Baaghi TV

Tag: سانحہ

  • سانحہ سیالکوٹ،سری لنکن باشندے کو قتل کرنے کے مقدمے میں اہم پیشرفت

    سانحہ سیالکوٹ،سری لنکن باشندے کو قتل کرنے کے مقدمے میں اہم پیشرفت

    سانحہ سیالکوٹ،سری لنکن باشندے کو قتل کرنے کے مقدمے میں اہم پیشرفت

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کے شہر سیالکوٹ میں سری لنکن باشندے کو قتل کرنے کے مقدمے میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے

    سری لنکن شہری کو بچانے کی کوشش کرنے والے شخص کو گواہ بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اس ضمن میں پراسیکیوشن کی خصوصی ٹیم نے تفتیشی افسر کو ہدایت جاری کی ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ سری لنکن شہری کو بچانے کی کوشش کرنے والے ملک عدنان کو گواہوں کی فہرست میں شامل کیا جائے چالا ن میں ویڈیوز اور اہم دستاویزات کو بطور شہادت عدالت میں پیش کیا جائے گا پراسیکیوشن نے مقدمے کا ٹرائل جنوری میں شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے

    دوسری جانب سانحہ سیالکوٹ میں ملوث گرفتار 33 ملزمان کو آج عدالت میں پیش کیا جائے گا ترجمان پولیس کا کہنا تھا کہ مرکزی ملزمان کی تعداد 85 ہوگئی، ملزمان کو انسداد دہشتگردی عدالت میں پیش کیا جائے گا، اس موقع پر عدالت کے باہر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں، مرکزی ملزمان کی شناخت ویڈیو اور دیگر ٹیکنالوجی سے کی جا رہی ہے، 52 ملزمان پہلے ہی ریمانڈ پر پولیس کی حراست میں ہیں

    قبل ازیں سیالکوٹ میں شہریوں کے ہاتھوں سری لنکن شہری پریانتھا کمارا کے قتل کے حوالے سے اسلامی نظریاتی کونسل کی اپیکس باڈی کا خصوصی اجلاس رواں ماہ 20 دسمبر کوطلب کرلیا گیا ہے ، اجلاس میں سانحہ سیالکوٹ اسباب وعوامل، ریاست اور عوام کی ذمہ داریاں اور تشدد کے بڑھتے ہوئے رحجان و واقعات کے خاتمے کے لیے تجاویز یک نکاتی ایجنڈا زیرِ بحث آئے گا

    قبل ازیں وزیراعظم عمران خان نے سیالکوٹ واقعے پر پارلیمان میں بحث کرانے کا فیصلہ کرلیا وزیراعظم کی ہدایت پر قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اہم اجلاس طلب کرلئے گئے ہیں چیئرمین سینیٹ سے مشیرپارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان نے مشاورت کی 20 دسمبرکو سینیٹ اور 22دسمبر کو قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کرلیا گیا ہے مشیرپارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کی ہدایت ہے ایوانوں میں سانحہ سیالکوٹ پربحث کرائی جائے،

    قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس ، سیالکوٹ واقعہ پرکی مذمت

    واضح رہے کہ توہین مذہب ،قرآن کا مبینہ الزام لگا کر غیر ملکی شہری کو جلا گیا گیا ،واقعہ پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور سے 132 کلو میٹر دور سیالکوٹ کی تحصیل اگوکی میں پیش آیا جہان‌ایک فیکٹری میں جنرل منیجر کے طور پر کام کرنے والے ملازم کو قرآن مجید کی مبینہ بے حرمتی کے الزام میں عوامی ہجوم نے تشدد کر کے قتل کیا بعد ازاں اسکی لاش کو آگ لگا دی گئی فیکٹری کے مالک کا کہنا ہے کہ پرانتھا کمارا کےحوالے سے کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی تھی، جب اس معاملےکی اطلاع ملی تب تک پرانتھا کمارا ہجوم کے ہتھے چڑھ گیا تھا پولیس کو تقریباً صبح پونے گیارہ بجے اطلاع دی تھی، جب پولیس پہنچی تو نفری کم تھی، پولیس کی مزید نفری پہنچنے سے پہلے پرانتھا ہلاک ہوچکا تھا۔فیکٹری مالک نے بتایا کہ پرانتھا کمارا نے 2013 میں بطور جی ایم پروڈکشن جوائن کیا تھا، پرانتھا کمارا محنتی اور ایماندار پروڈکشن منیجر تھے

    مقتول سری لنکن منیجر کی اہلیہ کا پہلا بیان:وزیراعظم عمران خان ہمیں‌ انصاف چاہیے

    بے بنیاد اور وحشیانہ قتل کب بند ہوں گے:صوفیہ مرزا بھی چُپ نہ رہ سکیں‌

    یقین سے کہتا ہوں کہ عمران خان ذمے داروں کوکٹہرے میں لائیں گے،سری لنکن وزیراعظم کی…

    سیالکوٹ واقعہ کی ابتدائی رپورٹ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب کو پیش :مذہبی انتہا…

    سیالکوٹ میں افسوسناک واقعہ: لوگوں کو اشتعال دلانے والا دوسرا ملک دشمن،اسلام دشمن…

    سیالکوٹ واقعہ کی ابتدائی رپورٹ پیش،گرفتار افراد میں سے 13اہم ملزمان کی تصاویر جاری

    صفائی ستھرائی کے لیے جس سپروائزر کی پریانتھا نے سرزنش کی اسی نے ورکرز کو اشتعال دلایا، پولیس رپورٹ

    سانحہ سیالکوٹ، سری لنکن حکومت کیا چاہتی ہے ؟ وزیر خارجہ نے بتا دیا

    اس دن میرا جذبہ تھا کہ…ملک عدنان نے وزیراعظم ہاؤس میں دل کی بات بتا دی

    پریانتھا کمارا کی نعش کی بے حرمتی کرنے والا ملزم عدالت پیش

    سانحہ سیالکوٹ کے ملزمان بارے بڑا فیصلہ کر لیا گیا

    سانحہ سیالکوٹ، وزیراعظم عمران خان کا بڑا فیصلہ

  • اسلام دین امن ہے، عمران محمدی

    اسلام دین امن ہے، عمران محمدی

    اسلام،سبھی مخلوقات حتی کہ کفار، معاھدین، اھل ذمہ اور اقلیت کے لیے دین امن ہے

    بقلم : عمران محمدی عفا اللہ عنہ

    اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
    الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ
    وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي
    وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا
    آج میں نے تمھارے لیے تمھارا دین کامل کردیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمھارے لیے اسلام کو دین کی حیثیت سے پسند کر لیا
    مائدہ 3

    اسلام کا مادہ س ل م ہے جس کا مطلب ہے سر تسلیم خم کردینا، امن و آشتی کی طرف رہنمائی کرنا اور تحفظ اور صلح کو قائم کرنا۔
    اسی سے السلامۃ تحفظ، سلامتی ہے
    اور اسی سے السَلم صلح امن ہے
    اسلام تحفظ، بچاؤ اور امن کا مذہب ہے

    (وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي) سے معلوم ہوا کہ اسلام اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے
    نعمت کیا ہوتی ہے ❓
    جو خوشیاں لائے
    فرحت کا سبب بنے
    آنکھوں کو ٹھنڈا کرے
    اور
    امن و محبت فراہم کرے

    *معاشرتی امن کے لئے اسلام کی تعلیمات*

    اسلام فساد فی الارض کی مذمت کرتا ہے
    ارشاد باری تعالیٰ ہے:
    وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاحِهَا
    اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد مت پھیلاؤ
    الأعراف : 56

    اور فرمایا
    وَلَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِي الْأَرْضِ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِينَ
    اور زمین میں فساد مت ڈھونڈ، بے شک اللہ فساد کرنے والوں سے محبت نہیں کرتا۔
    القصص : 77

    *اسلام ظلم کی مذمت کرتا ہے*

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظلم وتنگ نظری سے بچنے کی تاکیدکرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
    اتقوا الظلم فان الظلم ظلمات یوم القیامة
    ظلم سے بچو اس لئے کہ ظلم قیامت کی بدترین تاریکیوں کا ایک حصہ ہے،
    (مسلم: حدیث نمبر۲۵۷۸)

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہ کو یمن کا حاکم مقرر کیا تو فرمایا اے معاذ آپ اہل کتاب قوم کے پاس جا رہے ہیں
    اور فرمایا
    فَإِيَّاكَ وَكَرَائِمَ أَمْوَالِهِمْ وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ فَإِنَّهُ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ اللَّهِ حِجَابٌ
    لوگوں کے مال ناجائز طریقے سے کھانے سے بچو اور مظلوم کی بددعا سے بچو کیونکہ اس کے اور اللہ کے درمیان پردہ نہیں ہوتا
    بخاري 1425

    *اسلام رحم کی ترغیب دیتا ہے*

    حضرت جریر بن عبداللہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
    لَا يَرْحَمُ اللَّهُ مَنْ لَا يَرْحَمُ النَّاسَ
    (بخاری: حدیث نمبر 6941)
    ”اللہ اس شخص پر رحم نہیں کرتا جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا۔“

    بقول شاعر
    کرو مہربانی تم اہل زمین پر
    خدامہرباں ہوگاعرش بریں پر

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    اللَّهُمَّ مَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ أُمَّتِي شَيْئًا فَشَقَّ عَلَيْهِمْ فَاشْقُقْ عَلَيْهِ وَمَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ أُمَّتِي شَيْئًا فَرَفَقَ بِهِمْ فَارْفُقْ بِهِ
    مسلم 1828
    اے اللہ جو شخص میری امت کے کسی معاملے کا نگران بنے پھر وہ ان پر مشقت کرے تو تو بھی اس پر مشقت کر اور جو شخص میری امت کے کسی معاملے کا نگران بنے پھر وہ ان پر نرمی کرے تو تو بھی اس پر نرمی کر

    *اسلام کا غریبوں پر رحم*

    *اسلام نے اپنی انکم کا آٹھواں حصہ فقراء و مساکین کے لیے وقف کر دیا*

    زکوۃ کے مصارف بیان کرتے ہوئے اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا
    إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ
    صدقات تو صرف فقیروں اور مسکینوں کے لیے اور ان پر مقرر عاملوں کے لیے ہیں اور ان کے لیے جن کے دلوں میں الفت ڈالنی مقصود ہے اور گردنیں چھڑانے میں اور تاوان بھرنے والوں میں اور اللہ کے راستے میں اور مسافر میں (خرچ کرنے کے لیے ہیں)۔ یہ اللہ کی طرف سے ایک فریضہ ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔
    التوبة : 60

    * اسلام میں خوش اخلاقی کی ترغیب*

    ابو ذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    لَا تَحْقِرَنَّ مِنْ الْمَعْرُوفِ شَيْئًا وَلَوْ أَنْ تَلْقَى أَخَاكَ بِوَجْهٍ طَلْقٍ
    مسلم 2626
    کسی بھی نیکی کو حقیر نہیں سمجھو اگرچہ آپ اپنے بھائی کو کھلے چہرے کے ساتھ کیوں نہ ملو

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    اکثر ما یدخل الجنۃ تقوی اللہ وحسن الخلق
    لوگوں کو جنت میں سب سے زیادہ اللہ کا تقوی اور اچھا اخلاق داخل کرے گا

    عبداللہ بن عمر بن عاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا
    يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ
    اے اللہ کے رسول سے افضل اسلام کون سا ہے
    تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    مَنْ سَلِمَ النَّاسُ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ
    جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں
    مسند احمد 6714

    *اسلام لوگوں کی دل آزاری کا کس قدر مخالف ہے*

    * اگر دو آدمیوں کی سرگوشی سے تیسرے آدمی کی دل آزاری کا خدشہ ہے تو اسلام ایسی سرگوشی پر پابندی لگاتا ہے*

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
    ” إِذَا كُنْتُمْ ثَلَاثَةً، فَلَا يَتَنَاجَى رَجُلَانِ دُونَ الْآخَرِ حَتَّى تَخْتَلِطُوا بِالنَّاسِ ؛ أَجْلَ أَنْ يُحْزِنَهُ ”
    (صحيح البخاري | كِتَابٌ : الِاسْتِئْذَانُ | بَابٌ : إِذَا كَانُوا أَكْثَرَ مِنْ ثَلَاثَةٍ، فَلَا بَأْسَ بِالْمُسَارَّةِ وَالْمُنَاجَاةِ)
    جب تم تین آدمی ہو تو دو آدمی تیسرے کو چھوڑ کر باہم سرگوشی نہ کریں یہاں تک کہ تم لوگوں کے ساتھ گھل مل جاؤ اس لئے کہ یہ بات اس کو غم میں ڈالے گی

    *لوگوں کی تکلیف دور کرنے کے لیے پیاز کھا کر مسجد آنا ممنوع قرار دیا*

    جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے

    مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ الْمُنْتِنَةِ فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَأَذَّى مِمَّا يَتَأَذَّى مِنْهُ الْإِنْسُ
    مسلم 564
    جو اس بدبو دار درخت سے کھائے تو وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے کیونکہ فرشتے تکلیف محسوس کرتے ہیں اس چیز سے جس سے انسان تکلیف محسوس کرتے ہیں

    *راستے کے حقوق*

    *راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا ایمان کا حصہ ہے*

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    [ اَلإِْيْمَانُ بِضْعٌ وَ سَبْعُوْنَ أَوْ بِضْعٌ وَ سِتُّوْنَ شُعْبَةً فَأَفْضَلُهَا قَوْلُ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَ أَدْنَاهَا إِمَاطَةُ الْأَذٰی عَنِ الطَّرِيْقِ ]
    [ مسلم، الإیمان، باب بیان عدد شعب الإیمان… : ۳۵ ]
    ’’ایمان کی ستر(۷۰) یا (فرمایا) ساٹھ (۶۰) سے زیادہ شاخیں ہیں، ان میں سب سے افضل ’’لا الٰہ الا اللہ‘‘ کہنا ہے اور سب سے کم راستے سے تکلیف دہ چیز دور کرنا ہے۔‘‘

    *اسلام راستوں اور گزرگاہوں کی حفاظت کرتا ہے*

    حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    إِيَّاكُمْ وَالْجُلُوسَ عَلَى الطُّرُقَاتِ فَقَالُوا مَا لَنَا بُدٌّ إِنَّمَا هِيَ مَجَالِسُنَا نَتَحَدَّثُ فِيهَا قَالَ فَإِذَا أَبَيْتُمْ إِلَّا الْمَجَالِسَ فَأَعْطُوا الطَّرِيقَ حَقَّهَا قَالُوا وَمَا حَقُّ الطَّرِيقِ قَالَ غَضُّ الْبَصَرِ وَكَفُّ الْأَذَى وَرَدُّ السَّلَامِ وَأَمْرٌ بِالْمَعْرُوفِ وَنَهْيٌ عَنْ الْمُنْكَرِ
    (بخاري ،كِتَابُ المَظَالِمِ وَالغَصْبِ،بابُ أَفْنِيَةِ الدُّورِ وَالجُلُوسِ فِيهَا، وَالجُلُوسِ عَلَى الصُّعُدَاتِ2465)
    راستوں میں بیٹھنے سے بچو۔ صحابہ نے عرض کیا کہ ہم تو وہاں بیٹھنے پر مجبور ہیں۔ وہی ہمارے بیٹھنے کی جگہ ہوتی ہے کہ جہاں ہم باتیں کرتے ہیں۔ اس پر آپ نے فرمایا کہ اگر وہاں بیٹھنے کی مجبور ہی ہے تو راستے کا حق بھی ادا کرو۔ صحابہ نے پوچھا اور راستے کا حق کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، نگاہ نیچی رکھنا، کسی کو ایذاءدینے سے بچنا، سلام کا جواب دینا، اچھی باتوں کے لیے لوگوں کو حکم کرنا اور بری باتوں سے روکنا۔

    *راستے میں پیشاپ کرنا منع ہے*

    سیدنا ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا
    اتَّقُوا اللَّاعِنَيْنِ قَالُوا وَمَا اللَّاعِنَانِ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الَّذِي يَتَخَلَّى فِي طَرِيقِ النَّاسِ أَوْ ظِلِّهِمْ

    (ابوداؤد، كِتَابُ الطَّهَارَةِ،بابُ الْمَوَاضِعِ الَّتِي نَهَى النَّبِيُّ ﷺ عَنْ الْبَوْلِ فِيهَا،25)
    ” لعنت کے دو کاموں سے بچو ۔ “ صحابہ کرام ؓم نے پوچھا : اے اللہ کے رسول ! لعنت کے وہ کون سے دو کام ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ” جو لوگوں کے راستے میں یا ان کے سائے میں پاخانہ کرتا ہے ۔ “

    *راستہ تنگ کرنے والے کا جہاد نہیں*

    سیدنا معاذ بن انس جہنی ؓ روایت کرتے ہیں کہ فلاں فلاں غزوے میں ، میں اللہ کے نبی ﷺ کے ہمرکاب تھا تو لوگوں نے منزلوں پر پڑاؤ کرنے اور خیمے وغیرہ لگانے میں بہت تنگی کا مظاہرہ کیا کہ راستہ بھی نہ چھوڑا ۔ تو نبی کریم ﷺ نے اپنا ایک منادی بھیجا جس نے لوگوں میں اعلان کیا :
    أَنَّ مَنْ ضَيَّقَ مَنْزِلًا أَوْ قَطَعَ طَرِيقًا فَلَا جِهَادَ لَهُ
    (ابو داؤد، كِتَابُ الْجِهَادِ، بابُ مَا يُؤْمَرُ مِنْ انْضِمَامِ الْعَسْكَرِ وَسَعَتِهِ،2629)
    ” جو شخص خیمہ لگانے میں تنگی کرے یا راستہ کاٹے تو اس کا جہاد نہیں ۔ “

    *اسلام قتل کی مذمت کرتا ہے*

    عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا
    أَوَّلُ مَا يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي الدِّمَاءِ
    رواه البخاري ومسلم (1678)
    لوگوں کے درمیان قیامت کے دن سب سے پہلے خون (قتل) کا حساب ہوگا

    *اسلام میں کسی ایک انسان کا قتل سب انسانوں کے قتل کے برابر ہے*

    فرمایا
    مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا
    جس نے ایک جان کو کسی جان کے (بدلے کے) بغیر، یا زمین میں فساد کے بغیر قتل کیا تو گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے اسے زندگی بخشی تو گویا اس نے تمام انسانوں کو زندگی بخشی
    المائدة : 32

    *اسلام بچوں کے قتل سے منع کرتا ہے*

    اسلام نے ہمیں بتایا ہے کہ بچوں کا قتل بہت بڑا گناہ ہے اور یہ کہ قیامت کے دن چائلڈ کرائمز پر سپیشل عدالت لگے کی تاکہ بچوں کے قتل کی روک تھام کی جائے

    فرمایا
    وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ
    اور جب زندہ دفن کی گئی (لڑکی) سے پوچھا جائے گا۔
    التكوير : 8
    بِأَيِّ ذَنْبٍ قُتِلَتْ
    کہ وہ کس گناہ کے بدلے قتل کی گئی؟
    التكوير : 9

    اور فرمایا
    وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ خَشْيَةَ إِمْلَاقٍ نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَإِيَّاكُمْ إِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْئًا كَبِيرًا
    اور اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو، ہم ہی انھیں رزق دیتے ہیں اور تمھیں بھی۔ بے شک ان کا قتل ہمیشہ سے بہت بڑا گناہ ہے۔
    الإسراء : 31

    *ایک بچی کے قتل پر پیغمبرِاسلام کی بے چینی*

    سیدنا انس (رض) فرماتے
    أَنَّ يَهُودِيًّا رَضَّ رَأْسَ جَارِيَةٍ بَيْنَ حَجَرَيْنِ قِيلَ مَنْ فَعَلَ هَذَا بِكِ أَفُلَانٌ أَفُلَانٌ حَتَّى سُمِّيَ الْيَهُودِيُّ فَأَوْمَأَتْ بِرَأْسِهَا فَأُخِذَ الْيَهُودِيُّ فَاعْتَرَفَ فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُضَّ رَأْسُهُ بَيْنَ حَجَرَيْنِ
    (مسلم۔ کتاب القسامہ۔ باب ثبوت القصاص فی القتل بالحجر)
    (بخاری۔ 2282،کتاب الدیات۔ باب سوال القاتل حتی یقرو الاقرار فی الحد۔ باب اقاد بحجر)

    ایک یہودی نے ایک مسلمان لڑکی کا جو زیور پہنے ہوئے تھی۔ محض زیور حاصل کرنے کے لیے سر کچل دیا۔ اس لڑکی سے پوچھا گیا کہ کس نے اس کا سر کچلا ؟ فلاں نے یا فلاں نے ؟ یہاں تک کہ جب قاتل یہودی کا نام لیا گیا تو اس نے سر کے اشارے سے بتایا ہاں وہ یہودی نبی اکرم کے پاس لایا گیا۔ اس نے جرم کا اقرار کرلیا تو آپ نے بھی دو پتھروں کے درمیان اس کا سر رکھ کر کچلوا دیا۔

    *اسلام نے تعلیم دی ہے کہ محض ارادءِ قتل ہی جہنم میں جانے کے لیے کافی ہے*

    نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا
    بِحَسْبِ امْرِئٍ مِنْ الشَّرِّ أَنْ يَحْقِرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ
    مسلم 2564
    آدمی کے برا ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیرخیال کرے

    سیدنا ابوبکر (رض) کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا
    إِذَا الْتَقَى الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا الْقَاتِلُ فَمَا بَالُ الْمَقْتُولِ قَالَ إِنَّهُ كَانَ حَرِيصًا عَلَى قَتْلِ صَاحِبِهِ
    (بخاری،(6481) کتاب الدیات۔ باب قول اللہ و من احیاھا )
    جب دو مسلمان تلوار لے کر باہم لڑیں تو قاتل و مقتول دونوں جہنمی ہیں۔ میں نے کہا اے اللہ کے رسول ! یہ تو قاتل تھا، مقتول کا کیا قصور ؟ فرمایا اس لیے کہ وہ بھی اپنے ساتھی کے قتل کے درپے تھا۔

    سیدنا ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا
    أَبْغَضُ النَّاسِ إِلَى اللَّهِ ثَلَاثَةٌ
    مُلْحِدٌ فِي الْحَرَمِ
    وَمُبْتَغٍ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ
    وَمُطَّلِبُ دَمِ امْرِئٍ بِغَيْرِ حَقٍّ لِيُهَرِيقَ دَمَهُ
    (بخاری، (6488)کتاب الدیات۔ باب من طلب دم امری بغیر حق)

    تین آدمیوں پر اللہ (قیامت کے دن) سب سے زیادہ غضب ناک ہوگا۔
    (1) حرم میں الحاد کرنے والا
    (2) اسلام میں طریقہ جاہلیت کا متلاشی
    (3) ناحق کسی کا خون بہانے کا طالب۔

    *مسلمان بھائی کی طرف اسلحہ سے اشارہ کرنا بھی منع ہے*

    نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا
    مَنْ أَشَارَ إِلَى أَخِيهِ بِحَدِيدَةٍ فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَلْعَنُهُ حَتَّى يَدَعَهُ وَإِنْ كَانَ أَخَاهُ لِأَبِيهِ وَأُمِّهِ
    مسلم 2616
    جس نے اپنے بھائی کی طرف اسلحہ سے اشارہ کیا تو فرشتے اس پر لعنت کرتے ہیں یہاں تک وہ اس اشارے سے رک جائے اگرچہ جس کی طرف اشارہ کررہا ہے وہ اس کا حقیقی بھائی ہی کیوں نہ ہو

    *مختلف حکومتوں نے معاشرتی امن قائم رکھنے اور قتل و غارت سے بچنے کے لیے اسلحہ کی نمائش پر پابندی عائد کر رکھی ہے اور اس کے لیے لائسنس سسٹم لاگو کر رکھا ہےحالانکہ کئی ایسے آلات لفظ اسلحہ کے دائرے سے باہر ہیں کہ جن سے ایک انسان کو قتل کیا جا سکتا ہے کیونکہ انسان کو قتل کرنے کے لیے ایک دو انچ کا لوہا بھی کافی ہوتا ہےجبکہ اسلام نے اسلحہ کے ساتھ ساتھ لفظ حدید( یعنی لوہے) کا لفظ بول کر کسی بھی قسم کی گنجائش نہیں چھوڑی اور مستزاد یہ کہ ارادہءِ قتل پر بھی جہنم کی وعید سنا دی*

    فرمایا
    لَا يُشِيرُ أَحَدُكُمْ عَلَى أَخِيهِ بِالسِّلَاحِ فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي لَعَلَّ الشَّيْطَانَ يَنْزِعُ فِي يَدِهِ فَيَقَعُ فِي حُفْرَةٍ مِنْ النَّارِ
    تم میں سے کوئی بھی اپنے بھائی کی طرف اسلحہ سے اشارہ نہ کرے کیونکہ اسے نہیں معلوم ممکن ہے کہ شیطان اس کا ہاتھ پھسلا دے تو وہ اس کی وجہ سے جہنم کے گھڑے میں جا گرے
    بخاري 6661

    مزید فرمایا
    مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلَاحَ فَلَيْسَ مِنَّا
    جس نے ہمارے خلاف اسلحہ اٹھایا تو وہ ہم میں سے نہیں
    بخاري 6480

    *اسلام جانوروں پر شفقت کی تعلیم دیتا ہے*

    *انسان تو پھر انسان ھے کسی جانور کو ناحق قتل کرنے پر بھی جہنم کی ہولناکی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے*

    عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا
    عُذِّبَتِ امْرَأَةٌ فِي هِرَّةٍ سَجَنَتْهَا حَتَّى مَاتَتْ فَدَخَلَتْ فِيهَا النَّارَ لَا هِيَ أَطْعَمَتْهَا وَلَا سَقَتْهَا إِذْ حَبَسَتْهَا وَلَا هِيَ تَرَكَتْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ
    ایک عورت کو بلی کی وجہ سے عذاب دیا گیا جس نے بلی کو باندھ کر رکھا یہاں تک کہ وہ بھوکی پیاسی مر گئی تو وہ عورت اسی وجہ سے جہنم میں داخل ہو گئی کیونکہ نہ اس نے اسے کھانہ کھلایا نہ پانی پلایا اور نہ ہی آزاد چھوڑا کہ وہ زمین کےجانوروں میں سے کچھ کھا پی لے
    بخاری 3295

    فتح الباری میں لکھا ہے
    ثبت النهي عن قتل البهيمة بغير حق والوعيد في ذلك ، فكيف بقتل الآدمي ، فكيف بالتقي الصالح
    جب کسی جانور کو ناجائز قتل کرنے سے منع کر دیا گیا ہے اور اس پر جہنم کی وعید سنائی گئی ہے تو کسی عام آدمی کے قتل کی اجازت کیسے ہو سکتی ہے اور کسی نیک آدمی کے قتل کی سنگینی کتنی زیادہ ہو گی
    فتح الباری

    *جانور کے سامنے چھری تیز کرنے سے منع فرمایا*

    صحابہ فرماتے ہیں
    أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِحَدِّ الشِّفَارِ وَأَنْ تُوَارَى عَنْ الْبَهَائِمِ
    مسند احمد 5830
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھری تیز کرنے کا حکم دیا اور یہ کہ اسے جانوروں سے چھپایا جائے

    *جانور ذبح کرنے میں نرمی اور احسان کا حکم*

    شداد بن اوس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے دو باتیں یاد کی ہیں، آپ نے فرمایا:
    إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذِّبْحَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ.

    (سنن نسائی،کتاب: قربانی سے متعلق احادیث مبارکہ، باب: چاقو چھری تیز کرنے سے متعلق، حدیث نمبر: 4410)

    اللہ تعالیٰ نے تم پر ہر چیز میں احسان (اچھا سلوک کرنا) فرض کیا ہے، تو جب تم قتل کرو تو اچھی طرح قتل کرو، اور جب تم ذبح کرو تو اچھی طرح ذبح کرو، اور تم میں سے ہر ایک کو چاہیئے کہ اپنی چھری تیز کرلے اور اپنے جانور کو آرام پہنچائے

    *اسلام نے جانور کے چہرے پر داغنے اور مثلہ کرنے سے منع کیا*

    جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں
    أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَيْهِ حِمَارٌ قَدْ وُسِمَ فِي وَجْهِهِ فَقَالَ لَعَنَ اللَّهُ الَّذِي وَسَمَهُ
    مسلم 2117
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک گدھے کے پاس سے گزرے جس کے چہرے پر داغا گیا تھا
    تو آپ نے فرمایا اللہ تعالی لعنت کرے اس شخص پر جس نے اسے داغا ہے

    عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں
    لَعَنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ مَثَّلَ بِالْحَيَوَانِ
    بخاري 5196
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص پر لعنت کی جو کسی حیوان کا مثلہ کرے

    *اسلام نے جانور کو نشانہ بازی کیلئے ٹارگٹ بنانے سے منع کیا*

    سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں
    كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ فَمَرُّوا بِفِتْيَةٍ أَوْ بِنَفَرٍ نَصَبُوا دَجَاجَةً يَرْمُونَهَا فَلَمَّا رَأَوْا ابْنَ عُمَرَ تَفَرَّقُوا عَنْهَا وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ مَنْ فَعَلَ هَذَا إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ مَنْ فَعَلَ هَذَا
    بخاري 5196
    میں ابن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تھا وہ چند نوجوانوں کے پاس سے گزرے جنہوں نے ایک مرغی کو باندھ رکھا تھا وہ اس پر تیر اندازی کر رہے تھے جب انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا تو اسے چھوڑ کر بھاگ نکلے تو عمر ابن عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا یہ کام کس نے کیا ہے
    بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نے ایسا کرنے والے پر لعنت کی ہے

    *پیاسے کتے کو پانی پلانے پر بخشش*

    ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    «أَنَّ رَجُلًا رَأَى كَلْبًا يَأْكُلُ الثَّرَى مِنَ العَطَشِ، فَأَخَذَ الرَّجُلُ خُفَّهُ، فَجَعَلَ يَغْرِفُ لَهُ بِهِ حَتَّى أَرْوَاهُ، فَشَكَرَ اللَّهُ لَهُ، فَأَدْخَلَهُ الجَنَّةَ»
    (بخاري، كتَابُ الوُضُوءِ، بَابٌ إِذَا شَرِبَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعًا،173)
    کہ ایک شخص نے ایک کتے کو دیکھا، جو پیاس کی وجہ سے گیلی مٹی کھا رہا تھا۔ تو اس شخص نے اپنا موزہ لیا اور اس سے پانی بھر کر پلانے لگا، حتیٰ کہ اس کو خوب سیراب کر دیا۔ اللہ نے اس شخص کے اس کام کی قدر کی اور اسے جنت میں داخل کر دیا۔

    حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے، انھوں نےنبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا :
    «أَنَّ امْرَأَةً بَغِيًّا رَأَتْ كَلْبًا فِي يَوْمٍ حَارٍّ يُطِيفُ بِبِئْرٍ، قَدْ أَدْلَعَ لِسَانَهُ مِنَ الْعَطَشِ، فَنَزَعَتْ لَهُ بِمُوقِهَا فَغُفِرَ لَهَا»
    (مسلم كِتَابُ السَّلَام، باب فَضْلِ سَقْيِ الْبَهَائِمِ الْمُحْتَرَمَةِ وَإِطْعَامِهَا،5860)

    ” ایک فاحشہ عورت نے ایک سخت گرم دن میں ایک کتا دیکھا جو ایک کنویں کے گردچکر لگا رہا تھا ۔پیاس کی وجہ سے اس نے زبان باہر نکا لی ہو ئی تھی اس عورت نے اس کی خاطر اپنا موزہ اتارہ(اور اس کے ذریعے پانی نکا ل کر اس کتے کو پلایا ) تو اس کو بخش دیا گیا ۔”

    *اسلام اور آداب جنگ*

    آج مغربی میڈیا کی چکاچوند میں کھوئے ہوئے اور اسلام مخالف پروپیگنڈے کا شکار بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اسلام ایک دہشت گرد، جنونی اور جنگجو مذہب ہے جب کہ اگر اسلام کی جنگی تعلیمات اور جنگی آداب پر غور کیا جائے تو معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے

    *لشکر اسامہ کو روانہ کرتے ہوئے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی نصیحتیں*

    ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ لشکر اسامہ کو روانہ کرتے ہوئے لشکر کو اور اس کے امیر کو نصیحت کی
    فرمایا
    وَإِنِّي مُوصِيكَ بِعَشْرٍ
    میں آپ کو دس چیزوں کی نصیحت کرتا ہوں
    لَا تَقْتُلَنَّ امْرَأَةً
    کسی عورت کو قتل نہیں کرنا
    وَلَا صَبِيًّا
    نہ ہی کسی بچے کو
    وَلَا كَبِيرًا هَرِمًا
    نہ ہی کسی بوڑھے کو
    وَلَا تَقْطَعَنَّ شَجَرًا مُثْمِرًا
    کوئی پھل دار درخت نہیں کاٹنا
    وَلَا تُخَرِّبَنَّ عَامِرًا
    کسی آباد علاقے کو ویران نہیں کرنا
    وَلَا تَعْقِرَنَّ شَاةً وَلَا بَعِيرًا إِلَّا لِمَأْكَلَةٍ
    کھانے کی ضرورت کے علاوہ کسی اونٹ یا بکری کو ذبح نہیں کرنا
    وَلَا تَحْرِقَنَّ نَحْلًا
    کھجور کا کوئی درخت نہیں جلانا
    وَلَا تُغَرِّقَنَّهُ
    کسی کو پانی میں نہیں ڈبونا
    وَلَا تَغْلُلْ
    خیانت نہیں کرنا
    وَلَا تَجْبُنْ
    بزدلی نہیں دکھانا
    موطا امام مالک

    *عورتوں اور بچوں کو قتل نہ کرو*

    عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں
    وُجِدَتْ امْرَأَةٌ مَقْتُولَةً فِي بَعْضِ مَغَازِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ
    بخاری 2852
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی جنگ میں ایک مقتول عورت پائی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے منع کردیا

    *مزدوروں کو قتل کرنے کی ممانعت*

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنگ کے موقع پر خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا
    لَا يَقْتُلَنَّ امْرَأَةً وَلَا عَسِيفًا
    ابوداؤد 2669
    کسی عورت یا مزدور کو قتل نہ کرو

    *اسلام فریق مخالف کے مقتولین کا مثلہ کرنے سے منع کرتا ہے*

    نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا
    وَلَا تَغُلُّوا وَلَا تَغْدِرُوا وَلَا تَمْثُلُوا
    مسلم 1731
    خیانت نہ کرو دھوکا نہ دو اور مثلہ نہ کرو

    بدر کے ایک قیدی سہیل بن عمرو کے متعلق عمر رضی اللہ عنہ نے مشورہ دیا کہ اس کے اگلے دو دانت توڑ دیے جائیں کیونکہ وہ کفار کا بہت بڑا خطیب تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ کی یہ بات تسلیم کرنے سے انکار کر دیا
    الرحیق المختوم

    *اسلام میں اسیران جنگ سے حسن سلوک*

    جنگی قیدیوں کے ساتھ حسن سلوک کرنے میں اسلام اپنی مثال آپ ہے جنگی قیدیوں کے متعلق جو سنہری اصول اسلام نے وضع کیے ہیں آج کی مہذب دنیا بھی ایسے قوانین بنانے سے قاصر ہے

    بدر کی جنگ میں 70 کفار گرفتار ہوئے تھے
    فتح مکہ میں پورا مکہ شہر گردنیں جھکائے کھڑا تھا
    اور حنین کی جنگ میں 6000 قیدی ہاتھ لگے تھے

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب نے ان قیدیوں کے ساتھ حسن سلوک کی ایسی داستانیں رقم کیں کہ دنیا اس کی مثال پیش نہیں کرسکتی

    یمامہ کے حاکم ثمامہ بن اثال رضی اللہ عنہ کا واقعہ صحیح بخاري میں موجود ہیں دنیا حیران رہ گئی کہ کیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی جان کے دشمن کو پکڑنے کے تین دن بعد بغیر کسی عہد و پیماں اور شرط کے آزاد کر دیا

    اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غورث بن حارث کو معاف کر دیا، جس نے آپ کو اچانک قتل کرنے کا ارادہ کیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوئے ہوئے تھے تو اس نے آپ کی تلوار میان سے نکال لی، آپ بیدار ہوئے تو وہ ننگی اس کے ہاتھ میں تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جھڑکا تو اس نے نیچے رکھ دی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو بلا کر ساری بات بتائی اور اسے معاف کر دیا۔
    بخاري 2753

    *جنگی قیدی اگر آپس میں رشتہ دار ہیں تو اسلام انہیں جدا جدا کرنے سے منع کرتا ہے*

    ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا
    مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ وَالِدَةٍ وَوَلَدِهَا فَرَّقَ اللَّهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَحِبَّتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
    ترمذي 1566
    جس نے ماں اور اس کی اولاد کے درمیان جدائی ڈالی تو اللہ تعالی اس کے اور اس کے اقربہ کے درمیان قیامت کے دن جدائی ڈالیں گے

    *فتح مکہ کا منظر نامہ اسلام کی صلح جوئی کا عظیم کردار*

    یہ کسی علاقے کی نہیں بلکہ دلوں کی فتح تھی

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر ان لوگوں سے فرمایا جنھوں نے آپ سے دشمنی کی انتہا کر دی تھی اور جن کی گردنیں آپ کے ایک اشارے سے تن سے جدا ہو سکتی تھیں

    ان میں فرعونِ وقت کا بیٹا عکرمہ بن ابی جہل بھی تھا
    زینب کا قاتل ہبار بن اسود بھی تھا
    کعبہ کی چابی نہ دینے والے عثمان بن طلحہ بھی تھے
    پیارے چچا امیر حمزہ کے قاتل وحشی بن حرب بھی تھے

    [ لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ ]
    [ السنن الکبرٰی للنسائي : ۱۱۲۹۸ ]
    آج تم پر کوئی گرفت نہیں ہوگی

    *نرمی ہی نرمی*
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    مَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْيَانَ فَهُوَ آمِنٌ
    جو ابوسفیان کے گھر داخل ہو جائے گا اسے امن دیا جائے گا
    وَمَنْ أَلْقَى السِّلَاحَ فَهُوَ آمِنٌ
    جو اسلحہ پھینک دے گا اسے بھی امن دیا جائے گا
    وَمَنْ أَغْلَقَ بَابَهُ فَهُوَ آمِنٌ
    جو اپنے گھر کا دروازہ بند کر دے گا اسے بھی امن دیا جائے گا
    مسلم 1780

    سنن ابی داؤد میں ہے دکھانے کے لئے
    مَنْ دَخَلَ دَارًا فَهُوَ آمِنٌ
    ابو داؤد 3024
    جو کسی بھی گھر میں داخل ہو جائے گا اسے امن دیا جائے گا

    اور ابوداؤد ہی کی ایک روایت میں ہے
    وَمَنْ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَهُوَ آمِنٌ
    ابو داؤد 3022
    جو مسجد میں داخل ہوگا اسے بھی امن دیا جائے گا

    اسی طرح جو حکیم بن حزام کے گھر داخل ہو گا اسے امن دیا جائےگا

    جسے کوئی مسلم پناہ دے اسے بھی امن دیا جائے گا

    *پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و سلم کے درگزر کی مثالیں*

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان اسی (۸۰) آدمیوں کو معاف کر دیا جو کوہِ تنعیم سے آپ پر حملہ آور ہونے کے لیے اترے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر قابو پا لیا تو قدرت کے باوجود ان پر احسان فرما دیا۔

    اسی طرح لبید بن اعصم کو معاف کر دیا جس نے آپ پر جادو کیا تھا، اس سے باز پرس بھی نہیں فرمائی۔ (دیکھیے بخاری : ۵۷۶۵)

    اسی طرح اس یہودی عورت زینب کو معاف فرما دیا جو خیبر کے یہودی مرحب کی بہن تھی، جسے محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے قتل کیا تھا، جس نے خیبر کے موقع پر بکری کے بازو میں زہر ملا دیا تھا، بکری کے اس بازو نے آپ کو اس کی اطلاع دے دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو بلایا تو اس نے اعتراف کر لیا۔
    آپ نے اس سے کہا کہ تمھیں اس کام پر کس چیز نے آمادہ کیا؟
    اس نے کہا، میرا ارادہ یہ تھا کہ اگر آپ نبی ہوئے تو یہ آپ کو نقصان نہیں دے گی اور اگر نبی نہ ہوئے تو ہماری جان چھوٹ جائے گی۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھوڑ دیا، مگر جب اس زہر کی وجہ سے بشر بن براء رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے قصاص میں اسے قتل کر دیا۔ (دیکھیے بخاری : ۳۱۶۹۔ ابو داود : ۴۵۰۹، ۴۵۱۱)

    *اسلام جبر نہیں کرتا*

    اسلام ایسا مذہب ہے جو ہر ایک کو جینے کا حق دیتا ہے نہ کسی کو زبردستی اسلام میں داخل کرتا ہے اور نہ ہی یہ کہ جو اسلام قبول نہیں کرتا اسے قتل کر دیا جائے

    فرمایا
    لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ
    دین میں کوئی زبردستی نہیں
    البقرة 256

    ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : ’’(جاہلیت میں) اگر کسی عورت کے بچے زندہ نہ رہتے تو وہ یہ نذر مان لیتی تھی کہ اگر بچہ زندہ رہا تو وہ اسے یہودی بنا دے گی، پھر جب بنونضیر کو جلاوطن کیا گیا تو ان میں انصار کے کئی لڑکے تھے
    انصار نے کہا : ’’ہم انھیں نہیں چھوڑیں گے ‘‘
    تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔‘‘
    [أبوداوٗد، الجہاد، باب فی الأسیر یکرہ علی الإسلام : ۲۶۸۲، وصححہ الألبانی ]

    *اسلام میں ذمیوں (اقلیتوں) کے حقوق*

    *ذمی کو قتل کرنے والا جنت کی خوشبو تک نہیں پائے گا*

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    مَنْ قَتَلَ مُعَاهَدًا لَمْ يَرِحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ ، وَإِنَّ رِيحَهَا تُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ أَرْبَعِينَ عَامًا
    رواه البخاري (3166) والنسائي
    ”جس نے کسی ذمی کو ( ناحق ) قتل کیا وہ جنت کی خوشبو بھی نہ پا سکے گا۔ حالانکہ جنت کی خوشبو چالیس سال کی راہ سے سونگھی جا سکتی ہے۔“

    ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا
    *” مَنْ قَتَلَ مُعَاهِدًا فِي غَيْرِ كُنْهِهِ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ*
    رواه أبو داود (2760)وصححه الألباني
    جو کسی ایسے ذمی کو قتل کرے جو شرعاً واجب القتل نہیں تھا تو اللہ تعالیٰ نے اس پر جنت حرام کردی ہے

    *اسلام برداشت کا دین ہے*

    اسلام برداشت کا درس دیتا ہے یہ نہیں کہ اگر کسی کے ساتھ دشمنی ہے تو اس دشمنی کی بنیاد پر تم عدل و انصاف سے ہٹ کر فیصلہ کرنا شروع کردو
    فرمایا
    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ لِلَّهِ شُهَدَاءَ بِالْقِسْطِ وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَى أَلَّا تَعْدِلُوا اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ
    اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کی خاطر خوب قائم رہنے والے، انصاف کے ساتھ گواہی دینے والے بن جائو اور کسی قوم کی دشمنی تمھیں ہرگز اس بات کا مجرم نہ بنا دے کہ تم عدل نہ کرو۔ عدل کرو، یہ تقویٰ کے زیادہ قریب ہے اور اللہ سے ڈرو، بے شک اللہ اس سے پوری طرح با خبر ہے جو تم کرتے ہو۔
    المائدة : 8

    یعنی اگرچہ ان مشرکین نے تمھیں 6 ہجری میں اور اس سے پہلے مسجد حرام میں جانے سے روک دیا تھا لیکن تم ان کے اس روکنے کی وجہ سے ان کی دشمنی کی بنا پر حد سے مت بڑھو

    *اسلام نے بین الاقوامی امن قائم رکھنے کے لیے غیر مسلم اقوام کے معبودوں کو برا کہنے سے منع کیا ہے*

    فرمایا
    وَلَا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ فَيَسُبُّوا اللَّهَ عَدْوًا بِغَيْرِ عِلْمٍ
    اور انھیں گالی نہ دو جنھیں یہ لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں، پس وہ زیادتی کرتے ہوئے کچھ جانے بغیر اللہ کو گالی دیں گے
    الأنعام 108

    حتی کہ اسلام کی کتاب قرآن میں موسی علیہ السلام کا تذکرہ انتہائی ادب و احترام کے ساتھ 124 مرتبہ کیا گیا

    عیسی علیہ السلام کا تذکرہ 16 مرتبہ کیا گیا

    مریم علیہ السلام کا تذکرہ 30 مرتبہ کیا گیا

    بنی اسرائیل کا تذکرہ 40 مرتبہ کیا گیا

    بلکہ اسلام کی کتاب میں مریم و بنی اسرائیل کے نام کی تو صورتیں موجود ہیں

    حتی کہ تورات و انجیل کا بھی تذکرہ موجود ہے اور ان کتابوں کے منزل من اللہ ہونے کی تصدیق ہے

    *اسلام بین المذاہب ہم آہنگی کا درس دیتا ہے*

    پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر مسلم حکام کی طرف خطوط لکھے اور انہیں نقطہ اشتراک پر جمع ہونے کی دعوت دی

    قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللَّهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ
    کہہ دے اے اہل کتاب! آئو ایک ایسی بات کی طرف جو ہمارے درمیان اور تمھارے درمیان برابر ہے، یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کریں اور ہم میں سے کوئی کسی کو اللہ کے سوا رب نہ بنائے، پھر اگر وہ پھر جائیں تو کہہ دو گواہ رہو کہ بے شک ہم فرماں بردار ہیں۔
    آل عمران : 64

    اس آیت میں اہل کتاب کو تین مشترکہ باتوں کی دعوت دینے کا حکم دیا گیا ہے
    (1) اللہ تعالیٰ کے سوا ہم کسی کی عبادت نہ کریں۔
    (2) اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں۔
    (3) اور ہم میں سے کوئی کسی کو اللہ کے سوا رب نہ بنائے

    *پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا دنیا سے الوداعی خطبہ انسانی امن کا دستور اعظم*

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    [ يَا أَيُّهَا النَّاسُ! أَلاَ إِنَّ رَبَّكُمْ وَاحِدٌ، وَ إِنَّ أَبَاكُمْ وَاحِدٌ، أَلاَ لاَ فَضْلَ لِعَرَبِيٍّ عَلٰی أَعْجَمِيٍّ، وَلاَ لِعَجَمِيٍّ عَلٰی عَرَبِيٍّ، وَلاَ لِأَحْمَرَ عَلٰی أَسْوَدَ، وَلاَ أَسْوَدَ عَلٰی أَحْمَرَ، إِلاَّ بِالتَّقْوٰی ]
    [مسند أحمد : 411/5، ح : ۲۳۴۸۹، قال شعیب الأرنؤوط إسنادہ صحیح ]
    ’’اے لوگو! سن لو! تمھارا رب ایک ہے اور تمھارا باپ ایک ہے۔ سن لو! نہ کسی عربی کو کسی عجمی پر کوئی برتری حاصل ہے اور نہ کسی عجمی کو کسی عربی پر، نہ کسی سرخ کو کسی کالے پر اور نہ کسی کالے کو کسی سرخ پر، مگر تقویٰ کی بنا پر۔‘‘

    يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ
    اے لوگو! بے شک ہم نے تمھیں ایک نر اور ایک مادہ سے پیدا کیا اور ہم نے تمھیں قومیں اور قبیلے بنا دیا، تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو، بے شک تم میں سب سے عزت والا اللہ کے نزدیک وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ تقویٰ والا ہے، بے شک اللہ سب کچھ جاننے والا، پوری خبر رکھنے والا ہے۔
    الحجرات : 13

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    [ وَ إِنَّ اللّٰهَ أَوْحٰی إِلَيَّ أَنْ تَوَاضَعُوْا حَتّٰی لَا يَفْخَرَ أَحَدٌ عَلٰی أَحَدٍ وَلَا يَبْغِيْ أَحَدٌ عَلٰی أَحَدٍ ]
    [ مسلم، الجنۃ و صفۃ نعیمھا، باب الصفات التي یعرف بہا… : ۶۴؍۲۸۶۵ ]
    ’’اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی فرمائی کہ آپس میں تواضع اختیار کرو، حتیٰ کہ نہ کوئی کسی پر فخر کرے اور نہ کوئی کسی پر زیادتی کرے۔‘‘

  • قصور میں ایک اور المناک سانحہ

    قصور
    ٹریفک حادثہ ایک اور جان لے گیا
    حادثہ موٹر سائیکل کی تیز رفتاری اور غفلت سے پیش آیا
    تفصیلات کے مطابق دوپہر 2 بجے کے قریب تیز رفتار موٹر سائیکل مٹی سے لدی ٹرالی سے جا ٹکرائی جسے ٹرالی روندتی ہوئی کافی دور لے گئی جس کے نتیجے میں ایک موٹرسائیکل سوار موقع پر ہی جانبحق جبکہ دوسرا شدید زخمی ہو گیا ہے جسے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے کل بھی قصور میں ٹریفک حادثہ کی بدلت 6 افراد جانبحق اور 49 زخمی ہو گئے تھے جن میں سے بیشتر کی حالت ابھی نازک ہے کل والا واقعہ بھی غفلت اور لاپرواہی کی بدولت پیش آیا اور کئی لوگ جان کی بازی ہار گئے

  • اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا ۔۔۔ تحریر : سلمان آفریدی

    اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا ۔۔۔ تحریر : سلمان آفریدی

    حافظ ابتسام الحسن بھائی ایک انسان دوست ، حکمت سے معمور اور دعوتی جذبے سے سرشار عالم دین تھے۔ دعوتی تڑپ اور دین کے پھیلاؤ کی جو لگن ان مِیں دیکھی وہ بہت ہی کم لوگوں میں نظر آتی ہے۔ گزشتہ روز رات بارہ بجے کے قریب ہمارے ایک مشترکہ دوست اور ایک عزیز بھائی اویس کا فون آیا جنہوں نے اطلاع دی کہ سلمان بھائی ابتسام بھائی ہم میں نہیں رہے ، چند ثانیے تو یقین ہی نہیں آیا وہ کہنے لگے کہ ان کے چھوٹے بھائی اور اہلیہ ہسپتال میں ہیں میں اپنی فیملی کے ساتھ ان کے پاس جا رہا ہوں آپ بھی آ جائیں۔ میں کچھ تاخیر سے جب وہاں پہنچا تو ان کا جسد خاکی میو ہسپتال کے ڈیڈ ہاوس میں پوسٹ مارٹم کے لیے لایا جا رہا تھا۔ گلاب کی طرح کھلا ہوا چہرہ ، اور چہرے پر اطمینان دیکھ کر آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔
    ابتسام بھائی روڈ ایکسیڈنٹ میں گاڑی کی ٹکر سے شہید ہوئے ۔ اطلاعات کے مطابق انار کلی بازار لاہور کے قریب گاڑی میں دو لوگ سوار تھے جو آپس میں کسی وجہ سے الجھے جس بناء پر گاڑی ابتسام بھائی کی بائیک سے جا ٹکرائی وہ گرے مگر اٹھ کر کھڑے ہو گئے گاڑی والا ڈر کر بھاگتے ہوئے دوبارہ ان سے جا ٹکرایا اور ان کو شدید چوٹیں آئیں۔ اس دوران وہاں موجود لوگ ڈرائیور کے ساتھی کو پکڑنے میں کامیاب ہو گئے جبکہ ڈرائیور بھاگ نکلا۔ ابتسام بھائی کو قریب واقع میو ہسپتال لے جایا گیا جہاں پہلے ان کی طبیعت سنبھل گئی۔ اس دوران جب ان کی طبیعت بہتر تھی انہوں نے دیگر باتوں کے ساتھ ساتھ ڈرائیور کو معاف کرنے کی بھی وصیت کی (اللہ اکبر کیسا اعلی ظرف انسان تھا، کیسا وسیع القلب آدمی تھا اللہ تو اس کو معاف کر اور اس سے راضی ہو جا) کچھ دیر ٹھیک رہنے کے بعد طبیعت پھر بگڑنا شروع ہوئی یہاں تک کہ ابتسام بھائی بہت سی آنکھوں کو اشکبار چھوڑ کر جان جان آفریں کے سپرد کر گئے۔
    اس دھیمے مزاج اور خوبیوں سے مالا مال شخص کی وفات کی اطلاع جس جس نے سنی اس کا دل غم سےلبریز ہو گیا۔ ابتسام بھائی ایک واعظ اور خطیب ہونے کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر بھی تحریر و تقریر سے دعوت کے کام میں مصروف عمل رہتے تھے۔ ڈیفنس کی جامع مسجد الرباط میں ایک لمبا عرصہ امام تراویح رہے۔ ان کی دلنشیں اور پرسوز آواز میں کی جانیوالی قرات قران سننے کے لیے لوگ دور دور سے آتے تھے خصوصا قنوت میں ان کا رو رو کر دعائیں کرنا دیکھ کر بہت رشک آتا جب وہ خود بھی رو رہے ہوتے اور ان کے پیچھے کھڑے مقتدیوں کی آنکھیں بھی اشکبار ہوتیں۔ سوشل میڈیا پر وہ علم و عمل انسٹیٹوٹ، پاک بلاگرز فورم سمیت کئی فورمز سے وابستہ تھے ۔ ان کے مضامین ، کالمز اور آڈیو ویڈیو لیکچرز گاہے بگاہے شائع و نشر ہوتے رہتے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ حفظ القران اور تجوید کے استاد بھی تھے۔ مرکز الودق ڈیفنس اور دیگر کئی مقامات پر خدمات سرانجام دینے بعد انہوں نے حلیمہ سعدیہ ایجوکیشنل کمپلیکس نزد شرقپور روڈ پر کام کا آغاز کر رکھا تھا جہاں تعلیم بالغاں کے ساتھ مدرسہ حفظ القران اور تجوید کا بھی اجراء کیا جا چکا تھا۔ یقینا وہ گوناگوں صفات کے مالک اور کثیر الصلاحیت شخص تھے۔
    ان کے ساتھ کام کرنے والے دوستوں میں طہ منیب بھائی نے ان کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی اچانک وفات سے دل بہت غمگین اور اداس ہے۔ دعوتی اور اصلاحی پلیٹ فارمز پر ویڈیو ریکارڈنگ کے سلسلے میں ان سے ملاقاتیں ہوتی رہتی تھیں۔ رمضان المبارک اور ربیع الاول میں محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم کے موضوع پر ان کے متعدد لیکچرز ریکارڈ کروائے جبکہ چند ماہ پہلے ان کی کال آئی جس میں انہوں نے اپنے مقتدیوں کے اصرار پر تلاوت قران کی ریکارڈنگ کے لیے آڈیو ریکاڈنگ سٹوڈیو کا پوچھا ہم نے ریکارڈنگ شروع کی اب تک تین پارے ہو چکے تھے کہ اللہ کی مشیت غالب آ گئی۔
    اس طرح پاک بلاگرز فورم کے مدیر خنیس الرحمان نے ان کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ
    ہم حافظ ابتسام رحمۃ اللہ کے ہوتے ہوئے فخر محسوس کرتے تھے کہ ہمارے درمیان عالم دین موجود ہیں آج پاک بلاگرز فورم ان کے جانے سے یتیم ہوگیا, ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا, یقین ہی نہیں آتا. بار بار ان کی گفتگو اور ان کے کہے ہوئے بہت سے الفاظ کانوں میں گونجتے ہیں۔ ان کو یاد کرنے اور کہنے کو بہت کچھ ہے مگر ان کی جدائی کا صدمہ اس قدر ہے کہ کچھ سمجھ نہیں آتا کہ کیا کہوں۔

    بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
    اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا

    شہادت کی دعائیں مانگنے والا شہادت کا یہ طلبگار ان شااللہ شہید ہو کر اپنے رب کے پاس پہنچا۔ اللہ سے دعا ہے کہ اللہ رب العالمین ہمارے بھائی کی کوتاہیوں سے درگزر فرمائے اس کو معاف فرمائے اس سے راضی ہو جائے اور اس کو جنت الفردوس میں اپنا مہمان بنائے۔ آمین یا رب العالمین