Baaghi TV

Tag: سائفر کیس

  • سائفر کیس سماعت 24 نومبر تک ملتوی

    سائفر کیس سماعت 24 نومبر تک ملتوی

    راولپنڈی: اسٹے کی وجہ سے بغیر کاروائی سائفر کیس کی سماعت 24 نومبر تک ملتوی کر دی گئی-

    باغی ٹی وی: سائفر کیس کی سماعت کے لیے خصوصی عدالت کے جج ابو الحسنات ذوالقرنین اڈیالہ جیل پہنچ گئے عمران خان کے وکلا ، اہلیہ اور تینوں بہنیں بھی اڈیالہ جیل پہنچ گئیں ، سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے وکلاء بھی اڈیالہ جیل پہنچ گئے-

    چیئرمین پی ٹی آئی کی 3 مقدمات کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت ہوئی ،سماعت جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کی، عمران خان کے خلاف ایک مقدمہ تھانہ کھنہ اور 2 مقدمات تھانہ بہارہ کہو میں درج ہیں، تینوں تھانوں کے ایس ایچ اوزریکارڈ لے کر اڈیالہ جیل پہنچے۔

    اڑن طشتری کی اطلاع ملنے پر بھارتی فضائیہ کے لڑاکا طیاروں کی پروازیں

    چیئرمین پی ٹی آئی اورشاہ محمودکےخلاف سائفر کیس کی سماعت شروع ہونے سے قبل وکلا نے چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود سے مشاورت کی،جبکہ عدالت نے ہائیکورٹ کے حکم امتناع کےباعث سماعت 23 نومبر تک ملتوی کردی۔

    ایون فیلڈ اورالعزیزیہ ریفرنسز میں سزاؤں کے خلاف اپیلوں کی سماعت آج ہوگی

  • سائفر کیس،ضمانت کیلئے شاہ محمود قریشی کی سپریم کورٹ میں درخواست

    سائفر کیس،ضمانت کیلئے شاہ محمود قریشی کی سپریم کورٹ میں درخواست

    سپریم کورٹ: وائس چیئرمین پی ٹی آئی شاہ محمود قریشی نے سائفر کیس میں ضمانت کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا

    درخواست میں ضمانت بعد از گرفتاری کی استدعا کر دی گئی،درخواست ایڈوکیٹ علی بخاری کے توسط سے دائر کی گئی ،سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا 8 نومبر کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے،اسلام آباد ہائیکورٹ نے حقائق کا درست جائزہ نہیں لیا،درخواست گزار کیخلاف بے بنیاد اور سیاسی مقدمہ بنایا گیا ہے، درخواست میں وفاقی حکومت اور وزارت داخلہ کو فریق بنایا گیا ہے

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے سائفر کیس میں شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد کردی تھی،،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے تحریری فیصلہ جاری کردیا،فیصلے میں کہا گیا کہ شاہ محمود قریشی کو سائفر کیس میں آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے سیکشن 9 کے تحت نامزد کیا گیا ہے، شاہ محمود قریشی پر سائفر کیس میں جرم کی حوصلہ افزائی اور معاونت کے الزامات ہیں، قانون کے مطابق جرم کی معاونت کرنے والے پر بھی اتنی ہی ذمہ داری عائد ہوتی ہے جتنی جرم کرنے والے ہر ہوتی ہے، سائفر کیس میں مرکزی ملزم چیئرمین پی ٹی آئی کو آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی سیکشن 5 کے تحت نامزد کیا گیا ہے، سیکشن 5 کے تحت جرم کے ارتکاب کی سزا عمر قید یا سزائے موت ہے،آفیشل سیکریٹ ایکٹ کا سیکشن 9 کہتا ہے کہ جرم پر اکسانے یا معاونت پر بھی وہی سزا ہوگی جو سیکشن 5 میں درج ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ مرکزی ملزم چیئرمین پی ٹی آئی کی ضمانت کی درخواست 16 اکتوبر کو مسترد کر چکی ہے،شاہ محمود قریشی کی ضمانت بھی مرکزی ملزم سے جڑی ہوئی ہے، درخواست گزار کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 248 کے تحت استثنیٰ بھی مانگا گیا ہے،آرٹیکل 248 شاہ محمود قریشی کے کیس میں لاگو ہی نہیں ہوتا، آرٹیکل 248 کا اطلاق سرکاری ذمہ داریاں نبھانے کے حوالے سے کیا جاتا ہے، شاہ محمود قریشی پر الزام ہے کہ انہوں نے 27 مارچ 2023 کو جلسے میں تقریر کے دوران جرم کی حوصلہ افزائی، معاونت کی،ایک جلسے میں تقریر کرنا سرکاری ذمہ داریوں میں شامل نہیں، لحاظہ آرٹیکل 248 کا اطلاق نہیں ہوتا،شاہ محمود قریشی کی ضمانت کی درخواست مسترد کی جاتی ہے،خصوصی عدالت یہ حکم نامہ موصول ہونے کے 4 ہفتوں کے اندر اندر ٹرائل مکمل کرے،

    سائفر کیس،لگی دفعات میں سزا،عمر قید،سزائے موت ہے،ضمانت کیس کا فیصلہ

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر معاملہ؛ اعظم خان کے بعد فارن سیکرٹری بھی عمران خان کیخلاف گواہ بن گئے

    سائفر کیس، عمران خان کو بیٹوں سے بات کروانے کی اجازت

  • سائفر کیس،دستاویزا ت کے مطابق سیکورٹی خطرات کے باعث جیل ٹرائل کا فیصلہ ہوا،عدالت

    سائفر کیس،دستاویزا ت کے مطابق سیکورٹی خطرات کے باعث جیل ٹرائل کا فیصلہ ہوا،عدالت

    اسلام آباد ہائیکورٹ: چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی سائفر کیس میں جیل ٹرائل کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت ہوئی.

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس گل حسن کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے سماعت کی، عمران خان کے وکیل عدالت میں پیش ہوئے،،اٹارنی جنرل منصور اعوان بھی عدالت میں پیش ہوئے،عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ اور لیگل ٹیم کے ارکان اور شاہ محمود قریشی کی بیٹی مہربانو قریشی عدالت میں موجود تھیں،

    چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجہ روسٹرم پر آ گئے،جج کی تعیناتی کے معاملے پر سائفر کیس میں جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور سلمان اکرم راجہ کے درمیان اہم مکالمہ ہوا، وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ اسلام آباد میں سینکڑوں ماتحت عدلیہ کے ججز موجود ہیں حکومت نے ایک مخصوص جج کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کا چارج دیدیا ، جسٹس حسن اورنگزیب نے کہا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے اس عدالت کے سامنے ریکارڈ پیش کیا تھا ہم نے دستاویزات دیکھے ہیں تعیناتی کیلئے کارروائی کا آغاز اسلام آباد ہائیکورٹ سے ہوا، وکیل عمران خان نے کہا کہ ہمیں تو وہ دستاویزات بھی نہیں دکھائے گئے،عدالت نے کہا کہ ہمارے ذہن میں بھی یہی سوال تھا لیکن دستاویزات دیکھنے کے بعد صورتحال واضح ہوئی، آپ پہلے اٹارنی جنرل کے اپیل ناقابلِ سماعت ہونے کے اعتراض کا جواب دیں.

    وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ 16 اگست کو اوپن کورٹ میں چیئرمین پی ٹی آئی کا ریمانڈ دیا گیا، چیئرمین پی ٹی آئی اٹک جیل میں تھے انکی عدم موجودگی میں ریمانڈ ہوا،بعد میں سائفر کیس کی جیل سماعت کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا، 29 اگست کو سائفر کیس کی جیل سماعت کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا، میڈیا کو عمران خان کا نام لینے سے بھی روک دیا گیا،یہ سب عمران خان کو عوام میں لانے سے روکنے کیلئے کیا گیا،شاہ محمود قریشی ریمانڈ کے وقت کمرہِ عدالت میں موجود تھے، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ آپکے یہ دلائل بعد کے ہیں پہلے اپیل قابلِ سماعت ہونے پر دلائل دیں،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے عمران خان کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل نے کچھ دستاویزات دکھائیں جس میں سپیشل رپورٹس بھی ہیں سی سی پی او کا لیٹر بھی ان دستاویزات کا حصہ ہے سیکورٹی خطرات کے باعث جیل ٹرائل کا فیصلہ ہوا،سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ مجھے اس لیٹر کا تب پتہ چلا ہے جب اٹارنی جنرل نے دستاویزات جمع کرائی ہیں ، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نوٹیفکیشن میں لائف تھریٹ کا ذکر بھی موجود نہیں نا ہی وزارت داخلہ کی اسپیشل رپورٹ کا ذکر ہے ،اٹارنی جنرل کے دستاویزات کے مطابق سی سی پی او نے خط لکھا کہ عمران خان کو لاحق سیکیورٹی خطرات کی وجہ سے ٹرائل جیل میں کیا جائے لیکن اس وقت تو ٹرائل شروع بھی نہیں ہوا تھا،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب نے کہا کہ حکومت جیل ٹرائل کے لیے پراسیکیوشن کے ذریعے بھی درخواست دے سکتی ہے،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ جیل ٹرائل کی درخواست آئے تو عدالت نوٹس کر کے دوسرے فریق کو سننے کے بعد فیصلہ کر سکتی ہے،سیکشن 9 کے تحت جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا جا سکتا،اِس سیکشن کے تحت عدالت کا وینیو تبدیل کیا جا سکتا ہے لیکن جیل ٹرائل کا ذکر نہیں،یہ سزائے موت یا عمر قید کا کیس ہے اس میں سختی سے قانون کے مطابق چلنا چاہیئے، جسٹس ثمن رفعت امتیار نے استفسار کیا کہ اگر سیکیورٹی خدشات ہوں تو حکومت کو کیا کرنا چاہیئے تھا؟ وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ حکومت کو یہ معاملہ متعلقہ جج کے سامنے رکھنا چاہیئے تھا،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ راجہ صاحب، آپ اپیل قابلِ سماعت ہونے پر اپنے دلائل دیں، وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ جج کی جانب سے دو اکتوبر کو لکھا گیا خط بھی پڑھنا چاہتا ہوں جو بہت اہم ہے،جج نے اس خط میں پوچھا کہ کیا ملزم کو پیش کرنے میں کوئی مشکلات تو نہیں؟جج اس خط کے ذریعے پوچھ رہا کہ آپ مناسب سمجھیں تو جیل ٹرائل کے لیے تیار ہوں، جج نے کہا کہ جو آپ کا حکم وہی میری رضا، وزارت قانون کا جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن بھی درست نہیں ، یہ بھی کنفیوژن ہے کہ جیل ٹرائل کا مقصد کیا ہے؟ ایسا سیکورٹی خدشات کے باعث ہے یا حساس کیس سے پبلک کو اس سے دور رکھنا مقصد ہے،اوریجنل آرڈر کے خلاف انٹراکورٹ اپیل قابلِ سماعت ہوتی ہے، سیکشن 9 سیشن عدالتوں کے وینیوز تبدیل کرنے سے متعلق ہے جیل ٹرائل کا نہیں لکھا ہوا ، آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی سیکشن 14 کے حوالے سے پراسیکیوشن کی درخواست ٹرائل کورٹ نے مسترد کی ،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ آپ کے بعد ہم اٹارنی جنرل نے جوابی دلائل سنیں گے، عدالت کیس قابلِ سماعت ہونے پر اپنا مائنڈ کلیئر کرنا چاہتی ہے،یقین دہانی کراتے ہیں کہ آپ نے دلائل دینے ہوئے تو دوبارہ موقع دیا جائے گا، آپ تھوڑا وقفہ کر لیں ہم اٹارنی جنرل کو قابلِ سماعت ہونے پر سن لیتے ہیں

    وکیل سلمان اکرم راجہ اپنی نشست پر بیٹھ گئے ،اٹارنی جنرل روسٹرم پر آ گئے اور دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سائفر کیس کا ٹرائل 23 اکتوبر کو فرد جرم عائد ہونے سے شروع ہوا، اس سے پہلے کی تمام عدالتی کارروائی پری ٹرائل پروسیڈنگ تھی،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا سیکیورٹی تھریٹس سے متعلق رپورٹ ٹرائل کورٹ کے جج کے سامنے رکھی گئی؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ نہیں، وہ وہ رپورٹ ٹرائل کورٹ کے جج کے سامنے نہیں رکھی گئی، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ ٹرائل کورٹ کے جج نے کس مواد کی بنیاد پر پہلا خط لکھا ؟ اگر میرٹ پر دلائل سنتے ہیں تو آپ کو اِس نکتے پر عدالت کو مطمئن کرنا ہو گا، اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ یہ بات عمومی طور پر پبلک ڈومین میں تھی اور عدالت کو بھی اس کا علم تھا،

    جیل ٹرائل بھی ہو تو کم از کم جج تبدیل کیا جائے، عمران خان کے وکیل کی استدعا،سماعت میں وقفہ
    عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ جیل سماعت کے نوٹیفیکیشنز جاری ہوتے رہے اور جج تیزی سے کاروائی آگے بڑھاتے رہے لیکن اسلام آباد ہائیکورٹ نے اس اہم ترین معاملے میں ہماری درخواست پر کئی ہفتوں کیلئے فیصلہ محفوظ رکھا،سماعت مکمل ہونے کے ایک ماہ بعد تک فیصلہ محفوظ رکھا گیا ،اس دوران یہ سارے ایونٹس ہوئے جن کا ذکر کیا گیا ، ٹرائل کورٹ کی کارروائی بھی جاری رہی ،سائفر کیس میں پندرہ نومبر تک کی تمام کارروائی غیر قانونی تھی ،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ ہمیں ابھی تک نہیں پتہ کہ سائفر کیس میں الزام کیا ہے؟ہم صرف جیل میں ٹرائل اور جج کی تعیناتی کے معاملے پر قانونی نکات دیکھ رہے ہیں ، وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ شاہ محمود قریشی کی بیٹی کو بھی جیل ٹرائل دیکھنے کی اجازت نہیں ملی، پھر یہ کہہ رہے ہیں کہ جیل ٹرائل اوپن ٹرائل ہے،میری استدعا ہو گی کہ اگر جیل ٹرائل بھی ہو تو کم از کم جج کو تبدیل کیا جائے،

    کابینہ منظوری سے پہلے ہونے والا ٹرائل کالعدم قرار دیا جائے،وکیل عمران خان کی استدعا
    سلمان اکرم راجہ نے 1947کے ایک مقدمے کا حوالہ دیا اور کہا کہ جیل ٹرائل کے قواعد پورے نہ کرنے پر جج کو مس کنڈکٹ کا مرتکب قرار دیاگیا تھا ،عدالت نے قرار دیا کہ جیل ٹرائل جاری رہے لیکن کوئی اور جج کارروائی کو آگے بڑھا سکتا ہے ،عدالت نے نوٹ کیا کہ ہے کہ 25ستمبر کے نوٹیفکیشن میں وزارت قانون نے لفظ جیل شامل نہیں کیا ،عمران خان کے جیل ٹرائل کو اِن کیمرہ ٹرائل بنا دیا گیا ہے،اِس ٹرائل میں فیملی ممبرز کو بھی جانے کی اجازت نہیں دی گئی، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ اس عدالت نے ایک سوال اپنے پہلے تحریری آرڈر میں بھی رکھا تھا،وفاقی کابینہ کی منظوری سے پہلے ہونے والے ٹرائل کا سٹیٹس کیا ہوگا؟آپ اپنے دلائل میں واضح کر دیں کہ آپ اس ٹرائل سے متعلق کیا چاہتے ہیں؟وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ وفاقی کابینہ کی منظوری سے پہلے ہونے والا ٹرائل خلاف قانون ہے، کابینہ منظوری سے پہلے ہونے والا ٹرائل کالعدم قرار دیا جائے، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ کیا آپ ڈکلیئریشن چاہ رہے ہیں؟پبلک کو عدالتی کارروائی سے باہر رکھنے کا اختیار متعلقہ جج کا ہے،اٹارنی جنرل کہہ رہے ہیں کہ جج کی طرف سے پبلک کو باہر رکھنے کا کوئی آرڈر موجود نہیں،اٹارنی جنرل کے مطابق ایسا آرڈر نہ ہونے کے باعث اسے اوپن ٹرائل تصور کیا جائے،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ پراسیکیوشن نے ٹرائل کورٹ میں پبلک کو ٹرائل سے باہر رکھنے کی درخواست دائر کی، جج نے آرڈر میں لکھا کہ ابھی تو پبلک کیس کی سماعت میں موجود ہی نہیں،جج نے لکھا کہ جب پبلک موجود ہوئی تو پھر اس معاملے کو دیکھیں گے،چیئرمین پی ٹی آئی کا جیل ٹرائل فیملی اور پبلک کو دور رکھنے کیلئے ہی کیا جا رہا ہے،میڈیا،فیملی اور پبلک کو ٹرائل سے دور رکھنامحض بےضابطگی نہیں،استدعا ہے کہ پہلے ہو چکا ٹرائل کالعدم قراردیاجائے،عمران خان پر فرد جرم سے پہلے کچھ بہت اہم ہوا ، کچھ ایسا اہم ہوا کہ ہمیں دستاویزات تک فراہم نہیں کیے گئے، بغیر دستاویزات فراہم کئے فرد جرم عائد کی گئی اسے معمولی بے ضابطگی نہیں کہہ سکتے،

    سائفر کیس جیل ٹرائل اور جج تعیناتی معاملے میں اہم موڑ آ گیا،اسلام آباد ہائی کورٹ نے رجسٹرار ہائیکورٹ سردار طاہر صابر کو طلب کر لیا ، رجسٹرار عدالت کے سامنے پیش ہو گئے، عدالت نے رجسٹرار کو ہدایت کی کہ آپ سے صرف دو سوالات پوچھنے ہیں 20 جون 2023 کا اسلام آباد ہائیکورٹ کا وزارت قانون کے سیکرٹری کے نام کا لیٹر ہے کیا جج کی تعیناتی کا یہ پہلا لیٹر ہے ؟ یا وزارت قانون نے پہلے ریکوئسٹ بھیجی؟ چیک کرکے بتائیں ، دوسرا سوال یہ ہے کہ جیل ٹرائل سے متعلق کسی بھی اسٹیج پر ٹرائل کورٹ نے ہائیکورٹ کو کبھی بتایا ہے چیک کرکے بتائیں ،

    اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس اسپیشل کورٹس کی حالت زار پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب برہم
    سائفر کیس کی سماعت کے دوران اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس اسپیشل کورٹس کی حالت زار پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب برہم ، عدالت نے اٹارنی جنرل منصور اعوان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جب میں اسپیشل کورٹس کا ایڈمنسٹریٹو جج تھا تو مجھے شکایات موصول ہوئیں تھیں ،جوڈیشل کمپلیکس اسپیشل کورٹس میں تعینات کردہ اسٹاف وزارت قانون کا ہے وہ اسٹاف نہ ججز کی سنتا ہے نہ وہ ججز ،اس اسٹاف کے خلاف ڈسپلنری ایکشن لے سکتے ہیں وزارت قانون کے تعینات کردہ اس اسٹاف کو کم سے کم ان ججز کی تو سننی چاہیے بار بار ، بار بار وزارت قانون کو لیٹرز لکھے گئے لیکن وزارت قانون نے کچھ نہیں کیا ،اٹارنی جنرل منصور اعوان نے کہا کہ یہ بہت اہم معاملہ ہے میں اس کو دیکھ لوں گا ، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ تین احتساب عدالتیں گزشتہ حکومت کے دور سے خالی پڑی ہیں ، ہم نے تین ججز کی تعیناتی کا کہا لیکن وہ بھی نہیں لگائے گئے ، یہ جو کہہ رہے ہیں ہمارے پاس کنٹرول ہے یہ ایسے اپنا کنٹرول استعمال کرتے ہیں ، اگر آپ ان معاملات کو دیکھیں تو وفاقی دارالحکومت کی عدالتوں کے لیے بڑی سروس ہو گی ، اٹارنی جنرل نے حکومت کے سامنے معاملہ رکھنے کی یقین دہانی کروائی.

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے سائفر کیس کا ٹرائل روکنے کے حکم میں کل دن گیارہ بجے تک توسیع کردی ہے،عمران خان کی جیل ٹرائل اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کے جج کی تعیناتی کے خلاف انٹراکورٹ اپیل پر سماعت کل 11 بجے تک ملتوی کر دی گئی.

    سائفر کیس،لگی دفعات میں سزا،عمر قید،سزائے موت ہے،ضمانت کیس کا فیصلہ

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    سائفر معاملہ؛ اعظم خان کے بعد فارن سیکرٹری بھی عمران خان کیخلاف گواہ بن گئے

    سائفر کیس، عمران خان کو بیٹوں سے بات کروانے کی اجازت

    واضح رہے کہ سائفر کیس کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہو رہی ہیں، چند روز قبل اڈیالہ جیل کے باہر سے بارودی مواد بھی ملا تھا، عمران خان اور تحریک انصاف کا موقف ہے کہ اوپن کورٹ میں ٹرائل کیا جائے، حکومت کا موقف ہے کہ ٹرائل جیل میں ہی ہو گا، اب تک عمران خان اوپن ٹرائل کے لئے تین درخواستیں دائر کر چکے ہیں

  • سائفر کیس،لگی دفعات میں سزا،عمر قید،سزائے موت ہے،ضمانت کیس کا فیصلہ

    سائفر کیس،لگی دفعات میں سزا،عمر قید،سزائے موت ہے،ضمانت کیس کا فیصلہ

    سائفر کیس میں شاہ محمود قریشی کی ضمانت مسترد کرنے کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا گیا

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے 10 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا ،عدالت نے کہا کہ اکسانے ، سازش یا معاونت کو مرکزی جرم کرنے کی طرح ہی دیکھا جائے گا، چیئرمین پی ٹی آئی پر لگی دفعات میں سزا عمر قید ،سزائے موت ہے، شاہ محمود قریشی کو اسی تناظر میں دیکھا جائے گا ، عمر قید سزائے موت کے ملزمان کو عدالتیں ضمانت دیتے احتیاط سے کام لیتی ہیں، اس قسم کے کیسز میں جب تک معقول وجہ موجود نا ہو ضمانت نہیں دی جا سکتی،248کا استثنیٰ صرف آفیشل ڈیوٹی کیلئے ہے شاہ محمود قریشی پر جلسے میں تقریر کا الزام ہے، شاہ محمود قریشی پر 27 مارچ کی جو جلسہ تقریر کا الزام ہے وہ آفیشلی ڈیوٹی میں نہیں آتا، عدالت ضمانت مسترد کرکے ہدایت کرتی ہے ٹرائل کو 4 ہفتے میں مکمل کیا جائے ،

    واضح رہے کہ سائفر کیس میں عمران خان کی درخواست ضمانت ہفتے کے روز اسلام آباد ہائیکورٹ نے مسترد کر دی تھی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے 20 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا،تحریری فیصلے میں عدالت نے کہا کہ بادی النظر میں مقدمہ میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی سیکشن فائیو کا اطلاق ہوتا ہے،پراسیکیوشن کا کیس ہے کہ وزارت خارجہ نے سائفر کو ڈی کوڈ کر کے پرائم منسٹر سیکرٹریٹ کو بھجوایا،چیئرمین پی ٹی آئی نے بطور وزیراعظم سائفر کو وصول کیا اور بظاہر گم کر دیا،چیئرمین پی ٹی آئی نے سائفر کے مندرجات کو ٹوئسٹ کر کے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا

    جو کام حکومتیں نہ کر سکیں،آرمی چیف کی ایک ملاقات نے کر دیا

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • عدالتوں سے انصاف نہیں ملتا تو ہم امریکا میں ڈونلڈلو پر کیس کریں گے،علیمہ خان

    عدالتوں سے انصاف نہیں ملتا تو ہم امریکا میں ڈونلڈلو پر کیس کریں گے،علیمہ خان

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی بہن علیمہ خان نے اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کی ہے

    علیمہ خان کا کہنا تھا کہ سائفر کیس کا ہائیکورٹ سے اسٹے آرڈر ہوگیا ہے یہ وہ دفعات لگائی جارہی ہیں جس پر سابق وزیراعظم کو سزائے موت اور عمر قید ہوسکتی ہے، بتایا جائے عمران خان نے کیا ایسا جرم کیا جس پر یہ دفعات لگائی گئی ہیں، رانا ثناء اللہ نے پی ٹی آئی چیئرمین پر کیس کیا پاکستان میں انصاف ملنا چاہیے،دھمکی امریکہ نے دی اور جیل میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو بند کیا،سائفر تو ایک میسج تھا، میسج تو امریکہ سے آیا، ڈونلڈ لو کا میسج تھا، اس سے پوچھا جانا چاہئے تھا کہ میسج کیوں بھیجا، الٹا عمران خان اور قریشی کو بند کر دیا، کیونکہ انہوں نے اپنی ڈیوٹی نبھاتے ہوئے قوم کو امریکی دھمکی سے آگاہ کیا، فکر نہ کریں ہم ساتھ کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے، تب تک کھڑے رہیں گے جب تک عمران خان کو باہر نہیں نکالتے،

    علیمہ خان کا کہنا تھا کہ وہ دفعات لگائی جا رہی ہیں جس پر ہائیکورٹ کے جج نے کہا کہ سزائے موت یا عمر قید ہو سکتی ہے، یہ سوچ لیں کہ کس وجہ سے ایسا چارج لگایا گیا، کونسا جرم انہوں نے کیا،کہ سزائے موت یا عمر قید کی سزا ہو،ڈونلڈ لو جس نے پیغام پاکستان بھیجا ، اس پیغام کو عمران خان نے بہتر سمجھا کہ اپنی قوم کو بتائیں، اسکے اوپر رانا ثناء اللہ نے کیس کیا، عمران خان پر،اب کس کی سیکرٹ تھی جو ڈونلڈ لو نے پیغام بھیجا تھا، پاکستان میں انصاف نہیں ملتا، ڈونلڈلو کے خلاف ہم امریکہ میں کیس کریں گے،عمران خان نے بھی یہی کہا ہے، ہماری ملاقات ہوئی ،گھریلو ماحول بارے باتیں ہوئیں،سائفر کے اوپر واضح کہہ دوں کہ عمران خان نے کہا کہ امریکی ایمبیسی انوالو تھی،آپکا خیال ہے ہم چیزیں برادشت کریں گے تو ایسا نہیں ہوگا.

    علیمہ خان کا کہنا تھا کہ عمران خان بالکل اچھی صحت میں ہیں. انہوں نے بتایا اچھی روٹین بنی ہوئی ہے،ورزش کا موقع ملتا ہے، کتابیں پڑھنے کا بھی موقع ملتا ہے، انہوں نے کھانے کی بھی کوئی شکایت نہیں کی، وہ جیل کے کھانے سے مطمئن ہیں،آج دو کیسز تھے،سائفر اور پھر نیب والا کیس،

    جو کام حکومتیں نہ کر سکیں،آرمی چیف کی ایک ملاقات نے کر دیا

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم امتناع،اڈیالہ جیل میں سماعت ملتوی

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے خلاف سائفر کیس کی سماعت ہوئی

    اڈیالہ جیل راولپنڈی میں سائفر کیس کی سماعت ہوئی، عدالت نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کو سامنے رکھتے ہوئے سماعت 21نومبر تک بغیر کارروائی کے ملتوی کردی، سماعت کے بعد ایف آئی اے کے سپیشل پراسیکیوٹر نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم امتناع کی روشنی میں عدالت نے سماعت ملتوی کی ہے، سرکاری پراسکیوشن کی جانب سے گواہ بھی پیش نہیں کیا گیا

    دوسری جانب گزشتہ روز تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے سائفر کیس کے حوالہ سے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی جس میں مقدمہ خارج کرنے کی استدعا کی گئی ، درخواست وکیل لطیف کھوسہ نے دائر کی جس میں وفاقی حکومت، ایف آئی اے اور تفتیشی افسر کو فریق بنایا گیا، علاوہ ازیں سائفر کیس میں عمران خان کی درخواست ضمانت سپریم کورٹ نے 22 نومبر کو سماعت کے لیے مقرر کردی جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں بنچ سماعت کرے گا جسٹس یحیی آفریدی اور جسٹس عائشہ ملک بھی بنچ کا حصہ ہیں عمران خان کی فرد جرم کی کاروائی کے خلاف بھی سماعت ہو گی

    واضح رہے کہ سائفر کیس میں عمران خان کی درخواست ضمانت ہفتے کے روز اسلام آباد ہائیکورٹ نے مسترد کر دی تھی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے 20 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا،تحریری فیصلے میں عدالت نے کہا کہ بادی النظر میں مقدمہ میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی سیکشن فائیو کا اطلاق ہوتا ہے،پراسیکیوشن کا کیس ہے کہ وزارت خارجہ نے سائفر کو ڈی کوڈ کر کے پرائم منسٹر سیکرٹریٹ کو بھجوایا،چیئرمین پی ٹی آئی نے بطور وزیراعظم سائفر کو وصول کیا اور بظاہر گم کر دیا،چیئرمین پی ٹی آئی نے سائفر کے مندرجات کو ٹوئسٹ کر کے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا

    جو کام حکومتیں نہ کر سکیں،آرمی چیف کی ایک ملاقات نے کر دیا

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    واضح رہے کہ سائفرکیس میں عمران خان جوڈیشیل ریمانڈ پر جیل میں ہیں، جیل میں ہی کیس کی سماعت ہوتی ہے، عمران خان پر فردجرم عائد ہو چکی ہے، اگلی سماعت پر گواہان کے بیانات ریکارڈ ہوں گے، شاہ محمود قریشی بھی سائفر کیس میں ریمانڈ پر ہیں.

  • سائفر کیس  خصوصی عدالت کے خلاف اپیل پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت جاری

    سائفر کیس خصوصی عدالت کے خلاف اپیل پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت جاری

    اسلام آباد: عمران خان کی آفیشل سیکریٹ ایکٹ خصوصی عدالت جج تعیناتی اور جیل سماعت کے خلاف اپیل پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت جاری ہے-×117×73×2
    باغی ٹی وی :عمران خان کی آفیشل سیکریٹ ایکٹ خصوصی عدالت جج تعیناتی اور جیل سماعت کے خلاف اپیل پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس میاں گل اورنگزیب سماعت کر رہے ہیں،اٹارنی جنرل ، ایف آئی اے پراسیکوٹرز ، عمران خان کے وکلا کمرہ عدالت میں موجود ہیں-

    دوارن سماعت اٹارنی جنرل نےجسٹس عامرفاروق کا جاری فیصلہ پڑھ کر سنایا تو جسٹس میاں گل نے سوال کیا کہ کس پراسس کےتحت عمران خان کے جیل ٹرائل کے نوٹیفیکیشن جاری ہوئے؟جیسے آپ نے سنگل جج کو متاثر کیا تھاہمیں بھی کردیں۔

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے اٹارنی جنرل سے اہم مکالمہ کیا کہ ہمیں خوشی ہے کہ کمرہ عدالت جیل میں اب بڑا ہے لیکن کیا آپ نے ہمارا آرڈر پڑھا ہے ؟ ہم نے سوال اٹھایا تھا کہ جیل ٹرائل کے حوالے سے جو دو نوٹیفکیشن جاری ہوئے کیا وہ قانون کے مطابق تھے اوپن ٹرائل کا مطلب ہے ہر کسی کے لئے اوپن ہو گا آپ نے جس طرح سنگل بنچ کو مطمئن کیا اسی طرح ہمیں بھی مطمئن کریں-

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے آفیشل سیکریٹ ایکٹ خصوصی عدالت جج کے وزارت قانون کو لکھے خط کو پڑھتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ یہ جج صاحب کہہ کیا رہے ہیں ؟ ان خطوط کی لینگوئج کچھ عجیب سی ہے ، ایسے لگ رہا ہے وہ کہہ رہے ہیں اگر آپ چاہتے ہیں میں desire دے دیتا ہوں-

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ آپ کو پتہ ہے اس کیس میں جرم ثابت ہونے پر سزائے موت ہو سکتی ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ جی معلوم ہے، امید ہے ایسا نہیں ہو گا،جس پر وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ یہ اچھے آدمی ہیں ، خود کہہ رہے کہ پراسیکیوشن میں کامیاب نہیں ہوں گے،،جس پر عدالت میں قہقہے گونجے-

  • سائفر کیس : اپیل پر سماعت آج اسلام آباد ہائیکورٹ میں ہوگی

    سائفر کیس : اپیل پر سماعت آج اسلام آباد ہائیکورٹ میں ہوگی

    اسلام آباد: چیئرمین پی ٹی آئی کی سائفر کیس میں اپیل پر سماعت آج اسلام آباد ہائیکورٹ میں ہوگی-

    باغی ٹی وی: اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیئرمین پی ٹی آئی کی سائفر کیس میں اپیل پر سماعت آج ہوگی، اپیل میں جج کی تعیناتی بھی کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہےجسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز اپیل پر سماعت کریں گے، عدالت نے سائفر کیس کے جیل ٹرائل پر آج تک حکمِ امتناعی جاری کر رکھا ہے اور اٹارنی جنرل سے جیل ٹرائل کی وجوہات پر مشتمل تمام ریکارڈ طلب کر رکھے ہیں عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کے سائفر کیس میں اب تک ہو چکے ٹرائل پر بھی سوال اٹھا رکھا ہے۔

    بنوں میں چیک پوسٹ پر شرپسندوں کا حملہ

    واضح رہے کہ دور وز قبل اسلام آباد ہائی کورٹ نے خصوصی عدالتوں کو چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم دیتے ہوئے حکم امتناعی جاری کیا تھا اور کیس کی سماعت 16 نومبر تک ملتوی کردی تھی۔

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

  • سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے سائفر کیس میں شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد کردی

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیا، عدالت نے شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد کر دی،شاہ محمود قریشی نے ضمانت پر رہائی کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے محفوظ شدہ فیصلہ سنادیا

    سائفر کیس کا ٹرائل چار ہفتوں میں مکمل کرنے کا حکم
    سائفر کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا حکم سامنے آیا ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ نے سائفر کیس کا ٹرائل چار ہفتوں میں مکمل کرنے کا حکم دے دیا،سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد کر دی گئی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے تحریری فیصلہ جاری کردیا،سائفر کیس میں شاہ محمود قریشی کی ضمانت مسترد کرنے کا 10 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا گیا،فیصلے میں کہا گیا کہ شاہ محمود قریشی کو سائفر کیس میں آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے سیکشن 9 کے تحت نامزد کیا گیا ہے، شاہ محمود قریشی پر سائفر کیس میں جرم کی حوصلہ افزائی اور معاونت کے الزامات ہیں، قانون کے مطابق جرم کی معاونت کرنے والے پر بھی اتنی ہی ذمہ داری عائد ہوتی ہے جتنی جرم کرنے والے ہر ہوتی ہے، سائفر کیس میں مرکزی ملزم چیئرمین پی ٹی آئی کو آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی سیکشن 5 کے تحت نامزد کیا گیا ہے، سیکشن 5 کے تحت جرم کے ارتکاب کی سزا عمر قید یا سزائے موت ہے،آفیشل سیکریٹ ایکٹ کا سیکشن 9 کہتا ہے کہ جرم پر اکسانے یا معاونت پر بھی وہی سزا ہوگی جو سیکشن 5 میں درج ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ مرکزی ملزم چیئرمین پی ٹی آئی کی ضمانت کی درخواست 16 اکتوبر کو مسترد کر چکی ہے،شاہ محمود قریشی کی ضمانت بھی مرکزی ملزم سے جڑی ہوئی ہے، درخواست گزار کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 248 کے تحت استثنیٰ بھی مانگا گیا ہے،آرٹیکل 248 شاہ محمود قریشی کے کیس میں لاگو ہی نہیں ہوتا، آرٹیکل 248 کا اطلاق سرکاری ذمہ داریاں نبھانے کے حوالے سے کیا جاتا ہے، شاہ محمود قریشی پر الزام ہے کہ انہوں نے 27 مارچ 2023 کو جلسے میں تقریر کے دوران جرم کی حوصلہ افزائی، معاونت کی،ایک جلسے میں تقریر کرنا سرکاری ذمہ داریوں میں شامل نہیں، لحاظہ آرٹیکل 248 کا اطلاق نہیں ہوتا،شاہ محمود قریشی کی ضمانت کی درخواست مسترد کی جاتی ہے،خصوصی عدالت یہ حکم نامہ موصول ہونے کے 4 ہفتوں کے اندر اندر ٹرائل مکمل کرے،

    کیس کی سماعت کے دوران ایف آئی اےکے پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے درخواست ضمانت کی مخالفت کر دی جس پر چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ لیکن یہ تو ضمانت کی درخواست ہے ، رضوان عباسی نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے تناظر میں سرٹیفیکیٹ جمع کروانا ہوتا وہ نہیں ہے ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ سرٹیفیکیٹ شریک ملزم کا نہیں ہے لیکن اسکا ریفرنس تو دیا ہوا ہے ،وکیل شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کریمنل کیسز میں اگر دس کیسز ہیں تو دس وکیل بھی ہو سکتے ہیں ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہاکہ ایسے معاملات میں دیگر کیسز کو یکجا کردیا جاتا ہے ، ہمارے ہاں بہت ساری غلطیاں ہوتی ہیں ہم اس کو مان لیتے ہیں ، وکیل شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے میرے موکل کی ضمانت خارج کردی تھی ،

    وکیل راجہ رضوان عباسی نے کہا کہ کچھ حقائق عدالت کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں ،9 اکتوبر کو کاپیز کی نقول شاہ محمود قریشی کو دی گئیں تھیں ، 17 اکتوبر کو شاہ محمود قریشی نے 9 اکتوبر کے آرڈر پر دستخط کئے تھے، 23 اکتوبر کو قانونی تقاضے پورے کرکے فرد جرم عائد ہوئی تھی، قانون میں صرف کاپیز فراہم کرنے کا ذکر ہے، ملزم کے وصول کرنے کا نہیں، اگر ملزم تعاون نا کر کے کاپیز وصول نا کرے تو اس سے عدالت کا کوئی تعلق نہیں، عدالت نے کاپیز سپلائی کر دیں، مقدمہ اس عدالت کے دائرہ اختیار میں تھا مگر لاہور ہائی کورٹ کا ایک سال تک حکم امتناع رہا، ایف آئی اے نے حکم امتناع خارج ہونے پر انکوائری مکمل ہونے پر کمپلینٹ پر مقدمہ درج کیا، کچھ آڈیو لیکس بھی اس کیس میں تھیں، پٹشنرز نے لاہور ہائیکورٹ میں ایف آئی اے کے نوٹسز چیلنج کئے،ایک سال سے اس کیس میں لاہور ہائیکورٹ میں اسٹے رہا ہے پھر انہوں نے وہ پٹیشن واپس لے لی، اس کے بعد ایف آئی اے نے کاروائی شروع کی ایف آئی اے کے اندراج میں کوئی ڈیلے نہیں ہے، ، شاہ محمود قریشی نے سنگین جرم کیا اور وہ ضمانت کی رعائت کے مستحق نہیں عدالت ضمانت کی درخواست مسترد کرے

    سائفر کیس میں ایف آئی اے اسپیشل پراسیکیوٹر ذوالفقار عباس نقوی نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے سامنے کہاکہ ہم 15 سے 20 دن میں سائفر کیس کا ٹرائل مکمل کر سکتے ہیں اگر عدالت ہمیں 15 سے 20 روز یا زیادہ سے زیادہ ایک ماہ دے تو ٹرائل مکمل کر دیں گے یہ تو یہ ٹرائل کو آگے نہیں بڑھنے دیتے یہ کہتے ہیں ہر سماعت پر تین تین گواہوں کے بیانات ریکارڈ کریں ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ یہ جیل ٹرائل ہے، ان کیمرا ٹرائل نہیں ، جیل ٹرائل کس انداز میں چل رہا ہے؟ سپیشل پراسیکیوٹر شاہ خاور نے کہا کہ اٹارنی جنرل نے ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ کو بتایا ہے کہ وہ تحفظات دیکھیں گے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ جیل ٹرائل کا مطلب ہے کہ اوپن پبلک کورٹ پروسیڈنگ نہیں،سپیشل پراسکیوٹر نے کہا کہ جیل ٹرائل میں پبلک کی رسائی منع نہیں مگر محدود ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ جیل ٹرائل کے دوران تو صرف وہ لوگ ٹرائل پروسیڈنگ دیکھ سکیں گے جنہیں جیل حکام اجازت دیں.

    واضح رہے کہ سائفر کیس میں عمران خان کی درخواست ضمانت ہفتے کے روز اسلام آباد ہائیکورٹ نے مسترد کر دی تھی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے 20 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا،تحریری فیصلے میں عدالت نے کہا کہ بادی النظر میں مقدمہ میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی سیکشن فائیو کا اطلاق ہوتا ہے،پراسیکیوشن کا کیس ہے کہ وزارت خارجہ نے سائفر کو ڈی کوڈ کر کے پرائم منسٹر سیکرٹریٹ کو بھجوایا،چیئرمین پی ٹی آئی نے بطور وزیراعظم سائفر کو وصول کیا اور بظاہر گم کر دیا،چیئرمین پی ٹی آئی نے سائفر کے مندرجات کو ٹوئسٹ کر کے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا

    جو کام حکومتیں نہ کر سکیں،آرمی چیف کی ایک ملاقات نے کر دیا

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • سائفر کیس: چیئرمین پی ٹی آئی کا جیل ٹرائل روکنے کا تحریری حکم نامہ جاری

    سائفر کیس: چیئرمین پی ٹی آئی کا جیل ٹرائل روکنے کا تحریری حکم نامہ جاری

    اسلام آباد: ہائی کورٹ نے سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کا جیل ٹرائل روکنے کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا۔

    باغی ٹی وی :تحریری حکم نامہ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے جاری کیا ، جس میں عدالت نے کہا کہ بادی النظر میں چیئرمین پی ٹی آئی کے جیل ٹرائل کو اوپن ٹرائل نہیں کہا جا سکتا جیل ٹرائل کے لیے پیشگی شرائط پوری کرنے کی کوئی دستاویز ریکارڈ پر نہیں لائی گئی،اگر ایسی کوئی دستاویز موجود ہے تو آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش کی جائے۔

    تحریری حکم نامے میں کہا گیا کہ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ وفاقی کابینہ نے چیئرمین پی ٹی آئی کے جیل ٹرائل کی منظوری دی ہےاٹارنی جنرل وفاقی کابینہ کے فیصلے کی کاپی عدالت کے سامنے پیش نہیں کر سکے اٹارنی جنرل وہ سمری بھی پیش نہ کر سکے جس کی بنیاد پر کابینہ نے فیصلہ کیا۔

    190 ملین پاؤنڈزکرپشن کیس، جیل ٹرائل کا نوٹفکیشن جاری

    تحریری حکمنامے میں مزید کہا گیا کہ کیس کےانصاف پر مبنی فیصلے کےلیےمطلوبہ دستاویزات ریکارڈ پر لانا لازم ہےانہیں دستاویزات کی روشنی میں اپیل کنندہ کے بنیادی حقوق متاثر کرنے کے قانونی نکتے پر بھی فیصلہ کرنا ہے، عدالت سائفر کیس کے ٹرائل پر آئندہ سماعت تک حکم امتناع جاری کرتی ہے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم