Baaghi TV

Tag: سراج الحق

  • اسمبلیوں میں جو ہو رہا ہے اس سے واضح ہو گیا عوام ہار گئے مفاد پرست جیت گئے:سراج الحق

    اسمبلیوں میں جو ہو رہا ہے اس سے واضح ہو گیا عوام ہار گئے مفاد پرست جیت گئے:سراج الحق

    اسمبلیوں میں جو ہو رہا ہے اس سے واضح ہو گیا عوام ہار گئے مفاد پرست جیت گئے،اطلاعات کے مطابق امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ کوئی بھی شخص دولت کے زور پر پورا ایوان خرید سکتا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق سراج الحق نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اسمبلیاں قانون ساز اداروں کی بجائے اصطبل میں تبدیل ہو گئی ہیں، خریدار بھی موجود اور فروخت ہونے والے بھی پائے جاتے ہیں، دکھائی دیتا ہے کوئی بھی شخص دولت کے زور پر پورا ایوان خرید سکتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم اور پی ٹی آئی کی سیاست ایک دفعہ پھر ایکسپوز ہو گئی ہے، پی ڈی ایم اور پی پی بھی اقتدار کے گھوڑے پر سوار ہیں، اسمبلیوں میں جو ہو رہا ہے اس سے واضح ہو گیا عوام ہار گئے مفاد پرست جیت گئے۔

    انہوں نے کہا کہ حکمران جماعتوں کے عمل سے قوم کے سر شرم سے جھک گئے، کرپٹ سرمایہ دار دولت سے پولنگ اسٹیشنز اور ووٹ خریدتے ہیں، عوام کو فیصلہ سازی سے محروم رکھا گیا تو حالات بد سے بدتر ہو جائیں گے۔سراج الحق نے مزید کہا کہ پاکستان قانون کی بالادستی اور شفاف جمہوری عمل سے ہی آگے بڑھ سکتا ہے۔

    واضح رہے کہ پنجاب میں وزارت اعلیٰ کے انتخاب کے لیے صوبائی اسمبلی کا اہم اجلاس تقریباً تین گھنٹے تاخیر سے شروع ہوا جس میں پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار پرویز الہیٰ کو 186 ووٹ کاسٹ ہوئے جبکہ حکومتی امیدوار حمزہ شہباز کو 176 ووٹ ملے تاہم ڈپٹی اسپیکر نے ق لیگ کے 10 ووٹ مسترد کردیے جس کے بعد حمزہ شہباز 3 ووٹوں کے فرق سے وزیراعلیٰ پنجاب منتخب ہو گئے ہیں۔

  • سیلیکٹڈ بھی دیکھے اور امپورٹڈ  بھی، اب قابل لوگوں کی ضرورت ہے، سراج الحق

    سیلیکٹڈ بھی دیکھے اور امپورٹڈ بھی، اب قابل لوگوں کی ضرورت ہے، سراج الحق

    امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا کہ 75 سال کے تجربات کے بعد کیا اب بھی وہ وقت نہیں آیا کہ اللہ کے نظام کو قائم کریں؟، رضا باقر صاحب کی طرح لوگوں نے 75 سال سے ملک کو اندھیروں میں رکھا، 22 بار آئی ایم ایف سے ہم نے قرضے لئے، لیکن جیسے جیسے علاج کیا ویسے ویسے مرض بڑھا،اسوقت ہمارے 8 کروڑ پاکستانی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں.

    حکومتی اتحاد کا اسمبلیوں کی مدت پوری کرنے پر اتفاق،باغی کا پہلےخبر دینے کا اعزاز

    ملک کے معاشی بحران کے حوالے سے مقامی ہوٹل میں میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا کہنا تھا کہغربت مہنگائی کی وجہ سے لوگ ذہنی تناؤ اور مختلف بیماریوں کا شکار ہو گئے ہیں، ذہنی تناؤ کی وجہ سے گھروں میں لڑائی اور ایوانوں میں گالم گلوچ ہے، سیاست دان وہ زبان استمعال کرتے ہیں جو ایک لفنگا بھی استعمال نہیں کرتا، اسوقت جتنے بت اس معاشرے میں موجود ہیں انہوں نے ملک کے وسائل پہ قبضہ کر رکھا ہے، یہاں پر سری لنکا کی طرح مایوس کن ماحول ہے، سیاست کا نشہ اتر جائے گا، لوگوں کی آنکھیں کھل جائیں گے، پھر حساب کتاب ہوگا اور یوم الحساب ہوگا، کچھ چیزیں بس میں ہوتی ہیں کچھ چیزیں بس میں نہیں ہوتیں،ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ دنیا سے ڈکٹیشن لینا ہے یا دنیا کو کچھ دینا ہے.

     

    وفاق کی جانب سے بجلی مہنگی کرنے کی خبریں درست نہیں. وزیر اطلاعات

     

    سراج الحق نے کہا کہ جس آدمی نے پاکستان بنایا اس نے کہا تھا کہ پاکستان ماڈل بنے گا اور دنیا کو لیڈ کرے گا، اس وقت ملک میں مصنوعی معیشت ہے، سارا نظام قرضوں، سود اور غلط اعداد و شمار پر ہے، موجودہ و سابقہ حکومت جو اعداد و شمار دیتے تھے سب غلط ہیں، پی ڈی ایم اور پی ٹی آئی کا مسئلہ معیشت نہیں، انکا بنیادی مسئلہ اپنے مفادات کو محفوظ اور کیسس کو ختم کروایا جائے،35 سال ملک میں جرنیلوں نے حکومت کی انہوں نے بھی ملک کے ساتھ ظلم کیا ہے، پی ڈی ایم اور پی ٹی آئی کی وجہ سے آج ملک پر ظلم ہو رہا ہے، سیاسی، سماجی، معاشی، لوڈ شیڈنگ سب ان دونوں کی وجہ سے ہے،سب مسائل پیدا کرنے کے بعد یہ مذاق اڑاتے ہیں، شرمندگی کا اظہار نہیں کرتے ،وزرا ء مذاق اڑاتے ہیں کہ چائے ایک پیالی کم کر دو، ایک روٹی کم کر دو.

    انہوں نے کہا کہ اسلامی نظام، کشمیر کی آزادی، عافیہ کی واپسی، قرضوں سے نجات ن کا ایجنڈا نہیں، معاشی استحکام کے لئے سیاسی استحکام ضروری ہے، موجودہ سیاست دان تیار نہیں ہیں،مسلسل مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے، یہی حکمران ٹولہ بدلتا رہتا ہے مگر نظام وہی رہتا ہے، میری پارٹی میں بے شک شامل نہ ہوں لیکن میری آواز کے ساتھ اس آواز کو ملائیں کہ پاکستان کو اسلامی نظام چاہئے، مشاہدے کی بنیاد پر کہتا ہوں کہ سود کے بغیر پاکستان چل سکتا ہے، میں نے کے پی کے کو قرض فری صوبہ بنایا تھا، غیر ضروری اخراجات ختم کئے تھے، قرضے کی بنیاد پر ملک کیسے چلائیں گے، تنخواہیں کیسے دیں گے، ترقیاتی کام کیسے کروائیں گے، ریلوے پی آئی اے اور سٹیل مل کو ٹھیک کرنا ہے یا خسارے بھرنے ہیں؟، جو ٹیکس دیتا ہے وہ فٹ پاتھ پر سوتا ہے، ٹیکس لینے والا بادشاہوں کی زندگی گزارتا ہے،اس ملک میں سزا و جزا کا تصور نہیں ہیں، جن پر کیسس ہیں وہ وزیر بھی ہیں، پاناما اور پنڈورا پیپرز میں ان کے نام ہیں،اس حکومت کو مجبور کرنا ہوگا کہ سود کے خلاف دئیے فیصلے کے خلاف جانے کے فیصلے کو واپس لے.

    امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومت کی خرابی تمام خرابیوں کی جڑ ہوتی ہے، اس خرابیوں کو ٹھیک نہیں کرتے تو کچھ بھی ٹھیک نہیں ہوگا، ہمیں اپنی معیشت کو اسی طرح ٹھیک کرنا چاہئے جس طرح دیگر فرائض کی انجام دہی کرتے ہیں،سیلیکٹڈ کو بھی دیکھا امپورٹڈ کو بھی دیکھا، اب اس قوم کو قابل لوگوں کی ضرورت ہے جن کی ملک کے ساتھ وابستگی ہو،یہ ملک ہم سب کا ہے، اگر یہ نہیں بچتا تو ہمارے گھر بھی نہیں بچیں گے.

  • سیاست میں گالم گلوچ اور تشدد کے کلچر کو ختم کرنا ہوگا:سراج الحق

    سیاست میں گالم گلوچ اور تشدد کے کلچر کو ختم کرنا ہوگا:سراج الحق

    سراج الحق نے کہا ہے کہ سیاست میں گالم گلوچ اور تشدد کے کلچر کو ختم کرنا ہوگا۔،اطلاعات کے مطابق امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے قوم کو عید قربان کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ مسلمان سنت ابراہیمؑ ادا کرتے ہوئے عہد کریں کہ رضائے الہٰی کے لیے وہ ہر قربانی دینے کو تیار ہیں۔انہوں نے کہا کہ عیدالاضحیٰ کے موقع پر صاحب حیثیت غربا و مساکین، بے سہارا لوگوں کا خیال رکھیں اور یتیموں، بیواؤں کو قربانی کا گوشت دیں تاکہ ان کے گھروں میں بھی خوشی کا اہتمام ہوسکے۔

    امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ سیاسی لیڈرز کو سیاسی ماحول کی تنزلی پر حقیقی معنوں میں فکر مند اور پریشان ہونا چاہیے۔سراج الحق کا یہ بھی کہنا تھا کہ دن بدن ملک شدید پولرائزیشن کی جانب بڑھ رہا ہے، آئیے نفرت، عدم برداشت، بد تہذیبی اور الزامات کی سیاست سے ایک قدم پیچھے ہٹیں۔

    امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا مزید کہنا تھا کہ سیاست میں گالم گلوچ اور تشدد کے کلچر کو ختم کرنا ہوگا، پاکستان کلمہ طیبہ کی بنیاد پر وجود میں آیا، اسلامی نظام کا نفاذ ہی اس کی حقیقی منزل ہے۔

    واضح رہے کہ ملک بھر میں حضرت ابراہیمؑ کی عظیم قربانی کی یاد میں عیدا الاضحیٰ کل مذہبی عقیدت واحترام کے ساتھ منائی جائے گی۔

    کراچی، اسلام آباد، پشاور اور کوئٹہ سمیت ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں، قصبوں اور دیہات کی مساجد، عیدگاہوں اورکھلے مقامات پر نماز عید کے اجتماعات ہونگے جس میں علمائے کرام فلسفہ قربانی کی اہمیت کو اجاگر کریں گے۔

    نماز عید کی ادائیگی کے بعد امت مسلمہ کی یکجہتی، وطن کی سلامتی، ترقی، خوشحالی اور کورونا وباء کے خاتمے کے لئے خصوصی دعائیں مانگی جائیں گی۔نماز عیدالاضحیٰ کی ادائیگی کے بعد سنت ابراہیمی کی پیروی کرتے ہوئے الله کی راہ میں جانوروں کی قربانی کی جائے گی۔

  • جماعت اسلامی عید کے بعد حکومت مخالف تحریک میں مزید تیزی لائے گی،سراج الحق

    جماعت اسلامی عید کے بعد حکومت مخالف تحریک میں مزید تیزی لائے گی،سراج الحق

    امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے منصورہ میں مرکزی نظم کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اتحادی حکومت کی سماجی دہشت گردی سے عام آدمی شدید مشکلات کا شکار ہے،

    سراج الحق کا کہنا تھا کہ حکومت کی خرابی دراصل تمام خرابیوں کی جڑ ہے،حکومت ابتدائی نوے دنوں میں ریلیف دینے کی بجائے تکالیف کا باعث بنی، مہنگائی، بے روزگاری اور کرپشن میں ناقابل یقین حد تک اضافہ شرم ناک ہے، تینوں سیاسی جماعتیں آئی ایم ایف کے ایجنڈے کی تکمیل پر عمل پیرا ہیں،خطرناک پولرائزیشن نے گالم گلوچ، بدتہذیبی اور عدم برداشت کو جنم دیا،جماعت اسلامی عام آدمی کی آواز بن کر حقیقی اپوزیشن کا کردار ادا کرتی رہے گی، جماعت اسلامی عیدالاضحی کے بعد حکومت مخالف تحریک میں مزید تیزی لائے گی،امیر جماعت نے بلوچستان میں سیلابی ریلے اور بارشوں سے جانی و مالی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ وفاقی حکومت متاثرہ خاندانوں کے لیے ریلیف پیکیج کا اعلان کرے،

    امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا مزید کہنا تھا کہ حکمرانوں نے عوام سے جینے کا حق چھین لیا ہے، حکمرانوں کے کتے اور گھوڑے ائیرکنڈیشنڈ کمروں میں مزے لے رہے ہیں جبکہ غریبوں کے بچے لوڈشیڈنگ سے گرمی میں تڑپ رہے ہیں۔ قوم کے ساتھ مذاق اور ظلم بند کیا جائے۔ حلقہ خواتین جماعت اسلامی سب سے متحرک خواتین ونگ ہے، سارا سال اس کی دعوتی، تربیتی، تنظیمی و سیاسی سرگرمیاں جاری رہتی ہیں۔ ماؤں بہنوں بیٹیوں کی تحریک کے لیے مسلسل جدوجہد قابل قدر ہے ،ن لیگ، پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی کی حکومتوں نے مل کر ملک کو 50 ہزار ارب روپے سے زائد کا مقروض کیا۔ اگر قرضوں کی بنیاد پر ترقی ہوتی تو آج ہم چاند پر ہوتے۔ پی ڈی ایم اور پی ٹی آئی میں جھوٹ کا مقابلہ ہے۔ دیکھنا ہے کہ یہ مہنگائی، کرپشن اور نالائقی کا ورلڈ کپ کون جیتتا ہے؟

    پی ٹی آئی کارکنان کا مسجد میں گھس کر امام مسجد پر حملہ، ویڈیو وائرل

    پریشان کن معاشی اعشاریوں پر وزیرِ اعظم نے کیا تشویش کا اظہار

    امپورٹڈ حکمران پارلیمان کی توہین،قوم غدار گٹھ جوڑ کیخلاف کھڑی ہوچکی ہے،عمران خان

    جمعیت علما اسلام شیرانی گروپ کے سربراہ کی عمران خان سے ملاقات

  • ملک میں الیکشن فوری ہونے چاہئیں، اس سے پہلے ریفارمز ضروری ہیں: سراج الحق

    ملک میں الیکشن فوری ہونے چاہئیں، اس سے پہلے ریفارمز ضروری ہیں: سراج الحق

    لاہور : امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا کہنا ہے کہ ملک میں الیکشن فوری ہونے چاہئیں تاہم الیکشنز سے پہلے ریفارمز ضروری ہیں، پی ڈی ایم اور پی ٹی آئی کا ایک ہی ایجنڈا ہے یہ دونوں جماعتیں عوام کی بہتری نہیں چاہتیں۔ انتخابات میں اسٹیبلشمنٹ کے کردار کو ختم کرنا ضروری ہے۔

    مہنگائی کیخلاف ٹرین مارچ میں روانگی سے پہلے ملتان ریلوے سٹیشن پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ نہریں خشک ہو چکی ہیں، فصلیں تباہ ہو رہی ہیں، ملک میں بیروزگاری عروج پر ہے، نوجوان ڈگریاں جلا رہے ہیں، رشوت اور سفارش کے بغیر نوکری نہیں ملتی۔

    امیر جماعت سلامی کا کہنا تھا کہ روز نئے ٹیکسز لگائے جا رہے ہیں، حکمرانوں کے اپنے بینک اکاوئنٹس بڑھتے جا رہے ہیں، پٹرول گیس بجلی اور کھانے پینے کی اشیا سب مہنگی ہو چکی ہیں۔ حکومت نے عوام کو نچوڑ کر آئی ایم ایف کو خوش کیا ہوا ہے۔ اسمبلیوں میں پیٹرول مافیا اور ڈرگ مافیا بیٹھے ہیں، عوام کا کسی کو خیال نہیں ،سیاستدانوں کے گھوڑے اور کتے تک عیاشیاں کر رہے ہیں لیکن غریب عوام کا کوئی پرسان حال نہیں، پچاس گرام کا پراٹھا 25 روپے میں ملتا ہے، دونوں جماعتوں نے غریب عوام کا سینڈ وچ بنا دیا ہے ،عمران زرداری اور شہباز میں کوئی فرق نہیں انکی کرپشن کی وجہ سے ملک تباہی کیطرف جا رہا ہے، ایک لیٹر پٹرول کی قیمت سونے کے بھاو کے برابر ہے۔

    سراج الحق نے کہا کہ 14 سال سندھ پر پیپلزپارٹی جبکہ 9 سال سے کے پی کے میں عمران خان بیٹھا ہے تاہم پنجاب میں وزیر اعظم شہباز شریف کے بیٹے حمزہ شہبا ز کی حکومت ہے جبکہ مرکز میں پی ڈی ایم ہے یہ جماعتیں سرکاری وسائل سے جلسے کرتی ہیں اور روڈ بلاک کر کے عوام کو تکلیف پہنچاتی ہیں عوام کیساتھ غلاموں جیسا برتاو رکھا جا رہا ہے عوام پسینہ بہہا کر خزانہ بھرتی ہے اور یہ مافیا اس خزانے پر سانپ بن کر بیٹھے ہیں،کروڑوں روپے الیکشن پر لگا کر اسمبلیوں میں پہنچتے ہیں اور پھر لوٹ مار اور کرپشن کرتے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ پہلے نواز شریف کو لائی پھر اسکو نکالا تو عمران خان آیاؕ اب و ہ بھی یہی کہہ رہا ہے مجھے کیوں نکالا، ملک میں اس وقت ڈمی حکومت اور ڈمی اپوزیشن ہے، وفاقی شرعی عدالت نے سودی نظام کو ختم کرنے کیلئے فیصلہ دے دیا ہے یہ ایک خوش آئند بات ہے لیکن وفاقی ھکومت اب اس فیصلے کیخلا ف سپریم کورٹ جا رہی ہے ، سودی نظام کے خاتمے کیلئے شرعی عدالت کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تو حکومت کیخلاف ہر ممکن مزاحمت کریں گے، سودی نظام اب مغرب میں بھی ختم ہو رہا ہے تو یہاں بھی اس کو ختم کیا جانا چاہیے۔

  • پی ڈی ایم ہو یا تحریکِ انصاف دونوں نے پاکستان کو آئی ایم ایف کو بیچا،سراج الحق

    پی ڈی ایم ہو یا تحریکِ انصاف دونوں نے پاکستان کو آئی ایم ایف کو بیچا،سراج الحق

    امیرِ جماعتِ اسلامی پاکستان سراج الحق کا کہنا ہے کہ ہم غریب عوام کے لیے ٹرین مارچ کر رہے ہیں۔ ملتان میں ٹرین مارچ کی روانگی سے قبل کینٹ اسٹیشن پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امیرِ جماعتِ اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا کہ اس وقت پاکستان جل رہا ہے، فصلیں اور کاروبار تباہ ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ جن کے پاس پیسہ ہے، وہ بیرونِ ملک بھاگ رہے ہیں، ان کی کھاؤ پیو سیاست ہے۔ سراج الحق کا کہنا ہے کہ پی ڈی ایم ہو یا تحریکِ انصاف دونوں نے پاکستان کو آئی ایم ایف کو بیچا، یہ دونوں مافیاز کی پناہ گاہیں ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ان جماعتوں کا آپس میں نا اہلی کا مقابلہ ہے، یہ سب کرپٹ، لینڈ مافیا اور ڈرگ مافیا کے سرپرست ہیں۔

    امیرِ جماعتِ اسلامی نے سوال اٹھایا کہ لوگ اپنے بچوں کو کھلا نہیں سکتے، تعلیم کیسے دلوائیں، بل کیسے ادا کریں۔انہوں نے مزید کہا ہے کہ یہ لوگ الیکشن میں کروڑوں روپے خرچ کر کے، اسمبلیوں میں جاتے ہیں اور پھر پیسے کماتے ہیں۔جماعتِ اسلامی پاکستان کے امیر سراج الحق کا یہ بھی کہنا ہے کہ کشمیر کو بیچنے میں پی ڈی ایم اور تحریکِ انصاف شامل ہیں۔

    مزید برآں جماعت اسلامی کے کے رہنما قیصع شریف کا کہنا ہے کہ مہنگائی۔کرپشن سودی نظام کیخلاف ٹرین مارچ کے دوسرے مرحلے کا آغاز ملتان ریلوے اسٹیشن سے کیا ہے،امیر جماعت اسلامی سراج الحق ملتان سے لاہور تک ٹرین مارچ کی قیادت کریں گے، ۔سراج الحق خانیوال، ساہیوال ، اوکاڑہ، توکی ، رائیونڈ ،کوٹ لکھپت، لاہور کینٹ ریلوے اسٹیشن پر استقبالیہ جلسوں سے خطاب کریں گے،سراج الحق ٹرین مارچ کے دوسرے مرحلے کے اختتام پر لاہور ریلوے اسٹیشن پر جلسے سے خطاب کریں گے۔

  • پنجاب میں شرمناک تماشا جاری ہے، سراج الحق

    پنجاب میں شرمناک تماشا جاری ہے، سراج الحق

    امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں شرمناک تماشا جاری ہے۔ حکمران جماعتوں کے درمیان جاری چپلقش کا انجام خطرناک ہو گا۔ مرکزی اور صوبائی حکومتوں نے عوام کو سینڈ وچ بنایا ہوا ہے۔ ظالم اشرافیہ کو عوام کی فکر نہیں، مہنگائی کی وجہ سے لوگوں کا سانس لینا دشوار ہو گیا۔ مزدور، کاشتکار رُل گئے، تعلیم غریب کے بچے کی پہنچ سے دور،عام آدمی کے لیے علاج کرانا ناممکن ہو چکا۔ گھمبیر حالات میں حکمران جماعتیں مسلسل گالم گلوچ کی سیاست کو ہی پروان چڑھا رہی ہیں۔ اپنے رویے درست کرنے اور عوام کو ریلیف دینے کی بجائے، تینوں بڑی سیاسی جماعتوں میں مفادا ت کی جنگ جاری ہے۔

    قوم اب ان حکمرانوں سے تنگ آ چکی، ملک کو بحرانوں سے نکالنے کا واحد راستہ اسلامی انقلاب ہے۔ جماعت اسلامی قوم کو دعوت دیتی ہے کہ اسلامی نظام کے لیے ہمارے دست و بازو بنیں۔ اس وقت تمام سیاسی جماعتیں کہیں نہ کہیں حکومت میں ہیں، صرف جماعت اسلامی ہی حقیقی اپوزیشن کا کردار ادا کر رہی ہے۔ قرآن و سنت کے نظام اور آئین و قانون کی بالادستی کے لیے جدوجہد جاری رہے گی۔ حکمرانوں کی لڑائی کی وجہ سے قوم شدید پولرائزیشن کا شکار ہے، قومی میڈیا تعمیری کردار ادا کرے۔ سیاسی جماعتوں کے ورکرز اور کارکنان سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کے خلاف ایسی زبان استعمال کر رہے ہیں جس کی کسی بھی مہذب معاشرے میں اجازت نہیں دی جا سکتی۔ جماعت اسلامی کا سوشل میڈیا اور کارکنان معاشرے میں اسلامی شعائر کی ترویج، نظریہ پاکستان کے فروغ اور قوم میں اتحاد و اتفاق کے لیے بھرپور کردار ادا کریں۔

    سراج الحق منصورہ میں میڈیا کے ذمہ داران کے اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔ سیکرٹری جنرل امیر العظیم،سیکرٹری اطلاعات قیصر شریف اور دیگر بھی اس موقع پر موجود تھے۔
    سراج الحق نے کہا کہ وفاق اور صوبوں نے جو بجٹ پیش کیے ہیں اس سے صرف مراعات یافتہ طبقہ کو مزید مراعات ملیں گی یا سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں معمولی اضافہ ہوا ہے۔بجٹ میں عام شہری کے حصے میں معاشی تباہی کے علاوہ کوئی چیز نہیں ہے۔ حکمران جماعتوں نے مل کر ملک کو عملی طور پر آئی ایم ایف کے حوالے کر دیا ہے۔ غلط معاشی پالیسیوں کی وجہ سے قومی خزانے میں سرکاری ملازمین کو تنخواہ دینے کے پیسے نہیں ہیں۔ اتحادی حکومت نے پٹرول کی قیمت میں 60روپے فی لٹر اضافہ کر کے بھی بس نہیں کی اور قیمتوں کو مزید بڑھانے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔

    حالات اسی طرح رہے تو پٹرول 260روپے فی لٹر تک پہنچ جائے گا۔ بجلی کے ٹیرف میں 9روپے فی یونٹ اورگیس کی قیمتوں میں 45فیصد اضافہ کر دیا گیا۔ مہنگائی کی وجہ سے لوگوں کا گھروں سے نکلنا دشوار ہو گیا۔ ملک کے طول و عرض میں 12گھنٹے سے زائد لوڈشیڈنگ جاری، بجلی پیدا کرنے کے کارخانوں کو فیول دستیاب نہیں ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر صرف 9.2ارب ڈالر ہیں۔ گزشتہ 10ماہ میں برآمدات 30ارب ڈالر جب کہ درآمدات کا حجم 75ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ حکومت کو خسارہ کم کرنے کے لیے کم از کم 12ارب ڈالر چاہییں۔ حکمران ابھی سے ہی منی بجٹ کی باتیں کر رہے ہیں۔

    امیر جماعت نے کہا کہ سودی معیشت، کرپشن مسائل کی جڑ ہیں۔ مافیاز نے ملک کو یرغمال بنایا ہوا ہے۔ حکومت کو کہا تھا کہ بجٹ میں سودی معیشت سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں، مگر حکمرانوں نے آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن پر بجٹ تیار کیا اور اللہ اور اس کے رسولؐ سے جنگ جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

    جماعت اسلامی ان حالات میں خاموش نہیں بیٹھ سکتی۔ چوکوں چوراہوں میں عوام کا مقدمہ لڑا جائے گا، ملک کو اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے لیے جدوجہد جاری رہے گی۔قوم آزمائے ہوئے لوگوں کو مسترد کرے اور جماعت اسلامی کو خدمت کا موقع دے۔ لوگوں کو جان لینا چاہیے کہ ظالموں کا ساتھ دینا ظالم میں شراکت کے مترادف ہے۔ 75برسوں سے عوام کی گردنوں پر سوار جاگیرداروں، وڈیروں اور کرپٹ سرمایہ داروں کو گھر بھیجنا ضروری ہے اور اسی سے ہی ملک کی کشتی گرداب سے نکل پائے گی۔

  • تبدیلی عوام کے جاگنے سے آئے گی،سراج الحق

    تبدیلی عوام کے جاگنے سے آئے گی،سراج الحق

    امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا کہ الیکشن ریفارمز ہوں باسٹھ ترسیٹھ پر عمل درآمد ہو،سرمایہ کی بنیاد پر الیکشن کو اغوا کیاجاتاہے تو الیکشن عوام کےلئے نہیں ہوتا،ہم چاہتے ہیں کہ الیکشن سے پہلے ملک میں الیکشن ریفارمز ہوں،ہمارے ملک میں چار بینک غیر سودی نظام کے تحت چلتے ہیں،تبدیلی عوام کے جاگنے سے آئے گی دیانت دار لوگوں کا ساتھ دیاجائے،

    سراج الحق نے مصورہ لاہور میں پرہس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ جس نے جھنڈے بدل بدل کر ووٹ لے کر عوام کو لوٹاانکا احتساب اور حساب کتاب ہونا چاہئیے،مسائل کا حل اسلامی نظام ہے جس کی علمبردار جماعت اسلامی ہے، ہم گالی گلوچ سیاست کو مسترد کرتے ہیں چیف جسٹس نے بھی جماعت اسلامی کے بارے کہاکہ وہ ذمہ دارانہ کردار ادا کررہے ہیں.

    سراج الحق کا مزید کہنا تھا کہ اگر سیاست میں دلیل نہ ہو تو گالیاں ہی دی جاتی ہیں، گالی اور لاٹھی کو مسترد کرتے ہیں، پی ٹی آئی اور پی ڈی ایم نے آئی ایم ایف کو راستہ دیا،اسٹیٹ بینک کو آئی ایم ایف کے حوالے کیاگیاہے،قوم سے کہنا چاہتا ہوں سیاسی جماعتوں کے مختلف جھنڈوں اور نعروں پر نہ جائیں ،تمام سیاسی جماعتوں کی وجہ سے مشکلات تینوں بڑی سیاسی جماعتیں ہیں.

    امیر جمارت اسلامی نے کہا کہ ملک میں اسوقت ڈمی حکومت اور ڈمی اپوزیشن ہے،معدنی وسائل ہیں زرخیر مٹی ہے تو اس کے باوجود آئی ایم ایف کے خود کو گروی رکھوا لیا،فیصلے قومی اسمبلی اور کیبنٹ میں نہیں ہو رہے تو ذمہ داری تین پارٹیوں پر آتی ہے،جماعت اسلامی واحد جماعت ہے جو قوم کی نمائندہ جماعت ہے،سندھ پشاور بلوچستان پنجاب میں کرپشن ہی کرپشن ہے کون ذمہ دار ہے، ملک میں کرپشن کے ذمہ دار جنات نہیں بلکہ سیاسی لیڈرز اور وی آئی پی اشرافیہ ہے.

    سراج الحق نے کہا کہ پنڈورا پیپر ، پانامہ پیپر، نیب کے کیسز اسٹیٹ بینک سے قرضہ لینے والے یہی بدنام زمانہ لیڈرز ہیں، آپ کے بچے کو کوئی بینک تین ہزار روپے نہیں دیتا،پی ڈی ایم پی ٹی آئی اور پیپلزپارٹی نے کرپشن کرکے قومی خزانہ ہڑپ کر لیا،قرضے آپ نے لئے آپکی شوگر ملوں اور کارخانوں میں اضافہ ہوا،اس نظام کو مسترد کرتے ہیں فرد کی نہیں نظام کی تبدیلی مسائل کا حل ہے،سود سے پاک کرپشن فری نظام چاہتے ہیں،اس وقت سودی نظام کرپشن ام لمسائل ہیں کرپشن کا نظام تینوں سیاسی جماعتوں نے نافذ کیا،

    انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں آئندہ بجٹ سود فری بجٹ ہو آئی ایم ایف قرضوں نجات کا روڈ میپ بھی ہو،ہم چاہتے ہیں آئندہ بجٹ میں کرپٹ سرمایہ دار پر بوجھ پڑے،ناجائز حرام دولت کو لے کر قومی خزانے میں جمع کروایا جائے،کرپٹ سیاستدان اربوں روپے لےکر بیرونی بینکوں میں جمع کرواتے رہے، نظام کے خلاف عوام کی طرف رجوع کررہاہوں،گیارہ جون کو لاہور سے سودی نظام کرپشن اور مہنگائی کے خلاف احتجاجی عوامی مارچ کااعلان کیاہے،شہبازشریف کہتے ہی کہ عوام کےلئے اپنے کپڑے بیچوں گا لیکن تم نے تو عوام کے ہی کپڑے اتار دئیے،کپڑے بیچنے کے بجائے آئی ایم ایف سے معاہدوں کو قومی اسمبلی میں پیش کیاجائے،اسٹیٹ بینک کو آئی ایم ایف سے نجات دلائی جائے.

    سراج الحق نے کہا کہ شیر کا دور ظلم کا دور تھا بیٹ کا دور بے روزگاری کا دور تھا پیپلزپارٹی کا کرپشن کا دور تھا۔ جماعت اسلامی دس روزہ ترازو مہم شروع کررہی ہے اگر مساوات چاہتے ہیں تو ترازو کو اپنا لیں، آنے والا دور ترازو کا دور ہے شوری اجلاس کے بعد سود مہنگائی اور غلط فیصلوں پر جو تحریک شروع کررہے عوام ان کا ساتھ دے،ملک کے مسائل کا حل دین و شریعت میں ہے.

  • مہنگائی کے خلاف تحریک میں قوم ساتھ دے ،سراج الحق

    مہنگائی کے خلاف تحریک میں قوم ساتھ دے ،سراج الحق

    امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ حکومت نے پٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کر کے پورے ملک میں ماتم برپا کر دیا۔ قوم استعماری طاقتوں اور عالمی مالیاتی اداروں کی غلامی میں پس رہی ہے۔ حکمران اپنی مراعات میں کمی کو تیار نہیں، سارا زور عوام کا خون نچوڑنے پر ہے۔

    سراج الحق کا کہنا تھا کہ غریب کا بچہ بھوکا سوتا ہے، لوگوں کے پاس علاج کے لیے وسائل نہیں، حکمرانوں کے محلات میں چار چار سرکاری گاڑیاں کھڑی ہیں ، قوم فاقوں مر رہی شاپنگ مالز کے باہر سرکاری گاڑیوں کی قطاریں نظر آتی ہیں ،حکمران اشرافیہ قومی خزانے سے بیرون ملک اپنی فیملیز سے ملاقاتیں کرتے ہیں، افسرشاہی، وزراء، مشیران اپنی کارکردگی بتائیں۔

    سراج الحق نے کہا کہ 11جون سے کرپٹ سودی نظام اور ظالمانہ مہنگائی کے خلاف تحریک کا آغاز کر رہے ہیں، انہوں نے قوم سے اپیل کی ہے کہ وہ ساتھ دے اور تحریک کا حصہ بنے۔

    قبل ازیں جماعت اسلامی کی رہنما قیصر شریف کا کہنا تھا کہ سود، مہنگائی کے خلاف 11 جون لاہور سے حکومت مخالف تحریک کا آغاز کریں گے،حکمران جان لیں عوام اب قربانی کا بکرا بننے کو تیار نہیں،قوم کے صبر کا مزید امتحان نہ لیا جائے، آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدوں کو مسترد کرتے ہیں،آئی ایم ایف کے ساتھ کیے گئے معاہدے پارلیمنٹ لائیں جائیں،ارکان قومی اسمبلی اور اشرافیہ کی مراعات کم کی جائیں، حکمران اپنے اخراجات تو کم نہیں کرتے،عوام پر بوجھ ڈال رہے،آئی ایم ایف کے کہنے پر پٹرول مزید مہنگا کیا گیا،پٹرول مہنگا ہونے سے عوام کے اوسان خطا ہو گئے،مہنگا پٹرول خریدنا عوام کیلئے مشکل ہے،اتحادی حکومت نے بھی عوام کو رتی برابر ریلیف نہیں دیا۔

  • سنجیدہ طرز عمل نہ اپنایا گیا تو ملک انارکی طرف مزید بڑھے گی۔ سراج الحق

    سنجیدہ طرز عمل نہ اپنایا گیا تو ملک انارکی طرف مزید بڑھے گی۔ سراج الحق

    ملک کی کشتی بھنور میں بری طرح پھنس چکی:اطلاعات کے مطابق جماعت اسلامی کے امیر سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ پاکستان کو اس نہج پر لانے والی تینوں بڑی جماعتیں اور ان کےسرپرست ہیں۔حکمران اوراوراپوزیشن جماعتیں 22کروڑ عوام کے خلاف سازش کر رہی ہیں۔

    سراج الحق نے کہا ہےکہ اسلام آباد کے ڈرائنگ روموں میں بیٹھ کر سیاست کرنے والے عوام کے ساتھ کھیل کھیل رہے ہیں۔ سراج الحق نے سیاسی جماعتوں‌ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی جماعتوں کو خبردار کرتا ہوں کہ سری لنکا ایسی صورت حال سے عبرت حاصل کریں۔

    سراج الحق نے کہا ہے کہ پرامن احتجاج ہر سیاسی جماعت کا آئینی و جمہوری حق ہے۔گرفتاریاں اور سیاسی کارکنوں کے گھروں پر چھاپے نہ مارے جائیں۔پولیس نوجوان کی شہادت افسوس ناک، اہل خانہ سے تعزیت کرتے ہیں۔سیاسی پارٹیوں کے لیڈران اپنے کارکنوں کے رویوں کا جائزہ لیں۔

    سراج الحق نے اس موقع پر کہا ہے کہ گالم گلوچ کی سیاست نے پاکستان کے کلچر کو تباہ کر دیا۔سیاست دشمنی اور تشدد میں بدل گئی، حکمران جماعتیں برابر کی ذمہ دار ہیں۔سنجیدہ طرز عمل نہ اپنایا گیا تو ملک انارکی طرف مزید بڑھے گی۔