Baaghi TV

Tag: سائفر کیس

  • جیل ٹرائل اور جج تعیناتی کیخلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت ملتوی

    جیل ٹرائل اور جج تعیناتی کیخلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت ملتوی

    سائفر کیس کے جیل ٹرائل اور جج تعیناتی کےخلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں عمران خان کی اپیل پر سماعت ہوئی.

    عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ،ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل،ڈپٹی اٹارنی جنرل ارشد کیانی، ڈپٹی اٹارنی جنرل عظمت بشیر تارڑ،جوائنٹ سیکرٹری قانون و انصاف عرفان احمد،جوائنٹ سکریٹری کابینہ ڈویژن منیر صادق اسلام آباد ہائیکورٹ میں موجودتھے،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ وفاقی حکومت نے اپنی مرضی سے ایک جج کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی عدالت کا جج تعینات کر دیا، جج کی تعیناتی کے لیے متعلقہ چیف جسٹس سے مشاورت نہیں کی گئی، وزارت داخلہ نے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر جیل ٹرائل کا نوٹی فکیشن جاری کیا، سائفر کیس میں فرد جرم عائد کر دی گئی اور 7 نومبر کو شہادتیں ریکارڈ ہونی ہیں،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ ہم وفاقی کابینہ کے فیصلے کو دیکھنا چاہتے ہیں۔ کہاں آفیشل سیکریٹ ایکٹ خصوصی عدالت کا جج تعینات ہوا 27جون 2023 کو وفاقی کابینہ نے انسداد دہشت گردی عدالت کے جج کی تعیناتی کی منظوری دی،وفاقی کابینہ کی منظوری میں کہیں نہیں لکھا ہوا یہ آفیشل سیکریٹ ایکٹ خصوصی عدالت کی جج کی تعیناتی ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ وزارت قانون کی جانب سے سمری بھجوائی گئی تھی جس کی کابینہ نے منظوری دی،انسداد دہشتگردی کی عدالت کے جج کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت کا جج تعینات کیا گیا،کابینہ کی منظوری کے بعد تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری ہوا،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ جج کی تعیناتی کیلئے چیف جسٹس سے مشاورت ہونی چاہیے،

    سائفر کیس اوپن ٹرائل کی عمران خان کی درخواست میں جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کا ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور دوگل سے اہم مکالمہ سامنے آیا ہے، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ آپ کو یہ دیکھنا ہوگا کہ ہم 2023 میں رہ رہے ہیں ، یہ openness کا دور ہے ، اوپن کورٹ ، اوپن سماعت ، شفافیت کا تقاضا بھی یہی ہے اگر جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہونے والے ٹرائل میں سزا سنا دی جاتی ہے تو اس کے کیا اثرات ہونگے یہ سب چیزیں آپ کو دیکھنا ہیں

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ ہم اس کیس میں پیر کےلئے نوٹس جاری کر رہے ہیں، عدالت نے ایف آئی اے، وزارت قانون و دیگر کو نوٹس جاری کرتے ہوئےسماعت 6نومبر تک ملتوی کر دی

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • سائفر کیس کی سماعت کرنے والا اسلام آباد ہائیکورٹ کا بنچ ٹوٹ گیا

    سائفر کیس کی سماعت کرنے والا اسلام آباد ہائیکورٹ کا بنچ ٹوٹ گیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ،سائفر کیس ٹرائل اوپن کورٹ اور جج تعیناتی کیخلاف عمران خان کی انٹرا کورٹ اپیل،بینچ ٹوٹ گیا

    جسٹس ارباب محمد طاہر نے خود کو بنچ سے الگ کرلیا،بینچ ٹوٹنے کے بعد نیا بینچ تشکیل دیا گیا ہے،2 رکنی بینچ اہم کیس کی سماعت کرے گا، دو رکنی بینچ میں جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب،جسٹس مس ثمن رفعت امتیاز شامل ہیں.

    آفیشل سیکریٹ ایکٹ خصوصی عدالت کے جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین کی تعیناتی اور اوپن ٹرائل کے خلاف عمران خان کی سنگل بنچ کے خلاف اپیل پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس ارباب محمد طاہر نے 31 اکتوبر کو سماعت کا آرڈر جاری کیا جس میں جسٹس ارباب محمد طاہر نے اضافی نوٹ لکھا کہ میں 31 اکتوبر کے آرڈر آف دا ڈے سے اتفاق کرتا ہوں لیکن بنچ سے الگ ہو رہا ہوں جس پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے لکھا اضافی نوٹ "Self Explanatory” ہے مطلب کہ کسی اور وجہ سے جسٹس ارباب محمد طاہر کیس سے الگ ہوئے ہیں

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت دائر

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت دائر

    تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے بھی سائفر کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست ضمانت دائر کردی ،

    شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت بعدازگرفتاری پر اعتراضات کیساتھ سماعت ہوئی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے درخواست پر اعتراضات کے ساتھ سماعت کی . عدالت نے کہا کہ آپ نے دستاویزات ترتیب سے نہیں لگائیں اس لئے اعتراض لگا آپ دستاویزات کو ترتیب سےلگا کردوبارہ دے دیں.وکیل علی بخاری نے کہاکہ ہماری درخواست فوری معاملہ ہے اس لئے اگر جناب نوٹس فرما دیتے تو،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہاکہ آپ دستاویزات ترتیب سے دے دیں پھر اس پر نوٹس جاری کردیتےہیں

    واضح رہے کہ سائفر کیس میں عمران خان کی درخواست ضمانت ہفتے کے روز اسلام آباد ہائیکورٹ نے مسترد کر دی تھی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے 20 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا،تحریری فیصلے میں عدالت نے کہا کہ بادی النظر میں مقدمہ میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی سیکشن فائیو کا اطلاق ہوتا ہے،پراسیکیوشن کا کیس ہے کہ وزارت خارجہ نے سائفر کو ڈی کوڈ کر کے پرائم منسٹر سیکرٹریٹ کو بھجوایا،چیئرمین پی ٹی آئی نے بطور وزیراعظم سائفر کو وصول کیا اور بظاہر گم کر دیا،چیئرمین پی ٹی آئی نے سائفر کے مندرجات کو ٹوئسٹ کر کے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا

    جو کام حکومتیں نہ کر سکیں،آرمی چیف کی ایک ملاقات نے کر دیا

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • لندن معاہدہ،عمران خا ن کو باہر نہیں آنے دیں گے،علیمہ خان

    لندن معاہدہ،عمران خا ن کو باہر نہیں آنے دیں گے،علیمہ خان

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی بہن علیمہ خان اسلام آباد ہائیکورٹ عمران خان کی ضمانت کیس کا فیصلہ سننے پہنچیں تاہم عدالت اسوقت تک فیصلہ سنا چکی تھی اور عدالت نے عمران خان کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی تھی

    عدالت آمد کے موقع پر علیمہ خان کا کہنا تھا کہ حفیظ اللہ نیازی سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے، انکی کسی سے کوئی بھی ملاقات کا خاندان یا پارٹی سے کوئی تعلق نہیں،نہ عمران خان کا ،نہ ہم بہنوں کا، اگر وہ کسی سے ملتے ہیں تو وہ ن لیگ کے خاص نمائندے ہیں، ہماری نمائندگی وہ نہیں کریں گے،علیمہ خان کا کہنا تھا کہ عمران خان کا کہنا ہے کہ یہ سب لندن پلان نہیں بلکہ لندن معاہدے کا حصہ ہے۔اِنہوں نے عمران خان کو الیکشن تک جیل سے باہر نہیں آنے دینا،میرے بھائی نے اس قوم کو جگانے کے لیے 27 سال محنت کی ہے آپ لوگ کیا سمجھتے ہیں وہ اپنی محنت ضائع کر کے ملک چھوڑ کر چلا جائے گا،ہر طریقے سے یہی آفر کی جا رہی ہے کہ ملک چھوڑ کر چلے جائیں لیکن عمران خان نہیں جائے گا

    علیمہ خان کا کہنا تھا کہ ان عدالتوں سے انصاف کی توقع نہیں ہم اپنے بھائی کے لیے کھڑے ہیں اسے اکیلا نہیں چھوڑیں گے ،عمران خان کی اپنے بیٹوں سے تین ماہ کے بعد فون پر بات ہوئی اور وہ ان سے بات کر کے بہت خوش تھے،وہ کہہ رہے تھے کہ میں قرآن پڑھتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ اس میں سے بچوں کے لئے کیا لیسن نکالوں، بچے بھی بہت خوش تھے ،انہیں والد کے عزم کو دیکھ کر تسلی ہو گئی،ہم صرف اپنے بھائی عمران خان کے لیے کھڑے ہیں، اور اگر انصاف نہیں ملنا تو پھر ہم سب جیل میں ہی جا کر بیٹھ جاتے ہیں،ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ بھائی کے لئے کھڑے ہوں، انکو اکیلا نہیں چھوڑ سکتے،

    جو کام حکومتیں نہ کر سکیں،آرمی چیف کی ایک ملاقات نے کر دیا

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • سائفر کیس، گواہان کے بیانات نہ ہو سکے،سماعت ملتوی

    سائفر کیس، گواہان کے بیانات نہ ہو سکے،سماعت ملتوی

    سائفر کیس، اڈیالہ جیل میں آج سماعت ہو ئی

    راولپنڈی اڈیالہ جیل میں سائفر کیس کی سماعت منگل تک ملتوی کر دی گئی، سائفر کیس میں استغاثہ کے 5 گواہان عدالت میں پیش کیے گئے،خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے سماعت 31 اکتوبر تک ملتوی کر دی ،
    استغاثہ کے طلب کردہ 5 گواہان کے بیانات قلم بند نہ ہو سکے،سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے تحریری حکمنامہ تک ملتوی کر دی گئی

    تمام تحفظات کو سپریم کورٹ کے پاس لیکر جا رہے ہیں،وکیل عمران خان
    چیرمین پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدرنے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہماری دونوں درخواستیں مسترد ہو گئیں،ہم سے لگاتار زیادتی کی جا رہی ہے،چیئرمین کی گرفتاری نظربندی کا دورانیہ بڑھانے کے لئے سب کیا جا رہا ہے،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیئرمین کی درخواست پر 10 گھنٹے دلائل سنے،یہ ٹرائل خصوصی عدالت اور اسلام آباد ہائیکورٹ میں مذاق بن چکا ہے،چیئرمین پی ٹی آئی نے پیغام دیا کہ سائفر کا ایشو قومی سلامتی کمیٹی کے سامنے رکھا گیا،سائفر ڈی کلاسیفائی ہوا تو سیکرٹ کیسے ہو گیا،سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے ملزم کے خلاف اہم ثبوت کا اسے علم ہونا چاہیئے، شاہ محمود قریشی سے زیادہ سائفر کیس کو کوئی نہیں جانتا، آج شاہ محمود بھی خفا تھے،جج سے گلہ کیا کہ وکلاء سے ملنے نہیں دیا جا رہا،یہ فیئر ٹرائل،اوپن ٹرائل نہیں ہے،یہ بند کمرے کا ٹرائل ہے،جو شفافیت کے تقاضوں کو پورا نہیں کررہا،نظر آ رہا ہے کہ جج صاحب کیا کرنا چاہ رہے ہیں،تمام تحفظات کو سپریم کورٹ کے پاس لیکر جا رہے ہیں،عمران خان کا پیغام ہے کہ یہ آفیشل سیکرٹ تھا ہی نہیں،یہ ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت تھی، شہباز شریف کے پاس 169 دن سائفر رہا انھیں اس کیس میں گواہ نہیں رکھا گیا،ایف آئی اے نے شہباز کو عدالتی نوٹس دیتی اور طلب کرتی ہے، چیئرمین کی ضمانت خارج اور اخراج مقدمہ کی درخواست مسترد ہونا حیران کن نہیں ہے،

    سائفر کیس میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے،سائفر کیس کے 5 سرکاری گواہان کمرہ عدالت میں پہنچ گئے ،گواہان میں نادر خان ،عمران ساجد شامل ہیں ،سائفر کیس میں بطور گواہ محمد نعمان ، شمعون قیصر اور فرخ عباس بھی پیش ہو گئے

    گزشتہ سماعت پر جیل میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی پر فرد جرم عائد کی گئی تھی جس کے بعد عدالت نے گواہان کو طلب کیا تھا،

    دوسری جانب آج اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست ضمانت مسترد کردی ہے، عدالت نے محفوظ فیصلہ سنا دیا، عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی اخراج مقدمہ کی درخواست بھی مسترد کر دی۔

    عمران خان آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے سیکشن 5 اور 9 کے مرتکب ٹھہرے، چارج شیٹ
    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان پر سائفرکیس میں لگی چارج شیٹ منظرعام پر آگئی،جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے چارج شیٹ آج چیئرمین پی ٹی آئی کو پڑھ کر سنائی تھی، چارج شیٹ میں کہا گیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے بطور وزیراعظم غیرقانونی سائفر اپنے پاس رکھا، چیئرمین پی ٹی آئی نے سیکرٹ دستاویز کو غلط طریقے سے استعمال کیا، سائفر پاکستان اور امریکہ کے درمیان انتہائی خفیہ دستاویز تھی، سیکرٹ دستاویز کو ممنوع مقام جلسے میں غلط طریقہ کار سے استعمال کیا،سائفر کی خفیہ معلومات کو غیر ضروری افراد تک پہنچایا، ریاست کے مفاد کے خلاف معلومات آگے استعمال کرنے کے مجاز نہیں تھے،وزارت خارجہ نے اعتماد کرتے ہوئے سائفر آپ کو فراہم کیا،آپ نے سائفر اپنے پاس رکھتے ہوئے سیاسی مقاصد لیے استعمال کیا،آپ نے اس عمل سے سائفر، ملک کے سیکیورٹی سسٹم پر کمپرومائز کیا،آپ کے اس عمل سے ریاستِ پاکستان کی سیفٹی متاثر ہوئی،28 مارچ 2022 بنی گالا اجلاس میں ملزم شاہ محمود قریشی کے ہمراہ آپ نے سائفرکو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کی،آپ نے بدنیتی کی بنیاد پر سائفر اپنے حق میں استعمال کرتے ہوئے قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالا، وزارتِ خارجہ کی طرف سے سائفر آپ کو بھیجا گیا، آپ نے پاس رکھا اور واپس نہیں بھیجا، غیرمجاز ہونے کے باوجود سائفر غیرقانونی طور پر سائفر اپنے پاس رکھا، سائفرسیکیورٹی، ملک کےسیکرٹ سیکیورٹی سسٹم کو آپ نے کمپرومائز کیا،بیرون ملک پاکستان کے سیکیورٹی سسٹم کو کمپرومائز کیا،آپ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے سیکشن 5 اور 9 کے مرتکب ٹھہرے ہیں،

    شاہ محمود قریشی پر فرد جرم کا متن ” آپ نے چیئرمین پی ٹی آئی کے جرم میں معاونت کی ، جس طرح چیئرمین پی ٹی آئی نے جرم کیا اسی طرح آپ بھی شریک جرم ٹھہرے ، آپ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی سیکشن 5 اور 9 کے مرتکب ٹھہرے ہیں ”

    سائفر معاملہ؛ اعظم خان کے بعد فارن سیکرٹری بھی عمران خان کیخلاف گواہ بن گئے

    پاکستانیوں کا بائیکاٹ میکڈونلڈ ویران
    ورلڈ کپ 2023: 256 رنز کے تعاقب میں جنوبی افریقہ کے 8 کھلاڑی آؤٹ
    سولہ سالہ لڑکی سے مبینہ زیادتی اور زہریلی اشیاء کھلانے کے واقعہ میں اہم ہیشرفت
    کورکمانڈر کانفرنس: دشمن عناصر کیخلاف پوری قوت سے نمٹنے کا عزم
    نگران وزیراعظم کی چین کے صدر کی جانب سے دیئے گئے عشائیے میں شرکت

  • سائفر کیس میں عمران خان کی درخواست ضمانت مسترد

    سائفر کیس میں عمران خان کی درخواست ضمانت مسترد

    سائفر کیس،دفتر خارجہ کے افسران کے بیانات سے واضح ہے کہ اس میں کوئی غیر ملکی سازش شامل نہیں،تحریری فیصلہ

    سائفر کیس،چیئرمین پی ٹی آئی کی ضمانت اور اخراج مقدمہ کی درخواست مسترد ہونے کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا گیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے 20 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا،تحریری فیصلے میں عدالت نے کہا کہ بادی النظر میں مقدمہ میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی سیکشن فائیو کا اطلاق ہوتا ہے،پراسیکیوشن کا کیس ہے کہ وزارت خارجہ نے سائفر کو ڈی کوڈ کر کے پرائم منسٹر سیکرٹریٹ کو بھجوایا،چیئرمین پی ٹی آئی نے بطور وزیراعظم سائفر کو وصول کیا اور بظاہر گم کر دیا،چیئرمین پی ٹی آئی نے سائفر کے مندرجات کو ٹوئسٹ کر کے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا،دفتر خارجہ کے سابقہ اور موجودہ افسران بالخصوص سائفر بھیجنے والے اسد مجید کے بیانات ریکارڈ پر ہیں،دفتر خارجہ کے افسران کے بیانات سے واضح ہے کہ اس میں کوئی غیر ملکی سازش شامل نہیں،اس بات سے انکار نہیں کہ شفاف ٹرائل ملزم کا بنیادی حق ہے آرٹیکل 10 اے کے تحت ملزم کو شفاف ٹرائل کا حق دیا جائے ٹرائل کورٹ کی آبزرویشنز سے کسی قسم کا تعصب ظاہر نہیں ہوتا،عدالت میں پیش دستاویزات کے مطابق دفتر خارجہ کی پالیسی واضح ہے پالیسی کے مطابق سائفرکلاسیفائیڈ ڈاکومنٹ ہے جسےغیرمجازافراد سے شیئرنہیں کیا جا سکت سائفر کو کچھ وقت کے بعد واپس فارن آفس جانا ہوتا ہے وکیل کےمطابق ملزم پابند تھےکہ حکومت گرانےکی غیرملکی سازش عوام کو بتاتے

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے تحریری فیصلے میں کہا کہ حکومت گرانے کی سازش سے عوام کو آگاہ کرنے دلیل میں وزن نہیں ،عمران خان بطوروزیراعظم فرائض انجام دینے کے بجائے سیاسی اجتماع سے خطاب کر رہے تھے،آئین کاآرٹیکل248 بطو روزیراعظم فرائض کی ادائیگی پر استثنیٰ سے متعلق ہے پٹیشنرکا سائفر سے متعلق سیاسی اجتماع سے خطاب بطور وزیراعظم اداکی جانے والی ذمہ داریوں میں نہیں آتا،

    قبل ازیں اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست ضمانت مسترد کردی ہے، عدالت نے محفوظ فیصلہ سنا دیا، عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی اخراج مقدمہ کی درخواست بھی مسترد کر دی۔

    سائفر کیس سننے والی خصوصی عدالت برائے آفیشل سیکرٹ ایکٹ نے پہلے چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت مسترد کی تھی جس پر چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا

    سائفر کیس میں عمران خان کو عمر قید یا سزائے موت سنائی جا سکتی ہے،ایف آئی اے سپشیل پراسیکیوٹر رضوان عباسی
    کیس کی سماعت کے دورا ن اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سائفر آنے کے رولز آف پریکٹس ہوں گے، کچھ ایس او پیز بنائے ہوں گے، پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے کہاکہ سائفر کی دو کیٹگریز ہوتی ہیں جن میں سے ایک کی کمیونی کیشن کی جا سکتی ہے مگر دوسری کیٹگری کی نہیں،یہ سائفر دوسری کیٹگری کا سیکرٹ ڈاکومنٹ تھا جس کی معلومات پبلک نہیں کی جا سکتی تھیں، اس جرم کی سزا چودہ سال قید یا سزائے موت بنتی ہے ،سائفر کیس میں عمران خان کو عمر قید یا سزائے موت سنائی جا سکتی ہے،نعمان سائفر اسسٹنٹ کے پاس سائفر آیا ، ڈپٹی ڈائریکٹر عمران ساجد ، حسیب بن عزیز ، سابقہ سیکرٹری خارجہ سہیل محمود کا 161 بیان ہے ، شاموں قیصر وزیر اعظم ہاؤس میں سائفر آفیسر ، ڈی ایس پی ایم آفس حسیب گوہر کا 161 کابیان ہے ،ساجد محمود ڈی ایس وزیر اعظم آفس اور اعظم خان کا 161 کا بیان ہے ،اعظم خان کبھی بھی اس کیس میں ملزم نہیں تھے بلکہ وہ گواہ ہیں ان کے ایک اعتراض کی وضاحت کر دوں ، ان کے لاپتہ ہونے کی ایف آئی آر تھانہ کوہسار میں درج ہوئی تھی کچھ دنوں بعد انہوں نے اس کیس کے تفتیشی افسر سے رابطہ کیا کہا پیس آف مائنڈ کے لیے کچھ عرصہ کے لیے وہ کہیں چلے گئے تھے پھر انہوں نے 164 کا بیان مجسٹریٹ کے سامنے ریکارڈ کرایا

    جو کام حکومتیں نہ کر سکیں،آرمی چیف کی ایک ملاقات نے کر دیا

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • سائفر کیس کا ٹرائل روکا جائے گا یا نہیں؟   اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیا

    سائفر کیس کا ٹرائل روکا جائے گا یا نہیں؟ اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ ،سائفر کیس میں فرد جرم کی کاروائی کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست پر اعتراضات کے ساتھ سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے سماعت کی،چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے کے وکیل سلمان صفدر روسٹرم پر موجود تھے،عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست پر اعتراضات دور کر دئیے،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ مجھے دس دن لگے ضمانت میں دلائل دینے میں ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مجھے بھی اسی وجہ سے دس دن لگے ، میں نے آپ کو کہا تھا اس قسم کا معاملہ پہلی دفعہ سامنے آیا ہے ، دونوں طرف سے اچھے طریقے سے دلائل دئیے گئے تھے اس لئے مجھے بھی وقت لگ رہا ہے،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ کاپیز تقسیم ہونے کے بعد چھ دن بعد مجھے پر فرد جرم عائد کر دی گئی ،سائفر نا چالان نا فائل کا حصہ ہے جس کا الزام ہے ، الزام تھا سائفر کے الفاظ تبدیل کئے گئے اب نہ تو تبدیل شدہ نہ ہی اصل سائفر ہمیں فراہم کیا گیا ،

    سائفر کیس میں عمران خان پر فرد جرم کےخلاف درخواست پر سماعت میں وکیل سلمان صفدر نےریلیف کی استدعا کی جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریلیف آپ کو کل بھی مل جاتا لیکن دوسرے جج صاحب مانے نہیں ،

    سائفر کیس کا ٹرائل کل رکے گا یا جاری رہے گا ؟ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے اسٹے کی عمران خان کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا

    چیئرمین پی ٹی آئی نے فرد جرم عائد کرنے کی کارروائی کالعدم قرار دینے کی استدعا کر دی، عمران خان کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں مدعی مقدمہ یوسف نسیم کھوکھر اور ریاست کو درخواست میں فریق بنایا گیا ہے،درخواست میں کہا گیا ہے کہ قانون کے مطابق مقدمہ کی نقول تقسیم کرنے کے سات دن بعد چارج فریم کیا جا سکتا ہے، ٹرائل کورٹ نے سات دن کے قانونی تقاضے کو بھی مدنظر نہیں رکھا،ٹرائل کورٹ نے جلدبازی میں فردجرم عائد کی اور ٹرائل بھی جلدبازی میں مکمل کرنا چاہتی ہے، اعلی عدلیہ کی جانب سے ٹرائل روزانہ کی بنیاد پر سماعت یا جلد مکمل کرنے کی کوئی ہدایت نہیں، جلدبازی میں ٹرائل آگے بڑھانے سے بنیادی آئینی حقوق متاثر ہوں گے، مرکزی ثبوت سائفر ٹیلی گراف کی عدم موجودگی میں ٹرائل آگے نہیں بڑھایا جا سکتا، آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کا 23 اکتوبر کا آرڈر کالعدم قرار دیا جائے، چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے وکیل سلمان صفدر اور خالد یوسف کے ذریعے درخواست دائر کی

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • سیل کی دیوار تڑوا دی، کیا اب  کمرہ بھی تڑوا دوں؟ عدالت کا عمران خان کے وکیل سے مکالمہ

    سیل کی دیوار تڑوا دی، کیا اب کمرہ بھی تڑوا دوں؟ عدالت کا عمران خان کے وکیل سے مکالمہ

    سائفر کیس، آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے اڈیالہ جیل میں کیس کی سماعت کی،

    جج ابوالحسنات ذوالقرنین کی عدالت میں چیئرمین پی ٹی آئی کے ترجمان قانونی امور نعیم پنجوتھہ پیش ہوئے، وکیل نعیم نے جج سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے آرڈرز پرعملدرآمد نہیں ہوتا، جیل میں وکلاءکوچیئرمین پی ٹی آئی سےنہیں ملنےدیاجاتا،جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ ایڈمنسٹریٹیو معاملات ہیں، جیل مینوئل کے مطابق جیل میں معاملات چلتےہیں، وکیل نعیم نے کہا کہ آپ سپرٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو جو کہیں گے، ویسا ہی وہ کریں گے، جج نے کہا کہ اگر زیادہ وکلاء کی چیئرمین پی ٹی آئی سے میٹنگز ہوں گی تومعاملات دیکھنےپڑتےہیں، وکیل نے کہا کہ سائفرکیس سیکرٹ طریقہ کار سے چلایاجارہاہے، صحافیوں کو بھی کوریج کی اجازت نہیں، جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ سائفرکیس ہے ہی سیکرٹ ایکٹ کے تحت، ہم نے تو نہیں بنایا، قانون 1923 کا ہے، وکیل نے کہا کہ صحافیوں کو نہیں لیکن کم سے کم وکلاء کو تو جیل میں سماعت سننے کی اجازت دی جائے، جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ مجھے صحافیوں سے سائفرکیس کور کرنے پر کوئی مسئلہ نہیں، صحافی قابل احترام ہیں،

    وکیل نے کہا کہ اڈیالہ جیل میں کمرہ عدالت بہت چھوٹا ہے،جس پر جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کے سیل کی دیوار تڑوا دی، کمرہ بھی تڑوا دوں کیا؟ وکیل نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو جوڈیشل کمپلیکس پیش کرنے پر بہانے بنائے جارہے، سپرٹنڈنٹ جیل جان کو خطرے کا بیان دیتاہے، جج نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی اہم شخصیت تو ہیں، اُن کی زندگی کو تحفظ دینا ضروری ہے، وکیل نے کہا کہ انہی اداروں نے چیئرمین پی ٹی آئی کو سیکیورٹی نہیں دی، ہائیکورٹ میں معاملہ پینڈنگ ہے، نوازشریف کو تو انہوں نے پوری سیکیورٹی دی ہے،چیئرمین پی ٹی آئی اپنی سیکیورٹی خود لاتےتھے، عطاتارڑ آجاتا ہے، بوتلیں بھی پھینکی گئیں،چیئرمین پی ٹی آئی کو سیکیورٹی دینا انتظامیہ کا کام ہے، انتظامیہ نہیں دے رہی سیکیورٹی، جج نے کہا کہ قانون کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی کی زندگی کو تحفظ دینا ہے،میری اٹک جیل میں چیئرمین پی ٹی آئی سے گھنٹہ بات ہوئی، انہوں نےکہا میں جیل میں محفوظ محسوس کررہاہوں،آپ جا کر پوچھیں چیئرمین پی ٹی آئی سے کہ انہوں نے کیا جیل میں محفوظ ہونے کے حوالے سے مجھے نہیں کہا؟ چیئرمین پی ٹی آئی کے جیل میں محفوظ ہونے کے حوالے سے دیے گئے بیان کو بھی سپرٹنڈنٹ جیل نے دیکھناہے، ابھی تک چیئرمین پی ٹی آئی کی جان کو تحفظ دے کر کیس بہت آسانی سے چل رہاہے، میں نے بیس سال وکالت کی، وکالت کرنا آسان ہے، جج کی کرسی پر بیٹھنا مشکل ہے، کیا اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیئرمین پی ٹی آئی کے حوالے سے کوئی ڈائریکشن ملی؟ وکیل نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں ہمارے معاملات پینڈنگ رہتےہیں، جج نے کہا کہ مجھے کوئی ایک ایسی ملاقات سے متعلق درخواست بتا دیں جو میں نے مسترد کی؟ وکیل نے کہا کہ آپ نے درخواستِ ضمانت مسترد کی، فردجرم روکنے کی درخواست مسترد کی، جج نے کہا کہ قانونی درخواستوں کی بات نہ کریں، میں ملاقات سے متعلق درخواستوں کا کہہ رہاہوں، میں نے سپرٹنڈنٹ جیل کو شٹ اپ کال دی تھی، سائکل اسی وقت چیئرمین پی ٹی آئی کو مہیا کروائی، آپ میٹھا میٹھا ہپ ہپ، کڑوا کڑوا تھو تھو کر رہےہیں، جج ابوالحسنات نے چیئرمین پی ٹی آئی سے وکلاء کی ملاقات سے متعلق سپرٹنڈنٹ جیل کو ہدایت جاری کردیں

     فیض آباد دھرنا کیس میں نظرثانی واپس لینے کی درخواست دائر 

     فیض حمید جو اب سابق ڈی جی آئی ایس آئی ہیں نے ملک کو ناقابِلِ تَلافی نقصان پہنچایا 

    ،میں ابھی فیض حمید کے صرف پاکستانی اثاثوں کی بات کر رہا ہوں

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    فیض حمید مبینہ طور پر نومئی کے حملوں میں ملوث ہیں

     نجف حمید کے گھر چوری کی واردات

  • سائفر کیس میں جیل ٹرائل روکنے کی چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل کی استدعا مسترد

    سائفر کیس میں جیل ٹرائل روکنے کی چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل کی استدعا مسترد

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی جیل ٹرائل کے خلاف انٹراکورٹ اپیل پر سماعت ہوئی

    انسداد دہشت گردی عدالت کے جج کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کا چارج کالعدم قرار دینے کی بھی استدعا کی گئی ہے،جسٹس حسن اورنگزیب اور جسٹس ثمن رفعت نے درخواست پر اعتراض کے ساتھ سماعت کی،سنگل بنچ نے جیل ٹرائل اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کے جج کی تعیناتی درست قرار دی تھی،وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل کا آغاز کردیا اور کہا کہ وزارت قانون کے دو نوٹیفکیشنز چیلنج کئے ہیں، وزارت قانون نے چیئرمین پی ٹی آئی کی سائفر کیس کی اٹک جیل میں سماعت کا نوٹیفکیشن جاری کیا،وزارت قانون نے سیکیورٹی خدشات کی بنا پر وزارت داخلہ کی درخواست پر نوٹیفکیشن جاری کیا،جسٹس حسن اورنگزیب نے کہا کہ کیا وزارت داخلہ کی تحریری درخواست ریکارڈ پر موجود ہے؟وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ وزارت داخلہ کی درخواست کو عدالتی ریکارڈ پر نہیں لایا گیا، پٹشنر نے 29 ستمبر کا نوٹیفکیشن چیلنج کیا ہے ، یہ ایڈمنسٹریٹو آرڈر تھا جس میں کنفیوژن بھی ہے متعلقہ اتھارٹی کمشنر ہے وزارت قانون نہیں ہے،

    وکیل سلمان کرم راجہ نے کہا کہ سنگل بنچ نے قرار دیا کہ وفاقی حکومت کا اختیار ہے کہ اپنی مرضی کا جج مقرر کرے،
    یہ جوڈیشل افسران ہیں وفاقی حکومت کے پاس "پک اینڈ چوز” کا کوئی اختیار نہیں، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ اس طرح تو ایگزیکٹو عدلیہ کے اختیارات میں مداخلت کرے گی،

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے سائفر کیس میں جیل ٹرائل روکنے کی چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل کی استدعا مسترد کردی،عدالت نے کہا کہ ہوسکتا ہے اعتراضات ختم ہونے پر جب فائل مارکنگ کیلئے چیف جسٹس کے پاس جائے تو نیا بنچ تشکیل دے دیا جائے، ابھی ہم آپ کو کوئی عبوری ریلیف نہیں دے سکتے ، یہ درخواست قابل سماعت ہے یا نہیں اس کا فیصلہ بھی بعد میں ہوگا ، کسی شخص کیلئے رولز کی خلاف ورزی نہیں کرسکتے، ابھی ہم آپ کی درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات ختم کررہے ہیں ،

    اسلام آباد ہائیکورٹ، سائفر کیس ،چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی جیل ٹرائل کے خلاف دائر انٹراکورٹ اپیل سماعت کے لیے مقررکی گئی،رجسٹرار آفس نے اعتراضات کے ساتھ چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست سماعت کے لیے مقرر کی،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز اپیل پر سماعت کرینگے،اپیل میں انسداد دہشت گردی عدالت کے جج کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کا چارج دینے کا نوٹی فکیشن کالعدم قرار دینے کی بھی استدعا کی گئی، عدالت میں دائر اپیل میں کہا گیا کہ جیل میں خفیہ ٹرائل کو بنیادی آئینی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا جائے،سائفر کیس کا ٹرائل اوپن کورٹ میں کرنے کا حکم دیا جائے، انسداد دہشتگردی عدالت کے جج کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کا چارج دینے کا غیرقانونی قرار دیا جائے، نوٹیفکیشن کو غیرآئینی اور غیرقانونی قرار دے کر کالعدم قرار دیا جائے، چیف جسٹس عامر فاروق نے چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست نمٹا دی تھی، چیف جسٹس نے جیل ٹرائل اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کے جج کا چارج درست قرار دیا تھا

    قبل ازیں عمران خان نے ایسی ہی ایک درخواست دائر کی تھی کہ انکا ٹرائل جیل کی بجائے عدالت میں کیا جائے تا ہم تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو سائفر کیس میں جیل سماعت کے خلاف درخواست میں اسلام آباد ہائیکورٹ سے ریلیف نا مل سکا ،اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کی درخواست مسترد کر دی، عدالت نے محفوظ فیصلہ سنا دیا,عدالت نے فیصلے میں کہا کہ جیل ٹرائل سکیورٹی کے مدنظر چیئرمین پی ٹی آئی کے حق میں ہے ، بظاہر جیل ٹرائل کے معاملے پر کوئی بد نیتی نظر نہیں آئی ، عمران خان خود اپنی سکیورٹی کے حوالے ماضی متعدد بار خدشات کا اظہار کرچکے ، عمران خان کو جیل ٹرائل پر تحفظات ہوں تو ٹرائل کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • سائفر کیس، جیل ٹرائل قانونی قرار ، فیصلے کیخلاف انٹرا کورٹ اپیل دائر

    سائفر کیس، جیل ٹرائل قانونی قرار ، فیصلے کیخلاف انٹرا کورٹ اپیل دائر

    اسلام آباد ہائیکورٹ: چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے جیل ٹرائل قانونی قرار دیئے جانے کے فیصلے کیخلاف انٹرا کورٹ اپیل دائر کردی

    عمران خان کی جانب سے عدالت میں دائر درخواست میں کہا گیا کہ عدالت 16 اکتوبر کو سنائے گئے سنگل بینچ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے،عدالت سائفر کیس کے جیل ٹرائل کو بنیادی انسانی حقوق سے متصادم قرار دے، عدالت سائفر کیس کا ٹرائل اوپن کورٹ میں کرنے کے احکامات جاری کرے، عدالت انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج کو آفیشل سیکریٹ ایکٹ خصوصی عدالت کے اختیارات سونپنے کو غیر قانونی قرار دے، عدالت سائفر کیس کے ٹرائل کو معطل قرار دے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے سنگل بینچ نے سائفر کیس کے ٹرائل کو قانونی قرار دیا تھا،اسلام آباد ہائیکورٹ نے انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج کو آفیشل سیکریٹ ایکٹ خصوصی عدالت کا اختیار سونپنے کو بھی قانونی قرار دیا تھا

    قبل ازیں عمران خان نے ایسی ہی ایک درخواست دائر کی تھی کہ انکا ٹرائل جیل کی بجائے عدالت میں کیا جائے تا ہم تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو سائفر کیس میں جیل سماعت کے خلاف درخواست میں اسلام آباد ہائیکورٹ سے ریلیف نا مل سکا ،اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کی درخواست مسترد کر دی، عدالت نے محفوظ فیصلہ سنا دیا,عدالت نے فیصلے میں کہا کہ جیل ٹرائل سکیورٹی کے مدنظر چیئرمین پی ٹی آئی کے حق میں ہے ، بظاہر جیل ٹرائل کے معاملے پر کوئی بد نیتی نظر نہیں آئی ، عمران خان خود اپنی سکیورٹی کے حوالے ماضی متعدد بار خدشات کا اظہار کرچکے ، عمران خان کو جیل ٹرائل پر تحفظات ہوں تو ٹرائل کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو