Baaghi TV

Tag: سندھ اسمبلی

  • اپوزیشن کے احتجاج کے باوجودسندھ اسمبلی میں  یونیورسٹیز ترمیمی بل منظور

    اپوزیشن کے احتجاج کے باوجودسندھ اسمبلی میں یونیورسٹیز ترمیمی بل منظور

    سندھ اسمبلی نے یونیورسٹیز ترمیمی بل منظور کرلیا ، اس موقع پر اپوزیشن کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق گورنر سندھ کامران ٹیسوری کی جانب سے اعتراض شدہ سندھ یونیورسٹیز ترمیمی بل 2025 سندھ اسمبلی میں دوبارہ پیش کیا گیا تو ایم کیو ایم کے ارکان نے ایوان میں شدید شور شرابہ کیا اور نامنظور نامنظور کے نعرے لگائے۔وزیر پارلیمانی امور ضیا لنجار کی جانب سے بل پیش کیے جانے پر اپوزیشن کی جانب سے شور شرابہ کیا گیا، تاہم ایوان نے سندھ یونیورسٹیز ترمیمی بل 2025ء منظور کرلیا۔بل کی منظوری کے وقت اپوزیشن ارکان نے اسپیکر ڈائس کے پاس پہنچ کر نعرے بازی کی۔ دریں اثنا وزیر قانون سندھ نے سول کورٹس ترمیمی بل (نظرثانی) بھی ایوان میں پیش کیا۔ یہ دونوں بل گزشتہ اجلاس میں منظور کیے تھے لیکن گورنر سندھ نے اعتراض لگا کر واپس کردیے تھے۔

    اپوزیشن اراکین نے احتجاج کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔پوائنٹ آف آرڈر پر بات کرتے ہوئے شرجیل انعام میمن نے کہا کہ آج اپوزیشن کا رویہ قابل مذمت تھا۔ یہاں پر ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی نے ہاتھ ملا لیا ہے۔ اب ان کا اتحاد ہے۔ جو اس ہاؤس میں بغیر بلائے مہمان تھے ان کو شرم کی ضرورت تھی۔ آج جن لوگوں نے احتجاج کیا ان میں سے کسی نے بھی بل کو پڑھا نہیں تھا۔ ہر قابل و اہل شخص وائس چانسلر لگ سکتا ہے۔ اس پر ہنگامہ کرنا بچکانہ حرکت تھی۔بعد ازاں سندھ اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت تک کے لیے ملتوی کردیا گیا۔

    چیمپئنز ٹرافی کیلئے پاکستانی ٹیم کی بھرپور تیاریاں

    نیپرا حکام کا کابینہ منظوری کے بغیر اپنی تنخواہوں میں خود ہی اضافہ

    عمران خان نے شیر افضل مروت کو ملاقات کیلئے بلا لیا

    انٹربینک میں ڈالر کی قدر میں اضافہ، اوپن مارکیٹ میں تنزلی

  • ایم کیو ایم نے سندھ اسمبلی میں پارلیمانی  لیڈر نامزد  کر دیے

    ایم کیو ایم نے سندھ اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر نامزد کر دیے

    بالآخر ایک سال بعد ایم کیو ایم پاکستان نے سندھ اسمبلی میں پارلیمانی و ڈپٹی پارلیمانی لیڈر کو نامزد کردیا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق انتظار کی طویل گھڑیاں ختم ہوگئی ہیں اور ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ خالد مقبول صدیقی نے بلآخر ایک سال بعد سندھ اسمبلی میں پارلیمانی اور ڈپٹی پارلیمانی لیڈر نامزد کردیے ہیں۔رکن سندھ اسمبلی افتخار عالم کو پارلیمانی لیڈر نامزد کیا گیا ہے جب کہ ایم پی اے طحہٰ احمد ڈپٹی پارلیمانی لیڈر نامزد کیا گیا ہے۔پارلیمانی اور ڈپٹی پارلیمانی لیڈرکی نامزدگی پر ایم کیو ایم پاکستان کی سینٹرل کمیٹی میں طویل بحث ہوئی۔کمیٹی میں بحث کے دوران افتخار عالم کو سب سے موزوں قرار دیا گیا جس کے بعد ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے منظوری دی۔

    اسلام آباد کے فلٹریشن پلانٹس کا پانی آلودہ ہونے کا انکشاف

    بہنوئی کے ہاتھوں یتیم سالی زیادتی کے بعد قتل ،مکمل تفصیل سامنے آ گئی

    سندھ،زرعی آمدن پر ٹیکس لگانے کا قانون، مسودہ سامنے آگیا

  • سندھ میں ایڈز کے بڑھتے کیسز نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

    سندھ میں ایڈز کے بڑھتے کیسز نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

    سندھ میں ایڈز کے بڑھتے کیسز نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق صوبائی وزیر صحت عذرا پیچوہو نے سندھ اسمبلی میں معاملہ اٹھایا ہے کہ ایچ آئی وی بہت بڑا مسئلہ بن چکا ہے گزشتہ چند سالوں میں پانچ ہزار مریض جان سے جا چکے ہیں پچیس ہزار افراد اب بھی متاثر ہیں جن میں سے تئیس ہزار مریض کراچی سمیت سندھ کے مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں ۔ماہرین صحت کے مطابق ایڈز ایک ہیمو فیلیکس وائرس (HIV) کی وجہ سے ہوتا ہے ایڈز ایک ایسا مرض ہے جو انسان کے مدافعتی نظام کو نقصان پہنچاتا ہے ایچ آئی وی وائرس انسان کے جسم میں داخل ہو کر خون کے سفید خلیوں، جنہیں سی ڈی 4 (CD4) خلیے کہتے ہیں کو تباہ کرتا ہے۔ یہ خلیے جسم کی مدافعتی صلاحیت کو مضبوط رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

    ماہرین نے بتایاکہ جب ایچ آئی وی وائرس کا حملہ زیادہ شدت اختیار کرتا ہے، تو مدافعتی نظام کمزور پڑ جاتا ہے اور جسم مختلف بیماریوں کا شکار ہو جاتا ہے، جس سے ایڈز کی بیماری کا آغاز ہوتا ہے۔ماہرین کے مطابق ایڈز کی علامات مختلف ہو سکتی ہیں اور اس کا پتہ کئی سال بعد چل سکتا ہے جب تک کہ وائرس مدافعتی نظام کو بہت زیادہ نقصان نہ پہنچا دے۔ ایڈز کے مریضوں میں انفیکشنز اور سرطان جیسے سنگین مسائل پیدا ہو سکتے ہیں کیونکہ جسم ان بیماریوں کے خلاف لڑنے کے لیے اپنی مدافعتی طاقت کھو چکا ہوتا ہے

    ۔ماہرین نے بتایاکہ ایڈز کا علاج نہیں ہے لیکن اینٹی ریٹرووائرل (ART) ادویات کے ذریعے ایچ آئی وی کے اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے اور مریض کی زندگی کو لمبا کیا جا سکتا ہے ایچ آئی وی کا پھیلا غیر محفوظ جنسی تعلقات، مشترکہ سرنجوں کے استعمال اور متاثرہ خون کی منتقلی کے ذریعے ہوتا ہیاس لیے اس کے پھیلا کو روکنے کے لیے احتیاطی تدابیر ضروری ہیں۔

    سوشل میڈیاکا غلط استعمال، دوست ممالک میں 210 پاکستانی گرفتار

    رائٹ سائزنگ پالیسی،ریلوے سے 17 ہزار پوسٹیں ختم

    کیٹی بندر پورٹ،سندھ حکومت کی وفاق سے این او سی کی درخواست

    مریم سندھ کو دے دیں، تاجر عتیق میر اپنے بیان سے مکرگئے

    کراچی : 26 دنوں میں چار افراد اندھی گولیوں کا نشانہ بنے

  • سندھ اسمبلی میں طلبا یونین بحالی کی قرارداد  مسترد

    سندھ اسمبلی میں طلبا یونین بحالی کی قرارداد مسترد

    سندھ اسمبلی نے طلبا یونین کی بحالی کیلئے جماعت اسلامی کی قرارداد کثرت رائے سے مسترد کردی۔

    جماعت اسلامی کے رکن محمد فاروق نے طلباء یونین کی بحالی سے متعلق قرارداد پیش کی جس میں مطالبہ کیا گیا کہ طلباء کے جمہوری حق کو تسلیم کرتے ہوئی آئین پاکستان کے مطابق کے فوری طلباء یونینز کے انتخابات منعقد کروائے جائیں۔قرارداد میں کہا گیا کہ 11 فروری 2022 کو سندھ اسمبلی نے سندھ اسٹوڈنٹس یونین ایکٹ منظور کیا تھا جس کے مطابق تمام تعلیمی اداروں کو دو ماہ میں قوائد و ضوابط مرتب کرکے ہر سال طلبہ یونین کے انتخابات کا انعقاد کرنا تھا۔

    قرارداد میں کہا گیا کہ ڈھائی سال سے زائد کا عرصہ گزرنے کے باوجود سندھ بھر میں طلبہ یونین کے انتخابات کا انعقاد نہ ہونا اور طلبہ کو آئین کے آرٹیکل 17 کے مطابق یونین سازی کے بنیادی حق سے محروم رکھنا افسوسناک ہے۔قرارداد میں کہا گیا کہ 24 اکتوبر 2024 کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے فیصل؛ے میں ملک بھر کی جامعات میں طلبہ یونین کے انتخابات کے انعقاد کا بھی حکم جاری کیا ہے، طلبہ کے جمہوری حق کو تسلیم کرتے ہوئے آئین پاکستان کے مطابق فوری طلبہ یونین کے انتخابات کرائے جائیں۔

    ضیا الحسن لنجار

    پیپز پارٹی کے ضیا لنجار نے کہا کہ طلباء یونیز پر کام ہو رہا ہے، پیپلز پارٹی کا بھی اپنا موقف ہے طلباء یونیز پر جو ہمارے منشور میں بھی موجود ہے۔
    ضیا الحسن لنجار نے کہا کہ سندھ حکومت نے طلباء یونینز سے پابندیاں ہٹا دی ہیں، میرے حساب سے اس قرارداد کی ضرورت نہیں ہے۔اجلاس کے بعد جماعت اسلامی و ایم کیو ایم اراکین نے میڈیا سے مشترکہ گفتگو کی، اس موقع پر محمد فاروق نے کہا کہ طلبہ یونین کے تین سال سے انتخابات نہیں ہو رہے، طلبہ یونین پر پابندی کے بعد تشدد کے واقعات ہوتے ہیں، ہم چاہتے ہیں ایسے طلبہ لیڈر آئیں جو سیاسی اقدار سے واقف ہوں۔قرار داد پیش کرنے والےمحمد فاروق نے کہا کہ پی پی جمہوریت کی چیمپئن بنتی ہے، تین سال میں وہ طلبہ یونین کے انتخابات میں ناکام ہوئی، جو قرارداد لائی جاتی ہے اس کو بلڈوز کیا جاتا ہے۔

    ایم کیو ایم پاکستان کے رکن انجینیئر محمد عثمان نے کہا کہ آج فاروق بھائی نے طلبا یونین انتخابات کی قرارداد پیش کی جسے مسترد کردیا گیا، ایم کیو ایم کا موقف بھی یہی ہے کہ طلبا یونین کے انتخابات فوری کروائے جائیں۔ طلبا کو حق ہے کہ وہ نمائندے منتخب کریں چاہے اس کا تعلق کسی بھی تنظیم سے ہو ، جامعات میں اگر پڑھے لکھے شعور یافتہ لوگ آجائیں گے تو ان کا کام ختم ہوجائے۔

    دریں اثنا ناظم اسلامی جمعیت طلبہ کراچی آبش صدیقی نے اپنے بیان میں کہا کہ آج سندھ اسمبلی سے قراداد کا مسترد ہونا قابل مذمت ہے، پیپلز پارٹی جواب دے کہ اپنے ہی چیئرمین کے فیصلے کے خلاف کیسے جارہے ہیں۔ ناظم اسلامی جمعیت طلبہ کراچی نے مزید کہا کہ بلاول بھٹو نے جلد طلبہ یونین کے انتخابات کا اعلان کیا تھا قراداد کےمسترد کیے جانے کے خلاف سندھ اسمبلی کا گھیرائو کرینگے۔

    چیمپئینز ٹرافی:آئی سی سی کا میزبان ملک کا نام ہٹانے کی بھارتی درخواست پر سخت ردعمل

    مصطفیٰ نواز کھوکھر کا تحریک تحفظ آئین پاکستان کے ساتھ مل کر چلنے کا اعلان

  • کے فور منصوبہ جولائی 2026 تک مکمل کرلیا جائے گا،سعید غنی

    کے فور منصوبہ جولائی 2026 تک مکمل کرلیا جائے گا،سعید غنی

    وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ کراچی کو پانی کی فراہمی کے میگا منصوبے کے فور پر کام تیزی سے جاری ہے اور یہ منصوبہ جولائی 2026 تک مکمل کرلیا جائے گا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق سندھ اسمبلی میں معزز رکن کی جانب سے توجہ دلائو نوٹس کا جواب دیتے ہوئے کہا سعید غنی نے کہا کہ معزز ممبر کے حلقہ انتخاب شاہ فیصل کالونی چونکہ ٹیل پر ہے اس لئے وہاں پانی کی فراہمی دیگر علاقوں کی نسبت کم اور دیر سے ہوتی ہے البتہ ان کو دو ذرائع سے پانی کی فراہمی کی جارہی ہے اور اس میں جو مسائل تھے اس کا سدباب کردیا گیا ہے۔اس منصوبے کے تین حصوں پر علیحدہ علیحدہ کام تیزی سے جاری ہے اور اس کے لئے وزیر اعلی سندھ نے دوسرے حصہ کے لئے 7000 ارب روپے ورلڈ بینک سے منظوری کا انتظار نہ کرنا پڑے اس لئے دینے کا اعلان کردیا ہے۔

    انکا کہنا تھا کہ معزز ممبر نے کے فور منصوبے سے متعلق سوال کیا ہے تو اس کے تین حصوں کا کام ایک ساتھ چل رہا ہے، جس میں کینچھر سے کراچی کے لئے واپڈا کام کررہا ہے جو 55 فیصد مکمل ہوگیا ہے اور یہ دسمبر 2025 تک مکمل ہوجائے گا، دوسرا فیز یوٹیلیٹی کی شفٹنگ کا ہے، جو کراچی واٹر اینڈ سیوریج امپرومنٹ پروگرام کے تحت کیا جارہا ہے اور اس کے لئے وزیر اعلی سندھ نے ورلڈ بینک سے منظوری کا انتظار کئے بغیر 7000 ارب روپے جاری کئے ہیں اور یہ کام بھی دسمبر 2025 تک مکمل کرلیا جائے گا جبکہ اس کا تیسرا مرحلہ 50 میگاواٹ کے پاور اسٹیشن کی تعمیر کا ہے جو 16 ارب روپے کی لاگت کا ہے، اس پر بھی حیسکو نے کام شروع کردیا ہے اور انشا اللہ اگر کوئی رکاوٹ نہیں آئی تو یہ بھی دسمبر 2025 تک مکمل کرلیا جائے گا، جس کے بعد ٹیسٹنگ کا مرحلہ ہوگا اور جون 2026 تک یہ منصوبہ مکمل کرکے کراچی کو پانی کی فراہمی شروع ہونے کا امکان ہے۔

    سنہرے دور کا آج سے آغاز ہو گیا ہے،ٹرمپ کا خطاب

    ٹرمپ کی حلف برداری کی تقریب جاری، نائب صدر جے ڈی وینس نے حلف اٹھالیا

    کراچی انٹر بورڈ میں غنڈہ عناصر سرگرم، طلبا سے رقم لیکر کام کرانے لگے،

  • سندھ  پبلک اکائونٹس کمیٹی کا آر بی او ڈی ٹو منصوبے پرکام بند پڑے ہونے کا نوٹس

    سندھ پبلک اکائونٹس کمیٹی کا آر بی او ڈی ٹو منصوبے پرکام بند پڑے ہونے کا نوٹس

    سندھ اسمبلی کی پبلک اکائونٹس کمیٹی نے 62 ارب روپے کی روائیز اسکیم کے تحت 2001ع میں شروع کئے جانے والے 273 کلو میٹر طویل آر بی او ڈی ٹو منصوبے پر 2015ع سے کام بند پڑے ہونے کا نوٹس لیتے ہوئے آر بی او ڈی ٹو منصوبے پر کام بند ہونے اور وفاق سے فنڈنگ کا اجرا نہ ہونے پر واپڈا چیئرمین اور واپڈا حکام کو آئندہ اجلاس میں بریفنگ کے لئے طلب کرلیا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق پی اے سی نے محکمہ آبپاشی سندھ کو آر بی او ڈی منصوبے پر کام شروع کرنے کے لئے فنڈنگ اور فنی معاملات واپڈا اور وفاقی حکومت سے فوری ٹیک اپ کرنے کی ہدایت کردی ہے۔ پی اے سی نے آر بی او ڈی منصوبے کے ریکارڈ کی حوالگی کے متعلق نیب،محکمہ آبپاشی،محکمہ روینیو کے افسران پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دے دی جو 15 دنوں میں ریکارڈ وصول کرکے رپورٹ پیش کرے گی۔سندھ اسمبلی کی پبلک اکانٹس کمیٹی کا اجلاس پیر کے روز چیئرمین نثار کھوڑو کی صدارت میں کمیٹی روم ہوا۔اجلاس میں کمیٹی کے اراکین قاسم سراج سومرو،خرم کریم سومرو، مخدوم فخرالزمان نے شرکت کی۔ اجلاس میں نیب کے ڈاریکٹر عبدالحفیظ صدیقی، سیکریٹر آبپاشی ظریف کھیڑو، سیکریٹری فنانس فیاض جتوئی سینیئر میمبر بورڈ آف روینیو بقا اللہ انڑ نے پی اے سی کو آر بی او ڈی منصوبے کے متعلق بریفنگ دی۔
    ڈاریکٹر نیب عبدالحفیظ صدیقی نے پی اے سی کو بتایا کے آر بی او ڈی منصوبے پر نیب کے پاس 4 تحقیات چل رہی تھی جس میں آر بی او ڈی منصوبے کے لئے زمین کی خریداری کے متعلق 400 ملین روپے کی بے ضابطگیوں کی تحقیات میں صرف نیب نے ریکارڈ لیا تھا جو کے نیب ترامیم کی وجہ سے اب نیب کے دائرے میں نہیں آتا جس کو نیب ھیڈکوارٹر ریفر کیا گیا ہے اور اب نیب ھیڈکوارٹر سے منظوری ملنے کے بعد یہ معاملہ احتساب عدالت سے اینٹی کرپشن عدالت منتقل ہوجائے گا اور نیب نے زمین کی خریداری کے متعلق تحویل میں لیا گیا ریکارڈ رواں ماہ 2 جنوری کو ٹھٹہ اور جامشورو کے روینیو افسران کے حوالے کردیا ہے اور نیب صرف آر بی او ڈی ٹو منصوبے پر 5 ارب کی انکوئری کر رہا ہے جس انکوئری میں بھی نیب نے کوئی ریکارڈ تحویل نہیں لیا ہے اس لئے نیب کے پاس اب آر بی او ڈی منصوبے کے متعلق کوئی ریکارڈ تحویل میں نہیں ہے اور نیب نے جب سے اس منصوبے پر انکوائری کی ہے تب سے نیب نے محکمہ آبپاشی کو منصوبے پر کام کرنے سے نہیں روکا ہے۔

    اس موقعے پر ڈی سی جامشورو اور ایس ای ٹھٹھہ نے پی اے سی کو بتایا کے نیب کی طرف سے ہمیں کوئی ریکارڈ نہیں ملا ہے۔ جس پر کمیٹی رکن خرم کریم سومرو نے محکمہ آبپاشی سے استسفار کیا کے اگر نیب نے محکمہ آبپاشی کو آر بی او ڈی منصوبے پر کام بند کرنے کی کوئی ہدایت نہیں کی تھی تو پہر منصوبے پر کام بند ہونے کا ذمیدار کون ہے جس پر محکمہ آبپاشی کے سیکریٹری نے بتایا کے ریکارڈ کے بغیر آر بی او ڈی منصوبے پر کیسے کام آگے بڑھاسکتے تھے۔کیمٹی رکن قاسم سراج سومرو نے کہا کے آر بی او ڈی میں 10 ارب کی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کی وجہ سے یہ منصوبہ 10سالوں سے بند پڑا ہے اب اس منصوبے کی۔لاگت 400ارب تک پہنچ گئی ہے تو اب وفاقی حکومت کہاں سے 400 ارب دے گی۔پی اے سی نے ریکارڈ کی حوالگی کے لئے نیب ، محکمہ آبپاشی اور بورڈ آف روینیو کے افسران پر۔مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دے دی جو کمیٹی ریکارڈ کے حصول کے بعد 15 دن کے اندر ریکارڈ وصول ہونے کی رپورٹ پی اے سی کو فراہم کرے گی۔

    اجلاس میں محکمہ آبپاشی کیجانب سے آر بی او ڈی ٹو منصوبے پر 40 ارب روپے خرچ کئے جانے کے باوجود آر بی او ڈی ٹو منصوبے کو ناقابل عمل منصوبہ قرار دے دیا۔سیکریٹری آبپاشی ظریف کھیڑو نے پی اے سی کو بتایا کے آر بی او ڈی منصوبہ جس طرح ڈزائین ہے اگر اسی طرح بنا تب بھی آر بی او ڈی کا زھریلہ پانی سمندر کو تباہ کرے گا اور سیلاب کا پانی کے نقصان سے بچا بھی مشکل ہوگا اسلئے یہ منصوبہ فزیبل نہیں ہے اور اس منصوبے کی پی سی ون روائیز ہوگی جو کے 400 ارب سے زائد تک جائے گی اس لئے آر بی او ڈی کے فنی معاملات اور فنڈنگ کے لئے واپڈا اور وفاقی حکومت سے بات کی جائے۔سیکریٹری خزانہ فیاض جتوئی نے پی اے سی کو بتایا کے 2001ع میں 14 ارب سھ شروع ہونے والہ یہ منصوبہ دو مرتبہ روائیز ہوکر 2016ع میں 61.985 ارب تک پہنچا یہ منصوبہ وفاق کا تھا جس کو واپڈا نے شروع کرنا تھا اور واپڈا نے محکمہ آبپاشی سندھ کو اس منصوبے پر کام شروع کرنے کی ذمیداری دی تھی۔ اس منصوبے پر وفاق کا حصہ 54.98ارب روپے تھا اور سندھ حکومت نے ذمے 7 ارب رکھے گئے تھے اس منصوبے پر سندھ حکومت 4 ارب جاری کر چکی ہے اور وفاقی حکومت نے 2019ع میں صرف 5 ارب روپے جاری کئے مگر 2021ع سے وفاق نے آر بی او ڈی پر کوئی رقم جاری نہیں کی ہے۔

    اس منصوبے پر 39 ارب روپے خرچ ہوچکے ہیں۔ چیئرمین پہ اے سی نثار کھوڑو نے کہا کے آر بی او ڈی منصوبہ اگر فزیبل نہیں ہے تو پہر 40 ارب روپے کیوں خرچ کئے گئے۔آر بی او ڈی منصوبہ سندھ کی ضرورت ہے اس منصوبے پر کام بند پڑا رہنا ہماری ناکامی ظاہر کررہا ہے۔منصوبے میں 10 ارب کی بے ضابطگیوں کی نیب یا اینٹی کرپشن کی تحقیات کی وجہ سے پورے منصوبے کو ناقابل عمل قرار نہیں دیا جا سکتا۔چیئرمین پی اے سی نثار کھوڑو نے مزید کہا کے اگر آر بی او ڈی منصوبہ 40 ارب خرچ ہونے کے بعد اب فزیبل نہیں ہے تو پہر محکمہ آبپاشی کے پاس دوسرا کیا آپشن ہے۔آر بی او ڈی منصوبے پر 10 سالوں سے کام بند پڑا ہے سندھ کو آر بی او ڈی منصوبے پر کام شروع چاہئے۔آر بی او ڈی منصوبہ اگر مکمل ہوتا تو وہ پانی سمندر میں چھوڑا جاتا جس وجہ سے منچھر اور سندھو دریا کا پانی زھریلہ نہ ہوتا۔اجلاس میں محکمہ آبپاشی کیجانب سے آر بی او ڈی منصوبے پر کام۔شروع کرنے کے لئے منصوبے کی پی سی ون روائیز ہونے سے منصوبے پر لاگت 400 ارب تک پہنچنے کا انکشاف ہوا جس پر چیئرمین پی اے سی نثار کھوڑو نے کہا کے وفاقی حکومت کو آر بی او ڈی منصوبے پر فنڈنگ کرنی پڑے گی اس لئے یہ معاملہ وفاقی حکومت کے سامنے ٹیک اپ کیا جائے گا۔ محکمہ آبپاشی منصوبے کے متعلا فنی معاملات اور منصوبے کو روائیز کرانے کے لئے فوری واپڈا اور وفاقی حکومت کو لکھے۔سندھ آر بی او ڈی منصوبے سے دستبردار نہیں ہوگی یہ منصوبہ سندھ کی ضرورت ہے اس لئے منصوبے پر کام چاہئے۔

  • سندھ نے وفاقی اداروں سے پانی کے 20 ارب مانگ لیے

    سندھ نے وفاقی اداروں سے پانی کے 20 ارب مانگ لیے

    سندھ نے وفاقی حکومت کے اداروں سے پانی کے چارجز کی مد میں 20 ارب روپے کے واجبات مانگ لیے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق سندھ اسمبلی کی پبلک اکائونٹس کمیٹی نے صوبے کے وفاقی اداروں پر 20 ارب روپے کے واجبات کی ادائیگی کے لیے ایڈیشنل چیف سیکرٹری بلدیات اور سی ای او واٹر بورڈ کو وفاقی حکومت کے متعلقہ اداروں کو خط لکھنے کی ہدایت کردی ہے۔پانی کے بلوں کی مد میں سندھ کے 20 ارب روپے کے واجبات کی ادائیگی کے لیے وفاقی حکومت کے مختلف اداروں کے متعلقہ حکام کو 21 جنوری کو پی اے سی میں طلب کیا گیا ہے۔چیئرمین پی اے سی نثار کھوڑو کے مطابق واٹر بورڈ کے 2016 سے پاکستان اسٹیل مل، سوئی سدرن گیس، پی ایس او، کے پی ٹی، پاکستان ریلوے،پی آئی اے، نیشنل شپنگ کارپوریشن ،پورٹ قاسم اتھارٹی، میرین فشریز، کنٹونمنٹ بورڈز، کراچی شپ یارڈ، پاکستان مشین ٹول فیکٹری ، کاٹن ایکسپورٹ کارپوریشن سمیت دیگر اداروں پر واٹر چارجز کی مد میں 20 ارب روپے سے زائد کے واجبات ہیں جو سندھ کو ادا نہیں کیے جا رہے۔نثار کھوڑو نے بتایا کہ پانی کے چارجز کی مد میں صرف اسٹیل ملز پر سندھ کے 10 ارب روپے کے واجبات ہیں۔ سندھ کو وفاقی حکومت کے اداروں سے پانی کے بلوں کی مد میں اپنے 20 ارب روپے کے واجبات کی ادائیگی چاہیے۔ وفاقی حکومت سندھ کو 20 ارب روپے کی واجبات کی ادائیگی سے محروم رکھ کر سندھ کے ساتھ زیادتی کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ نے وفاقی اداروں کو پانی کی سہولت فراہم کی ہے مگر سندھ کو یہ وفاقی ادارے واجبات کی ادائیگی نہیں کر رہے ہیں۔وزیراعظم وفاقی حکومت کے ان اداروں کی جانب سے پانی کے بلوں کی مد میں سندھ کے 20 ارب روپے کی واجبات کی ادائیگی نہ ہونے کا نوٹس لیں۔ نثار کھوڑو نے کہاکہ وزیراعظم وفاقی حکومت کے ان اداروں کو پابند کریں کے سندھ کو واٹر چارجز کی مد میں 20 ارب روپے کی ادائیگی کی جائے۔ سندھ کو این ایف سی میں پورا حصہ نہیں دیا جا رہا تو دوسری طرف سندھ کو وفاقی ادارے واجبات بھی ادا نہیں کر رہے۔سندھ اپنا حق حاصل کرنے کے لیے پیچھے نہیں ہٹے گا۔چیئرمین پی اے سی نے کہاکہ سندھ کو اربوں روپے کے واجبات کی ادائیگی نہ کرکے معاشی طور پیچھے دھکیلا جا رہا ہے۔ وفاقی حکومت پاکستان بنانے والے صوبہ سندھ کے ساتھ ناروا سلوک نہ اپنائے۔سندھ ملک کو 70 فیصد ریونیو ادا کرنے والا صوبہ ہے۔نثار کھوڑو نے کہا کہ سندھ کو اربوں روپے کے واجبات کی ادائیگی سے محروم رکھنا صوبے کو معاشی طور پر کمزور کرنے کے مترداف ہوگا۔ سندھ کو معاشی طور پر کمزور کرنا ملک کو کمزور کرنے کے برابر عمل ہوگا۔ وفاقی حکومت اپنے اداروں سے سندھ کو پانی کے بلوں کی مد میں 20 ارب روپے کے واجبات دلوائے۔

    دُھند کا راج برقرار، موٹر وے سیکشنز بند

    کراچی، دھرنا و تصادم، 300افراد کیخلاف دہشتگردی کا مقدمہ درج

    نیا سال کراچی کی تعمیر و ترقی کا سال ثابت ہوگا ،مرتضیٰ وہاب

  • یو اے ای کی عالمی خدمات امت مسلمہ کیلئے باعثِ فخر ہیں، اسپیکر سندھ اسمبلی

    یو اے ای کی عالمی خدمات امت مسلمہ کیلئے باعثِ فخر ہیں، اسپیکر سندھ اسمبلی

    اسپیکر صوبائی اسمبلی سندھ سید اویس قادر شاہ کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی عالمی سطح پر خدمات پوری امت مسلمہ کیلئے باعثِ فخر ہیں۔

    اسپیکر صوبائی اسمبلی سندھ سید اویس قادر شاہ نے متحدہ عرب امارات کے قومی دن کے موقع پر جاری اپنے پیغام میں کہا کہ متحدہ عرب امارات کا قومی دن ترقی، امن اور بھائی چارے کی ایک روشن مثال ہے۔پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات اسلامی اخوت، باہمی اعتماد اور گہرے دوستانہ رشتوں پر مبنی ہیں، متحدہ عرب امارات نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا، چاہے وہ قدرتی آفات ہوں یا معاشی چیلنجز۔سید اویس قادر شاہ نے کہا کہ اماراتی قیادت اور عوام نے ہمیشہ پاکستان کے ساتھ اپنی اخوت اور حمایت کا عملی ثبوت دیا ہے، پاکستان کے عوام اور سندھ اسمبلی اماراتی قیادت عوام کے اس جذبہ اخوت پر تہہ دل سے شکر گزار ہیں، متحدہ عرب امارات کی ترقی، خوشحالی اور عالمی سطح پر خدمات پوری امت مسلمہ کے لیے باعثِ فخر ہیں۔اسپیکر سندھ اسمبلی نے کہا کہ ہم دعا گو ہیں کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات مزید مضبوط ہوں اور دونوں ممالک ترقی و خوشحالی کی نئی بلندیوں کو چھوئیں۔

    پاکستان کو عالمی دنیا کے بدلتے حالات پر توجہ کی ضرورت۔تجزیہ: شہزاد قریشی

    کراچی سے پشاور چلنے والی عوام ایکسپریس کی نجکاری مکمل

    پاکستان پوسٹ میں وزیر ’اپنوں‘ کو نوازتے رہے، انکوائری میں انکشاف

    مزید 500 سے زائد یوٹیلیٹی اسٹورز بند کرنے پر غور

  • گھوسٹ ملازمین کی نشاندہی،کے ایم سی میں کمیٹی کی ہدایت

    گھوسٹ ملازمین کی نشاندہی،کے ایم سی میں کمیٹی کی ہدایت

    سندھ اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی)میں گھوسٹ ملازمین کی نشاندہی کے لئے چیف سیکریٹری سندھ کو تحقیقاتی کمیٹی قائم کرنے کی ہدایت کردی ہے۔ ک

    باغی ٹی وی کے مطابق کے ایم سی کے 12 ہزار سے زائد ملازمین کی حاضری کے لئے مینویل حاضری رجسٹر کے علاوہ ملازمین کی حاضری کے لئے کوئی جدید مکینزم موجود نہ ہونے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔پی اے سی نے کے ایم سی کے گھوسٹ ملازمین پر ماہانہ کروڑوں روپے خرچ ہونے کے خدشے کے پیش نظر کے ایم سی کے 12 ہزار سے زائد ملازمین کا ریکارڈ تمام ڈیٹا سمیت طلب کرلیا ہے۔ منگل کو سندھ اسمبلی کی پبلک اکانٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین نثار احمد کھوڑو کی صدارت میں سندھ اسمبلی کی کمیٹی روم میں ہوا اجلاس میں کمیٹی کے اراکین خرم سومرو، قاسم سراج سومرو سمیت کے ایم سی کے میونسپل کمشنر افضل زیدی، ڈی جی آڈٹ لوکل گورنمنٹ سمیت دیگر افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں کے ایم سی کی سال 2018ع سے سال 2021ع تک آڈٹ پیراز کا جائزہ لیا گیا۔ پی اے سی اجلاس میں کے ایم سی افسران کے ایم سی کے تمام ملازمین کی ڈیٹا، سروس بوک، پرسنل فائیلز کی تفصیلات اور سال 2018ع کی کے ایم سی کی اے ڈی پی کی تفصیلات فراہم نہیں کرسکے۔ اس موقعے پر پی اے سی چیئرمین نثار کھوڑو نے کے ایم سی کے میونسپل کمشنر سے استفسار کیا کے کے ایم سی کے ٹوٹل کتنے ملازمین ہیں اور کتنے ملازمین ڈیوٹی پر آتے ہیں اور ملازمین کی حاضری چیک کرنے کے لئے کیام مکینزم موجود ہی جس پر میونسپل۔
    کمشنر افضل زیدی نے بتایا کے کے ایم سی کے 12ہزار سے زائد ملازمین ہیں جن کی حاضری چیک کرنے کے لئے صرف حاضری رجسٹر موجود ہے جبکے بایومیٹرک سسٹم نصب نہیں ہے اور کے ایم سی کے ہیڈ آف ڈپارٹمنٹس اپنے اپنے شعبے کے ملازمین کی حاضری کی تصدیق کرتے ہیں اور کوئی گھوسٹ ملازم نہیں ہے۔چیئرمین پی اے سی نثار کھوڑو نے کہا کے شھر کراچی سندھ کا کیپیٹل پے اور کے ایم سی ملازمین کی حاضری صرف رجسٹر کے ذریعے مانیٹر کررہا ہے ،جدید دور میں بایو میٹرک نظام کیوں نہیں ہے۔مینوئل حاضری رجسٹر ہونے سے ملازمین ایک دن آکر ایک ہفتے اور ایک ماہ کی حاضری لگا کر چلے جاتے ہیں۔ اگر تمام ملازمین ڈیوٹی پر آتے ہیں تو پہر آج ہی تمام ملازمین کا حاضری رجسٹر پیش کریں۔کمیٹی کے رکن خرم سومرو نے کہا کے کے ایم سی کے بھت ملازمین ایسے ہیں جو دو دو محکموں میں کام کر رہے ہیں اور بھت سے تو ویزا پر ہیں اور ڈیوٹی نہیں کرتے۔کمیٹی کے ایک اور رکن قاسم سومرو نے کہا کے ہر ماہ کے ایم سی کے گھوسٹ ملازمین کی کروڑوں روپے تنخواہیں نکالی جارہی ہیں اور کے ایم سی پر گھوسٹ ملازمین کا الزام ہی کمیٹی رکن خرم سومرو نے کہا کے کراچی کے قبرستانوں میں بھی کے ایم سی کے گھوسٹ ملازمین گورکن بن کر فی قبر 40 ہزار روپے میں فروخت کر رہے ہیں جس کا ثبوت میرے پاس موجود ہے۔میونسپل کمشنر افضل زیدی نے پی اے سی کو بتایا کے کے ایم سی میں 300ملازمین ایسے تھے جو ڈبل تبخواہیں لے رہے تھے اور وہ کے ایم سی کے ساتھ ساتھ سندھ پولیس میں بھی کام کر رہے تھے ان کی نشاندھی کرکے ان کے خلاف کاروائی کی گئی ہے۔کمیٹی رکن خرم سومرو نے کہا کے کے ایم سی میں ملازمین کی ڈیٹا ڈجیٹل سسٹم پر منتقل کریں تاکے دو دو مقام پر سرکاری نوکری کرنے والوں کی نشاندھی ہو اور ان کے خلاف سخت کاروائی کی جائے۔چیئرمین پی اے سی نثار کھوڑو نے کہا کے کے ایم سی میں گھوسٹ ملازمین اور گھر بیٹھے تنخواہیں لینے کا عمل کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔محکموں میں ویزا سسٹم بند ہونا چاہئے۔اور کے ایم سی میں گھوسٹ ملازمین کی موجودگی ایک بڑا سوالیہ نشان ہی اس لئے کے ایم سی ملازمین کی ڈیٹا سمیت ملازمین کی انٹرنل آڈٹ کرائی جائے۔پی اے سی نے کے ایم سی کے ہر ماہ کروڑوں روپے گھوسٹ ملازمین پر خرچ ہونے کے خدشے کے پیش نظر کے ایم سی کے تمام 12 ہزار سے زائد ملازمین کا ریکارڈ تمام ڈیٹا سمیت طلب کرلیا اور پی اے سی نے کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن میں گھوسٹ ملازمین کی نشاندھی کے لئے چیف سیکریٹری سندھ کو تحقیقاتی کمیٹی قائم کرکے تحقیقات کروانے کی ہدایت کردی۔پی اے سی میں کراچی کے قبرستانوں میں فی قبر 40 ہزار روپے فروخت ہونے کا انکشاف ہوا۔ اجلاس میں کمیٹی کے رکن خرم سومرو نے کے ایم سی افسران سے پوچھا کے کراچی میں کتنے قبرستان ہیں اور کراچی کے قبرستانوں میں کے ایم سی کے ملازمین گورکن بن کر فی قبر 40 ہزار روپے میں فروخت کرے رہے ہیں اور ایک گورکن نے مجھ سے رشتدار کی قبر کے لئے 40 ہزار روپے لئے۔جس پر میونسپل کمشنر افضل زیدی نے بتایا کے کراچی کے قبرستان میں فی قبر کی سرکاری فیس کی پرچی صرف 300روپے ہے۔ پی اے سی اجلاس میں کمیٹی رکن قاسم سومرو نے افسران سے پوچھا کے کراچی میں کے ایم سی کے کتنے پارکس ہیں اور کتنے پارکس پر قبضہ ہے۔میونسپل کمشنر افضل زیدی نے پی اے سی کو بتایا کے کراچی میں کے ایم سی کے پاس 46 پارکس ہیں جن میں 90 فیصد پارکس فنکشنل ہیں اور کسی پر بھی قبضہ نہیں ہے۔ پی اے سی اجلاس میں کراچی کی 202نوٹیفائیڈ کچی ابادیوں کے 91 ہزار 495 گھروں اور 15لاکھ سے زائد کمرشل یونٹس کو ریگیولر نہ ہونے سے سندھ کے خزانے کو 21ارب سے زائد کا نقصان ہونے کا انکشاف سامنے آیا ہے جس پر پی اے سی نے کچی آبادیوں کی لیز اور رکوری کے متعلق محکمے سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔دریں اثنا پی اے سی چیئرمین اور پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار کھوڑو نے اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کے اسلام آباد میں پی ٹی آئی کارکنان اپنے بانی کے حکم پر فسادات کر رہے ہیں جس کا عتراف علی امین گنڈا پور کرچکے ہیں اور فساد کے نتیجے میں ہونی والی شھادتوں اور نقصان کے ذمیدار بانی پی ٹی آئی عمران خان ہیں۔نثار کھوڑو نے کہا کے عمران خان کو عدالت ہی آزاد کر سکتی ہے اس لئے پی ٹی آئی بانی کی رہائی کے لئے عدالت سے رجوع کرے۔عمران خان جب احتجاج کروا رہے ہیں تو پہر مذاکرات کیوں کر رہے ہیں۔ یہ دھرا معیار نہیں چلے گا۔ اور عمران خان کو اپنی یہ حکمت لے ڈوبے گی۔ نثار کھوڑو نے کہا کے صرف اسٹبلشمنٹ کے علاوہ کسی اور سے بات نہ کرنے کی دعوی کرنے والہ عمران خان آج حکومت سے بات کر رہا ہے۔ایک طرف انتشار اور فساد تو دوسری طرف مذاکرات اس عمل سے عمران خان کی شکست ہوئی ہے۔ انہوں مے کہا کے عمران خان نے ثابت کردیا ہے کے وہ سیاسی نہیں فاشزم پر یقین رکھتے ہیں۔

    پولیس کو جدید خطوط پر استوار کر رہے ہیں، وزیراعلیٰ سندھ

    سانحہ پارا چنار فرقہ وارانہ فسادات کروانے کی سازش ہے ، ملی یکجہتی کونسل

  • اسپیکر سندھ اسمبلی سے ترکی کے سفیر  کی ملاقات

    اسپیکر سندھ اسمبلی سے ترکی کے سفیر کی ملاقات

    اسپیکر سندھ اسمبلی اویس قادر شاہ سے ترکی کے سفیر ایرفان نزیروغلو نے سندھ اسمبلی میں ملاقات کی.

    باغی ٹی وی کے مطابق ملاقات میں پاکستان اور ترکی کے درمیان دو طرفہ تعلقات کو مضبوط کرنے پر توجہ دی گئی، جبکہ اہم موضوعات میں سندھ میں تجارت اور سرمایہ کاری، قانون سازی کے عمل اور بین الپارلیمانی تعاون شامل تھے، اسپیکر سید اویس قادر شاہ نے ترکی سفیر سے ملاقات میں نوجوان پارلیمنٹیرینز کی تربیت اور ان کی قانون سازی کی مہارت کو بڑھانے کے منصوبوں پر بات کی۔اس موقع پر ایرفان نزیروغلو کے ہمراہ کراچی میں ترکی کے قونصل جنرل،Cemal Sangu بھی موجود تھی.انہوں نے ای-پارلیمنٹ پروگرام کے لییArtificial Intelligenc کی اہمیت پر زور دیا اور ملاقات میں سفیر ایرفان نزیروغلو نے دونوں ممالک کے تعلقات کو مضبوط کرنے اور سندھ اسمبلی کے اسٹریٹجک پلان پر بات کی، جبکہ گفتگو میں مستقبل میں ثقافتی اور پارلیمانی تبادلوں کے پروگرامز کے امکانات پر بھی غور کیا گیا۔اسپیکر اویس قادر شاہ نے ترکی کے وفد کو تاریخی سندھ اسمبلی کی عمارت کا دورہ کرنے کی دعوت دی، جس پر ترکی کے سفیر نے صوبائی اسمبلی سندھ کے دورے کی دعوت پر اسپیکر سید اویس قادر شاہ کا شکریہ ادا کیا۔ اور اسپیکر نے ریلیف، ترقی، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں ترکی کی حمایت کو سراہا۔ اسپیکر سندھ اسمبلی نے ترکی کے سفیر اور قونصل جنرل کو سندھی ٹوپی، اجرک، اور سندھ اسمبلی کی یادگاری شیلڈ پیش کی گئی۔

    واہ انڈسٹریز کا ترک کمپنی سے اسلحے کی پیداواری صلاحیت کے لیے معاہدہ

    صدر جمہوریہ بلغاریہ مختصر دورے پر کراچی پہنچ گئے