بیان نہیں کریں گے-

    فیصلے میں کہا گیا کہ پرنٹ الیکٹرونک اور سوشل میڈیا پر کوئی کارروائی نشر نہیں ہو گی ، پیمرا اور پی ٹی اے کو اس حوالے سے ہدایات پر پابندی کی ہدایت کی جاتی ہے ، اگر کوئی بھی خلاف ورزی ہوئی تو اس پر آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت کارروائی ہو گی ، پیمرا اور پی ٹی اے کو عدالتی حکم کی کاپی فراہم کی جائے تاکہ آئندہ خلاف ورزی نہ ہو –

    چیئرمین پی ٹی آئی کے انتخابات ملتوی کرانے کے الزامات الیکشن کمیشن نے مسترد کر …

    فیصلے میں مزید کہا گیا کہ سائفر کیس کا ٹرائل ان کیمرہ کرنے کی پراسیکیوشن کی درخواست منظور کی جاتی ہے ، سابق چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی فیملی مشروط موجود ہو گی ، شرط ہو گی کہ عدالتی کاروائی کو فیملی ممبران کسی جگہ بیان نہیں کریں گے ،ٹرائل کی کاروائی کے دوران پبلک موجود نہیں ہو گی-

    سپریم کورٹ نہیں جا رہے، الیکشن کمیشن کی تردید

  • سائفر کیس سماعت ان کیمرہ ہو گی،عدالت نے فیصلہ سنا دیا

    سائفر کیس سماعت ان کیمرہ ہو گی،عدالت نے فیصلہ سنا دیا

    آفیشل سیکرٹ ایکٹ خصوصی عدالت نے سائفر کیس میں استغاثہ کی درخواست منظور کرتے ہوئے ان کیمرہ ٹرائل کا حکم دے دیا ہے۔

    سائفر کیس سماعت ان کیمرہ ہو گی،جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے محفوظ فیصلہ سنا دیا۔عدالت نے فیصلے میں کہا کہ فیملی ممبران کو دوران سماعت کمرہ عدالت میں رسائی دی جائے گی،عدالت نے سائفر کیس کی سماعت کل تک کیلئے ملتوی کردی۔

    ایف آئی اے کے اسپیشل پراسیکیوٹر نے سیکرٹ ایکٹ کی سیکشن 14 اے کے تحت ٹرائل خفیہ رکھنے کی استدعا کی تھی۔ رضوان عباسی نے عدالت میں استدعا کی تھی کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے سیکشن 14 اے کے تحت ٹرائل کو خفیہ رکھا جائے، آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت مقدمہ بنایا گیا اس کی سماعت ان کیمرہ ضروری ہے، موجودہ کیس کے حالات اور واقعات بھی تقاضا کرتے ہیں کہ جیل ٹرائل ان کیمرا ہو،جب سائفر ہی سیکرٹ تھا تو پھر سماعت بھی ان کیمرا ہونی چاہیے، چارج فریم ہو چکا ہے اور اب شہادتیں ہونا باقی ہیں، چاہتے ہیں کہ شہادتیں ریکارڈ کرتے وقت سیکریسی کو ملحوظ خاطر رکھا جائے۔

    عمران خان کے وکیل نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے پہلے ہی ان کیمرہ سماعت اور جیل ٹرائل نوٹیفکیشن کو چیلنج کیا ہوا ہے، اسلام آباد ہائی کورٹ نے نوٹیفکیشن کو معطل کر کے اوپن ٹرائل کا حکم دیا تھا، ہمیں علم ہی نہیں تھا کہ فرد جرم عائد کر دی گئی، میڈیا سے علم ہوا،جج ابوالحسنات نے عمران خان کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ سماعت کے دوران کہاں تھے کہ آپکو پتہ نہیں چل سکا، سب کے سامنے چارج فریم ہوا تھا،

    شاہ محمود قریشی کے وکیل نے عدالت میں کہا کہ عدالت سائفر کیس ٹرائل میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات کو نظر انداز نہیں کر سکتی،

    سائفر کیس کی سماعت کل تک کیلئے ملتوی 

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کا جیل ٹرائل کالعدم قرار

    سائفر کیس،لگی دفعات میں سزا،عمر قید،سزائے موت ہے،ضمانت کیس کا فیصلہ

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر معاملہ؛ اعظم خان کے بعد فارن سیکرٹری بھی عمران خان کیخلاف گواہ بن گئے

    سائفر کیس، عمران خان کو بیٹوں سے بات کروانے کی اجازت

  • اسلام آباد ہائیکورٹ،سائفر کیس کا ٹرائل روکنے کی استدعا مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ،سائفر کیس کا ٹرائل روکنے کی استدعا مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں سائفر کیس پر جیل ٹرائل کے لئے قانونی پراسس پورا نہ ہونے کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے درخواست پر سماعت کی،وکیل سکندر ذوالقرنین سلیم نے عدالت میں کہا کہ چار دسمبر کے ٹرائل کورٹ کے آرڈر کو چیلنج کیا گیا ہے۔ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی یہ آرڈر میں کیا کہہ رہے ہیں؟ وفاقی حکومت کا جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن کدھر ہے؟عمران خان کے وکیل نے کہا کہ مجھے نہیں پتہ۔ عدالت نے استفسار کیا کہ آپ کو کیوں نہیں پتہ جیل ٹرائل ہو رہا ہے؟وکیل نے کہا کہ سابق چیئرمین پی ٹی آئی نے جیل ٹرائل کے پراسس نہ ہونے کو چیلنج کر رکھا ہے، یہ حکومت کا کام ہے، جج کا نہیں کہ وہ کورٹ کے لیے جگہ کا انتخاب کرے،جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ جج کا ہی اختیار ہے، جج ٹرائل کے لیے جیل کا انتخاب کر سکتا ہے مگر وہ اوپن کورٹ ہونی چاہیے

    وکیل نے کہا کہ جج کے پاس جیل ٹرائل کی منظوری کا نوٹیفکیشن ہی نہیں تھا جب چار دسمبر کو آرڈر پاس کیا، جج نے آرڈر میں لکھا کہ نوٹیفکیشن جمع کرا دیا جائے،عدالت نے کیس کی سماعت کے بعد ایف آئی اے کو 20 دسمبر کے لئے نوٹس جاری کر دیا، سابق چیئرمین پی ٹی آئی کی حکم امتناع کی درخواست پر بھی نوٹس جاری کردیا گیا،عمران خان کے وکیل نے استدعاکی کہ عدالت آئندہ سماعت تک ٹرائل روک دے جس پر عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ رپورٹ آ جائے پھر دیکھتے ہیں،عمران خان کے وکیل کی سائفر ٹرائل فوری روکنے کی استدعا مسترد کردی گئی

    دوسری جانب ایف آئی اے پراسیکیوٹر رضوان عباسی اڈیالہ جیل پہنچ گئے ہیں، انکا کہنا ہے کہ عمران خان اور شاہ محمود قریشی پر فرد جرم عائد ہوچکی ہے تاہم کسی بھی دستاویز پر ملزمان کے دستخط ضروری نہیں ہیں،فریم چارج کرنے کا ایک طریقہ ہے فرد جرم عدالت میں پڑھ کر سنائی گئی ہے، عدالت نے ملزمان سے پوچھا کہ یہ الزامات ہیں آپ پر، ملزمان نے فرد جرم میں لگے الزامات کی صحت جرم سے انکار کیا ہے۔ فرد جرم عائد ہونے کی کارروائی گزشتہ روز مکمل کرلی گئی ہے۔ ہم نے گزشتہ روز آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی سیکشن 14 کے تحت ان کیمرا ٹرائل کی درخواست دی ہے، آج پراسیکیوشن کی جانب سے چار گواہان کو پیش کیا جائے گا

    واضح رہے کہ سائفر کیس کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہوئی، خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کیس کی سماعت کی، عمران خان اور شاہ محمود قریشی پر سائفر کیس میں فرد جرم عائد کر دی گئی،دونوں ملزمان نے صحت جرم سے انکار کیا۔ عدالت نے ایف آئی اے سے شہادتیں طلب کر لیں۔

    سائفر کیس کی سماعت کل تک کیلئے ملتوی 

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کا جیل ٹرائل کالعدم قرار

    سائفر کیس،لگی دفعات میں سزا،عمر قید،سزائے موت ہے،ضمانت کیس کا فیصلہ

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر معاملہ؛ اعظم خان کے بعد فارن سیکرٹری بھی عمران خان کیخلاف گواہ بن گئے

    سائفر کیس، عمران خان کو بیٹوں سے بات کروانے کی اجازت

  • سائفر کیس، فرد جرم عائد نہیں ہوئی،عمران خان کے وکلا کا انکار

    سائفر کیس، فرد جرم عائد نہیں ہوئی،عمران خان کے وکلا کا انکار

    اڈیالہ جیل: بانی چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کے وکلاء نے فرد جرم عائد ہونے کی خبر کو غلط قرار دے دیا

    بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ ہمارے سامنے کوئی فرد جرم عائد نہیں ہوئی ملزمان نے دستخط بھی نہیں کئے، پراسیکیوٹر نے غلط بتایا کہ فرد جرم عائد ہوئی کل اس پر احتجاج کرینگے، ہماری آج صرف درخواستوں پر بحث ہوئی، شاہ محمود قریشی کی وکیل بیرسٹر تیمور ملک نے بھی فرد جرم عائد ہونے کی خبر کو غلط قرار دیا۔

    چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج بانی چیئرمین سے تفصیلی ملاقات ہوئی مکمل گائیڈ لائن لی ہے، پی ٹی آئی کے خلاف سازش کامیاب نہیں ہوگی، الیکشن کمیشن فوری ہمارا انتخابی نشان الاٹ کرے، سات دن میں الاٹمنٹ لازم تھا آج دس دن ہوگئے،حالیہ دہشت گردی پر بانی چیئرمین نے افسوس کا اظہار کیا، شفاف انتخابات کے تقاضے پورے کئے جائیں،پی ٹی آئی کو ائیسولیٹ کرنے کی سازش کی جارہی ہے، شفاف انتخابات الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، قیمتی انتخابی اوقات میں پورا الیکشن کمیشن سب کچھ چھوڑ کر جیل پہنچ گیا،ہمیں انتخابی مہم کے لیے لیونگ پلیئنگ فیلڈ دی جائے،الیکشن کمیشن سے انتخابی کنونشن کی اجازت مانگی ہے، الیکشن کمیشن فوری انتخابی شیڈول کا اعلان کرے، بلے کا نشان ہم سے واپس لینے کا ہمیں سب سے بڑا خدشہ ہے، انتخابی ٹکٹوں پر ٹکٹ جاری کرنا آخری مرحلہ میں ہے، پی ڈی ایم کی کسی جماعت سے انتخابی اتحاد نہیں ہوگا،الیکشن کمیشن کسی بھی سیاسی جماعت کا انتخابی نشان ختم نہیں کر سکتا،چیئرمین پی ٹی آئی نے بھی سائفر کیس میں فرد جرم کی نفی کر دی اور کہا کہ ہماری درخواستوں پر بحث ہوئی اس کا فیصلہ آئے گا تو فرد جرم کی طرف عدالت بڑھے گی،

    عمران خان کے وکیل سردار لطیف کھوسہ نے میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ اوپن ٹرائل کے نام پر صرف من پسند افراد کو اندر جانے کی اجازت دی گئی، فیملی کے لوگوں کو بھی سماعت کے دوران آواز نہیں آتی، مخصوص لسٹ سے اسکرینگ کی جاتی ہے اور صرف انہی لوگوں کو اندر بلایا جاتا ہے، نیشنل اور انٹرنیشنل میڈیا کے لوگوں کو اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی، فرد جرم عائد ہونے سے قبل کسی کو بھی مجرم نہیں کیا جاتا،سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ پہلے طے کیا جائے کہ وہ مجرم ہے بھی یا نہیں، انٹرنیشنل میڈیا کے 4 لوگوں کے نام دیئے لیکن کسی کو بھی اندر نہیں جانے دیا گیا، اوپن ٹرائل کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کی کلئیرنس کروانا لازمی ہے،

    واضح رہے کہ سائفر کیس کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہوئی، خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کیس کی سماعت کی، عمران خان اور شاہ محمود قریشی پر سائفر کیس میں فرد جرم عائد کر دی گئی،دونوں ملزمان نے صحت جرم سے انکار کیا۔ عدالت نے ایف آئی اے سے شہادتیں طلب کر لیں۔

    سائفر کیس کی سماعت کل تک کیلئے ملتوی 

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کا جیل ٹرائل کالعدم قرار

    سائفر کیس،لگی دفعات میں سزا،عمر قید،سزائے موت ہے،ضمانت کیس کا فیصلہ

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر معاملہ؛ اعظم خان کے بعد فارن سیکرٹری بھی عمران خان کیخلاف گواہ بن گئے

    سائفر کیس، عمران خان کو بیٹوں سے بات کروانے کی اجازت

  • سائفر کیس، عمران خان اور شاہ محمود قریشی پر فرد جرم عائد

    سائفر کیس، عمران خان اور شاہ محمود قریشی پر فرد جرم عائد

    سائفر کیس،سابق چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی پر فرد جرم عائد

    سائفر کیس کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہوئی، خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کیس کی سماعت کی، عمران خان اور شاہ محمود قریشی پر سائفر کیس میں فرد جرم عائد کر دی گئی،دونوں ملزمان نے صحت جرم سے انکار کیا۔ عدالت نے ایف آئی اے سے شہادتیں طلب کر لیں۔ عدالت نے استغاثہ کو آئندہ سماعت پر 3 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرانے کی ہدایت کر دی، عدالت نے 14 دسمبر کو گواہان آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت میں طلب کر لئے،ملزمان نےعدالتی کارروائی پر احتجاج اور فرد جرم کی کارروائی کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کر لیا،ایف آئی کے اسپیشل پراسیکیوٹرز شاہ خاور اور ذوالفقار عباسی نقوی عدالت میں پیش ہوئے،چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل عثمان گل اور شاہ محمود قریشی کے وکیل بیرسٹر تیمور ملک عدالت میں پیش ہوئے،

    باجوہ اور ڈونلڈ لو کو بچانے کے لیے تمام ڈرامہ ہورہا ،سزائے موت سے نہیں ڈرتا،عمران خان
    سائفر کیس میں فرد جرم عائد کرتے ہوئے عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ خفیہ سائفر کو جلسہ میں لہرایا گیا اور اس کے مندرجات کو زیربحث لایا گیا، ایسا کرنا آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت جرم ہے، بطور وزیراعظم عمران خان کو سائفر رکھنے کا کوئی اختیار نہ تھا، سائفر کو جان بوجھ کر اپنے مفاد کے لیے استعمال کیا گیا، اس عمل سے ملک کے تشخص اور قومی سلامتی کو نقصان پہنچا،دوران سماعت سابق وزیراعظم عمران خان نے عدالت میں کہا کہ جج صاحب اس میں ایک اور فقرہ شامل کردیں۔ بڑا ظلم کیا جو جنرل باجوہ اور ڈونلڈلو کو ایکسپوز کیا، باجوہ اور ڈونلڈ لو کو بچانے کے لیے تمام ڈرامہ ہورہا ہے، سزائے موت سے ڈر نہیں لگتا۔ سائفر حکومت گرانے کے لیے لکھا گیا جو گرا دی گئی، سائفر کے اندر سازش ہے جو چھپائی جارہی ہے، میڈیا کو بولنے کی اجازت نہیں تو فئیر ٹرائل کیسے ہوسکتا ہے، فئیر ٹرائل نہ ہوا تو اس کی ذمہ داری تمام عمر آپ پر رہے گی، قانون کے تحت دستاویزات اور ویڈیو دیکھنے کے لیے سات دن کا وقت دیا جائے۔

    ملزمان پر فرد جرم تین مختلف الزامات کے تحت سنائی گئی،چارج شیٹ کے مطابق عمران خان نےبطور وزیراعظم اور شاہ محمود قریشی نے بطور وزیر خارجہ سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کی۔ ملزمان نے 27 مارچ 2022 کو سیکرٹ ڈاکومنٹ کو عوامی ریلی میں لہرایا۔ ملزمان نے جان بوجھ کر ذاتی مفادات کے لیے سائفر کو استعمال کیا،ملزمان کے غیر قانونی اقدام سے ملکی تشخص، سیکیورٹی اور خارجہ معاملات کو نقصان پہنچا، بطور وزیر اعظم سائفر آپکے قبضہ اور کنٹرول میں تھا،جو وزارت خارجہ کو واپس نہیں کیا گیا۔

    فرد جرم سنتے ہی شاہ محمود قریشی نے صحت جرم سے انکار کردیا، عمران خان نے جج سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ میں نے ملکی اور غیر ملکی اسٹیبلشمینٹ کو بے نقاب کرکے ظلم کیا میرے جرم میں یہ بھی شامل کریں، ہماری حکومت کو گرا کر ہمیں ہی ملزم بنادیا گیا، یہ کیسے ہوسکتا ہے جس کی حکومت گری ہو وہی ملزم ہو، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ
    آپ ایسا نہ کریں، غلط بات نہ کریں، یہ عدالت ہے، آپ کا لہجہ مناسب نہیں، آپ پہلے عدالت کی بات سن لیں،
    عمران خان کے بار بار بولنے پر عدالت نے انہیں خاموش کرادیا

    شاہ محمود قریشی نے عدالت کے روبرو بیان میں کہا کہ سینکڑوں سائفر دیکھے لیکن یہ ان میں سے منفرد تھا، وزیر خارجہ کو دنیا بھر میں چیف ڈپلومیٹ کہا جاتا ہے،ایک مراسلہ آتا ہے جو چیف ڈپلومیٹ کی نظر سے نہیں گزارا جاتا، میری نظر سے سائفر اوجھل رکھنے کی کوئی تو وجہ ہوگی، آٹھ مارچ کو فون پر اسد مجید سے بات ہوئی، اسد مجید کو بلائیے اور پوچھیے، پھر حقائق قوم کے سامنے آئیں گے۔ چیزوں کو خفیہ رکھ کر یک طرفہ ٹرائل نہ چلایا جائے،دو محب وطن شہریوں کو اس مقدمہ میں پھنسایا جارہا ہے میں بے گناہ ہوں، مجھے سزا دینا چاہتے ہیں ہم نے اسی مٹی میں جانا ہے

    سائفر کیس کی سماعت کل تک کیلئے ملتوی 

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کا جیل ٹرائل کالعدم قرار

    سائفر کیس،لگی دفعات میں سزا،عمر قید،سزائے موت ہے،ضمانت کیس کا فیصلہ

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر معاملہ؛ اعظم خان کے بعد فارن سیکرٹری بھی عمران خان کیخلاف گواہ بن گئے

    سائفر کیس، عمران خان کو بیٹوں سے بات کروانے کی اجازت

  • سائفر کیس ، عمران خان اور شاہ محمود قریشی پر فردِ جرم عائد نہ ہو سکی

    سائفر کیس ، عمران خان اور شاہ محمود قریشی پر فردِ جرم عائد نہ ہو سکی

    آفیشل سیکرٹ ایکٹ سے متعلق سائفر کیس کی سماعت کا معاملہ،شاہ محمود قریشی کی بیٹی مہر بانو قریشی بیٹا زین قریشی اور وکلاء بھی اڈیالہ جیل پہنچ گئے

    بانی چیئرمین پی ٹی آئی کی بہنیں علیمہ خان، نورین خانم اور عظمی خانم بھی جیل پہنچ گئی،ایف آئی اے کے اسپیشل پراسیکیوٹر ذوالفقار عباس نقوی بھی اڈیالہ جیل پہنچ گئے،آفیشل سیکرٹ ایکٹ سے متعلق سائفر کیس کی سماعت شروع ہو گئی،کیس کی سماعت خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین کر رہے ہیں ،سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی پر فردِ جرم عائد نہ ہو سکی، سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی،،وکلاء صفائی کی جانب سے 6 دائر درخواستیں نپٹا دی گئیں،کمرہ عدالت میں شیشہ لگا دیا گیا ہے، میڈیا کی شاہ محمود قریشی ، بانی پی ٹی آئی تک رسائی ممکن نہیں،جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ میڈیا کے معاملے پر سپرٹنڈنٹ جیل سے بات کروں گا،

    شاہ محمود قریشی نے عدالت کو بتایا کہ میڈیا کی رسائی جیک ٹرائل تک نہیں اوپن ٹرائل کے مقاصد پورے نہیں ہورہے۔عمران خان نے جج سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اوپن ٹرائل اسطرح نہیں ہوتا،جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ آپ کو اندازہ نہیں میں کس طرح مینیج کررہا ہوں ابھی بھی ایک گھنٹہ سپرینڈنٹ کے پاس بیٹھ کر آیا ہوں،آپ کو اندازہ نہیں آپکو کتنا ریلیف دیا ہے آئندہ بھی دینگے، جو بھی ہوگا انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہوگا آپ ڈریں مت،

    کمرہ عدالت میں ملزمان کے اہل خانہ کو آگے آنے کی اجازت دی گئی۔بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ ہمیشہ درخواست کی ہے کہ سائفر کیس کی کاروائی عجلت میں آگے بڑھائی جارہی ہے،ہم نے دو فیصلوں کو چیلینج کر دیا ہے، جج نے سوال کیا کہ آج تک جتنی سماعتیں ہوئی کیا جلدی ہوئی، میں وقت سے پہلے بات نہیں کرتا جو کرونگا میرٹ اور حق پر کرونگا،مجھے نہیں پتہ کل کیا فیصلہ ہوگا اگر کسی کا جرم نہیں بنتا اسکو سلاخوں کے پیچھے رکھنے کا فائدہ نہیں، ہمیں بتائیں عدالت مزید کتنا التوا دے، عدالت متوازن اور نیوٹرل ہوکر چل رہی ہے، شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جب اوپن کورٹ کا فیصلہ موجود ہے تو میڈیا کو کیوں روکا جارہا ہے، عدالت نے کہا کہ جیل انتظامیہ سے بات کرونگا میڈیا کے لوگ بھی اونچی آواز میں بات کرتے ہیں، عدالت کا ایک ڈیکورم ہوتا ہے عدالت کا ڈیکورم برقرار رہنا چاہیئے،پچھلی سماعت پر ایک صحافی نے باہر جاکر پتہ نہیں کیا بولا اسکی نوکری چلی گئی، وکیل عثما ن گل نے کہا کہ ہمیں چالان کی مکمل کاپیاں نہیں دی گئی، عدالت نے کہا کہ آپ کو چالان کی دو دو کاپیاں دی گئی ہیں، سات دن کے اندر آپ نے کوئی اعتراض جمع نہیں کرایا،عمران خان نے عدالت سے استدعا کی کہ مجھے دھوپ میں بیٹھنے کی اجازت دی جائے،

    عمران خان کے وکیل سلمان صفدر سماعت کے دوران اُٹھ کر باہر آگئے ،میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ابھی تک کی سماعت کا احوال بتانے اڈیالہ جیل سے باہر آیا ہوں کیونکہ میڈیا کو رسائی نہیں،سائفر کیس میں سماعت ابھی تک اڈیالہ جیل میں چل رہا ہے، مخصوص افراد کو اندر داخل کیا گیا ، میڈیا کے مخصوص افراد کو جج سے 50 فٹ کے فاصلے پر بیٹھایا گیا ہے ، ہم اوپن ٹرائل کو مسترد کرتے ہیں، ہم نے اوپن ٹرائل کے حوالے سے درخواست دے دی ہے ، فیملیز کے لوگوں کو 45 منٹ تک روکا گیا، جج کے پیچھے 15 سے 20 پولیس اہلکار موجود ہیں ،جج صاحب نے نوٹس لیا کہ میں نے ایسا کوئی حکم نہیں دیا تو یہ پولیس اہلکار کیوں کھڑے ہیں ، سائفر ٹرائل پہلے بھی جلد بازی میں کیا گیا جس پر ساری کاروائی کالعدم ہوئی ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے ڈویژنل بینچ کے فیصلے کے بعد اس ٹرائل کا آغاز کیا جانا چاہیئے تھا ،جج صاحب قانون کو فالو نہیں کرنا چاہتے، پہلے کی غلطیاں دوبارہ دوہرائی جارہی ہیں ، یہاں ٹرائل سپیڈ سے چل رہی ہے جبکہ ہائیکورٹ میں سلو چل رہی ہے ، بانی چیئرمین پی ٹی آئی کے حوالے سے دی گئی درخواست کو ابھی تک نہیں سنا گیا ، بانی چیئرمین پی ٹی آئی پر ابھی تک فرد جرم عائد نہیں ہو سکی ، میڈیا کے دوستوں کو اجازت ہونے کے باوجود اوپن ٹرائل میں جانے کی اجازت نہیں دی گئی ،بانی چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی نے کہا کہ گواہان کو میڈیا کی موجودگی میں لایا جائے،

    سائفر کیس کی سماعت کل تک کیلئے ملتوی 

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کا جیل ٹرائل کالعدم قرار

    سائفر کیس،لگی دفعات میں سزا،عمر قید،سزائے موت ہے،ضمانت کیس کا فیصلہ

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر معاملہ؛ اعظم خان کے بعد فارن سیکرٹری بھی عمران خان کیخلاف گواہ بن گئے

    سائفر کیس، عمران خان کو بیٹوں سے بات کروانے کی اجازت