Baaghi TV

Tag: سائنس

  • انٹارکٹیکا کے نیچے چھپے راز سامنے آ گئے

    انٹارکٹیکا کے نیچے چھپے راز سامنے آ گئے

    سائنسدان یہ جاننے میں کامیاب ہو گئے ہیں کہ انٹارکٹیکا کی سرزمین میں برف کی موٹی تہوں کے نیچے کون سے حیران کن راز پوشیدہ ہیں۔

    ماہرین نے برف سے ڈھکے اس براعظم سے متعلق ایسی غیر معمولی تفصیلات پیش کی ہیں جن کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی انٹارکٹیکا میں جمی ہوئی کئی کلومیٹر موٹی برف اب تک سائنس دانوں کے لیے اس کی اصل زمینی ساخت کو جاننے میں سب سے بڑی رکاوٹ بنی رہی تاہم جدید نقشہ سازی کی انتہائی اعلیٰ تکنیک کے استعمال سے یہ مشکل بڑی حد تک حل کر لی گئی ہے۔

    تحقیق میں سیٹلائٹ ڈیٹا، جدید ریڈار سسٹمز اور انٹارکٹیکا میں گلیشیئرز کے سرکنے کی طبیعیات کو استعمال کیا گیا ہے تحقیق کے نتائج کے مطابق انٹارکٹیکا کی برف کے نیچے ہزاروں بلند و بالا چوٹیاں، وسیع و عریض وادیاں اور گہری، تنگ گھاٹیاں دفن ہیں انکشاف ہونے والی یہ جغرافیائی ساخت بڑے پہاڑی سلسلوں، پیچیدہ زمینی نشیب و فراز اور وسیع وادیوں پر مشتمل ہے جو اس خطے سے متعلق اب تک کی سب سے حیران کن اور جامع دریافت سمجھی جا رہی ہے۔

    سائنسدانوں کے مطابق یہ معلومات نہ صرف انٹارکٹیکا کی جغرافیائی تاریخ کو سمجھنے میں مدد فراہم کریں گی بلکہ مستقبل میں برفانی چادروں کے پگھلاؤ اور عالمی سطح سمندر میں ممکنہ اضافے کی پیشگوئی کے لیے بھی انتہائی اہم ثابت ہوں گی۔

  • سائنسدانوں نے  مریخ کی سرخ رنگت کا معمہ حل کرلیا

    سائنسدانوں نے مریخ کی سرخ رنگت کا معمہ حل کرلیا

    مریخ کو اکثر سرخ سیارہ بھی کہا جاتا ہے،مریخ ہمارے نظام شمسی کا ایسا سیارہ ہے جس پر کافی تحقیقی کام ہوچکا ہے کیونکہ یہ زمین کا پڑوسی سیارہ ہے اور وہاں تک روبوٹیک مشنز کی رسائی بھی زہرہ کے مقابلے میں زیادہ آسان ہے۔

    باغی ٹی وی: جرنل نیچر کمیونیکیشنز میں شائع تحقیق کے مطابق سائنسدانوں نے مدار میں موجود مشنز اور اس کی سطح پر کام کرنے والے لینڈرز کے سائنسی ڈیٹا کو باہم ملا کر مریخ کی سرخ رنگت کا معمہ بظاہر حل کرلیا ہےان کے مطابق آئرن منرلز کی وجہ سے ہمارا پڑوسی سیارہ سرخ نظر آتا ہے۔

    تحقیق میں بتایا گیا کہ اربوں برسوں کے دوران مریخ کی چٹانوں میں موجود آئرن سطح پر موجود پانی یا فضا میں موجود پانی اور آکسیجن سے ملا اور آئرن آکسائیڈ کی شکل اختیار کرگیا اس طرح کا عمل زمین پر بھی ہوتا ہے جس سے لوہے پر زنگ لگتا ہے اور اربوں برسوں کے دوران مریخ پر بننے والا آئرن آکسائیڈ ذرات میں تقسیم ہوکر گرد کی شکل اختیار کرگیا اور پورے سیارے پر تیز ہواؤں کے نتیجے میں پھیل گیا۔

    ہائیکورٹ اور آئینی بنچز کے ججز کی سلیکشن کیلئے طریقہ کار طے کرنے سے متعلق کمیٹی تشکیل

    ماضی میں بھی مریخ پر موجود آئرن آکسائیڈ پرتحقیقی کام کیا گیا مگر وہ سب اسپیس کرافٹ کے مشاہدات پر مبنی تھا جس میں پانی کے شواہد دریافت نہیں ہوئے اس نئی تحقیق میں متعدد مشنز کے ڈیٹا کو مدنظر رکھا گیا اور مریخ پر موجود گرد کی نقل تیار کی گئی جس سے عندیہ ملا کہ ٹھنڈے پانیوں میں موجود ایک منرل سے مریخ کی رنگت سرخ ہوئی۔

    اسرائیل اور فلسطینی فلم سازوں کی مشترکہ فلم نے آسکرایوارڈ جیت لیا

    محققین نے بتایا کہ مریخ سرخ سیارہ ہے اور اب ہم یہ سمجھنے میں کامیاب ہوگئے ہیں کہ آخر مریخ کی رنگت سرخ کیوں ہوئی، سائنسد ا ن عرصے سے حیران تھے کہ آخر مریخ کی گرد میں آئرن آکسائیڈ کی مقدار کتنی ہےاگرچہ مریخ بھر میں یہ گرد موجود ہے مگر اس پر تحقیق بہت مشکل ہے کیونکہ وہاں تک انسانوں کی رسائی ابھی تک نہیں ہوسکی، تحقیق میں آئرن آکسائیڈ کی ایک مختلف قسم کی نشاندہی کی گئی جس میں پانی موجود تھا اور یہ قسم ٹھنڈے پانیوں میں تیزی سے بنتی ہے اور مریخ پر اس کی موجودگی کی ممکنہ وجہ یہی ہے کہ زمانہ قدیم میں سطح پر پانی موجود ہوگا-

    عیدا لفطر کب منائی جائے گی؟

  • روزے اور  الزائمر کی بیماری کے درمیان ایک اہم تعلق دریافت

    روزے اور الزائمر کی بیماری کے درمیان ایک اہم تعلق دریافت

    سائنسدانوں نے وقفے وقفے سے روزہ رکھنے (Intermittent Fasting) اور الزائمر کی بیماری کے درمیان ایک اہم تعلق دریافت کیا ہے۔

    باغی ٹی وی: تحقیق کے مطابق روزانہ مخصوص اوقات میں کھانے کی عادت نہ صرف یادداشت کو بہتر بنا سکتی ہے بلکہ الزائمر کی علامات کو کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے،روزہ رکھنے کا رجحان دنیا بھر میں تیزی سے مقبول ہو رہا ہے یہ نہ صرف دماغی صحت کے لیے فائدہ مند ہے بلکہ، بلڈ پریشر کو کم کرتا ہے انسولین کی سطح متوازن رکھتا ہے، جس سے ذیابیطس کے مریضوں کو فائدہ ہوتا ہے۔ جسمانی میٹابولزم کو بہتر بناتا ہے، جس سے وزن میں کمی ممکن ہوتی ہے نیند، ہارمونی نظام اور مجموعی دماغی صحت کے لیے مفید ثابت ہوتا ہے۔

    رمضان کے روزے، جن میں مسلمان سال بھر میں ایک مہینے تک روزانہ 14 سے 16 گھنٹے بغیر کھانے پینے کے رہتے ہیں، صرف روحانی عبادت نہیں بلکہ صحت کے لیے بھی بے شمار فوائد رکھتے ہیں جبکہ جدید تحقیق اب یہ ثابت کر رہی ہے کہ وقفے وقفے سے روزہ رکھنا دماغی صحت، نیند کے معیار اور جسم کی قدرتی حیاتیاتی گھڑی (سرکیڈین تال) کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

    ماہرین کے مطابق، روزانہ 10 گھنٹے کی مخصوص مدت میں کھانے سے نہ صرف علمی صلاحیتیں (Cognitive Abilities) بہتر ہو سکتی ہیں بلکہ دماغ میں امائلائیڈ پروٹین کے ذخائر کو کم کیا جا سکتا ہے، جو الزائمر کی ایک بڑی علامت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص صبح 8 بجے ناشتہ کرتا ہے، تو شام 6 بجے تک اسے کھانے سے رک جانا چاہیے۔

    تحقیق میں چوہوں پر کیے گئے تجربات سے معلوم ہوا کہ وقت کی پابندی کے ساتھ کھانے سے ان کی یادداشت اور نیند کے انداز میں بہتری آئی اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ غذا نہ صرف ڈیمنشیا (دماغی کمزوری) سے بچا سکتی ہے بلکہ اس کی علامات کو بھی کم کر سکتی ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ تقریباً 80 فیصد الزائمر کے مریضوں میں سرکیڈین تال (Circadian Rhythm) یعنی جسم کی قدرتی حیاتیاتی گھڑی میں خلل پیدا ہو جاتا ہے اس کی وجہ سے انہیں نیند میں دشواری ہوتی ہے اور رات کے وقت ان کی ذہنی حالت مزید بگڑ جاتی ہے۔

    سرکیڈین تال جسم کے 24 گھنٹے کے اندرونی نظام کو کنٹرول کرتا ہے، جس میں نیند، جسمانی درجہ حرارت، میٹابولزم اور ہارمونی نظام شامل ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ الزائمر کے مریض اکثر رات کے غیر متوقع اوقات میں جاگ جاتے ہیں اور الجھن کا شکار ہو جاتے ہیں، جس سے ان کے زخمی ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ الزائمر کے کئی مریضوں کو رہائشی دیکھ بھال کی ضرورت پیش آتی ہے۔

    یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سان ڈیاگو کی نیورو سائنس دان، ڈاکٹر پاؤلا ڈیسپلاٹس (Paula Desplats)، جو اس تحقیق کی سربراہ بھی ہیں نے کہا کہ ہم نے پہلے یہ سمجھا تھا کہ الزائمر کے مریضوں میں سرکیڈین تال کی خرابی نیوروڈیجنریشن (دماغی خلیوں کی تباہی) کا نتیجہ ہے، لیکن اب ہمیں معلوم ہو رہا ہے کہ یہ خرابی خود الزائمر کے آغاز کا ایک سبب بھی ہو سکتی ہے۔’

    تحقیق میں جینیاتی طور پر تبدیل شدہ چوہوں کو شامل کیا گیا، جنہیں الزائمر جیسی علامات لاحق تھیں، جیسے یادداشت کی کمزوری، رات کے وقت بے چینی اور دماغ میں امائلائیڈ پروٹین کے ذخائر۔ ان چوہوں کو دو گروپوں میں تقسیم کیا گیا، ایک گروپ کو دن بھر کھانے کی آزادی دی گئی،دوسرے گروپ کو روزانہ صرف 6 گھنٹوں کے اندر کھانے کی اجازت تھی، جبکہ باقی 18 گھنٹے وہ روزہ رکھتے۔

    وہ چوہے جو مخصوص کھانے کے اوقات پر عمل پیرا رہے، ان میں الزائمر سے جُڑے درجنوں جینز میں مثبت تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں۔ ان کے علمی امتحانات کے نتائج بہتر ہوئے، نیند کے مسائل کم ہوئے اور ان کے سرکیڈین تال میں بہتری آئی۔

    مزید تحقیق سے معلوم ہوا کہ وقت کی پابندی کے ساتھ کھانے سے نہ صرف نئے امائلائیڈ پروٹین کے بننے کی رفتار کم ہو گئی بلکہ پہلے سے موجود امائلائیڈ تختیاں بھی کم ہونے لگیں، جس کا مطلب ہے کہ دماغ انہیں خود صاف کرنے لگا تھا جس چیز کو سائنس آج دریافت کر رہی ہے یا انکشاف کر رہی ہے، وہ حقیقت میں اسلام میں چودہ سو سال پہلے ہی واضح کر دی گئی تھی۔

  • سائنسدان  زمین سے  62,000 میل دور گونجتی پرندوں کی چہچہاہٹ  سن کر حیران

    سائنسدان زمین سے 62,000 میل دور گونجتی پرندوں کی چہچہاہٹ سن کر حیران

    سائنسدانوں نے خلا میں ایسی کائناتی لہریں دریافت کی ہیں جو پرندوں کی چہچہاہٹ جیسی آواز پیدا کرتی ہیں۔

    باغی ٹی وی: جریدے ”نیچر“ میں شائع تحقیق کے مطابق ان لہروں کو ”کورس ویوز“ کہا جاتا ہے، جو پلازما کی لہریں ہیں اور انسانی سماعت سے مطابقت رکھنے والی فریکوئنسی پر پھیلتی ہیںجب ان لہروں کو آڈیو سگنلز میں تبدیل کیا گیا تو ان کی آواز بلند پچ والے پرندوں کی چہچہا ہٹ جیسی معلوم ہوئی یہ لہریں زمین سے 62,000 میل (100,000 کلومیٹر) دور ایک ایسی جگہ سے دریافت کی گئیں جہاں پہلے کبھی ان کی موجودگی کا مشاہدہ نہیں ہوا تھا۔

    یونیورسٹی آف آئیووا کی ماہر خلائی فزکس ایلیسن جینز کا کہنا ہے کہ یہ دریافت بہت سے نئے سوالات کو جنم دیتی ہے کہ اس علاقے میں کون سے طبیعیاتی عوامل ممکن ہو سکتے ہیں،ماہرین کا خیال ہے کہ یہ لہریں زمین کے مقناطیسی میدان کے اثرات سے پیدا ہو سکتی ہیں، تاہم اس کا میکانزم ابھی تک مکمل طور پر سمجھا نہیں جا سکا،یہ بہت پرکشش اور دلچسپ دریافت ہے ہمیں مزید ایسے واقعات کی تلاش کرنی چاہیے۔

    راکھی ساونت پاکستان پہنچ گئیں؟

    یہ لہریں پہلے بھی خلا میں ریکارڈ کی جا چکی ہیں، جیسے 1960 کی دہائی میں انٹارکٹیکا میں ایک تحقیقی اسٹیشن نے ان کا مشاہدہ کیا تھا ناسا کے وین ایلن پروبز نے زمین کے قریب سے بھی ان لہروں کی آوازیں سنی تھیں، لیکن یہ نئی دریافت پہلے سے کہیں زیادہ دور کی ہے۔

    تازہ آوازیں ناسا کے میگنیٹوسفیریک ملٹی اسکیل (MMS) سیٹلائٹس کے ذریعے ریکارڈ کی گئیں، جو 2015 میں زمین اور سورج کے مقناطیسی میدانوں کا مطالعہ کرنے کے لیے لانچ کی گئی تھیں کورس ویوز دیگر سیاروں جیسے مشتری اور زحل کے قریب بھی دیکھی گئی ہیں اور یہ ایسے ہائی انرجی الیکٹرانز پیدا کر سکتی ہیں جو سیٹلائٹ کمیونیکیشن کو متاثر کر سکتے ہیں۔

    طلاق یافتہ والدین کے بچے کونسی خطرناک بیماری کا شکار ہو سکتے ہیں؟

    تحقیق کے مصنف چینگمینگ لیو کا کہنا ہے کہ یہ لہریں خلا کی سب سے مضبوط اور اہم لہروں میں سے ایک ہیں،تازہ دریافت شدہ کورس ویوز زمین کے مقناطیسی میدان کے اس حصے میں ملی ہیں جو غیر متوقع طور پر پھیلا ہوا ہے، جس سے ان لہروں کے بننے کے عمل کے بارے میں نئے سوالات جنم لیتے ہیں۔

  • مستقبل کی پیش گوئی ممکن ہے، سائنس کا دعویٰ

    مستقبل کی پیش گوئی ممکن ہے، سائنس کا دعویٰ

    اٹھارہویں صدی عیسوی کے ریزبائیرین وزیر اور شوقیہ ریاضی دان کی بظاہر سادہ سی مساوات آج بھی موسم سے مستقبل تک بیشتر معاملات میں پیش گوئی کے حوالے سے ہماری معاونت کر رہی ہے۔

    باغی ٹی وی: ایوارڈ یافتہ سائنس رائٹر ٹام شِورز کی کتاب ’ایوری تھنگ اِز پرڈیکٹیبل‘ ہمیں اس سادہ مساوات کے بارے میں حیرت انگیز باتیں بتاتی ہے یہ کتاب رواں سال رائل سوسائٹی تریویدی سائنس بک پرائز کے لیے بھی تجویز کی گئی ہے اس کتاب میں اچھی طرح سمجھایا گیا ہے کہ کس طور مستقبل کے بارے میں پیش گوئی ممکن ہے۔

    ہم فطرت کے بارے میں بہت سے معاملات کی پیش گوئی حساب کتاب کی بنیاد پر کرسکتے ہیں مثلاً یہ کہ سورج کتنے بجے طلوع ہوگا، سورج یا چاند کو گرہن کب لگے گا بالکل اِسی طور ہم دستیاب معلومات کی بنیاد پر کسی بھی واقعے کی قابلِ رشک حد تک درست پیش گوئی کرسکتے ہیں۔

    تحریک انصاف کا 26 ویں آئینی ترمیم ووٹنگ کے بائیکاٹ کا اعلان

    ہم دستیاب اعداد و شمار اور معلومات کی بنیاد پر کہہ سکتے ہیں کہ موجودہ صدی کے وسط تک دنیا کی آبادی بڑھتی رہے گی اور یہ کہ کب گرنا شروع کرے گی ہم عالمی درجہ حرارت کے بارے میں بھی پیش گوئی کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں ہم مستقبل میں جھانک سکتے ہیں مستقبل میں بہت کچھ ایسا ہے جو ہم پورے یقین کے ساتھ نہیں بتاسکتے تاہم کچھ نہ کچھ ایسا بھی ہے جس کے بارے میں پورے یقین کے ساتھ درست پیش گوئی کی جاسکتی ہے۔

    امریکا کا بھارتی وزیر خارجہ اور پاکستانی رہنماؤں کی ملاقات پر ردعمل

    کائنات کے دور افتادہ حصوں کے بارے میں ہزاروں سال کی پیش گوئی کی جاسکتی ہے موسم کے بارے میں چند دن بعد کی بات بھی پوری درستی کے ساتھ نہیں کی جاسکتی، بہت سی باتیں ایسی ہیں جو ہم کسی بھی سطح کی بصیرت کے بجائے دستیاب معلومات یا ماضی کے تجربے کی بنیاد پر کہہ رہے ہوتے ہیں۔ ہمارے ماحول میں جو کچھ ہو رہا ہوتا ہے اُس پر اچھی طرح نظر دوڑا کر ہم بہت حد تک درست پیش گوئی کرسکتی ہے۔

    ہم اس حقیقت کو کبھی نظر انداز نہیں کرسکتے کہ جتنا بھی علم ہے وہ اعداد اور علامات میں پوشیدہ ہے جدید دنیا میں ریاضی کا ایک اصول (بیز تھیوریم) میڈیکل ٹیسٹنگ سے مصنوعی ذہانت تک ہر معاملے میں راہ نمائی کر رہا ہے۔

    خیبر پختونخوا کے 17 اضلاع میں ضمنی بلدیاتی انتخابات،پولنگ جاری

  • سائنسدانوں نے بلڈ گروپ سے متعلق 50 سال پرانے اسرار کو حل کیا

    سائنسدانوں نے بلڈ گروپ سے متعلق 50 سال پرانے اسرار کو حل کیا

    لندن: سائنسدانوں نے نیا بلڈ گروپ دریافت کرلیا-

    باغی ٹی وی : برطانوی ادارے این ایچ ایس بلڈ اینڈ ٹرانسپلانٹ اور یونیورسٹی آف برسٹل کے سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے MAL نامی ایک نئے بلڈ گروپ کی نشاندہی کی ہے مذکورہ بالا پیش رفت نے AnWj نامی اینٹیجن سے جُڑے 50 سال پرانے اسرار کو حل کیا ہے جو پہلی بار 1972 میں دریافت ہوا تھا۔

    بی بی سی کے مطابق سینئر ریسرچ سائنسدان لوئس ٹیلی کی قیادت میں ریسرچ ٹیم نے AnWj اینٹیجن سے محروم مریضوں کی شناخت کے لیے ایک جینیاتی ٹیسٹ بھی تیار کیا ہےیہ اختراع ماہرین کوMAL گروپ کے نایاب مریضوں کی بہتر دیکھ بھال کے قابل بنائے گی اور ہم آہنگ خون کے عطیہ دہندگان کی تلاش میں سہولت فراہم کرے گی۔

    لوئس، جنہوں نے اس پروجیکٹ کے لیے 20 سال وقف کیے ہیں، بی بی سی کو بتایا کہ اس ٹیسٹ سے مستفید ہونے والے لوگوں کی صحیح تعداد کا اندازہ لگانا مشکل ہے مزید برآں یہ MAL گروپ تمام بلڈ گروپ سسٹم میں 47واں نیا بلڈ گروپ ہے۔

    جلسہ تووڑ گیا، پہلے علی امین گنڈا پور معافی مانگے گا؟

  • افریقی سوانا ہاتھی بھی انسانوں کی طرح  ایک دوسرے کو ‘نام’ سے پکارتے ہیں،تحقیق

    افریقی سوانا ہاتھی بھی انسانوں کی طرح ایک دوسرے کو ‘نام’ سے پکارتے ہیں،تحقیق

    کینیا: ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ ہاتھی بھی انسانوں کی طرح ایک دوسرے کو ناموں سے پکارتے ہیں-

    باغی ٹی وی : جرنل نیچر ایکولوجی میں شائع نئی تحقیق میں ماہرین نے کہا ہے کہ ہاتھی اپنے ساتھیوں کے لیے مخصوص آوازیں نکالتے ہیں جبکہ ان آوازوں پر مخصوص ہاتھی ہی ردعمل ظاہر کرتے ہیں،اس تحقیق کے لیے کینیا میں ہاتھیوں کے 2 گروپس کی آوازوں کا تجزیہ آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹیکنالوجی پر مبنی الگورتھم کے ذریعے کیا گیا۔

    کینیا کے 2 نیشنل پارکس سے ہاتھیوں کی آوازوں کو 1986 سے 2022 کے دوران ریکارڈ کیا گیا اور مشین لرننگ الگورتھم کے ذریعے 469 آوازوں کو شناخت کیا گیا،ہاتھی مختلف طرح کی آوازیں نکالتے ہیں جن میں سے کچھ انسانی کان سن بھی نہیں پاتے۔

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس : آج کسی گواہ کا بیان ریکارڈ نہ ہوسکا

    تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ہاتھیوں کی آوازوں میں ہمیشہ ناموں کو پکارا نہیں جاتا بلکہ ایسا اس وقت کیا جاتا ہے جب ہاتھی ایک دوسرے سے دور ہوں یا بالغ ہاتھی بچوں کو تلاش کر رہے ہوں، بچوں کے مقابلے میں بالغ ہاتھیوں کی جانب سے ناموں کو استعمال کرنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے کیونکہ ممکنہ طور پر اس مخصوص صلاحیت کو سیکھنے میں کئی برس لگ جاتے ہیں، اس سے عندیہ ملتا ہے کہ ہاتھی یہ تعین کر سکتے ہیں کہ کسی آواز کا مقصد کیا ہے۔

    سب مجھے خاموش کرنے میں لگے ہوئے ہیں کہ کسی طرح دھاندلی کور ہو جائے،عمران …

    تحقیق کے دوران جب کسی ہاتھی کو اس کے دوست یا خاندان کے فرد کی جانب سے پکارے گئے نام کی ریکارڈنگ سنائی گئی تو اس کی جانب سے مثبت اور پرجوش ردعمل دیکھنے میں آیا،مگر ان ہاتھیوں کی جانب سے دیگر ناموں پر کوئی خاص ردعمل سامنے نہیں آیا اس سے عندیہ ملتا ہے کہ محض ہاتھی اور انسان 2 ایسے جاندار ہیں جو اپنے لیے ناموں کو استعمال کرتے ہیں، انسانوں اور ہاتھیوں میں کافی کچھ ملتا جلتا ہے، جیسے خاندان کی شکل میں رہنا اور مضبوط معاشرتی زندگیاں وغیرہ۔

    کیا سی ڈی اے کے اعلیٰ افسران کو انگریزی کی کلاسز کرانا پڑیں گی؟ جسٹس …

  • سائنسدانوں نے پودوں کے درمیان ‘گفتگو’ کی ویڈیو جاری کردی

    سائنسدانوں نے پودوں کے درمیان ‘گفتگو’ کی ویڈیو جاری کردی

    جاپانی سائنسدانوں نے پودوں کے درمیان ‘گفتگو’ کو کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کر لیا-

    باغی ٹی وی : جرنل نیچر کمیونیکیشنز میں شائع تحقیق میں جاپان کی Saitama یونیورسٹی کے ماہرین نے بتایا کہ پودے اپنے اردگرد مادے کے ذرات خارج کرکے ایک دوسرے سے ‘بات چیت’ کرتے ہیں، یہ پودے اپنے قریب خطرے کو محسوس کرکے اس طرح آپس میں رابطہ کرتے ہیں،انہوں نے کیمرے میں ایک بائیو سنسر کا اضافہ کیا تھا جو سبز چمک خارج کرتا تھا تاکہ پودوں کے درمیان رابطے کے لیے استعمال ہونے والے calcium ions کو دیکھا جاسکے۔

    جاپانی سائنسدانوں نے ایک ویڈیو میں دکھایا کہ کس طرح پودے فضا کے ذریعے دئیے جانے والے خطرے کے سگنلز پر ردعمل ظاہر کرتے ہیں مادے کی بو پر صحت مند پودوں کی جانب سے ردعمل ظاہر کیا جاتا ہے پودے اپنے قریب موجود ایسے پودوں سے خارج مادے کی بو کو محسوس کرتے ہیں جن کو کیڑوں یا دیگر وجوہات کے باعث نقصان پہنچا ہوتا ہے، جس کے بعد مختلف دفاعی نظام متحرک ہوتے ہیں –

    گزشتہ 3 دہائیون میں مسلم لیگ ن نے پاکستان کی معیشت کو سنبھالنے میں …

    او آئی سی کی بھارت میں بابری مسجد کی جگہ پر رام مندر کے افتتاح …

    اسرائیل نے حماس کے ساتھ جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کیلئے 6 شرائط …

    پودوں کے باہمی رابطے کو ریکارڈ کرنے کے لیے سائنسدانوں نے پتوں اور کیڑوں سے بھرے ایک کنٹینر پر ایک پمپ لگایا اس کے ساتھ دوسرے ڈبے میں Arabidopsis thaliana نامی پودا تھا جس کے پتوں کو ان کیڑوں کو کھانے دیا گیا پھر یہ مشاہدہ کیا گیا کہ قریب موجود اسی قسم کے صحت مند پودے نے خطرے کے سگنلز پر کیا ردعمل ظاہر کیا۔

    https://youtu.be/wJ0SgwWG1q4

  • ممی کو 128 سال بعد مناسب طریقے سے دفنانے کی اجازت دے دی گئی

    ممی کو 128 سال بعد مناسب طریقے سے دفنانے کی اجازت دے دی گئی

    آپ کو معلوم ہوگا کہ انسان کا مرنا اور پھر مرنے کے بعد اس کی آخری رسومات ایک لازمی عمل ہے اور سائنسی تحقیق کے مطابق مرنے کے بعد انسان کے جسم سے خاص قسم کے جراثیم کا اخراج شروع ہوجاتا ہے، اس لئے اس کا تلف ہونا ضروری ہے تاہم ایسا ہی کچھ اب 128 سال سے حنوط شدہ ایک لاش کے ساتھ کیا جارہا ہے، پنسلوانیا کی اسٹون مین ولی نامی ممی کو 128 سال بعد مناسب طریقے سے دفنانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

    روئیٹرز کی خبر کے مطابق اسٹون مین ولی نامی شخص کو 128 سال سے ریڈنگ میں نمائش کے لیے رکھا گیا تھا، یہ نامعلوم شخص ایک شرابی تھا جو 19 نومبر 1895 کو ایک مقامی جیل میں گردے فیل ہونے کی وجہ سے فوت ہوگیا تھا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ملالہ یوسفزئی 21 واں سالانہ نیلسن منڈیلا لیکچر دیں گی

    انتخابات میں عالمی مبصرین کو بلانے بارے الیکشن کمیشن کا اجلاس
    امریکی کرنسی کے مقابلے روپیہ مزید تگڑا
    تاہم ٹائی کے ساتھ سوٹ میں ملبوس اس شخص کو ایک تابوت میں دکھایا گیا ہے جس کے سینے پر سرخ ربن ہے۔ اس کے بال اور دانت برقرار ہیں، اس کی جلد چمڑے کی شکل اختیار کر چکی ہے جبکہ اومان کے فیونرل ہوم کے مطابق، اسے حادثاتی طور پر ایک ایمبامنگ تکنیک کے ساتھ تجربہ کرنے والے مورٹیشین نے ممی بنا دیا تھا۔

  • خلائی مشن مکمل؛ سلطان النیادی کی زمین پر کامیاب واپسی

    خلائی مشن مکمل؛ سلطان النیادی کی زمین پر کامیاب واپسی

    متحدہ عرب امارات کے خلاباز سلطان النیادی اور ان کے عملے کے ساتھی بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر چھ ماہ کےکے بعد متحدہ عرب امارات کے مقامی وقت کے مطابق صبح 8:19 پر کامیابی کے ساتھ زمین پر اتر گئے ہیں جبکہ ناسا نے اعلان کیا کہ اسپیس ایکس ڈریگن کیپسول پر سوار عملہ 17 گھنٹے کا خلائی سفر کامیابی سے مکمل کرنے کے بعد فلوریڈا کے جیکسن ویل کے ساحل پر بحر اوقیانوس میں اتر گیا ہے.

    عالمی میڈیا کے مطابق ناسا نے مزید کہا کہ اس کے بعد اسپیس ایکس کے عملے نے کیپسول کے عملے کو بازیافت کیا، جبکہ کیپسول کو پانی سے اٹھا کر ایک ریکوری برتن میں رکھا گیا جس کے بعد خلابازوں کو ایک ایک کر کے کیپسول سے بحفاظت نکال لیا گیا۔ توقع ہے کہ انہیں فلوریڈا میں ناسا کی سہولت پر لے جایا جائے گا جہاں ان کے خاندان بے صبری سے ان کا انتظار کر رہے ہیں۔

    علاوہ ازیں عملے کے ارکان اپنے گھروں کو جانے سے پہلے فلوریڈا میں طبی ٹیسٹ کرائیں گے، خلائی اسٹیشن پر 184 دن گزارنے کے بعد، سلطان النیادی نے اتوار کو متحدہ عرب امارات کے وقت کے مطابق دوپہر 3:05 بجے انٹرنیشنل سپیس سٹیشن چھوڑا اور خلا میں اپنے آخری دن، النیادی نے کیپسول کے ہیچ بند ہونے سے پہلے خلائی اسٹیشن میں موجود اپنے دوستوں کو الوداع کہا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    سی ٹی ڈی کی کاروائی،سات مبینہ دہشتگرد گرفتار
    ہیلی کاپٹر حادثے پر بہت دکھ ہوا،اللہ تعالی شہدا کے درجات بلند کرے، نواز شریف
    اگلے 10 دن اہم،بازی پلٹ گئی،نواز شریف،مریم پر ریڈ لائن ختم، بڑی تیاریاں شروع
    اوپن مارکیٹ؛ ڈالر 331 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

    جبکہ اس مشن کے دوران اماراتی خلانورد سلطان النیادی نے خلائی چہل قدمی کرنے والے پہلے عرب بن کے تاریخ رقم کی۔ توقع ہے کہ جب وہ امریکہ میں طبی معائنے کے بعد متحدہ عرب امارات واپس آئیں گے تو انہیں ہیرو کا اعزاز ملے گا اور جمعے کے روز متحدہ عرب امارات میں شاہراہوں پر نصب الیکٹرانک بل بورڈز پر النیادی کی آمد کی الٹی گنتی دکھائی گئی، جس میں لکھا تھا کہ ” سفر بخیر، سلطان”