Baaghi TV

Tag: سائنس

  • خطرناک اور تباہ کن زلزلے کی پیشگوئی

    خطرناک اور تباہ کن زلزلے کی پیشگوئی

    نئی تحقیقات میں دنیا میں بڑے اور تباہ کن زلزلوں کی پیشگوئی کی گئی ہے-

    سائنسی ویب سائٹ SciTechDaily نے جریدے Geology کے حوالے سے بتایا کہ ایک نئی سائنسی تحقیق نے خبردار کیا ہے کہ ترکی کے سب سے بڑے شہر استنبول کے نزدیک بحیرۂ مرمرہ کی تہہ میں موجود چٹانیں کسی بھی وقت اپنی جگہ سے کھسک سکتی ہیں،ان چٹانوں میں طویل عرصے سے جمع ہونے والا دباؤ مستقبل میں شدید زلزلے کی شکل اختیار کرسکتا ہے۔

    ماہرین کے مطابق یہ فالٹ گزشتہ ڈھائی صدی سے کسی بڑے جھٹکے کے بغیر توانائی سمیٹ رہا ہے، جو کسی بھی وقت خطرناک حد تک خارج ہوسکتی ہے، تحقیق میں شمالی اناطولیہ کی دراڑ کے نیچے چھپی چٹانوں کی سختی میں معمولی مگر نہایت اہم فرق کی نشاندہی کی گئی ہے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہی فرق مستقبل میں بڑے زلزلوں کا باعث بن سکتا ہے یہ نتائج فالٹ کے اندرونی میکانزم کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد فراہم کرتے ہیں اور استنبول کے علاقے میں زلزلوں کی پیشگوئی کو زیادہ مؤثر بنا سکتے ہیں۔

    آزادی پسند عوام نے بی این پی کو کامیاب بنایا،طارق رحمان

    رپورٹس کے مطابق ماہرین نے جدید برقی مقناطیسی امیجنگ ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے اس بظاہر ’’غیر مرئی‘‘ فالٹ کے اندرونی ڈھانچے کی تفصیلا ت حاصل کیں اس پیشرفت سے خطے میں زلزلہ جاتی خطرات اور زمین کی گہرائی میں متحرک قوتوں کے بارے میں نئی معلومات سامنے آئی ہیں۔

    سائنس دانوں کا اندازہ ہے کہ 15 سے 20 کلومیٹر پر مشتمل یہ خاموش حصہ اس وقت مقفل حالت میں ہے اور مسلسل تناؤ برداشت کر رہا ہے اگر یہ جمع شدہ دباؤ اچانک خارج ہوا تو 7.1 سے 7.4 شدت تک کا طاقتور زلزلہ آسکتا ہے ریکارڈ کے مطابق اس حصے میں آخری بڑی ٹوٹ پھوٹ 1766 میں پیش آئی تھی۔

    پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھنے کا امکان

    ترکی جغرافیائی لحاظ سے دنیا کے حساس ترین زلزلہ خیز علاقوں میں شمار ہوتا ہے کیونکہ یہاں، یوریشین پلیٹ، افریقن پلیٹ، عریبین پلیٹ اور اناطولین پلیٹ ایک دوسرے کے ساتھ تعامل کرتی ہیں ماہرین کے مطابق جس حصے کو ’’پرنسز آئی لینڈز سیگمنٹ‘‘ کہا جاتا ہے، وہ ایک بڑا سیسمک گیپ ہے جہاں تاریخی طور پر تقریباً 200 سے 250 سال کے وقفے سے شدید زلزلے آتے رہے ہیں۔

    اس تحقیق میں انسٹیٹیوٹ آف سائنس ٹوکیو سمیت مختلف اداروں کے ماہرین نے حصہ لیا انہوں نے تھری ڈی ماڈلز اور سمندر کی تہہ کی طویل المدتی نگرا نی کے ذریعے ان مقامات کی نشاندہی کی جہاں تناؤ غیر معمولی حد تک بڑھ چکا ہے سمندر کی تہہ میں کی گئی پیمائشوں سے معلوم ہوا کہ فالٹ مضبوطی سے جکڑا ہوا ہے اور اگر توانائی اچانک خارج ہوئی تو چار میٹر سے زیادہ زمینی سرکاؤ ممکن ہے۔

    عمران خان کی بیٹوں قاسم اور سلیمان سے ٹیلی فون پر بات کرادی گئی

    یہ خطرناک حصہ استنبول کے جنوب میں واقع ہے، جس کے باعث ممکنہ تباہی کے اثرات 1999 کے تباہ کن زلزلے جیسے ہوسکتے ہیں تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہی مخصوص حصہ پورے خطے کے زلزلہ جاتی خطرے میں مرکزی کردار ادا کر رہا ہےماہرین نے حکومتوں کو خبردار کیا ہے کہ مسلسل بڑھتا ہوا دباؤ کسی بھی وقت بڑے سانحے میں بدل سکتا ہے، اس لیے پیشگی تیاری، مؤثر منصوبہ بندی اور حفاظتی اقدامات ناگزیر ہیں۔

  • اے آئی کی مدد سے نیا اور نامعلوم وائرس دریافت

    اے آئی کی مدد سے نیا اور نامعلوم وائرس دریافت

    سائنسدانوں نے اے آئی کی مدد سے ایسا نیا وائرس تیار کیا ہے جو اس سے پہلے کبھی موجود نہیں تھا۔

    تفصیلات کے مطابق اس وائرس کو Evo–Φ2147 کا نام دیا گیا ہے اور اسے مکمل طور پر نئے سرے سے تخلیق کیا گیا ہے صرف 11 جینز پر مشتمل یہ وائرس زندگی کی انتہائی سادہ شکلوں میں شمار ہوتا ہے، جبکہ انسانی جینوم میں تقریباً 200,000 جینز پائے جاتے ہیں، یہ وائرس خاص طور پر ای کولی (E. Coli) بیکٹیریا کو ختم کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

    تحقیق کے دوران اے آئی ٹول Evo2 کی مدد سے 285 نئے وائرس بنائے گئے، جن میں سے 16 وائرس مؤثر ثابت ہوئے، جبکہ سب سے کامیاب وائرس قدرتی اقسام کے مقابلے میں 25 فیصد زیادہ تیز تھےتاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اے آئی کے ذریعے تیار کیے گئے ایسے وائرس مستقبل میں ممکنہ خطرات بھی پیدا کر سکتے ہیں۔

    پنجاب پولیس میں کانسٹیبل کی بھرتی سے متعلق ایک اہم فیصلہ جاری

    یہ تحقیق برطانوی سائنسدان ڈاکٹر ایڈریان وولفسن کی قیادت میں اسٹارٹ اپ جینیرو نے کی ہے ڈاکٹر وولفسن کے مطابق اب قدرتی ارتقا کے ساتھ ساتھ اے آئی پر مبنی جینوم ڈیزائن بھی زندگی کے ارتقائی عمل کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔

    اسلام آباد یونائیٹڈ کا نیا ہیڈ کوچ کون؟

  • چاند پر نام بھجوانے کے خواہشمند افراد کیلئے ناسا کا پیغام

    چاند پر نام بھجوانے کے خواہشمند افراد کیلئے ناسا کا پیغام

    امریکی خلائی ادارے ناسا نے چاند پر اپنا نام بھجوانے کی خواہش رکھنے والوں کے لیے نام اکٹھے کرنے شروع کردیے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں ناسا نے لکھا کہ اپنا نام چاند پر بھیجنے کے موقع کو ضائع نہ کریں،ادارہ ناموں کو اکٹھا کر رہا ہے جن کو ایک ایس ڈی کارڈ میں بھر کر آرٹیمیس دوم مشن کے دوران اورین میں بھیجا جائے گا،اپنے پیارے دوستوں، بچوں اور پیاروں کے لیے بھی بورڈنگ پاس نہ بھولیں۔

    واضح رہے آرٹیمس دوم مشن کے لیے لانچ پیڈ پر راکٹ کو تیار کیا جا رہا ہے جس کی لانچ فروری میں متوقع ہے 10 روزہ مشن میں ناسا کے چار خلانورد چاند کے گرد چکر لگا کر واپس آئیں گے،یہ مشین امریکی خلائی ادارے کی نصف صدی سے زیادہ عرصہ بعد ایک بار پھر انسان کو چاند پر اتارنے کی کوشش کی ایک کڑی ہے۔

    آئل ٹینکر سے نو کروڑ روپے مالیت کی منشیات برآمد، ملزم گرفتار

    وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی سعودی ہم منصب سے ملاقات

    افغانستان کے دارالحکومت کابل میں دھماکا، متعدد افراد ہلاک

  • انٹارکٹیکا کے نیچے چھپے راز سامنے آ گئے

    انٹارکٹیکا کے نیچے چھپے راز سامنے آ گئے

    سائنسدان یہ جاننے میں کامیاب ہو گئے ہیں کہ انٹارکٹیکا کی سرزمین میں برف کی موٹی تہوں کے نیچے کون سے حیران کن راز پوشیدہ ہیں۔

    ماہرین نے برف سے ڈھکے اس براعظم سے متعلق ایسی غیر معمولی تفصیلات پیش کی ہیں جن کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی انٹارکٹیکا میں جمی ہوئی کئی کلومیٹر موٹی برف اب تک سائنس دانوں کے لیے اس کی اصل زمینی ساخت کو جاننے میں سب سے بڑی رکاوٹ بنی رہی تاہم جدید نقشہ سازی کی انتہائی اعلیٰ تکنیک کے استعمال سے یہ مشکل بڑی حد تک حل کر لی گئی ہے۔

    تحقیق میں سیٹلائٹ ڈیٹا، جدید ریڈار سسٹمز اور انٹارکٹیکا میں گلیشیئرز کے سرکنے کی طبیعیات کو استعمال کیا گیا ہے تحقیق کے نتائج کے مطابق انٹارکٹیکا کی برف کے نیچے ہزاروں بلند و بالا چوٹیاں، وسیع و عریض وادیاں اور گہری، تنگ گھاٹیاں دفن ہیں انکشاف ہونے والی یہ جغرافیائی ساخت بڑے پہاڑی سلسلوں، پیچیدہ زمینی نشیب و فراز اور وسیع وادیوں پر مشتمل ہے جو اس خطے سے متعلق اب تک کی سب سے حیران کن اور جامع دریافت سمجھی جا رہی ہے۔

    سائنسدانوں کے مطابق یہ معلومات نہ صرف انٹارکٹیکا کی جغرافیائی تاریخ کو سمجھنے میں مدد فراہم کریں گی بلکہ مستقبل میں برفانی چادروں کے پگھلاؤ اور عالمی سطح سمندر میں ممکنہ اضافے کی پیشگوئی کے لیے بھی انتہائی اہم ثابت ہوں گی۔

  • سائنسدانوں نے  مریخ کی سرخ رنگت کا معمہ حل کرلیا

    سائنسدانوں نے مریخ کی سرخ رنگت کا معمہ حل کرلیا

    مریخ کو اکثر سرخ سیارہ بھی کہا جاتا ہے،مریخ ہمارے نظام شمسی کا ایسا سیارہ ہے جس پر کافی تحقیقی کام ہوچکا ہے کیونکہ یہ زمین کا پڑوسی سیارہ ہے اور وہاں تک روبوٹیک مشنز کی رسائی بھی زہرہ کے مقابلے میں زیادہ آسان ہے۔

    باغی ٹی وی: جرنل نیچر کمیونیکیشنز میں شائع تحقیق کے مطابق سائنسدانوں نے مدار میں موجود مشنز اور اس کی سطح پر کام کرنے والے لینڈرز کے سائنسی ڈیٹا کو باہم ملا کر مریخ کی سرخ رنگت کا معمہ بظاہر حل کرلیا ہےان کے مطابق آئرن منرلز کی وجہ سے ہمارا پڑوسی سیارہ سرخ نظر آتا ہے۔

    تحقیق میں بتایا گیا کہ اربوں برسوں کے دوران مریخ کی چٹانوں میں موجود آئرن سطح پر موجود پانی یا فضا میں موجود پانی اور آکسیجن سے ملا اور آئرن آکسائیڈ کی شکل اختیار کرگیا اس طرح کا عمل زمین پر بھی ہوتا ہے جس سے لوہے پر زنگ لگتا ہے اور اربوں برسوں کے دوران مریخ پر بننے والا آئرن آکسائیڈ ذرات میں تقسیم ہوکر گرد کی شکل اختیار کرگیا اور پورے سیارے پر تیز ہواؤں کے نتیجے میں پھیل گیا۔

    ہائیکورٹ اور آئینی بنچز کے ججز کی سلیکشن کیلئے طریقہ کار طے کرنے سے متعلق کمیٹی تشکیل

    ماضی میں بھی مریخ پر موجود آئرن آکسائیڈ پرتحقیقی کام کیا گیا مگر وہ سب اسپیس کرافٹ کے مشاہدات پر مبنی تھا جس میں پانی کے شواہد دریافت نہیں ہوئے اس نئی تحقیق میں متعدد مشنز کے ڈیٹا کو مدنظر رکھا گیا اور مریخ پر موجود گرد کی نقل تیار کی گئی جس سے عندیہ ملا کہ ٹھنڈے پانیوں میں موجود ایک منرل سے مریخ کی رنگت سرخ ہوئی۔

    اسرائیل اور فلسطینی فلم سازوں کی مشترکہ فلم نے آسکرایوارڈ جیت لیا

    محققین نے بتایا کہ مریخ سرخ سیارہ ہے اور اب ہم یہ سمجھنے میں کامیاب ہوگئے ہیں کہ آخر مریخ کی رنگت سرخ کیوں ہوئی، سائنسد ا ن عرصے سے حیران تھے کہ آخر مریخ کی گرد میں آئرن آکسائیڈ کی مقدار کتنی ہےاگرچہ مریخ بھر میں یہ گرد موجود ہے مگر اس پر تحقیق بہت مشکل ہے کیونکہ وہاں تک انسانوں کی رسائی ابھی تک نہیں ہوسکی، تحقیق میں آئرن آکسائیڈ کی ایک مختلف قسم کی نشاندہی کی گئی جس میں پانی موجود تھا اور یہ قسم ٹھنڈے پانیوں میں تیزی سے بنتی ہے اور مریخ پر اس کی موجودگی کی ممکنہ وجہ یہی ہے کہ زمانہ قدیم میں سطح پر پانی موجود ہوگا-

    عیدا لفطر کب منائی جائے گی؟

  • روزے اور  الزائمر کی بیماری کے درمیان ایک اہم تعلق دریافت

    روزے اور الزائمر کی بیماری کے درمیان ایک اہم تعلق دریافت

    سائنسدانوں نے وقفے وقفے سے روزہ رکھنے (Intermittent Fasting) اور الزائمر کی بیماری کے درمیان ایک اہم تعلق دریافت کیا ہے۔

    باغی ٹی وی: تحقیق کے مطابق روزانہ مخصوص اوقات میں کھانے کی عادت نہ صرف یادداشت کو بہتر بنا سکتی ہے بلکہ الزائمر کی علامات کو کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے،روزہ رکھنے کا رجحان دنیا بھر میں تیزی سے مقبول ہو رہا ہے یہ نہ صرف دماغی صحت کے لیے فائدہ مند ہے بلکہ، بلڈ پریشر کو کم کرتا ہے انسولین کی سطح متوازن رکھتا ہے، جس سے ذیابیطس کے مریضوں کو فائدہ ہوتا ہے۔ جسمانی میٹابولزم کو بہتر بناتا ہے، جس سے وزن میں کمی ممکن ہوتی ہے نیند، ہارمونی نظام اور مجموعی دماغی صحت کے لیے مفید ثابت ہوتا ہے۔

    رمضان کے روزے، جن میں مسلمان سال بھر میں ایک مہینے تک روزانہ 14 سے 16 گھنٹے بغیر کھانے پینے کے رہتے ہیں، صرف روحانی عبادت نہیں بلکہ صحت کے لیے بھی بے شمار فوائد رکھتے ہیں جبکہ جدید تحقیق اب یہ ثابت کر رہی ہے کہ وقفے وقفے سے روزہ رکھنا دماغی صحت، نیند کے معیار اور جسم کی قدرتی حیاتیاتی گھڑی (سرکیڈین تال) کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

    ماہرین کے مطابق، روزانہ 10 گھنٹے کی مخصوص مدت میں کھانے سے نہ صرف علمی صلاحیتیں (Cognitive Abilities) بہتر ہو سکتی ہیں بلکہ دماغ میں امائلائیڈ پروٹین کے ذخائر کو کم کیا جا سکتا ہے، جو الزائمر کی ایک بڑی علامت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص صبح 8 بجے ناشتہ کرتا ہے، تو شام 6 بجے تک اسے کھانے سے رک جانا چاہیے۔

    تحقیق میں چوہوں پر کیے گئے تجربات سے معلوم ہوا کہ وقت کی پابندی کے ساتھ کھانے سے ان کی یادداشت اور نیند کے انداز میں بہتری آئی اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ غذا نہ صرف ڈیمنشیا (دماغی کمزوری) سے بچا سکتی ہے بلکہ اس کی علامات کو بھی کم کر سکتی ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ تقریباً 80 فیصد الزائمر کے مریضوں میں سرکیڈین تال (Circadian Rhythm) یعنی جسم کی قدرتی حیاتیاتی گھڑی میں خلل پیدا ہو جاتا ہے اس کی وجہ سے انہیں نیند میں دشواری ہوتی ہے اور رات کے وقت ان کی ذہنی حالت مزید بگڑ جاتی ہے۔

    سرکیڈین تال جسم کے 24 گھنٹے کے اندرونی نظام کو کنٹرول کرتا ہے، جس میں نیند، جسمانی درجہ حرارت، میٹابولزم اور ہارمونی نظام شامل ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ الزائمر کے مریض اکثر رات کے غیر متوقع اوقات میں جاگ جاتے ہیں اور الجھن کا شکار ہو جاتے ہیں، جس سے ان کے زخمی ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ الزائمر کے کئی مریضوں کو رہائشی دیکھ بھال کی ضرورت پیش آتی ہے۔

    یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سان ڈیاگو کی نیورو سائنس دان، ڈاکٹر پاؤلا ڈیسپلاٹس (Paula Desplats)، جو اس تحقیق کی سربراہ بھی ہیں نے کہا کہ ہم نے پہلے یہ سمجھا تھا کہ الزائمر کے مریضوں میں سرکیڈین تال کی خرابی نیوروڈیجنریشن (دماغی خلیوں کی تباہی) کا نتیجہ ہے، لیکن اب ہمیں معلوم ہو رہا ہے کہ یہ خرابی خود الزائمر کے آغاز کا ایک سبب بھی ہو سکتی ہے۔’

    تحقیق میں جینیاتی طور پر تبدیل شدہ چوہوں کو شامل کیا گیا، جنہیں الزائمر جیسی علامات لاحق تھیں، جیسے یادداشت کی کمزوری، رات کے وقت بے چینی اور دماغ میں امائلائیڈ پروٹین کے ذخائر۔ ان چوہوں کو دو گروپوں میں تقسیم کیا گیا، ایک گروپ کو دن بھر کھانے کی آزادی دی گئی،دوسرے گروپ کو روزانہ صرف 6 گھنٹوں کے اندر کھانے کی اجازت تھی، جبکہ باقی 18 گھنٹے وہ روزہ رکھتے۔

    وہ چوہے جو مخصوص کھانے کے اوقات پر عمل پیرا رہے، ان میں الزائمر سے جُڑے درجنوں جینز میں مثبت تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں۔ ان کے علمی امتحانات کے نتائج بہتر ہوئے، نیند کے مسائل کم ہوئے اور ان کے سرکیڈین تال میں بہتری آئی۔

    مزید تحقیق سے معلوم ہوا کہ وقت کی پابندی کے ساتھ کھانے سے نہ صرف نئے امائلائیڈ پروٹین کے بننے کی رفتار کم ہو گئی بلکہ پہلے سے موجود امائلائیڈ تختیاں بھی کم ہونے لگیں، جس کا مطلب ہے کہ دماغ انہیں خود صاف کرنے لگا تھا جس چیز کو سائنس آج دریافت کر رہی ہے یا انکشاف کر رہی ہے، وہ حقیقت میں اسلام میں چودہ سو سال پہلے ہی واضح کر دی گئی تھی۔

  • سائنسدان  زمین سے  62,000 میل دور گونجتی پرندوں کی چہچہاہٹ  سن کر حیران

    سائنسدان زمین سے 62,000 میل دور گونجتی پرندوں کی چہچہاہٹ سن کر حیران

    سائنسدانوں نے خلا میں ایسی کائناتی لہریں دریافت کی ہیں جو پرندوں کی چہچہاہٹ جیسی آواز پیدا کرتی ہیں۔

    باغی ٹی وی: جریدے ”نیچر“ میں شائع تحقیق کے مطابق ان لہروں کو ”کورس ویوز“ کہا جاتا ہے، جو پلازما کی لہریں ہیں اور انسانی سماعت سے مطابقت رکھنے والی فریکوئنسی پر پھیلتی ہیںجب ان لہروں کو آڈیو سگنلز میں تبدیل کیا گیا تو ان کی آواز بلند پچ والے پرندوں کی چہچہا ہٹ جیسی معلوم ہوئی یہ لہریں زمین سے 62,000 میل (100,000 کلومیٹر) دور ایک ایسی جگہ سے دریافت کی گئیں جہاں پہلے کبھی ان کی موجودگی کا مشاہدہ نہیں ہوا تھا۔

    یونیورسٹی آف آئیووا کی ماہر خلائی فزکس ایلیسن جینز کا کہنا ہے کہ یہ دریافت بہت سے نئے سوالات کو جنم دیتی ہے کہ اس علاقے میں کون سے طبیعیاتی عوامل ممکن ہو سکتے ہیں،ماہرین کا خیال ہے کہ یہ لہریں زمین کے مقناطیسی میدان کے اثرات سے پیدا ہو سکتی ہیں، تاہم اس کا میکانزم ابھی تک مکمل طور پر سمجھا نہیں جا سکا،یہ بہت پرکشش اور دلچسپ دریافت ہے ہمیں مزید ایسے واقعات کی تلاش کرنی چاہیے۔

    راکھی ساونت پاکستان پہنچ گئیں؟

    یہ لہریں پہلے بھی خلا میں ریکارڈ کی جا چکی ہیں، جیسے 1960 کی دہائی میں انٹارکٹیکا میں ایک تحقیقی اسٹیشن نے ان کا مشاہدہ کیا تھا ناسا کے وین ایلن پروبز نے زمین کے قریب سے بھی ان لہروں کی آوازیں سنی تھیں، لیکن یہ نئی دریافت پہلے سے کہیں زیادہ دور کی ہے۔

    تازہ آوازیں ناسا کے میگنیٹوسفیریک ملٹی اسکیل (MMS) سیٹلائٹس کے ذریعے ریکارڈ کی گئیں، جو 2015 میں زمین اور سورج کے مقناطیسی میدانوں کا مطالعہ کرنے کے لیے لانچ کی گئی تھیں کورس ویوز دیگر سیاروں جیسے مشتری اور زحل کے قریب بھی دیکھی گئی ہیں اور یہ ایسے ہائی انرجی الیکٹرانز پیدا کر سکتی ہیں جو سیٹلائٹ کمیونیکیشن کو متاثر کر سکتے ہیں۔

    طلاق یافتہ والدین کے بچے کونسی خطرناک بیماری کا شکار ہو سکتے ہیں؟

    تحقیق کے مصنف چینگمینگ لیو کا کہنا ہے کہ یہ لہریں خلا کی سب سے مضبوط اور اہم لہروں میں سے ایک ہیں،تازہ دریافت شدہ کورس ویوز زمین کے مقناطیسی میدان کے اس حصے میں ملی ہیں جو غیر متوقع طور پر پھیلا ہوا ہے، جس سے ان لہروں کے بننے کے عمل کے بارے میں نئے سوالات جنم لیتے ہیں۔

  • مستقبل کی پیش گوئی ممکن ہے، سائنس کا دعویٰ

    مستقبل کی پیش گوئی ممکن ہے، سائنس کا دعویٰ

    اٹھارہویں صدی عیسوی کے ریزبائیرین وزیر اور شوقیہ ریاضی دان کی بظاہر سادہ سی مساوات آج بھی موسم سے مستقبل تک بیشتر معاملات میں پیش گوئی کے حوالے سے ہماری معاونت کر رہی ہے۔

    باغی ٹی وی: ایوارڈ یافتہ سائنس رائٹر ٹام شِورز کی کتاب ’ایوری تھنگ اِز پرڈیکٹیبل‘ ہمیں اس سادہ مساوات کے بارے میں حیرت انگیز باتیں بتاتی ہے یہ کتاب رواں سال رائل سوسائٹی تریویدی سائنس بک پرائز کے لیے بھی تجویز کی گئی ہے اس کتاب میں اچھی طرح سمجھایا گیا ہے کہ کس طور مستقبل کے بارے میں پیش گوئی ممکن ہے۔

    ہم فطرت کے بارے میں بہت سے معاملات کی پیش گوئی حساب کتاب کی بنیاد پر کرسکتے ہیں مثلاً یہ کہ سورج کتنے بجے طلوع ہوگا، سورج یا چاند کو گرہن کب لگے گا بالکل اِسی طور ہم دستیاب معلومات کی بنیاد پر کسی بھی واقعے کی قابلِ رشک حد تک درست پیش گوئی کرسکتے ہیں۔

    تحریک انصاف کا 26 ویں آئینی ترمیم ووٹنگ کے بائیکاٹ کا اعلان

    ہم دستیاب اعداد و شمار اور معلومات کی بنیاد پر کہہ سکتے ہیں کہ موجودہ صدی کے وسط تک دنیا کی آبادی بڑھتی رہے گی اور یہ کہ کب گرنا شروع کرے گی ہم عالمی درجہ حرارت کے بارے میں بھی پیش گوئی کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں ہم مستقبل میں جھانک سکتے ہیں مستقبل میں بہت کچھ ایسا ہے جو ہم پورے یقین کے ساتھ نہیں بتاسکتے تاہم کچھ نہ کچھ ایسا بھی ہے جس کے بارے میں پورے یقین کے ساتھ درست پیش گوئی کی جاسکتی ہے۔

    امریکا کا بھارتی وزیر خارجہ اور پاکستانی رہنماؤں کی ملاقات پر ردعمل

    کائنات کے دور افتادہ حصوں کے بارے میں ہزاروں سال کی پیش گوئی کی جاسکتی ہے موسم کے بارے میں چند دن بعد کی بات بھی پوری درستی کے ساتھ نہیں کی جاسکتی، بہت سی باتیں ایسی ہیں جو ہم کسی بھی سطح کی بصیرت کے بجائے دستیاب معلومات یا ماضی کے تجربے کی بنیاد پر کہہ رہے ہوتے ہیں۔ ہمارے ماحول میں جو کچھ ہو رہا ہوتا ہے اُس پر اچھی طرح نظر دوڑا کر ہم بہت حد تک درست پیش گوئی کرسکتی ہے۔

    ہم اس حقیقت کو کبھی نظر انداز نہیں کرسکتے کہ جتنا بھی علم ہے وہ اعداد اور علامات میں پوشیدہ ہے جدید دنیا میں ریاضی کا ایک اصول (بیز تھیوریم) میڈیکل ٹیسٹنگ سے مصنوعی ذہانت تک ہر معاملے میں راہ نمائی کر رہا ہے۔

    خیبر پختونخوا کے 17 اضلاع میں ضمنی بلدیاتی انتخابات،پولنگ جاری

  • سائنسدانوں نے بلڈ گروپ سے متعلق 50 سال پرانے اسرار کو حل کیا

    سائنسدانوں نے بلڈ گروپ سے متعلق 50 سال پرانے اسرار کو حل کیا

    لندن: سائنسدانوں نے نیا بلڈ گروپ دریافت کرلیا-

    باغی ٹی وی : برطانوی ادارے این ایچ ایس بلڈ اینڈ ٹرانسپلانٹ اور یونیورسٹی آف برسٹل کے سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے MAL نامی ایک نئے بلڈ گروپ کی نشاندہی کی ہے مذکورہ بالا پیش رفت نے AnWj نامی اینٹیجن سے جُڑے 50 سال پرانے اسرار کو حل کیا ہے جو پہلی بار 1972 میں دریافت ہوا تھا۔

    بی بی سی کے مطابق سینئر ریسرچ سائنسدان لوئس ٹیلی کی قیادت میں ریسرچ ٹیم نے AnWj اینٹیجن سے محروم مریضوں کی شناخت کے لیے ایک جینیاتی ٹیسٹ بھی تیار کیا ہےیہ اختراع ماہرین کوMAL گروپ کے نایاب مریضوں کی بہتر دیکھ بھال کے قابل بنائے گی اور ہم آہنگ خون کے عطیہ دہندگان کی تلاش میں سہولت فراہم کرے گی۔

    لوئس، جنہوں نے اس پروجیکٹ کے لیے 20 سال وقف کیے ہیں، بی بی سی کو بتایا کہ اس ٹیسٹ سے مستفید ہونے والے لوگوں کی صحیح تعداد کا اندازہ لگانا مشکل ہے مزید برآں یہ MAL گروپ تمام بلڈ گروپ سسٹم میں 47واں نیا بلڈ گروپ ہے۔

    جلسہ تووڑ گیا، پہلے علی امین گنڈا پور معافی مانگے گا؟

  • افریقی سوانا ہاتھی بھی انسانوں کی طرح  ایک دوسرے کو ‘نام’ سے پکارتے ہیں،تحقیق

    افریقی سوانا ہاتھی بھی انسانوں کی طرح ایک دوسرے کو ‘نام’ سے پکارتے ہیں،تحقیق

    کینیا: ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ ہاتھی بھی انسانوں کی طرح ایک دوسرے کو ناموں سے پکارتے ہیں-

    باغی ٹی وی : جرنل نیچر ایکولوجی میں شائع نئی تحقیق میں ماہرین نے کہا ہے کہ ہاتھی اپنے ساتھیوں کے لیے مخصوص آوازیں نکالتے ہیں جبکہ ان آوازوں پر مخصوص ہاتھی ہی ردعمل ظاہر کرتے ہیں،اس تحقیق کے لیے کینیا میں ہاتھیوں کے 2 گروپس کی آوازوں کا تجزیہ آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹیکنالوجی پر مبنی الگورتھم کے ذریعے کیا گیا۔

    کینیا کے 2 نیشنل پارکس سے ہاتھیوں کی آوازوں کو 1986 سے 2022 کے دوران ریکارڈ کیا گیا اور مشین لرننگ الگورتھم کے ذریعے 469 آوازوں کو شناخت کیا گیا،ہاتھی مختلف طرح کی آوازیں نکالتے ہیں جن میں سے کچھ انسانی کان سن بھی نہیں پاتے۔

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس : آج کسی گواہ کا بیان ریکارڈ نہ ہوسکا

    تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ہاتھیوں کی آوازوں میں ہمیشہ ناموں کو پکارا نہیں جاتا بلکہ ایسا اس وقت کیا جاتا ہے جب ہاتھی ایک دوسرے سے دور ہوں یا بالغ ہاتھی بچوں کو تلاش کر رہے ہوں، بچوں کے مقابلے میں بالغ ہاتھیوں کی جانب سے ناموں کو استعمال کرنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے کیونکہ ممکنہ طور پر اس مخصوص صلاحیت کو سیکھنے میں کئی برس لگ جاتے ہیں، اس سے عندیہ ملتا ہے کہ ہاتھی یہ تعین کر سکتے ہیں کہ کسی آواز کا مقصد کیا ہے۔

    سب مجھے خاموش کرنے میں لگے ہوئے ہیں کہ کسی طرح دھاندلی کور ہو جائے،عمران …

    تحقیق کے دوران جب کسی ہاتھی کو اس کے دوست یا خاندان کے فرد کی جانب سے پکارے گئے نام کی ریکارڈنگ سنائی گئی تو اس کی جانب سے مثبت اور پرجوش ردعمل دیکھنے میں آیا،مگر ان ہاتھیوں کی جانب سے دیگر ناموں پر کوئی خاص ردعمل سامنے نہیں آیا اس سے عندیہ ملتا ہے کہ محض ہاتھی اور انسان 2 ایسے جاندار ہیں جو اپنے لیے ناموں کو استعمال کرتے ہیں، انسانوں اور ہاتھیوں میں کافی کچھ ملتا جلتا ہے، جیسے خاندان کی شکل میں رہنا اور مضبوط معاشرتی زندگیاں وغیرہ۔

    کیا سی ڈی اے کے اعلیٰ افسران کو انگریزی کی کلاسز کرانا پڑیں گی؟ جسٹس …