Baaghi TV

Tag: سائفر کیس

  • عمران خان پر اپنوں نے بجلیاں‌گرا دیں،بری طرح بے نقاب

    عمران خان پر اپنوں نے بجلیاں‌گرا دیں،بری طرح بے نقاب

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ عمران خان سے جیل میں سات صحافیوں کی ملاقات ہوئی، جس میں عمران خان نے شادی سے پہلے ہونے والی ملاقاتوں پر بات کی، ان باتوں میں کیا حقیقت ہے. کچھ کا میں خود بھی گواہ ہوں، عمران خان کے اپنے ہی پرانے دوستوں نے اسکو صدی کا سب سے بڑا جھوٹ قرار دیا ہے،قندیل بلوچ کا ذکر کیوں ہو رہا ہے اب؟ عمران خان نے سائفر کیس میں دو افراد کو کٹہرے میں لانے کا ذکر کیا ، نو مئی کے واقعے کا ذمہ دار ایک شخص کو قرار دیا

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ 121 دن بعد عمران خان کی جیل میں صحافیوں سے ملاقات ہوئی، صحافیوں کی آمد سے کم از کم پی ٹی آئی وکلا کے جھوٹ سامنے آ گئے ،ظلم کا جو بیانیہ بنایا جا رہا تھا کہ پنجرے میں بند کر کےلایا جاتا ہے، ٹھنڈے بستر پر سلایا جاتا، پرائیویسی نہیں دی جاتی، پولیس اہلکار سر پر سوار ہوتے ہیں، وکلاء سے بھی بات ٹھیک سے نہیں کرنے دی جاتی، یہ سب باتیں جھوٹ کا پلندہ ثابت ہوئی کیونکہ صحافیون کے مطابق جیل میں کسی قسم کی کوئی پابندی نہیں، کیس کی سماعت کمیونٹی ہال میں ہوئی جس میں سو کے قریب لوگ بیٹھ سکتے ہیں، عمران خان، اسکے وکیل اور اسکا پورا خاندان اس کمرے میں موجود تھے، ڈیڑھ گھنٹہ کمرہ عدالت میں رہے ،سماعت صرف 15 منٹ کی ہوئی، باقی وقت وکلاء اور گھر والوں سے مشاورت کرتے رہے، اس دوران کسی نے روکا نہیں، پھر انہوں نے صحافیوں سے ملاقات کی اور انکے سوالات کے جواب دئے،عدت بارے جو سوال ہوا اس پر عمران خان نے سیدھا جھوٹ بولا کہ قرآن پر حلف اٹھانے کو تیار ہوں کہ نکاح سے پہلے ایک بار بھی بشریٰ کو نہیں دیکھا، عون چودھری کا بیان بھی آ گیا کہ عمران خان کہ یہ صدی کا سب سے بڑا جھوٹ ہے،

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ عمران خان کو کسی چیز کی شرم نہیں، اسکو ملک، قوم، تہذیب، مذہب، معاشرے کا لحاظ نہیں، عمران خان نکاح سے قبل ایک بار نہیں بلکہ کئی بار ملے، سب نے دیکھا تھا، عمران خان بشریٰ سے فون پر بات کرتا تھا، ملاقات بشریٰ بی بی کی بہن نے کروائی تھی جو دبئی میں ہوئی تھی، طلاق، پھر عدت میں نکاح، خاور کی زبانی باتیں آ چکیں، مفتی سعید کی گواہی بھی آ گئی کہ دو بار نکاح کیا، عمران خان دم کروانے جاتا تھا، انگوٹھی بھی اسکو اسی پیرنی نے دی تھی ، قندیل بلوچ کا قتل ہوا، اس نے کہا تھا کہ بشریٰ اور عمران خان مستقبل میں ملنے والے ہیں اور انکی شادی ہو جائے گی.

    ملزم افنان کے والد شفقت کا مکمل انٹرویو سننے کے لئے یہاں کلک کریں

    عمران اور بشریٰ کی آخری ملاقات، تیاریاں ہو گئیں

    بالآخر عمران ریاض بول ہی پڑے، کیا کہا ؟ پی ٹی آئی کا جلسہ، عمران خان کا خطاب تیار

    کاکڑ سے ملاقات، غزہ اور مجبوریاں، انسانیت شرما گئی

    نور مقدم کو بے نور کرنے والا آزادی کی تلاش میں،انصاف کی خریدوفروخت،مبشر لقمان ڈٹ گئے

    میچ فکسنگ، خطرناک مافیا ، مبشر لقمان کی جان کو خطرہ

    اسرائیل پر حملہ کی اصل کہانی مبشر لقمان کی زبانی

    قانونی جنگ جیتنے پر مبشر لقمان کا ایڈوکیٹ رضوان عباسی کے نام خط

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بہت ہی اہم خبر لے کر آیا ہوں، 

    مبش لقمان کا کہنا تھا کہ ضیا الحق کی مدد کرنے والوں میں نواز شریف سب سے آگے تھے

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    وزیراعظم سمیت کروڑوں کا ڈیٹا لیک،سیاست کا 12واں کھلاڑی کون

    بلاول اور آصف زدراری کی شدید لڑائی،نواز کا تیر نشانے پر،الیکشن اکتوبر میں

    پاکستان میں ہزاروں بچوں کو مارنے کی تیاری،چیف جسٹس،خاموش قاتلوں کا حساب لیں،

  • سائفر کیس: عمران خان اور شاہ محمود  پر12 دسمبر کو فرد جرم عائد کی جائے گی

    سائفر کیس: عمران خان اور شاہ محمود پر12 دسمبر کو فرد جرم عائد کی جائے گی

    اسلام آباد: راولپنڈی: سابق وزیراعظم عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی پر سائفر کیس میں 12 دسمبر کو فرد جرم عائد کی جائے گی۔

    باغی ٹی وی: آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت قائم کی گئی خصوصی عدالت کے جج ابو الحسنات ذوالقرنین اڈیالہ جیل میں سماعت کی ، سفارتی سائفر گمشدگی کیس کی سماعت کے دوران آج دونوں ملزمان کو کیس کے چالان کی نقول فراہم کر دی گئی ہیں۔

    سابق چیئرمین پی ٹی آئی، شاہ محمود قریشی سمیت عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور علیمہ خان و دیگر کمرہ عدالت میں موجود ہیں، اس کے علاوہاس موقع پر سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے اور جوڈیشل مسجٹریٹ کے حکم پر آج میڈیا نمائندوں کو بھی کوریج کے لیے جیل کے اندر جانے کی اجازت دی گئی۔

    دوران سماعت عدالت نے قرار دیا کہ سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی پر 12 دسمبر کو فرد جرم عائد کی جائے گی،پاکستان تحریک انصاف کے وکلا کی جانب سے کیس کی نقول فراہم نہ کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔

    گزشتہ سماعت کے عدالتی حکم نامے میں کہا گیا تھا کہ سائفرکیس میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو 4 دسمبر کو نقول تقسیم کی جائیں گی، پبلک اور میڈیا عدالتی کارروائی کے دوران موجود تھا، سی آر پی سی کی سیکشن 352 پر مکمل عمل درآمد کیا گیا، سابق چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کو میڈیا کی موجودگی میں بولنے کی اجازت دی گئی، عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو میڈیا اور پبلک کی موجودگی میں کافی وقت دیا گیا۔

    دوسری جانب سائفر کیس میں صحافیوں کے لئے کیس کی سماعت دوبارہ ہونے کا دعوی کیا گیا تھا جس میں مبینہ طور پر ملزمان چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کو بات کرنے کا بھی کہا گیا۔

  • سائفر کیس: عمران خان  اور شاہ محمود قریشی کو 4 دسمبر  کو نقول تقسیم کرنے کا فیصلہ

    سائفر کیس: عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو 4 دسمبر کو نقول تقسیم کرنے کا فیصلہ

    اسلام آباد: سابق چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور وائس چیئرمین پی ٹی آئی شاہ محمود قریشی کے خلاف سائفر کیس آج ہونے والی سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری کردیا گیا۔

    باغی ٹی وی : تحریری حکمنامہ آفیشل سیکریٹ ایکٹ عدالت کے جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے جاری کیا ،حکمنامے کے مطابق پبلک اور میڈیا عدالتی کارروائی کے دوران موجود تھا ، سی آر پی سی کی سیکشن 352 پر مکمل عمل درآمد کیا گیا ، سابق چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کو میڈیا کی موجودگی میں بولنے کی اجازت دی گئی ، سابق چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو میڈیا اور پبلک کی موجودگی میں کافی وقت دیا گیا ، آج عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی حاضری کے لیے کیس مقرر تھا-

    نگران وزیراعظم کا پی سی بی کی سلیکشن کمیٹی میں متنازعہ تقرری کا نوٹس

    تحریری حکمنامے میں کہاگیا کہ آج آرٹیکل 10 اے کی عمران خان کی درخواست پر دلائل بھی ہونے تھے ، وکیل سکندر ذوالقرنین سلیم کی عدم موجودگی کی وجہ سے آج دلائل نہیں ہو سکے ، عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو 4 دسمبر کو نقول تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    بھارت میں افغان سفارتخانہ دوبارہ کھول دیا گیا

  • سائفر کیس، عدالت کا چار ہفتوں میں ٹرائل مکمل کرنے کا عندیہ

    سائفر کیس، عدالت کا چار ہفتوں میں ٹرائل مکمل کرنے کا عندیہ

    سائفر کیس میں بڑی پیش رفت ،آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت نے ٹرائل چار ہفتوں میں مکمل کرنے کا عندیہ دے دیا

    جج آفیشیل سیکرٹ ایکٹ عدالت ابوالحسنات ذوالقرنین نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کیس کا ٹرائل چار ہفتوں میں مکمل کرنے کا حکم دے چکی ہے،سائفر کیس کی مزید سماعت دو دسمبر کو صبح نو بجے جیل میں ہوگی،چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کیخلاف کیس کی سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری کر دیا گیا، عدالت نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کو عدالت میں پیش نہیں کیا گیا، گزشتہ سماعت پر عدالت نے آئی جی اور احساس اداروں کی رپورٹ کی روشنی میں جیل ٹرائل کا حکم دیا تھا، چیف کمشنر اسلام آباد اور سپرٹینڈنٹ جیل کو قانونی تقاضے پورے کرنے کی ہدایت کی تھی ، وزارت قانون نے 29 نومبر کو جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن جاری کیا، جیل سپرٹنڈنٹ کا 30 نومبر کو خط عدالت کو موصول ہوا، اب 28 نومبر کے حکم کے مطابق سائفر کیس میں جیل ٹرائل ہوگا، چیئرمین پی ٹی آئی کی عدالت پیشی کے لیے ایف آئی اے کو نوٹس جاری کر دیئے گئے

    سائفر کیس کی سماعت کل تک کیلئے ملتوی 

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کا جیل ٹرائل کالعدم قرار

    سائفر کیس،لگی دفعات میں سزا،عمر قید،سزائے موت ہے،ضمانت کیس کا فیصلہ

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر معاملہ؛ اعظم خان کے بعد فارن سیکرٹری بھی عمران خان کیخلاف گواہ بن گئے

    سائفر کیس، عمران خان کو بیٹوں سے بات کروانے کی اجازت

  • سائفر کیس، انصاف نہ صرف ہوگا بلکہ ہوتا نظر بھی آئےگا، جج

    سائفر کیس، انصاف نہ صرف ہوگا بلکہ ہوتا نظر بھی آئےگا، جج

    افیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت،چئیرمین پی ٹی آئی اور وائس چیئرمین پی ٹی آئی شاہ محمود قریشی کے خلاف کیس سائفر کیس کی سماعت ہوئی

    کیس کی سماعت آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کے جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے کی،چیئرمین پی ٹی آئی کی بہنیں کمرہ عدالت میں موجود تھیں،شاہ محمود قریشی کے وکیل علی بخاری عدالت پیش ہوئے،جج نے استفسار کیا کہ کیا اڈیالہ جیل میں ٹرائل کا کوئی نوٹیفکیشن آیا ہے؟ عدالتی عملہ نے کہا کہ ابھی تک جیل میں ٹرائل کا کوئی نوٹیفکیشن نہیں آیا ، جج نے کہا کہ جیل میں ٹرائل کا نوٹیفکیشن آجائے پھر دیکھ لیتے ہیں، وکیل علی بخاری نے کہا کہ شاہ محمود قریشی کی حد تک کوئی رپورٹ نہیں، انہیں تو پیش کریں، بیرسٹر تیمور ملک نے کہا کہ عدالتی حکم پر چیئرمین پی ٹی آئی، شاہ محمود قریشی کو آج عدالت پیش کرنا چاہیے تھا، جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ آپ گزشتہ سماعت کا فیصلہ پڑھیں،

    آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کا سائفرکیس کی گزشتہ سماعت کا آرڈر پڑھا گیا، عدالت نے کہا کہ جیل میں ٹرائل کا نوٹیفکیشن آجائے تو ہم دیکھ لیتے ہیں، جیل میں ٹرائل کا نوٹیفکیشن نہیں آیا تو ہم پروڈکشن آرڈر کروایں گے، وکیل صفائی نے کہا کہ عدالت کا 23 نومبر کو چیئرمین پی ٹی آئی، شاہ محمود قریشی کی پروڈکشن کا آرڈر تھا، پھر خصوصی عدالت نے اپنے ہی آرڈر پر نظر ثانی کردی ، سپرٹینڈنٹ اڈیالہ جیل نے گزشتہ سماعت پر عدالت کو خط بھیجاتھا،آپ کا آرڈر جیل میں ٹرائل کے حوالے سے قانونی طور پر درست نہیں ہے، اڈیالہ جیل ممنوعہ علاقہ ہے جہاں ویڈیو اور فوٹوگرافی ممنوع ہے، یہ طے ہونا چاہیے کہ صحافیوں کو کمرہ عدالت میں داخلے کی اجازت ہوگی، جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے استفسار کیا کہ کیا خطرات کے حوالے سے دیکھنا عدالت کا اختیار ہے ؟ وکیل صفائی نے کہا کہ اگر کوئی ایڈیشنل آئی جی کہہ دے تو ناکافی ہے، منسلک رپورٹس بھی ہونی چاہیے ،جج نے کہا کہ جیل سپرنٹینڈنٹ کے خط کے ساتھ سیکیورٹی رپورٹس بھی منسلک ہیں،وکیل صفائی نے کہا کہ جیل مینوئل میں لکھا ہے اڈیالہ جیل ممنوعہ جگہ ہے، موبائل استعمال نہیں ہوسکتا ،جج نے کہا کہ صحافیوں کی موجودگی جیل میں ٹرائل کے دوران ضروری ہوگی ،وکیل صفائی نے کہا کہ آپ کو جیل کو عدالت ڈیکلیئر کرنے کے ساتھ اس کو غیر ممنوعہ جگہ بھی ڈیکلیئر کرنا پڑے گا ، جج نے کہا کہ بالکل ہوگا اور صحافیوں کی موجودگی بھی جیل میں ٹرائل کے دوران ہوگی ، وکیل علی بخاری نے کہا کہ آپ کا آرڈر مکمل نہیں ہے کیونکہ شاہ محمود قریشی کے حوالے سے کچھ نہیں لکھا، اس آرڈر میں وجوہات کا ذکر موجود نہیں کہ آخر کیوں جیل میں سماعت ہورہی، وزارتِ قانون نے کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا، خصوصی عدالت ہائیکورٹ کے احکامات کی پابند ہے،شاہ محمود قریشی کو عدالت پیش کرنے کی زمہ داری سیکیورٹی کی ہے،فردجرم، نقول کی تقسیم سب کچھ ملزم کی موجودگی میں ہونا چاہیے،سائفرکیس کی آج کی سماعت کا اختتام کیا ہوگا؟ کیا وزارتِ قانون کو ڈائریکشن عدالت دے سکتی؟ نہیں دے سکتی،شاہ محمود قریشی کو عدالت پیش کرنے پر اب بھی سوالیہ نشان ہے،جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ انصاف نہ صرف ہوگا بلکہ ہوتا نظر بھی آئےگا،
    خصوصی عدالت جیل میں ٹرائل کرنے کی پابند تھی لیکن سماعت جیل سے مشروط ہے، میں وزارت قانون کے نوٹیفیکیشن کا انتظار کررہاہوں، اگر نوٹیفیکیشن نہ آیا تو میں ملزمان کو عدالت پیش کرنے کا نوٹس جاری کروں گا، وکیل صفائی نے کہا کہ عدالت ہی ادھر لے جائیں،جج نے کہا کہ عدالت لے چلیں گے جیل میں فکر نہ کریں، ٹرائل پینڈنگ ہے، چیئرمین پی ٹی آئی اصل ملزم ہے، شاہ محمود قریشی شریک ملزم ہیں، عدالتی سماعت کی وجہ سے ہائیکورٹ نے اب تک کی سماعتیں غیرقانونی قرار نہیں دیں، اوپن کورٹ نہ ہونے کی وجہ سے ہائیکورٹ نے اب تک کے ٹرائل کو غیرقانونی قرار دیاتھا، وکیل صفائی نے کہا کہ خصوصی عدالت کے گزشتہ آرڈر کے بعد چیئرمین پی ٹی آئی، شاہ محمود قریشی کو قید رکھنا غیرقانونی ہے، اسپیشل پراسیکیوٹر زولفقار نقوی نے کہا کہ وزارتِ قانون کے نوٹیفیکیشن کا آج انتظار کرلیں،جج نے کہا کہ دھوپ سیکیں، نوٹیفیکیشن کا انتظار کریں،

    آفیشل سیکرٹ ایکٹ خصوصی عدالت ،چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کے خلاف سائفر کیس وقفہ کے بعد دوبارہ شروع ہوئی، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نوٹیفکیشن آگیاہے، اس کیس کو کل کیلئے رکھ لیتے ہیں۔ وکلاء نے کہا کہ کل کیسے مینج ہوگا۔عدالت نے کہا کہ ہائیکورٹ احکامات بھی ہیں، کل حاضری لگا لیں گے۔علی بخاری ایڈووکیٹ کی استدعا پر عدالتی عملہ نے نوٹیفکیشن پڑھا، جج ابوالحسنات نے کہا کہ شاہ محمود قریشی کے حوالے سے بھی نوٹیفکیشن میں تحریر کیاگیاہے، درخواست نمٹادی ہے۔وکیل نے کہا کہ ابھی تو اس پر دلائل بھی نہیں ہوئے۔عدالت نے کہا کہ کل جیل میں دے دینا پھر۔ان کی پروڈکشن کا مسئلہ ہے، کل اگلی تاریخ دے دیں گے۔وکیل نے کہا کہ کچھ وکلاء لاہور سے آئے ہوئے، ہماری بھی دیگر کیسز میں تاریخیں ہوتی ہیں۔پراسیکیوٹر نے کہا کہ آج کی کرلیں حاضری ہی لگانی ہے۔
    اسپیشل پراسیکیوٹر ایف آئی اے نے آج ہی اڈیالہ جیل میں سماعت مقرر کرنے کی استدعا کردی،عدالت میں کہا کہ میں تو آج ہی اڈیالہ جیل میں سماعت مقرر کرنے کے حق میں ہوں،عدالت نے کہا کہ میں نے اطلاع دینی ہے دوسرے اقدامات ہونے ہیں آج ہی کیسے کریں۔نوٹیفکیشن کے بغیر بھی کیسے جاسکتا ہوں۔ وکلاء نے کہا کہ اگلے ہفتے کیلئے رکھ لیں۔وکیل علی بخاری نے کہا کہ کبھی نہیں کہتے تاخیر کریں، لمبی تاریخیں رکھیں۔ ہفتے کو ہائیکورٹ، سپریم کورٹ بند ہوتی ہیں، لیکن ٹرائل کورٹس میں ہمارے کیسز ہوتے ہیں، ہفتہ اور پیر کے روز ہمارے لیے اہم ہوتے ہیں، 5 دسمبر رکھ لیں۔
    پی ٹی آئی وکلاء کی جانب سے 5 دسمبر تک سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کی گئی، جج نے کہا کہ 5 دسمبر کو سماعت رکھ لیں گے لیکن حاضری کے حوالے سے تو سماعت رکھنی ہے نا، پی ٹی آئی وکیل نے کہا کہ آج چیئرمین پی ٹی آئی کی حاضری مقرر تھی، اس بات پر کیا کہیں گے؟ جج نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کو اطلاع کرنی تھی اور وزارت قانون کے نوٹیفکیشن کا انتظار تھا آج، پی ٹی آئی وکیل نے کہا کہ ہم انتظار کرلیتےہیں، آپ آج ملزمان کو جوڈیشل کمپلیکس پیش کروا دیں،اسپیشل پراسیکیوٹر ذوالفقار نقوی نے کہا کہ چاہتےکیا ہیں؟ ڈیڑھ گھنٹے سے یہی باتیں کررہےہیں، وکیل علی بخاری نے کہا کہ کوئی اسٹے نہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ موجود ہے، اسلام ہائیکورٹ اور نہ آپ نے اپنا آرڈر پر عملدرآمد کروایا، انٹراکورٹ اپیل پر حکم کے خلاف سپریم کورٹ جانا پڑتا ہے۔سائفر کیس کی سماعت کل تک کیلئے ملتوی کر دی گئی.

    چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے جیل ٹرائل کے حکم نامے کیخلاف درخواست دائر
    آفیشل سیکرٹ ایکٹ خصوصی عدالت،چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے جیل ٹرائل کے حکم نامے کیخلاف درخواست دائر کر دی گئی،خصوصی عدالت کے جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین کی عدالت میں درخواست دائر کردی گئی،درخواست میں کہا گیا کہ اس عدالت نے 23 نومبر 2023 کو حکم دیا کہ 28 نومبر کو ملزمان کو جوڈیشل کمپلیکس پیش کیا جائے، عدالت نے 28 نومبر کو جیل ٹرائل کا حکم دے دیا، 23 نومبر کے حکم نامے کی موجودگی میں 28 نومبر کا حکم نامہ غیر قانونی ہے، عدالت 23 نومبر 2023 کے حکم نامے پر عملدرآمد کروائے، 21 نومبر کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے جیل ٹرائل کو اوپن کورٹ نہ ہونے کے باعث کالعدم قرار دے دیا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات کی روشنی میں 23 نومبر کو خصوصی عدالت نے ملزمان کے پروڈکشن آرڈر جاری کیے،28 نومبر کو اڈیالہ جیل سپرنٹنڈنٹ نے خط کے ذریعے عدالت کو پروڈکشن آرڈرز پر عملدرآمد سے روکا، خصوصی عدالت نے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کے خط پر انحصار کرتے ہوئے ٹرائل جیل میں کرنے کے احکامات جاری کردیئے، خصوصی عدالت کا 28 نومبر کا جیل ٹرائل کا حکم نامہ 23 نومبر کے پروڈکشن آرڈر کے حکم نامے پر نظر ثانی ہے، اپنے احکامات پر نظر ثانی کرنا اس عدالت کا مینڈیٹ نہیں ہے،خصوصی عدالت نے جیل ٹرائل کا حکم نامہ جاری کرتے ہوئے یہ بھی ملحوظ خاطر نہ رکھا کہ اس سے اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی ہوگی،خصوصی عدالت کا جیل ٹرائل کا حکم نامہ نہ صرف غیر قانونی بلکہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی ہے، جیل ایک ممنوعہ جگہ ہے جہاں فوٹوگرافی، بغیر اجازت داخلہ منع ہے، ایک ہائی سکیورٹی جیل کو اوپن عدالت اور عوام کی رسائی میں قرار دینا سمجھ سے بالا تر ہے،

  • سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نےعدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج سائفر کیس کی سماعت ہونے جا رہی تھی ،سپیشل کورٹ کا عمران خان کی پیشی کا حکم تھا،

    وکیل سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ چئیرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی پروڈکشن آرڈر تھے،آج دونوں کو پیش نہیں کیا گیا، جیل سپرنٹنڈنٹ نے جج صاحب کو آج کمیونیکیشن بھیجی، کہا گیا کہ سیکورٹی ایجنسی کی طرف سے انفارمیشن موصول ہوئی، یہ سماعت شروع دن سے ہی اوپن کورٹ ہونی چاہیے تھی، آج مایوسی ہوئی کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ہاتھ کھڑے کر دئیے، اسلام آباد کی پولیس نے چئیرمین پی ٹی آئی کی پیشی کے حوالے سے اپنی نااہلی پیش کی،اب سوال یہ ہے کہ چئیرمین پی ٹی آئی کی پیشی آخر ہوگی کہاں سوال یہ ہے کہ یہ کیس اب کہاں چلے گا، آج کا چئیرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کو پیش نہ کرنا عدالتی احکامات کی خلاف ورزی ہے،مجھے لگتا ہے کہ سائفر کیس اب چل ہی نہیں سکے گا، ہم نے عدالت کو عندیہ دیا ہے کہ آپ اپنے فیصلے کو منوائیں، ٹرائل جیل میں ہی کروانے کے لیے جیل سپرنٹنڈنٹ آج بضد رہے، امید ہے اب جج صاحب اس حوالے سے سخت فیصلہ دیں گے، جیل سپرنٹنڈنٹ نے جو وجہ پیش کی وہ بالکل بے بنیاد ہے، جب ہائی کورٹ کے دو ججز کا حکم آگیا تو کس کے آرڈرز کا انتظار کیا جا رہا ہے ،

    سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کا جیل ٹرائل کالعدم قرار

    سائفر کیس،لگی دفعات میں سزا،عمر قید،سزائے موت ہے،ضمانت کیس کا فیصلہ

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر معاملہ؛ اعظم خان کے بعد فارن سیکرٹری بھی عمران خان کیخلاف گواہ بن گئے

    سائفر کیس، عمران خان کو بیٹوں سے بات کروانے کی اجازت

  • سائفر کیس،ٹرائل جیل میں ہی عوام اور میڈیا کے سامنے ہو گا، عدالت کا فیصلہ

    سائفر کیس،ٹرائل جیل میں ہی عوام اور میڈیا کے سامنے ہو گا، عدالت کا فیصلہ

    آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت میں سائفر کیس کی سماعت ہوئی

    سائفر کیس کے دوبارہ جیل ٹرائل کا فیصلہ ،عوام اور میڈیا کو جیل سماعت میں موجود رہنے کی اجازت ہو گی، جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین نے محفوظ فیصلہ سنا دیا،عدالت نے فیصلے میں کہا کہ جیل حکام اور سیکیورٹی اداروں نے سیکیورٹی خدشات کا اظہار کیا۔آئندہ سماعت جیل میں ہی ہوگی،اوپن کورٹ ہوگی۔میڈیا اور پبلک کو بھی شرکت کی اجازت ہوگی۔پہلے کی طرح پانچ پانچ فیملی ممبران کو بھی اجازت ہوگی۔آئندہ سماعت جمعہ کو ہوگی۔

    آفیشل سیکرٹ ایکٹ خصوصی عدالت،سائفر کیس کی سماعت اڈیالہ جیل راولپنڈی میں کرنے کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا گیا،خصوصی عدالت کے جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین نے تحریری حکم نامہ جاری کردیا، حکم نامہ میں کہا گیا کہ آج کی سماعت کے دوران چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی غیر حاضر رہے،23 نومبر کو سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو دونوں ملزمان کو پیش کرنے کا حکم دیا گیا تھا،سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کی جانب سے عدالت میں سکیورٹی رپورٹ پیش کی گئی،سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کی رپورٹ اسلام آباد پولیس، آئی بی اور اسپیشل برانچ کی معلومات کی بنیاد پر تھی،رپورٹ کے مطابق سابق وزیر اعظم چیئرمین پی ٹی آئی کی جان کو شدید خطرہ لاحق ہے، عدالت کی جانب سے سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کی رپورٹ کا بغور جائزہ لیا گیا، رپورٹ سے ظاہر ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی جان کو لاحق خطرات میں اضافہ ہوا ہے،عدالت سابق وزیراعظم کی جان کو لاحق خطرات کی تشخیص کو ہلکا نہیں لے سکتی، ماضی میں چیئرمین پی ٹی آئی کے کارکنان کا جوڈیشل کمپلیس پر دھاوا بولنے کا واقعہ بھی رونما ہو چکا، جوڈیشل کمپلیس میں سماعت چیئرمین پی ٹی آئی کیلئے محفوظ ہے نہ ہی دیگر افراد کیلئے، ان وجوہات کو مدنظر رکھتے ہوئے عدالت سائفر کیس کا ٹرائل اڈیالہ جیل میں کرنے کا حکم دیتی ہے،چونکہ چیئرمین پی ٹی آئی کا ٹرائل اڈیالہ جیل میں ہورہا ہے، شاہ محمود قریشی کا بھی اڈیالہ جیل میں ہی ہوگا، چیئرمین پی ٹی آئی کا جیل ٹرائل ایک اوپن ٹرائل ہوگا،ملزمان کے وکلا اور خاندان کے پانچ پانچ افراد کو ٹرائل کی کارروائی دیکھنے کی اجازت ہوگی، عام عوام اور سماعت سننے کے خواہشمد افراد کو ٹرائل کی کارروائی میں بیٹھنے کی اجازت ہوگی، عام عوام کو جیل رولز اور مینول اور کمرہ عدالت میں گنجائش کی بنیاد پر ٹرائل میں بیٹھنے کی اجازت ہوگی،

    آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت کے جج ابولحسنات ذوالقرنین نے سماعت کی،چیئرمین پی ٹی آئی کے وکلاء اور ایف آئی اے پراسکیوشن ٹیم عدالت میں پیش ہوئی،چیئرمین پی ٹی آئی کی بہنیں اور شاہ محمود قریشی کی بیٹی عدالت میں موجود تھی، سلمان صفدرایڈوکیٹ نے کہا کہ آج دو مختلف معاملات ہیں، سائفر کیس کا ٹرائل آج سماعت کے لیے مقرر ہے، ہم امید کررہے ہیں کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو پیش کیا جائے گا،ابھی تک چیئرمین پی ٹی آئی کو عدالت پیش نہیں کیا گیا ، یہ ریکارڈ کیس ہے اتنی رفتار سے کبھی کیس نہیں چلا،

    عدالت نے اسٹاف کو کیس کا ریکارڈ پیش کرنے کی ہدایت کی،جیل حکام نے عدالت میں رپورٹ پیش کردی ،جج ابولحسنات ذوالقرنین نے رپورٹ کا جائزہ لیا اور کہا کہ جیل حکام کا کہنا ہے عمران خان کو پیش نہیں کرسکتے، جیل حکام نے عدالت میں کہا کہ اسلام آباد پولیس کو اضافی سیکورٹی کے لیے خط لکھا، بتایا گیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو سنجیدہ نوعیت کے سیکورٹی خدشات ہیں ، اسلام آباد پولیس کی رپورٹ بھی جیل رپورٹ کیساتھ منسلک ہے

    وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ ملزم کو عدالت کے سامنے پیش کرنا جیل حکام کی زمہ داری ہے ، جیل حکام ملزم کو عدالت کے سامنے پیش کرنا نظر انداز نہیں کر سکتے ، 23 نومبر کو عدالت نے چیئرمین پی ٹی اور شاہ محمود قریشی کو طلب کیا تھا، عدالت نے حکم دیا تھا چیئرمین پی ٹی آئی کو آئندہ سماعت پر پیش کیا جائے ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے تفصیلی فیصلہ سے معلوم ہوگا کہ استغاثہ کیس کہاں تک متاثر ہوگا ،ہم کہتے رہے ان حالات میں فرد جرم عائد نہ کریں ،ہمیں کہا جاتا تھا کہ حکم امتناع ہے تو دکھا دیں، ہم کہتے رہے ابھی آگے نہ بڑھیں طے ہو لینے دیں کہ یہ کیس کیسے چلنا ہے، کبھی کوئی کیس اتنی جلدی میں چلا ؟ بے نظیر بھٹو کیس کتنے سال چلا؟ اس کیس کو ہم پانچ ہفتوں میں مکمل کرنے کے لیے نکلے ہوئے تھے، چیئرمین پی ٹی آئی کو پیش کرنا جیل حکام کی ذمہ داری ہے،اس خط و کتابت کی کوئی بنیاد نہیں ہے، ہمیں صبح سے بلکہ کل سے حالات بتا رہے تھے کہ یہ پیش نہیں کریں گے ،یہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے ، ہم جان پر کھیل کر عدالت میں پیش ہوتے رہے ہیں،کیا چیئرمین پی ٹی آئی جیل میں محفوظ نہیں یا راستے میں کوئی خطرہ ہے تو بتا دیں ؟جوڈیشل کمپلیکس کو مکمل طور پر بند کرکے بھی لایا جاسکتا ہے،اس عدالت میں کس سے خطرہ ہے؟ یہاں فیملی سے خطرہ ہے یا قانون کی پاسداری کرنے والے وکلاء سے خطرہ ہے؟ آپ کی بات نہیں مان رہے یا اسلام آباد ہائیکورٹ کی بات نہیں مان رہے تو کیا ہم سپریم کورٹ جائیں ؟آپ کا حکم حتمی ہوتا ہے پھر آج کیا ہوا ہے؟ اگر سکیورٹی تھریٹ ہیں تو اس کیس پر سماعت غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کر دی جائے جیل میں کیس نہیں چل سکتا تو یہاں بھی یہ چلانا نہیں چاہ رہے تو ملزمان کو ضمانت دے دی جائے ، یہ ٹرائل کہا چل سکتا یہ بتا دیں،یہ ٹرائل یہاں پر نہیں چل سکتا اور نہ جیل میں چل سکتا ہے تو پھر کہا چل سکتا ہے

    شاہ محمود قریشی کے وکیل علی بخاری نے اپنے دلائل کا آغاز کر دیا ،علی بخاری نے کہا کہ جیل سپریڈنٹ کا لیٹر ایف آئی اے پراسیکوٹر شاہ خاور نے خود پڑھا ہے،شاہ محمود قریشی کو کیوں ابھی تک پیش نہیں کیا گیا ؟,اب تو کوئی چارج فریم نہیں ہوا اور نہ کوئی نقل تقسیم ہوئی ہے پھر اندر کیوں رکھا ہوا ہے،آپکا اپنا آرڈر تھا جیل سپرنٹینڈنٹ کو کہیں میرے آرڈر پر عملدرآمد کروائیں نہیں تو نتائج بھگتیں،وکیل علی بخاری نے شاہ محمود قریشی کو عدالت میں پیش کرنے کی استدعا کی اور کہا کہ یہ اوپن ٹرائل ہے ملزم کو عدالت میں پیش کرنا ضروری ہے، ملزم کو عدالت میں پیش کرنا قانونی زمہ داری ہے، ملزمان کی پروڈکشن کروانا عدالت کی ذمہ داری ہے، اگر عدالتی احکامات نہیں مانے جاتے تو سرکاری ملازم کو جیل میں بھیجنے کا اختیار آپ کے پاس ہے، شاہ محمود قریشی کے وکیل علی بخاری ایڈووکیٹ کے دلائل مکمل ہوئے عدالت نے کہا کہ عدالت مناسب آرڈر کرے گی، کیا عدالت نے ملزمان کو طلب کیا تھا ؟ ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا کہ آپ نے ملزمان کو طلب کیا تھا ،جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ جتھے مرضی نوٹیفکیشن لائیں کوئی فرق نہیں پڑتا ،عوام کو رسائی ہونی چاہیے ، میڈیا کو عدالت تک رسائی ہونی چاہیے ، میں خواہش کا لفظ استعمال کررہا ہوں کہ جو بھی کیس سننے کی خواہش رکھتا ہو کیا آپ اسے اجازت دے سکتے ہیں،

    وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ آپ کی طرف فیصلے کرنے والا جیل سپرٹنڈنٹ کون ہے، جیل سپرٹنڈنٹ کون ہوتا ہے فیصلہ کرنے والا، ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا کہ تمام قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے جیل میں ٹرائل کیا جاسکتا ہے، عدالت میں جیل حکام نے دستاویزی شواہد کیساتھ بتایا کہ سیکورٹی خدشات کی بنیاد پر پیش نہیں کرسکتے،اسلام آباد ہائیکورٹ نے اس عدالت کی کارروائی کو غیر قانونی قرار نہیں دیا ، عدالت نے فیصلہ کرنا ہے کہ جیل میں ٹرائل ہوگا یہاں پر,آپ نے فیصلہ کرنا ہے کہ جیل ٹرائل کی صورت میں کتنے لوگ عدالت میں آسکتے ہیں، جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ عدالت کو فرق نہیں پڑتا کہاں ٹرائل ہوگا،عدالت چاہتی ہے کہ جو ٹرائل کو دیکھنا چاہے اس کے لیے کیا کریں گے، سیکشن 352 کا اطلاق کرنا ہے اس پر کوئی کمپرومائز نہیں کریں گے،

    وکیل علی بخاری نے کہا کہ شاہ محمود قریشی کی حد تک کوئی خط و کتابت نہیں انکو پیش کیوں نہیں کیا گیا ، سلمان صفدر ایڈوکیٹ نے کہا کہ یہاں کون سا ایسا واقعہ ہوا جس سے کہیں کوئی تھریٹ ہے، روزانہ اڈیالہ جیل سے دہشتگردوں کو لایا جاتا ہے،اب یا تو پیش کیا جائے یا زمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے ،اسکندر ذوالقرنین سلیم ایڈووکیٹ نے کہا کہ عدالتی فیصلے پر عمل نہ ہونے پر متعلقہ آئی جی کو طلب کیا جانا چاہیے ، ایف آئی اے پراسکیوٹر کا کام نہیں ہے کہ وضاحتیں دیں ، ایف آئی اے پراسکیوٹر نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور جیل سپرٹنڈنٹ کے درمیان خط و کتابت سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ،

    آفیشل سیکریٹ ایکٹ خصوصی عدالت ، سائفر کیس ،چیرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کو عدالت پیش نہ کرنے جیل حکام کی رپورٹ ،عدالت نے فریقین کے دلائل کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا ،جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ اس حوالے سے آرڈر پاس کروں گا ،

    سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کا جیل ٹرائل کالعدم قرار

    سائفر کیس،لگی دفعات میں سزا،عمر قید،سزائے موت ہے،ضمانت کیس کا فیصلہ

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر معاملہ؛ اعظم خان کے بعد فارن سیکرٹری بھی عمران خان کیخلاف گواہ بن گئے

    سائفر کیس، عمران خان کو بیٹوں سے بات کروانے کی اجازت

  • سائفر کیس، کچھ دفعات میں سزا 2 سال ،کچھ میں سزائے موت ،عمر قید ہے، جسٹس سردار طارق مسعود

    سائفر کیس، کچھ دفعات میں سزا 2 سال ،کچھ میں سزائے موت ،عمر قید ہے، جسٹس سردار طارق مسعود

    چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان کی سائفر کیس میں درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی

    جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی،جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس عائشہ ملک بھی بنیچ کا حصہ ہیں ،چئیرمین پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر روسٹرم پر موجود تھے، چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر نے ایف آئی آر پڑھ کر سنا دی ، جسٹس سردار طارق مسعود نے استفسار کیا کہ یہ معاملہ کب کا ہے،؟ وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ یہ معاملہ 2022 کا ہے،جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس پر آپ نے پورا سال ہی لگا دیا ہے،کچھ دفعات میں سزا دو سال ہے،کچھ میں سزائے موت اور عمر قید ہے

    ایف آئی اے تفتیشی کے بغیر نوٹس پیش ہونے پر عدالت نے برہمی کا اظہارکیا، جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ آپ کو کس نے بلایا ہے،پیچھے جا کے بیٹھ جائیں،سلمان صفدر نے انکوائری رپورٹ اور مقدمے میں چیئرمین پی ٹی آئی پر لگے الزامات پڑھ کر سنائے اور کہا کہ الزام لگایا گیا ہے کہ چیئرمین نے اعظم خان کو سائفر کو غلط رنگ دینے کا کہا ،مقدمہ کا بہت سارا ریکارڈ تو فراہم ہی نہیں کیا گیا، الزام لگایا گیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے بل واسطہ یا بلا واسطہ ریاست کو نقصان پہنچایا،اعظم خان اور اسد عمر بھی ملزم تھے لیکن انکے خلاف کارروائی نہیں ہوئی،جسٹس سردار طارق مسعود نے استفسار کیا کہ شریک ملزمان کے کردار کا تعین ہوا؟وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ اسد عمر کو چھوڑ دیا گیا اور اعظم خان کو ملزم سے گواہ بنادیا گیا،جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ پہلے کیس پر کہا گیا کہ اعظم خان ملزم ہیں ،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ اسد عمر کو ضمانت قبل از گرفتاری مل چکی ہے، ایف آئی آر کے مطابق اعظم خان نے بنی گالہ میٹنگ کے منٹس تیار کئے تھے، جسٹس یحییٰ آفریدی نے استفسار کیا کہ اعظم خان کے حوالے سے تفتیشی افسر نے کیا حتمی رائے دی؟وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ اعظم خان کے حوالے سے کوئی حتمی رائے نہیں دی گئی، اعظم خان لاپتہ ہوگئے تھے اہلخانہ نے مقدمہ بھی درج کرایا ، اعظم خان اچانک بازیاب ہوئے اور ملزم سے گواہ بن گئے، جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سچ ایسے ہی سامنے آتا ہے، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ اعظم خان کے بیان کے مطابق انہیں بار بار مانگنے پر سائفر کی کاپی نہیں دی گئی، چیئرمین پی ٹی آئی کی عمر 71 سال اور سابق وزیراعظم ہیں، چیئرمین پی ٹی آئی کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، اعظم خان ملزم سے استغاثہ کا گواہ بن چکا ہے،ماتحت عدالت کے سامنے کئی گھنٹے دلائل دئیے،

    جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ مقدمات کو سیاسی طور پر چلائیں گے تو یہی ہو گا،کسی نے کہا تھا کہ اخراج مقدمہ اور ضمانت کو ایک ساتھ چلائیں،ملزم 60 سال سے کم نہیں ہے اور کیس مزید انکوائری کا ہے تو اس طرف لائیں،جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کے کیس کی مرکزی گراونڈز کیا ہیں،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ ہمارا کیس یہ ہے کہ کیس بنتا ہی نہیں،جو دفعات لگائی گئیں وہ جاسوسی جیسے جرائم پر لگتی ہیں،تحقیقات میں کہیں نہیں بتایا گیا کہ کہاں جاسوسی ہوئی یا کسی دشمن ملک کو فائدہ پہنچا،جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وہ یہ کہہ رہے ہیں آپ نے سائفر کا کوڈ کمپرومائز کردیا،کوڈ اگرچہ تبدیل ہوتا رہتا ہے کئی بار ہفتے بعد بھی تبدیل ہو سکتا ہے،

    جسٹس یحییٰ آفریدی نے استفسار کیا کہ سائفر ایک سیکرٹ دستاویز تھا،یا نہیں ؟ وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ سائفر ڈی کلاسیفائی ہونے کے بعد سیکرٹ دستاویز نہیں تھا،جسٹس یحییٰ آفریدی نے استفسار کیا کہ ڈی کلاسیفائی ہونے سے پہلے کیا سائفر کو ملزم نے دکھایا،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ اس دوران سائفر کسی کو نہیں دکھایا گیا،جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سائفر کو ہوا میں لہرا کر بتادیا جائے اس میں یہ لکھا ہے تو کیا وہ ابلاغ کے زمرے میں نہیں آتا؟جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ابھی ہم الزامات کا ٹرائل نہیں کر رہے صرف الزامات کو دیکھ رہے ہیں،کیا ہیں،

    سائفر کیس، عمران خان کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست پر ابتدائی سماعت کے بعد سپریم کورٹ نے وفاق سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کر دیے۔ سماعت غیر معینہ مدت کےلئے ملتوی کر دی گئی

    سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کا جیل ٹرائل کالعدم قرار

    سائفر کیس،لگی دفعات میں سزا،عمر قید،سزائے موت ہے،ضمانت کیس کا فیصلہ

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر معاملہ؛ اعظم خان کے بعد فارن سیکرٹری بھی عمران خان کیخلاف گواہ بن گئے

    سائفر کیس، عمران خان کو بیٹوں سے بات کروانے کی اجازت

  • سپریم کورٹ،سائفر کیس، فردجرم کیخلاف اپیل،عمران خان کے وکیل کو التوا مل گیا

    سپریم کورٹ،سائفر کیس، فردجرم کیخلاف اپیل،عمران خان کے وکیل کو التوا مل گیا

    سپریم کورٹ میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی سائفر فرد جرم کیخلاف اپیل پر سماعت ہوئی

    چئیرمن پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل حامد خان نے عدالت سے التوا مانگ لیا،وکیل حامد خان نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے انٹراکورٹ اپیل پر فیصلہ دیا ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کا جائزہ لینا چاہتا ہوں، جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا تو نیا آرڈر آیا ہے،جس آرڈر کے خلاف آپکی یہ اپیل ہے اسے ہم ابھی بھی سن سکتے ہیں، وکیل حامد خان نے کہا کہ مجھے ہائیکورٹ کا انٹراکورٹ اپیل کا فیصلے کا جائزہ لینے کا التوا دے دیں، عدالت نے حامد خان کی استدعا منظور کرکے سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی

    جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں 3رکنی بنچ نے سماعت کی، جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس عائشہ ملک بینچ میں شامل تھے

    واضح رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے ٹرائل کورٹ کی جانب سے فرد جرم عائد کرنے کی کاروائی سپریم کورٹ میں چیلنج کررکھی ہے،چیئرمین پی ٹی آئی نے وکیل حامد خان کے ذریعے درخواست دائر کردی،درخواست میں استدعا کی کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا 26 اکتوبر کا حکمنامہ کالعدم قرار دیا جائے،عدالت سپیشل کورٹ کا فرد جرم عائد کرنے کا 23 اکتوبر کا حکمنامہ آئین و قانون کے خلاف قرار دے،درخواستگزار چند ایماندار اور معزز سیاستدانوں میں سے ایک ہے جو قومی اور بین الاقوامی سطح پر اچھی ساکھ رکھتا ہے، درخواست گزار کو مخالفین کی جانب سے سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، سیاسی انتقام کا دائرہ درخواست گزار کی سیاسی جماعت اور اتحادیوں تک پھیلا دیا گیا ہے، درخواست گزار کو نشانہ بنانے سے متعلق عدالت کو آگاہ کرنا ضروری ہے،سابق وزیراعظم اور ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کا سربراہ ہونے کے باوجود درخواست گزار کے خلاف لگ بھگ 200 مقدمات بنائے گئے ہیں، درخواست گزار کے خلاف دہشت گردی، بغاوت اور غداری، توشہ خانہ سمیت سنگین مقدمات قائم کیے گئے ہیں،ان مقدمات کا مقصد درخواست گزار کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانا اور سیاسی طور پر تنہا کرنا ہے،

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    واضح رہے کہ سائفرکیس میں عمران خان جوڈیشیل ریمانڈ پر جیل میں ہیں، جیل میں ہی کیس کی سماعت ہوتی ہے، عمران خان پر فردجرم عائد ہو چکی ہے، اگلی سماعت پر گواہان کے بیانات ریکارڈ ہوں گے، شاہ محمود قریشی بھی سائفر کیس میں ریمانڈ پر ہیں.

  • سائفر کیس:عمران خان کا جیل ٹرائل کالعدم قرار

    سائفر کیس:عمران خان کا جیل ٹرائل کالعدم قرار

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کا جیل ٹرائل کالعدم قرار دے دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا، اسلام آباد ہائیکورٹ نے سائفر کیس کا جیل ٹرائل کالعدم قرار دے دیا، عدالت نے فیصلے میں کہا کہ غیر معمولی حالات میں ٹرائل جیل میں کیا جاسکتا ہے،قانون کے مطابق جیل ٹرائل ان کیمرہ یا اوپن ہوسکتا ہے، سائفر کیس میں جیل ٹرائل کا 29 آگست کو نوٹیفکیشن کالعدم قراردے دیا گیا.اسلام آباد ہائی کورٹ کے ڈویژنل بینچ نے جیل ٹرائل کے خلاف عمران خان کی اپیل منظور کرلی۔

    جسٹس گل حسن اورنگزیب کی سربراہی میں 2 رکنی بنچ نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی انٹرا کورٹ اپیل پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت خصوصی عدالت کے جج کی تعیناتی کو درست قرار دیا،

    قبل ازیں سائفر کیس میں عمران خان کی جج تعیناتی اور جیل ٹرائل کے خلاف اپیل پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی.سائفر کیس میں جیل ٹرائل اور جج تعیناتی کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی اپیلوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا تھا،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے سماعت مکمل کرکے فیصلہ محفوظ کیا ،چیرمین پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجہ کے دلائل بھی مکمل ہو گئے،وفاق سے اٹارنی جنرل منصور اعوان اور ایف آئی اے پراسیکیوٹر کے دلائل مکمل ہو گئے،

    قبل ازیں جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز سماعت کر رہے ہیں دوران سماعت سائفر کیس میں عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل کا آغاز کیا-سلمان اکرم راجہ نے دلائل میں جیل ٹرائل کا پراسس عدالت کے سامنے رکھا کہ سی آر پی سی کی سیکشن 352 کے تحت جیل ٹرائل کے لئے ٹرائل جج نے کچھ وجوہات کے ساتھ یہ اختیار استعمال کرنا ہوتا ہے ، پھر ریکوئسٹ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ (کمشنر) کے ذریعے وفاقی حکومت کو جاتی ہے ، کابینہ کے سامنے یہ معاملہ رکھنا ہوتا اور ہائی کورٹ کو بھی آگاہ کرنا ہوتا ہے یہ پراسس ہے ،سائفر کیس میں جیل ٹرائل کے لیے جج کو جیل ٹرائل سے متعلق جوڈیشل آرڈر پاس کرنا چاہئے تھا جو آج تک نہیں ہوا –

    سائفر کیس سماعت 24 نومبر تک ملتوی

    وکیل سلمان اکرم راجہ نے کابینہ کے فیصلے کے اثرات پر دلائل میں کہا کہ کابینہ کے فیصلے کا ماضی پر اطلاق نہیں ہوتا ، جیل ٹرائل کیلئے سب سے پہلے ٹرائل جج نے فیصلہ کرنا ہوتا ہے ، حکم جاری کرنا ہوتا ہے ، ٹرائل کورٹ کے جج کے خط کو فیصلہ /حکمنامہ نہیں کہہ سکتے ، جج اپنا مائنڈ فیصلے سے ظاہر کرتا ہے ، مان بھی لیا جائے کہ بارہ نومبر سے کابینہ کی منظوری کیلئے طریقہ کار پر عمل کیا گیا تو پہلے کی کارروائی غیر قانونی ہوگی –

    فیض آباد دھرنا کیس: سابق ن لیگی وزیراعظم اور وزیر داخلہ کے پاس جنرل …

    اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے اپنے دلائل کا آغاز کر دیا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ جیل ٹرائل عام لوگوں کو سننے کے لئے نہیں،جیل ٹرائل میں فیملی ممبران کو بیٹھنے کی اجازت ملی ہے، خاندانی افراد کا ٹرائل میں بیٹھنے کے بعد نہیں سمجھتا کہ جیل ٹرائل چل رہا،یہ بات درست ہے کہ ماضی میں ملزمان کے اہل خانہ کو جیل ٹرائل دیکھنے کی اجازت نہیں ملی، اس کی وجہ یہ تھی کہ جیل میں ٹرائل کے لیے کورٹ کو ملنے والا کمرہ بہت چھوٹا اور گنجائش محدود تھی،اب اس متعلق سنگل بنچ نے بھی آرڈر پاس کر دیا ہے، عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا،عدالت نے کہا کہ پانچ اور ساڑھے پانچ بجے کے دوران فیصلہ سنایا جائے گا ،

    سائفر کیس،لگی دفعات میں سزا،عمر قید،سزائے موت ہے،ضمانت کیس کا فیصلہ

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر معاملہ؛ اعظم خان کے بعد فارن سیکرٹری بھی عمران خان کیخلاف گواہ بن گئے

    سائفر کیس، عمران خان کو بیٹوں سے بات کروانے کی اجازت

    واضح رہے کہ سائفر کیس کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہو رہی ہیں، چند روز قبل اڈیالہ جیل کے باہر سے بارودی مواد بھی ملا تھا، عمران خان اور تحریک انصاف کا موقف ہے کہ اوپن کورٹ میں ٹرائل کیا جائے، حکومت کا موقف ہے کہ ٹرائل جیل میں ہی ہو گا، اب تک عمران خان اوپن ٹرائل کے لئے تین درخواستیں دائر کر چکے ہیں