Baaghi TV

Tag: سائنس

  • سائنسدانوں نے پودوں کے درمیان ‘گفتگو’ کی ویڈیو جاری کردی

    سائنسدانوں نے پودوں کے درمیان ‘گفتگو’ کی ویڈیو جاری کردی

    جاپانی سائنسدانوں نے پودوں کے درمیان ‘گفتگو’ کو کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کر لیا-

    باغی ٹی وی : جرنل نیچر کمیونیکیشنز میں شائع تحقیق میں جاپان کی Saitama یونیورسٹی کے ماہرین نے بتایا کہ پودے اپنے اردگرد مادے کے ذرات خارج کرکے ایک دوسرے سے ‘بات چیت’ کرتے ہیں، یہ پودے اپنے قریب خطرے کو محسوس کرکے اس طرح آپس میں رابطہ کرتے ہیں،انہوں نے کیمرے میں ایک بائیو سنسر کا اضافہ کیا تھا جو سبز چمک خارج کرتا تھا تاکہ پودوں کے درمیان رابطے کے لیے استعمال ہونے والے calcium ions کو دیکھا جاسکے۔

    جاپانی سائنسدانوں نے ایک ویڈیو میں دکھایا کہ کس طرح پودے فضا کے ذریعے دئیے جانے والے خطرے کے سگنلز پر ردعمل ظاہر کرتے ہیں مادے کی بو پر صحت مند پودوں کی جانب سے ردعمل ظاہر کیا جاتا ہے پودے اپنے قریب موجود ایسے پودوں سے خارج مادے کی بو کو محسوس کرتے ہیں جن کو کیڑوں یا دیگر وجوہات کے باعث نقصان پہنچا ہوتا ہے، جس کے بعد مختلف دفاعی نظام متحرک ہوتے ہیں –

    گزشتہ 3 دہائیون میں مسلم لیگ ن نے پاکستان کی معیشت کو سنبھالنے میں …

    او آئی سی کی بھارت میں بابری مسجد کی جگہ پر رام مندر کے افتتاح …

    اسرائیل نے حماس کے ساتھ جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کیلئے 6 شرائط …

    پودوں کے باہمی رابطے کو ریکارڈ کرنے کے لیے سائنسدانوں نے پتوں اور کیڑوں سے بھرے ایک کنٹینر پر ایک پمپ لگایا اس کے ساتھ دوسرے ڈبے میں Arabidopsis thaliana نامی پودا تھا جس کے پتوں کو ان کیڑوں کو کھانے دیا گیا پھر یہ مشاہدہ کیا گیا کہ قریب موجود اسی قسم کے صحت مند پودے نے خطرے کے سگنلز پر کیا ردعمل ظاہر کیا۔

    https://youtu.be/wJ0SgwWG1q4

  • ممی کو 128 سال بعد مناسب طریقے سے دفنانے کی اجازت دے دی گئی

    ممی کو 128 سال بعد مناسب طریقے سے دفنانے کی اجازت دے دی گئی

    آپ کو معلوم ہوگا کہ انسان کا مرنا اور پھر مرنے کے بعد اس کی آخری رسومات ایک لازمی عمل ہے اور سائنسی تحقیق کے مطابق مرنے کے بعد انسان کے جسم سے خاص قسم کے جراثیم کا اخراج شروع ہوجاتا ہے، اس لئے اس کا تلف ہونا ضروری ہے تاہم ایسا ہی کچھ اب 128 سال سے حنوط شدہ ایک لاش کے ساتھ کیا جارہا ہے، پنسلوانیا کی اسٹون مین ولی نامی ممی کو 128 سال بعد مناسب طریقے سے دفنانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

    روئیٹرز کی خبر کے مطابق اسٹون مین ولی نامی شخص کو 128 سال سے ریڈنگ میں نمائش کے لیے رکھا گیا تھا، یہ نامعلوم شخص ایک شرابی تھا جو 19 نومبر 1895 کو ایک مقامی جیل میں گردے فیل ہونے کی وجہ سے فوت ہوگیا تھا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ملالہ یوسفزئی 21 واں سالانہ نیلسن منڈیلا لیکچر دیں گی

    انتخابات میں عالمی مبصرین کو بلانے بارے الیکشن کمیشن کا اجلاس
    امریکی کرنسی کے مقابلے روپیہ مزید تگڑا
    تاہم ٹائی کے ساتھ سوٹ میں ملبوس اس شخص کو ایک تابوت میں دکھایا گیا ہے جس کے سینے پر سرخ ربن ہے۔ اس کے بال اور دانت برقرار ہیں، اس کی جلد چمڑے کی شکل اختیار کر چکی ہے جبکہ اومان کے فیونرل ہوم کے مطابق، اسے حادثاتی طور پر ایک ایمبامنگ تکنیک کے ساتھ تجربہ کرنے والے مورٹیشین نے ممی بنا دیا تھا۔

  • خلائی مشن مکمل؛ سلطان النیادی کی زمین پر کامیاب واپسی

    خلائی مشن مکمل؛ سلطان النیادی کی زمین پر کامیاب واپسی

    متحدہ عرب امارات کے خلاباز سلطان النیادی اور ان کے عملے کے ساتھی بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر چھ ماہ کےکے بعد متحدہ عرب امارات کے مقامی وقت کے مطابق صبح 8:19 پر کامیابی کے ساتھ زمین پر اتر گئے ہیں جبکہ ناسا نے اعلان کیا کہ اسپیس ایکس ڈریگن کیپسول پر سوار عملہ 17 گھنٹے کا خلائی سفر کامیابی سے مکمل کرنے کے بعد فلوریڈا کے جیکسن ویل کے ساحل پر بحر اوقیانوس میں اتر گیا ہے.

    عالمی میڈیا کے مطابق ناسا نے مزید کہا کہ اس کے بعد اسپیس ایکس کے عملے نے کیپسول کے عملے کو بازیافت کیا، جبکہ کیپسول کو پانی سے اٹھا کر ایک ریکوری برتن میں رکھا گیا جس کے بعد خلابازوں کو ایک ایک کر کے کیپسول سے بحفاظت نکال لیا گیا۔ توقع ہے کہ انہیں فلوریڈا میں ناسا کی سہولت پر لے جایا جائے گا جہاں ان کے خاندان بے صبری سے ان کا انتظار کر رہے ہیں۔

    علاوہ ازیں عملے کے ارکان اپنے گھروں کو جانے سے پہلے فلوریڈا میں طبی ٹیسٹ کرائیں گے، خلائی اسٹیشن پر 184 دن گزارنے کے بعد، سلطان النیادی نے اتوار کو متحدہ عرب امارات کے وقت کے مطابق دوپہر 3:05 بجے انٹرنیشنل سپیس سٹیشن چھوڑا اور خلا میں اپنے آخری دن، النیادی نے کیپسول کے ہیچ بند ہونے سے پہلے خلائی اسٹیشن میں موجود اپنے دوستوں کو الوداع کہا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    سی ٹی ڈی کی کاروائی،سات مبینہ دہشتگرد گرفتار
    ہیلی کاپٹر حادثے پر بہت دکھ ہوا،اللہ تعالی شہدا کے درجات بلند کرے، نواز شریف
    اگلے 10 دن اہم،بازی پلٹ گئی،نواز شریف،مریم پر ریڈ لائن ختم، بڑی تیاریاں شروع
    اوپن مارکیٹ؛ ڈالر 331 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

    جبکہ اس مشن کے دوران اماراتی خلانورد سلطان النیادی نے خلائی چہل قدمی کرنے والے پہلے عرب بن کے تاریخ رقم کی۔ توقع ہے کہ جب وہ امریکہ میں طبی معائنے کے بعد متحدہ عرب امارات واپس آئیں گے تو انہیں ہیرو کا اعزاز ملے گا اور جمعے کے روز متحدہ عرب امارات میں شاہراہوں پر نصب الیکٹرانک بل بورڈز پر النیادی کی آمد کی الٹی گنتی دکھائی گئی، جس میں لکھا تھا کہ ” سفر بخیر، سلطان”

  • جیمز ویب ٹیلی سکوپ نے یورینس کے چھلوں کی تفصیلی تصویر جاری کردی

    جیمز ویب ٹیلی سکوپ نے یورینس کے چھلوں کی تفصیلی تصویر جاری کردی

    واشنگٹن: ناسا کی 10 ارب ڈالرز کی لاگت سے بنائی گئی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے نظامِ شمسی کے ساتویں سیارے یورینس کی تفصیلی تصویر جاری کردی تصویر میں برف کے سیارے کے گرد موجود 13 چھلوں میں سے 11 کو اور اس کے 27 چاندوں کو دیکھا جاسکتا ہے یہ چھلے اتنے چمکدار ہیں کہ ان روشن دائرے کی صورت دِکھتے ہیں۔

    باغی ٹی وی :ناسا کے ایک بیان کے مطابق جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے سیارے کے دو دھندلے ترین غبار پر مشتمل چھلوں کو بھی عکس بند کیا ہے جن کو 1986 میں وائجر 2 نے قریب سے گزرتے وقت دریافت کیا تھا یورینس کے گرد یہ چھلےدیگر سیاروں کے گرد موجود چھلوں کی نسبت پتلے، تنگ اور تاریک ہیں ۔


    ٹیلی اسکوپ نے یورینس کے 27 معلوم چاندوں کو بھی عکس بند کیا۔ ان چاندوں میں اکثر اتنے چھوٹے ہیں کہ تصویر میں واضح نہیں دیکھے جاسکتے جبکہ چھ روشن چاندوں کی نشاندہی صرف 12 منٹ کے ایکسپوژر میں کی گئی۔

    ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی نوکیا چاند پر 4 جی نیٹ ورک لگانے کے لیے تیار

    تصویر کے لیے استعمال کیے گئے نیئر انفرا ریڈ کیمرا(الیکٹرومیگنیٹک اسپیکٹرم میں قابلِ دید روشنی سے زیادہ فریکوئنسی والی روشنی کو عکس بند کرتا ہے) نے نئی تصویر میں دور دراز موجود کہکشاؤں کو بھی واضح عکس بند کیا ہے۔

    انگلینڈ کی ناٹنگھم یونیورسٹی کے ماہر فلکیات مائیکل میری فیلڈ نے کہا کہ یورینس کو اس قسم کی تفصیل سے دیکھنا کتنا حیرت انگیز ہے جو اس سے پہلے صرف وائجر 2 کے اصل میں اس کا دورہ کرنے کے ذریعہ ممکن ہوا تھا-

    سائنس دانوں کا خیال ہے کہ ویب ایک دن سیارے کے باقی دو بیرونی حلقوں کی بھی تصویر بنانے میں کامیاب ہو جائے گا جو اس پہلی تصویر میں نہیں دکھائے گئے ہیں۔ دوربین فی الحال سیارے کی فالو اپ تصاویر لے رہی ہے۔

    سورج کے حجم سے 30 بلین گنا بڑا بلیک ہول دریافت

    یورینس سورج کا ساتواں سیارہ ہے، اور ہمارے نظام شمسی میں اس کا قطر تیسرا سب سے بڑا ہے یہ ٹیلی سکوپ کی مدد سے پایا جانے والا پہلا سیارہ تھا، یورینس کو 1781 میں ماہر فلکیات ولیم ہرشل نے دریافت کیا تھا یورینس کی سطح ٹھوس نہیں ہے۔ اس کا ماحول بنیادی طور پر کچھ میتھین کے ساتھ ہائیڈروجن اور ہیلیم ہے، جو سورج کی روشنی کی سرخ طول موج کو جذب کرتا ہے جس کی وجہ سے یورینس نیلے رنگ کا دکھائی دیتا ہےسیارہ زمین سے تقریباً چار گنا چوڑا ہے اور ناسا کے مطابق ایک چھوٹے، چٹانی حصے پر مشتمل ہے جس کے ارد گرد گرم، گھنے مادے ہیں جس میں پانی، میتھین اور امونیا شامل ہیں۔

    چونکہ دور دراز کا سیارہ ہر 84 سال میں ایک بار سورج کے گرد چکر لگاتا ہےیہ ایک منفرد زاویہ پر اپنا سفر مکمل کرتا ہے سیارے ایک چپٹی سطح کے ساتھ حرکت کرتے ہیں جب وہ گردش کرتے ہیں۔ عطارد تصوراتی سطح پر کھڑے محور کے گرد گھومتا ہے، جبکہ زیادہ تر دوسرے سیارے اس محور پر گھومتے ہیں جو تھوڑا سا جھکا ہوا ہے –

    40 نوری سال کے فاصلے پر15کروڑ سال قبل وجود میں آنیوالا نیا سیارہ دریافت

    زمین کا جھکاؤ 23.4 ڈگری ہے۔ دوسری طرف، یورینس، بنیادی طور پر اس کے کنارے پر ہے، 98 ڈگری کے زاویہ پر گھومتا ہے۔ اس کے نتیجے میں، اس کے ایک حصے پر طویل موسموں تک مسلسل سورج کی روشنی پڑتی ہے، جب کہ دوسرے کو گہری خلا کی تاریکی کا سامنا ہے۔

  • روزہ اور سائنس

    روزہ اور سائنس

    رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں دنیا بھر کے مسلمان روزے رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنا زیادہ تر وقت عبادت میں گزارتے ہیں سارا دن بھوکے پیاسے رہتے ہیں جہاں اس کی دینی اعتبار سے فضیلت ہے وہیں آج سائنس بھی اس طریقہ کار کی متعرف ہے، مختلف تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ سال بھر میں صرف 1 ماہ کے لئے انٹرمٹنٹ فاسٹنگ کی جائے تو اس کے صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

    افطاری میں تربوز کھانے کے فوائد

    انٹرمٹنٹ فاسٹنگ کے دوران اس عادت کو اپنایا جاتا ہےکہ دن میں 16 گھنٹے تک بنا کچھ کھائے پیے گزارتے ہیں دنیا بھر کے مسلمان ماہ رمضان میں صبح صادق سے سورج ڈھلنے تک کم و بیش 11 سے 15 گھنٹے تک بھوکے اور پیاسے رہتے ہیں جبکہ بقیہ اوقات میں کھانا کھاتے ہیں۔

    رمضان میں دیگرمہینوں کےمقابلے میں فالج کےامکانات کم ہو جاتے ہیں،ماہرین

    برطانوی ماہر غذائیت ریچل کلارکسن کے مطابق کھانے میں وقفہ بڑھانے کا طریقہ وزن میں کمی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اس کے علاوہ کھانے میں وقفے کا عمل جسم کے ایک ایسے اندرونی عمل کی شروعات کرتا ہے جس کو ’آٹو فیگی‘ کہا جاتا ہے آٹو فیگی کے دوران انسانی جسم اندرونی خلیوں کی از سر نو تعمیر شروع کر دیتا ہے خصوصاً وہ جگہ جہاں ڈی این اے موجود ہوتا ہے یعنی نیوکلیئس، اس کے ساتھ مائیٹوکونڈریا جہاں انسانی خلیوں کو درکار توانائی مہیا کرنے والے کیمیائی مواد بنتا ہے اور لائسوسومز جو خلیوں سے فضلہ خارج کرتے ہیں، ان میں بھی یہ عمل اندرونی طور پر انھیں توانا کرتا ہے۔

    روزہ اور صحت مند غذائی عادات

    اس عمل کے دوران نئے سرے سے انسانی جسم کے خلیے جنم لیتے ہیں اور کچھ ایسا مواد بھی پیدا ہوتا ہے جس کے ذریعے انسانی جسم کے خلیوں کی زندگی بڑھ جاتی ہے اب تک ہونے والی سائنسی تحقیقات کے مطابق آٹو فیگی انسانی جسم کے مدافعتی نظام میں بہتری لاتی ہے –

  • مسلسل بڑھتا درجہ حرارت،برطانیہ اور آئرلینڈ کے 53 فیصد مقامی پودے تنزلی کا شکار

    مسلسل بڑھتا درجہ حرارت،برطانیہ اور آئرلینڈ کے 53 فیصد مقامی پودے تنزلی کا شکار

    مسلسل بڑھتا درجہ حرارت برطانیہ میں سرد ماحول میں پنپنے والے پودوں کی اقسام کی افزائش کو متاثر کرکے ان کی بقا کے لیے خطرہ بن چکا ہے جبکہ برطانیہ اور آئرلینڈ کے 53 فی صد مقامی پودے تنزلی کا شکار ہیں اور انہیں کئی خطرات لاحق ہیں۔

    باغی ٹی وی: بوٹانیکل سوسائٹی آف بریٹن اینڈ آئرلینڈ(بی ایس بی آئی) کی جانب سے شائع کی جانے والی رپورٹ ’پلانٹ اٹلس 2020‘ میں ملک میں پودوں کی زندگی پر کی جانے والی 20 سالہ تحقیق ہیش کی گئی-

    کاربن ڈائی آکسائیڈ اخراج کرنے والے ممالک کی فہرست جاری

    ماہرین نے برطانیہ اور آئرلینڈ میں 3 ہزار 445 اقسام کے پودوں، فرناور الگئی کا سروے کیا اس سروے میں انہوں نے 1 لاکھ 78 ہزار سے زائد ایام کےعرصے میں تقریباً 9 ہزار بوٹنسٹ کی جانب سے اکٹھا کیے گئے 3 کروڑ پودوں کے ریکارڈ کا استعمال کیا۔

    گھر کے باغیچوں اور فصلوں میں موجود پودوں کو شمار کیے بغیر یہ جان کر محققین حیران رہ گئے کہ مطالعہ کی گئی اقسام کے 1 ہزار 753 غیر مقامی پودوں پر مشتمل تھی یہ غیر مقامی پودے مقامی پودوں کی جگہ لینے صلاحیت رکھتے ہیں کیوںکہ یہ تیزی سے بڑھتے ہیں، ان کو کھانے والے کم ہوتے ہیں یا ان کو بیماریاں کم لگتی ہیں اور یہ ماحول کے مطابق ڈھل جاتے ہیں۔

    1835 سال قبل ہونے والے سپر نووا کی باقیات کی تصویرجاری

    آئرش سمندر میں ماہرین نے دیکھا کہ آئرلینڈ کے 56 فی صد مقامی پودے اقسام اور بہتات یا دونوں اعتبار سے تنزلی کا شکار ہیں محققین کا کہنا تھا کہ تیزی سے پھیلنے والے غیر مقام پودوں اور انتہائی نوعیت کی زرعی سرگرمیوں نے بھی مقامی پودوں کے وجود کو خطرے میں ڈالا ہے۔

    بی ایس بی آئی میں ہیڈ آف سائنس اور تحقیق کے شریک مصنف ڈاکٹر کیون واکر کا کہنا تھا کہ ان پودوں کے وجود کو لاحق خطرے کو ختم کرنے کے لیے ہم بہت کچھ کر سکتے ہیں لیکن سب سے ضروری چیز ان پودوں کو میسر تحفظ میں اضافہ، دستیاب مسکنوں کو بڑھانا اور ان کی ضروریات کو قدرتی ماحول کے تحفظ کے حوالے سے انتہائی اہم قرار دینا ہوگا اس بات کی یقین دہانی کرانی ہوگی کہ زمین، پانی اور مٹی زیادہ پائیدار ہو تاکہ ان عوامل پر منحصر پودے اور ان کی اقسام باآسانی نشونما کر سکیں۔

    سمندروں کی بلند ہوتی سطح 90 کروڑ افراد کے لیے انتہائی خطرے کا سبب ہے

  • چونٹیاں کینسر کی تشخیص کر سکتی ہیں،تحقیق

    چونٹیاں کینسر کی تشخیص کر سکتی ہیں،تحقیق

    ایک نئی تحقیق میں سائنسدانوں نے انکشاف کیا ہے کہ چونٹیاں پیشاب کو سونگھ کر کینسر کی تشخیص کر سکتی ہیں۔

    باغی ٹی وی: پیرس یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ چیونٹیاں پیشاب میں کینسر کی بو کو شناخت کرسکتی ہیں ماضی کی تحقیقوں میں یہ بات سامنے آ چکی ہے کہ مختلف اقسام کے کینسر پیشاب کی بو کو بدل دیتے ہیں لیکن ماہرین کے سامنے یہ بات پہلی بار آئی ہے کہ چینٹیوں میں کینسر تشخیص کرنے کی یہ صلاحیت موجود ہے۔

    ذیا بیطس کے مریضوں میں کینسر کے واقعات اور اموات کا خطرہ زیادہ ہو سکتا ہے،تحقیق

    جرنل پروسیڈنگز آف دی رائل سوسائٹی بی: بائیولوجیکل سائنسز میں شائع ہونے والی تحقیق میں سائنسدانوں نے بتایا کہ چیٹیوں کو مریضوں میں کینسر کی تشخیص کے لیے سستے طریقے کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔

    فرانس کی سوربان پیرس نورڈ یونیورسٹی کی پروفیسر اور تحقیق کی مصنفہ پیٹریزیا ڈیٹورے نے بتایا کہ چیونٹیوں کو صحت مند افراد اور کینسر کے مریضوں کے درمیان فرق کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ان کی تربیت کرنا آسان ہے، یہ تیزی سے سیکھتی ہیں، بہت کارآمد ہوتی ہیں اور ان کو رکھنا مہنگا نہیں ہوتا۔

    4 ہزار 300 سال پرانی ممی دریافت

    یہ تحقیق پروفیسر ڈیٹورے اور ان کے ساتھیوں کی گزشتہ تحقیق پر مبنی ہے جس میں دیکھا گیا تھا کہ چیونٹیاں لیب میں بنائے گئے کینسر کے خلیوں کو سونگھنےکی صلاحیت رکھتی ہیں۔

    حال میں کی جانے والی تحقیق میں محققین نے 70 چیونٹیوں کو کینسر کی رسولیوں اور بغیر کینسر والے چوہوں کا پیشاب سُنگھایا تین تجربوں کے بعد چیونٹیوں میں یہ صلاحیت پیدا ہوگئی کہ وہ صحت مند چوہوں اور کینسر زدہ چوہوں کے درمیان فرق کر سکیں۔

    محققین نے بتایا کہ چیونٹیوں کے سونگھنے کا نظام بہت حساس ہوتا ہے اور ہم نےانہیں کینسر کی بو سونگھنے کی تربیت دی تھی اب محققین کی جانب سے انسانوں پر یہ ٹرائل کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔

    سابقہ تحقیقی رپورٹس میں یہ دریافت ہوا تھا کہ کتے بھی پیشاب کی بو سے کینسر کو شناخت کرسکتے ہیں، مگر اس نئی تحقیق میں بتایا گیا کہ چیونٹیوں میں یہ صلاحیت کتوں سے زیادہ بہتر ہوتی ہے۔

    نئی قسم کا ڈائنا سور برآمد:جرمنی ماہرین حیوانات کا دعویٰ

  • موت کے قریب پہنچنے پر انسان کن تجربات کا سامنا کرتا ہے؟

    موت کے قریب پہنچنے پر انسان کن تجربات کا سامنا کرتا ہے؟

    امریکامیں ہونے والی نئی تحقیق میں ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ موت کے قریب پہنچنے پر لوگوں کی نگاہوں کے سامنے ان کی زندگی کسی فلم کی طرح گزرتی ہے۔

    باغی ٹی وی : نیویارک یونیورسٹی کے گروسمین اسکول آف میڈسین کی تحقیق میں ایسے 567 افراد کو شامل کیا گیاتھا جن کی حرکت قلب تھم گئی تھی مگر طبی امداد کے بعد وہ زندگی کی جانب واپس لوٹ آئے۔

    موت کاایک وقت مقررہے:عمرے پرجانےوالاپاکستانی شہری دومنٹ دل کی دھڑکن بند…

    محققین نے بتایا کہ موت کے منہ پر پہنچنے والے افراد نے زندگی کی جانب واپس لوٹنے کے بعد مختلف تجربات شیئر کیے تحقیق میں ہر 5 میں سے ایک فرد نے موت کے منہ میں پہنچنے کے بعد مختلف تجربات کو رپورٹ کیا۔

    محققین کے مطابق ان افراد کا کہنا تھا کہ ہمارا شعور کا کام کررہا تھا اور انہیں ایسا تجربہ ہوا جیسے انہوں نے دوبارہ زندگی گزار لی ہو۔

    موت کے منہ میں پہنچنے کے بعد ان افراد نے بتایا کہ انہیں جسم سے الگ ہونے کا تجربہ ہوا، ڈاکٹروں کو بچانے کی کوشش کرتے دیکھا مگر کوئی تکلیف محسوس نہیں ہوئی، جبکہ اپنی زندگی کے اقدامات، ارادوں اور دیگر افراد کے بارے میں مقاصد کا تجزیہ کرنے کا موقع بھی ملا۔

    محققین کے مطابق لوگوں کو ہونے والے تجربات خواب، واہمے یا تصور کا دھوکا نہیں تھے بلکہ یہ حقیقی تجربات ہیں جن کا سامنا ہمیں مرتے وقت ہوتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ موت کے قریب پہنچنے والے افراد اپنی زندگی، مقاصد اور اقدامات کا گہرائی میں جاکر بامقصد تجزیہ کرتے ہیں، یعنی ایک بار پھر خیالات میں اپنی زندگی دوبارہ جی لیتے ہیں۔

    اسمارٹ فونز مختلف الرجیز کا شکار بناکر بیمار بھی کرسکتے ہیں،تحقیق

    تحقیق کے دوران دماغی مانیٹرنگ سسٹمز کو بھی مریضوں پر استعمال کیا گیا تھا اور زندگی کی جانب لوٹ آنے والے مختلف دماغی لہروں کو دریافت کیا گیایہ دماغی لہریں عام طور پر اس وقت دیکھنے میں آتی ہیں جب لوگ شعوری طور پر کچھ تجزیہ کررہے ہوتے ہیں یا پرانی یادیں ذہن میں اجاگر ہوتی ہیں۔

    ایم ڈی، پی ایچ ڈی، مطالعہ کے اہم تفتیش کار انتہائی نگہداشت کے معالج،NYU Langone اور Health کے شعبہ طب میں ایک ایسوسی ایٹ پروفیسر کے ساتھ ساتھ تنظیم کے اہم نگہداشت اور بحالی کی تحقیق کے ڈائریکٹر سیم پارنیا کہتے ہیں کہ یہ یاد کیے گئے تجربات اور دماغی لہر کی تبدیلیاں نام نہاد قریب قریب موت کے تجربے کی پہلی علامتیں ہو سکتی ہیں، اور ہم نے انہیں پہلی بار ایک بڑے مطالعے میں پکڑا ہے

    انہوں نے کہا کہ ہمارے نتائج اس بات کا ثبوت پیش کرتے ہیں کہ موت کے دہانے پراور کوما میں رہتے ہوئے،لوگ ایک منفرد باطنی شعوری تجربے سے گزرتے ہیں، جس میں پریشانی کے بغیر آگاہی بھی شامل ہے۔

    نتائج سے یہ عندیہ بھی ملتا ہے کہ موت کے وقت بھی انسانی شعور مکمل طور پر کام کرنا نہیں چھوڑتا۔

    محققین کی جانب سے اب اس حوالے سے تحقیق کو مزید آگے بڑھایا جائے گا۔

    بچپن میں پریشان کن اور برے حالات جوانی میں امراض قلب کا باعث بن سکتے ہیں ،تحقیق

  • نظام شمسی کے چھٹے سیارے زحل کے گرد  چھلّے کیسے بنے؟

    نظام شمسی کے چھٹے سیارے زحل کے گرد چھلّے کیسے بنے؟

    سائنسدانوں نے ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ نظامِ شمسی کے چھٹے سیارے زحل کے گرد موجود غبار کے چھلّے تقریباً 16 کروڑ سال قبل ایک قدیم چاند کے سیارے سے ٹکرانے کے سبب بنے۔

    باغی ٹی وی : امریکا کے میساچوسیٹس اِنسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے محققین کی جانب سے سیارے زحل کے محور میں وقت کے ساتھ ہونے والی تبدیلی کو شکل دینے کے لیے پیمائشیں لی گئیں۔

    100 نوری سال کے فاصلے پر دو نئے "سپر ارتھ” سیارے دریافت

    تحقیق کے نتائج میں بتایا گیا کہ سیارے کے گرد پہلے دوسری اجرام فلکی گردش کرتی تھی لیکن گیس کے گولے کے ساتھ فاصلہ نہایت کم ہوجانے کے سبب وہ ٹکڑے ٹکڑے ہوکر بِکھر گئی اور تب یہ چھلے وجود میں آئے۔

    سائنس دانوں کے مطابق کریسالِس نامی یہ چاند سیارے سے ٹکرانے سے قبل اس کے گرد کئی ارب سالوں سے گردش کر رہا ہوگا۔اور چاند کا یوں تباہ ہوجانا بتاتا ہے کہ زحل کا گردشی محور 26.7 کے زاویے سے کیوں جُھکا ہوا ہے۔

    تحقیق کے سربراہ مصنف پروفیسر جیک وِزڈم کا کہنا تھا کہ کریسالِس عرصہ دراز سے غیر فعال تھا اور ایک دم فعال ہوا اور یہ چھلے وجود میں آگئے۔

    کارنیل یونیورسٹی میں سیاروں کی حرکیات کی ماہر مریم الموتمید کہتی ہیں کہ زحل کے حلقوں کی ابتدا کے بارے میں یہ دریافت ایک نئی راہ کھولتی ہے-

    ساؤتھ ویسٹ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے سیاروں کی حرکیات کے ماہر لیوک ڈونز کا کہنا ہے کہ یہ مطالعہ "قابل غور ” ہے لیکن اس کے بارے میں کچھ تحفظات بھی ہیں کہ مجھے یقین نہیں ہے کہ آپ اس خیال کی جانچ کیسے کریں گے-

    جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے ستاروں کی نرسری دریافت کر لی

    سائنس دانوں نے طویل عرصے سے بحث کی ہے کہ آیا زحل کے حلقے اربوں سال پرانے ہیں – جتنا قدیم خود نظام شمسی ہے – یا شاید صرف 100 ملین سال پرانا ہے یا اس سے زیادہ۔

    2000 کے ابتداء سے ماہرینِ فلکیات کا یہ ماننا ہے کہ زحل کا جھکاؤ سیارے نیپچون کے ساتھ مدار کے ارتعاش کے سبب تھا۔ اگر دونوں سیاروں کے مدار کے دورانیے مطابقت پا جائیں تو دونوں سیاروں میں ارتعاش ہوگااور دونوں مستقل ایک دوسرے کو کششِ ثقل سے متاثر کرتے رہیں گے۔

    سیارے کے متعلق ارتعاش کا نظریہ سامنے آنے کی وجہ یہ تھی کہ گردش کے سبب زحل بھی اس ہی طرح سے ڈگمگاتا ہے جیسے نیپچون ڈگمگاتا ہے۔

    نظامِ شمسی سورج اور ان تمام اجرام فلکی کے مجموعے کو کہتے ہیں جو براہ راست یا بالواسطہ طور پر سورج کی ثقلی گرفت میں ہیں۔ اس میں 8 سیارے، ان کے 162 معلوم چاند، 3 شناخت شدہ بونے سیارے(بشمول پلوٹو)، ان کے 4 معلوم چاند اور کروڑوں دوسرے چھوٹے اجرام فلکی شامل ہیں۔ اس آخری زمرے میں سیارچے، کوئپر پٹی کے اجسام، دم دار سیارے، شہاب ثاقب اور بین السیاروی گرد شامل ہیں۔

    سورج سے فاصلے کے اعتبار سے سیاروں کی ترتیب عطارد، زہرہ، زمین، مریخ، مشتری، زحل، یورینس اور نیپچون ہے ان میں سے چھ سیاروں کے گرد ان کے اپنے چھوٹے سیارے گردش کرتے ہیں جنہیں زمین کے چاند کی مناسبت سے چاند ہی کہا جاتا ہے۔ چار بیرونی سیاروں کے گرد چھوٹے چٹانی اجسام، ذرات اور گردوغبار حلقوں کی شکل میں گردش کرتے ہیں۔

    امریکی محکمہ ڈاک نے جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کا یادگاری ٹکٹ کا جاری کر دیا

    زحل کا نام انگریزی میں سیٹرن ہے جو ایک یونانی دیوتا کے نام پر رکھا گیا تھا زحل کا مدار زمین کے مدار کی نسبت 9 گنا بڑا ہے۔ تاہم اس کی اوسط کثافت زمین کی کثافت کا آٹھواں حصہ ہے۔ تاہم کمیت میں یہ سیارہ زمین سے 95 گنا بڑا ہے۔

    زحل کی کمیت اور نتیجتاً اس کی کششِ ثقل کی وجہ سے زمین کی نسبت زحل کے حالات بہت شدید ہوتے ہیں۔ اندازہ ہے کہ زحل کے اندر لوہا، نکل، سیلیکان اور آکسیجن کے مرکبات پائے جاتے ہیں۔ ان کے گرد دھاتی ہائیڈروجن موجود ہے جبکہ ان کے درمیان مائع ہائیڈروجن اور مائع ہیلئم پائی جاتی ہے۔ بیرونی سطح گیسوں سے بنی ہے۔ دھاتی ہائیڈروجن میں بہنے والی برقی رو کی وجہ سے زحل کا مقناطیسی میدان پیدا ہوتا ہے جو زمین کی نسبت کچھ کمزور ہے۔ بیرونی فضاء زیادہ تر کمزور ہے تاہم طویل المدتی اثرات ہو سکتے ہیں۔ ہوا کی رفتار 1٫800 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے جو مشتری سے بھی زیادہ ہے۔

    زحل کے گرد نو دائرے ہیں جو زیادہ تر برفانی ذرات سے بنے ہیں جبکہ کچھ پتھر اور دھول بھی موجود ہے۔ زحل کے گرد 62 چاند دریافت ہو چکےہیں جن میں سے 53 کو باقائدہ نام دیاجا چکا ہے اس کے علاوہ چاند نما اجسام بھی ان دائروں میں موجود ہیں جن کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔ زحل کا سب سے بڑا چاند ٹائیٹن ہے اور یہ ہمارے نظامِ شمسی کا دوسرا بڑا چاند ہے۔ یہ چاند عطارد سے بڑا ہے اور ہمارے نظام شمسی کا واحد چاند ہے جہاں مناسب مقدار میں فضاء موجود ہے۔

    2 بہت بڑے بلیک ہولز کے درمیان آئندہ 3 سال کے اندر تصادم متوقع

  • تیز چلنا مختلف امراض اور موت کا خطرہ کم کرتا ہے، تحقیق

    تیز چلنا مختلف امراض اور موت کا خطرہ کم کرتا ہے، تحقیق

    ایک نئی تحقیق کے مطابق عمر بڑھنے کے ساتھ اچھی صحت کو یقینی بنانا چاہتے ہیں تو دن بھر میں چند ہزار قدم چلنا عادت بنالیں۔

    باغی ٹی وی : یونیورسٹی آف سڈنی اور یونیورسٹی آف سدرن ڈنمارک کے محققین کے مطابق دن بھر میں 10 ہزار قدم چلنا مختلف امراض اور موت کا خطرہ کم کرتا ہےتحقیق میں یہ بھی دریافت کیا گیا کہ تیزرفتاری سے چلنا صحت کے لیے بہت زیادہ بہتر ہوتا ہے۔

    اداسی محسوس ہو تو دریا یا نہر پر چلے جانا مزاج کو بہتر کر سکتا ہے،تحقیق

    تحقیق کے دوران 2013 سے 2015 کے دوران 78 ہزار سے زیادہ برطانوی شہریوں کی مانیٹرنگ وئیر ایبل ٹریکرز کے ذریعے کی گئی اور سات سال بعد ان کی صحت کے نتائج سے اس کا موازنہ کیا،اس تحقیق کے نتائج جرنل جاما انٹرنل میڈیسین اور جاما نیورولوجی میں شائع ہوئے۔

    ڈاکٹر میتھیو احمدی، جو اس مقالے کے مرکزی مصنف اور یونیورسٹی آف سڈنی کے ریسرچ فیلو ہیں، نے کہا کہ اس تحقیق سے پتا چلا ہے کہ روزانہ 10 ہزار قدم چلنے سے دماغی تنزلی کا خطرہ 50 فیصد جبکہ دل کی شریانوں کے امراض اور کینسر کا خطرہ 30 سے 40 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔

    تیز رفتاری سے چلنا ڈیمنشیا، دل کی بیماری، کینسر اور موت سمیت تمام نتائج کے مزید فوائد سے وابستہ تھا تحقیق میں یہ بھی دریافت کیا گیا کہ دن بھر میں 38 سو قدم چلنے سے بھی دماغی تنزلی کا خطرہ 25 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔

    تحقیق میں یہ بھی پتا چلا کہ ہر 2,000 قدموں پر قبل از وقت موت کا خطرہ 8 سے 11 فیصد تک کم ہو جاتا ہے ، جو کہ ایک دن میں تقریباً 10،000 قدموں تک ہے۔

    گاڑیوں کا دھواں مردوں سے زیادہ خواتین کی صحت کو متاثر کر سکتا ہے،محققین

    محققین نے کہا کہ جب دل کی دھڑکن کی رفتار بڑھتی ہے اور خون زیادہ تیزی سے شریانوں میں بہتا ہے تو اس سے شریانوں کی صحت بھی بہتر ہوتی ہے۔ خون کا اضافی بہاؤ پورے جسم، دماغ اور مسلز سمیت دیگر اعضا کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتا ہے کینسر اور جسمانی ورم کے درمیان تعلق موجود ہے اور ورزش ورم کو کم کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔

    2019 میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق، آپ کی صحت کو بہتر بنانے کے لیے روزانہ 10,000 قدم چلنے کا خیال اصل میں ایک جاپانی کمپنی کی مارکیٹنگ حکمت عملی کے حصے کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔

    یونیورسٹی آف ساؤتھ آسٹریلیا کے رویے سے متعلق وبائی امراض کے محقق پروفیسر ٹِم اولڈز نے کہا کہ لوگوں کی اکثریت کے لیے وہ جتنی زیادہ ورزش کریں گے اتنا ہی بہتر ہوگا-

    محققین نے کہا کہ معمولات زندگی میں 10 ہزار قدم چلنا عادت بنانا زیادہ مشکل ہدف نہیں بس اس ہدف پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے معتدل آغاز کریں اور قدموں کی تعداد کو بتدریج بڑھاتے چلے جائیں۔

    دنیا کی پہلی اسپورٹس کارہوا میں پرواز کرنے کے لیے تیار