Baaghi TV

Tag: سائفر کیس

  • پہلی دفعہ پاکستان کی تاریخ میں عدالتیں جیل میں تشریف لارہی ہیں،لطیف کھوسہ

    پہلی دفعہ پاکستان کی تاریخ میں عدالتیں جیل میں تشریف لارہی ہیں،لطیف کھوسہ

    چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل سردار لطیف کھوسہ اور نعیم حیدر پنجوتھہ اڈیالہ جیل پہنچ گئے۔

    سردار لطیف کھوسہ نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کا جیل ٹرائل روک دیا ہے۔جیل ٹرائل اوپن ٹرائل نہیں انصاف ہوتا ہوا نظر آنا چاہئیے۔بند کمروں کے ٹرائل میں عوام کو رسائی نہیں۔جیل ٹرائل بنیادی انسانی حقوق کے متصادم ہے۔سارے مقدمات بد نیتی پر مبنی ہیں۔ پہلی دفعہ پاکستان کی تاریخ میں عدالتیں جیل میں تشریف لارہی ہیں۔پہلے ملزم عدالت میں پیش ہوتا تھا اب عدالتیں ملزمان کے پاس چل کر آتی ہیں۔ کفر کی ریاستیں چل سکتی ہیں نا انصافی کی نہیں۔عدالتیں ضرور انصاف کرینگی ہم انصاف کیلئے کوشاں ہیں۔نیب کے لوگ اتنے جھوٹے ہیں غلط قانون کی تین تاریخیں پڑوائیں۔

    قبل ازیں شاہ محمود قریشی کے وکیل بیرسٹر تیمور ملک نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ساڑھے 6 گھنٹے سماعت جاری رہی، شاہ محمود قریشی کی دو درخواستوں پر سماعت ہوئی ،وزرات خارجہ کی ایک خاتون افسر کا بیان قلمبند ہوا،ہمیں باہر سے بتایا گیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے اوپن کورٹ پر حکم امتناع جاری کیا،17 نومبر کو سائفر سے متعلق سماعت ہو گی، ہمارا نقطہ تھا کہ ہمیں سائفر دستاویزات دی جائیں، سائفر دستاویزات نہ ملنے اور میٹنگ منٹس نہ ملنے پر ہائی کورٹ سے رجوع کریں گے،کمرہ عدالت میں ہم نے 15 صفحات کو پڑھا اس میں کچھ بھی سیکریٹ نہیں ہے،جو دستاویزات ریکارڈ کا حصہ ہے وہ پبلک دستاویزات ہیں وہ ملنی چاہئے،فیملی ممبران کو آج کی سماعت میں جانے کی اجازت دی گئی ہے،شاہ محمود قریشی کی دو بیٹاں آج کی سماعت میں شامل تھیں،گواہان پر تفصیل کے ساتھ جرح ہوئی ہے،ہم عدالت کے ساتھ تعاون کرنا چاہتے ہیں

    اڈیالہ جیل کے باہر ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر شاہ خاور نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سائفر کیس سے قبل پی ٹی آئی چیرمین کی عبوری ضمانت کی درخواستوں پر سماعت ہوئی جس پر وقت زیادہ لگا، سائفر کیس میں دو گواہان کے بیانات قلم ہوئے اور ایک پر جرح مکمل کر لی گئی،اسلام آباد ہائی کورٹ کا سائفر کیس میں حکم امتناعی سے متعلق زبانی بتایا، اگر تحریری حکم آتا ہے تو اس کی سماعت ہائی کورٹ کے حکم امتناعی کی سماعت مکمل ہونے تک نہیں ہو سکتی،

    جو کام حکومتیں نہ کر سکیں،آرمی چیف کی ایک ملاقات نے کر دیا

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم دے دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی کی اپیل پر اسٹے آرڈر جاری کر دیا،اسلام آباد ہائیکورٹ نے 16 نومبر تک سائفر کیس کی سماعت روکنے کا حکم دے دیا. اسٹے نا دینے کی اٹارنی جنرل کی استدعا اسلام آباد ہائیکورٹ نے مسترد کردی، اٹارنی جنرل اور ایف آئی اے پراسیکوٹر نے بار بار استدعا کی کہ سماعت کل تک ملتوی کر دیں اسٹے نا دیں ،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ جمعرات کے لیے کیس رکھ رہے ہیں سارا ریکارڈ لے کر آئیں کیوں جیل ٹرائل کر رہے ہیں ،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے عمران خان کے خلاف سائفر کیس کے جیل ٹرائل پر حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے ٹرائل آگے بڑھانے سے روک دیا. اس سے پہلے اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق درخواست ہی مسترد کر دی تھی جس کے خلاف اپیل دائر کی گئی تھی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے ڈویژن بنچ نے اے ٹی سی جج کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کا چارج دینے پر بھی سوال اٹھا دیا! جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کے جج کی تعیناتی کا آغاز وفاقی حکومت نے کیا.چیف جسٹس کی رائے لی گئی لیکن حتمی فیصلہ بھی وفاقی حکومت نے ہی کیا،

    اسلام آباد ہائیکورٹ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی اوپن کورٹ سماعت اور جج آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کی تعیناتی کے خلاف انٹراکورٹ اپیل پر سماعت ہوئی،اٹارنی جنرل نے دلائل کا آغاز کردیا،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس ثمن رفعت امتیازنے کیس کی سماعت کی،چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجہ عدالت میں پیش ہوئے،ڈپٹی اٹارنی جنرل ارشد کیانی بھی عدالت میں پیش ہوئے،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ خاندان کے چند افراد کو سماعت میں جانے کی اجازت کا مطلب اوپن کورٹ نہیں ، جس طرح سے سائفر کیس میں فرد جرم عائد کی گئی اسے بھی اوپن کورٹ کی کارروائی نہیں کہہ سکتے ،اٹارنی جنرل آف پاکستان نے عدالت کو ٹرائل کی کارروائی سے متعلق آگاہ کیا اور کہا کہ وفاقی کابینہ نے سائفر کیس کے جیل ٹرائل کی منظوری دی ، وفاقی کابینہ کی جیل ٹرائل منظوری کا نوٹیفکیشن عدالت کے سامنے پیش کر دیں گے ،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وہ نوٹیفکیشن ہم دیکھیں گے اس میں کیا لکھا ہوا ہے ، تمام ٹرائلز تمام ٹرائلز اوپن کورٹ میں ہوں گے اس طرح تو یہ ٹرائل غیر معمولی ٹرائل ہو گا ، ہم جاننا چاہتے ہیں کہ ایسے کیا غیر معمولی حالات تھے کہ یہ ٹرائل اس طرح چلایا جارہا ہے ؟آپ نے ہمیں بتانا ہے کہ دراصل ہوا کیا ہے ، اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں تمام متعلقہ اداروں سے ریکارڈ لیکر عدالت کے سامنے رکھ دوں گا، عدالت نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کب کن حالات میں کسی بنیاد پر یہ فیصلہ ہوا کہ جیل ٹرائل ہو گا ، وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ پانچ گواہ اس وقت بھی جیل میں بیانات ریکارڈ کرانے کے موجود ہیں ، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے سوالات ہیں جن کے جوابات دینے کی ضرورت ہے، وفاقی کابینہ نے دو دن پہلے جیل ٹرائل کی منظوری دی، کیا وجوہات تھیں کہ وفاقی کابینہ نے جیل ٹرائل کی منظوری دی؟ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ منظوری سے پہلے ہونے والی عدالتی کارروائی کا سٹیٹس کیا ہو گا؟

    واضح رہے کہ سائفر کیس کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہو رہی ہیں، چند روز قبل اڈیالہ جیل کے باہر سے بارودی مواد بھی ملا تھا، عمران خان اور تحریک انصاف کا موقف ہے کہ اوپن کورٹ میں ٹرائل کیا جائے، حکومت کا موقف ہے کہ ٹرائل جیل میں ہی ہو گا، اب تک عمران خان اوپن ٹرائل کے لئے تین درخواستیں دائر کر چکے ہیں

    سائفر معاملہ؛ اعظم خان کے بعد فارن سیکرٹری بھی عمران خان کیخلاف گواہ بن گئے

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

  • سائفر کیس، اڈیالہ جیل میں سماعت،سمری منظور

    سائفر کیس، اڈیالہ جیل میں سماعت،سمری منظور

    اسلام آباد ہائیکورٹ، سائفر کیس ،سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے جیل ٹرائل کے لیے وزارت قانون کی سمری منظور کر لی گئی

    نگران وفاقی کابینہ نے جیل ٹرائل کے لیے وزارت قانون کی سمری منظور کرتے ہوئے جیل ٹرائل کی منظوری دے دی،چیئرمین پی ٹی آئی کی جیل ٹرائل کے خلاف انٹراکورٹ اپیل پر سماعت کل 14 نومبر کو ہوگی ،عدالت نے 14 نومبر کو اٹارنی جنرل سے دلائل طلب کر رکھے ہیں ،چیئرمین پی ٹی آئی، شاہ محمود قریشی قریشی کےخلاف 14 نومبرکوسائفرکیس کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہوگی،چیئرمین پی ٹی آئی کیخلاف سائفرکیس کےجیل ٹرائل کی منظوری کیلئےوزارت قانون کی وفاقی کابینہ کوسمری ارسال کی گئی،سمری میں کہا گیا کہ وزارت داخلہ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی عدالت کے جج ابوالحسنات نےجیل ٹرائل کی سفارش کی،چیئرمین پی ٹی آئی کودرپیش سیکیورٹی خدشات پر جیل ٹرائل کی سفارش کی گئی،

    واضح رہے کہ سائفر کیس کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہو رہی ہیں، چند روز قبل اڈیالہ جیل کے باہر سے بارودی مواد بھی ملا تھا، عمران خان اور تحریک انصاف کا موقف ہے کہ اوپن کورٹ میں ٹرائل کیا جائے، حکومت کا موقف ہے کہ ٹرائل جیل میں ہی ہو گا، اب تک عمران خان اوپن ٹرائل کے لئے تین درخواستیں دائر کر چکے ہیں

    سائفر معاملہ؛ اعظم خان کے بعد فارن سیکرٹری بھی عمران خان کیخلاف گواہ بن گئے

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

  • ہائیکورٹ نے کیس نمٹا کرتعصب کا مظاہرہ کیا،عمران خان کی سپریم کورٹ میں درخواست

    ہائیکورٹ نے کیس نمٹا کرتعصب کا مظاہرہ کیا،عمران خان کی سپریم کورٹ میں درخواست

    چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف سائفر کیس میں فرد جرم عائد کرنے کا معاملہ،سابق وزیراعظم نے ٹرائل کورٹ کی جانب سے فرد جرم عائد کرنے کی کاروائی سپریم کورٹ میں چیلنج کردی

    چیئرمین پی ٹی آئی نے وکیل حامد خان کے ذریعے درخواست دائر کردی،درخواست میں استدعا کی کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا 26 اکتوبر کا حکمنامہ کالعدم قرار دیا جائے،عدالت سپیشل کورٹ کا فرد جرم عائد کرنے کا 23 اکتوبر کا حکمنامہ آئین و قانون کے خلاف قرار دے،درخواستگزار چند ایماندار اور معزز سیاستدانوں میں سے ایک ہے جو قومی اور بین الاقوامی سطح پر اچھی ساکھ رکھتا ہے، درخواست گزار کو مخالفین کی جانب سے سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، سیاسی انتقام کا دائرہ درخواست گزار کی سیاسی جماعت اور اتحادیوں تک پھیلا دیا گیا ہے، درخواست گزار کو نشانہ بنانے سے متعلق عدالت کو آگاہ کرنا ضروری ہے،سابق وزیراعظم اور ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کا سربراہ ہونے کے باوجود درخواست گزار کے خلاف لگ بھگ 200 مقدمات بنائے گئے ہیں، درخواست گزار کے خلاف دہشت گردی، بغاوت اور غداری، توشہ خانہ سمیت سنگین مقدمات قائم کیے گئے ہیں،ان مقدمات کا مقصد درخواست گزار کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانا اور سیاسی طور پر تنہا کرنا ہے،

    عمران خان کی سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا کہ ایک تکلیف دہ رجحان دیکھنے میں آیا ہے کہ ریاستی مشینری جعلی مقدمات بنانے کے لیے قابلِ اعتراض مقصد کے تحت استعمال کی جا رہی ہے، درخواست گزار کے معاملے میں ایف آئی اے میں آزادی اور انصاف پسندی کے عنصر کی نمایاں کمی نظر آتی ہے، فارن فنڈنگ کیس میں ضمانت حاصل کرنے کے بعد ایف آئی اے کا سارا فوکس سائفر کیس پر مرکوز ہو چکا ہے، درخواست گزار کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے ایف آئی اے کی کوششوں سے ادارے کی ساکھ اور غیر جانبداری سے متعلق شکوک وشبہات پیدا ہوتے ہیں، ہائیکورٹ کے فیصلے میں سپیشل کورٹ کے عبوری حکم کو چیلنج کرنے میں ناکامی پر زور دیا گیا ہے، ہائیکورٹ نے کیس نمٹا کر درخواست گزار کے ساتھ تعصب کا مظاہرہ کیا، سپیشل کورٹ نے قانون کے مطابق دستاویزات کی فراہمی اور چارج فریم کرنے کے درمیان 7 روز کی مہلت دی، ایک سابق وزیراعظم اور وزیر خارجہ کے خلاف سائفر کا پیچیدہ کیس بنایا گیا، ایک صدی پرانے قانون کے اطلاق کے معاملے میں تمام فریقین بشمول درخواست گزار، جج اور وکلا کو انتہائی احتیاط کی ضرورت ہے،ٹرائل کورٹ نے عجلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرد جرم عائد کرنے اور ٹرائل مکمل کرنے کی کوشش کی،کیس میں عجلت سے درخواست گزار کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا، کیس میں عجلت کی وجہ سے شفاف ٹرائل کے آئینی حق کی خلاف ورزی ہوئی، عقلمندی کا تقاضا ہے کہ الزامات کو سمجھ کر جواب جمع کرانے کا مناسب موقع ملنا چاہیے، چارج فریم کرنے کی کاروائی نے سنگین سوالات کو جنم دیا جائے،سپیشل کورٹ نے درخواست گزار اور اس کے وکلاء کی عدم موجودگی میں نامعلوم وقت پر نوٹ لکھا، درخواست گزار کے خلاف پورا ٹرائل غیر قانونی اور دائرہ اختیار سے تجاوز ہے،

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    واضح رہے کہ سائفرکیس میں عمران خان جوڈیشیل ریمانڈ پر جیل میں ہیں، جیل میں ہی کیس کی سماعت ہوتی ہے، عمران خان پر فردجرم عائد ہو چکی ہے، اگلی سماعت پر گواہان کے بیانات ریکارڈ ہوں گے، شاہ محمود قریشی بھی سائفر کیس میں ریمانڈ پر ہیں.

  • سائفر کیس،شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت،وکیل کے دلائل مکمل

    سائفر کیس،شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت،وکیل کے دلائل مکمل

    اسلام آباد ہائیکورٹ: شاہ محمود قریشی کی سائفر کیس میں درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی

    شاہ محمود قریشی کے وکیل علی بخاری عدالت میں پیش ہوئے،ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر شاہ خاور اور رضوان عباسی عدالت میں پیش ہوئے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آج پراسیکیوشن موجود ہے،

    ایف آئی اےکے پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے درخواست ضمانت کی مخالفت کر دی جس پر چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ لیکن یہ تو ضمانت کی درخواست ہے ، رضوان عباسی نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے تناظر میں سرٹیفیکیٹ جمع کروانا ہوتا وہ نہیں ہے ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ سرٹیفیکیٹ شریک ملزم کا نہیں ہے لیکن اسکا ریفرنس تو دیا ہوا ہے ،وکیل شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کریمنل کیسز میں اگر دس کیسز ہیں تو دس وکیل بھی ہو سکتے ہیں ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہاکہ ایسے معاملات میں دیگر کیسز کو یکجا کردیا جاتا ہے ، ہمارے ہاں بہت ساری غلطیاں ہوتی ہیں ہم اس کو مان لیتے ہیں ، وکیل شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے میرے موکل کی ضمانت خارج کردی تھی ، عدالت نے کہا کہ اسکو بعد میں سنتے ہیں دیگر کیسز سن لیتے ہیں پہلے ،

    سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت پر وقفے کے بعد سماعت کا آغاز ہوا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا کیس کا ریکارڈ آگیا؟ شاہ محمود قریشی کے وکیل علی بخاری نے دلائل دیئے،شاہ محمود قریشی کے وکیل سید علی بخاری نے ایف آئی آر پڑھ کر سنائی ،عدالت نے شاہ محمود قریشی کے وکیل سے استفسار کیا کہ اس کیس میں آپکے موکل کا کیا رول ہے؟ وکیل نے کہا کہ آفیشل سیکریٹ انفارمیشن، سائفر کو غیر قانونی رکھنا اور اسکا استعمال کرنا لیکن ایسا کچھ بھی نہیں، یہ سب میں نہیں بلکہ ایف آئی آر کہہ رہی ہے،میرا تو نام بس آخر میں لکھا گیا ہےپہلے سابق وزیراعظم کی درخواست ضمانت خارج ہوئی اور پھر میرے موکل کی،اسی مقدمے میں اعظم خان اور اسد عمر کا نام چالان میں نہیں ہے،مقدمہ میں سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان اور اسد عمر کا ذکر ہے، چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت خارج جبکہ اسد عمر کی ضمانت کنفرم کر دی گئی،چالان کی کاپی درخواست گزار کو احتجاج کرنے پر فراہم کی گئی، 23 اکتوبر کو درخواست گزار پر فرد جرم عائد کر دی گئی،پراسیکوشن کا شکریہ جنہوں چالان جمع کرایا، میرے پاس چالان ہے ہی نہیں، ماسوائے دو بیانات کے، 8 مارچ 2022 کو سائفر آیا اور 27 مارچ 2022 کو جلسے میں بتایا گیا، میری تقریر کو ہی میرے خلاف استعمال کیا گیا، اور وہاں سے میرا کردار شروع ہوگیا،

    علی بخاری نے شاہ محمود قریشی کی پریڈ گراؤنڈ جلسے کی تقریر کی ٹرانسکرپٹ عدالت کو پڑھ کر سنایا،وکیل نے کہا کہ نہ میں نے کسی چیز کا، نہ ہی کسی ملک کا یا کسی شخص کا نام لیا، عدالت نے استفسار کیا کہ یعنی کہ آپ کہنا چاہ رہے ہیں کہ آپ سائفر کا ٹرانسکرپٹ ڈسکلوز نہیں کیا؟ سائفر آنے کے بعد وزیر خارجہ اور سیکرٹری خارجہ نے مشاورت کی کہ سائفر نے کہاں کہاں جانا ہے؟ وکیل شاہ محمود قریشی نے کہا کہ 7 مارچ 2022 کو سائفر آیا اور 8 مارچ 2022 کو ہی کابینہ میٹنگ لایا گیا، جو بھی چیزیں ہوتی ہیں وہ کابینہ اجلاس کے ایجنڈے میں شامل کیا جاتا ہے، کابینہ اجلاس کے ایجنڈے میں جو بھی شامل کیا جاتا ہے وہ پرنسپل سیکرٹری کرتے ہیں جو مقدمے میں ہی نہیں ہے، وزارت خارجہ کا کام ہر معاملے کو وزیراعظم کو بزریعہ پرنسپل سیکرٹری آگاہ کرنا ہے، وزیر اعظم کے ساتھ معلومات شئیر کرنا میری آئینی ذمہ داری ہے، اگر وزیر اعظم کے ساتھ معلومات شئیر نہ کرتا تو حلف کی خلاف ورزی ہوتی،اعظم خان مجسٹریٹ کے سامنے اپنا بیان قلمبند کروا چکے، اعظم خان کا مجسٹریٹ کے سامنے دیا گیا بیان چالان کا حصہ بنایا گیا،اس مقدمہ میں چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کا کردار مختلف ہے،میرے موکل کو کوئی کریمنل ریکارڈ نہیں ،استدعا ہے کہ ضمانت منظور کی جائے ،

    وکیل شاہ محمود قریشی سید علی بخاری کے دلائل مکمل ہو گئے،شاہ محمود قریشی کے وکیل علی بخاری نے مختلف عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیا اور کہا کہ کابینہ اجلاس، ایجنڈا میٹنگز، سارا کچھ پرنسپل سیکرٹری نے کرنا ہے، جس بندے نے سارا کچھ کرنا ہے انکا نام ہی نہیں، جن کا کوئی کردار نہیں، ان پر مقدمہ بنایا گیا،سائفر کیس کا مقدمہ سائفر آنے کے 17 ماہ بعد درج کردیا گیا،وکیل کے دلائل مکمل ہونے کے بعدکیس کی سماعت میں ایک بار پھر وقفہ کردیا گیا ، چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اسکو فی الحال یہیں روک دیں دو بجے باقی سماعت کرینگے ،پراسکیوشن کے وکلا دو بجے کے بعد اپنے دلائل کا آغاز کرینگے

    سائفر کیس میں شاہ محمود قریشی کی ضمانت کی درخواست پر وقفے کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نےکیس کی سماعت کی،ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر راجہ رضوان عباسی نے دلائل کا آغاز کردیا،شاہ محمود قریشی کے وکلاء علی بخاری اور تیمور ملک عدالت میں پیش ہوئے،شاہ محمود قریشی کی فرد جرم کی کاروائی کے فیصلے کے خلاف درخواست پر بھی سماعت ہوئی، وکیل راجہ رضوان عباسی نے کہا کہ کچھ حقائق عدالت کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں ،9 اکتوبر کو کاپیز کی نقول شاہ محمود قریشی کو دی گئیں تھیں ، 17 اکتوبر کو شاہ محمود قریشی نے 9 اکتوبر کے آرڈر پر دستخط کئے تھے، 23 اکتوبر کو قانونی تقاضے پورے کرکے فرد جرم عائد ہوئی تھی، قانون میں صرف کاپیز فراہم کرنے کا ذکر ہے، ملزم کے وصول کرنے کا نہیں، اگر ملزم تعاون نا کر کے کاپیز وصول نا کرے تو اس سے عدالت کا کوئی تعلق نہیں، عدالت نے کاپیز سپلائی کر دیں، مقدمہ اس عدالت کے دائرہ اختیار میں تھا مگر لاہور ہائی کورٹ کا ایک سال تک حکم امتناع رہا، ایف آئی اے نے حکم امتناع خارج ہونے پر انکوائری مکمل ہونے پر کمپلینٹ پر مقدمہ درج کیا، کچھ آڈیو لیکس بھی اس کیس میں تھیں، پٹشنرز نے لاہور ہائیکورٹ میں ایف آئی اے کے نوٹسز چیلنج کئے،ایک سال سے اس کیس میں لاہور ہائیکورٹ میں اسٹے رہا ہے پھر انہوں نے وہ پٹیشن واپس لے لی، اس کے بعد ایف آئی اے نے کاروائی شروع کی ایف آئی اے کے اندراج میں کوئی ڈیلے نہیں ہے، ، شاہ محمود قریشی نے سنگین جرم کیا اور وہ ضمانت کی رعائت کے مستحق نہیں عدالت ضمانت کی درخواست مسترد کرے ، ایف آئی اے اسپیشل پراسیکیوٹر راجہ رضوان عباسی نے کے دلائل مکمل ہو گئے

    سائفر کیس میں ایف آئی اے اسپیشل پراسیکیوٹر ذوالفقار عباس نقوی نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے سامنے کہاکہ ہم 15 سے 20 دن میں سائفر کیس کا ٹرائل مکمل کر سکتے ہیں اگر عدالت ہمیں 15 سے 20 روز یا زیادہ سے زیادہ ایک ماہ دے تو ٹرائل مکمل کر دیں گے یہ تو یہ ٹرائل کو آگے نہیں بڑھنے دیتے یہ کہتے ہیں ہر سماعت پر تین تین گواہوں کے بیانات ریکارڈ کریں ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ یہ جیل ٹرائل ہے، ان کیمرا ٹرائل نہیں ، جیل ٹرائل کس انداز میں چل رہا ہے؟ سپیشل پراسیکیوٹر شاہ خاور نے کہا کہ اٹارنی جنرل نے ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ کو بتایا ہے کہ وہ تحفظات دیکھیں گے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ جیل ٹرائل کا مطلب ہے کہ اوپن پبلک کورٹ پروسیڈنگ نہیں،سپیشل پراسکیوٹر نے کہا کہ جیل ٹرائل میں پبلک کی رسائی منع نہیں مگر محدود ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ جیل ٹرائل کے دوران تو صرف وہ لوگ ٹرائل پروسیڈنگ دیکھ سکیں گے جنہیں جیل حکام اجازت دیں.

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے سائفر کیس میں شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت اور فرد جرم کی کاروائی کے خلاف درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا

    واضح رہے کہ سائفر کیس میں عمران خان کی درخواست ضمانت ہفتے کے روز اسلام آباد ہائیکورٹ نے مسترد کر دی تھی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے 20 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا،تحریری فیصلے میں عدالت نے کہا کہ بادی النظر میں مقدمہ میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی سیکشن فائیو کا اطلاق ہوتا ہے،پراسیکیوشن کا کیس ہے کہ وزارت خارجہ نے سائفر کو ڈی کوڈ کر کے پرائم منسٹر سیکرٹریٹ کو بھجوایا،چیئرمین پی ٹی آئی نے بطور وزیراعظم سائفر کو وصول کیا اور بظاہر گم کر دیا،چیئرمین پی ٹی آئی نے سائفر کے مندرجات کو ٹوئسٹ کر کے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا

    جو کام حکومتیں نہ کر سکیں،آرمی چیف کی ایک ملاقات نے کر دیا

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • مستقل بات کروانا جیل رولز کا حصہ نہیں، عدالت میں جواب جمع

    مستقل بات کروانا جیل رولز کا حصہ نہیں، عدالت میں جواب جمع

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی بیٹوں سے ٹیلی فون گفتگو کرانے کی درخواست پر سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل اسد وڑائچ نے آفیشل سیکرٹ ایکٹ خصوصی عدالت میں جواب جمع کرا دیا ،

    جمع کروائے گئے جواب میں کہا گیا کہ ایک دفعہ خصوصی انتظامات کرکے عمران خان کی واٹس ایپ پر بات کرا دی مستقل بات کرانا جیل رولز میں نہیں ہے عدالت اگر مناسب سمجھے تو جیل رولز تبدیلی کے لیے محکمہ داخلہ پنجاب کو ہدایت دے سکتی ہے،اڈیالہ جیل سے بیرون ملک کال کی سہولت موجود نہیں،اڈیالہ جیل میں قیدیوں کو صرف لوکل اور اندرون ملک فون کال کی سہولت ہے،چیئرمین پی ٹی آئی جس کیس میں اڈیالہ جیل میں ہیں اس کیس میں قیدیوں کو ٹیلیفون کی سہولت فراہم نہیں کی جاتی، چیئرمین پی ٹی آئی کو قاسم اور سلمان سے بات نہ کروانے پر اڈیالہ جیل حکام کو آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت قائم عدالت کے جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین نوٹس جاری کیا تھا

    واضح رہے کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت ،چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو بیٹوں سے بات نہ کرانے پرتوہین عدالت درخواست پر سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو نوٹس جاری کر دیا تھا،عدالت نے جیل حکام کو جواب کیلئے نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 8 نومبر تک کیلئے ملتوی کردی تھی،خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے نوٹس جاری کیا،چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل شیراز احمد رانجھا ایڈووکیٹ نے درخواست دائرکی،درخواست میں کہا گیا کہ عدالتی احکامات کے باوجود سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے چیئرمین پی ٹی آئی کی بیٹوں سلمان اور قاسم سے بات نہ کرائی،سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہیں کیا،عدالتی احکامات پر عمل نہ کرنے پر سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی شروع کی جائے،جیل حکام کو چیئرمین پی ٹی آئی کی بیٹوں سے بات کرانے کے حکم پر عمل درآمد کا حکم دیاجائے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

  • جیل ٹرائل،جج کی  تعیناتی، انٹراکورٹ اپیل پر سماعت کل تک ملتوی

    جیل ٹرائل،جج کی تعیناتی، انٹراکورٹ اپیل پر سماعت کل تک ملتوی

    اسلام آباد ہائیکورٹ: چیئرمین پی ٹی آئی کی جیل ٹرائل اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کے جج کی تعیناتی چیلنج کرنے کے خلاف انٹراکورٹ اپیل پر سماعت ہوئی

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز نےسماعت کی،اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان عدالت میں پیش ہوئے،چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجہ عدالت میں پیش ہوئے،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کیس کے حوالے سے غلط رپورٹنگ ہوئی ہے ، اخبار کی وضاحت اتنی نہیں تھی جتنی غلط خبر لیڈنگ اخبار میں چھپی ،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ہمیں بنچ پر مکمل اعتماد ہے ، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے وکیل سلمان اکرم راجہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ اپنے موکل سے ہدایات لے کر عدالت کو آگاہ کر دیں، اگر آپکو اس عدالت پر اعتماد نہیں تو بھی ہمیں بتا دیں، وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ہمیں اس عدالت پر مکمل اعتماد ہے، عدالت نے کہا کہ ایک معروف اخبار میں اس کیس سے متعلق غلط خبر شائع کی گئی،ہائیکورٹ نے اُس غلط خبر پر وضاحتی پریس ریلیز جاری کی، اخبار نے تردید شائع کی لیکن وہ اتنی واضح نہیں تھی جتنی کہ غلط خبر،

    وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ خصوصی عدالت نے شاہ محمود قریشی کے بچوں کی جیل سماعت میں موجودگی کی درخواست خارج کر دی، 2 اکتوبر کو سائفر کیس کا چالان عدالت میں پیش کیا گیا،اگلے روز ایک دستاویز سامنے آیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی سیکیورٹی کیلئے جیل ٹرائل کیا جا رہا ہے، عدالت نے استفسار کیا کہ بعد میں جاری ہونے والے نوٹیفکیشنز سے متعلق سنگل بنچ کے فیصلے میں کیا لکھا گیا؟ وکیل نے کہا کہ سنگل بنچ کے فیصلے میں بعد میں جاری ہونے والے نوٹیفکیشنز سے متعلق کچھ نہیں لکھا گیا،وزارت قانون کے بعد کے نوٹیفیکیشنز بھی پہلے نوٹیفکیشن کا تسلسل ہے،

    عدالت نے استفسار کیا کہ اگر پبلک جیل ٹرائل کو دیکھنا چاہتی ہے تو کیا ان کی انٹری پر پابندی ہے؟جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہاکہ جیل وزٹ کے دوران ہم نے دیکھا تھا کہ وہاں ایک ہال ہے،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہاکہ میڈیا، فیملی ، پبلک اگر جیل ٹرائل دیکھنا چاہے تو ان کو اجازت ہونی چاہئے سب دیکھیں گے اس کیس میں جرم موجود ہی نہیں، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب incompatible manner میں ٹرائل آگے نہ بڑھایا جائے انصاف نہ صرف ہونا چاہیے بلکہ ہوتا ہوا دکھائی بھی دینا چاہیئے،سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی.

  • سائفرکیس، مقدمہ میں اضافی دستاویزات جمع کرانے کے لئے متفرق درخواست دائر

    سائفرکیس، مقدمہ میں اضافی دستاویزات جمع کرانے کے لئے متفرق درخواست دائر

    اسلام آباد ہائی کورٹ، سائفر کیس،چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے جیل ٹرائل اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کے جج کی تعیناتی کے خلاف انٹراکورٹ اپیل میں مقدمہ میں اضافی دستاویزات جمع کرانے کے لئے متفرق درخواست دائر کر دی

    درخواست میں کہا گیا کہ سنگل بنچ نے 12 ستمبر کو عدالت اٹک جیل منتقل کرنے کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کیا، سنگل بنچ نے چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست پر 16 اکتوبر کو فیصلہ سنایا، اِسی دوران وزارتِ قانون نے جیل سماعت کے ہی دو مزید نوٹیفکیشنز جاری کر دیے، وزارت قانون کے دونوں نوٹیفکیشنز کو عدالتی ریکارڈ پر لانا چاہتے ہیں،وزارت قانون کے دونوں نوٹیفکیشن عدالتی ریکارڈ پر لانے کی اجازت دی جائے،

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    واضح رہے کہ سائفرکیس میں عمران خان جوڈیشیل ریمانڈ پر جیل میں ہیں، جیل میں ہی کیس کی سماعت ہوتی ہے، عمران خان پر فردجرم عائد ہو چکی ہے، اگلی سماعت پر گواہان کے بیانات ریکارڈ ہوں گے، شاہ محمود قریشی بھی سائفر کیس میں ریمانڈ پر ہیں.

  • سائفر کیس، عمران خان کو بیٹوں سے بات کروانے کی اجازت

    سائفر کیس، عمران خان کو بیٹوں سے بات کروانے کی اجازت

    آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت،عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو کل واٹس ایپ پر بیٹوں سے بات کرانے کی اجازت دے دی

    خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کیس سماعت کی،درخواست شیراز احمد رانجھا ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر کی گئی ،عدالت میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ عدالت پہلے بھی چیئرمین پی ٹی آئی کو بیٹوں سے بات کرانے کی اجازت دے چکی ہے، کل ہفتہ ہے بیٹوں سے واٹس ایپ پر بات کرانے کی خصوصی اجازت دی جائے،عدالت نے کل چیئرمین پی ٹی آئی کی بیٹوں سے بات کرانے کی اجازت دے دی،عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کی ہر ہفتہ کے روز بیٹوں سے بات کرانے کی درخواست پر عدالت نے نوٹس جاری کررکھے ہیں

    واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی اڈیالہ جیل سے بیٹوں کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو کروا دی گئی تھی،عمران خان کی بیٹوں سے بات واٹس ایپ پر کروائی گئی،عمران خان نے تین منٹ تک بیٹوں سے بات کی،سلیمان اور قاسم جیل میں قید والد سے گفتگو کرتے جذباتی ہوگئے،عمران خان نے مسکراتے اپنے بیٹوں کو تسلی دی،عمران خان کو بیٹوں سے بات کرنے کا حکم عدالت نے دیا تھا.عمران خان سائفر کیس میں اڈیالہ جیل میں قید ہیں، عمران خان پر فر د جرم عائد ہوچکی ہے، آئندہ سماعت پر گواہوں کے بیانات ریکارڈ ہوں گے.

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

  • سائفر کیس،ضمانت کیلئے عمران خان کی سپریم کورٹ میں درخواست

    سائفر کیس،ضمانت کیلئے عمران خان کی سپریم کورٹ میں درخواست

    سائفر کیس میں عمران خان نے سپریم کورٹ میں درخواست ضمانت دائر کر دی

    عمران خان کی قانونی ٹیم کی جانب سے سپریم کورٹ میں درخواست ضمانت دائر کی گئی، درخواست میں سائفر کیس میں ضمانت دینے کی استدعا کی گئی،عمران خان کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی مکمل یقین دہانی کرواتے ہیں کہ وہ ضمانت ملنے کے بعد مفرور نہیں ہونگے،عمران خان یقین دہانی کرواتے ہیں کہ وہ عدالت کی تسلی کیلئے معقول ضمانت دینے کو تیار ہیں ، یقین دہانی کرواتے ہیں کہ وہ استغاثہ کے گواہان کے ساتھ جعل سازی نہیں کریں گے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے 16 اکتوبر کے فیصلے کیخلاف اپیل منظور کی جائے، چیئرمین پی ٹی آئی کی سائفر کیس میں بعد از گرفتاری ضمانت منظور کی جائے،

    واضح رہے کہ سائفر کیس میں عمران خان کی درخواست ضمانت ہفتے کے روز اسلام آباد ہائیکورٹ نے مسترد کر دی تھی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے 20 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا،تحریری فیصلے میں عدالت نے کہا کہ بادی النظر میں مقدمہ میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی سیکشن فائیو کا اطلاق ہوتا ہے،پراسیکیوشن کا کیس ہے کہ وزارت خارجہ نے سائفر کو ڈی کوڈ کر کے پرائم منسٹر سیکرٹریٹ کو بھجوایا،چیئرمین پی ٹی آئی نے بطور وزیراعظم سائفر کو وصول کیا اور بظاہر گم کر دیا،چیئرمین پی ٹی آئی نے سائفر کے مندرجات کو ٹوئسٹ کر کے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا

    واضح رہے کہ عمران خان سائفر کیس میں اڈیالہ جیل میں جوڈیشل ریمانڈ پر ہیں، عمران خان پر فرد جرم عائد ہو چکی ہے، عمران خان کے خلاف کیس میں اگلی سماعت پر گواہوں کے بیانات ریکارڈ ہونے ہیں.

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف