Baaghi TV

Tag: سائنس

  • اپنے محقیقین کی وجہ سے ہم نے خود سے 5 گنا بڑے دشمن کو شکست دی اور معرکہ حق جیتا ،گورنر سندھ

    اپنے محقیقین کی وجہ سے ہم نے خود سے 5 گنا بڑے دشمن کو شکست دی اور معرکہ حق جیتا ،گورنر سندھ

    گورنر سندھ نہال ہاشمی نے کہا ہے کہ اپنے محقیقین کی وجہ سے ہم نے معرکہ حق جیت لیا اور خود سے 5 گنا بڑے دشمن کو شکست دی لیکن جب معاشر ے سے تحقیق ختم ہوجاتی ہے تو ذہنی اور معاشی غلامی کا دور شروع ہوجاتا ہے۔

    ایچ ای سی این ای ڈی یونیورسٹی میں سائنسدانوں اور محققین کے اعزاز میں تقریب منعقد کی گئی،تقریب کا اہتمام ایچ ای سی اسلام آباد کی جانب سے کیا گیا تھا، جس کا موضوع ’ممتاز پاکستانی محقیقین اور سائنسدانوں کی خدمات کا اعتراف ‘ تھا۔

    تقریب سے خطاب میں گورنر سندھ نہال ہاشمی کا کہنا تھا کہ ہمارے محقیقین ہمارے گمنام سپاہی ہیں جو ہمارے آنے والی نسلوں کے مستقبل پر کام کرر ہے ہیں اپنے محقیقین کی وجہ سے ہم نے معرکہ حق جیت لیا اور خود سے 5 گنا بڑے دشمن کو شکست دی ۔

    گورنر سندھ نہال ہاشمی کا کہنا تھا کہ دنیا کی معیشت اور دفاع سائنسدان چلارہے ہیں ہمیں ہر روز انرجی کے نئے نئے مواقع سائنسدان دے رہے ہیں ذوا لفقار علی بھٹو نے سائنس کی اہمیت کو محسوس کیا اور پاکستان میں نیوکلیئر پاور پر کام شروع کرایا میاں نواز شریف نے سائنسدانوں کو اہمیت دی، سمندر کے نیچے فائبر آپٹیک کی نیٹ ورکنگ انہوں نے ہی شروع کرائی، آج امریکا دنیا پر راج کرتا ہے تو سائنس اور سائنسدانوں کی بنیاد پر کرتا ہے۔

    چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر نیاز احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایچ ای سی نے محدودوسائل میں 4 ارب روپے ریسرچ کے لیے مختص کیے ہیں ۔ ملک میں 62 ہزار فیکلٹی اراکین میں 40 ہزار پی ایچ ڈیز ہیں ایچ ای سی نے اس سال 149 ریسرچ پروجیکٹ منظور کیے ہیں جبکہ گزشتہ برس 43 پروجیکٹ ایوارڈ ہوئے تھے ریسرچ کے معاشی و سماجی اثرات آنا چاہیے سائنسدانوں نے روزانہ کی بنیاد پر ٹیکنالوجی کو تبدیل کردیا ہے ہمیں اس تبدیلی کے ساتھ چلنا ہے، ٹیکنالوجی نے دنیا تبدیل کردی ہے، اکیڈمک انوائرمنٹ کو تبدیل کردیا ہے ۔

    ڈاکٹر نیاز احمد نے کہا کہ ریسرچ میں بھی کچھ ایسا ہوا ہے کہ سائنسدان لیب میں جانے کے بجائے اپنے دفتر میں بیٹھ کر اے آئی سے وہی کام کروارہے ہیں ہمیں بطور استاد دیکھنا ہے کہ ہم اپنے طالب علم کے لیے کیا پیش کررہے ہیں؟۔ ہمیں ان کی اسکلز کو مطلوبہ معیار کے مطابق تیار کرنا ہوگا،سندھ حکومت نے جامعات کے لیے جو فنڈ مختص کیا اس پر ہم شکر گزار ہیں۔

  • آج سال کا طویل ترین دن اور مختصر ترین رات

    آج سال کا طویل ترین دن اور مختصر ترین رات

    پاکستان سمیت شمالی نصف کرے میں آج سال کا طویل ترین دن اور مختصر ترین رات ہے-

    سال کے طویل ترین دن کو خط سرطان یا Summer Solstice کہا جاتا ہے اور مانا جاتا ہے کہ اس کے بعد موسم گرما کا حقیقی آغاز ہوتا ہے اور اس حوالے سے مختلف رسومات بھی ادا کی جاتی ہیں،خط سرطان سے مراد زمین کی وہ کیفیت ہے جب قطب شمالی سورج کی جانب جھکا ہوتا ہے اور سورج خط استوا سے سب سے زیادہ دور ہوتا ہے۔

    اس کے نتیجے میں زمین پر شمالی نصف کرے میں سال کا طویل ترین دن (وہ دن جب سورج کی روشنی کا دورانیہ سب سے زیادہ ہوتا ہے) اور مختصر ترین رات ہوتی ہےدلچسپ بات یہ ہے کہ سال کا طویل ترین دن بدلتا رہتا ہے، جیسے 2024 میں 21 جون کو ایسا ہوا مگر 2025 میں 22 جون طویل ترین دن تھا22 جون کے بعد دن کے دورانیے میں بتدریج کمی آنا شروع ہوگی اور دسمبر کے تیسرے عشرے میں شمالی نصف کرے میں سال کا مختصر ترین دن اور طویل ترین رات ہوگی۔

    سال کے طویل ترین دن کے موقع پر پاکستان میں دن کا دورانیہ مقامات کے لحاظ سے 14 سے 15 گھنٹے کے درمیان ہوگا دنیا میں سب سے طویل دن امریکی ریاست الاسکا کے وسطی حصے میں ہوگا جہاں دن کی روشنی کا دورانیہ 21 گھنٹے سے زائد ہوگا دوسری جانب جنوبی نصف کرے میں آج سال کا مختصر ترین دن اور طویل ترین رات ہوگی اور وہاں موسم سرما کا باقاعدہ آغاز ہوگا قطب جنوبی کے مرکزی مقام یعنی براعظم انٹار کٹیکا میں آج کل24 گھنٹے تاریکی کا راج ہے۔

    کچھ ممالک میں اس حوالے سے دلچسپ روایات بھی موجود ہیں یورپی ملک سوئیڈن میں اسے مڈ سمر کہا جاتا ہے اور ہمیشہ جمعے کو منایا جاتا ہے یعنی وہاں سال کا طویل ترین دن 23 جون کو قرار دیا جائے گا اس موقع پر وہاں میلوں کا انعقاد ہوتا ہے جبکہ برطانیہ کے تاریخی مقام اسٹون ہینج میں بھی اس موقع پر لوگ جمع ہوتے ہیں اور مختلف سرگرمیوں کا حصہ بنتے ہیںخط سرطان کو زرخیری سے بھی منسلک کیا جاتا ہے کیونکہ اس عرصے میں فصلوں کی کاشت میں اضافہ ہوتا ہے اس موقع پر سورج خط سرطان کے اوپر ہوتا ہے اور چند روز تک دن کے وقت ایک پوزیشن میں نظر آتا ہے، سال کے باقی حصے میں سورج کی پوزیشن بدلتی رہتی ہے قدیم مصر میں اس موقع پر نئے سال کا آغاز ہوتا تھا۔

  • بحر ہند کی گہرائیوں میں  53 لاکھ سال پرانا  قبرستان دریافت

    بحر ہند کی گہرائیوں میں 53 لاکھ سال پرانا قبرستان دریافت

    سائنسدانوں نے بحر ہند کی تقریباً 23 ہزار فٹ گہرائی میں 5.3 ملین سال پرانا وہیل مچھلیوں کا قبرستان دریافت کر لیا ہے ، جسے وہیل نیکرو پولس(whale necropolis)کا نام دیا گیا ہے،جس کی لمبائی تقریباً 745 میل بتائی جا رہی ہے۔

    سی جی ٹی این کے مطابق یہ دریافت جنوب مشرقی بحر ہند کے ڈائمنٹینا زون میں کی گئی، جہاں وہیلوں کی باقیات کے ساتھ ساتھ کئی ایسی جاندار انواع بھی ملیں جو پہلے کبھی کہیں اور نہیں دیکھی گئیں جہاں گہرائی تقریباً 7 ہزار میٹر تک ہے اس مقام پر نہ صرف قدیم فوسلز موجود ہیں بلکہ فعال وہیل فال بھی پائے گئے ہیں، جو کم از کم 53 لاکھ سال سے تشکیل پا رہے ہیں،محققین کو یہاں جیلی فش، ٹیوب وارمز، برٹل اسٹارز، سمندری کھیرے، اسکواٹ لابسٹرز اور نمکین پانی کی سیپیاں ملیں، جن میں سے بعض ممکنہ طور پر سائنس کے لیے بالکل نئی انواع ہیں۔

    یہ تحقیق چینی اکیڈمی آف سائنسز کے انسٹی ٹیوٹ آف ڈیپ سی سائنس اینڈ انجینئرنگ (آئی ڈی ایس ایس ای)، اٹلی کی یونیورسٹی آف پیزا اور نیوزی لینڈ کے ارتھ سائنسز ادارے کے اشتراک سے کی گئی ہے، اور اسے معروف سائنسی جریدے نیچر میں شائع کیا گیا ہے۔

    وہیل فال اس عمل کو کہا جاتا ہے جب مردہ وہیل سمندر کی تہہ میں ڈوب جاتی ہے اور وہاں ایک عارضی لیکن انتہائی زرخیز ماحولیاتی نظام تشکیل دیتی ہے، جس میں ہڈیوں کو کھانے والے کیڑے اور مختلف سمندری جاندار شامل ہوتے ہیں اب تک ایسے زیادہ تر مقامات 4 ہزار میٹر سے کم گہرائی میں ملے تھے، جبکہ فعال نظام کی سب سے زیادہ ریکارڈ شدہ گہرائی 4,204 میٹر تھی۔

    2023 میں کیے گئے ایک تحقیقاتی مشن کے دوران سائنسدانوں نے 32 بار گہرے سمندر میں ڈوب کر 1,200 کلومیٹر کے علاقے کا جائزہ لیا،اس دوران انہیں 5 فعال وہیل فال اور 476 فوسل سائٹس ملیں، جو 4,616 سے 7,001 میٹر گہرائی تک پھیلی ہوئی تھیں۔

    محققین کے مطابق اگر ان اعداد و شمار کو پورے علاقے پر لاگو کیا جائے تو اندازہ ہے کہ اس زون میں 10 ملین سے زائد وہیل باقیات موجود ہو سکتی ہیں تحقیق کے مطابق ان میں سے ایک مقام پر 6,789 میٹر کی گہرائی میں تین چونچ والی وہیل کی ریڑھ کی ہڈی ملی، جو اب تک کا سب سے گہرا فعال وہیل فال نظام ہے۔

    سائنسدانوں نے بتایا کہ ان فوسلز کی عمر کم از کم 53 ملین سال ہے اور ان میں موجود بعض انواع آج بھی موجود ہیں جبکہ کچھ ناپید ہو چکی ہیں ماہرین کے مطا بق ان باقیات میں موجود کاربن کی مقدار لاکھوں ٹن کے برابر ہے، جو سمندر کے ماحولیاتی نظام اور کاربن سائیکل پر نمایاں اثر ڈال سکتی ہے،یہ تحقیق سمند ری حیاتیات، ماحولیاتی ارتقا اور گہرے سمندروں کی تاریخ کو سمجھنے کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔

  • 5 ہزار 3 سو سال پرانی لاش میں سائنسی دریافت نے ماہرین کو حیرت میں ڈال دیا

    5 ہزار 3 سو سال پرانی لاش میں سائنسی دریافت نے ماہرین کو حیرت میں ڈال دیا

    اٹلی کے برفانی پہاڑوں سے ملنے والی 5 ہزار 3 سو سال پرانی مشہور ترین ممی ”اوٹزی دی آئس مین“ کے بارے میں ایک ایسی سائنسی دریافت ہوئی ہے جس نے ماہرین کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔

    تحقیق کے مطابق اوٹزی کے جسم میں موجود بعض قدیم آنتوں کے بیکٹیریا اور سرد ماحول میں زندہ رہنے والی خمیر کی اقسام اب بھی حیاتیاتی سرگرمیاں انجام دے رہی ہیں یہ انکشاف سائنسی جریدے ”مائیکروبایوم“ میں شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق میں سامنے آیا ہے، تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اس قدیم ممی کے اندر موجود خردبینی جاندار نہ صرف اب تک زندہ ہے بلکہ وہ وقت اور حالات کے ساتھ ساتھ خود کو بدلنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔

    اوٹزی کی ممی کو محفوظ رکھنے کے لیے اسے منفی 6 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت والے خصوصی فریزر میں رکھا گیا تھا تاکہ وقت کے اثرات کو تقریباً روک دیا جائے تاہم نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ممی کے اندر موجود بعض جراثیم نہ صرف زندہ ہیں بلکہ وقت کے ساتھ خود کو ماحول کے مطابق ڈھال بھی رہے ہیں۔

    اٹلی کے یوراک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ سے تعلق رکھنے والے محقق محمد سرحان اور ان کی ٹیم نے ممی کی جلد، اندرونی بافتوں اور پگھلے ہوئے پانی کے نمونوں کا تجزیہ کیا اس تحقیق کے دوران انہیں ایک ایسا قدیم حیاتیاتی نظام ملا جو ہزاروں سال پہلے انسانی جسم میں موجود جرثوموں کی دنیا کے بارے میں نئی معلوما ت فراہم کرتا ہے اوٹزی کی آنتوں میں موجود فعال بیکٹیریا اس کی آخری خوراک کے آثار سے مطابقت رکھتے ہیں۔ سائنسدانوں کے مطابق اس کی آخری غذا میں چکنائی سے بھرپور جنگلی جانوروں کا گوشت، قدیم اناج اور ایک زہریلا فرن پودا شامل تھا۔

    ماہرین نے کچھ نایاب بیکٹیریا بھی دریافت کیے جن میں رومبوٹسیا ہومینس اور کلوسٹریڈیم مونیلیفارم شامل ہیں محققین کا کہنا ہے کہ یہ جراثیم جدید شہری آبادیو ں میں تقریباً ختم ہو چکے ہیں، تاہم افریقہ اور جنوبی امریکہ کے بعض دور دراز قبائلی معاشروں میں اب بھی پائے جاتے ہیں۔

    تحقیق کا سب سے حیران کن پہلو خمیر کی بعض اقسام سے متعلق ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق گزشتہ نو برسوں کے دوران ان خمیری جراثیم کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا ہے یہ جراثیم ان فینول پر مبنی جراثیم کش کیمیکلز کو استعمال کرکے زندہ رہنے کی صلاحیت حاصل کر چکے ہیں جو ممی کو محفوظ رکھنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔

    اس دریافت نے قدیم آثار کو محفوظ رکھنے کے طریقوں پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں اگر ہزاروں سال پرانے جراثیم انتہائی سرد ماحول میں زندہ رہ سکتے ہیں اور جدید جراثیم کش مادوں کو بھی استعمال کر سکتے ہیں تو پھر دنیا بھر کے عجائب گھروں میں موجود ممی کو اندر سے نقصان بھی پہنچا سکتے ہیں۔

    اگرچہ اوٹزی کے قاتل کی شناخت آج بھی ایک معمہ بنی ہوئی ہے، لیکن اس کے جسم میں موجود زندہ مائیکروبایوم سائنسدانوں کو انسانی صحت، بیماریوں اور جراثیمی ارتقا کی تاریخ کو سمجھنے کے لیے ایک نادر موقع فراہم کر رہا ہے ماہرین کا خیال ہے کہ یہ تحقیق مستقبل میں انسانی جسم اور اس میں رہنے والے جراثیم کے تعلق کے بارے میں مزید اہم معلومات سامنے لا سکتی ہے۔

  • پیوٹن کا  26 ارب ڈالر  کا اینٹی ایجنگ منصوبہ

    پیوٹن کا 26 ارب ڈالر کا اینٹی ایجنگ منصوبہ

    روسی صدر ولادیمیر پیوٹن مبینہ طور پر ایک بڑے پیمانے پر 26 ارب ڈالر کے ایسے سائنسی منصوبے کی پشت پناہی کر رہے ہیں جس کا مقصد انسانی عمر بڑ ھانے اور اعضا کی تبدیلی کے ذریعے ’لمبی یا ممکنہ طور پر لافانی زندگی‘ کی طرف پیشرفت کرنا ہے،اس منصوبے میں مصنوعی اعضا، جینیاتی علاج اور حیاتیا تی انجینئرنگ جیسے جدید طریقے شامل کیے گئے ہیں۔

    بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ منصوبہ روس میں ایک ریاستی ترجیح کے طور پر آگے بڑھایا جا رہا ہے، جس میں انسانی اعضا کی 3D بائیو پرنٹنگ اور جانوروں کے اندر انسانی اعضا تیار کرنے جیسے تجربات شامل ہیں اس پروگرام کے تحت مستقبل میں انسانی اعضا کی مکمل تبدیلی کو اس دہائی کے آخر تک ممکن بنانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اب تک اس منصوبے کے تحت انسانی کارٹلیج (غضروف) اور چوہے کے تھائرائیڈ گلینڈ جیسے حیاتیاتی نمونے تیار کیے جا چکے ہیں، جبکہ طویل المدتی مقصد انسانوں کے لیے مکمل اعضا کی تبدیلی کا نظام تیار کرنا ہے منصوبے کی قیادت مبینہ طور پر روسی قیادت سے قریبی تعلق ر کھنے والی شخصیات کر رہی ہیں، جن میں پیوٹن کی بیٹی اور اینڈوکرائنولوجسٹ ماہر ماریا وورونتسووا اور فزکس کے ماہر میخائل کووالچک شامل ہیں، کووالچک کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ وہ انسانی جسم کی مرمت اور اعضا کی تبدیلی کو مستقبل کی سائنس کا بنیادی ہدف سمجھتے ہیں۔

    تاہم بعض روسی سائنسدانوں نے اس منصوبے پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے اس حوالے سے بین الاقوامی سائنسی جرائد میں ہم مرتبہ جائزہ (peer-reviewed) تحقیق موجود نہیں، جس کی وجہ سے ان دعوؤں کو زیادہ تر ’توقعات‘ یا ’مستقبل کے تصورات‘ ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔

    رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہےکہ پیوٹن کی ذاتی دلچسپی طویل عمر اور جسمانی فٹنس کے حوالے سے طویل عرصے سے زیر بحث رہی ہے وہ اسپورٹس اور سخت جسمانی سرگرمیوں میں حصہ لیتے دکھائی دیتے ہیں جبکہ کریوتھراپی جیسے جدید طریقوں میں بھی دلچسپی رکھتے ہیں، جس میں جسم کو انتہائی کم درجہ حرارت پر رکھا جاتا ہے حالیہ برسوں میں ایک موقع پر پیوٹن نے چینی صدر شی جن پنگ سے گفتگو کے دوران انسانی اعضا کی تبدیلی کے ذریعے لافانی زندگی کے امکانا ت کا ذکر بھی کیا تھا۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق اس منصوبے کے پیچھے ایک طرف سائنسی ترقی کا دعویٰ ہے تو دوسری جانب اسے روسی قیادت کی عمر اور اقتدار سے متعلق خدشات اور عالمی سطح پر سائنسی دوڑ کا حصہ بھی قرار دیا جا رہا ہے تاہم فی الحال اس منصوبے کے نتائج اور اس کی سائنسی بنیادوں پر عالمی سطح پر مزید تحقیق اور تصدیق کی ضرورت برقرار ہے۔

  • موت دراصل اختتام نہیں بلکہ ایک تبدیلی ہے،سائنسدانوں کا حیران کن انکشاف

    موت دراصل اختتام نہیں بلکہ ایک تبدیلی ہے،سائنسدانوں کا حیران کن انکشاف

    مشہور ماہرِ فلکیات نیل ڈی گراس ٹائسن کے مطابق، موت کے بعد انسانی جسم حقیقت میں ختم نہیں ہوتا، بلکہ یہ اپنی حالت تبدیل کر کے کائنات کے لامتناہی سفر کا حصہ بن جاتا ہے۔

    ’نیویارک پوسٹ’ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق ٹائسن کا ماننا ہے کہ موت درحقیقت کسی ’غائب‘ ہو جانے کا نام نہیں، بلکہ یہ مادے کی وہ تبدیلی ہے جو کائنات کے مستقل ہونے کی گواہی دیتی ہے، ان کے اس نظریے نے لاکھوں قارئین کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ ہمارا وجود اس کائنات میں کتنا گہرا اور غیر فانی ہے، جہاں ہم فنا ہونے کے بجائے صرف اپنی شکل بدل کر کائنات کی وسعتوں میں بکھر جاتے ہیں

    انسانی وجود کے اس سفر کو اگر باریک بینی سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ہم نے زندگی بھر جس جسم کی آبیاری کی، وہ موت کے بعد بھی بیکار نہیں جا تا، نیل ڈی گراس ٹائسن کی وضاحت کے مطابق، جب کسی جسم کو دفن کیا جاتا ہے، تو اس میں موجود توانائی ضائع ہونے کے بجائے ’ری سائیکلنگ‘ کے عمل سے گزرتی ہے جسم کے مالیکیولز مٹی میں موجود خرد بینی اجسام اور پودوں کے لیے خوراک بن جاتے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ ہماری حیاتیاتی توانائی ز مین کی ہریالی اور نئے جانداروں کی صورت میں دوبارہ زندہ ہو اٹھتی ہے۔

    دوسری جانب، احتراق یا جسم کو جلانے کا عمل اس توانائی کو ایک کائناتی وسعت عطا کرتا ہے۔ اس عمل کے دوران جسم کی ذخیرہ شدہ توانائی حرارت میں تبدیل ہو کر انفراریڈ لہروں کی صورت میں کائنات کی طرف سفر شروع کر دیتی ہے ٹائسن اس بات کی ایک حیرت انگیز مثال دیتے ہیں کہ اگر کسی شخص کو محض چار سال قبل جلایا گیا ہو، تو اس کے وجود کی لہریں اب تک زمین کے قریب ترین ستارے ’الفا سنٹوری‘ تک پہنچ چکی ہوں گی۔ یہ تصور ہمیں احساس دلاتا ہے کہ ہم مرنے کے بعد بھی ستاروں کی روشنی اور خلا کی خاموشی کا حصہ بن جاتے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق یہ سارا عمل دراصل ”تھرمو ڈائنامکس کے پہلے قانون“ کی عملی تفسیر ہے، جس کی رو سے مادہ یا توانائی کبھی فنا نہیں ہوتی، بلکہ صرف اپنا روپ بدلتی ہے، اس تصور میں ایک گہری فکر بھی پوشیدہ ہے۔ ہمارے جسم کے ایٹمز مٹی میں مل کر دوبارہ پودوں کا حصہ بنتے ہیں اور بالآخر خوراک کے ذریعے دوسرے جانداروں کے جسم میں منتقل ہو جاتے ہیں۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ ہم مر کر بھی کسی نہ کسی صورت میں اس کائنات کا مستقل حصہ رہتے ہیں ہماری ہستی مٹتی نہیں، بلکہ وہ زندگی کے ایک لامتناہی اور خوبصورت چکر میں شامل ہو کر کائنات کی وسعتوں میں بکھر جاتی ہے، یعنی سا ئنس کے مطابق موت دراصل اختتام نہیں بلکہ ایک تبدیلی ہے، جس میں انسان کسی نہ کسی صورت میں کائنات کے ساتھ جڑا رہتا ہے۔

  • سورج سے طاقتور شمسی شعلوں کا اخراج

    سورج سے طاقتور شمسی شعلوں کا اخراج

    سورج سے طاقتور شمسی شعلوں کا اخراج ہوا-

    سورج نے7 گھنٹوں کےاندر 2 طاقتور ایکس 2.5 درجے کےشمسی شعلے خارج کیے، جو گزشتہ 78 دنوں میں سب سےشدید شمسی سرگرمی سمجھی جا رہی ہے دونوں دھماکے سورج کے ایک غیر مستحکم سن اسپاٹ ریجن اے آر 4419 سے خارج ہوئے، جو اس وقت سورج کے مغربی کنارے پر واقع ہےپہلا شمسی شعلہ 23 اپریل کو رات 9:07 بجے اپنے عروج پر پہنچا، جبکہ دوسرا 24 اپریل کو صبح 4:14 بجے ظاہر ہوا۔

    طبیعیات دان ریان فرنچ کے مطابق، یہ گزشتہ 78 دنوں میں دیکھے گئے سب سے طاقتور شعلے ہیں ان دھماکوں سے خارج ہونے والی شعاعوں نے زمین کے روشن حصے میں شدید ریڈیو بلیک آؤٹس پیدا کیے پہلا بلیک آؤٹ بحرالکاہل اور آسٹریلیا کے کچھ علاقوں میں محسوس کیا گیا، جبکہ دوسرے نے مشرقی ایشیا کو نمایاں طور پر متاثر کیا۔

    23 اپریل کو ان ایکس درجے کے شعلوں سے قبل درمیانے درجے کے ایم کلاس شمسی شعلوں کی ایک لہر بھی دیکھی گئی، جس کے ساتھ ایک نایاب ‘سمپیتھیٹک فلیئر’ بھی سامنے آیا، جس میں سورج کے 2 مختلف حصوں میں بیک وقت دھماکے ہوئے۔

    ماہرین کے مطابق، ان شعلوں کے ممکنہ راستوں کا تجزیہ جاری ہے، اور یہ امکان موجود ہے کہ ان کے اثرات زمین کو جزوی طور پر متاثر کریں ایسی صورت میں جیومقناطیسی طوفان پیدا ہو سکتے ہیں اور آسمان پر خوبصورت قطبی روشنیاں نظر آ سکتی ہیں۔

    واضح رہے کہ شمسی شعلے سورج پر ہونے والے انتہائی طاقتور دھماکے ہوتے ہیں، جو روشنی اور توانائی کے شدید اخراج کا سبب بنتے ہیں۔ان میں ایکس ریز اور بالائے بنفشی شعاعیں شامل ہوتی ہیں جو روشنی کی رفتار سے سفر کرتی ہیں جب یہ شعاعیں زمین تک پہنچتی ہیں تو فضا کی بالائی تہہ یعنی آئنوسفیئر کو متاثر کرتی ہیں عام حالات میں، طویل فاصلے تک جانے والے ریڈیو سگنلز آئنوسفیئر سے ٹکرا کر واپس زمین کی طرف آتے ہیں، لیکن شمسی شعاعوں کے اثر سے یہ نظام متاثر ہو جاتا ہے، جس کے نتیجے میں ریڈیوسگنلز کمزور پڑ جاتے ہیں اور شارٹ ویو ریڈیو بلیک آؤٹ ہو سکتا ہے۔

  • خطرناک اور تباہ کن زلزلے کی پیشگوئی

    خطرناک اور تباہ کن زلزلے کی پیشگوئی

    نئی تحقیقات میں دنیا میں بڑے اور تباہ کن زلزلوں کی پیشگوئی کی گئی ہے-

    سائنسی ویب سائٹ SciTechDaily نے جریدے Geology کے حوالے سے بتایا کہ ایک نئی سائنسی تحقیق نے خبردار کیا ہے کہ ترکی کے سب سے بڑے شہر استنبول کے نزدیک بحیرۂ مرمرہ کی تہہ میں موجود چٹانیں کسی بھی وقت اپنی جگہ سے کھسک سکتی ہیں،ان چٹانوں میں طویل عرصے سے جمع ہونے والا دباؤ مستقبل میں شدید زلزلے کی شکل اختیار کرسکتا ہے۔

    ماہرین کے مطابق یہ فالٹ گزشتہ ڈھائی صدی سے کسی بڑے جھٹکے کے بغیر توانائی سمیٹ رہا ہے، جو کسی بھی وقت خطرناک حد تک خارج ہوسکتی ہے، تحقیق میں شمالی اناطولیہ کی دراڑ کے نیچے چھپی چٹانوں کی سختی میں معمولی مگر نہایت اہم فرق کی نشاندہی کی گئی ہے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہی فرق مستقبل میں بڑے زلزلوں کا باعث بن سکتا ہے یہ نتائج فالٹ کے اندرونی میکانزم کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد فراہم کرتے ہیں اور استنبول کے علاقے میں زلزلوں کی پیشگوئی کو زیادہ مؤثر بنا سکتے ہیں۔

    آزادی پسند عوام نے بی این پی کو کامیاب بنایا،طارق رحمان

    رپورٹس کے مطابق ماہرین نے جدید برقی مقناطیسی امیجنگ ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے اس بظاہر ’’غیر مرئی‘‘ فالٹ کے اندرونی ڈھانچے کی تفصیلا ت حاصل کیں اس پیشرفت سے خطے میں زلزلہ جاتی خطرات اور زمین کی گہرائی میں متحرک قوتوں کے بارے میں نئی معلومات سامنے آئی ہیں۔

    سائنس دانوں کا اندازہ ہے کہ 15 سے 20 کلومیٹر پر مشتمل یہ خاموش حصہ اس وقت مقفل حالت میں ہے اور مسلسل تناؤ برداشت کر رہا ہے اگر یہ جمع شدہ دباؤ اچانک خارج ہوا تو 7.1 سے 7.4 شدت تک کا طاقتور زلزلہ آسکتا ہے ریکارڈ کے مطابق اس حصے میں آخری بڑی ٹوٹ پھوٹ 1766 میں پیش آئی تھی۔

    پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھنے کا امکان

    ترکی جغرافیائی لحاظ سے دنیا کے حساس ترین زلزلہ خیز علاقوں میں شمار ہوتا ہے کیونکہ یہاں، یوریشین پلیٹ، افریقن پلیٹ، عریبین پلیٹ اور اناطولین پلیٹ ایک دوسرے کے ساتھ تعامل کرتی ہیں ماہرین کے مطابق جس حصے کو ’’پرنسز آئی لینڈز سیگمنٹ‘‘ کہا جاتا ہے، وہ ایک بڑا سیسمک گیپ ہے جہاں تاریخی طور پر تقریباً 200 سے 250 سال کے وقفے سے شدید زلزلے آتے رہے ہیں۔

    اس تحقیق میں انسٹیٹیوٹ آف سائنس ٹوکیو سمیت مختلف اداروں کے ماہرین نے حصہ لیا انہوں نے تھری ڈی ماڈلز اور سمندر کی تہہ کی طویل المدتی نگرا نی کے ذریعے ان مقامات کی نشاندہی کی جہاں تناؤ غیر معمولی حد تک بڑھ چکا ہے سمندر کی تہہ میں کی گئی پیمائشوں سے معلوم ہوا کہ فالٹ مضبوطی سے جکڑا ہوا ہے اور اگر توانائی اچانک خارج ہوئی تو چار میٹر سے زیادہ زمینی سرکاؤ ممکن ہے۔

    عمران خان کی بیٹوں قاسم اور سلیمان سے ٹیلی فون پر بات کرادی گئی

    یہ خطرناک حصہ استنبول کے جنوب میں واقع ہے، جس کے باعث ممکنہ تباہی کے اثرات 1999 کے تباہ کن زلزلے جیسے ہوسکتے ہیں تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہی مخصوص حصہ پورے خطے کے زلزلہ جاتی خطرے میں مرکزی کردار ادا کر رہا ہےماہرین نے حکومتوں کو خبردار کیا ہے کہ مسلسل بڑھتا ہوا دباؤ کسی بھی وقت بڑے سانحے میں بدل سکتا ہے، اس لیے پیشگی تیاری، مؤثر منصوبہ بندی اور حفاظتی اقدامات ناگزیر ہیں۔

  • اے آئی کی مدد سے نیا اور نامعلوم وائرس دریافت

    اے آئی کی مدد سے نیا اور نامعلوم وائرس دریافت

    سائنسدانوں نے اے آئی کی مدد سے ایسا نیا وائرس تیار کیا ہے جو اس سے پہلے کبھی موجود نہیں تھا۔

    تفصیلات کے مطابق اس وائرس کو Evo–Φ2147 کا نام دیا گیا ہے اور اسے مکمل طور پر نئے سرے سے تخلیق کیا گیا ہے صرف 11 جینز پر مشتمل یہ وائرس زندگی کی انتہائی سادہ شکلوں میں شمار ہوتا ہے، جبکہ انسانی جینوم میں تقریباً 200,000 جینز پائے جاتے ہیں، یہ وائرس خاص طور پر ای کولی (E. Coli) بیکٹیریا کو ختم کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

    تحقیق کے دوران اے آئی ٹول Evo2 کی مدد سے 285 نئے وائرس بنائے گئے، جن میں سے 16 وائرس مؤثر ثابت ہوئے، جبکہ سب سے کامیاب وائرس قدرتی اقسام کے مقابلے میں 25 فیصد زیادہ تیز تھےتاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اے آئی کے ذریعے تیار کیے گئے ایسے وائرس مستقبل میں ممکنہ خطرات بھی پیدا کر سکتے ہیں۔

    پنجاب پولیس میں کانسٹیبل کی بھرتی سے متعلق ایک اہم فیصلہ جاری

    یہ تحقیق برطانوی سائنسدان ڈاکٹر ایڈریان وولفسن کی قیادت میں اسٹارٹ اپ جینیرو نے کی ہے ڈاکٹر وولفسن کے مطابق اب قدرتی ارتقا کے ساتھ ساتھ اے آئی پر مبنی جینوم ڈیزائن بھی زندگی کے ارتقائی عمل کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔

    اسلام آباد یونائیٹڈ کا نیا ہیڈ کوچ کون؟

  • چاند پر نام بھجوانے کے خواہشمند افراد کیلئے ناسا کا پیغام

    چاند پر نام بھجوانے کے خواہشمند افراد کیلئے ناسا کا پیغام

    امریکی خلائی ادارے ناسا نے چاند پر اپنا نام بھجوانے کی خواہش رکھنے والوں کے لیے نام اکٹھے کرنے شروع کردیے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں ناسا نے لکھا کہ اپنا نام چاند پر بھیجنے کے موقع کو ضائع نہ کریں،ادارہ ناموں کو اکٹھا کر رہا ہے جن کو ایک ایس ڈی کارڈ میں بھر کر آرٹیمیس دوم مشن کے دوران اورین میں بھیجا جائے گا،اپنے پیارے دوستوں، بچوں اور پیاروں کے لیے بھی بورڈنگ پاس نہ بھولیں۔

    واضح رہے آرٹیمس دوم مشن کے لیے لانچ پیڈ پر راکٹ کو تیار کیا جا رہا ہے جس کی لانچ فروری میں متوقع ہے 10 روزہ مشن میں ناسا کے چار خلانورد چاند کے گرد چکر لگا کر واپس آئیں گے،یہ مشین امریکی خلائی ادارے کی نصف صدی سے زیادہ عرصہ بعد ایک بار پھر انسان کو چاند پر اتارنے کی کوشش کی ایک کڑی ہے۔

    آئل ٹینکر سے نو کروڑ روپے مالیت کی منشیات برآمد، ملزم گرفتار

    وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی سعودی ہم منصب سے ملاقات

    افغانستان کے دارالحکومت کابل میں دھماکا، متعدد افراد ہلاک